ہفتہ، 8 اگست، 2020

ولایت، پیوند الہی

 ولایت ،پیوند الٰہی


تقریر: استاذآیۃاللہ مصباح یزدی مدّ ظلہ


ولایت کا مطلب صرف محبت نہیں ہے:

ہم شیعوں کا افتخار، اہل بیت علیہم السلام کی ولایت ہے اور یہ عظیم سرمایہ ہے جس سے دنیا و آخرت میں سعادت و کامیابی کے لیے ہم نے تمسک کیا ہے۔ہم سب کم و بیش ولایت کے مفہوم سے آشنا ہیں، ’’ولایت‘‘، شیعی ثقافت کا جزء ہے اور ہم اس ولایت کے معنی، خصوصیات اور امتیازات کے بارے میں کم ہی غور کرتے ہیں۔ 

’’ولایت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے فارسی یا اردو میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو مکمل طور پر اس کے معنی و مفہوم کو ادا کرسکے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ولایت کا مطلب محبت کرنا یا کسی سے دوستی کرنا ہے۔ ہاں، دوستی کرنا ولایت کا لازمہ ہے۔ لیکن بالکل مکمل طور پر ولایت کا مطلب نہیں ہے۔ محبت اہل بیتؑ تو شیعوں ہی سے مخصوص نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اہل بیتِ نبیؐ سے محبت کرتی ہے۔ اہل سنت میں اس طرح کے افراد ہیں جو ہماری طرح اہل بیتؑ سے محبت کرنے میں پیچھے نہیں ہیں۔ اہل بیتؑ کے عاشق ہیں، ان کی امامت کا تو عقیدہ نہیں رکھتے لیکن پیغمبرﷺ سے نسبت اور ان کے فضائل و مناقب کی وجہ سے محبت کرتے ہیں۔امام کے علم، شجاعت، زہد اور دوسرے کمالات کا انکار نہیں کرتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ آپ اہل سنت سے کتنے نزدیک ہیں اور کس حد تک ان سے آشنا ہیں لیکن ایران میں اور ایران سے باہر دوسرے ملکوں میں بہت سے اہل سنت ایسے ہیں جو اہل بیتؑ سے عشق کرتے ہیں۔غرض کہ حتیٰ کفار بھی اہل بیتؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ کیاممکن ہے کہ کوئی مسلمان ہو اور پیغمبر ﷺ کی اولاد سے محبت نہ کرتا ہو۔ بہت ہی کم افراد ہیں جو اہل بیتؑ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ لہذا ولایت کا مطلب اگر محبت ہے تو تمام مسلمان محبت کرتے ہیںاور اظہار محبت کرتے ہیں۔ لہذا ہم شیعہ حضرات جس ولایت کا دعویٰ کرتے ہیں اس کے معنی کیا ہیں؟ یقیناً صرف محبت و دوستی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی کچھ ہے۔

قرآن میں ولایت:

بہتر ہے کہ قرآن میں ولایت اورا سکے مشتقات کو دیکھیں کہ کس معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ مکمل بحث تو ایک جلسہ میں نہیں ہوسکتی اس جلسہ میں صرف چند نکات پیش کررہا ہوں۔ کلمہ ’’ولایت‘‘ اور اس کے مشتقات یعنی ’’ولی‘‘، ’’مولیٰ‘‘، ’’تولی‘‘ یہ سب ایک مادّہ سے ہیں ان سب کی اصل، ولایت ہے۔ اس کی صفت مشبہ ولی ہے۔ اور جمع اولیاء ہے۔ اس کا فعل تولی ہے۔ کلمہ ولی قرآن میں کبھی خدا کے لیے استعمال ہوا ہے مثلاً آیۃالکرسی میں ’’اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النور‘‘[اللہ صاحبانِ ایمان کا ولی ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے]۔ خدا مومنین پر ولایت رکھتا ہے اس کے مقابلے میں کفار بھی اپنا ولی رکھتے ہیں لیکن ان کا ولی خدا نہیں ہے بلکہ ان کا ولی طاغوت ہے: ’’ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَآؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ [ اور کفارکے ولی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہی لوگ جہنّمی ہیں اور وہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں](سورہ بقرہ، آیت ۲۵۷)۔ خدا کے لیے صرف کہا ’’ولی‘‘ لیکن کفار کے لیے کہا: ’’اولیاء‘‘۔ اس لیے کہ شیطان ایک نہیں ہے بلکہ بہت ہیں مثلاً نور و ظلمت ۔ نور ایک ہے لیکن ظلمت کے اقسام ہیں۔

 بہر حال ولایت کا ایک مورد مومنین پر خدا کی ولایت ہے۔ مولیٰ کے سلسلے میں اسی سے مشابہ معنی سورۂ محمدؐ میں ہے: ’’ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَىٰ لَهُمْ‘‘(سورہ محمد، آیت۱۱)[یہ سب اس لئے ہے کہ اللہ صاحبانِ ایمان کا مولا اور سرپرست ہے اور کافروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے]

خدا مومنین کا ولی ہے، کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔ معمولا ہم مولی کو آقا و سید و سردار کے معنی میں لیتے ہیں۔ کہتے ہیں خدا مومنین کا سید و سردار ہے، مومنین کا آقاہے۔ لیکن کافروں کا کوئی آقا نہیں ہے۔ بعض روایات نے مومنین کو خدا کا ولی کہا ہے۔ توجہ رہے کہ گذشتہ آیات نے خدا کو مومنین کا ولی بتایا ہے: ’’أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ‘‘(یونس، ۶۲) اولیاء جو مومنین خالص ہیں کوئی ڈر و خوف نہیں رکھتے۔ اولیاء اللہ کا لفظ ہم بہت کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور قرآن میں بھی متعدد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔

لہذا ایک طرف تو خدا مومنین کا ولی ہے اور دوسری طرف مومنین خدا کے ولی ہیں۔ ایک تعبیر اور ہے کہ مومنین آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں: وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ...‘‘۔(توبہ، ۷۱) مومنین اور مومنات بعض ولی ہیں بعض کے۔ یہ اُن کے ولی ہیں اور وہ اِن کے ولی ہیں۔ لہذا کلمہ ولی اور مفہوم ولایت ایسا کلمہ ہے جو کبھی خدا کے بندوں کی بنسبت، کبھی بندوں کے لیے خدا کی بنسبت اور کبھی مومنین کے لیے ایک دوسرے کی بنسبت استعمال ہوتا ہے۔ 

مفسرین اور لغت شناسوں نے ولایت کے سلسلے میں بحث کرتے ہوئے یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ لغت میں ولایت کا مطلب یہ ہے کہ دوموجود آپس میں اتنا نزدیک ہوں کہ انکے درمیان کوئی غیر نہیں ہو ۔ اگر دو موجودات کے درمیان اس طرح کا رابطہ ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اُس کا ولی ہے۔

اگر کوئی خدا سے اتنا نزدیک ہو کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی اور نہ ہو ؛ خدا اس سے نزدیک ہو اور وہ خدا سے قریب ہو تو ایسی صورت میں خدا اس کا ولی ہے اور وہ خدا کا ولی ہے۔لہذا خدا مومنین کا ولی ہے اور مومنین خدا کے ولی ہیں۔ مومنین بھی آپس میں ایسی کیفیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگ جن کا ایمان واقعا کامل ہے وہ آپس میں اتنا ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں کہ کوئی بھی انکے درمیان نفوذ نہیں کرسکتا۔ البتہ یہ ولایت ایسی ولایت ہے جو مثبت ولایت ہے لیکن ہمیشہ ارتباط مثبت نہیں ہوتا، کبھی ممکن ہےکہ انسان کسی سے قریب ہو اور اس سے نقصان اٹھائے۔ شیطان کے سلسلے میں یہی معاملہ ہے۔ اسی آیۃالکرسی میں کہا: ’’کافروں کے ولی طاغوت ہیں‘‘۔ طاغوت کے ساتھ بھی ولایت ہوسکتی ہے۔ خداوند عالم نے شیطان کے سلسلے میں فرمایا ہے: ’’شیطان کسی پر مسلط نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ کوئی اپنے کو شیطان کا ولی بنالے‘‘۔ یعنی ممکن ہے کہ انسان شیطان سے اس طرح سے رابطہ برقرار کرے کہ اپنے کو شیطان کے اختیار میں دیدے۔جب ایسا ہوجائے تو شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے۔ لیکن ابتدائا وہ تسلط نہیں رکھتا بلکہ انسان خود اپنے ہاتھوں اپنے کو شیطان کے حوالے کردیتا ہے۔

ولایت تکوینی اور ولایت تشریعی:

ا س گفتگو سے دو نتیجے سامنے آئے: خداوند عالم اپنی تمام مخلوق کے ساتھ تکوینی اور وجودی رابطہ رکھتا ہے، وہ تمام چیزوں سے سب سے زیادہ نزدیک ہے: ’’وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ‘‘ (سورہ ق، ۱۷) یہ قربت اور رابطہ الہی تکوینی ولایت تمام موجودات پر ہے۔ لیکن خدا وندعالم ایک ولایت اور رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنے کو خدا کے حوالے کردےتو اس سے مزید ایک رابطہ برقرار کرتا ہے، ایسا رابطہ جسمیں خدا چاہتا ہے کہ اس کو خیر و بھلائی پہنچائے، اس کی سرپرستی کرے، اس سے بلاؤں کو دور کرکے اس کی حفاظت کرے۔ یہ ولایت اس وقت ہے جب انسان اپنے اختیار سے خود کو خدا کے حوالے کردے۔اہم پہلو یہ کہ ولایت تکوینی کو ختم یا قطع نہیں کیا جاسکتا اس لیے کہ اس کی بنیاد تمام چیزوں کی نسبت خدا کی مالکیت ہے اور اس مالکیت کو خدا سے سلب نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ولایت دوسرے معنی میں، یعنی کوئی مقابل کے امور کا ذمہ دار ہوجائے۔ خدا اس ولایت کو سلب کرسکتا ہے۔ کہے کہ تم میرے ساتھ نہیں ہو، میں اب تم سے کوئی مطلب نہیں رکھتا، کہہ سکتا ہے جاؤ چلے جاؤ ، تم مجھ سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے۔وہ تکوینی ولایت تھی اور یہ تشریعی ولایت ہے۔

خدا کے بعد لوگوں کا ولی:

خداوندعالم نے کچھ لوگوں کو معین کیا ہے کہ جن سے ہم رابطہ برقرار کریں۔ اس رابطہ میں خدا کے اذن و اجازت سے اپنے کو انکے اختیار میں دیتے ہیں:’’النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ‘‘ (سورہ احزاب، ۶) یہ ولایت خدا نے پیغمبر ﷺ کے لیے قرار دی ہے۔ اگر لوگ اپنے کو پیغمبر ﷺ کے حوالے کردیںاور کہیں کہ جو بھی آپ فرمائیں ہمیں قبول ہے، تو یہ پیغمبر ﷺ کی ولایت کا قبول کرنا ہے۔لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جنھوں نے یہ نہیں کیا۔ کہتے تو یہ تھے کہ ہم مسلمان اور مطیع ہیں لیکن عمل میں مخالفت کرتے تھے۔ کبھی تو پیغمبرؐکے خلاف اقدام کرتے تھے، کبھی اپنی خاص نشستوں میں مومنین کا مذاق اڑاتے تھے، حتی کہ پیغمبرؐ کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ قرآن نے ان لوگوں کو منافق کہا ہے۔ ایک جنگ میں منافقین کے سردار عبداللہ ابن ابی نے کہا : یہ مہاجریں(مومنین) کچھ آوارہ لوگ ہیں جو مدینہ آگئے ہیں اور ہمارے لیے پریشانی کا سبب ہیں۔ ہم انھیں مدینہ سے نکال باہر کریں گے:’’يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ  ‘‘(سورہ منافقون، ۸)[یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم صاحبان عزت ان ذلیل افراد کو نکال باہر کریں گے ] ۔

قرآن کہتا ہے جو لوگ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اس طرح کی سازشیں کرتے ہیں ، ان کے پاس ولایت پیغمبر ہے ہی نہیں؛حقیقی ولایت یہ ہے کہ انسان اپنے کو پیغمبرﷺ و امام معصوم کے حوالے کردے۔اور انکے بعد بھی جن کی امام معصوم تائید فرمائیں وہ مسلمانوں کے معاملات کا ولی ہوگا۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کے ارشاد کے مطابق ان شرائط کا حامل امامؑ کا جانشین ہے: جو علم و فقاہت و دین کو دوسروں کے مقابلے بہتر پہچانتا ہو، تقوی و خداترسی دوسروں سے زیادہ ہو، سماج کےمفاد، اسلام کی مصلحتوں کو ذاتی مفاد و مصلحت پر قربان نہ کرے، معاشرہ کے مسائل سے آگاہ ہو اور دشمنوں کی چالوں میں نہ آئے تو ایسے شخص پر امامت کا نور اپنی جلوہ افشانی کرتا ہے اور وہ امام معصوم سے قریب ہوتا  ہے۔ اب اگر انسان ایسے شخص کے حوالے اپنے کو کردے اور کہے: جو بھی آپ کہیں گے میں مانوں گا ، تو یہ ولایت برقرار ہوگی۔

پیغمبرﷺ کے بعد مومنین کا ولی:

غدیر کے دن پیغمبر اکرمﷺ نے مکہ میں آنے والے تمام حجاج کو حکم دیا کہ اس غدیر(گڑھے) کے پاس جمع ہوں ، اس کے بعد ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: ’’ألستُ اولي بالمؤمنين مِن اَنفسهم‘‘، کیا میں تمہارے نفسوں پر تمہارا مولیٰ نہیں ہوں؟ (بحارالانوار، ج۲۸، ص۹۸) سب نے جواب دیا : ہاں ، خدا نے اس ولایت کو آپ کے لیے قرار دیا ہے:  ’’النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ‘‘ اس کا مطلب ہے کہ خدا نے پیغمبر ﷺ کو مختار بنایا ہے کہ وہ لوگوں پر ان سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔

نبی اکرمﷺ نے یہ کیوں فرمایا؟ تاکہ یہ بتائیں کہ جو مقام و مرتبہ خدا نے آپ کو عطا کیا ہے آپ نے وہی مقام و مرتبہ خدا کے اذن و حکم سے حضرت علیؑ کے لیے بھی معین کیا ہے۔ پھر فرمایا: ’’من كنت مولاه فهذا علي مولاه‘‘ ۔ اس مقدمہ کو بیان کیا تاکہ بتائیں یہ مولیٰ جو میں نے بنایا ہے یہ وہی ’’اولي من انفسهم‘‘ ہے جس کا پہلے ہی تم سے اقرار لے چکا ہوں۔’’الست اولیٰ بالمومنین من انفسھم‘‘ کیا اس آیت کی روشنی میں میں تم پر تم سے زیادہ اختیار نہیں رکھتا؟۔ سب نے کہا: یقینا، ہاں۔ فرمایا: خدا نے یہی ولایت حضرت علیؑ کے لیے قرار دی ہے۔

جب اس ولایت کی شعاع و کرن ولی امر(و فقیہ) پر پڑتی ہے تو وہ سورج کی روشنی کی طرح ہے جو چاند پڑتی ہے۔ یہ اس کا اپنا نور نہیں ہے۔ جب دے دیا گیا تو اس سے استفادہ کرتے ہیں جس طرح سورج کی روشنی سے استفادہ کرتے ہیں۔  

لہذا ولایت کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار سے اپنے کو کسی کے تابع کرلے، اسی کو تولی کہتے ہیں۔ اس آیت میں بھی جو خدا فرماتا ہے کچھ لوگ شیطان کی بنسبت یہی کام کرتے ہیں :’’ إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُوَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ‘‘(نحل، ۱۰۰) [اس کا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اسے سرپرست بناتے ہیں اور اللہ کے بارے میں شرک کرنے والے ہیں] یعنی خود کو شیطان کے اختیار میں دے دیتے ہیں۔کہتے ہیں جو بھی کہو میں تیار ہوں۔ کہتا ہے: آنکھ کا استعمال یہاں کرو، کہتے ہیں: بسروچشم۔ زبان کا استعمال اس طرح کرو۔ کہتے ہیں: ضرور۔ کہتا ہے: ہاتھوں کو لوگوں کے مال کی طرف دراز کرو، پیروں کو فلاں غصبی ملکیت کی طرف بڑھاؤ۔ کہتے ہیں: ٹھیک ہے۔اسے کہتے ہیں شیطان کی ولایت۔ تو خدا کی ولایت کیا ہے؟ وہ فرماتا ہے: آنکھوں کی حفاظت کرو، نامحرم کی طرف نہ دیکھو، کہے: قبول ہے۔ فرمائے: حرام میوزک و گانے نہ سنو، غیبت نہ کرو۔ کہے: ٹھیک ہے۔ اگر انسان اپنے کو خدا کے حوالے کردے وہ ولی خدا ہوتا ہے۔ 

معلوم ہوا کی ولایت کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار سے اپنے کو کسی کا تابع بنا لے۔ اس کے ساتھ ایسا رابطہ ہو کہ دل میں اس سے محبت کرے اور عمل میں اس کی پیروی اور مرضی کا خیال ہو، جب دشمن اس پر حملہ آور ہو تو اس کی حمایت کرے اور جان و مال کو اسکی مصلحت کے آگے قربان کرے؛ یہ ہے ولایت۔ خداوند عالم چاہتا ہے کہ بندہ سب سے پہلے اس کے سامنے اس طرح تسلیم ہو پھر پیغمبرﷺ کے اس کے بعد امام معصوم کے سامنے اپنے کو حوالے کردے ، امام معصوم کے بعد امامؑ کے نائب اور جانشین کے مقابل تسلیم ہو، یہ شیعی انداز ہے اور شیعیت کا مزاج ہے۔ 

اہل سنت پیغمبر اکرمﷺ تک تو مانتے ہیں، اگرچہ ان میں سے بہت سے اس پر عمل نہیں کرتے، جس طرح ہم میں بہت سے اہل بیت کی ولایت کو مانتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ اہل سنت خدا و رسول کی ولایت کا تو عقیدہ رکھتے ہیں لیکن اس کے بعد حضرات معصومین ؑ کی ولایت کو نہیں مانتے۔ ان کے یہاں امام زمانہ کے نائب کا وہ مرتبہ نہیں ہے جو ہمارے یہاں ہے۔ لیکن شیعی نظریہ و مزاج یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحلے میں خدا کی اطاعت کریں، دل خدا کے ہمراہ ہو، خدا کو دوست رکھیں؛ اس کے بعد کے مرحلے میں ضروری ہے کہ یہی چیز پیغمبر اور ائمہ معصومین کی بنسبت بھی ہو، ان کے نام ہی سے ہمیں وجد آئے، دل سے ان سے محبت کریں، ان کا احترام کریں، عمل سے بھی ثابت کریں اور انکے احکامات پر عمل کریں۔ یہ ہوگی پیغمبر اور امام کی ولایت۔ اور جب امام معصوم تک رسائی نہ ہوتو امام معصوم کے نائب کے تابع ہوں۔ یہ ولایت کا مفہوم قرآنی ثقافت و مزاج میں ہے۔

ہیومانیزم (Humanism) ولایت کے مد مقابل   ہے:

اسلامی مزاج اور الحادی مزاج میں کوئی سنخیت و مشابہت نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی میں اپنے کلچر و ثقافت کے مقابلے ایک اور کلچر سے روبرو ہیں۔ ہم نے بیان کیا کہ اسلام کا مطلب ہے اپنے اختیار سے اپنے کو خدا کے سامنے تسلیم کردینا۔ لیکن مقابل والا کلچر کہتا ہے کہ انسان کو کسی کے سامنے تسلیم ہونا ہی نہ چاہیے، ہر انسان خود مستقل ہے، آگاہ ہے ، کسی کو حق نہیں ہے کہ اُسے  امر و نہی کرے۔ مغرب والے اسے آزادی کا نام دیتے ہیں اور کہتے ہیں: حتی خدا کو بھی حق نہیں کہ ہمیں حکم دے! ہم خدا پر حق رکھتے ہیں! آج بعض افراد ہمارے یہاں بھی اس فکر کے حامل ہیں۔کہ اس دور کا انسان نہ صرف کوئی ذمہ داری نہیں رکھتا بلکہ ہر چیز پر حق رکھتا ہے۔ آج کا انسان اپنے حق کا طلب گار ہے، یہاں تک کہ ہم خدا سے اپنا حق لیں، خدا ہم پر کوئی حق نہیں رکھتا۔یہ ہیومانیزم کی انتہا ہے یعنی انسانیت پسندی، انسان محوری ہے۔ یہ ہیومانیزم کا کلچر ہے جو لیبرالیزم کی آئیڈیالوجی میں پنپتا اور تجلی پیدا کرتا ہے۔ یقینا ایسا طرز تفکر تسلیم نہیں کرے گا کہ ہم امام و نبی کے احکامات پر عمل کریں۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا حق نہیں رکھتا ہم کو حکم دے تو ظاہر سی بات ہے کہ پھر پیغمبر و امام بھی حق نہیں رکھتے ۔ اور جب ان کے نزدیک پیغمبر و امام کو حکم جاری کرنے کا حق نہ ہو تو جانشین امام و ولی مسلمین کو تو کوئی حکم دینے کا حق نہیں رہ جائے گا۔

مذکورہ دو طرز تفکر میں پہلے ہم واضح کریں کہ کس طرف ہیں؟ اصل مسئلہ تو یہیں پر ہے۔ اسلام کہتا ہے تم خدا کے بندے ہو، تمہارا پورا وجود خدا کے لیے ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں ہم خود اپنے لیے ہیں، تمام چیزوں کو اپنا تابع کریں، ہم دنیا کے سردار ہیں، بندگی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔

ولایت خدا یا ولایت شیطان:

اسلام کہتا ہے: ’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ‘‘ (سورہ ذاریات، آیت۵۶) [اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے]۔اُن لوگوں کا کہنا ہے کہ بندگی کا مفہوم ہی نادرست ہے، اس جملہ کو تو انسانی لغت میں سے حذف ہونا چاہیے، انسان اپنا مالک و مختار ہے، جو بھی اس کا دل چاہے وہی ہے، قابل قبول نہیں ہے کہ کوئی خدا کی یا کسی اور کی اطاعت و بندگی کا حکم دے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم جہت معین کریں کہ اِس طرف ہیں یا اُدھر؟ اگر ہمارے دل کی گہرائیوں میں یہ ہے کہ ہم خدا کے بندے نہیں ہیں اور خدا کو بھی کوئی حق نہیں ہے کہ ہم کو کوئی حکم دے، تو پھر تو ولایت فقیہ کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

 سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم جہت معین کریں کہ اِس طرف ہیں یا اُدھر؟ اگر ہمارے دل کی گہرائیوں میں یہ ہے کہ ہم خدا کے بندے نہیں ہیں اور خدا کو بھی کوئی حق نہیں ہے کہ ہم کو کوئی حکم دے، تو پھر تو ولایت فقیہ کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔اگر کہیں کہ اسلام کو بھی مانتے ہیں، انقلاب کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ساتھ لیبرل یا ہیومانیزم و انسان پسندی کو بھی قبول کرتے ہیں تو یہ تو ناممکن ہے، ہو ہی نہیں سکتا کہ مسلمان بھی رہیں اور احکام خداوندی کو قبول بھی نہ کریں۔ کہتے ہیں خدا کو بھی حق نہیں ہے کہ ہم کو حکم دے ، ہر چیز کا قانون وہی ہے جو ہم چاہیں۔ جب اُن سے سوال کیجیے کہ پس اسلام کا مطلب کیا ہے؟ کہیں گے کہ اسلام کا مطلب یہی ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ اسلام یعنی آزادی! کس سے آزادی؟ خدا سے؟ یہی تمام اختلافات کی بنیاد ہے جسے آج ہم اپنے زمانے میں دیکھ رہے ہیں۔یہی تمام فتنوں کی جڑ ہے۔ تمام فتنوں کا سرچشمہ یہیں ہے۔ یہ لوگ تیار نہیں ہیں کہ جو خدا نے کہا اس پر عمل کریں۔ جب اُن سے کہیے کہ قرآن و حدیث و پیغمبرؐ و امام معصومؑ کے علاوہ ولی فقیہ کی بھی اطاعت کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو خدا ہی کو نہیں مانتے تو ولی فقیہ کو کیا مانیں گے!۔ 

واضح ہے کہ اس طرز فکر کا نتیجہ یہی ہوگا۔ ہیومانیزم (انسان پسندی) سے یہ توقع رکھنا بے جا ہے کہ وہ ولایت فقیہ کا قائل ہو، یہ ناممکن ہے۔ اگر اس طرح کے لوگ تھوڑا بہت قائل بھی ہوتے ہیں تو وہ ہم کو اور آپ کو دھوکہ دینے کے لیے، اگر اسلام و نظام اسلامی کی بات کرتے ہیں تو یوں ہی ہوتا ہے ، چاہتے ہیں کہ ہم کو دھوکہ دیں ورنہ یہ دونوں نظریات باہم جمع نہیں ہوسکتے۔یا تو خدا کی بندگی یا نفس کی بندگی، اس میں انتخاب کرنا ہے۔ پہلے ہی معاملہ صاف کریں، یا تو خدا کی ولایت تسلیم کریں یا طاغوت کی ولایت کو۔یا خدا کی بندگی یا شیطان کی بندگی۔اگر ہم خدا کی بندگی نہ کریں تو یہ نہ سوچیں کہ ہم آزاد ہیں، ہزاروں خدا اپنے لیے بنا لیئے ہیں۔ لباس میں دنیا کی پیروی، ماحول و تاریخ و کلچر میں غیروں کی پیروی اگر اس میں اپنا کوئی اختیار نہ ہو تو یہ بھی ایک طرح کی بندگی ہے۔خدا تو کہتاہے ان سب کو چھوڑو صرف اور صرف خدا :  ’’قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ‘‘(سورہ انعام، ۹۱) خدا کو اپنا لو سب کو چھوڑ دو۔جب یہ طے ہے کہ ہم بندے رہیں ، بندگی کریں، تو ایسے کی بندگی کریں جو ہمارا مالک ہے اور ہماری تمام چیزیں اسی کی ہیں۔ ایسے کی بندگی کیوں کریں جو خود ہم سے کمتر ہے۔ لباس وغیرہ میں ، زندگی گزارنے کے انداز و طریقہ میں کیوں غیروں کے کلچر کے غلام بنیں، مغربی ثقافت کے پابند کیوں بنیں؟!پہلے تو یہی طے کرنا ہوگا کہ ہم خدا کے بندے ہیں یا شیطان کے، اگر شیطان کے ہوئے تو اس وقت نفس کے غلام ہوئے، مغرب کے غلام ہوئے ، امریکہ و یورپ کے غلام ہوئے ، مختلف اقسام ہیں یہ سب ظلمت و تاریکی ہے، لیکن خدا کی بندگی کا صرف ایک راستہ : ’’‌أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ  أَنْ اعْبُدُونِي هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ‘‘ راہ راست اور صراط مستقیم، وہی بندگیٔ خدا ہے۔

ترجمہ: سید محمد حسنین باقری

(ماہناہ اصلاح، ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ، جولائی ۲۰۲۰ء)

میں یا آپ

 میں یا آپ


علامہ سید ذیشان حیدر جوادی اعلی اللہ مقامہ


 مرسل اعظمؐ کے بعد جب باطل نے حق کی جگہ لینے کا عمل شروع کیا اور حق و باطل میں اشتباہ کی بنیاد ڈالی گئی تو مولائے کائناتؑ نے کمال صبر و ثبات کے باوجود اس فریضہ کو بہرحال انجام دیا کہ حق و باطل میں خط امتیاز قائم ہوجائے۔ اور کسی وقت بھی باطل کو حق کے استعمال کرنےکا موقع نہ مل سکے۔ چنانچہ تاریخی حقیقت ہے کہ خلیفۂ اول کی بیعت کے بعد یہ بات برابر دیکھنے میں آئی کہ خلیفہ اول کی طرف سے امیر المومنینؑ سے تعلقات ظاہر کرنے کی کوشش ہوتی رہی اور آپ کی طرف سے مسلسل ناراضگی کا اظہار ہوتا رہا۔ چنانچہ بروایت ابو سعید وراق امام حسینؑ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر نے چاہا کہ امیر المومنینؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر معذرت کریں اور یہ کہیں کہ امت نے میرے اوپر اجماع کرلیا تھا ورنہ مجھے خلافت کی کوئی ہوس نہیں تھی۔ چنانچہ ایک دن تنہائی میں حاضرہوکر عرض پردا ز ہوئے کہ:

یا ا با الحسن! خدا کی قسم اس کام میں میری سازش شامل نہیں تھی اور نہ مجھے خلافت کی طمع تھی۔ میرے پاس مال اور قبیلہ بھی نہیں تھا کہ میں حکومت پر قبضہ کرلیتا۔ آپ مجھ سے کیوں ناراض ہیں اور کیوں مجھے بری نظروں سے دیکھتے ہیں؟

 آپ نے فرمایا کہ جب آپ میں رغبت و حرص نہ تھی اور آپ اس کام کے قابل بھی نہ تھے تو آپ نے اس عہدے کو قبول کیوں کیا ؟

 حضرت ابو بکر :

 میں نے پیغمبر اسلامؐ سے سنا تھا کہ امت کا اجماع کسی گمراہی پر نہیں ہوسکتا اور جب لوگوں نے میری خلافت پر اجماع کرلیا تو میں نے اندازہ کرلیا کہ میری خلافت حق ہے۔ ورنہ کوئی شخص بھی اس اجماع کا مخالف ہوتا تو میں ہرگز اس عہدے کو قبول نہ کرتا۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

  جب آپ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس حدیث کا سہارا لیا ہے تو کیامیں امت میں نہیں تھا۔۔۔۔ کیاسلمان، عمار، مقداد، ابوذر ابن عبادہ اور دیگر انصار امت میں نہ تھے ؟

 حضرت ابو بکر :

 بے شک یہ سب امت میں تھے۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 تو آپ نے اجماع امت کا نام کیونکر لیا جبکہ یہ مسلم الثبوت ہستیاں آپ کی خلافت کی مخالف تھیں؟

 حضرت ابو بکر :

 اس اختلاف کی اطلاع مجھے بیعت کے بعد ملی تو میں نے دیکھا کہ اب اگر میں انکار کردیتا ہوں تو لوگ دین سے مرتد ہوجائیں گے اور آپ حضرات کا میری حکومت کو قبول کرلیناقوم کے مرتد ہوجانے سے بہتر اور آسان تر تھا۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 یہ تو بتائیے کہ خلافت کا استحقاق کیونکر پیدا ہوتا ہے ؟ 

حضرت ابو بکر: 

نصیحت ، وفا، محبت ، حسن کردار، عدالت ، علم کتاب و سنت ، زہد در دنیا ، انصاف۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

  ذرا یہ تو بتائیے کہ یہ صفات آپ کے اندر پائے جاتے ہیں یا میرے اندر؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ میں۔

امیر المومنین علیہ السلام :

قسم بخدا بتائیے کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت پر سب سے پہلے میں نے لبیک کہی تھی یا آپ نے ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ نے ۔

امیر المومنین علیہ السلام :

  قسم بخدا یہ بتائیے کہ سورہ برأت کی تبلیغ میں نے کی تھی یا  آپ نے ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ نے۔

امیر المومنین علیہ السلام :

  روزغار (وقت ہجرت) رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جان میں نے بچائی تھی یا آپ نے ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ نے

امیر المومنین علیہ السلام :

 آیت ولایت میں انگوٹھی دینے کا ذکر میرے بارے میں ہے یا آپ کے بارے میں ؟

 حضرت ابو بکر :

آپ کے بارےمیں ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

  روز غدیر مرسل اعظمؐ نے مولائے مومنین مجھے بنایا تھا یا آپ کو؟

 حضرت ابو بکر :

آپ کو۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

  رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کےلئے بمنزلہ ہارون ؑ میں ہوں یا آپ؟

 حضرت ابو بکر :

آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 مباہلہ کے میدان میں میرے بچے اور میری زوجہ گئی تھیں یا آپ کے گھر والے ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ کے اہل و عیال ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

  آیۂ تطہیر میں میری اور میرے اہل و عیال کی طہارت کا تذکرہ ہے یا آپ کے ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ کے گھر والوں کا۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 روز کساء رسول اکرمﷺ نےمیرے گھر والوں کو اہلبیت کہہ کر دعا کی تھی یا آپ کے گھر والوں کو؟

 حضرت ابو بکر :

آپ کے گھر والے۔

امیر المومنین علیہ السلام :

 سورہ دہر میں ایفائے نذر کرنےو الے ہم ہیں یا آپ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 لافتیٰ الا علی کی آواز کا مصداق میں ہوںیا آپ؟۔ 

حضرت ابو بکر:

 آپ ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

  جس کی نماز کےلئے مغرب سے آفتاب پلٹا وہ میں تھا یا آپ؟

حضرت ابو بکر :

 آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 روز خیبر جسے رایت اسلام دیا گیا اور اس نے خیبر فتح بھی کیا وہ میں تھا یا آپ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

  عمر بن عبدود کو قتل کرکے رسول اکرمؐ کو شر اعدا سے میں نے بچایا تھا یا آپ نے ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ نے ۔

امیر المومنین علیہ السلام :

  جنوں تک رسول اکرمؐ کا پیغام میں نے پہونچایا تھا یا آپ نے ؟

حضرت ابو بکر : 

آپ نے ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

آدمؑ سے عبد المطلب تک جس کی نسل طیب و طاہر ہو وہ میں ہوں یا آپ؟

 حضرت ابو بکر : 

آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

ساری دنیا میںانتخاب کرکے اپنی دختر کا عقد رسول اکرمؐ نے میرے ساتھ کیا تھا یا آپ کےساتھ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ کےساتھ۔

امیر المومنین علیہ السلام :

 سردار ان جوانان جنت کا باپ اور ان سے بقول رسول اعظمؐ افضل میں ہوں یا آپ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 جعفر طیار بن کر ملائکہ کے ساتھ فضائے جنت میں پرواز کرنےوالا میرا بھائی ہے یا آپ کا؟

 حضرت ابو بکر:

 آپ کا۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 رسول اکرمؐ کے قرض کا ذمہ دار اور اس کا ادا کرنے والا میں تھا یا آپ؟

 حضرت ابو بکر : 

آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 محبوب ترین خلائق قرار دےکر طائر کے کھانے میں رسول اکرمؐ نے جسے شریک کیا تھا وہ میں تھا یا آپ؟

 حضرت ابوبکر : 

آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 جسے رسول اکرمؐ نے باغیوں اور پیماں شکنوں سے تاویل قرآن پر جہاد کرنے کی بشارت دی تھی وہ میں تھا یا آپ؟

حضرت ابو بکر :

 آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 رسول اکرمؐ کی آخری گفتگو اور آپ کے غسل و کفن و دفن کا شاہد میں تھا یا آپ ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 رسول اکرمؐ نے اقضائے امت  (سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ) مجھے قرار دیا تھا یا آپ کو؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ کو۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

’’امیر المومنین‘‘ کہہ کر اصحاب کو سلام کرنے کا حکم رسول اعظمؐ نےمیرے بارےمیں دیا تھا یا آپ کے بارے میں؟۔ 

حضرت ابوبکر :

 آپ کے بارےمیں۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 قرابت رسول ؐ میں سبقت کا شرف مجھے حاصل ہوا یا آپ کو ؟

حضرت ابو بکر :

 آپ کو۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 جسے پروردگار نے وقت ضرور ت دینار عطا کیا تھا اور اس نے رسول اکرمؐ کی ضیافت کرکے ان کی اولاد کو سیر کیا تھا وہ میں تھا یا آپ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ ( یہ کہہ کر حضرت ابو بکر رو دیئے) 

امیر المومنین علیہ السلام :

 بت شکنی کے موقع پر تاحد آسمان رسول اکرمؐ نے اپنےکاندھوں پر مجھے بلند کیا تھا یا آپ کو؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ کو

امیر المومنین علیہ السلام :

 دنیا و آخرت میں حامل لوائے رسولؐ میں ہوں یا آپ؟

 حضرت ابو بکر : 

آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

 سارے مسلمانوں کے دروازوں کے بند ہونے کے بعد جس کا دروازہ مسجد میں کھلا رہا وہ میں تھا یا آپ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

آیت نجویٰ کےموقع پر جب پروردگار عالم نے مسلمانوں پر عتاب نازل کیا تو صدقہ دینے والا میں تھا یا آپ؟

 حضرت ابو بکر :

 آپ۔ 

امیر المومنین علیہ السلام :

عقد فاطمہؑ کے موقع پر سب سے پہلا مومن اور سب سے عظیم مسلم رسول اکرمؐ نے مجھے قرار دیا تھا یا آپ کو؟

 حضرت ابو بکر : 

آپ کو۔ 

اسی طرح آپ کے بیان کا سلسلہ جاری رہا اور حضرت ابو بکر ایک ایک فضیلت کی تصدیق کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا انہیں فضائل و کمالات سے استحقاق خلافت پیدا ہوتاہے تو آپ کو کیسے دھوکا ہوگیا کہ آپ نے خدا و رسولؐ اور دین سب کو چھوڑ کر حکومت اختیا رکرلی؟

 حضرت ابو بکر نے بے تحاشہ گریہ کیا اور ایک شب کی مہلت مانگی تمام رات مسئلے پر غور و فکر کرتے رہے۔ ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی یہاں تک کہ مرسل اعظمؐ کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے حضرت ابو بکر کے سلام کا جواب دینے کے بجائے منہ پھیر لیا۔ 

حضرت ابو بکر نے کہا سرکار میں نے آپ کے کس حکم کی مخالفت کی کہ آپ ناراض ہیں؟

 فرمایا : تم نے خدا و رسولؐ سے دشمنی کی ہے اور اللہ کے اولیاء سےعداوت کی ہے۔ جاؤ حقدار کا حق فوراً واپس کرو۔ 

حضرت ابو بکر نے پوچھا: حقدار کون؟

 فرمایا: جس سے بحث کر آئے ہو یعنی علیؑ۔ 

حضرت ابو بکر نے خواب میں وعدہ کیا اور عالم گریہ و زاری میں آنکھ کھولی ۔ حضرت علیؑ کے دروازے پر حاضر ہوکر اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ آپ مسجد میں آئیے۔ میں سبھوں کے سامنے آپ کا حق واپس کردوں گا۔ 

یہ کہہ کر حضرت علیؑ کےمکان سے نکلے۔ راستے میں عمر بن الخطاب سے ملاقات ہوئی۔ جو رات سے بے خبر تھے کہ علیؑ سے کیا گفتگو ہوئی ہے۔ 

پوچھا : خلیفہ رسولؐ آپ کا کیا عالم ہے ؟

 فرمایا : میں نے علیؑ سے ایسی گفتگو کی ہے اور ایسا خواب دیکھا اور اب میرا یہ ارادہ ہے۔ 

ابن خطاب نے کہا کہ بنی ہاشم پر انے جادو گر ہیں۔ آپ  ان کے چکر میں نہ آئیے۔ اپنا کام کیجئے اور اس قدر اصرار کیا کہ حضرت ابو بکر نے رائے تبدیل کردی۔ 

امیر المومنینؑ حسب قرار داد مسجد میں آئے اور کسی کو نہ پاکر صورت حال کا اندازہ کرلیا۔ قبر رسولؐ کے پاس بیٹھ گئے۔ ادھر سے عمر بن الخطاب کا گزر ہوگیا۔ کہنے لگے یا علیؑ بیکار بیٹھے ہو۔ تمہارے منصوبے پر عمل محال ہے۔

(ماہنامہ اصلاح،لکھنؤ، ذی الحجہ۱۴۴۱ھ۔ جولائی ۲۰۲۰)

بدھ، 17 جون، 2020

امام مہدی عج قرآن و سنت کی روشنی میں

باسمہ تعالیٰ

امام مہدی عج  قرآن و سنت کی روشنی میں 
سید محمد حسنین باقری۔ لکھنؤ

ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے آخری جانشین برحق ، فرزند زہرائے اطہرؑ امام زمانہ حضرت امام مہدی بن امام حسن عسکری علیہماالسلام کی ذات والا صفات اور آپ کا وجود ذی جود ایسی مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار کم از کم تاریخ سے معمولی آشنائی رکھنے والا نہیں کرسکتا۔ انکار کرنے کو تو لوگ خدا کا بھی کرتے ہیں، جس طرح خدا کے انکار سے خدا کے وجود پر کوئی آنچ نہیں آتی بلکہ انسان کے ضمیر و باطن اور اس کی عقل کا اندازہ ہوجاتا ہے اسی طرح قرآن و سنت سے معمولی سا ربط والا رکھنے والا اگر امام مہدی عج کا انکار کرے تو اس سے امام مہدیؑ پر کوئی آنچ نہیں آتی بلکہ سامنے والے کے بارے فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔یوں تو پیغمبر اکرمﷺ کی متفق علیہ حدیث: ’’مَنْ ماتَ وَ لَمْ یعْرِفْ إمامَ زَمانِهِ مَاتَ مِیتَةً جَاهِلِیة‘‘( کمال الدین،شیخ صدوق، ج۲، ص۴۱۰؛ مسند احمد حنبل، ج۲۸، ص۸۸)کی روشنی میں ہر زمانہ ہر شخص پر اپنے زمانے کے امام کا پہچاننا واجب ۔ (اس حدیث کی روشنی بھی ہر زمانہ میں ایک ایسے امام کا ہونا بدرجہ اولیٰ واجب و لازم ہے جس کی شناخت پر تمام لوگوں کا ایمان موقوف ہے۔)اس کے ساتھ آج کے دور میں خصوصیت کے ساتھ جب کہ ہر طرف کرونا جیسی وبا پھیلی ہوئی ہے، ہر طرف مصیبت و پریشانی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، ہر شخص پریشان ہے، تمام دنیاوی سپر پاور طاقتیں بھی گھٹنے ٹیک چکی ہیں، تمام ترقیوں کےباوجودانسان اس کرونا کے سامنے شکست کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے، تمام سائنسی و ٹکنالوجی میں ترقی و پیش رفت کے باوجود ابھی تک انسان علاج تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ ایسے میں بھی انسان کی فطرت اور باطن آگے بڑھ کر آواز دے رہا ہے کہ ابھی بھی کوئی طاقت ہے جو تمام امیدوں کا مرکز ہے، ابھی بھی کوئی ذات و کوئی طاقت تمام مخلوق سے اوپر ہے جو تمام امور کو حل کرسکتی ہے۔ پہلے مرحلے میں وہ خداوندعالم کی ذات ہے اور اس کے بعد اس ذات باری تک پہنچانے والی، اس کے صفات کامظہر اور خالق و مخلوق کے درمیان رابطہ بھی ہے جو زمانہ کا امام اور پیغمبرؐ کا آخری جانشین برحق حضرت حجت ارواحنا لہ الفداء ہیں۔ آج امام زمانہ عج ہی خدا کے بعد تمام کائنات کے لیے امید کا مرکز و محور ہیں۔ لہذا آج کے دورمیں خصوصیت کے ساتھ ضروری ہے کہ ہم امام زمانہ عج کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ تلاش و جستجو کریں، انکی زیادہ سے زیادہ معرفت کے لیے ہر ممکنہ کوشش کریں، انھیں صحیح طور پہچانیں۔ 
امام زمانہ عج کے سلسلے میں بحث و گفتگو اور آپ کی شناخت و معرفت کے لیے عقلی دلیلوں کے علاوہ ایک راستہ قرآن کریم اور ایک راستہ سنت ہے۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں اجمالی طور پر امام کے سلسلے میں گفتگو کریں:
الف: قرآن کریم کی روشنی میں
 قرآن کریم جو تمام عالم اسلام کے درمیان قابل قبول اور فیصلہ کن کتاب ہے اس میں متعدد آیات میں امام زمانہ عج کا تذکرہ موجود ہے۔البتہ یہ حقیقت ہے کہ امامؑ کا ذکر صراحت کے ساتھ واضح طور پر نہیں ہے۔ شائد اس کی وجہ بھی یہ ہو کہ لوگوں کی عقل و فکر اور شعور کا امتحان مقصود ہو اس لیے کہ اتنی اہم ذات کے لیے عقل جیسی نعمت کو استعمال میں لائے بغیر مان لینا اتنا اہمیت کا حامل نہیں ہوگا جتنا عقل و فکر کے ذریعہ یقین و اطمینان کرکے ماننے میں ہے۔
 شیعہ مفسرین کرام احادیث سے استناد کرتے ہوئے اس حقیقت کے قائل ہیں کہ قرآن کی بہت سی آیات امام زمانہؑ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ 250 [یا 260] آیات قرآنی کا تعلق امام مہدیؑ سے ہے۔( معجم احادیث امام مہدی،علامہ کورانی و ، جلد۵) 
ذیل میں بعض آیات پیش کی جارہی ہیں۔ ابتداءً ایک دلیل جو مفسرین امام کی ضرورت کے لئے پیش کرتے ہیں، یہ ہے کہ قرآن کے لئے مُبَیِّن اور مُفَسِّر کی ضرورت ہے اور امام کے سوا کوئی بھی قرآن کریم کے تمام معانی اور خصوصیات سے آگاہ نہیں ہے۔ اس کی تائید نبی اعظم ﷺ کی مشہور و معروف اور متفق علیہ حدیث ’’حدیث ثقلین‘‘ سے بھی ہوتی ہے۔لہذا اس حدیث اور  عقل کے تقاضوں کے مطابق، رسول اللہؐ کے بعد امام کا ہونا لازم اور ضروری ہے۔( مخزن العرفان در تفسير قرآن،امین، ج۳،ص۳۹، ذیل آیت۴۴ سورہ نحل۔) شیعہ عقیدے کے مطابق، امامت عالم وجود کے امن و سکون کا سرمایہ اور فیض خداوندی کے حصول کا واسطہ ہے اور اللہ کی نعمات اور برکات ان کے واسطے سے انسان کو ملتی ہیں اور اگر دنیا ایک لمحہ کے لیے بھی امام کے وجود سے خالی ہو جائے تو وہ اپنے باسیوں کو نگل لے۔( الغیبہ،نعمانی، ص۱۳۸۔؛ بحارالانوار، ج۲۳، ص۵۵)
(۱) "وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ۔’’ اور ہر قوم کا ایک [برگزیدہ] راہنما ہوتا ہے‘‘۔
 اس آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: ہر زمانے میں ہمارے خاندان میں سے ایک امام موجود ہوتا ہے جو لوگوں کو ان حقائق کی طرف ہدایت کرتا ہے جو رسول خداؐ اللہ کی طرف سے لائے ہیں۔( کمال الدین وتمام النعمہ، شیخ صدوق، ج۲،ص۶۶۷۔؛بحارالانوار، علامہ مجلسیؒ، ج۲۳،ص۵)
اس آیت کے مطابق خدا کی طرف سے امام موجود ہیں جو ہدایت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
(۲)’’وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ‘‘‘ِ(سورہ انبیاء، آیت۱۰۵)
”اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے“۔
اس آیت کے سلسلے میں ا مام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”زمین کو ارث میں لینے والوں سے مراد نیک اور صالح بندے ہیں، جو امام مہدی علیہ السلام اور ان کے ناصر و مددگار ہیں“۔(تفسیر قمی، ج۲، ص۵۲)
(۳) وَنُرِیدُ اَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاٴَرْضِ وَنَجْعَلَهمْ اٴَئِمَّةً وَنَجْعَلَهمْ الْوَارِثِینَ ۔>( سورہ قصص، آیت ۵ )
”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کے وارث قرار دیدیں “۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:”(مستعضفین) سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آل ہے، خداوندعالم کوشش اور پریشانیوں کے بعد اس خاندان کے ”مہدی“ کے ذریعہ انقلاب برپا کرائے گا اور ان کو اقتدار اور شکوہ و عظمت کی اوج پر پہنچادے گا نیز ان کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کردے گا“۔(غیبت طوسی علیہ الرحمہ ، ح۱۴۳، ص ۱۸۴)
(۴)’’بَقِيَّتُ اللَّـهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ‘‘،(سورہ ہود ،آیت ۸۶)
”اللہ کی طرف کا ذخیرہ تمہارے حق میں بہت بہتر ھے اگر تم صاحب ایمان ہو۔۔۔“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جس وقت امام مہدی علیہ السلام ظھور فرمائیں گے خانہ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگا ئیں گے اور سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت فرمائیں گے اور اس کے بعد فرمائیں گے: اَنَا بَقِیَّةُ اللهِ فی اٴَرْضِه وَ خَلِیفَتُه وَ حُجَّتُه عَلَیکُمْ“ میں زمین پر ”بقیۃ اللہ ، اس کا جانشین، اور تم پر اس کی حجت ھوں۔ پس جو شخص بھی آپ کو سلام کرے گا تو اس طرح کھے گا: اَلسّلامُ عَلَیکَ یَا بَقِیَّةَ اللهِ فی اٴَرْضِه “(کمال الدین، ج۱، باب ۳۲، ح۱۶، ص ۶۰۳)
(۵)’’ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ‘‘( سورہ حدید آیت ۱۷)
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوں کو واضح کر کے بیان کر دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لے سکو“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”مراد یہ ہے کہ خداوندعالم زمین کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظھور کے وقت ان کی عدالت کے ذریعہ زمین کو زندہ فرمائے گا جو گمراہ حکام کے ظلم و ستم کی وجہ سے مردہ ہوچکی ہوگی“۔(غیبت نعمانی، ص ۳۲)
(۶)  وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً(سورہ نور،۵۵) 
’’ اللہ کا وعدہ ہے تم میں ان افراد سے جو صاحب ایمان ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے رہے ہیں کہ وہ ضرور انہیں روئے زمین پر [اپنا] جانشین قرار دے گا جس طرح انہیں خلیفہ بنایا تھا جو ان کے پہلے تھے اور ضرور اقتدار [اور تسلط] عطا کرے گا ان کے پسندیدہ دین کو، اور ضرور بدل دے گا ان کے لئے ان کے ہر خوف کو امن و اطمینان میں؛ وہ میری عبادت کریں گے اس طرح کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے‘‘۔
 ائمۂ اطہارؑ سے منقولہ احادیث نے اس آیت کریمہ کو امام زمانہؑ اور آپؑ کے اصحاب پر منطبق کیا ہے۔
(۷) ’’ وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ‘‘(سورہ قصص، آیت۵)
’’ اور ہم نے چاہا کہ احسان کریں ان پر جنہیں روئے زمین پر، دبایا [یا پیسا یا ضعیف کیا] گیا تھا اور ان ہی کو پیشوا قرار دیں، ان ہی کو وارث قرار دیں۔‘‘
(۸) ’’وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ‘‘()
’’اور بے شک ہم نے توریت کے بعد زبور میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ میرے نیک بندے زمین کے وارث ہوں گے؛ ‘‘
ان دونوں آیہ کریمہ کو بہت سی احادیث کی بنیاد پر، مسئلۂ ظہور سے نسبت دی گئی ہے۔
(۹)نیز سورہ قدر کے مطابق ہر سال ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ یقینا ملائکہ حجت خدا اور صاحب امر پر ہی نازل ہوتے ہیں لہذا ہر زمانہ میں ایک حجت خدا اور صاحب امر کا ہونا ضروری ہے۔
ب: روایات کی روشنی میں
حضرت امام مہدی عج کے سلسلہ میں کثرت سے روایات ہمارے پاس موجود ہیں جن میں امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے مختلف حصوں پر ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ تذکرہ ہوا ہے۔ جیسے آپ کی ولادت، بچپن کا زمانہ، غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ، ظھور کی نشانیاں، ظھور کا زمانہ، عالمی حکومت۔ چنانچہ امام مہدی علیہ السلام کی ظاہری اور اخلاقی خصوصیات، غیبت کا زمانہ اور ان کے ظھور کے منتظرین کی جزا اور ثواب کے بارے میں بہت اہم روایات موجود ہیں، قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے متعدد روایات شیعہ کتابوں میں بھی بیان ہوئی ہیں اور اہل سنت کی کتابوں میں بھی، اور امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بہت زیادہ روایات ”متواتر“ ہیں۔
اہل سنت کے مصادر حدیثی میں امام مہدیؑ اور منجی آخری الزمان کے سلسلہ میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔ ابری شافعی(دانشنامہ امام مہدیؑ، ج1، ص82)، عبد الحق شاہ محدث دھلوی(عبدالرحمن جامی، اشعۃ اللمعات، ج4، ص228)، سقارینی(السفارینی، لوامع الانوار البہیہ، ج2، ص70) اور شوکانی(دانشنامہ امام مہدیؑ، ج1، ص83) جیسے اہل سنت کے بعض بزرگ محدثین نے ان روایات کے متواتر ہونے کے سلسلہ میں تصریح کی ہے۔ اہل سنت ان روایات کی وجہ سے مہدی کے وجود کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس موضوع کے سلسلہ میں شیعہ سنی عقیدہ کے مطابق مہم ترین مشترک خصوصیات یہ ہیں: وہ پیغمبر اکرم ؐ کی اولاد میں سے اور ان کے ہم نام ہوں گے اور ان کا لقب مہدی ہوگا۔ آخری زمانہ میں حتمی طور پر وہ قیام کریں گے اور تمام ظالمین پر کامیاب ہوں گے اور دنیا میں عدل و انصاف قائم کریں گے۔ جس طرح سے وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی اور وہ حضرت عیسیؑ کے ہمراہ زمین پر لوٹ کر آئیں گے۔ (دانشنامہ امام مہدیؑ، ج1، ص86-88)
ان روایات کے وہ اختلافی پہلو جو شیعوں کے عقیدہ کے خلاف ہیں:پیغمبر اکرم ؐ کے ہمنام ہونے کے علاوہ ان کے والد کا نام بھی آپ کے والد کے نام کی طرح عبد اللہ ہوگا، جبکہ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ امام حسن عسکریؑ کے بیٹے ہیں۔(دانشنامہ امام مہدیؑ، ج1، ص88)
اہل سنت کا ایک گروہ ان کے امام حسنؑ کی نسل سے ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے۔(دانشنامہ امام مہدیؑ، ج1، ص89)
اہل سنت کے مشہور نظریے کے مطابق مہدی آخری زمانہ میں پیدا ہوں گے اور وہ امام حسن عسکری کے فرزند نہیں ہیں۔ (دانشنامہ امام مہدیؑ، ج1، ص90۔)
اہل سنت کی ایک قلیل تعداد نے عقیدہ مہدویت اور اس سلسلہ کی روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں ابن خلدون کی تاریخ(ابن خلدون، محمد بن محمد، تاریخ ابن خلدون، ج1، ص199) میں اور رشید رضا کی تفسیر(رشید رضا، تفسیر المنار، ج10، ص342) المنار شامل ہیں۔
شیعوں کے نزدیک تو امام زمانہ عج سے متعلق بہت زیادہ روایتیں ہیں۔ رسول اکرمﷺ سے بھی اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے بھی۔ اس سلسلہ میں علماء نے مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ تمام ہی معصومین علیہم السلا م نے آپ کے بارے میں بہترین کلمات ارشاد فرمائے ہیں جو واقعاً علم و آگاہی کا مجموعہ ہے، جن میں عدالت کے اس علمبردار کے قیام اور انقلاب کی حکایت ہوئی ہے۔ ہم یہاں پر ہر معصوم سے ایک ایک حدیث بیان کررہے ہیں:
پیغمبر اسلامﷺ :مہدی ؑ میری اولاد میں سے ہیں۔ ان کا نام میرے نام پر اور کنیت میری کنیت ہوگی۔ ان کی صورت و سیرت سب سے زیادہ مجھ سے مشابہ ہوگی۔ غیبت اختیار کرے گا۔ جس کی وجہ سے لوگ حیرت و سرگردانی کا شکار ہوں گے۔ بہت سے لوگ گمراہ ہوجائیں گے اس وقت وہ روشن ستارے کے مانند پردہ غیب سے ظاہر ہوگا۔ اور زمین کو عد ل و انصاف سے اسی طرح بھرے گا جس طرح ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ (بحار الانوار جلد ۵۱، صفحہ ۷۱)۔”خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مہدی (علیہ السلام) کی زیارت کریں گے، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان سے محبت کرتا ھوگا، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کی امامت کو مانتا ہو“۔(بحار الانوار ج۵۲، ص ۳۰۹)
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام :میرا قائم طولانی غیبت اختیار کرے گا۔ میں شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ اس کو ڈھونڈھنے کے لئے ہر طرح کی کوشش کررہے ہیں لیکن ڈھونڈھ نہیں پارہے ہیں۔ یاد رکھو! جو لوگ اس کی غَیبت کے زمانے میں اپنے دین پر ثابت قدم رہیں  اوراس غَیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سےاس کے منکر نہ ہوں تو ایسے لوگ قیامت کے دن ہمارے ساتھ ہوں گے۔ اور جب ہمارا قائم ظہور کرے گا اس وقت اس کی گردن پر کسی کی بھی بیعت نہیں ہوگی اسی وجہ سے اس کی ولادت پوشیدہ ہوگی اور خود نگاہوں سے اوجھل ہوگا۔ (بحار الانوار جلد ۵۱، ےا ۲، جلد ۱و۲۔صفحہ ۱۰۹و۱۱۰)۔”(آل محمد) کے ظہور کے منتظر رہو، اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک کہ خداوندعالم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام ”ظھور کا انتظار“ ہے۔(بحار الانوار ج۵۲، ص ۱۲۳)
حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام :( امام حسین علیہ السلام سے فرمايا:) تمہاری ولادت کے بعد رسول خداؐ ميرے پاس تشريف لائے، تمہيں گودميں ليا، اور فرمايا : اپنے حسينؑ كکو لو اور جان لو کہ يہ نو اماموں کے باپ ہيں اور ان کی نسل سے صالح امام پيدا ہوں گے اور ان ميں نواں مہدی ہے ۔ (اثبات الہداۃ، ج۲، ص۵۵۲)۔حدیث لوح میں ارشاد خداوندی ہے(حدیث لوح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے منسوب وہ روایت ہے جو جابر ابن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے کہ: حضرت رسول اکرم ﷺ کے زمانہ میں ولادت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر مبارکباد پیش کرنے کے لئے حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، چنانچہ بی بی دوعالم کے ہاتھوں میں ایک سبز رنگ کا ایک لوح (صفحہ) دیکھا، جس میں سورج کی طرح چمکتی ہوئی تحریر تھی، میں نے عرض کیا: یہ لوح کیسی ہے؟ فرمایا: اس لوح کو خداوندعالم نے اپنے رسول کو تحفہ دیا ہے، اس میں میرے پدر بزرگوار، میرے شوہر ،دونوں بیٹوں اور ان کے بعد ہونے والے جانشین کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ رسول خدا ﷺ نے یہ لوح مجھے عطا کی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میرا دل خوش و خرم رہے۔):”۔۔۔ اس کے بعد اپنی رحمت کی وجہ سے اوصیاء کا سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند پر مکمل کردوں گا؛ جو موسیٰ کا کمال، عیسیٰ کا شکوہ اور جناب ایوب کا صبر رکھتا ھوگا۔۔۔“۔(کمال الدین، ج۱، باب ۲۸، ح۱، ص ۵۶۹)
امام حسن علیہ السلام :ہمارا قائمؑ اپنے زمانے کے کسی بھی حاکم کی حاکمیت میں نہیںہوگا۔ عیسیٰ روح اللہ اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اور خداوند عالم اس کی ولادت کو لوگوں سے پوشیدہ رکھے گا۔ اور خود وہ بھی نگاہوں سے پوشیدہ رہے گا۔ تاکہ جب ظہور کرے تو اس کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہو۔ وہ عورتوںکی سردار حضرت فاطمہ کےبیٹے میرے بھائی حسینؑ کی نویں اولاد ہے۔ خداوند عالم غَیبت کے زمانے میں اس کی عمر کو طولانی کرے گا پھر اپنی قدرت کاملہ سے اس کو چالیس سالہ جوان کی صورت میں ظاہر کرے گا تاکہ سب لوگ جان لیں کہ خداوند عالم ہر چیز پر قادر ہے۔ (بحار الانوار جلد ۵۱، صفحہ ۱۳۲)۔”خداوندعالم آخر الزمان میں ایک قائم کو بھیجے گا ۔۔۔اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد کرے گا، اور ان کے ناصروں کی حفاظت کرے گا۔۔۔ اور اس کو تمام زمین پر رہنے والوں پر غالب کرے گا۔۔۔ وہ زمین کو عدالت ، نور اور آشکار دلیلوں سے بھر دے گا۔۔۔ خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ کو درک کرے اور ان کی اطاعت کرے “۔(احتجاج، ج۲، ص ۷۰)
امام حسین علیہ السلام:ہمارے خاندان سے بارہ مہدی (ہدایت یافتہ امام) ہیں جن میں اول امیرالمؤمنین علي علیہ السلام ہیں اور آخری میرے نویں فرزند ہیں جو حق کے ساتھ قیام فرمائے گا اور زمین کو عدل و انصاف کے قیام سے زندہ کرے گا جب یہ ظلم و ستم کی وجہ سے مرچکی ہوگی؛ اور دین کو ـ جو مہجور اور تنہا ہوچکا ہوگا ـ دوسرے ادیان پر غلبہ دیں گے، حق و حقیقت کو روشن کریں گے، مہدی طویل عرصے تک غائب رہیں گے جس کے نتیجے میں بعض اقوام اور بعض جماعتیں مرتد ہوجائیں گی اور کفر اختیار کریں گی اور بعض لوگ دین پر ثابت قدم رہیں گے اور جو ثابت قدم رہيں گے ان کو آزار و اذیت کا نشانہ جائے گا اور اذيت دینے والے ان سے پوچھیں گے: اگر تم سچ بولتے ہو تو یہ بتاؤ کہ تمہارے امام کے ظہور کا وعدہ کب ہے؟ لیکن جان لو کہ جو لوگ غیبت کے زمانے میں لوگوں کی اذيت اور تکذيب و تردید کے مقابلے میں صبر و استقامت کریں گے اجر و ثواب کے حوالے سے اللہ کی راہ میں ان مجاہدوں کی مانند ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رکاب میں تلوار لے کر جہاد کرچکے ہیں۔(بحارالانوار، جلد۵۱، صفحہ ۱۳۳)۔”۔۔۔خداوندعالم اس (امام مہدی علیہ السلام)کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ اور آباد کردے گا، اور اس کے ذریعہ دین حق کو تمام ادیان پر غالب کردے گا، اگرچہ یہ بات مشرکین کو اچھی نہ لگے۔ وہ غیبت اختیار کرے گا جس میں ایک گروہ دین سے گمراہ ھوجائے گا اور ایک گروہ دین (حق) پر قائم رھے گا۔۔۔ بے شک جو شخص ان کی غیبت کے زمانہ میں پریشانیوں اور جھٹلائے جانے کی بنا پر صبر کرے وہ اس شخص کی مانند ھے جس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رکاب میں تلوار سے جہاد کیا ہو“۔(کمال الدین، ج۱، باب ۳۰، ح۳، ص ۵۸۴)
امام زین العابدین علیہ السلام:”جو شخص قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں ہمارے مودت اور دوستی پر ثابت قدم رھے خداوندعالم اس کو شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شھیدوں کے برابر ثواب عنایت فرمائے گا“۔(کمال الدین، ج۱، باب ۳۱، ص ۵۹۲)
امام محمد باقر علیہ السلام :”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب لوگوں کا امام غائب ھوگا، پس خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رھے۔۔۔“۔(کمال الدین، ج۱، باب ۳۲، ح۱۵، ص ۶۰۲)
 امام جعفرصادق علیہ السلام :”قائم آل محمد کے لئے دو غیبتیں ہوں گی ایک غیبت صغریٰ اور دوسری غیبت کبریٰ ہوگی“۔(غیبت نعمانی، باب ۱۰، فصل ۴، ص ۱۷۶)
موسیٰ کاظم علیہ السلام :”امام (مہدی علیہ السلام) لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہے گا لیکن مومنین کے دلوں میں ان کی یاد تازہ رھے گی“۔(غیبت نعمانی، باب ۳۴، ح ۶،ص ۵۷)
 امام علی رضا علیہ السلام :”جس وقت (امام مہدی علیہ السلام) قیام کریں گے تو ان کے (وجود کے) نور سے زمین روشن ہوجائے گی، اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی ترازو قرار دیں گے اور اس موقع پر کوئی کسی پر ظلم و ستم نھیں کرے گا“۔(غیبت نعمانی، باب ۳۵، ح۶۵،ص ۶۰)
امام محمد تقی علیہ السلام :”قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں (مومنین کو) ان کے ظھور کا انتظار کرنا چاہئے اور جب وہ ظھور اور قیام کریں تو ان کی اطاعت کرنا چاہئے“۔(غیبت نعمانی، باب ۳۶، ح ۱،ص ۷۰)
امام علی نقی علیہ السلام :”میرے بعد میرا فرزند حسن (عسکری) امام ہوگا اور ان کے بعد ان کا فرزند ”قائم“ امام ہوگا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہوگی“۔(غیبت نعمانی، باب ۳۷، ح ۱۰،ص۹ ۷)
امام حسن عسکری علیہ السلام :”اس خدائے وحدہ لاشریک کا شکر ہے جس نے میری زندگی میں مجھے جانشین عطا کردیا، وہ خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سب سے زیادہ مشابہ ہے“۔(غیبت نعمانی، باب ۳۷، ح ۷،ص ۱۱۸)
امام حجت ارواحنا لہ الفداء:’’میں ہی زمین پر (بقیۃاللہ)اللہ کا بقیہ ، اور تم پر خدا حجت اور اس کا جانشین ہوں‘‘(کمال الدیں، شیخ صدوقؒ، ص۳۳۱)۔ ’’ہم تمہاری خبر گیری سے غافل نہیں ہیں اور نہ تمہاری یاد کو ہم نے فراموش کیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو بلائیں تم پر ٹوٹ پڑتیں اور دشمن تمہیں ریزہ ریزہ کر ڈالتے، لہذا تقائے الٰہی اختیار کرو۔(بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۷۵)
خدا سے دعا ہے کہ ہم کو امام زمانہ کی صحیح و حقیقی معرفت عطا فرمائے، اور ان کے ظہور پُرنور کے ذریعہ دنیا میں امن و مان قائم فرمائے۔ 

جمعرات، 28 مئی، 2020

جنۃ البقیع jannautul baqee

باسمہ تعالیٰ
(انہدام جنۃالبقیع کے چار ماہ بعد لکھی گئی ایک تحریر)
جنۃ البقیع
عالیجناب مولانا سید ظفر حسن صاحب عاصیؔ امروہوی طاب ثراہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی
جنت البقیع کیا ہے؟
جنت البقیع مدینۂ منورہ کا وہ متبرک و مقدس قبرستان ہے جس کو ہمارے رسولؐ کی پیاری بیٹی جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا نے اپنے پدر بزرگوار کی وفات کے بعد ’’بیت الحزن‘‘ بنایا تھا یعنی شفیق پدر سے جدا ہوکر زندگی کے بقیہ دن اس طرح گزارے کہ صبح و شام بیٹوں کا ہاتھ پکڑ کر جنت البقیع میں تشریف لے جاتیں اور گھنٹوں یاد رسولؐ میں پھوٹ پھوٹ کر روتیں اس مقام سے اس معصومہؑ کو ایک خاص انس ہوگیا تھا۔ اسی وجہ سے بعد وفات امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے اُسی قبرستان میں دفن کیا اور اس خطۂ زمین کو رشک فردوسِ بریں بنایا۔ علاوہ جناب سیدہ خاتون جنتؑ کی قبرِ منور کے اس جنت البقیع رشک دہِ روضۂ رضواں میں اولاد رسولؐ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور جناب رقیہ و امّ کلثوم ختمی مرتبت کی (منہ بولی) بیٹیاں اور حضرت عباسؓ عم رسول اللہؐ اور گلزار رسالت کے چند پھول یعنی امام حسن، امام زین العابدین، امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیہم السلام آرام فرما ہیں۔ و نیز ازواج مطہرات و امہات الامۃ جناب عائشہ و امّ سلمہؓ ( و صحابیٔ رسول عثمان بن مظعون) بھی گلزار محمدی کے پھولوں کے ساتھ ہیں اور جناب عثمان خلیفۂ سوم بھی وہیں (قبرستان کے باہری حصہ حش کوکب میں )مدفون ہیں(جنھیں حاکم شام نے بقیع میں شامل کردیا تھا)
جنت البقیع پر کیا حادثہ نازل ہوا؟
ابن سعود نجدی وہابی فرقہ کا ایک بادشاہ ہے کچھ عرصہ سے حرمین شریفین یعنی مکہ و مدینہ کا حکمراں بن گیا ہے۔ چونکہ اُس کے مذہب کی رو سے قبروں کا زمین سے بلند کرنا اور اُن پر قبوں کا بنانا بدعت اور شرک باللہ ہے لہذا اپنے علماء کے فتاوی کے موافق اس نے تمام مشاہد مقدسہ اور مآثر متبرکہ کو منہدم کرادیا اور کسی پیشوائے دین کا کوئی مقبرہ باقی نہ رکھا۔ ان وحشیانہ مظالم کا شکار جنت البقیع کے قُبّے اور قبور ہوگئے۔ جہاں صبح و شام ہزارہا آدمی زیارت کی غرض سےجایا کرتا تھا اور ہجوم خلائق سے میلہ سا لگا رہتا تھا۔ تسبیح و تہلیل کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ وہاں اب ایک شہر خموشاں نظر آتا ہے۔ جس میں بجز حسرت و یاس کوئی آنے جانے والانہیں، کسی شخص کی مجال نہیں کہ شکستہ دیواروں، ٹوٹے پھوٹے قُبّوں اور پامال قبروں پر جاکر درد بھرے دل سے ایک آہ بھی کھینچ سکے، یا اس جاں شکن مصیبت کے تصور میں دو آنسو بھی آنکھ سے نکال لے۔جو شخص ان قبور کا حامی اور اس ظلم کا شاکی نظر آتا ہے اس پر حکم شاہی کی بنا پر طرح طرح سے تشدّد کیا جاتا ہے بلکہ جان تک لینے سے باک نہیں ہوتا۔ خدا کی شان دیکھو جس رسولؐ کی بدولت مسلمان مسلمان کہلائے اور توحید پرست بنے، عرب و عجم کے مالک ہوئے، معرفت و حقانیت کے پتلے بنے اُسی رسولؐ کی بیٹی اور دیگر مزارات کے ساتھ وہ عملدرآمد کیا گیا جس کو شائد یہود و نصارےٰ بھی روا نہ رکھتے۔ کیا اُن لوگوں کے کانوں میں حدیث: فاطمۃ بضعۃ منّی من اذاھا فقد آذانی (فاطمہؑ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی) نہیںپڑی تھی؟! کیا اس ظلم شدید سے روح مطہر جناب سیدہؑ کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا؟کیا اس بے حرمتی سے روحِ رسولؐ کو اذیت نہیں ہوئی؟کیا کوئی مسلمان جس کے دل میں ذرّہ بھر بھی رسولؐ و اولادِ رسولؐ کی محبت ہے اس کا جواب نفی میں دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بالیقین اس کے منہ سے یہی نکلے گا کہ اس بے ادبی و گستاخی نے صرف قلب رسولؐ ہی پر چوٹ نہیں ماری بلکہ تمام خاندان رسولؐ کی ارواحِ طیبہ کو مضطر و بیچین بنا دیا۔ 
جناب والا! آج ایک معمولی حیثیت کا آدمی بھی اس ذلت و خواری کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے کسی عزیز کی قبر پر کدال اور پھاؤڑا چلایا جائے اور قبہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی جائے کیونکہ قبر کی توہین درحقیقت صاحب قبر کی توہین ہوتی ہے۔ اور چونکہ صاحب قبر انتہائی بیکسی اور بے بسی کے عالم میں ہوتا ہے لہٰذا اس کی آبرو کا تحفظ اس کے اعزا پر موقوف ہوتا ہے۔ اور اسی بنا پر اس کی توہین تمام قبیلہ کی توہین خیال کی جاتی ہے۔ پس اے مسلمانو!  مقام انصاف ہے کہ جب معمولی قبر کی توہین کا اثر سارے قبیلہ پر پڑ جائے لیکن تمہارے رسولؐ کی بیٹی اور عزیزوں کی قبریں اکھاڑنے والے اکھاڑ کر پھینک دیں اور اس سے نہ کسی دل پر چوٹ لگے اور نہ کسی خاندان و قبیلہ کی بدنامی و رسوائی ہو؟!۔ اگر رسولؐ اور اولاد رسولؐ تمہارے جانوں اور تمہارے جملہ عزیزوں سے پیارے ہیں تو ان کی توہین کو تمام اسلام کی توہین سمجھنا چاہئے۔ جس حادثہ نے ہمارے رسولؐ اور ہمارے ائمہؑ کے قلوب کو برما دیا ہے اگر ہم اس کو خاموش بیٹھ کر سنیں اور اظہار افسوس میںلب تک نہ ہلائیں تو وائے ہم پر اور ہماری مسلمانی پر۔ 
رسول اللہﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر مبارک کے ساتھ جو سلوک یزید کے ہاتھوں ہوا، اہل بصیرت پر مخفی نہیں۔ جب قسطنطنیہ کے محاصرہ کے وقت ان کا انتقال فوج اسلامی کے کیمپ میں ہوا تو مسلمانوں نے اس صحابیٔ رسول اور بوڑھے مجاہد اسلام کو نہایت تزک و احتشام اور عزت و احترام سے دفن کیا اور قبر بنادی ۔ تو سپہ سالار یزید نے اس بزرگ کی قبر پر گھوڑے دوڑا کر نشان قبر مٹادینے کا حکم دیا چنانچہ قبر کو بالکل بے نشان کردیا گیا۔ غالباً وہی یزیدی روح نجدیوں میں حلول کرا ٓئی ہے۔
 (کتاب استیعاب جلد ۲ صفحہ ۵۳۸ علامہ عبد البر مکی و مدارج النبوۃ شاہ عبد الحق دہلوی جلد ۲ صفحہ ۶۱۶و۶۱۷)
مسلمانو! اب وہ پہلا سا مکہ اور مدینہ نہیں رہا۔ جہاں تم آزادی کے ساتھ اعمال حج بجالاکر شوق بھرے دل سے اپنے پیارے رسولؐ کی آستان مبارک کی طرف لپکتے تھے اور گھنٹوں جبین نیاز کو روضہٗٔ اقدس کی خاک پاک پر رکھے پڑے رہتےتھے۔ کبھی یا رسول اللہؐ کے نعرے مارتے تھے اور کبھی حرم مبارک کا طواف کرتے تھے۔ اب اس کی کایا پلٹ ہوگئی ۔ اب وہ رسولﷺ کا مدینہ نہیں رہا۔ بلکہ نجدیوں کا مدینہ بن گیا۔ اب وہاں اتنی بھی اجازت نہیں کہ کوئی مسلمان’’ یا رسول اللہؐ‘‘ بھی پکار آئے۔ اب روضۂ رسولﷺ مرکز معرفت و حقانیت نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ اس کو صنم اکبر (بڑا بت) کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اب حرم مبارک اور روضۂ مطہر کے گرد مسلمانوں کو آزادی سے طواف کرنا نصیب نہیں ۔ بلکہ جو اس ارادے سے جاتا ہے اس کو سنگینوں کی نوکوں سے ہٹا یا جاتا ہے۔ اب ڈنکے کی چوٹ منبروں پر بیٹھ بیٹھ کر یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام حقیقی دنیا میں اب آیا ہے۔ اب تک کفر اسلام کے پردے میں جھلک رہا تھا۔ گویا ان کے خیال میں خلفائے نامدار، صحابۂ کبار اور ائمۂ اطہارؑ کی تعلیم کفر و شرک کی نجاست سے آلودہ تھی اور کسی کی تعلیم اسلام کی سچی تعلیم کہے جانے کے قابل نہ تھی۔ صرف ایک ذات عبد الوہاب نجدی کی جس نے غالباً بارہویں صدی ہجری میں جنم لیا تھا، ایسی تھی جس نے توحید کے اصلی معنی کو سمجھا تھا اور اسلام کے حقیقی مفہوم تک رسائی پیدا کی تھی۔ باقی اور سب یونہی ہوائی فائر کرنے والے تھے۔ اجی جناب ابھی تو دبی زبان سے اتنا ہی کہا جاتا ہے کچھ دن گزرنے پر یہ آواز بھی سن لینا کہ ہم سے بہتر توحید کو رسول اللہﷺ نے بھی نہ سمجھاتھا۔ آج دختر رسولؐ، زوجۂ رسول، اہلبیتؑ ، عم رسولﷺ ، صحابیٔ رسولﷺ ، فاطمہ بنت اسد مادر حضرت علی علیہ السلام کے روضہ ہائے مقدسہ اور قبہ ہائے متبرکہ کو منہدم کیا گیا ہے۔ کل روضۂ رسولﷺ کا نمبر ہے اور پرسوں خانہ کعبہ پر دھاوا ہے ۔ ابھی مسلمانوں کی حمیت و غیرت کا اندازہ کیا جارہا ہے۔ جس وقت خدانخواستہ ہمتیں پست اور حوصلے ڈھیلے نظر آئیں گے سب الااللہ کہہ کر اصحاب فیل کی طرح خانہ کعبہ پر چڑھ دوڑیں گے۔ اور وہی عمل کریں گے جو آج جنت البقیع اور دیگر مزارات کےساتھ کیا ہے۔
سب سے زیادہ پر لطف بات یہ ہے کہ ان تمام بد اعمالیوں کی پردہ پوشی کے لئے آیات اور احادیث رسولﷺ کی آڑ ڈھونڈی گئی ہے گویا ان کا ہر فعل حکم خدا و رسولﷺ کے موافق ہورہا ہے۔ سبحان اللہ   ؎
چہ دلاور است دزدے کہ بہ کف چراغ دارد
اس حادثہ نے مسلمانوں پر کیا اثر کیا؟
 جنت البقیع کے واقعہ ہائلہ نے اسلامی دنیا میں جو ہل چل ڈالی ہے اس کا اندازہ اخباروں کے کالموں اور ان جلسوں کی کاروائیوں سے ہوسکتا ہے جو اسلامی آبادیوں میں آج تک ہوئے اور ہورہے ہیں۔ جابجا ابن مسعود کی ان وحشیانہ کاروائیوں کے متعلق اظہار نفرت کے رزولیوشن پاس ہورہےہیں سنی (حنفی) اور شیعہ دونوں فرقے متحدہ حیثیت سے اس ماتم کے عزادار اور اس غم کے سوگوار بنے ہوئے ہیں ۔ فریقین کے مبلغین و واعظین عام جلسوں میں ابن مسعود کے مظالم پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اس کے مذہب کی قلعی کھول رہے ہیں۔ ماہ گزشتہ میں ایک بہت بڑا جلسہ عام مسلمانوں کا لکھنؤ میں ہوا۔ جس میں اکابر علمائے سنی و شیعہ نے شریک ہوکر اس واقعہ کے متعلق اظہار حزن وملا ل کیا اور عام مسلمانوں کو اس غم میں حصہ لینے کی فہمائش کی۔ حضرات علماء کی تحریک کی بنا پر ایک انجمن بنا م’’ خدام الحرمین‘‘ قائم ہوئی جس میں شیعہ و سنی دونوں فریق کے ممبر داخل کئے گئے۔ اور یہ تجویز ہوا کہ اشتہارات کے ذریعہ سے ہر شہر و قصبہ کے مسلمانوں سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اس کی شاخیں اپنے اپنے یہاں قائم کریں۔ چنانچہ اسی بنا پر ایک شاخ قصبہ امروہہ ضلع مراد آباد میں بھی قائم ہوئی۔ اور عام مسلمانوں کے متعدد جلسے شہر کے مختلف محلوں میں ہوئے۔ ہر جلسہ میں ایک سنی اور ایک شیعہ واعظ کی تقریر ہوتی تھی۔ حضرات اہل سنت کی طرف سے حکیم اسرار الحق صاحب کا انتخاب عمل میں آیا تھا اور شیعہ حضرات کی طرف سے راقم الحروف کا ۔یہ تمام جلسے بحمد اللہ بہت کامیابی کے ساتھ ہوتے رہے۔ 
حادثۂ جنت البقیع سے اسلام پر کیا مصیبت نازل ہوئی؟
 اہل بیت رسولﷺ پر مسلمانوں کے ہاتھوں سے یوں تو ہر زمانہ میں مصیبت کے پہاڑ ٹوٹا کئے ہیں۔ مگر اس حادثۂ عظمیٰ سے ایک نئی مصیبت اسلام پر نازل ہوئی اور وہ یہ کہ زمانۂ سابق میں جو متوکل عباسی نے قبر امام حسین علیہ السلام کو منہدم کرادیا تھا تو اس کی علت غائی یا تو خاندان رسالتؐ سے عداوت تھی یا اس امر پر حسد تھا کہ بعد شہادت بھی لوگوں کے دلوں میں ان کی اس قدر توقیر باقی ہے کہ اطراف و اکناف عالم سے لوگ آ آکر ان کی قبور کی زیارت کرتے اور ان کے آستان مبارک پر اپنی جبین نیاز رکھتے ہیں لیکن انہدام مقابر جنت البقیع کا سبب صرف اتنا ہی نہیں تھا۔ بلکہ اس فعل شنیع کے ارتکاب کا قوی مؤید یہ ناپاک خیال تھا کہ ان مقابر کی تعظیم کرنا شرک باللہ ہے۔ نیز یہ کہ شریعت اسلام میں قبور کا بلند کرنا اور ان پر قبے بنانا حرام ہے۔ یہ حضرات ہر گز اس قابل نہیں کہ ان سے شفاعت طلبی کی جائے یا اپنی مدد کے لئے پکارا جائے۔ خواہ وہ رسولﷺ ہوں یا اولاد رسولﷺ یا اصحاب رسولﷺ،۔ یہ ہے وہ زہر قاتل جو اسلامی رگوں میں دوڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر عداوتاً ہی یہ انہدام عمل میں آتا تو اس کی امید ہوسکتی تھی کہ نجدی آندھی کا زورگھٹ جانے کے بعد پھر صاف آسمان دکھائی دینے لگے گا۔ اور گرے قبے پھر کھڑے ہوجائیں گے لیکن اس عقیدے کی ترویج یہ بتارہی ہے کہ اگر مسلمانوں نے اس کی طرف کافی توجہ نہ کی تو یہ زہر بجلی کی طرح تمام بلاد اسلامیہ میں دوڑ جائے گا۔ اور ہ بات رسم اسلام اور سنت الٰہی بن جائے گی، کہ جہاں کسی بزرگ دین کا مقبرہ پاؤ بے تامل اس کو گرادو۔ خواہ وہ عرب میں ہو یا عجم میں۔ کابل میں ہو یا ہندوستان میں نیز یہ کہ آئندہ کسی بزرگ دین کی کوئی اس قسم کی یادگار روئے زمین پر قائم نہ ہونے دو کیونکہ یہ شرک باللہ اور بدعت ہے۔ 
بس اے مسلمانو! ہم کو صرف سب سے بڑا رونا اس بات کا ہے کہ یہ عقیدۂ فاسد بہت جلد دنیا میں پھیلنے والاہے۔ اگر تم نے اس کے نیست و نابود کرنے میں کافی حصہ نہ لیا تو پھر روئے زمین پر تم کو کوئی مقبرہ یا روضہ کسی بزرگ دین کا نظر نہ آئے گا۔ اور حامیان دین اور ہادیان شرع مبین کی قبروں پر بھی اسی طرح سگ و خوک گزرتے دکھائی دیں گے جس طرح عام قبروں پر۔ وہاں بھی وہی سنسانی اور ویرانی برسے گی جیسے دنیا کے تمام قبرستانوں میں ۔ پھر تم کو ڈھوندھے بھی کوئی ایسی زیارت گاہ نہ ملے گی جہاں جاکر اپنے ایمانی عہد کو تازہ کرسکو یا دنیا کے کسی عظیم الشان واقعہ کو یاد کرکے اپنے ایمان کو جلادے سکو یا کسی محسن دین و ملت کے شکریہ میں جبین شکر کو جھکا سکو۔ اگر یہی شرک باللہ کی کڑکتی چمکتی بجلیاں ہیں تو نہ روضۂ رسولﷺ کی خیر ہے نہ خانۂ کعبہ کی نہ کوئی حج کرسکے گا نہ عمرہ و طواف ہوسکے گا نہ زیارت۔ 
 علماء کا فرض ہے کہ اس وقت نازک میں اپنے قلم سے پورا پورا کام لیں اور امداد کریں ۔ واعظین و مقررین کو چاہئے کہ کچھ مدت تمام مضامین کو ترک کرکے صرف اسی ایک مضمون کو اپنا مقصد وعظ قرار دیں کیونکہ وہابیت کی تحریک نہایت جوش کےساتھ کی جارہی ہے۔ 
اہلبیتِ رسولﷺ ہمیشہ اسلام کی مصیبت اپنے سر لیتے رہے
تاریخ اسلام بتارہی ہے کہ جب کبھی کوئی برا وقت اسلام پر آیا ہے اور شریعت رسولﷺ کی کشتی ڈگمگائی ہے تو اہلبیتؑ رسولﷺ میں سے کوئی نہ کوئی اپنی جان پر کھیل کر اس کا ناخدا بن گیا ہے۔ اور ڈوبتے بیڑے کو سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کبھی اس راہ میں جان و مال دینے اور انواع و اقسام کے مصائب جھیلنے سے رو گردانی نہیں کی۔ کربلا کا واقعہ شاہد ہے کہ حسینؑ مظلوم نے کس بیکسی و بے بسی سے اپنی اور اپنے احباب و اصحاب کی جانوں کی قربانیاں کربلا کی جلتی بلتی ریت پر چڑھادیں، گھر بار لٹا دیا، اپنی ناموس کی ہتک گوارا کرلی، مگر دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی۔ ان کی حق بین آنکھوں اور عقیدت آگیں دلوں سے یہ نہ دیکھا گیا کہ یزید جیسا فاسق شخص جس نے حلال محمدﷺ کو حرام اور حرام محمدؑ کو حلال قرار دے دیا  ہے شریعت مقدسہ اسلام کا پیشوا بن کر اس میں من مانا تصرف کرتا رہے اور اسلام کے صاف و شفاف دامن پر بدعا ت و فواحشات کے ہزار ہا بد نما دھبے لگا کر بانی اسلام کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا دے۔ ان کو اپنی عزیزہستیوں اور قابل قدر وجودوں کا فنا کردینا پسند آیا۔ مگر دین کی تباہی و بربادی پسند نہ آئی۔ غرض کہ جب دنیا میں ان کی ذوات مقدسہ باقی رہیں اسلام کی ہر آئی بلا کو اپنے سرلیتے رہے۔ آج بھی اسلام کے اوپر ایک سخت وقت آگیا تھا اور اس بلا کا سر لینے والاکوئی نظر نہ آتا تھا لہٰذا انہی قبور کی اینٹوں نے وہ مصیبت کا پہاڑ اپنے اوپر لے لیا اور ہدایت کے دروازے کو مسدود نہ ہونے دیا۔ ’’فرقہ وہابی‘‘ مدت دراز سے اپنے عجیب و غریب عقائد رفتہ رفتہ سیدھے سادھے مسلمانوں کے دلوں میں اتار رہا تھا اور لوگوں کو ان عقائد باطلہ اور خیالات فاسدہ کی طرف مطلق توجہ نہ تھی۔ عام مسلمانوں کی اس غفلت ورزی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو اپنے مقصد میں ایک حد تک کامیابی ہوگئی تھی وہ دوست نما دشمنوں کی طرح بظاہر تو خیرخواہ دین و ملت بنا ہوا تھا اور آپ کو اعلیٰ درجہ کا موحّد دکھا رہا تھا۔ لیکن بباطن اسلام کی بیخ کنی پر آستینیں چڑھی ہوئی تھیں۔ لہٰذا شدید ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کے استیصال کی طرف لوگ متوجہ ہوں اور دوست و دشمن میں تمیز کریں۔ پس جنت البقیع کے واقعہ نے یکایک مسلمانوں کو خواب غفلت سےبیدارکیا اور لوگ اس مذہب کی تحقیق اور اس کے عقائد کے رد کی طرف مائل ہوئے۔چنانچہ یاروں کی شعبدہ بازی ہوا ہونی شروع ہوگئی۔ اب ہر دین دار مسلمان ان سے متنفر اور بے زار ہوتا جارہا ہے۔
 اگر یہ واقعہ اس وقت پیش نہ آتا تو خدا جانے اس فرقہ کی ریشہ دوانیاں کہاں تک پہنچتیں۔ اور نہ معلوم کیا زہر فضائے اسلام میں پھیلا دیتیں۔ مسلمانو! اچھی طرح پہچان لو۔ یہ وہی فرقہ ہے جو ہر سال نئے نئے عنوان سے ذکر رسولﷺ و آل رسولؑ میں رکاوٹیں پید اکیا کرتا تھا۔ اور کبھی مولود کو بدعت اور تعزیہ داری کو بت پرستی بتاتا تھا۔ کبھی مجالس میں رونا حرام بتاتا تھا کبھی نذر نیاز سے لوگوں کو روکتا تھا۔ محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی لمبے چوڑے اشتہارات شائع کرکے مسلمانوں کو شریک عزائے حسینؑ مظلوم ہونےسے باز رکھتا تھا طعن و طنز کی باتیں کرکے جابجا شیعہ سنیوں میں فساد و خونریزی کا باعث ہوتا تھا۔ اس فرقہ کی پنہانی کوششوں اور خفیہ ریشہ دوانیوں کا یہ نتیجہ تھا کہ ایک مدت دراز سے شیعوں اور سنیوں کے درمیان کشاکش چلی آرہی تھی اور ایک دوسرے سے اس درجہ متنفر ہوگیا تھا کہ پاس بیٹھنا گوارا نہ کرتا تھا۔ شیعہ سنیوں کی ضد میں نہ معلوم کیا کیا کہتے تھے اور سنی شیعوں کی ضدمیں نہ معلوم کیا کیا کرتے تھے۔ اہل سنت نے شیعوں کی مجالس میں شرکت بند کردی تھی اور شیعوں نے اہل سنت کی محفلوں میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ رفتہ رفتہ اس بغض و عناد نے یہاں تک ترقی کی کہ معاشرتی اور تمدنی خرابیاں ظہور پذیر ہونے لگیں جس سے مقاصد اسلام کو سخت ضرر پہنچا اور دشمنان اسلام کو اس باہمی دہول جوتی میں اپنی تبلیغ کا کافی موقع مل گیا ۔ خدا کا شکر ہے کہ حادثہ جنت البقیع کے تصدق میں وہ کالابادل جس نے دن کو رات بنا رکھا تھا یکایک پھٹ گیا اور دوست و دشمن میں امتیاز ہونے لگا۔ اب یہ بات پائے تحقیق کو پہنچ گئی کہ اہل سنت کے پردہ میں وہ کونسا گروہ تھا جو ہمیشہ سے رسولﷺ و اہل بیت رسولﷺ کا جانی دشمن بنا رہا۔ کیونکہ آج ہم دیکھ رہے کہ ہمارے حنفی بھائی وہابیوں کے اس طرز عمل سے انتہائی نفرت و بیزاری کو تحریراً اور تقریراً ظاہر کررہے ہیں اور وہ عزائے اہلبیتؑ میں نہایت خلوص کے ساتھ حضرات شیعہ کے شریک ہیں۔ اور اسلامی شان کے ابھارنے میںکوشاں ہیں۔ چنانچہ امسال امروہہ کی عزاداری میں تمام حنفی صاحبان شریک عزائے مظلوم کربلارہے۔ پٹیالہ میں میں نے بچشم خود اپنے بہت سے حنفی بھائیوں کو سرو پا برہنہ آٹھویں اور دسویں محرم کو دلدل و تعزیہ کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا اور ایسا کیوں نہ ہوتا حسین علیہ السلام جس طرح شیعوں کے نزدیک ایک ہادی برحق تھے اہل سنت کے نزدیک بھی تھے۔ ان کی مظلومیت سے کس کو انکار ہوسکتا ہے۔ ان کی بے نظیر نصرت اسلامی پر کون سا انصاف پسند مسلمان پردہ ڈال سکتا ہے۔ اہل سنت کی کتابیں ان کے فضائل و مناقب سے بھری پڑی ہیں۔ یہ تو ہمارے مخالفوں کی چالبازی سے عناد و عداوت کا بازار گرم ہورہا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ حیلہ سازی و مکاری کا طلسم ٹو ٹ گیا اور محبت کی پری آزادی کی ہوا میں اڑنے لگی۔
مسلمانوں کا اب کیا فرض ہے؟
یہ وقت تو ضرور ایسا ہی تھا کہ ہر دیندار مسلمان اپنی جان کو نذر کردیتا اور اسلام کو اس ضغطہ سےبچالیتا لیکن ہم چونکہ ان مقامات سے بہت دور ہیں اور موانع کے صد ہا عظیم الشان خلیج ہمارے درمیان حائل ہیںلہٰذا اس وقت تک کہ ہم کسی داعی کی آواز پر لبیک کہنے کےلئے اٹھیں بہترین نصرت اور حمایت یہ ہے کہ سب مسلمان متحدہ حیثیت سے اس بداعتقادی کا سد باب کریں جس سے یہ حادثہ عظیم ظہور پذیر ہوا تاکہ آنے والی نسلوں کو ہماری طرح پھر ان مصائب کا از سر نو مقابلہ کرنا نصیب نہ ہو۔ 
(ماہ صفر المظفر ۱۳۴۵ھ؁ مطابق ماہ اگست ۱۹۲۶ء؁) از ماہنامہ اصلاح، لکھنؤ

جمعہ، 15 مئی، 2020

امام زمانہ حضرت حجت ارواحنا لہ الفداء اور آپ کی حدیثیں

باسمہ تعالی

امام زمانہ حضرت حجت ارواحنا لہ الفداء اور آپ کی چالیس حدیثیں
سید محمد حسنین باقری

چودھویں معصوم اور بارہویں امام حضرت امام زمانہ کا اسم گرامی ”محمد“ اورمشہورالقاب ” مہدی “ ، حجة اللہ ، خلف صالح ، صاحب ا لعصر، صاحب الامر والزمان، القائم ، الباقی اورالمنتظر وغیرہ ہیں۔ علماٴ کا کہنا ہے کہ آپ کانام زبان پرجاری کرنے سے منع کیا گیا ہے۔کنیت ” ابوالقاسم “ ہے۔ولادت ۱۵ ؍شعبان المعظم ۲۵۵ ؁ھ یوم جمعہ شہر سامرہ میں ہوئی ۔آپ کے پدر بزرگوار گیارہویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام، والدہ جناب نرجس خاتون ہیں۔
 آپ اپنے آباوٴاجدادکی طرح خدا کی طرف سے معین کئے ہوئے امام ،معصوم ،اعلم زمانہ اورافضل کائنات ہیں۔۲۶۰ھ؁ میں امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد پانچ سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور حکم خدا سے آپ پردۂ غیب سے دنیا کی رہبری و رہنمائی اور رسول اکرمؐ کی نیابت و جانشینی کا فریضہ انجام فرمارہے ہیں۔
۲۶۰ھ سے غیبت صغریٰ کا آغاز ہوا جس کا سلسلہ۳۲۹ھ؁ تک چلا اور ۳۲۹ھ سے آج تک غیبت کبریٰ کا زمانہ ہے اور جب خدا کی مصلحت اور اس کا حکم ہوگا امام ظہور فرمائیں گے اور جس طرح دنیا ظلم و جور اور فتنہ و فساد سے پُر ہوچکی ہوگی اسی طرح اس کو عدل و انصاف سے پر کریںگے۔
غیبت صغریٰ کے ۷۹ برس کے عرصے میں امام زمانہ ؑ کی طرف سے چار خاص نائب تھے جنھیں نُوّاب اربعہ کہا جاتا ہےاور وہ عثمان بن سعید عمری، محمد بن عثمان، حسین بن رَوح اور علی بن محمد سمری ہیں۔۳۲۹ھ سے آخری نائب کی وفات کے بعد سے غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا اور اس دور میں عمومی نائبین یعنی فقہاء و مجتہدین نیابت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، جس کی تائید عقلی و نقلی دلیلوں کے ساتھ بہت سے واقعات سے ہوتی ہے۔ غیبت کے زمانے میں ہماری ذمہ داری ہے سب سے پہلے امام ؑ کی صحیح اور حقیقی معرفت حاصل کریںاس لئے کہ پیغمبرؐ کی حدیث ہے کہ ’’جو بھی امام کی معرفت کے بغیر اس دنیا سے جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی‘‘۔ اور معرفت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ امام سے متعلق کتابوں، احادیث وغیرہ کا مطالعہ کریں، امامؑ کے بارے میں غور و فکر کریں ، امامؑ سے متعلق اور امامؑ کی طرف سے اور امامؑ کی نیابت میں امور انجام دیں۔ اور اسی سلسلہ کی ایک کڑی امام زمانہؑ سے بیان شدہ احادیث کا مطالعہ اور ان میں غور وفکر اور ان پر عمل ہے لہذا امامؑ سے مروی احادیث پر مشتمل یہ کتابچہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے اس دعا اور امید کے ساتھ یہ ناچیز کوشش غیبت کے زمانے میں اپنے وظائف پر عمل کرنے اور ظہور کے لئے اپنے کے آمادہ و تیار کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
خدا نے قیامت تک کےلئے اولی الامر کا انتظام فرمایا ہے
أَمَا سَمِعْتُمْ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُوْلُ:’ یٰا أَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوا اَطِیْعُوا اللہَ وَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ و اُولِی الأمْرِ مِنْکُمْ‘ ھَلْ أمْرٌ اِلّا بِمَا ھُوَ کائِنٌ اِلیٰ یَوْمِ القِیَامَۃِ۔
کیا تم نے یہ ارشاد الٰہی سنا ہے کہ ’’ یا ایھا الذین ۔۔۔‘‘اے اہل ایمان! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور جو تم میں اولی الامر ہیں ان کی اطاعت کرو۔ کیا خداوند عالم نے قیامت تک کے لئے یہ امر نافذ نہیں فرمایا ہے؟
   ( کمال الدین و تمام النعمۃ جلد ۲، صفحہ ۳۸۷)
ہر زمانے میں خالق و مخلوق کے درمیان رابطہ ہوتا ہے
۔۔۔کُلَّمَا غَابَ عَلَمٌ بَدَا عَلَمٌ، وَ اِذَا أفَلَ نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ فَلَمّا قَبَضَہُ اللہُ اِلَیْہِ ظَنَنْتُمْ أنَّ اللہَ عَزّوجلّ قَدْ قَطَعَ السَّبَبَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ خَلْقِہِ کَلّا مَا کَانَ ذٰلِکَ وَ لایَکُونُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ وَ یَظْھَرُ أمْرُاللہِ عزّوجلَّ وَ ھُمْ کَارِھُونَ۔
 جب ایک پرچم پنہاں ہوتا ہے تو دوسرا پرچم نمودار ہوجاتا ہے، اور جب ایک ستارہ غروب ہوتا ہے تو دوسرا ستارہ طلوع ہوتا ہے، جب خداوند عالم نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی روح قبض فرمائی تو گمان یہ ہوا کہ مخلوق و خالق کے درمیان رابطہ ختم ہوگیا لیکن یہ رابطہ ہرگز ختم نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ایسا ہوگا فرمان الٰہی غالب ہوکر رہے گا چاہے لوگ اسے دوست نہ رکھتے ہوں۔ 
( کمال الدین و تمام النعمۃ جلد۲، صفحہ ۷۸۷)
ائمہ کا مرتبہ
وَ أمّا الاَئِمَّۃُ علیہم السلام فَاِنَّھُمْ یَسْألُوْنَ اللہَ تَعالیٰ فَیَخْلُقُ وَ یَسْألُونَہُ فَیَرْزُقُ اِیجاباً لِمَسْألَتِھِمْ وَ اِعْظَاماً لِحَقِّھِمْ۔
ائمہؑ وہ ہیں کہ وہ اللہ سے جس چیز کا سوال کرتے ہیں وہ پوری ہوتی ہے، انہیں کی خواہش پر اللہ روزی دیتا ہے ایسا ان کے احترام اور ان کا جو حق ہے اس کی وجہ سے ہوتا ہے۔
(کتاب الغیبۃ،ص ۱۷۸)

ائمہ مشیت الٰہی کے تابع ہوتے ہیں
 قُلُوبُنٰااَوْعِیَۃٌ  لِمَشِیَّۃِ اللَّہِ فَاِذٰاشٰائَ شِئْنٰا۔
’’ہمارے دل اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کے ظروف ہیں پس جب اس کاارادہ ہوتاہے تو ہم ارادہ کرتے ہیں جووہ چاہتاہے ہم وہی چاہتے ہیں جواس کی مرضی ہوتی ہے  وہی ہماری مرضی ہوتی ہے ‘‘۔
(بحارلانوار،ج٥٢،ص٥١،غیبت شیخ)

امامؑ زمین والوں کے لئے امان کا سبب
اِ نّیِ لَآَمٰانٌ لِاَھْلِ الْاَرْضِ کَمٰااَنَّ النُّجُومَ اَمٰانٌ لِاَھْلِ السَّمٰائِ۔
 میں اہل زمین کیلئے اسی طرح باعث امان ہوں جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے باعث امان ہیں۔
( بحار الانوار ج۵۳،ص ۱۸۱؛ کمال الدین،ص۴۸۵)


اہل بیت  پر ظلم کرنےوالے پر خدا کی لعنت
 فَمَنْ ظَلَمَنٰاکَانَ مِنْ جُمْلَۃِ الظَّالِمِیْنَ وکَانَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ
جس کسی نے ہمارے اوپرظلم وستم کیاہے وہ ظالموں اورستمگروں میں شامل ہے اور اس پر اللہ کی لعنت ہے‘‘۔
(کمال الدین ،ص٥٢١)


پیغمبر ؐ کے بعد خدا نے انتظام کیا
وَجَعَلَ  الْاَمْرَ بَعْدَہٗ اِلٰی أخِیْہِ وَابْنِ عَمِّہِ وَ وَصِیِّہِ وَ وَارِثِہِ عَلیِّ بْنِ أبِیْ طَالِبٍ ثُمَّ اِلٰی الأوْصِیاءِ مِنْ وُلْدِہِ وَاحِداً وَاحِداً أحْیا بِھِمْ دِیْنَہٗ وَ أتَمَّ بِھِمْ نُوْرَہٗ۔
 خدا وند عالم نے(پیغمبر ؐاسلام کے بعد)امت کے تمام امور کو آپؐ کے بھائی ،چچا کے فرزند، وصی و وارث علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سپرد فرمایا پھر ایک کے بعد ایک ان کی نسل سے پیدا ہونے والے دیگر اوصیاء کے سپرد فرمایا انہیں کے ذریعہ اس نے دین کو زندہ کیا اوراپنے نور کو تمام کیا۔( بحار الانوار ج ۵۳، ص ۱۹۴)
 امام زمانہ ؑکا انکار کرنے والاہلاک ہوگا
 لَیْسَ بَیْنَ اللَّہِ عَزَّوَجَلَّ وَبَیْنَ اَحَدٍقَرٰابَۃٌ وَمَنْ اَنْکَرَنی فَلَیْسَ مِنّی وَسَبیلُہُ سَبیِلُ ابْنُ نُوح ٍ۔ 
٭(مکتوب گرامی میں ) جو میرا انکار کرے وہ مجھ سے نہیں ہے اور اس کا اور پسر نوحؑ کا راستہ ایک ہے۔
 ( کمال الدین و تمام النعمۃ جلد۲، صفحہ ۲۸۴)

حق صرف اور صرف اہل بیتؑ کے ساتھ ہے
وَلْیَعْلَمُوااَنَّ الْحَقَّ مَعَنَاوَفینَالاٰیَقُولُ ذَلِکَ سِوٰانٰااِلاَّکَذّٰاب مُفْتَرٍوَلاٰیَدَّعیِہِ غَیْرُنَااِلاَّضَالُّ غَوِیَ
یاد رکھو کہ حق ہمارے ساتھ اور ہمارے ہی درمیان ہے ، یہ بات ہمارے علاوہ وہی شخص کہے گا جو جھوٹا اور بہتان لگانے والا ہو ۔ ہمارے علاوہ اس بات کو کہنے والاگمراہ اور بہکا ہوا ہوگا۔
 (کمال الدین ۵۱۰ /۴۲)
جناب سیدہؑ نمونۂ عمل ہیں
فِی ابْنَۃِ رَسُولِ اللَّہِ’’ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ‘‘ لیِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃ
نبیؐ کی بیٹی میں میرے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔
 (بحار الانوار،ج۵۳،ص۱۸۰؛ احتجاج)۔



امام حسینؑ کے غم میں امام زمانہ ؑ کا گریہ
لَأَندُبَنَّكَ صَباحا و مَساءً و لأَبكِيَنَّ عَلَيكَ بَدَلَ الدُّمُوعِ دَما 
 (زیارت ناحیہ میں امام حسین ؑ کو خطاب کرتے ہوئے) میں ہر صبح و شام آپؑپر گریہ کرتا ہوں اور آپؑکی مصیبت میں آنسو کے بدلے خون بہاتا ہوں۔
 (بحار الانوار جلد ۱۰۱صفحہ۲۳۸.)


ہر حال میں امامؑ کی طرف رجوع
 فَاتَّقُواللَّہَ وَسَلَّمُو الَنٰا،وَرُدُّوالْاَمْرَ اِلَیْنٰا، فَعَلَیْنَا الْا ِصْدٰارُُکَمَاکَانَ مِنَّا الْا یِرَادُ، وَلَاتُحٰاوِلُواکَشْفَ مَاغُطَّی عَنْکُمْ۔
 ’’تم سب اللہ کاتقویٰ اختیارکرواورہمارے سامنے تسلیم رہو،اپنے تمام اموراورمعاملات ہمارے سپردکردو، احکام جاری کرناہماراکام ہے تمہیں ہدایت کے سرچشمہ پرلے جانابھی ہماراکام ہے وہاں سے سیراب کرکے نکالنابھی ہماراکام ہے،اورتم اس بات کو ظاہرکرنے کی ہرگزکوشش نہ کروجسے تم سے چھپا یاگیاہے ‘‘۔
(بحارالانوار،ج٥٣،ص١٧٩؛احتجاج طبرسی جلد سوم ، چہارم  ۳۵۰ تا  ۳۵۲  )
کسی طاغوت کی بیعت امام نہیں کرسکتا
اِ نّیِ اَخْرُجُ حینَ اَخْرُجُ وَلٰابَیْعَۃَ لِاَحَدٍمِنَ الطَّوٰاغیِتِ فیِ عُنُقیِ
’’میں قیام کروں گااورجس وقت میں حکومت الٰہیہ قائم کرنے کے لئے اٹھوں گاتو اس وقت میرے اوپرسرکشوں اورظالموں میں سے کسی ایک کی بیعت نہ ہوگی ۔
(کمال الدین ،ص٤٨٥)


 ظہور کی نشانی
 عَلٰامَۃُ ظُہُورِاَمْرِی کَثْرَۃُ الْھَرْجِ وَالْمَرْجِ وَالْفِتَنِ
’’ظہورکی نشانی یہ ہے کہ اس سے قبل بدامنی ہوگی،بے چینی ہوگی،پریشانی ہوگی،فتنے ہوں گے،فساد ہوگا، دہشت گردی عام ہوگی‘‘۔
(بحارالانوار،ج٥١،ص٣٢٠،غیبت شیخ)


  علماء میری طرف سے حجت ہیں 
 اَمَّاالْحَوٰدِثُ الْوٰقِعَۃُ فَارْجِعُوافیِہٰااِلیٰ رُوٰاۃِ حَدیِثِنَافَاِنَّھُمْ حُجَّتیِ عَلَیْکُمْ وَاَنَاحُجَّۃُ اللَّہِ عَلَیْہِمْ
 اپنی زندگی میں پیش آنے والے مسائل میں راویان حدیث (علماء ومجتہد ین ) کی طرف رجوع کرو، وہ میری طرف سے تمہارے لئے حجت ہیں اور خدا کی طرف سے میں ان پر حجت ہوں ‘‘(کمال الدین ،ج۲،ص ۴۸۳،الغیبۃ شیخ طوسی ص ۱۷۶ ؛وسائل الشیعہ ،ج۱۸،ص۱۰۱)

امامؑ کو ہمارے تمام امور کی خبر ہے
 فَاِنَّایُحیِطُ عِلْمُنَابِاَنْبَائِکُمْ وَلاَیَعْزُبُ عَنَّاشَیْئٌ مِنْ اَخْبَارِکُمْ
ہمارا علم تمہارے احوال پر محیط ہے،تمہاری کوئی حالت ہم سے پوشیدہ نہیں ہے،اور تم جو بھی غلطیاں کرتے ہو انہیں ہم جانتے ہیں۔
( بحارالانوار ج۵۳،ص ۱۷۵)


امامؑ ہم سے غافل نہیں ہیں
اِنَّاغَیْرُمُھْمِلیِنَ لِمُرَاعَاتِکُمْ وَلَانَاسیِنَ لِذِکْرِکُمْ وَلَوْلَاذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ اللَّآوٰائُ وَاصْطَلَمَکُمْ الْاَعْدَائُ فَاتَّقُوااللّٰہِ جَلَّ جَلالُہُ وَظَاہِرُوْنَالِاِنْتِیاَشکُمْ مِنْ فِتْنَۃٍ قَدْ اَنَاخَتْ عَلَیْکُمْ۔
( جناب شیخ مفیدؒ کی توقیع میں فرمایا )ہم تمہاری خبر گیری سے غافل نہیں ہیں اور نہ تمہاری یاد کوہم نے فراموش کیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو بلائیں تم پر ٹوٹ پڑتیں اور یہ دشمن تمہیں ریزہ ریزہ کر ڈالتے پس اللہ جل شانہٗ کا تقویٰ اختیار کرو!۔
 ( بحار الانوار ج ۵۲، صفحہ ۱۷۵)
امامؑ کو تکلیف پہنچانے والے لوگ
قَدْاَذٰانَاجُھَلٰائُ الشّیِعَۃِ وَحُمَقَاوُھُمْ وَمَنْ دیِنُہُ جَنَاحُ الْبَعُوضَۃِ اَرْجَحُ مِنْہ ۔
’’تین قسم کے شیعوں نے ہمیں اذیت پہنچائی ہے :
١۔ جاہل،نادان ،کم علم ۔ ٢۔ احمق،بے وقوف ،نفع ونقصان سے ناواقف ۔ ٣۔ وہ حضرات جن کے نزدیک دین کی قدر وحیثیت مچھرکے پرسے بھی کم ترہے‘‘۔
(احتجاج ،ج٢،ص٤٧٤)

اہل بیتؑ کا راستہ
 وَلَاتَمیِلُواعَنِ الْیَمیِنِ وَلَاتَعْدِلُوااِلَی الْیَسَارِوَاجْعَلُواقَصْدَکُمْ اِلَیْنَابِالْمَوَدَّۃِ عَلَی السُّنَّۃالْوٰضِحَۃِ
’’نہ توتم دائیں طرف جاؤاورنہ ہی بائیں بازوکواپناؤتمہارارخ اورقصدہماری جانب رہے تمہارا سیدھارخ ہماری جانب ہو،اس کی بنیادہم سے مودت اوردوستی کوقراردو،یہی راستہ سیدھا ہے جوروشن اورواضح ہے،دائیں بائیں مت جاؤ،صراط مستقیم جوکہ ہماری مودت پر قائم ہے اسی پرباقی رہو‘‘۔
(بحارالانوار،ج٥٣،ص١٧٩،احتجاج )
غیبت میں امام زمانہ ؑ سے فائدہ
 مّٰاوَجْہُ الْاِنْتِفٰاعِ بی فی غَیْبَتیِ فَکَالْاِنْتِفٰاعِ بِاالشَّمْسِ اِذٰاغَٰیَّبَھٰاعَنِ الْاَبْصٰارِ السَّحٰابُ
غیبت میں مجھ سے اسی طرح فائدہ حاصل ہوتاہے جیسے بدلی میں آفتاب کی روشی سے فائدہ حاصل کیا جاتاہے۔جہاں تک یہ سوال ہے کہ دوران غیبت میرا وجود کس طرح منفعت بخش ہے تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے سورج بادلوں کے پیچھے چھپ کر لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے
 (بحار الانوار، جلد ۵۲، صفحہ ۱۸۱،کمال الدین ۴۸۳)
بقیۃ اللہ
اَنَابَقِیَّۃُ اللہِ فِی اَرْضِہِ،وَالْمُنْتَقِمُ مِنْ اَعدٰائِہِ۔
’’میں روئے زمین پر اللہ کا بقیہ (ذخیرہ)ہوں اوراللہ کے دشمنوں سے انتقام لینے والاہوں‘‘۔
(بحارالانوار،ج٥٢،ص٢٤،کمال الدین)


ظلم و ستم کا خاتمہ امام ؑ کے ذریعہ
 وَاِذَااَذِنَ اللَّہُ لَنَافِی الْقَوْلِ ظَہَرَالْحَقُّ وَاضْمَحَلَّ الْبَاطِلُ وَ انْحَسَرَ عَنْکُمْ وَاِلٰی اللہِ أرغَبُ فی الْکِفَایَۃِ وَ جَمِیلِ الصُّنْعِ وَ الوِلایَۃِ۔۔۔
جب ہم کو خداوند عالم کی طرف کلام کرنے کی اجازت مل جائے تو حق آشکار اور باطل نا بود ہوکر تم سے دور ہوجائے گا۔ میں خداوند عالم سے چاہتاہوں کہ اس اہم کام کو بطور احسن اور کافی اور ہماری ولایت کے ساتھ انجام دے۔
(بحارالانوار،ج٥٣،ص١٩٦،غیبت شیخ)
امام کے ذریعہ ہی مکمل طور پر برائیوں کا خاتمہ
 اَنَاالْمَہْدِیُّ(وَ)اَنَاقٰائِمُ الزَّمٰانِ،اَنَاالَّذی آَمْلَآُھٰاعَدْلاًکَمٰامُلِئَتْ جَوْراً،اِنَّ الْاَرْضَ لٰاتَخْلُومِنْ حُجَّۃٍوَلٰایَبْقَی النّٰاسُ فی فَتْرَۃٍوَھٰذِہِ اَمٰانَۃ�لٰاتُحَدَّثْ بِھَااِلاَّاِخْوٰانَکَ منْ اَھْلِ الْحَقَّ۔
’’میں مہدیؑ ہوں اور میں ہم قائم الزمان ہوں ،میں زمین کوعدالت کے نفاذ سے اس طرح آبادکروں گاجس طرح وہ مجھ سے پہلے ظلم وستم سے ویران ہوچکی ہوگی،بلاشک زمین حجت سے خالی نہیں ہوتی،اورلوگ بے سرپرست کسی بھی لمحہ کے لئے نہیں رہتے یہ بات امانت ہے اسے تم اپنے بھائیوں میں پہنچاناجواہل حق ہیں ‘‘۔ (کمال الدین ،ص٤٤٥)
امام زمانہ ؑ کی وجہ سے بلائیں دور ہوتی ہیں
 اَنَاخٰاتَمُ الْاَوْصِیٰائِ وَبی یَدْفَعُ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ الْبَلٰائَ عَنْ اَھْلیٰ وَ شِیعَتی۔
میں خاتم الاوصیاء ہوں اور خدا وند عالم میری ہی وجہ سے میرے خاندان والوں اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ہے۔ 
(کمال الدین،ص۴۴۱؛ بحار الانوار۵۲؍۹۲)


غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ
لَوْاَنَّ اَشْیٰاعَنَاوَفَّقَہُمُ اللّہُ لِطَاعَتِہِ عَلَی اجْتِمٰاعٍ مِنَ الْقُلُوبِ فِی الْوَفَائِ بِالْعِہْدِعَلَیْھِمْ لَمَاتَآَخَّرَعَنْہُمُ الْیُمْنُ بِلِقَائِنَاوَلَتَعَجَّلَتْ لَھُمُ السَّعَادَۃُ بِمُشَاہَدَتِنَاعَلیَ حَقَّ الْمَعْرِفَۃِ وَصِدْقِہٰامِنْھُمْ بِنَافَمَایَحبِسُنَاعَنْھْم اِلاّٰمَایَتَّصِلُ بِنَامِمّٰا نُکْرِہہُ وَلَانُوْثِرُہُ مِنْھُمْ۔
ہمارے شیعوں کو خدا وند عالم اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے اگر وعدہ وفائی میں ان لوگوں کے دل ایک ہوتے تو ہماری بابرکت ملاقات میں تاخیر نہ ہوتی بلکہ ہمارے دیدار کی سعادت حقیقی اور سچی معرفت کے ساتھ ان کو حاصل ہوتی ۔ ان کے ناپسند یدہ اور نا مناسب کام مجھے محبوس بنائے ہوئے ہیں۔ (بحا ر الانوارجلد ۵۳، ص۱۷۷، احتجاج طبرسی)
کیا ہم اپنے عہد و پیمان پر عمل پیرا پیں؟!
وَ مَعْرِفَتُنَا بِالزَّلَلِ الَّذِی أَصَابَکُمْ مُذْ جَنَحَ کَثِیرٌ مِنْکُمْ إِلَى مَا کَانَ السَّلَفُ الصَّالِحُ عَنْهُ شَاسِعاً وَ نَبَذُوا الْعَهْدَ الْمَأْخُوذَ مِنْهُمْ وَراءَ ظُهُورِهِمْ کَأَنَّهُمْ لا یَعْلَمُونَ
 ہم اپنے شیعوں سے ہونے والی لغرشوں سے غافل نہیں ہیں ، ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ان بعض برے کاموں کی طرف مائل ہیں جن سے گزشتہ نیک لوگ احتراز کر تے تھے اور جو عہدوپیمان خدا کی جانب توجہ رکھنے اور گناہوں سے دور رہنے کی خاطر ان سے لیا گیا تھا انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا ہے گویا وہ جانتے ہی نہیں ۔ 
(احتجاج طبرسی جلد سوم ، چہارم  ۳۵۰ تا  ۳۵۲  )
امامؑ کو ناراض کرنے والے کاموں سے پرہیز ضروری ہے
 فَلْیَعْمَلْ کُلُّ امْرِی ئٍ مِنْکُم! مَایَقْرُبُ بِہِ مِنْ مَحَبَّبِنَاوَلْیَتَجَنَّبْ مَایُدْنیِہِ مِنْ کَرٰاھِیَّتِنَاوَسَخَطِنَا،فَإِنَّ امْرَأً يَبْغَتُهُ فُجْأَةً حينَ لا تَنْفَعُهُ تَوْبَةٌ، وَ لا يُنْجيهِ مِنْ عِقابِنا نَدَمٌ عَلى حَوْبَة۔
تم میںسے ہر شخص کو اس چیز پر عمل کرنا چاہئے جو ہماری دوستی سے تم کو قریب کر دے اور ہر اس شے سے پر ہیز کرنا چاہئے جو ہماری ناراضگی سے قریب کردے ، کیوں کہ خدا وند عالم انسان کو اچانک اپنی جانب لے جاتا ہے کہ اس وقت توبہ فائدہ نہ دے گا اور گناہوں پر پشیمانی ہمارے عذاب سے نجات نہیں دے گی (احتجاج طبرسی جلد سوم ، چہارم  ۳۵۰ تا  ۳۵۲  )
فائدہ اور نقصان
َ أَنَّهُ مَنِ اتَّقَى رَبَّهُ مِنْ إِخْوَانِکَ فِی الدِّینِ وَ خَرَجَ عَلَیْهِ بِمَا هُوَ مُسْتَحِقُّهُ کَانَ آمِناً مِنَ الْفِتْنَةِ الْمُظِلَّةِ وَ مِحَنِهَا الْمُظْلِمَةِ الْمُضِلَّةِ وَ مَنْ بَخِلَ مِنْهُمْ بِمَا أَعَارَهُ اللَّهُ مِنْ نِعْمَتِهِ عَلَى مَنْ أَمَرَهُ بِصِلَتِهِ فَإِنَّهُ یَکُونُ خَاسِراً بِذَلِکَ لِأُولَاهُ وَ آخِرَتِه
 جو بھی خدا کیلئے اپنے دینی بھائی کے حال کی رعایات کرے اور حقوق الہیٰ اس کے مستحقین کو ادا کرے وہ شخص آنے والے امتحان ومصیبت اور مشکل رنج وزحمت سے امان میں رہے گا اور جو بھی عاریت دی ہوئی نعمت میں ان لوگوں سے بخل کرے جن سے صلہ رحمی کرنے کا حکم ہے ، ایسا شخص دنیا و آخرت میں گھاٹے میں رہے گا۔ (احتجاج طبرسی،ترجمہ اردو،ج۳ و ۴،ص۳۵۴)
شیطان نماز کا دشمن ہے
 فَمَااُرْغِمَ اَنْفُ الشَّیْطَانِ بِشَیْئٍ مِثْلِ الصَّلٰوۃِ فَصَلَّھَاوَاَرْغِمْ اَنْفَ الشَّیْطَانِ۔
’’نمازسے بہترکوئی اورعمل نہیںہے جوشیطان کوذلیل ورسواء کرتاہے،یعنی نمازکے ذریعہ شیطان کی ناک زمین پررگڑی جاتی ہے اوراس کی بہت ہی تذلیل ہوتی ہے،پس تم نماز ادا کرواوراس کے ذریعہ شیطان کے تکبرکی ناک کوخاک میں ملادواوراسے ذلیل کردو‘‘‘۔
(بحارالانوار،ج٥٣،ص١٨٢احتجاج)
نماز کو تاخیر سے پڑھنا!
 مَلْعُونٌ، مَلْعُونٌ، مَنْ اَخَّرَالْمَغْرِبَ اِلیٰ اَنْ تَشْتَبِکَ النُّجُومُ ،مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ، مَنْ اَخَّرَ الْغَدٰاۃَ اِلیٰ اَنْ تَنْقَضِیَ النُّجُومُ۔
ملعون ہےملعون وہ شخص جونمازمغرب مین اتنی تاخیر کرے کہ تارے کِھل جائیں(یعنی ستارے نظرآنے لگیں)،اوروہ شخص بھی ملعون ہے ملعون جونمازصبح میں اتنی تاخیرکرے کہ آسمان سے سارے ستارے غائب ہوجائیں ‘‘۔
(بحارالانوار،ج٥٢،ص١٥،غیبت شیخ)
مال امام کھانے والالعنتی ہے
لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلائِکَۃِ وَالنَّاسِ أجْمَعینَ علیٰ مَنِ السْتَحَّلَ مِنْ أمْوالِنَا دِرْھَماً۔ مَنْ اَکَلَ مِنْ اَمْوَالِنَاشَیْئاًفَاِنَّمَایَآکُلُ فی بَطْنِہِ نَاراًوَسَیَصْلیٰ سَعیِراً۔
اللہ، ملائکہ اور تمام انسانوں کی اس پر لعنت ہو جو ہمارے اموال میں سے ایک درہم بھی اپنے لئے حلال جانے۔ جو بھی ہمارا مال کھائے گویا وہ اپنے شکم میں آگ بھر رہاہے۔ اور عنقریب دوزخ میں جائے گا۔
(بحار الانوار جلد ۵۳،صفحہ ۱۸۳؛ کمال الدین،ص۵۲۱)
مال امام کا بے جا تصرف جائز نہیں ہے
 وَأمّا مَا سَئَلْتَ عَنْہُ مِنْ أمْرِ مَنْ یَسْتَحِلُّ ما فی یَدِہِ مِنْ أمْوَالِنَا أوْیَتَصَرّفَ فیہِ تَصَرُّفُہُ فی مالِہ مِنْ غَیْرِ  أمْرِنا فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَھُوَ مَلْعونٌ و نحْنُ خُصَماؤُہٗ یَوْمَ القیامَۃِ۔
(محمد بن جعفر سے فرمایا:) اور جو تم نے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا ہے جس کے پاس ہمارا مال ہے اس کو اپنے لئے حلال سمجھتا ہے یا ہماری اجازت کے بغیر اس میں اسی طرح تصر ف کرتا ہے جس طرح اپنے مال میں تو یاد رکھو کہ ایسا شخص ملعون ہے اور روز قیامت وہ ہمارے دشمنوں میں شمار ہوگا ۔(کمال الدین ص۵۲۰/۴۹)
امام کو ہمارے مال کی ضرورت نہیں بلکہ۔۔۔
اَمَّااَمْوٰالُکُمْ فَلاٰنَقْبَلُھَااِلاَّلِتَطَھَّرُوافَمَنْ شَائَ فَلْیَصِلْ وَمَنْ شَائَ فَلْیَقْطَعْ فَمَاآتَانِی اللَّہُ خَیْرٌ مِمّٰاآتَاکُم۔
ہم تمہارے اموال کو صرف اس لئے قبول کرتے ہیںکہ تم پاک ہوجاؤ لہٰذا جو بھی پاک ہونا چاہتا ہے وہ ہم تک(خمس) پہنچائے اور اگر نہیں چاہتا تو نہ دے۔ اور خدا وند عالم نے جو کچھ تم کو عطا کیا ہے اس سے بہتر ہمیں عطا کیا ہے۔
(بحار الانوار ۵۳/۱۸۰؛ کمال الدین، ص۴۸۴)
غیر کے مال میں تصرف جائز نہیں
 فَلاَیَحِلُّ لِاَحَدٍاَنْ یَتَصَرَّفَ مِنْ مَالِ غَیْرِہِ بِغَیْرِاِذْنِہِ  فَکَیْفَ یَحِلُّ ذَلِکَ فیِ مَالِنَا
کسی کے لئے جائزنہیں ہے کہ وہ کسی اورکے مال کواس کی اجازت کے بغیر اپنے تصرف میں لائے جب ایساہے توپھرکسی شخص کے لئے یہ کیسے جائزہے کہ وہ(ہماری اجازت کے بغیر)ہمارے مال میں تصرف کرے اور اسے اپنے استعمال میں لے آئے ‘‘۔
(کمال الدین ،ص٥٢١)
امام کی اجازت کے بغیر مال امام میں تصرف جائز نہیں ہے
 وَ أمَّا الْمُتَلَبِّسُونَ بِأمْوالِنَا فَمَنِ اسْتَحَلَّ شَیئاً مِنْھا فَأکَلَہٗ فَاِنَّمَا یَأکُلُ النِّیْرانَ۔
جس کے اختیار میں ہمارا مال ہے اگر وہ اس میں سے کچھ بھی اپنے لئے مباح سمجھے اور اسے کھائے تو گویا اس نے دوزخ کی آگ کھائی ہے۔
(بحار الانوار ۵۳/۱۸۱)


زمین کبھی بھی حجت الٰہی سے خالی نہیں رہ سکتی
 اِنَّ الْاَرْضَ لاٰتَخْلُومِنْ حُجَّۃٍ اِمّٰاظٰاہِراًوَاِمَّامَغْمُوراً۔
کیا تم نہیں جانتے کہ زمین حجت خدا سے کبھی خالی نہیں رہتی اب چاہے وہ حجت ظاہر بظاہر ہو یا پردۂ غیب میں ہو۔
(بحار الانوار ج ۵۳،ص ۱۹۱؛کمال الدین، ص٥١١)


ظہور میں تعجیل کی  دعا کا فائدہ ہم ہی کوہے
  اَکْثِرُواالدُّعٰائَ بِتَعْجیلِ الْفَرَجِ فَاِنَّ ذَلِکَ فَرَجُکُمْ
’’فرج جلدی ہونے کے واسطے دعابہت زیادہ کروکیونکہ اسی میں تمہارے لئے فرج (کامیابی ،سکون،آرام)ہے ‘‘۔
(کمال الدین ،ص٤٨٥؛ غیبت طوسی،۲۹۲)



بیجا سوالات سے پرہیز کرو
 فَاَغْلِقُوااَبْوٰابَ السَئٰوالِ عَمّٰالاٰ یَعْنیِکُمْ وَلاَتَتَکَلَّفُواعِلْمَ مَاقَدْکَفَیْتُم ْ
’’جن باتوں کاتم سے تعلق نہیں ہے اورتمہارے فائدے میں نہیں ہیں ان کے متعلق سوال کرنے کاسلسلہ بندکردو،لایعنی اوربے مقصد سوالات کرنے سے گریزکرو،اوراپنے آپ کوایسے معلومات حاصل کرنے کی زحمت میں نہ ڈالوجن کی ذمہ داری تمہارے اوپرنہیں ڈالی گئی یعنی جس کاچاہناتمہارے لئے ضروری نہیں تم ان کے بارے معلومات حاصل کرنے کے لئے خودکومصیبت میں نہ ڈالو‘‘۔ (بحارالانوار،ج٥٢،ص٩٢،احتجاج)

امام زمانہ کی ہم سے محبت
لَوْلَامَاعِنْدَنَامِنْ مَحَبَّۃِ صَلَاحِکُمْ وَرَحْمَتِکُمْ وَالْاِشْفَاقِ عَلَیْکُمْ لَکُنّٰاعَنْ مُخٰاطَبَتِکُمْ فی شُغْلٍ            
’’اگرہمیں تم سے محبت نہ ہوتی اوررتم پرہم مہربان اورشفیق نہ ہوتے اورہمیں تم سے ہمدردی نہ ہوتی اورہم تمہاری بہتری کانہ سوچتے توہم تم سے بات کرناہی چھوڑدیتے یعنی ہماراتم سے بات کرنااس بات کی نشانی ہے کہ ہم تم سے محبت کرتے ہیں تمہیں چاہتے ہیں،تمہاری خیر مانگتے ہیں،ہم تمہارے ہمدردہیں‘‘۔
(بحارالانوار،ج٥٣،ص١٧٩)

امام کے سلسلے میں اقرار ضروری ہے
الَّذی یَجِبُ عَلَیْکُمْ وَ لَکُمْ انْ تَقُولُوا: إنّا قُدْوَهٌ وَ ائِمَّهٌ وَ خُلَفاءُ اللهِ فی ارْضِهِ، وَ اُمَناوُهُ عَلی خَلْقِهِ، وَ حُجَجُهُ فی بِلادِهِ، نَعْرِفُ الْحَلالَ وَ الْحَرامَ، وَ نَعْرِفُ تَاْویلَ الْکِتابِ وَ فَصْلَ الْخِطابِ۔(تفسیر عیّاشی:۱؍۱۶۔ بحارالانوار۸۹؍۹۶؍۵۸)
تمہارے لئے ضروری ہے تم یہ عقیدہ رکھو اور اس بات اقرار کرو کہ: ہم اہل بیت رسالتؑ ہی تمام امور کا محور و بنیاد، قائد و حاکم، ھادی و راہنما ہیں ہم ہی روئے پر زمین پر اللہ کی حجت اور اس کے بندوں پر اس کے امین و اس کے شہروں میں اس کی حجت ہیں۔ہم ہی ہیں جو حرام و حلال کی معرفت رکھتے اور قرآن کی تفسیر و تاویل کو جانتے ہیں۔