جمعہ، 15 مئی، 2020

امام جعفر صادق علیہ السلام اور فکری جمود سے مقابلہ

امام جعفر صادق علیہ السلام اور فکری جمود سے مقابلہ
حجۃالاسلام آقای مہدی پیشوائی
فکری جمود اورروشن فکری:فکری جمود کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی مسئلہ سے باخبر ہونے کے بعد اس سے متعلق دلائل فراہم کرے اور کسی نتیجہ تک پہنچ کر اسے اپنا عقیدہ بنالے پھر اس مسئلہ سے متعلق کسی مزید گفتگو یا اس کے خلاف کوئی دلیل سننے کے لئے آمادہ نہ ہو ،یعنی اسی عقیدہ پر اپنی فکر کومحدود کرلے ۔ اسی طرح جب فکری جمود کی لفظ استعمال کی جاتی ہے تو اس سے کچھ قدامت پسندی کی بھی بوآتی ہے، یعنی فکری جمود کا حامل شخص قدامت پسند ہوتا ہے، قدیم افکار میں گم ہوتا ہے اور کوئی نئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ فکری جمود کے مقابلے میں روشن فکری کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ روشن فکر اسے کہتے ہیں جو کھلی اور روشن فکر کا مالک ہو یعنی پڑھا لکھا ہو،اچھا مطالعہ رکھتا ہو اور نئی بات مان لیتا ہو ۔ 
ہماراموضوع ہے کہ امام جعفر صادق علیہ الصلوٰۃ و السلا م نے فکری جمود سے کیسے مقابلہ کیا؟ لیکن میرے خیال میں امام صادق علیہ السلام کا دور فکری پرورش کا دور تھا ،البتہ چند ایک گروہ جامد فکر بھی رکھتے تھے جن سے آپ نے مقابلہ کیا ہے لیکن عام طور سے آپ کا دور ایک فکری نقل و انتقال اور تبادل آراء کا دور تھا ۔اس کا سبب یہ تھا کہ سیاسی نظام میں تبدیلی آچکی تھی۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ہمارے ائمہ میں صرف امام صادقؑ ہی وہ تنہا امام ہیں جنھوں نے بنی امیہ اور بنی عباس دونوں کا دور حکومت دیکھا ہے اور دونوں ادوار میں موجود رہے ہیں ۔ 
۱۱۴ھ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت ہوئی جس کے بعد امام صادق علیہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئے۔۱۳۲ھ میں بنی عباس بنی امیہ کا قلع قمع کرکے خود تخت حکومت پر قابض ہو گئے ۔ تاریخ میں ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ جس وقت کوئی نئی حکومت آتی ہے اور طویل مدت تک حکومت کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنے طرز فکر سے ہم آہنگ کلچر اور ماحول پیدا کرتی ہے پھر جب تک وہ حکومت رہتی ہے اس کا ایجاد کردہ طرز فکر اورماحول بھی باقی رہتا ہے اور جب وہ حکومت ختم ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس کا بنایا ہوا ماحول اور طرز فکر بھی جاتا رہتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے نئے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ نیا طرز فکر بھی لوگوں میں آجاتا ہے ۔
عصر امام جعفر صادق علیہ السلام:امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں جب بنی امیہ کی حکومت ختم ہو گئی تو ان کا ایجاد کیا ہوا طرز فکر اور ان کی بنائی ہوئی تہذیب بھی ختم ہو گئی۔ جب بنی عباس نے اقتدار سنبھالا تو ان کے افکار اور بنی امیہ کے افکارمیں کافی فرق تھا۔یہ اپنی جدید فکر پیش کرتے تھے پھر اسی دور میں جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب ’سیرئہ پیشوایان‘ میں بھی تذکرہ کیا ہے، تھوڑا بھت یونانی کتب کے ترجمہ کا باب کھل گیا تھا۔ مسلمانوں نے یونانی فلاسفہ کے اقوال و کتب کا ترجمہ کرنا شروع کردیا ، مختلف مذہبی فرقے پیدا ہوئے ،آزادیٴ فکر کا ماحول بنا ، بحث و مناظرے ہونے لگے ۔اس طرح مختلف گروہ اور مختلف فرقے وجود میں آگئے ۔کہا جاتا ہے کہ یہ سب بنی عباس کی دین تھی لیکن شہید مطہری فرماتے ہیں کہ آزادیٔ فکر، تبادلۂ خیال ،گفتگو،بحث اور استد لال، یہ سب اسلام کی برکات تھیں ، نہ یہ کہ بنی عباس کی دین تھی ۔ہاں ! بنی عباس نے اتنا کیا کہ ان سب پر پابندی نہیں لگائی ۔ بنی امیہ نے تو لوگوں کا دم گھونٹ رکھا تھا۔ وہ صرف اپنی فکر رائج کرنا چاہتے تھے لیکن بنی عباس نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے اسلام میں موجود آزادی ٴ فکر ،بحث و گفتگو اور استدلال کو راستہ ملا تو اس نے رشد کرنا شروع کردیا۔ اس طرح آپ کے زمانے میں ایک عجیب ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کا دور وسعت فکری کے ساتھ ساتھ فکری تناؤ کا بھی دور تھا یا شہید مطہری کے بقول آپ کے دور میں ادیان و مکاتب اور افکار و نظر یات کا بازار گرم تھا ۔جو شخص چاہتا تھا بولتا تھا لھٰذا اسلام واقعی یعنی مکتب تشیع کے وارث امام صادق علیہ السلام کو حقیقی اسلام کی حمایت اور ترویج میں صرف ایک دو محاذپر مقابلہ نھیں تھا بلکہ آپ کو کئی ایک فکری محاذ سر کرنے پڑرہے تھے ۔ 
امام صادق علیہ السلام کا دھریوں سے مقابلہ:ان میں فکری جمود رکھنے والے کچھ زندیق اور دھرئیے تھے جن کا وہی کہنا تھاجو رسول ﷺ کے دور کے دہرئیے کہتے تھے ”اِنْ ھی اِلاّ حیاتنا الدنیا نموت و نحیی وما یھلکنا الا الدھر“ آج کے دور کے مادّہ پرستوں کی طرح وہ کہتے تھے کہ محسوسات کے علاوہ ہم کسی چیز کے وجود کے قائل نھیں ہو سکتے  معقولات کوئی چیز نھیں ہے ۔ جس چیز کو ہم چھوتے ہیں ، دیکھتے ہیں ، سنتے ہیں یا چکھتے ہیں اسی کو مانتے ہیں ۔ تو یہ اس دور کے میڑیالسٹ یا مادّہ پرست تھے جن کو زندیق یا دہریہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔امام صادق علیہ السلام کو جن فکر ی گروہوں سے مقابلہ کرنا تھا ان میں بہت زیادہ فکری جمود رکھنے والا گروہ یہی تھا۔ 
امام صادق علیہ السلام اور مکتب ابو حنیفہ:آپ کے سامنے ایک دوسرا محاذ فقہ میں قیاس کے ماننے والوں کا تھا ۔اس گروہ کے سرغنہ ابو حنیفہ تھے۔ ابو حنیفہ ذاتی رائے اور قیاس کی بنیاد پر فتویٰ دیا کرتے تھے۔ علماء اہل سنت بھی مانتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق ابو حنیفہ کو صرف ستّرہ حدیثیں یاد تھیں ۔کچھ اس سے بھی زیادہ بڑہ کے بولے ہیں ۔ مقدمہ ابن خلدون میں ابن خلدون کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ احادیث سے کم کام لیتے تھے اوروہ اس لئے کہ شاید ان کی نظر میں بیشتر احادیث غیر معتبر تھیں ۔ بہر حال اتنا طے ہے کہ ابو حنیفہ کو بہت تھوڑی سی حدیثیں یاد تھیں ، یہ اور بات ہے کہ ابن خلدون نے خوش فہمی سے کام لیتے ہوئے اسے ایک دوسرا رخ دے دیا ہے کہ ابو حنفیہ کے نزدیک احادیث معتبرہ بہت کم تھیں ۔ چونکہ ماضی میں جنگ و جدال ا وروضع حدیث کا دور تھا اس لئے ابو حنیفہ ان احادیث کو معتبر نھیں سمجھتے تھے اور احکام شریعت میں اپنی ذاتی راٴی اور قیاس سے کام لیتے تھے۔ اس طرح امام جعفر صادق علیہ السلام کے سامنے ایک محاذ ان لوگوں کا تھا جو احکام میں قیاس کے قائل تھے ۔ 
امام صادق علیہ السلام اور مشبّھہ:ایک دوسرا فکری محاذ ان لوگوں کا تھا جنھیں مشبّہہ کہا جاتا ہے ۔یہ لوگ خدا کو انسان سے تشبیہ دیتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ خدا کے اعضاء ہیں ، جسم اور آنکھیں ہیں ۔قرآن میں موجود اس طرح کی آیات کو ان کے ظاہر پر حمل کرتے تھے مثلاً ”واللهیسمع تحاورکما “ اے پیغمبر تمہارے پاس جو عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر آئی تھی خدا تم لوگوں کی باتوں کو سن رہا تھا ۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا سن رہا تھا یعنی اس کے کان ہیں ، یا مثلاً ” الرحمن علی العرش استوی“ کہتے ہیں یعنی رحمٰن عرش پر اپنا مکان رکھتا ہے۔ ابن تیمیہ منبر پر بیٹھ کر کہتا ہے: ”الرحمن علی العرش استوی “ کا مطلب یہ ہے کہ جیسے میں اس وقت منبر پر بیٹھا ہوں ایسے ہی خدا عرش پر بیٹھتاہے ۔یہ سب باتیں ان کی کتابوں میں بھی موجود ہیں اور اب بھی وہ یہ باتیں زور د ے کر کہتے ہیں ، یا مثلاً قیامت کے بارے میں خدا فرماتا ہے ” وجاء ربک والملک صفاً صفا “ اے پیغمبر ! روز قیامت تمھارارب اور ملائکہ صف در صف آئیں گے ،ہم شیعہ اور معتزلہ کہتے ہیں کہ یہاں پر ”امر“ پوشیدہ ہے یعنی امر خدا اور ملائکہ، جبکہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ نھیں یہ امر وغیرہ تم نے اپنی طرف سے گڑھ لیا ہے، خدا کہتا ہے ” وجاء ربّک“ یعنی خود خدا آئے گا ۔کہتے ہیں کہ دنیا میں خدا دیکھا نہیں جاسکتا لیکن آخرت میں جب وہ خود آئے گا تو سب اس کا دیدار کریں گے ۔ اس طرح کے لوگ امام صادق علیہ السلا م کے زمانے میں تھے ۔ 
امام صادق علیہ السلام اور مرجئہ:ایک اور خطر ناک گروہ تھا جس کا نام”مرجئہ“ تھا۔ایک قول یہ ہے کہ بنی امیہ ان لوگوں کی پشت پناہی کرتے تھے اور اگر بنی امیہ ان کی پشت پناہی نہ بھی کرتے رہے ہوں تب بھی ان کے اور بنی امیہ کے رجحانات ایک جیسے تھے ۔ ان کے نظر یات بنی امیہ کے لئے بڑے فائدہ مند ثابت ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان ایک امر قلبی ہے ۔دل میں ایمان ہو بس کافی ہے یعنی کسی شخص کے دل میں ایمان ہو عمل میں چاہے بت پرستی کرے ،شراب پیئے یاکچھ بھی کرے اس کے ایمان کو کوئی نقصان پہنچنے والا نھیں ہے۔ یہ نظریہ بنی امیہ کے لئے بڑا مفید ثابت ہوا۔وہ اس نظریہ کی بہت ترویج کرتے تھے اورکہتے تھے کہ اگر ہم نے کوئی غلط کام کیا ہے یا گناہ کیا ہے تو اس سے ہمیں یا ہمارے ایمان کو کوئی ضرر پہنچنے والا نھیں ہے ۔ اس طرح امام علیہ السلام کے سامنے فکری محاذ پر ایک دوگروہ نھیں تھے بلکہ کئی ایک گروہوں سے آپ برسر پیکار تھے ۔ 
مبارزہ و مقابلہ کا طریقہ و انداز:اب جائزہ لیتے ہیں کہ امام علیہ السلام ان تمام گروہوں سے کس طرح مقابلہ کرتے تھے۔ امام علیہ السلام در حقیقت دو طرح سے ان لوگوں کا مقابلہ کرتے تھے ؛ایک یہ کہ خود براہ راست ان کے مقابلے میں آتے تھے، دوسرے یہ کہ آپ شاگرد تربیت کرتے تھے اور آپ کے شاگرد جاکر بحث کیا کرتے تھے لیکن آپ کا مقابلہ منطقی اور استدلالی ہوا کرتا تھا ۔کبھی حضرت ایک فکری جھٹکا دے دیا کرتے تھے کہ سامنے والا کچھ سوچنے پر مجبور ہو جائے اور کم از کم احتمال تو دے کہ میری بات غلط بھی ہو سکتی ہے ۔فکری اعتبار سے منجمد شخص اپنی بات کے غلط ہونے کا احتمال تک نھیں دیتالہذاحضرت ان کو فکری جھٹکا دیا کرتے تھے کہ کم از کم دل میں اپنی بات کے غلط ہونے کا احتمال پیدا ہوجائے اور پھر یہی احتمال ایک محرّک بن کرانسان کو اپنے خیال پر نظر ثانی کرنے کے لئے مجبور کردے ۔ 
حضرت عام طور سے استدلالی انداز سے وارد میدان ہوتے تھے اور استدلال کبھی عقلی ہوتا تھا تو کبھی نقلی ، کبھی جدل کی شکل میں تو کبھی منطقی حضرت کبھی خود براہ راست ان کے بڑوں کے مقابلے میں جاتے تھے جن کا اصرار ہوتا تھا کہ خود حضرت سے بحث کریں اور کبھی ان شاگردوں کو میدان میں بھیجتے تھے جن کی آپ نے تربیت کر رکھی تھی یا تربیت کررہے تھے ۔ یہ مطلب بھی قابل ذکر ہے کہ ایک قول کے مطابق امام جعفر صادق علیہ السلام یونیورسٹی میں طلاب کی تعداد چار ہزار تھی۔ مرحوم شیخ مفیدؒ ۺنے فرمایا ہے کہ یہ چار ہزار شاگرد مختلف مو ضوعات میں تربیت شدہ تھے ۔ کلام اور مناظرات کلامی میں ہشام بن عبدالملک، ہشام بن سالم یا مومن طاق ،فقہ میں محمد بن مسلم ،زرارہ ابن اعین اور زرارہ کے بھائی حمران بن اعین، ادبیات میں آبان بن تغلب اور اس طرح دسیوں دوسرے افراد کہ جن کا تذکرہ ہم نے سیرئہ پیشوایان میں بھی کیا ہے، مختلف علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ حضرت نے مختلف موضوعات میں (Specialization) یعنی تخصصی و مہارتی سلسلہ قائم کیا تھا ۔ فقہ ،کلام ، تفسیر، حدیث ، علم قرائت اور ادبیات وغیرہ اور جس علم میں بھی کوئی شخص رجوع کرتا تھا تو آپ اسے اپنے شاگردوں کی طرف بھیج دیتے تھے ۔ ایک جگہ ملتا ہے کہ ایک آنے والے کا اصرار تھا کہ خود حضرت سے بحث کرے گا۔ حضرت نے اس سے فرمایا: اگرتو نے میرے اس شاگرد کو شکست دے دی گو یا مجھے شکست دے دی ۔ آپ اس طرح کے ماہر شاگردوں کی تربیت کررہے تھے ۔ 
بعض نمونے:اب حضرت ؑکے مخالفین سے مقابلہ کے کچھ نمونوں کا جائزہ لیتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس زمانے میں ایک گروہ دہریوں اور زندیقیوں کا تھا جو کسی بھی صورت میں خدا کو نھیں مانتے تھے۔ زندیق کی لغت کے بارے میں بعض کا خیال ہے کہ یہ کلمہ فارسی سے ماخوذ ہے ۔ 
انہیں زندیقوں میں ایک شخص عبدالکریم بن ابی العوجاء تھا جس کی معلومات کافی زیادہ تھیں اور وہ بہت ہی شاطر دماغ کا مالک تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ حضرت کے شاگرد اس سے بحث کرنے میں اپنی بات ثابت نہ کرپاتے تو حضرت ہدایت کرتے تھے اور یہ جاکر اسے جواب دیتے تھے ،پھر وہ کہتا تھا کہ یہ بات جو تم کہہ رہے ہو وہ تمہارے ذہن کی نہیں ہے ۔یہ حجاز سے آئی ہے، یعنی تم امام صادق علیہ السلام سے پوچھ کر آئے ہو۔یہ تمہارے اپنے ذہن کی پیداوار نھیں ہے ۔ 
مومن طاق جو کوفہ (عراق)میں رہتے تھے، انھیں حضرت کی خدمت میں حاضری کا موقع کم ملتا تھا۔ ایک روز مدینہ (حجاز)میں حضرت کی خدمت میں پہنچے اور عرض کرنے لگے مولا! ابن ابی العوجا ء سے بحث چل ری ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ کیا ایسا نھیں ہے کہ جو شخص کسی چیز کو بنائے وہ اس کا خالق ہوا کرتا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! ایسا ہی ہے تو اس نے کہا کہ دو مہینہ مجھے وقت دو میں تمہارے سامنے ایک ایسی مثال پیش کروں گا جس سے تمھیں اندازہ ہوگا کہ میں بھی خالق ہوں ۔تم کہتے ہو خداایک ہے اوروہی خالق ہے لیکن میں تمھیں بتاوٴں گا کہ نھیں ایک دوسرا خالق بھی ہے اوروہ ابن ابی العوجاء ہے۔ امام نے فرمایا اس نے جوتم سے دو مہینہ کی مہلت مانگی ہے اس میں وہ دو بھیڑ کی کھالوں میں گندگی بھر کے رکھ دے گا اورپھر دو مہینے میں اس گندگی سے کیڑے ہی کیڑے پیدا ہوجائیں گے پھر وہ ان کھالوں کو لے کرتمھارے پاس آئے گا اور کہے گا کہ ان کیڑوں کو میں نے خلق کیا ہے ۔ قرآن نے جس بات پر زیادہ تاکیدکی ہے کہ خدا خالق موت وحیات ہے خصوصاً حیات کے بارے میں زیادہ تاکید ہے،” فاذا نفخت فیہ من روحی“ روح میری جانب سے ہے اورابن ابی العوجاء اس بات کو رد کر نا چاہتا ہے کہ خالق فقط ایک ہے ۔ وہ کہے گا کہ دیکھو یہ کیڑے زندہ موجود ہیں اور انھیں میں نے خلق کیا ہے ۔ تم مسلمان کہتے ہو کہ خالق ایک ہے جبکہ میں بھی ان کیڑوں کاخالق ہوں  حضرت نے فرمایا جب یہ ان کھالوں کو لے کرتمہارے پاس آئے تو تم کہنا کہ ہم اگر کہتے ہیں کہ خدا خالق ہے تو ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنی مخلوقات سے آگاہ ہے اوربنیادی طور پر ہر صانع اپنی مصنوع سے باخبر ہوتا ہے۔ خداکو اپنی مخلوقات کی ہر بات کاعلم ہے خواہ وہ چھوٹی سی بات ہو یا بڑی۔ اسے پتہ ہے کہ میری کون سی مخلوق نر ہے اورکون سی مادہ۔اب تم اگر اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ان کیڑوں کو تم نے خلق کیا ہے تو بتاوٴ ان میں سے کتنے مذکر ہیں اور کتنے مونث؟۔ 
مومن طاق ایک دو ماہ بعدجب کوفہ لوٹے توابن ابی العوجاء کا وقت معینہ آگیاتھا اورجیسا کہ حضرت نے پیشنگوئی کی تھی ابی العوجاء گندگی سے بھری بھیڑ کی دو کھالیں لے کر آن پہنچا اورکہنے لگا مومن طاق!اب وقت آگیا ہے تمہیں تمہارے دعوے سے منحرف کرنے کا ۔مومن نے کہا:کہوکیا بات ہے ؟!اس نے کہا دیکھو !اورنے بھیڑ کی کھال کھول دی جو کیڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ کہنے لگا دیکھو یہ زندہ موجودات ہیں اور انھیں میں نے خلق کیا ہے۔ تم جو یہ کہتے ہو خالق فقط خداہے، غلط ہے ۔مومن طاق بھی کہ جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے سیکھ کر آئے تھے ،کہنے لگے: ہر خالق کو اپنی مخلوق کا علم ہوتا ہے۔ تم یہ کہتے ہو کہ ان کیڑوں کو تم نے خلق کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ بتاوٴ کہ ان میں سے کتنے مذکر ہیں اورکتنے مونث؟اس نے اس طرف سوچا تک نہ تھا کہنے لگا: یہ بات تو بڑی عجیب ہے لیکن یہ بات تمہاری نہیں ہے۔ اسے کوئی قافلہ مدینہ سے لے کر آیا ہے یعنی تم نے یہ بات جعفر بن محمد (علیھما السلام )سے سیکھی ہے ۔ پس حضرتؑ کا ایک طریقہ یہ تھا کہ آپ تشریح کرتے تھے شاگردوں کو طریقہ بتاتے تھے حتیٰ آپ کے وہ شاگرد جو دور رھتے تھے ان کو بھی آپ تعلیم دیتے اورتربیت کرتے تھے۔ 
ابن ابی العوجاجب کبھی اصحاب امام سے منا ظرہ کرتا تھا تو جلدی ہار نہیں مانتا تھا۔ نئی سے نئی بات بنا لاتا تھااور کبھی کبھی حد سے تجاوز کرجاتا تھا مثلاً خداوپیغمبرکا انکار کرتا تھا تو امام کے اصحاب کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا تھااور غصّہ میں آجاتے تھے پھر وہ کہتا تھا کہ تمہارے آقا جعفر ابن محمد (علیھما السلام )تو اس طرح نھیں ہیں ؟میں ان کے سامنے اس سے بھی بری باتیں پیش کرتاہوں مگر وہ کبھی غصّہ نھیں ہوتے ۔وہ بیٹھتے ہیں اور بحث کرتے ہیں ۔ 
ایک بارامام جعفر صادق علیہ السلام مکہ میں خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھے۔ ابن ابی العوجاء آیا اور امام کی طرف رخ کرکے کہنے لگا اس میں کون سی بات ہے کہ آپ بار بار اس کا چکر لگاتے ہیں ، پھر کہتا ہے کہ یہ گھر پتھر ہی سے تو بنا ہے جس کے گرد آپ لوگ گھومتے ہیں ۔ اِس پتھر میں اور اُس پتھر میں کیا فرق ہے جس کا بت بنا کراس کی پوجاکی جاتی ہے ۔ وہ لوگ پتھر کے بتوں کو پوجتے ہیں اور آپ لوگ پتھر کے بنے اس گھر کو خانہ خدا مان کر اس کا طواف کرتے اور اس کے گرد گھومتے ہیں ۔ اس کا کیا فائدہ ہے ؟ حضرتؑ نے دیکھا کہ یہاں استدلال پیش کرنے کا مناسب موقعہ نھیں ہے لہذاآپ نے فرمایا ” اے ابن العوجاء ! ہم جو کہتے ہیں کہ خدا ہے ،بہشت ہے،قیامت ہے اور اگر یہ ہمارے عقیدے تمہاری فکر کے مطابق جھوٹے اور بے بنیاد ہوں تب بھی ہمیں کوئی نقصان نھیں ہوگا سوائے اس کے کہ ہم نے کچھ بے کار کام انجام دیئے ہوں گے لیکن دوسرے رخ سے بھی سوچو ! اگر وہ سب درست ہو جو ہم کہتے ہیں ،بہشت ہو ،جہنم ہو اورایک خالق ہو اور تم ان سب چیزوں کا انکار کرتے ہو، اگر یہ باتیں سچ ہوئیں تو تم کیا کرو گے اور تمہیں کتنا گھاٹا اٹھانا پڑے گا ؟ ابن ابی العوجاء یہ سن کر سُست پڑ گیا اور کہنے لگا صحیح بات ہے اگر یہ سب کچھ صحیح نکلاتو مجھے بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ حضرت نے اس کے ذھن کو جھٹکا دیا کہ کم سے کم اسے اپنی بات کے غلط ہونے کا احتمال ہو جائے ۔ 
ایک روز انھیں زندیقیوں میں سے ایک شخص امام کی خدمت میں آیا۔ اس کا نام عبدالملک بن عبدالله تھا۔وہ حضرت سے بحث کرنا چاھتا تھا۔ حضرت نے پہلے ہی اس سے اس کے نام کے بارے میں سوال کر دیا: ” تم کون ہو اورتمھارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا :عبدالملک بن عبدالله۔ امام نے سوال کیا :پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ یہ ملک کون ہے جس کے تم بندے ہو؟یہ آسمان کا ملک ہے یازمین کا ملک ہے ؟ چونکہ ملک اور بادشاہ سے مراد یہاں پر ذات خدا وند تھی اسی لئے آپ نے پوچھا کہ پہلے مجھے بتاؤ کہ تم جس بادشاہ کے غلام ہووہ کون سا بادشاہ ہے؟ حضرت کبھی کبھی ان کے نام کو ہی مرکز بنا کر بحث شروع کردیتے تھے اس لئے کہ وہ اپنے نام کو تو کم سے کم مانتے ہی تھے ۔ پھر آپ نے فرمایا: تمہارے باپ کا نام عبدالله ہے ۔یہ کس خدا کا بندہ ہے اور وہ خدا کہاں کا خدا ہے ؟ آسمان کا خدا ہے یا زمین کا ؟ وہ کون سا خدا ہے جس کا یہ بندہ ہے ؟ پہلے مجھے ان سب کا جواب دو پھر مجھ سے بحث کرنا ؟ وہ شخص مات و مبہوت رہ گیا اور بحث اپنے اگلے مرحلے میں داخل نہ ہوسکی ۔ امام نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ وہ سمجھنے کے لئے نھیں بلکہ فقط بحث و جدال کرنے کے لئے آیا تھا۔ 
حضرت موقع محل دیکہ کر اس طرح سے بھی مخالفین کا مقابلہ کرتے تھے ۔ چونکہ محاذ مختلف تھے ،افراد مختلف تھے لھٰذا ان سے مقابلے کے لئے آپ مختلف طریقے اختیار کیا کرتے تھے۔دوسرے فرقوں اور فکری محاذوں پر بھی آپ اسی طرز استدلال سے اپنی بات پیش کرتے یا دفاع کرتے تھے۔ میں آپ کے مناظروں میں سے نمونہ کے طور پر ابو حنیفہ سے ہونے والا ایک مناظرہ پیش کرتا ہوں ۔ یہ احتجاج طبرسی میں ہے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ احتجاج طبرسی ان مناظرات سے مخصوص ہے جو چھارہ معصومینؑ نے مختلف ابواب میں انجام دیئے ہیں ۔یہ ایک اچھی اور قیمتی کتاب ہے ۔ اگر اس کا مطالعہ کرنا چاہیں تو تحقیق شدہ ایڈیشن کا مطالعہ کریں ۔ 
احتجاج طبرسی میں امام کا ابو حنیفہ کے ساتھ ہونے والا مناظرہ نقل ہوا ہے ۔میں نے عرض کیا کہ ابو حنیفہ اہل قیاس تھے یعنی مسائل کو ایک دوسرے سے جوڑتے تھے اور پھر جس مسئلے کا حکم معلوم ہوتا تھا اس کے مشابہ مسئلے پر اسی کے مشابہ حکم لگادیتے تھے۔اس طرح ابو حنیفہ کے اکثر فتوؤں کا مبنیٰ راٴی اور قیاس ہے، برخلاف حنبلیوں کے کہ وہ حدیث اور منقول سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں ۔حنبلی سب سے پہلے قرآن سے استناد کرتے ہیں اور وہ بھی ظواہر قرآن سے مثلاً قر آن میں آیا کہ ” اولا مستم النساء “ یعنی جن چیزوں کے بعد نماز کے لئے غسل یا تیمم کرنا ضروری ہے ان میں ”لمس النساء“ بھی ہے ۔یہاں لمس سے مراد جماع ہے لیکن حنبلیوں کے بقول لمس سے مراد وہی لمس کرنا اور چھونا ہے ۔ 
 علامہ مرتضیٰ عسکریؒ نے سوڈانی علماء سے بحث کی تھی جن میں سے ایک شافعی تھے ۔علامہ نے ان سے پوچھا کہ امام شافعی کا فتویٰ ہے کہ” لمس النساء“ سے وضو باطل ہو جاتا ہے ۔ شافعی نے یہ بات کہاں سے اخذ کی ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو باطل ہو جاتا ہے۔ شافعی عالم جواب دیتے ہیں کہ اس آیت کے ظاہر سے ” اولا مستم النساء “ ۔ یہ شافعی تھے اسی طرح حنبلی افراد ظواہر آیات اور ظواہر روایات سے بھت زیادہ وابستہ ہیں ۔ مجاز کو نہیں مانتے۔ہر مجاز کو حقیقت پر حمل کرتے ہیں جبکہ ہر زبان میں مجاز کا استعمال عام ہے ۔ 
بہر حال ابو حنیفہ اہل قیاس تھے۔ امام صادق،ؑ ابو حنیفہ کو سمجھانا چاہتے تھے کہ قیاس نہ کیا کریں۔ ہر جگہ قیاس سے صحیح نتیجہ اخذ نہیں ہوتا ہے اور فقہ و فتویٰ وحی سے ماخوذ ہونا چاھیئے نہ کہ اپنی ذاتی راٴی سے۔ اسے سمجھانے کے لئے آپ نے ابو حنیفہ سے چند سوالات کئے۔آپ نے پوچھا کہ بتاؤ نفس محترمہ کے قتل میں گناہ زیادہ ہے یا زنا میں ۔ابو حنیفہ نے کہا : قتل میں اور یہ درست بھی ہے۔ خدا وند متعال فرماتا ہے ” مَنْ قَتَلَ نَفَساً۔ ۔ ۔ ۔ فَکانَّما قَتَلَ الناس جمیعاً “ ( جو کسی ایک انسان کو قتل کرے گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کردیا ہے ) یا دوسرے مقام پر فرماتا ہے:” ومن یقتل مومناً متعمّداً فجزا ئہ جھنم خالدًا فیھا “ ( جو کسی بندئہ مومن کو جان بوجھ کر قتل کردے اس کی سزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا ) ۔ حضرت نے پوچھا کہ قتل کا مفسدہ اور گناہ زیادہ ہے یا زنا کا ؟ابو حنیفہ نے کہا :قتل کا ۔آپ نے فرمایا : اگر ایسا ہے تو پھر کیوں قتل کے ثبوت کے لئے دو گواہ کافی ہوتے ہیں لیکن زنا کے ثابت ہونے کے لئے چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے ؟ اگر اس مسئلے کو عقل سے حل کر سکتے ہو تو کرکے دکھاؤکہ اس کا راز کیا ہے ؟ ابو حنیفہ کوئی جواب نہ دے سکے ۔ 
حضرت نے پھر پوچھا کہ بتاؤ منی کی نجاست زیادہ ہے یا پیشاب کی ؟ ابو حنیفہ نے کہا : پیشاب کی۔آپ نے فرمایا : اگر پیشاب کی نجاست زیادہ ہے تو ایسا کیوں ہے کہ پیشاب کے بعد صرف نجس مقام دھل دینا کافی ہے لیکن منی نکلنے کے بعد غسل کرناواجب ہے ؟ عقلی بنیا د پر بڑی نجاست کے ازالہ کے لئے غسل کا حکم ہونا چاہیئے جب کہ ایسا نھیں ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ 
پھر حضرت نے تیسرا سوال کیا کہ بتاؤ نماز کی اہمیت زیادہ ہے یا روزہ کی ؟ ابو حنیفہ نے کہانماز کی ۔ آپ نے فرمایا : اگر نماز کی اہمیت زیادہ ہے تو پھر ایسا کیوں ہے کہ عورت سے حالت حیض میں جو نمازیں چھوٹتی ہیں اس پر ان کی قضاواجب نھیں ہے لیکن مذکورہ حالات میں جو روزے چھوٹتے ہیں ان کی قضا واجب ہے ؟ عقل کی روشنی میں نماز کی قضا واجب ہونی چاھیئے اس لئے کہ نماز کی اہمیت روزہ سے زیادہ ہے ۔ امامؑ، ابو حنیفہ کو متوجہ کرنا چاھتے تھے کہ عقل اور قیاس کو بنیاد بنا کر سارے کے سارے فقھی مسائل حل نھیں کئے جاسکتے۔ 
سوال : امام صادق علیہ السلام کے پاس چار ہزار شاگرد تحصیل علم کرتے تھے،کیااتنے افراد آپ کی نصرت کے لئے کافی نھیں تھے کہ آپ قیام فرماتے ؟ 
جواب : اس سوال کا جواب ہم نے سیرئہ پیشوایان میں دیا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد چارہزار تھی ۔یہ مجموعی تعداد بتائی جاتی ہے۔ ایک وقت میں ایک جگہ چار ہزار شاگرد نھیں تھے ۔شاگردوں کا ایک گروہ آتا تھا کسب فیض کرکے چلاجاتا تھا پھر دوسرا گروہ آجاتا تھا ۔اس طرح شاگردوں کے لئے آپ کا دروازہ کھلارہتاتھا لوگ آتے تھے اور کسب فیض کرکے چلے جاتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ ہرشخص میں اپنی مخصوص صلاحیت ہوا کرتی ہے ۔ اگریہ سب لوگ مثلاً فلسفہ اور کلام یا دیگر علوم میں استادانہ صلاحیت رکھتے تھے تو اس کا مطلب یہ نھیں ہے کہ فنون حرب میں بھی مہارت رکھتے تھے ۔ یہ سب علمی شخصیات تھیں ۔ فوجی صلاحیت بعض میں تھی لیکن بعض میں نھیں تھی ۔ 
ابو مسلم خراسانی اور ابو سلمہ خلال نے بنی عباس کے قیام کے آغاز میں آپ کو تحریک کی اورقیادت سنبھالنے کی پیشکش کی لیکن آپ نے اسے قبول نھیں کیا ۔بہر صورت ایک ایسی فوجی طاقت بظاہر امام کے پاس نھیں تھی جس کے ذریعہ اسلامی حکومت تشکیل دی جاتی اور اسے چلایا جاتا ۔ 
سوال:قرآن مجید نے الله کی راہ میں قیام کرنے پر بہت تاکید کی ہے خواہ افرادکی تعداد اور قوت کم ہی کیوں نہ ہو ” قل انما اعظکم بواحدة ان تقوموا للّہ مثنیٰ و فرادیٰ“۔امام حسینؑ نے مختصر ساتھیوں سمیت یزید کے خلاف قیام کردیا لیکن چٹھے امام نے کیوں نھیں قیام فرمایا ؟ 
جواب : کسی بھی کام کے لئے ماحول ساز گار ہونا بہت ضروری ہے، امام حسینؑ نے بھی معاویہ کے دور حکومت میں دس سال تک قیام نھیں کیا ! اس دور کے حالات کو میں نے سیرۂ پیشوایان میں ذکر کیا ہے کہ معاویہ کے زمانے میں امام حسینؑ کے قیام کا نہ ہی کوئی امکان تھا اور نہ ہی فائدہ ،لیکن یزید کے زمانے کے جو حالات تھے وہ جنگ اور اس کے خلاف قیام کے لئے مفید تھے ۔ معاویہ کے زمانہ میں ایسے حالات قطعاً نھیں تھے ۔ جنگ کے لئے ضروری شرائط ہوا کرتے ہیں تاکہ قیام مفید ہو سکے۔ اس طرح کے حالات امام صادقؑ کے زمانہ میں فراہم نہ تھے ۔ 
سوال :ثقافتی یلغار کی تعریف کیا ہے ؟ اس کے تحت کیا کیا چیزیں آتی ہیں ؟ 
جواب : چند سالوں سے اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ اصطلاح خاصی رائج ہے۔ ”ثقافتی یلغار “ (Cultural Attack)کلچر یا تھذیبی طرز فکرکے رائج کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ایک فوجی حملہ ہوتا ہے اور ایک ثقافتی حملہ ۔کسی ملک پر لشکر کشی اوربمباری وغیرہ فوجی حملہ ہے ۔ تہذیبی حملہ ایک ایسا حملہ ہوتا ہے جس میں کسی گھر یا علاقہ پر قبضہ نھیں کیا جاتا بلکہ آدمی کی فکر پر قبضہ کیا جاتا ہے ۔ ایران میں بھی یہ کام مختلف ذرائع سے کیا جا رہا ہے اور اس پر امریکہ ایک بڑا بجٹ صرف کرتا ہے جس کے نتیجہ میں آپ ملاحظہ کررہے ہیں ۔اسلامی جمہوریہ ایران میں مختلف شکوک و شبہات اچھالے جاتے ہیں ۔دین کے لئے اپنی اپنی فکر پیش کی جاتی ہے جو کہ واقعاً ایک بڑی خطرناک چیز ہے ۔کہتے ہیں کہ تم جو قرآن کی تفسیر کررہے ہو کیسے معلوم کہ یہ تفسیر صحیح ہے میں جو تفسیر کرتا ہوں وہ صحیح ہے ۔ آپ کا اجتھاد خطا ہے میرا اجتھاد صحیح ہے۔ اسلام کے لئے اپنا اپنا مفھوم پیش کرنا واقعاً خطر ناک ہے ۔ خ خ خ

قساوت قلب کے وجوہات، اثرات و علاج

قساوت قلب کے وجوہات، اثرات و علاج
آیۃاللہ خلیل منصوری
ترجمہ حجۃالاسلام مولانا منور آقا 
قساوت قلب یا سنگ دلی ایسی خطرناک بیماری ہے جو انسان کی دنیا و آخرت کوتباہ کر سکتی ہے ۔ احساسات و جذبات کا مر دہ ہو جانااور مزاج میں سختی انسان کے لئے ہر قسم کے جرائم اور گناہ کی راہ ہموار کرتی ہے ۔ 
سنگ دلی اور قساوت قلب کا مفہوم 
اسلامی تعلیمات میں قلب ،سمجھ ، علم اور کبھی عقل کو کہتے ہیں۔ یہی قلب امر ونہی الٰہی کا مخاطب ہے ۔ جہاں بھی قرآن و حدیث میں قلب کا ذکر ہے اس سے مراد یہی لئے گئے ہیں۔ لہٰذا قلب سے مراد صنوبری شکل کا گوشت کا لوتھڑا نہیں ہے جو انسانی بدن کی بائیں جانب ہوتا ہے بلکہ قلب: عقل، روح اور باطن کو کہتے ہیںالبتہ جسم میں موجود گوشت کے لوتھڑے سے اس قلب کا نزدیکی تعلق ہے ۔ اسی وجہ سے اس تعلق کو قرآن مجید نے نظر انداز نہیں کیا ہے ۔ اسی وجہ سے انسان کی روح لطیف اور نفس ناطقہ کو جسمانی قلب کے ساتھ بدن پر حاکم مقرر کیا ہے ۔ اس جسمانی لوتھڑے کو قلب اس لئے کہا جاتا ہے کہ روح میں ہونے والی تبدیلیوںکا مرکز یہی ہوتا ہے ۔ البتہ قرآن مجید نے صرف لفظ قلب سے استفادہ نہیں کیا ہے بلکہ لفظ ’’فؤاد‘‘ اور ’’صدر‘‘ اور ان الفاظ سے نکلنے والے دیگر الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے ۔   
قرآنی تعلیمات کی اساس پر قلب پر مختلف حالتیں طاری ہوتے رہتی ہیں۔ قلب کو قلب کہا ہی اس وجہ سے جاتا ہے کہ ہمیشہ اس میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور اسے ثبات و قرار نہیں رہتا۔قلب کے معنیٰ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا ہے ۔ قرآن مجید نے قلب کی بعض حالتوں کو مثبت اور بعض کو منفی قرار دیا ہے ۔ مثبت حالت کی مثال قلب سلیم (شعرا؍۸۹) ، قلب مطمئن(نحل؍۱۰۶) ، قلب لَیِّن ونرم (زمر؍۲۳) ، قلب رابط و پیوند زدہ( انفال؍۱۱، کہف؍۱۴)، قلب طاہر(مائدہ؍۴۱) اور اسی طرح کی حالتوں کا ذکر موجود ہے۔ 
اسی طرح قلب کی منفی حالتوں کا ذکر بھی قرآن مجید میں موجود ہے جیسے قلب مریض(بقرہ؍۱۰، مائدہ؍۵۲، انفال؍۴۹، توبہ؍۱۲۵وغیرہ) قلب واجف و مضطرب (نازعات؍۱۰) ،حلق کو پہنچا ہوا قلب (احزاب ؍۱۰، غافر؍۱۸) ، قلب مرعوب(آل عمران؍۱۵۹) اور اسی طرح کی حالتیں۔ 
بعض حالات کا اطلاق مثبت اور منفی دونوں پر ہوتا ہے جیسے شرح و انشراح مثبت بھی ہو سکتا ہے منفی بھی ۔ شرح، کفر کے لئے بھی ہو سکتا ہے (نحل؍۱۰۶) یا پھر ایمان و اسلام کے لئے بھی۔(انشراح؍۱، طہ؍۲۵) 
اخلاقی رذائل میں سے ایک حالت جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے وہ ’’قساوت قلب‘‘ ہے ۔(بقرہ؍۷۴،انعام؍۴۳، حدید؍۱۶، مائدہ؍۱۳) 
قساوت عربی لفظ ہے جو ’’قسی‘‘ اور’’قسوہ‘‘ سے لیا گیا ہے جس کے معنیٰ سختی اور ناقابل نفوذ ہونا ہے ۔ اسی وجہ سے سخت ، مضبوط پتھروں کو ’’قسی‘‘ کہتے ہیں۔ پس یہ کہا جاسکتا ہے کہ قساوت قلب وہی سنگ دلی ہے جو نرم دلی کے مقابلے میں ہے ۔ قرآنی نقطۂ نظر سے وہ قلب جو حق ، تواضع، خشوع اور جھکاؤ نہ رکھتا ہو اور نور ہدایت اس میں نفوذ نہ کرسکتا ہو ایسے قلب کو ’’قلوب قاسیہ‘‘ کہا گیا ہے۔(مائدہ؍۱۳) 
علم اخلاق کی روشنی میں اپنے جیسے ہم نوع افراد کے درد و رنج کا اثر نہ لینے کو قساوت کہا گیا ہے ۔ (جامع السعادات،نراقیؒ، ج۱، ص۴۰۴)
قساوت ، قَسَوَ سے قرآن مجید میں ساٹھ مرتبہ قلب کے ساتھ استعمال ہوا ہے تاکہ اس طرح قلب کی ایک حالت بیان کی جائے (بقرہ؍۷۴، مائدہ؍۱۳، انعام؍۴۳، حج؍۵۳،زمر؍۲۲، حدید؍۱۶)۔ قرآنی تعلیمات کی رو سے معرفت خدا اور اس کی طرف حرکت کرنے میں رکاوٹ قساوت قلب منجملہ کئی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے۔انبیائے الٰہی کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ تھی کہ وہ انسانوں کو حقائق سے آشنا کروائیں او رمعاشرے میں عدل کو پھیلائیں لیکن سارے انبیاء کو اپنے ان مقاصد تک پہنچنے میں قسی القلب افراد سے مقابلہ تھا کیونکہ قسی القلب لوگ حقائق کی راہ کو اپنے اوپر بند کر لیتے ہیںاور جذبات کا دروازہ اپنے اوپر کھول لیتے ہیں اور انسانی اصولوں کو اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے حق کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ 
قساوت قلب اور سنگ دلی کے مراتب :
تعلیمات قرآنی کی رو سے قساوت قلب اور سنگ دلی کے مراتب اور درجات ہیں۔ جس طرح ایمان اور نور شدت و ضعف کے حامل ہوتے ہیں بالکل اسی طرح قساوت کے بھی مراتب ہیں۔ پس قساوت کا ایک مرتبہ نہیں ہے بلکہ ان کے مراتب اور درجات میں فرق ہے او ر ان کے الگ الگ ہونے پر توجہ کرنی ہوگی ۔ 
خدا نے سورۂ بقرہ کی ۷۴ویں آیت میں صاف الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ :
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ۔
’’پھر تمہارے دل سخت ہو گئے جیسے پتھر یا اس سے بھی کچھ زیادہ سخت کہ پتھروں میں سے تو بعض سے نہریں بھی جاری ہو جاتی ہیں اور بعض شگافتہ ہو جاتے ہیں توان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض خوفِ خدا سے گر پڑتے ہیں۔ لیکن اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘۔ 
اس آیت میں سنگ دلی کے کم از کم تین مراتب بیان ہوئے ہیں: ۱۔ چیرا جانا جس طرح پتھر میں چیرا لگ کر پانی نہرکی شکل میں جاری ہوتا ہے۲۔ چیرا جانا جس طرح سے پانی ابلتا ہے ۳۔ خشیت خدا سے گرپڑنا۔
ایک طرف پتھر کے لئے تین تعبیریں استعمال ہوئیں ہیں۔ ۱۔ تفجر۲۔ تشقق ۳۔ ھبوط تو دوسری طرف پانی کے لئے نہروں کا جاری ہونا اور پانی کا ٹپکنا ایک درجہ اور شدت کو بیان کر رہا ہے ۔ پتھر کی سختی کو مختلف تعبیروں کے ذریعہ بتلا کر اس سے قلب کی سختی سمجھائی جا رہی ہے ۔ وہ شدت و ضعف جو پتھروں میں اور پانی میں پایا جاتا ہے جو مادی چیزیں ہیں ویسا ہی شدت و ضعف قلب میں پایا جاتا ہے جو ایک معنوی چیز ہے ۔ یہ اس صورت میںہے کہ قلب ایک جسم لطیف ہے نرمی اور لیانت اس کی ذات میں موجود ہے لیکن جب سخت ہو جاتا ہے تو سخت ترین پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے ۔ 
قساوت قلب اور سنگ دلی کی وجوہات :
آیتوں اور روایتوں کی بنیاد پر قساوت قلب اور سنگ دلی کی کئی وجوہات اصلی اور فرعی شمار کی گئی ہیں۔ ان میں سے اہم ترین وجوہات یہ ہیں: 
۱۔ فسق: سنگ دلی کی اہم ترین وجہ فسق ہے۔ (حدید؍۱۶) ۔ فسق ایسے برے اعمال کو کہتے ہیں جن سے پردے چاک ہو جاتے ہیںکیونکہ کھجور کی پوست کا اس کے مغز سے جدا ہوجانے یا کھجور کے بیج کے باہر نکل آنے کو فسق کہاجاتا ہے، فاسق اپنے اعمال کے ذریعے بری اور چھپی ہوئی چیزوں کو آشکار کردیتا ہے اور بری چیزوں کو اعلانیہ طور پر انجام دیتا ہے اور ان کو پھیلاتا ہے ۔ ایسے برے اعمال کے سبب انسان کا قلب قساوت اور سنگ دلی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ 
۲۔پیمان شکنی: انسان جو عہد کرتا ہے یا عقد کرتا ہے اس کا پابند ہو، اس کو وفا کرے کیونکہ امانت داری ، عدالت، صداقت، وفاداری جیسے امور اخلاق کے بنیادی اصولوں میں سے ہے ۔ 
۳۔ نصیحت اور موعظہ سے اثر نہ لینا: قساوت قلب کا ایک سبب انسان کا نصیحت اور موعظہ سے اثر نہ لینا ہے ۔ جوبھی ایک لمبی مدت تک نصیحتوں پر مثبت رد عمل ظاہر نہ کرے وہ قساوت میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔ (زمر؍۲۲،حدید؍۱۶) 
۴۔لمبی مدت کا گذر جانا: سورہ ٔحدید کی ۱۶ ویں آیت سے یہ معنیٰ حاصل ہوتے ہیں کہ ایک لمبی مدت تک خدا ا ور آسمانی تعلیم کی طرف توجہ کا نہ ہونا قساوت قلبی کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ 
 ۵۔گناہ: گناہ وہ عامل ہے جو قساوت قلبی لاتا ہے ۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس قدر گناہ بڑا ہوگا یا بار بار ہوگا اسی قدر قلب کی قساوت شدید ہوگی ۔ سورۂ اعراف کی ۱۰۰ ویں آیت میں ہے کہ اَوَلَمْ یَھْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ اَھْلِھَا اَنْ لَّوْ نَشَاء اَصَبْنَاھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَ نَطْبَعُ عَلَی قُلُوْبِھِم فَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ( کیا ایک قوم کے بعد دوسرے زمین کے وارث ہونے والوں کو یہ ہدایت نہیں ملتی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کے گناہوں کی بناء پر انہیں بھی مبتلائے مصیبت کر دیتے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے اور پھر انہیں کچھ سنائی نہ دیتا) ۔  پس خداوند عالم اس آیت میں بیان فرما رہا ہے کہ گناہ کی سزا یہ ہے کہ قلب ایک قسم کی قساوت میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کو طباعت قلب کہتے ہیں۔ طبع ، طبیعت اور بندھ جانے کے معنیٰ میں ہے جیسے کوئی چیز چھپ جائے ۔یہاں پر قلب بند ہو جاتا ہے اور پھر حقائق کو درک کرنے کی قدرت کھو دیتا ہے اور انوار الٰہیہ کو نہیں پاتا، نصیحتوں سے ، آیتوں سے ، دلیلوں سے اثر نہیں لیتا۔ حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: لا وجع اوجع للقلوب من الذنوب؛ گناہوں سے بڑھ کر دلوں کے لئے کوئی در د نہیں ہے ۔ (کافی ، ج۲، ص۲۷۵، وسائل الشیعہ،ج۱۵، ص۳۰۴، بحار الانوار، ج۷۳،ص ۳۴۲) 
۶۔ رسولوں اور آیات الٰہی کی تکذیب: سورۂ یونس کی آیت ۷۴ میں خدا فرماتا ہے:’’ اس کے بعد ہم نے مختلف رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے اور وہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ لوگ پہلے کے انکار کرنے کی بناء پر ان کی تصدیق نہ کر سکے اور ہم اسی طرح ظالموں کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں‘‘۔ 
۷۔ شیطان کا اعمال کو سجانا: قساوت قلب کی ایک وجہ وہ برے اعمال ہیں جن کو شیطان سجا کر پیش کرتا ہے (انعام؍۴۳) ۔اسی وجہ سے جب بلائیں اور مصیبت ان افراد پر نازل ہوتی ہیں گڑگڑانے کے بجائے بلا دور ہوتے ہی کوئی کام نہیں کرتے بلکہ اپنے وہی گندے کاموں کو جاری رکھتے ہیں اور قساوت قلب کی وجہ سے اللہ کے غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 
۸۔ ہٹ دھرمی :سورۂ بقرہ کی ۶۷ اور ۷۴ ویں آیت میں گائے کے قصے میں حضرت موسیٰ  ؑ کی قوم کی ہٹ دھرمی دکھائی گئی ہے اور کس طرح بنی اسرائیل قساوت قلب میں گرفتار ہوئے ۔ قساوت کا زمینہ بیان کرنے کے بعد خدا نے اس کے شدت و ضعف کو بیان کیا ہے ۔ 
۹۔ شیطانی القائات کی پیروی: وحی اور الہامات ِ الٰہی کو چھوڑ کرشیطانی القائات سے سنگ دلی پیدا ہوتی ہے ۔(حج،۵۲؍۵۳) 
۱۰۔ کفر کے لئے سنیہ کا کھل جانا 
۱۱۔ خطاکاریاں: انسان اگر خطا کرے تو اسے توبہ کرنی چاہیے ۔ توبہ نہ کرنا اور خطاپر خطا کرتے چلے جانا قساوت قلب کا سبب بنتا ہے ۔ حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: خطا سے زیادہ کوئی چیز نہیں جو قلب کی گندگی کو زیادہ کرے۔(کافی ، ج۶، ص۲۶۸؛ امالی للطوسی،ص۴۳۸؛ بحار الانوار، ج۷، ص۳۱۲) 
۱۲۔ حرام خوری، لقمۂ حرام: رسول خدا ؐ نے حضرت علی ؑ سے فرمایا: جو مالِ حرام کھاتا ہے اس کا قلب سیاہ ہو جاتا ہے اور دین بدل جاتا ہے اور دعا مستجاب نہیں ہوتی۔ امام حسین ؑ نے روز عاشور اپنی نصیحتوں اور موعظہ سے عبید اللہ ابن زیادکے لشکر کو ان کے کام کی قباحت و برائی سے آگاہ کیا اور اس کام کو جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے چیخ پکار شروع کر دی تاکہ حضرت کی بات ان کو نہ سنائی دے۔ حضرت ان سے فرما رہے تھے : انما ادعوکم الی سبیل الرشاد فمن اطاعنی کان من المرشدین و من عصانی کان من المھلکین و کلکم عاص لامری غیر مستمع قولی فقد ملئت بطونکم من الحرام و طبع علی قلوبکم ویلکم الا تنصتون لا تسمعون، میں تمہیں سبیل رشاد کی طرف دعوت دے رہا ہوں، جو بھی میری اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو بھی میری نافرمانی کرے گا ہلاک ہونے والوں میں قرارپائے گا۔ تم سب میرے حکم کی نافرمانی کرتے ہو، میری بات نہیں سنتے ، (تم ا س کے سزاوار ہو، کیونکہ) تمہارے پیٹ حرام سے بھرے ہوئے ہیںجس کے نتیجے میں خدا نے تمہارے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور تم کبھی حقائق کو درک نہیں کر سکوگے ، کیوں خاموش نہیں ہوتے ؟ کیوں نہیں سنتے ؟۔ (بحار الانوار، ج۴۵، ص۱)
۱۳۔ لمبی لبمی آرزوئیں: خدا نے حضرت موسیٰ  ؑسے فرمایا: اے موسیٰ ، دنیا میں اپنی آرزوؤں کو لمبی نہ کرو کہ قسی القلب ہو جاؤگے۔ (کافی ، ج۲، ۳۲۹، اعلام الدین،ص۲۱۸؛بحار الانوارج۷۳، ص۳۹۸) 
۱۴۔ مال کی کثرت:مال کی کثرت بھی قساوت قلب کا موجب بنتی ہے کیونکہ مال انسان کو اسراف کی طرف ڈھکیلتا ہے اوراسراف کئی گناہوں کا زمینہ فراہم کرتا ہے ۔ ایک طرف تو انسان کو مال کی حفاظت کی پڑی رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے کام نہیں کر سکتادوسری طرف مال کا حساب کتاب اور اس کی حفاظت انسان کا اچھا خاصا وقت لے لیتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے امور کی طرف توجہ نہیں کرپاتا۔ حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: بے شک مال کی کثرت دین میں فساد اور قلب کو سخت کر دیتی ہے ۔(تحف العقول، ص۱۱۹؛ مشکاۃ الانوار،ص۱۳۸؛ بحار الانوار، ج۱،ص۱۷۵)
۱۵۔ دنیا کا ہم وغم: ہمیشہ دنیا کی فکر میں لگے رہنا اور انسان کا ہمّ و غم دنیا ہوجانا قساوت قلب کا عامل ہے ۔ روایت میں ہے کہ جس حد تک ممکن ہو اپنے آپ کو دنیا کے ہمّ و غم سے فارغ کرو، بتحقیق جس کا ہمّ و غم دنیا ہو جائے اس کا دل پتھر اور سخت ہو جاتا ہے اس کی ضرورت اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے اور دنیا کے علاوہ کچھ دیکھتا ہی نہیں۔ (مجموعہ ورام، ج۲، ص۱۹۹؛ارشاد القلوب، ج۱ص،۱۸؛ بحار الانوار، ج۷۷،ص۱۶۶) 
۱۶۔زیادہ کمانے کی حرص : انسان ایک اندازے کے مطابق کھائے پیئے ۔ پیٹ اس کا ساراہمّ و غم نہ بن جائے ۔ رسول خداؐ نے حضرت علی ؑ سے فرمایا: یا علی پانچ چیزیں دل کو مردہ کر دیتی ہیں ، ان میں سے ایک روزی کے لئے ضرورت سے زیادہ بھاگ دوڑ ہے۔ (خصال صدوقؒ) 
۱۷۔ گمراہ لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا:رسول خدا ؐ کی حدیث ہے کہ چار لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے ان میں سے ایک خود مردہ لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے ۔ آپؐ سے پوچھا گیا مردہ کون لوگ ہیں؟ تو آپ ؐ نے فرمایا بے ایمان گمراہ لوگ مردہ ہیں۔ (بحار الانوار، ج۱۰۳، ص۲۲۶) 
۱۸۔ بادشاہوں اور پیسے والوں کے پاس حاضری : رسول خدا ؐ فرماتے ہیں اے علی تین لوگوں کے دل قساوت کا شکار ہو جائیں گے :بادشاہوں کے دروں پر حاضری دینے اور ان سے مدد چاہنے والے۔ (فقیہ، ج۴، ص۳۶۵، بحار الانوار، ج۶۵،ص۲۸۲) 
۱۹۔ علماء سے دوری: رسول خدا ؐ فرماتے ہیں: یاعلی اگر چالیس دن گذر جائیں اور مومن، علماء کی صحبت میں نہ بیٹھے قسی القلب اور سنگ دل ہو جاتا ہے اور گناہان کبیرہ یعنی بڑے گناہوں کی جرأ ت کرتا ہے ۔ 
۲۰۔ذکر خدا ترک کر دینا: خدا موسیٰ  ؑ سے فرماتا ہے اے موسیٰ! ہر حال میں میرا ذکر کرتے رہو میراذکر ترک کر دینا دل کو سخت کر دیتا ہے ۔ (کافی، ج۲،ص ۴۹۷؛ بحار الانوارج۱۳، ص۳۴۲)
۲۱۔  زیادہ بات کرنا: حضرت عیسیٰ روح اللہ فرماتے ہیں: زیادہ بات چیت مت کروکہ یہ دل کو سخت کر دیتا ہے اور جو زیادہ بات چیت کرتا ہے اس کی عقل کم ہو جاتی ہے اور دل سخت ہو جاتا ہے ۔ 
(الامالی، ص۳، ح۱؍۱؛ کتاب الموطاء، ص۹۸۶؛تفسیر مجمع البیان، ج۱،س۲۶۶؛ تفسیر ابن کثیر، ج۱، ص۱۱۸، بحار الانوار، ج۱، ص۲۸۱)
۲۲۔زیادہ کھانا پینا: اپنے دلوں کو زیادہ کھانے اور پینے سے مردہ مت کرلو کیونکہ دل کھیتی کی طرح ہے زیادہ پانی دینے سے کھیتی خراب ہو جاتی ہے۔ (مجموعہ ورام، ج۱، ص۴۶) 
۲۳۔ اپنے رشتہ داروں کی قبر پر مٹی ڈالنا: دفن کرتے وقت اپنے رشتے داروں میں سے ارحام کی قبر پر اگر مٹی ڈالے تو اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے ، یہ کام دوسرے لوگ انجام دیں۔ امام جعفر صادق  ؑ فرماتے ہیں: میں تمہیں اپنے رحمی رشتے داروں کی قبروں پر مٹی ڈالنے سے منع کرتا ہوں کہ اس سے دل مردہ ہو جاتے ہیں اور جس کا دل مردہ ہو جاتا ہے وہ اپنے پروردگار سے دور ہو جاتا ہے ۔ (کافی ، ج۲، ص۱۹۹)
قساوت قلبی اور سنگ دلی کے اثرات: 
۱۔ لوگوں کا بکھر جانا : قوم کے قائدین کی قساوت قلبی اور سخت دلی سے لوگ ان کے اطراف سے بکھر جاتے ہیں ، پراکندہ ہو جاتے ہیں۔ (آل عمران؍۱۵۹)
۲۔ آسمانی کتابوں میں تحریف ، ان کے مفہوم و معار ف میں تحریف :سورۂ مائدہ کی ۱۲ ویں اور ۱۳ ویںآیت میںخدا نے بنی اسرائیل کی سنگ دلی کی ایک وجہ تورات میں  ان کی طرف سے تحریف بیان فرمایا ہے ۔ 
۳۔ تضرع کا ترک ہو جانا:قساوت قلبی کی وجہ سے انسان مصیبتوں میں خدا کی بارگاہ میں فریاد نہیں کرتا ،گڑگڑاتا نہیں۔ (انعام؍۴۳) 
۴۔شیطان کی طرف سے عمل کو سجایا جانا :قساوت قلبی کی وجہ سے شیطان برے اعمال کو سجا کر انسان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ (حوالہ سابق) 
۵۔ حق کو قبول نہ کرنا :قساوت قلب انسان کو حق قبول کرنے نہیں دیتی۔ (بقرہ؍۷۴؛ مائدہ؍۱۳؛ حدید؍۱۶) 
۶۔ سخت سزائیں :اصحاب اخدود نے مومنین کو سزا کے طور زندہ جلا دیا تھا جو قساوت قلب کا نتیجہ تھا۔ آج بھی یہ تکفیری گروہ داعش اور القائدہ میں دیکھنے میں آتا ہے ۔ (بروج، آیات۴سے ۷اور۱۰) 
۷۔ ظلم و ستم :قسی القلب انسان ظالم اور ستمگر ہوتے ہیں۔ (حج، ۵۳) 
۸۔ غفلت :قساوت قلب کی وجہ سے انسان اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے ۔ (انعام؍۴۳، ۴۴؛ زمر ؍۲۲)  
۹۔ قتل :فرعون اور فرعونیوں کی جانب سے لڑکوں کو بے رحمی سے قتل کرنا قساوت قلب کا نتیجہ ہے ۔ (بقرہ؍۴۹؛ ابراہیم ؍۶) 
۱۰۔ شخصیتوں کی کمی پڑ جانا :نرم دل مومن اور قسی القلب کافر کا بنیادی فرق قساوت قلب کا ایک اور اثر ہے جو سورۂ زمر کی ۲۲ ویں آیت میں بیان ہوا ہے ۔ 
۱۱۔ گمراہی :قساوت قلب ، گمراہی اور ہدایت کے قبول نہ کرنے کا سبب ہے جو اسی آیت میں بیان ہوا ہے ۔ 
۱۲۔ انبیاء کی دعوت پر لبیک نہ کہنا :سنگ دلی کی وجہ سے انسان انبیاء کی دعوت پر لبیک نہیں کہہ سکتا۔ (انعام۴۲، ۴۳) 
۱۳۔ ایمان میں رکاوٹ :سنگ دلی کی وجہ سے انسان اسلام اور ایمان اور وحیانی حقائق کی طرف نہیں آسکتا۔ (بقرہ؍۷۴،۷۵) 
۱۴ ۔نور خدا کا رک جانا : قساوت کی وجہ سے اللہ کا نور قلب پر نازل نہیں ہوتا۔ (زمر؍۲۲) 
۱۵۔ تسلیم نہ ہونا :قساوت قلب اللہ اور اس کے دین کو قبول کرنے میں رکاوٹ ہے ۔ (حوالہ سابق)
۱۶۔ عقل کا کم ہو جانا :آیات و معجزات الٰہی سے اثر لینے اور قرآنی آیتوں میں تعقل اور تفکر کرنے میں قساوت قلب رکاوٹ ہے۔ (بقرہ ؍۷۳،۷۴؛ حشر؍۲۱) 
۱۷۔ خشیت میں رکاوٹ :اللہ سے خوف اور خشیت میں قساوت قلب رکاوٹ ہے ۔ (بقرہ؍۷۴) 
۱۸۔ درک معارف میں رکاوٹ :معارف الٰہیہ کو گہرائی سے سمجھنے اور درک کرنے میں قساوت قلب مانع ہے ۔ (بقرہ،۶۷سے ۷۴؛حشر؍۲۱)
۱۹۔ شرح صدر میں رکاوٹ :قساوت قلب شرح صدر (سینہ کی کشادگی) میں رکاوٹ ہے ۔ (زمر؍۲۲) 
۲۰۔ موعظہ و نصیحت قبول نہ کرنا :قساوت قلب نصیحتوں اور موعظہ کو قبول نہ کرنے کا موجب ہے ۔ (انعام؍۴۳،۴۴)
۲۱۔ شیطان کا غالب آجانا :قساوت کی وجہ سے شیطان کو دھوکہ دینے کا موقع ملتا ہے اور شیطان دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے 
 (حوالہ سابق؛ حج؍۵۳) 
قساوت قلب اور سنگ دلی کوروکنے کے اسباب اور اس کا علاج:
اس میں کوئی شک نہیں کہ قساوت قلب ایک خطرناک بیماری ہے جس کا علاج بہت ضروری ہے۔ علاج یہ ہے:
۱۔ تضرع:خدا کی بارگاہ میں فریاد کرنا ، گڑگڑانا قساوت قلب کو روکتا ہے جیسا کہ سورۂ انعام کی ۴۳ ویں آیت میں بیان کیا گیا ہے 
۲۔ حق کو قبول کرنا :الٰہی تعلیمات کہ جو حق ہیں اس کو قبول کرنا سنگ دلی کو روکتا ہے ۔ (زمر؍۲۲،۲۳؛ حدید؍۱۶) 
۳۔ خشیت :اللہ کی عظمت کے مقابلے میں خوف اور خشیت قساوت قلب اور سنگ دلی کو روکتا ہے ۔اس مطلب کی طرف توجہ خود قساوت قلبی کا علاج ہے۔ (بقرہ؍۷۴)
۴۔ ذکر خدا:اللہ کی یاد اور اس کا ذکر قساوت قلبی میں مانع ہے ۔ (گذشت آیات)
۵۔ رحمت خدا : اللہ کی رحمت و عنایت قساوت قلبی کو روکے رکھتی ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم ؐ کے لئے خدائی انتظام ہوا۔ (آل عمران؍۱۵۹) 
۶۔ شرح صدر :سینہ کی کشادگی بھی قساوت قلبی کا علاج ہے ۔ (زمر ؍۲۲)
۷۔ مہربانی : لوگوں سے مہربانی اور نرمی سے پیش آنا قساوت کو روکے رکھتا ہے ۔ (آل عمران؍۱۵۹)
۸۔ نورانیت :نورانیتِ الٰہی سے استفادہ قساوت سے روکتا ہے۔ 
۹۔ پانچ چیزیںجو قلب کو جلاء دیتی ہیں: ۱۔ علماء کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ۲۔ یتیموں کے سرپر ہاتھ پھیرنا ۳۔ سحر کے وقت کثرت سے استغفار ۴۔ رات کو جاگنا یا کم سونا ۵۔ دن میں روزہ رکھنا 
۱۰۔ توبہ :امام جعفر صادق  ؑ فرماتے ہیں: دلوں کو اسی طرح زنگ لگ جاتا ہے جس طرح تانبہ کو زنگ لگ جاتا ہے پس استغفار سے اس کو جلاء دو۔ توبہ کے تین رکن ہیں: ۱۔ گناہ سے پشیمانی اور ندامت ۲۔ گناہ چھوڑنے کا مصمم ارادہ ۳۔ جو چیزیں چھوٹ گئی ہیں ان کی تلافی ۔
۱۱۔ تلاوت قرآن اور موت کی یاد :رسول خداؐ نے فرمایا: جس طرح پانی پڑنے سے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے اسی طرح قلوب کو زنگ لگ جاتا ہے ۔ پوچھا گیا اس کی جلاء کیسے ہو؟ آپؐ نے فرمایا: کثرت سے موت کو یاد کرنا اور تلاوت قرآن کرنا۔ (میزان الحکمۃ، ح۱۷۰۴۹)
۱۲۔ مجالس علم میں شرکت اور علماء کی ہمنشینی :اللہ دلوں کو نور حکمت سے زندہ کردیتا ہے جس طرح مردہ زمینوں کو بارش سے زندہ کردیتا ہے ۔ (میزان الحکمۃ،۱۷۰۳۲) 
۱۳۔یتیموں کو کھانا کھلانا اور ان کے کام آنا: یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے سے انسان کا دل نرم ہوتا ہے ۔ (میزان الحکمۃ، ۱۷۰۴۳)
۱۴۔ موعظہ ، موت کی یاد اور گذشتہ لوگوں کے واقعات : امیر المومنین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: اپنے دل کو موعظہ سے زندہ کرو۔۔۔اور موت کی یاد سے اسے ذلیل کرویعنی اس میں خشوع پید اکرو۔۔۔۔اور گذشتہ لوگوں کے واقعات سے اس کو آشنا کرو۔ (نہج البلاغہ، مکتوب ۳۱) 
خ خ خ 

جناب ابوطالب علیہ السلام حق کی کسوٹی

جناب ابوطالب علیہ السلام حق کی کسوٹی
علامہ سید محمد شاکر نقوی امروہویؒ
کون مسلمان ایسا ہے جو ایمان کا دعویٰ نہیںکرتا لیکن واقعاً مومن کون ہے؟ ۔ یہ بات اللہ تو جانتا ہی ہے لیکن بعض علامتیں ایسی ہیں جن سے بندے بھی مومن ہونے کا حکم لگالیتے ہیں اور بالکل صحیح حکم لگاتے ہیں ، مثلاً یزیدی لوگ یزید کو مسلمان کہتے ہیں بلکہ اس کو مومن بھی سمجھتے ہیں لیکن کربلا یزید کے اسلام کی ایسی علامت ہے جو دنیائے انسانیت کےلئے صحیح فیصلہ کرنے کےلئے کافی ہے۔ دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب کے صاحبان عقل و فہم بڑی آسانی سے فیصلہ کرلیں گے کہ اسلام کے بانی اسلام کےمحور مرکز مصدر حضور اکرم محمد مصطفیٰﷺ کے بےمثل و بے مثال پیارے نواسے حسینؑ کو بے جرم و بے خطا قتل کروانے والا کیا مسلمان ہوسکتا ہے۔ اور اسی طرح دنیا کا ہر صاحب نظریہ فیصلہ بھی آسانی سے کرسکتا ہے کہ حر لشکر یزیدی کا اہم سردار امام حسین علیہ السلام کے قدموں میں آکر اپنی جان قربان کردینے کے بعد بھی کیا یزیدی کہا جاسکتا ہے؟۔ بس یہ دو کھلے ہوئے معیار اور دو کھلی ہوئی کسوٹیاںہیں۔ دنیا کےہر ہر مسلمان کے اسلام کو پرکھنےکی کہ اس کا اسلام کتنا کھوٹا اور کتنا سچا ہے ظاہر ہے کہ جو مسلمان یزید کے مسلمان ہونے کا قائل ہوصاف ظاہر ہوجائے گا کہ یہ کس قسم کا مسلمان ہے اور جو شخص جناب حر کےمتعلق کوئی نظر یہ رکھتا ہوگا اس کے ایمان اور اسلام کا وزن بھی معلوم ہوجائے گا بس جس طرح تاریخ اسلام کی اہم شخصیتوں کے متعلق ہمارے نظریات سے ہمارے اسلام کی بلندی اور پستی کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہم کس قسم کے مسلمان ہیں۔ بالکل اسی طرح جناب ابو طالبؑ بھی ہمارے ایمان کی ایک بہترین کسوٹی ہیں۔ اس کسوٹی پر اپنے اور غیر مخالف اور موافق سب کے ایمان کا حال معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا ایمان کتنے پانی میں ہے۔ اپنوں کےلئے تو اس طرح کہ جب جناب ابو طالبؑ کےلئے یزیدی فرقے والے کفر کی بات کرتے ہیں تو ہماری اپنی حرارت ایمانی کا ٹمپریچر کتنا کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ بس یہی حرارت ہر عبادت میں شامل نظر آئے گی اور ہر عمل کی پختگی کا باعث بنے گی اور غیروں کے یہاں اس حرارت کا فقدان ان کے ہر عمل کو خام رہنے دے گا۔ دیکھئے قانون اور ضابطے کے لحاظ سےہر شئے کا عکس دوسری شئے پر پڑتا ہے لیکن اس عکس کو اپنے اندر جذب کرلینا ہر شئے سے خود ممکن نہیں آئینہ بھی عکس قبول کرتا ہے لیکن تصویر کو وہ بھی جذب نہیں کرسکتا لیکن فوٹو کا پیپر عکس قبول کرنے کی صلاحیت تو رکھتا ہے لیکن بغیر کیمیکل کے سہارے کے نہ قبولیت ممکن ہے اور نہ دوامی جذب عکس ممکن ہے بالکل اسی طرح اسلام کے محسن اعظم کا شکریہ ادا کئے بغیر اسلام کی تصویر کا دل میںٹھہرجانا اور جذب ہوجانا بالکل نا ممکن ہے جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ تمام اعمال بیکار بے سود اور اکارت ہوجاتے ہیں ۔ جس طرح کبھی کبھی پوری ریل سادی اور صاف نکل جاتی ہے۔ اسی طرح حضرت ابو طالبؑ سے بیزارذہن ہمیشہ ایسے ہی غلط فیصلے کرتا ہے جن سے تمام عبادتیں برباد ہوجائیں۔ مثلاً قرآن مجید نے کھلے لفظوں میں کہا ہے کہ انما المشرکون نجسٌ یہ مشرکین نجس ہیں۔ْ اب اس کھلے لفظوں کو مخالفین جناب ابو طالبؑ نے اپنے انہیں ذہنوں سے کتنا کتنا الٹا پلٹا کہ پہلے ان کے ہاتھ کا کھانا طاہر سمجھا پھر ان کے ہاتھ کے دھلے کپڑے پاک سمجھے اور اس میں نمازیں پڑھنا شروع کردیں اور اب مشرکین کےہاتھ کے پانی سے وضو کرکے نمازیں پڑھنے لگے یہ تمام زندگی بھر کی عبادتوں کی بربادی کا صرف ایک ہی رخ ہے جو جناب ابو طالبؑ کی دشمنی کی سوغات ہے در اصل ذہن جب خود نجس ہو جاتا ہے تو اس کو پھر نجاستوںکا احساس نہیں رہتا ۔ جس طرح نجس ماحول کے پروردہ بچے غلیظ نالی میں سے گیند نکال کر ہاتھ اپنے کپڑوں سے پونچھ لیتے ہیں اسی طرح شرعی نجاستوں میں غیرمحتاط مزاج نجاستوںکو اپنی عبادتوں میں بھی شامل کرلیتے ہیں اور پاکیزہ ذہن نجس پانی کو پیشاب کی نجاسب کے برابر سمجھ کر اس کی احتیاط رکھتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نجاست کی اہمیت نہ رکھنے والے بغیر پانی کے پیشاب کرتے ہیں اور اسی میں نمازیں پڑھتےہیں اور سمجھتے ہیں کہ ساری نمازیں قبول ہورہی ہیں۔ ساری عبادتیں قبول ہورہی ہیں در اصل یہ بھی جناب ابوطالبؑ کی دشمنی کی ایک سوغات ہے۔ ایسے لوگ یزید کو جنتی اور ابوطالبؑ کو کافرنہ کہیں گے توپھر اور کہا کہیں گے۔خ خ خ

قائم آل محمد کی حکومت

قائم آل محمد کی حکومت
مولانا محمد باقر باقری جوراسیؒ
قال رسول اللہ والذی بعثنی بالحق نبیاً  لَوْ لَمْ یَبْقَ مِنْ الدُّنْیَا اِلّٰا یَوْم وَاحِد لَطَوَّلَ اللّٰہُ ذَالِکَ الْیَوْم حَتّٰی یَخْرُجَ فیہ والذی الی اللہ فنزل روح اللہ عیسیٰ بن مریم فیصلہ خلفہ و نشر الارض بنورربھا و یبلغ سلطانہ المشرق والمغرب( بحار الانوار ۵۱ص۹۹)
یعنی حضرت رسولؐ خداﷺ نے فرمایا کہ ’’ قسم اس ذات کی جس نے مجھے حق و صداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ اگر دنیا کی عمر میں ایک دن سے زیادہ باقی نہ رہ جائے تو خدا اسی کو طولانی بنادے گا یہاں تک کہ اس میں میرا فرزند مہدیؑ خروج کرے، پس اس کے خروج کے بعد عیسیٰ روح اللہ نازل ہوں گے اور اس کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ اس وقت زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی اور مہدی کی حکومت دنیا کے مشرق و مغرب میںپھیل جائے گی۔ 
عالمی حکومت کی تشکیل
 زمانہ قدیم سے اب تک ایک عالمی حکومت کی تشکیل پیغمبروں فلسفیوں ، دانشوروں سیاستدانوں اور مختلف مذاہب عالم کے پیرووں کی ایک تمنا رہی ہے ۔ آج بھی تمام فلاسفہ اورمفکرین انسانوں کی نفسیاتی بیماریوں کا واحد علاج اور جنگ و جدال کی روک تھام کے ساتھ امن و صلح کے قیام کا واحد راستہ ایک عالمی حکومت کو سمجھتےہیں۔ 
 کانٹ امانویل کے قول کے مطابق نظم و نسق کا قیام ایک عالمی قانون وضع ہونے پر منحصر ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کی ہر مذہب نے خواہش کی ہے اور یہ وہی مقصد ہے جسے رویہ عمل لانے کےلئے بہت ہی قدیم زمانے سے تمام پیغمبر قدم بڑھاتے اور آوازیں بلند کرتے رہے۔ اور اس طرح ان کی آرزو رہی ہے کہ تاریکیوں کو روشنی بخشیں ، مظلوم افراد کو ظلم سے نجات دلائیں ، بیدادگری اور نفع اندوزیوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں، انسانوں اور ان کی زندگیوں پر خدا کی حاکمیت کو واضح کریں ، مخلوق خدا کو غلامی او اسیری کی بندشوں سے چھٹکارا دلائیں اور صرف ایک حکم کارفرما ہو تاکہ اس کے تحت سبھی لوگ آزادی اور برابری و برادری کی زندگی بسر کریں۔ 
 انہوں نے اس سلسلے میں اقدامات کئے ، کوششیں کیں، بہت سی بزرگ ہستیوں نے اس راہ میں قربانیاں دیں اور کچھ کامیابیاں بھی حاصل کیں، لیکن یہ کامیابیاں ذاتی اور وقتی تھیں اور سب کو موانع سے دو چار ہونا پڑا، البتہ سبھی نے یہ خوشخبری دی کہ ایک دن ظلم و جور اور خدا ناشناسی کی بساط الٹ جائے گی اور خدائے بزرگ و برتر اور اس کے قوانین کی حکومت ہوگی۔
 سارے بشری نظام بھی الٰہی مذاہب کےساتھ اس انتظار میں شریک ہیں ا ور بقول برٹرانڈرسل کارل مارکس کا انتظار بھی وہی انتظار ہے جو مسیحی فرقے کے لوگ رجعت مسیح کےلئے کررہےہیں۔ کمیونسٹوں کے جوش عمل، کارکردگی اور اپنے پیرووں میں سے متحرک اور انقلابی افراد تیار کرسکنے کے دیگر اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے معتقدین کے سامنے آئندہ زمانے کی فتح و کامرانی کا ایک حسین منظر پیش کیا ہے۔ کمیونزم کی ایک ایسی جنت کی خوشخبری دی ہے جو اسی زندگی میں حاصل ہوجائے گی۔ لہٰذا جس قدر جلد ممکن ہو موجودہ ظلم و فساد سے بھری ہوئی دنیا سے رہائی اور اس مطلوبہ دنیا تک رسائی کی کوشش کرنا چاہئے۔ اس مکتب فکر نے اکثر کامیابیاں اسی نقطۂ نظر کی بنیاد پر حاصل کی ہیں اسی منزل پر شیعہ عقیدے کی اہمیت بخوبی آشکار ہوجاتی ہے جس نے امامؑ غائب کے مسئلہ ظہور کے ساتھ کس قدر گہرا اور کس قدر بلند مستقبل اور مقصد نگاہوں کے سامنے رکھا ہے اور کس قدر وسیع انسانی بینائی کا خاکہ تیار کیا ہے۔ ایک عدل و داد سے بھری ہوئی دنیا کا تصور اس احساس کو ابھارنے اور قانون کے سایے میں منصفانہ زندگی تک پہنچنے کےلئے کار فرما ہے۔ خاص طور سے انتظار ظہور میں یہ باریکیاں بھی پوشیدہ ہیںکہ ہر ساعت ، ہر روز اور ہر ماہ اس قومیت اور اس زندگی کی تشکیل کا انتظار ہورہا ہےجس کے نتیجے میں اس آنے والے دور اور اس حکومت کی تشکیل کےلئے لازمی شرائط کے وجود میں آنے کے لئے آمادگی بڑھتی جائے گی۔ دنیا اسی لئے پیدا کی گئی ہے کہ انسان فارغ البالی اور دلجمعی کے ساتھ خدائے بزرگ و برتر کی عبادت کرے اور بیماریاں، محتاجیاں اورمظالم اُسے اپنے حقیقی اور اصلی مسلک یعنی بارگاہ خداوندی میں قرب کی منزل سے محروم نہ رکھیں۔ اسی رخ سے کتب آسمانی کی بشارتوں اور خاص طور پر قرآن مجید کے اندر اس طرح ارشاد ہورہا ہے کہ :
 ایک زمانہ ایسا آئے گا جب لوگ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک و ہمسر بنائیں گے‘‘ ۔(سورہٌ نور آیت ۵۴)
دوسری آیت میں یوںوارد ہوا ہے کہ :’’ ہم نے زبور میں لکھ دیا ہے کہ ذکر کےبعد زمین کا سر انجام حق پرستوں کے ماتحت ہوگا اور ہمارے نیک بندے زمین کے وارث قرار پائیں گے‘‘۔ ( سورۂ انبیاء آیت ۱۰۵)
مشیت خداوندی اسی امر پر قائم ہوئی ہے کہ موجودات عالم کمال کا راستہ طے کریں اور زندگی بھی انسان کے تکامل اور ترقی کےلئے وجود میں آئی ہے، لہٰذا ہر موجود اور مخلوق کو اپنے آخر کمال تک پہنچنا چاہئے۔ اور انسان بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اسےلازمی طور پر زندگی کے ہر پہلو اور جملہ انسانی فضائل و کمالات میں اپنے ارتقا کی آخری منزلوں تک پہنچنا چاہئے۔ 
 گزشتہ زمانے میں انفرادی ترقی اگر چہ شاذ و نادر ہے اور انگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہے لیکن ہمارے پاس ایسے کامل افراد رہےہیں جن میں ارنسٹ رنن کے قول کے مطابق تمام انسانی عناصر اسی تناسب اور ہم آہنگی کے ساتھ جمع تھے جو انسانیت کے اندر پائے جاتے ہیں، چنانچہ ہمارے پاس مسیحؑ اور محمد(ص) جیسے انسان موجود رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ابھی ہماری جماعت اور معاشرہ اپنے آخری رشد و کمال کو نہیںپہونچا ہے۔ تاریخ کی بزرگ شخصیتوں نے اگر چہ ایک اجتماعی انسانی معاشرہ قائم کرنے کےلئے کافی کوششیں کیں ہیں اور کبھی کبھی ایک مدت کے لئے اسے وجود میں بھی لائے ہیں، جیسا کہ اسلام کے اندر حضرت رسول خداﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دس سال اور حضرت علیؑ کے دوران خلافت میں خود آپ کے قلم رو کے اندر اس کا نمونہ موجود ہے ، لیکن ان کوششوں کو بہت سے موانع سے سامنا کرنا پڑا ور سارا روئے زمین ان کے زیر اثر نہیں آسکا چنانچہ یہ محدود رہیں اور اجتماعی یا عمومی نہیں بن سکیں۔ 
 پیغمبروں نے اسی مقصد کےلئے بہشت کو اپنی دعوت و تبلیغ کا سرنامہ قرار دیا  ہے تاکہ مستقبل کو روشن کریں اور ایک خوبصورت اور کشادہ منزل آدمی کے سامنے رکھیں۔ اس عقیدے کی روشنی میں اور ایسے دور تک پہنچنے کی امید کے ساتھ ایک حرکت پیدا کریں اور خلق خدا کی ہر تباہی اور خرابی کے خلاف آمادہ کریں۔ تنہا اسلام ہی وہ دین ہے جس نے بالخصوص شیعہ مذہب کے نقطہ نظر سے انسان کو اسی دنیا میں یہ توقعات دیئے ہیں اور لوگوں کوجنت اور عالم آخرت کی بہترین قیام گاہ کے علاوہ یہیں پر آنے والے بہترین کل کی بھی خوشخبری دی ہے۔ 
اسلام نے بتایا ہے کہ ’’ اگر دنیا کی عمر کا ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تب بھی یہ بہترین زندگی نمودار ہوگی۔ 
 برنارڈ شا کے نظریات
یہ مشہور انگریز پروفیسر کہتا ہے : ’’ میں نے ہمیشہ محمدؐ اور اس کے زندہ رہنے کی حیرت انگیز خاصیت کے لحاظ سے انتہائی احترام کیا ہے۔میری نظر میں تنہا اسلام ہی وہ مذہب جو گوناگوں حالات اور زندگی کی بدلتی ہوئی صورتوں کے ساتھ چلنے اور ان پر تسلط حاصل کرنے اور مختلف زمانوں کا سامنا کرنے کی استعداد اور صلاحیت رکھتا ہے۔ 
میں ایسی پیش بیتی کررہا ہوں اور ابھی سے اس کے آثار بھی ظاہر ہونےلگےہیںکہ محمدؐ کا ایمان کل کے یورپ کےلئے قابل قبول قرار پا جائے گا۔ میرے عقیدے اگر ان کا ایسا انسان جدید دنیا پر حاکم اور صاحب اختیار ہوجائے تو عالمی مسائل اور مشکلات کو حل کرنے میں اس طرح کامیاب ہوگا کہ انسان جس امن و صلح اور سعادت مندی کا آرزو مند ہے اس کی ضمانت حاصل ہوجائے گی‘‘۔
انگلستان کا روزنامہ لائٹ لکھتا ہے کہ ، جارج برنارڈ شا باوجودیکہ پہلے خداکو نہیں مانتا تھا اور دنیا میں کوئی مذہبی حکم ایسا نہ تھا جو اس کے ایراد و انتقاد کا نشانہ نہ بنا ہو اس کے علاوہ باوجودیکہ مغربی دنیا اسے اپنے دور کا عقل کل سمجھتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی عظمت و اہمیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اس کے عقیدے میں کسی مذہب کی سب سے بڑی اور اہم تعلیم در اصل انسانیت کی مدد ہے جو اس کو بہتر زندگی کے راستے پر لگا سکتی ہے۔ 
اس کے بعد وہ ان دلائل کی تشریح کرتےہوئےجن کے پیش نظر اس دور میں اسلام اور صرف اسلام ، انسان کو اس کی اصل منزل مقصود تک پہنچانے کے وسائل فراہم کرسکتا ہے کہتا ہے کہ :
 ’’ اگر انسان وہی  انسان ہے جسے در حقیقت خدا کا مظہر ہونا چاہئے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کو اپنا پیشرو اور نمونۂ عمل قرار دے ‘‘۔
 ہم اس بحث کے آخر میں خدائے قادر و توانا کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ کے ظہور کو ہم سے قریب تر فرمادے اور واقعی عدل و انصاف پر مبنی حکومت اسلامی جلد از جلد ساری دنیا میں تشکیل پائے۔ 
 ظہور امامؑ کی بشارت قرآن میں
اگر ہم دنیا کی مختلف قوموں اور ملتوںکی کتب اور تواریخ کا مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہونچتےہیںکہ تمام بڑے بڑے پیغمبروں نے ایک موعود مصلح اور صاحب اقتدار ہستی کی خبر دی ہے جو ایک روز ظہور کرے گی اور ہرج و مرج اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کی اصلاح کرے گی۔ صرف اسی کی ذات ہے جو اس سرگرداں اور طوفان زدہ کشتی کو ساحل نجات تک پہونچائے گی۔ اضطراب ، ظلم و آشوب اور خوں ریزی سے لبریز دنیا کو عدل و داد اور خلوص و محبت کی دنیا سے بدل دے گی اور مظلوم و ستم رسیدہ افراد کو جور و استبداد کے شکنجے سے رہائی دلائے گی۔ 
 البتہ چونکہ ہر قوم و ملت اس مصلح عالم کو اپنے سے منسوب سمجھتی ہے لہٰذا چند فریب کاروں نے اس موقع سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض افراد کو مصلح  عالم کا خطاب دے کر کچھ نادان لوگوں کو دھوکا دے دیا، در حالیکہ توریت انجیل ، قرآن اور پیغمبروں کے ذریعے آنے والی دیگر کتابوں میں، نیز مشہور و معروف دانشوروں ، محدثوں اور مفسروں کی بہت سی تحریروں میںاس مصلح عالم کے نام و نشان اور علامات ظہور کو صراحت سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ اس سلسلےمیں جن علامتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے اکثر ظاہر ہوچکی ہیں اور جو ابھی سامنےنہیں آئی ہیں وہ بتدریج ظاہر ہوں گی۔ 
 مذہب شیعہ اثنا عشری نے جو برابر امام موعود کے ظہور کا منتظر ہے معتبر اور مسلم مدارک کی روشنی میں مکمل طور سے مہدی آل محمدؐ کی تعریف و توصیف کی ہے اور کسی دوسرے کےلئے دعوائے مہدویت کی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ ان مدارک سے مراد کتب آسمانی ( قرآن انجیل اور توریت) کے علاوہ محدثین کی حدیثیں اور علمائے عامہ و خاصہ کی کتابیں ہیں جن میں پیغمبر اسلامؐ سے روایتیں منقول ہیں اور ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں اس موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ 
 اب ہم قرآن مجید کی ایسی چند آیتیں پیش کرکے جو سبھی کےلئے قابل قبول ہیں ثابت کریں کہ امام زمانہ حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف امام حسن عسکری علیہ السلام کے بلا فصل فرزند ہیں:
 ۱؎ سورہ ٔ نور آیت ۵۵: وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٥٥﴾
’’یعنی تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے خدا نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ یقیناً انہیںزمین میں اپنا نمائندہ اور نائب بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے والوں کو اپنا خلیفہ بنا چکا ہے۔ اور جس دین کو ان کےلئے برگزیدہ اور پسندیدہ قرار دیا ہے اسے ان کےلئے روئے زمین پر قائم و مستحکم کرے گا اور ان کے خوف و ہراس کو امن و امان سے بدل دے گا۔ اس وقت لوگ میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہیں کریں گے اور جو شخص اس کے بعد کفر اختیار کرے گا تو وہی لوگ فاسق و بدکار ہیں‘‘۔
تفسیر منہج الصادقین جلد ششم ص ۳۳۸ ، اور تفسیر الصافی جلد دوئم ص ۱۷۸، میں بہت سی حدیثیں نقل ہوئی ہیںکہ یہ آیت حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ اور ان کے وعدہ ظہور و قیام کے بارےمیں ہے کیونکہ اقتدار و استقلال ، سکون قلب اور خوف کے عوض امن و امان صرف اسی دور میں ہوگا۔ اور یہی وہ وقت ہوگا جب امام زمانہؑ ظاہر ہوں گے ۔ اس مقام پر حضرت رسول خداﷺ سے بکثرت ایسی حدیثیں مروی ہیں جو عقلی دلائل و شواہد کی حامل ہیں اور سبھی حضرت صاحب الزمان کے ظہور پر دلالت کررہی ہیں۔ مفسر قرآن عیاشی نے متعدد اسناد کے ساتھ حضرت امام علی ابن الحسین علیہما السلام سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت قیام مہدی آل محمدؐ کی بشارت ہے۔ 
جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ جب آیت  :  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۔( سورہ نساء آیت ۵۹) نازل ہوئی تو میں نے کہا یارسول اللہﷺ ! خداوندا رسولؐ کو تو جانتا ہوں اور ان کی اطاعت کرتا ہوں لیکن اولی الامر کون ہیں جن کی اطاعت کو خدا نے اپنی اور آپ کی اطاعت سے ملحق اور دونوںکو ایک دوسرے سے وابستہ قرار دیا ہے ؟ تو آنحضرتﷺ نے فرمایا اے جابر! اولی الامر میرے بعد میرے جانشین اور مسلمانوں کے امام ہیں ان میں کے پہلے علی ابن ابی طالبؑ ان کے بعد حسنؑ ان کے بعد حسینؑ، ان کے بعد علی ابن الحسینؑ، ان کے بعد محمد بن علیؑ جو توریت میں باقرؑ کے قلب سے معروف ہیں اور تم ان کو دیکھو گے یعنی اس زمانے تک زندہ رہوگے۔ اے جابر! جب تم ان کو دیکھنا تو انہیں میرا سلام پہنچا دینا۔ ان کے بعد صادق جعفر ابن محمدؑ، ان کے بعد موسیٰ بن جعفرؑ ، ان کے بعد علی ابن موسیٰؑ ، ان کے بعد محمد ابن علیؑ ، ان کے بعد علی ابن محمدؑ ، ان کے بعد حسنؑ ابن علیؑ اور ان کے بعد ان کے فرزند ہیں جو میرے ہمنام اور میرے ہم کنیت ہیں۔ یہی وہ امام ہیں جن کے ہاتھوں پر خدا مشرق و مغرب عالم کو فتح کرے گا۔ وہ اپنے شیعوں سے غیبت اختیار کریں گے اور وہ غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ اس کی وجہ سے لوگ ان کی امامت میں شک کریں گے سوا ان لوگوں کے جن کے دلوں کا خدا ایمان کے ساتھ امتحان لے چکا ہوگا۔ ( تفسیر الصافی جلد اول ص ۳۶۶)
۲؎ سورہ قصص آیت ۵: وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ﴿٥﴾  ۔
یعنی ہمارا ارادہ ہے کہ ان پر احسان کریں جو روئے زمین پر کمزور سمجھ لئے گئے ہیں اور انہیں امام و پیشوا بنائیں اور انہیں زمین کا وارث قرار دیں۔ 
 مندرجہ ذیل اسناد کےمطابق یہ آیت بھی امام عصرؑ کے ظہور کی بشارت دے رہی ہے۔ 
 روایات اصول کافی اور تفسیر عیاشی میں امام محمد باقرؑ سے روایات معانی الاخبار میں امام جعفر صادقؑ سے روایات شیخ صدوقؒ اور نہج البلاغہ میں، اسی طرح بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۳ ۔۔۔ روایت ۳۷ اور کتاب الغیبتہ شیخ طوسیؒ میں حضرت امیر المومنینؑ سے اس آیت کی تاویل میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا جو لوگ روئے زمین پر ضعیف سمجھ لئے گئے ہیں وہ آل محمدؐ ہیں چنانچہ خدا ان کے مہدیؑ کو مبعوث کرکے انہیں عزت و احترام عطا فرمائے گا اور ان کے دشمن ذلیل و خوار ہوں گے ( تفسیر صافی جلد ۲ ص۲۵۳)
 نیز شیخ طوسیؒ نے کما ل الدین میں امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا، یہ آیت قائم آل محمد ؐ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ یہ وہی آیت ہے جب حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنی ولادت کے ساتویں روز اپنے پدر بزرگوار کے سامنے تلاوت کیا۔( تفسیر صافی جلد ۲ ص۲۵۳)
 ۳؎ سورہ انبیاء آیت ۱۰۵: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ﴿١٠٥﴾ 
یعنی بتحقیق ہم نے توریت کے بعد زبور میںلکھ دیا ہےکہ یقیناً ساری زمین کے وارث ہمارے نیک اور صالح بندے ہوں گے۔ 
 تفسیر مجمع البیان میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہےکہ آپ نے فرمایا ، اس آیت میں صالح بندوں سے مراد آخری زمانے میں حضرت قائم کے اصحاب ہیں۔ 
نیز تفسیر صافی جلد ۲ ص۱۰۷، میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ اس آیت میں بندگانِ صالح حضرت قائم اور آپ کے اصحاب ہیں۔
۴؎۔ سورہ حج،  آیت ۴۱: الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ﴿٤١﴾
یعنی جو لوگ مدد کرتے ہیں وہ ایسے ہیں کہ اگر ہم انہیں روئے زمین پر تمکن اور اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کریں گے اور ( سوا خدا کے کسی سے نہ ڈریں گے کیونکہ جانتے ہیںکہ ) تمام امور کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔ 
 تفسیر الصافی جلد ۲ ص ۱۲۶، میں امام محمد باقر علیہ السلام کے قول سے منقول ہے کہ یہ آیت حضرت مہدی ؑ اور آپ کے اصحاب و انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ خدائے تعالیٰ دنیا کے مشرق و مغرب کو ان کے تصرف میں لائے گا ، دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہوگا اور عدالت اس طرح سے سارے عالم پر چھا جائے گی کہ ظلم و ستم کا کوئی اثر باقی نہ رہے گا۔ 
 نیز علامہ مجلسیؒ نے بحار الانوار جلد سوم میں حضرت امام جعفرؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ آیت مہدیؑ آل محمدؐ اور آپ کےا صحاب کی شان میں ہے جو شرق و غرب عالم کے مالک ہوں گے۔ حیات القلوب جلد سوم میں بھی امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت مہدیؑ اور ان کے اصحاب کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ 
۵؎  سورۂ اعراف آیت ۱۲۸:إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ 
یعنی در حقیقت تمام زمین خدا کی ملکیت میں ہے۔ اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا فرتا ہے اور انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہے۔ 
 ( تفسیر عیاشی میں امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادقؑ سے جو روایتیں اس آیت کی تفسیر میںمنقول ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا ہے وہ رسولؐ کا ہے اور جو کچھ رسول کا ہے وہ آپ کے بعد امام کا ہے اور اس طرح وراثت زمین کا سلسلہ حضرت قائم آل محمدؐ تک پہنچے گا مترجم)
خ خ خ 

ولایت امیرالمومنین پر عقلی و نقلی دلائل

ولایت امیرالمومنین پر عقلی و نقلی دلائل
حجۃالاسلام سید حسن مومنی
اسلام کی مقدس شریعت میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے عقلی دلیل سے استفادہ کیا جاتا ہے یا پھر نقلی دلیل کے طور پر قرآن مجید کی آیات ، رسول خدا کی سنت اور ائمہ معصومین کے ارشادات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
احکام شرعی کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عقلی اور نقلی دلائل میں سے کسی ایک دلیل سے استفادہ کیا جائے۔
اس مضمون میں ہمارا جو دعویٰ ہے اسے مذکورہ دلیلوں سے ثابت کرنا چاہتے ہیں ، ہمارا دعویٰ ہے کہ رسولﷺ کے بعد علی بن ابی طالب  علیہ السلام کے علاوہ کسی شخص میں رسول کی جانشینی کی صلاحیت نہیں تھی ۔
اپنے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے ہمارے پاس دلیل عقلی موجود ہے ،قرآن کریم کی آیات بھی موجود ہیں ، اور رسول کی احادیث بھی موجود ہیں ۔
ولایت امیرالمومنین علیؑ پر عقلی دلیل
مقدمہ:ہم اگر شیعہ ہیں اور مجتہد نہیں ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم فروع دین میں کسی مجتہد کی تقلید کریں ،لیکن اصول دین میں تقلید نہیں ہے ہر کسی کو چاہئے کہ اپنے علم کے اعتبار سے اصول دین پر دلیل قائم کرے جتنا بھی علم ہو اسی اعتبار سے غور وفکر کرے اور اصول دین کو سمجھے۔ 
اہل سنت کے ایک سابق عالم دین کہتے ہیں :میں وہابیوں کی تفسیری کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا جب میں اس آیۂ مبارکہ (یَااَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ)(١)پر پہنچا تو میں نے دیکھا اس کی تفسیر کے ذ یل میں لکھا ہے : (وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ . .)سے مراد علی بن ابی طالبؑ ہیں۔یہ پڑھتے ہی میرا دماغ خراب ہو گیا، میں الجھن میں پڑ گیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے عقائد کی بنیاد ہی خراب ہے !اور ہمارے عقائد سرے سے باطل ہیں!۔
خدا وندعالم نے مسلمانوں کو دو نعمت اور دوحجت سے نوازا ہے :
١۔ حجت باطنی 'عقل ۔ ٢۔حجت ظاہری 'رسول خدا ؐ۔
خداوندعالم نے حجت ظاہری (رسول خدا) کو اس لئے بھیجا تا کہ حجت باطنی (عقل )سے مل کردونوں ایک دوسرے کو مکمل کریں اس لئے کہ باطنی حجت کے ذریعہ ہی ظاہری حجت کو سمجھا جا سکتا ہے ۔
چنانچہ وہ سابق عالم اہل سنت جو اب شیعہ ہو گئے ہیں ،کہتے ہیں : میں نے اپنی باطنی حجت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بہت غوروفکر کیا اور میں نے سوچ لیا کہ مجھے نہ آیات سے مطلب ہے اور نہ ہی روایات سے سروکار ہے ،میرے پاس خدا کی دی ہوئی نعمت عقل ہے میں صحیح اور غلط کو پرکھ سکتا ہوں ۔
وہابیوں کے پاس بہت ساری کتابیں ہیں جن میں ان کے عقائد لکھے ہوئے ہیں اور وہابیوں کے بچے ان عقائد کی کتابوں کو چھ سال کی عمر سے طوطے کی طرح رٹتے ہیں اور میں بھی یہی بچپن سے سنتا اور پڑھتا چلا آرہا ہوں کہ :رسول ۖ اکرم جب اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر نہیں فرمایا !اور وہابی بھی اسی بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور ان کا اصل عقیدہ بھی یہی ہے ،اگر وہابیوں کو یقین ہو جائے کہ ان کا عقیدہ (کہ رسول نے اپنے بعد کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا ) باطل ہے تو وہابیوں اور ان کے ساتھ جو بھی باطل عقائد ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔
وہ سنی عالم دین کہتے ہیں :میں نے اپنی عقل پر زور ڈالا اور بہت غوروفکر کیا اور غور وفکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہونچا کہ جب ایک رئیس اپنی کرسی چھوڑ تا ہے ،جب ایک بادشاہ اپنی بادشاہت چھوڑتا ہے تو اپنی زندگی میں کسی نہ کسی کو اپنا جانشین مقرر کرتا ہے تاکہ وہ اس کے بعد اس کے تمام امور کو بخوبی انجام دے سکے ،پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ رئیسوں کے رئیس،بادشاہوں کے بادشاہ رسول اکرم ؐاپنی حیات طیبہ میں اس اہم ترین بات کی طرف متوجہ نہ ہوئے ہوں ؟!۔یہیں سے وہابیوں کا عقیدہ متزلزل ہوتا ہوا نظر آتا ہے کہ رسول خداؐ نے اپنے بعد وصی مقرر فرمایا یا نہیں ؟!۔
اب میں وہ دلائل پیش کرنے جا رہا ہو جس کہ وجہ سے میں سنی سے شیعہ ہوا:
لہٰذا یہ سوچنے کے بعد میری عقل نے اس بات کو بالکل قبول نہیں کیا کہ رسولؐ نے اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں فرمایا ہوگا۔یقینا رسول نے اپنے بعد کسی نہ کسی کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا اب میرے لئے ضروری ہے کہ میں تحقیق کروں کہ رسول نے کس کو اپنی جانشینی کے لئے مقرر فرمایا ؟۔
اس مقام پر میں نے اپنے آپ سے کہا : رسولخدا ؐکا جانشین وہی بن سکتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی میں گناہ کرنا تودور گناہ کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہ ہو اور اس کا کوئی عمل اسلام کے مخالف نہ ہو ۔
اب میںاس بات کی تحقیق کرنے لگا کہ دیکھوں کون کون ہے جو یہ چاہتا ہے کہ رسولخدا ؐکا جانشین بنے اور کس کو رسول خداؐ اپنا خود جانشین بنانا چاہتے تھے ،میںحضرت ابوبکر کے پاس پہونچا اور ان سے پوچھا: کیا آپ مجھے اپنے والدین کے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں ؟۔
اچھا ابھی اس بات کو چھوڑیئے ، آپ یہ بتایئے کہ آپ نے کئی برسوں تک بت پرستی کی یا نہیں کی؟آپ بت پرست تھے یا نہیں تھے ؟۔ 
حضرت ابوبکر نے کہا : ہاں میں نے بت پرستی کی میں برسوں تک بت پرست رہا ہوں ۔
آپ کے والدین کیا تھے ؟انہوں نے کہا : میرے والدین بھی بت پرست تھے ۔
یعنی آپ کی پوری زندگی گناہوں سے بھری پڑی ہے ۔
اچھا یہ بتائیے آپ شجاعت اور میدان جنگ میں کیسے تھے؟ جب رسولؐ نے فرمایا جاؤ عمرو بن عبدود سے جنگ کروتو آپ کہا ں تھے ؟۔
حضرت ابوبکر: میں میدان چھوڑ کر بھاگ گیا تھا . ان واقعات سے معلوم ہوا کہ ابوبکر نے اسلام میں کوئی بھی قابل قدر کام انجام نہیں دیا ۔
اب دوسرے کے پاس پہونچا یعنی حضرت عمر بن خطاب :
تو انھوں نے بھی مذکورہ سوالات کے جواب میں پس و پیش کا مظاہرہ کیا ،ان کی زندگی بھی حضرت ابوبکر سے مختلف نہیں تھی یعنی انھوں نے بھی رسول خدا ؐکی زندگی میں اسلام کی ترقی اور کامرانی کے لئے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا تھا ۔
اب آیئے ذرا امیرالمومنین علیہ السلام کی بارگاہ میں چلیں اور ان سے سوال کریں:یا امیرالمومنین آپ کے والد کون تھے ؟
علی نے فرمایا:ابوطالب ،مومن قریش،بزرگ مکہ،وہ کہ جس کے پاس خانۂ خدا کی کنجی رہتی تھی ۔
آپ کی والدہ کون تھیں؟۔ 
علی ؑنے فرمایا : فاطمہ بنت اسدؑ، وہ مومنہ عورت کہ جب ان کا پسر علی ؑاس دنیا میں آنے والا تھا توخدا نے ان کے لئے اپنا گھر کھول دیا کعبہ کی دیوار شگافتہ ہوئی اور فاطمہ بنتؑ اسد اندر تشریف لے گئیں اور علی ؑکی خانہ خدا میں ولادت ہوئی ، حالانکہ جب جناب عیسیؑ دنیا میں تشریف لانے والے تھے اور ان کی ماں جناب مریم جیسے ہی خانہ خدا کے قریب آئیں تو خانہ خدا نے ان سے خود کہا یہاں سے دور چلی جائو۔
شجاعت کے میدان میں ؟ علیؑ وہ ہیں جنہوں نے کبھی بھی جنگ میں اپنی پشت پر زرہ نہیں ڈالی علی ؑوہ ہیں جنہوں نے عمر وبن عبدود کے غرور کو چورکیا اور اس کو دھول چٹائی .علیؑ وہ ہیں جو شب ہجرت اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر نبی ۖ کے بستر پر سو گئے . . . .وغیرہ۔
میں نے دیکھا کہ حضرت علی کی پوری حیات طیبہ میں یا آپ کے والدین کی حیا ت طیبہ میں ایک چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اسلام کے مخالف نہیں ہے،اسی وقت میں نے بے اختیار کہا (اشھد أن علیاً ولی اللّٰہ)۔
ولایت علی ابن ابی طالب علیہما السلام پر عقلی دلیل 
ابن ابی الحدید نے کتاب شرح نھج البلاغہ کے مقدمات میں قرآن مجید سے چالیس آیات لکھی ہیں جو امیرالمومنینؑ کی شان میں نازل ہوئی ہیں ، اور مرحوم کمپانی نے بھی اپنی کتا ب (علی کیست ؟)میں انہیں چالیس آیات کا ذکر کیا ہے جو امام علی کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔اور اہل سنت کے بعض علماء نے بھی اپنی کتاب میں ان آیات کا ذکر کیا ہے جو حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہیں (شواھدالتنزیل) حاکم حسکانی کی کتا ب ہے اور کتاب ( مانزل من القرآن فی علی) میں جس کو اہل سنت کے ایک بزگ عالم دین حافظ ابو نعیم اصفہانی شافعی نے لکھاان کی وفات ٤٣٠ھ میں ہوئی . اہل سنت حضرات کی بہت سی کتا بیں ہیں جس میں ان آیات کا ذکر ہے جو علی ؑکی شان میں نازل ہوئی ہیں یا ان آیات کا ذکر ہے جن میں حضرت علیؑ کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔
حضرت علی کی شان میں نازل ہونے والی آیات میں سے ایک آیت وہ ہے جس میں خدا وندعالم نے اپنے عذاب کا ذکر بھی فرمایا ہے۔
اس آیت کا شا ن نزول یہ ہے کہ ایک شخص رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوااور بلند آواز کے ساتھ رسول سے مخاطب ہوا اور اعتراض کرنے لگا : یا رسول اللہ آپ نے ایسا کیوں فرمایا کہ آپ کے بعد علی آپ کے جانشین ہوں گے ؟ ! ۔
( غدیر کے خطبہ میں رسول اکرم نے فرمایا تھا : میں نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا اے خدا مجھے معاف فرما دے کہ میں ابھی مسلمانو ں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ علی میرے وصی ہیں !کیوں کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ جلد ہی اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے ہیں علی کے فضائل انھیں ہضم نہیں ہوں گے )۔ 
اس شخص نے خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اگر یہ بات سچ ہے کہ رسول کے بعد میرے لئے ضروری ہے کہ علی کی پیروی کروں تو اے خدا آسمان سے میرے لئے عذاب نازل کر تاکہ وہ مجھے ہلاک کر دے اسی وقت آسمان سے دشمن علی کے لئے عذاب نازل ہوا اور وہ شخص واصل جہنم ہوگیا۔ سورۂ معارج کی ابتدائی آیات اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں : (سَأَلَ سَائِل بِعَذَابٍ وَاقِعٍ، وَ لِلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَہُ دَافِع)یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اکرم نے لوگوں سے ظاہری طور سے فرمایا تھا میرے بعد علی میرے جانشین ہیں اور علی کے بعد اولاد علی ان کے جانشین ہیں .
ولایت امیرالمومنین علیہ السلام کا اثبات ؛روایات کی روشنی میں 
رسول اکرمؐ کی زبان سے حضرت علیؑ کی حقانیت بیان ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ سوائے علی بن ابی طالب کے کوئی اور رسول کی جانشینی کا حقدار نہیں ہے ، اور اہل سنت کی معتبر کتابوں میں بھی خطبہ غدیر کا ذکر ہے ۔ 
غدیر کے دن رسول نے لوگوں سے فرمایا : ہم اس جگہ تین دن قیام کریں گے لہٰذا جہا ں کھڑے ہو وہاں صفائی کرو کیوں کہ اب لازم ہے اور یہی صحیح و قت بھی ہے کہ لوگ علی کی بیعت کریں خطبہ سے پہلے (صاف صفائی اور جگہ کی آماد گی ) اور خطبہ کے بعد کے واقعات اس بات کے قرائن ہیں کہ ’’مولیٰ‘‘  کا مطلب امامت اور ولایت ہے ؛جیسے رسول نے دو خیمہ نصب کروائے :ایک خیمہ میں رسول تشریف فرما تھے ، اور دوسرے خیمہ میں امام علی تشریف فرما تھے الگ الگ خیمے میں رسول اس لئے بیٹھے تھے تاکہ لوگ پہلے رسول اکرم کے خیمے میں ان سے عھد کریں کہ ہم آپ کے بعد علی کو آپ کا جانشین مانتے ہیں پھر رسول کے خیمے سے نکل کر امام علی کے خیمے میں جا کر امام علی کی بیعت کریں،سبھی نے بیعت کی یہاں تک کہ عورتوں نے بھی امام علی کی بیعت کی ۔ دوسرااہم قرینہ جو غدیر کے دن ہوا وہ یہ ہے کہ رسول خداﷺ نے اپنا عمامہ امام علی کو اپنے ہاتھو ں سے پہنایا تھا :
مرحوم علامہ مجلسی اپنی کتا ب بحارالانوار(٢) میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اکرم نے امام علی کو لوگوں کا امام ،خلیفہ اوررہبر مقرر فرمایا تو اس وقت خود اپنا عمامہ جس کا نام (سحاب)تھا علی کے سر پر رکھا جس طرح روم اور ایران میں تاج پوشی کی جاتی تھی تو اپنا تاج اپنے جانشین کو پنہاتے تھے اسی طرح رسول اکرم نے بھی اپنا تاج امام علی کے سر پر رکھا۔
اس وقت جبرئیل نازل ہوئے اور رسول سے فرمایا : خدا کی قسم آج کے دن جیسا میں نے کوئی دن نہیں دیکھا ،آپ نے اپنے چچیرے بھائی کا کام کتنا محکم کر دیا ہے ، اس کے لئے آپ نے عمامہ گزاری کی اور لوگوں سے عہد وپیمان لیا، اب کافر کے سوا،خدا اور اس کے محترم رسول کا عہد وپیمان کوئی نہیں توڑے گا .لعنت ہو اس پر جو رسول کے عہدو پیمان کو توڑے۔
عمامہ گزاری کا واقعہ اہلسنت حضرات کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔(٣)
خطبہ غدیر کے متن پر ایک نظر
اسلام کے محترم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے خطبہ غدیر کے آغاز میں خداوندعالم کی حمد وثنا کے بعد فرمایا : اگر کوئی چاہتا ہے کہ ولایت علی کو قبول کرے تو خدا پر اس کا ایما ن محکم ہونا چاہئے تب اس کا دل ولایت علی کو قبول کرے گا ورنہ نہیں، اور اگر کسی شخص نے ولایت علی کو قبول نہیں کیا تو وہ مومن نہیں ہے ۔
اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : خدا نے یہ آیت مجھ پر نازل فرمائی:(یَا اَیُّھَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکْ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ)۔(٤) 
اور اس کے بعدرسول اکرم فرماتے ہیں: (جوکچھ بھی خدا وندعالم نے مجھ پر نازل کیا ہے میں نے وہ سب تم تک پہنچانے میںکوئی کوتاہی نہیںکی ہے، اب میں اس آیت کی شان نزول تم سب کو بتا تا ہوں : جبرئیل خدا کے حکم سے مجھ پر نازل ہوئے اور خدا کے سلام کے بعد مجھ سے کہا کہ خدا وندعالم کا حکم ہے کہ اس جگہ ہر ایک کالے گورے کے لئے اعلان کر دیجئےکہ علی میرے بھائی، میرے بعد میرے وصی ،خلیفہ، امام اور جانشین ہوں گے ان کی نسبت مجھ سے ویسی ہی ہے جیسی ہارون کی نسبت موسیٰ سے تھی )۔(۵)
رسول ﷺ نے فرمایا : جب جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے تو میں نے جبرئیل سے کہا: میں اس جگہ علی کی ولایت کا اعلان نہیں کر سکتا تو جواب میں آیۂ تبلیغ نازل ہوئی ،میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ میں یہ پیغام لوگوں تک ابھی نہیں پہنچاسکتا کیوں کہ اس میں پرہیزگار بہت کم ہیں زیادہ تر منافقین اور سازشیں کرنے والے اور مذاق اڑانے والے ہیں، میں جانتا ہوں نیک لوگ کم ہیں برے لوگ زیادہ۔ 
کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول خدا، امام علی کی ولایت کا اعلان کیوں نہیں کر رہے تھے ؟۔ 
واقعہ غدیر کے بعد ، رسول اور امام علی دونوں ایک ساتھ تھے ، رسول نے اپنے دائیں اور بائیں جانب دیکھا پھر امام علی کو سینہ سے لگا لیا اور گریہ کرنے لگے ،علی نے عرض کی : یا رسول اللہ!آ پ کیوں گریہ کر رہے ہیں ؟ رسول نے فرمایا : ائے علی میں دیکھ رہا ہوں جو کینہ تمہارے لئے لوگوں کے سینہ میں ہے وہ ایک خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے ۔
پھر فرمایا : ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ ولایت علی کو قبول کرے :اے لوگو! جان لوکہ خدا نے علی کو تمہارا امام اور پیشوامقرر فرمایا ہے انصار اور مہاجرین ہر ایک پراما م علی کی اطاعت واجب ہے ،چاہے وہ گائوں میں رہتے ہوں یا شہر میں ، عرب میں ہوں یا عجم میں ،آزاد ہوں یا قید ، چھوٹے ہوں یا بڑے۔(۶)
پھر فرمایا : اے لوگو! علی کو فوقیت دو کیوںکہ خداوندعالم نے علی کو فوقیت دی ہے،اور علی کی ولایت کو قبول کرو کیونکہ خدا وندعالم نے علی کو یہ منصب عطافرمایا ہے ،۔(۷)
بی بی فاطمہ زہراؐ فرماتی ہیں : اگر تم دیکھنا چاہتے ہو کہ خدا نے تم کو اپنی نعمتوں سے نوازا ہے یا نہیں تو دیکھو تمہارے دل میں علی کی محبت ہے یا نہیں اگر تمہارے دل میں امام علی کی محبت نہیںہے تو تم خدا کی نعمتوں سے دور ہو ۔
پھر بی بی فرماتی ہیں : علی خدا کی طرف سے امام اورخلیفہ مقرر کئے گئے ہیں ۔
ہر وہ شخص جو ولایت علی کا منکر ہے خدا اس کی دعا قبول نہیں کرے گا اور اس کی مغفرت نہیں کرے گا۔(۸)
پھر رسولؐ فرماتے ہیں : اے لوگو علیؑ کو مقدم رکھو کیوں کہ میرے بعد اس عالم میں تمام مرد اور عورت میں علی افضل ترین ہیں، خدا علی کے ہی وسیلہ سے لوگوں کو رزق عطا فرماتا ہے اور علی کی وجہ سے تمام مخلوقات زندہ ہیں ۔(۹)
پھر رسول فرماتے ہیں:ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جس نے میری بات کو قبول نہیں کیا اور خدا اس پر عذاب نازل فرمائے گا جس نے میری اس بات کو جھٹلایا ۔
جبرئیل نے خد اکی جانب سے مجھے اس کام پر مامور فرمایا ہے اور کہا ہے کہ جس نے علی سے دشمنی کی اور علی کے لئے ذرا بھی کینہ دل میں رکھا اس پر اللہ کی لعنت اورعذاب نازل ہوگا ۔
رسول نے اپنے اصحاب سے فرمایا :اگر تم چاہتے ہو کہ مالدار ہوجائو تو علی کے چہرہ کی زیارت کیا کرو۔(۱۰)
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ رسول اکرمؐمسجد میں تشریف فرماتھے اور امام علیؑ آپ کے پاس بیٹھے تھے، علی نے رسول کی خدمت میں عرض کیا : آپ میرے لئے خدا سے دعا کیجئے کہ خدا میرے گناہوں کو معاف فرما دے ۔ رسول اکرم نے دعا کی: خدا یا !تجھ کو علی کا واسطہ علی کے گناہوں کو بخش دے۔(۱۱)
حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے خدا کی بارگاہ میں میرے وسیلے سے دعا کیوں فرمائی ؟۔رسول اکرم نے فرمایا : کیونکہ میں نے خدا کی بارگاہ میں تم سے زیادہ محبوب تر کسی کو نہیں پایا ۔(مصباح الہدی)
حوالہ جات :(۱)مائدہ ٦٧۔(۲)بحارالانوار 'ج ٣٨'ص٢٠و١٦٧۔(۳)برگذیدہ الغدیر:٨٢ ٨٣۔(۴)مائدہ ٦٧۔ (۵)احتجاج طبرسی١:٧٣؛(۶)بحارالانوار٣٧:١٣١۔(۷)روضۃالواعظین : ٩٢ ؛(۸)الاحتجاج٢:١٤٢.(۹)شرح احقاق الحق ٧:٨٧؛(۱۰)شواہدالتنزیل٢ :١٠٧؛(۱۱)شرح نہج البلاغۃ،ابن ابی الحدید٢٠:٣١٦.ژ ژ ژ

نفاق کی تاریخ

نفاق کی تاریخ
آیۃاللہ سید احمد خاتمی
مشہور نظریہ: نفاق کے وجودوآغاز کے سلسلہ میں مشہورومعروف نظریہ یہ ہے کہ نفاق کی بنیاد مدینہ میں پڑی،اس فکر ونظر کی دلیل یہ ہے کہ مکہ میں مسلمین بہت کم تعداد اور فشارمیں تھے ،لہذا کم تعداد افراد سے مقابلے کے لئے ،کفار کی طرف سے منافقانہ ومخفیا نہ حرکت کی کو ئی ضرورت نہیں تھی ،مکہ کے کفار ومشرکین علی الاعلا ن آزار و اذیت، شکنجہ و تکلیف دیا کر تے تھے ۔
 عظیم الشان پیامبر اسلام حضرت محمد مصطفےﷺ کے مدینہ ہجرت کرنے کی بنا پر اسلام نے ایک نئی کروٹ لی ،روز بروز اسلام کے اقتدار وطاقت ،شان وشوکت میں اضافہ ہو نے لگا ،لہذا اس موقع پربعض اسلام کے دشمنو ں نے اسلام کی نقاب اوڑھ کر دینداری کا اظہار کر تے ہو ئے اسلام کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش شروع کردی،اسلام کا اظہار اس لئے کر تے تھے تا کہ اسلام کی حکو مت وطاقت سے محفو ظ رہ سکیں،لیکن باطن میں اسلام کے جگر خوار وجانی دشمن تھے ،یہ نفاق کا نقطۂ آغاز تھا،خاص کر ان افرادکے لئے جن کی عملداری اورسرداری کو شدید جھٹکا لگا تھا ،وہ کچھ زیادہ ہی پیغمبر اکرم ﷺ اوران کے مشن سے عناد و کینہ رکھنے لگے تھے ۔
عبداللہ ابن ابی ّانہی منافقین میں سے ایک تھا ،رسو ل ؐاسلام کے مدینہ ہجرت کرنے سے قبل اوس و خزرج مدینہ کے دو طاقتو ر قبیلہ کی سرداری اسے نصیب ہونی تھی، لیکن بد نصیبی سے واقعۂ ہجرت پیش آنے کی بنا پرسر داری کے یہ تمام پروگرام خاکستر ہو کر رہ گئے،بعد میںگر چہ اس نے ظاہراً اسلام قبول کرلیا ،لیکن رفتاروگفتار کے ذریعہ ،اپنے بغض وکینہ ،عناد و عداوت کا ہمیشہ اظہار کر تا رہا ،یہ مدینہ میں جما عت نفاق کا رئیس وافسر تھا،قرآن مجید کی بعض آیات میں اس کے منافقانہ اعمال و حرکات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
جب پیغمبر اکرمﷺ مدینہ وارد ہوئے، اس نے آپؐ سے کہا: ہم فریب میں پڑ نے والے نہیں ،ان کے پاس جائو جو تم کو یہاں لائے ہیں اور تم کو فریب دیا ہے،عبداللہ ابن ابی ّ کی اس ناسزا گفتگو کے فوراً بعد ہی سعدبن عبادہ رسول اسلام ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے عرض کی آپ غمگین و رنجیدہ خاطر نہ ہو ں ،اوس وخزرج کاارادہ تھا کہ اس کواپنے اپنے قبیلہ کا سردار بنا ئیں گے،لیکن آپ کے آنے سے حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ،اس کی فرمان روائی سلب ہو چکی ہے ،آپ ہمارے قبیلے خزرج میں تشریف لائیں ،ہم صاحب قدرت اوربا وقارافراد ہیں(اعلام الوری ،ص۴۴،بحار الانوار ،ج۱۹ ،ص۱۰۸ ۔)
اس میں کو ئی شک نہیں کہ نفاق کامبدا ایک اجتماعی ومعاشرتی پر و گرام کے تحت مدینہ ہے،نفاقِ اجتماعی کے پرو گرام کی شکل گیری کا اصل عامل حق کی حاکمیت و حکومت ہے ،جو پہلی مرتبہ مدینہ میں تشکیل ہو ئی ،پیامبر عظیمؐ الشان کا مدینہ میں وارد ہو نا واسلام کا روزبروز قوی ومستحکم ہو نا باعث ہوا کہ منافقین کی مرموز حرکات وجود میں آئیں ،البتہ منافقین کی یہ خیانت کارانہ حرکتیں پیغمبر اکرم  ؐکی جنگو ں میں زیادہ قابل لمس ہیں ۔
قرآن مجید میں بطور صریح جنگ بدر ،احد،بنی نظیر ،خندق وتبوک نیز مسجد ضرار کے سلسلہ میں منافقین کی سازشیں بیان کی گئی ہیں ۔
مدینہ میں جماعت نفاق کے منظم ومرتب پرو گرام کے نمونے ،غزوہ تبوک کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم ؐ کے لئے مشکلا ت کھڑ ی کرنا ،مسجد ضرار کی تعمیرکے لئے،چال بازی و شعبدہ بازی کا استعمال کر نا ۔
پیامبرؐ اسلام کا غزوۂ تبوک کے لئے اعلان کر نا تھا کہ منافقین کی حرکا ت میں شدت آگئی،غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منافقانہ حر کتیں اپنے عروج پر پہنچ چکی تھیں،مدینہ سے تبوک کا فاصلہ تقریباً ایک ہزارکیلو میٹر تھا ،موسم بھی گرم تھا ،محصول زراعت وباغات کے ایام تھے ،اس جنگ میں مسلمانوں کے مدّ مقابل روم کی سو پر پاور حکومت تھی،یہ تمام حالات منافقین کے فیو ر (موافق)میں تھے ،تا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو جنگ پر جانے سے روک سکیں ،اور انھوں نے ایسا ہی کیا ۔
منافقین کے ایک اجتماع میں جو سویلم یہودی کے یہاں برپا ہوا تھا ،جس میں منافق جماعت کے بلند پایہ ارکان موجود تھے ،طے یہ ہو ا کہ مسلمانوں کو روم کی طاقت وقوت کا خوف دلایا جائے ،ان کے دلوںمیں روم کی ناقابل تسخیر فو جی طاقت کا رعب بٹھایا جائے ۔
اس جلسہ اور اہداف کی خبر پیامبرؐ اسلام کو پہنچی ،آپ نے اسلام کے خلاف اس سازشی مرکز کو ختم نیز دو سروں کی عبرت لئے حکم دیا، سویلم کے گھر کو جلادیا جائے آپ نے اس طریقہ سے ایک سازشی جلسہ نیز ان کے ارکان کو متفرق کرکے رکھ دیا (سیرت ابن حشام ،ج۲ ،ص۵۱۷ ،منشور جاوید قرآن،ج۴ ،ص۱۱۲۔) 
مسجد ضرار کی تعمیر کے سلسلہ میں نقل کیا جاتا ہے کہ منافقین میںسے کچھ افراد رسول اکرمؐ  کی خدمت میں حاضر ہو ئے ،ایک مسجد  قبیلۂ بنی سالم کے در میان مسجد قبا کے نزدیک بنانے کی اجازت چاہی ،تا کہ بو ڑھے ،بیمار اور وہ جو مسجد قبا جانے سے معذورہیں خصوصاً بارش کی راتوں میں ،وہ اس مسجد میںاسلامی فریضہ اورعبادت الہی کو انجام دے سکیں ،ان لوگوں نے تعمیر مسجد کی اجازت حاصل کر نے کے بعد رسول اسلامؐ سے افتتاح ِمسجد کی در خواست بھی کی ،آپ نے فرمایا: میں ابھی عازم تبوک ہوں واپسی پر انشاء اللہ اس کام کو انجام دوں گا ،تبوک سے واپسی پر ابھی آپ مدینہ میں داخل بھی نہ ہوئے تھے کہ منافقین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسجد میں نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کی،اس موقع پر وحی کا نزول ہوا  (سورہ توبہ ، ۱۰۷کے بعد کی آیتیں۔)جس نے ان کے افعال واسرار کی پول کھول کررکھدی،پیغمبر اکرم ؐنے مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے تخریب کا حکم دیا تخریب شدہ مکان کو شہر کے کوڑے اورگندگی ڈالنے کی جگہ قرار دیا ۔
اگر اس جماعت کے فعل کی ظاہری صورت کا مشاہدہ کریں تو پیامبر ؐکے ایسے حکم سے حیرت ہو تی ہے لیکن جب اس قضیہ کے باطنی مسئلہ کی تحقیق و جستجو کریں تو حقیقت سامنے آتی ہے ،یہ مسجد جو تخریب ہو نے کے بعد مسجد ضرار کے نام سے مشہور  ہوئی ،ابو عامر کے حکم سے بنائی گئی تھے ،یہ مسجد نہیں بلکہ جاسوسی اورسازشی مرکز تھا،اسلام کے خلاف جاسوسی وتبلیغ اور مسلمانوں کے در میان تفرقہ ایجاد کرنااس کے اہداف ومقاصد تھے ۔
ابو عامر مسیحی عالم تھا زمانۂ جاہلیت میں عبّاد وزہّاد میں شمار ہو تا تھا اور قبیلۂ خزرج میں وسیع عمل ودخل رکھتا تھا ،جب مرسل اعظم نے مدینہ ہجرت فرمائی مسلمان آپ کے گرد جمع ہو گئے خصوصاً جنگ بدر میں مسلمانوں کی مشرکوں پر کامیابی کے بعد اسلام ترقی کر تا چلا گیا ،ابو عامر جو پہلے ظہور پیامبرؐ کا مژدہ سنا تا تھا جب اس نے اپنے اطراف و جوانب کو خالی ہو تے دیکھا اسلام کے خلاف اقدام کرنا شروع کردیا،مدینہ سے بھا گ کر کفار مکہ اوردیگر قبائل عرب سے ،پیغمبر اسلام ؐکے خلاف مدد حاصل کر نی چاہی ،جنگ احد میں مسلمانوں کے خلاف پروگرام مرتب کر نے میں اس کا بڑا ہاتھ تھا ، دونوں لشکر کی صفوں کے در میان میں خندق کے بنائے جانے کا حکم اسی کی طرف سے تھا ،جسمیں پیامبرؐ اکرم گر پڑے آپ کی پیشانی مجروح ہو گئی دندان مبارک ٹوٹ گئے، جنگ احدکے ختم ہو نے کے بعد، با وجود اس کے کہ مسلمان اس جنگ میں کافی مشکلات وزحمات سے دو چار تھے،اسلام مزید ارتقا کی منزلیں طے کرنے لگا صدائے اسلام پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہو نے لگی ابو عامر، یہ کامیابی وکامرانی دیکھ کر مدینہ سے بادشاہ روم ہرقل کے پاس گیا تا کہ اس کی مدد سے اسلام کی پیش رفت کو روک سکے ،لیکن موت نے فرصت نہ دی کہ اپنی آرزو وخواہش کو عملی جامہ پہنا سکے ،لیکن بعض کتب کے حوالہ سے کہا جا تا ہے ،کہ وہ پادشاہ روم سے ملا اور اس نے حوصلہ افزا وعدے بھی کئے۔
اس نکتہ کو بیان کردینا بھی ضرور ی ہے کہ اس کی تخریبی حرکتیں اورعناد پسند طبیعت کی بنا پر پیامبرؐ اسلام نے اسے فاسد کا لقب دے رکھا تھا،بہر حال قبل اس کے کہ وہ واصل جہنم ہو، ایک خط مدینہ کے منافقین کے نام تحریر کیا جسمیں لشکر روم کی آمد اورایک ایسے مکان ومقام کی تعمیر کا حکم تھا جو اسلام کے خلا ف سازشی مرکز ہو،لیکن چونکہ ایسا مرکز منافقین کے لئے بناناچنداں آسان نہیں تھا لہذا انھوں نے مصلحتاً معذوروں،بیماروں ،بوڑھوں کی آڑ میں مسجد کی بنیاد ڈال کر ابو عامر کے حکم کی تعمیل کی، مرکز نفاق مسجد کی شکل میں بنایا گیا ،مسجد کاامام جماعت ایک نیک سیرت جوان بنام مجمع بن حارثہ کو معین کیا گیا، تا کہ مسجد قبا کے نماز گذاروں کی توجہ اس مسجد کی طرف مبذول کی جا سکے، اور وہ اسمیں کسی حدتک کامیاب بھی رہے، لیکن اس مسجد کے سلسلہ میں آیات قرآن کے نزول کے بعد پیامبر اکرمؐ نے اس مرکز نفاق کو ڈھا دینے کا حکم دے دیا(مجمع البیان ،ج۳،ص۷۲۔)،تاریخ کا یہ نمونہ جسے قرآن بھی ذکر کر رہا ہے منافقین کی مدینہ میں منظم کار کردگی کا واضح ثبوت ہے ۔ 
مشہور نظریہ کی تحقیق:مشہور نظریہ کے مطابق نفاق کا آغازمدینہ ہے ،اور نفاق کا وجود، حکومت و قدرت سے خوف وہراس کی بنا پر ہو تا ہے ،اس لئے کہ مکہ کے مسلمانوں میں قدرت و طاقت والے تھے ہی نہیں ،لہذا وہاںنفاق کا وجود میں آنابے معنی تھا،صرف مدینہ میں مسلمان صاحب قدرت و حکومت تھے لہذا  نفاق کامبداء مدینہ ہے ۔
لیکن نفاق کی بنیا دصرف حکو مت سے خوف ووحشت کی بنا پر ہو اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے،بلکہ اسلام میں منصب وقدرت کے حصول کی طمع بھی نفاق کے وجود میں آنے کا عامل ہو سکتی ہے ،لہذا ، نفاق کی دو قسم ہو نی چاہئے:
۱۔نفاقِ خوف:ان افراد کا نفاق جو اسلام کے قدرت واقتدار سے خوف زدہ ہو کراظہار اسلام کرتے ہوئے اسلام کے خلاف کام کیاکرتے تھے۔
۲۔ نفاقِ طمع:ان افراد کا نفاق جو اس لالچ میں اسلام کا دم بھر تے تھے کہ اگرایک روز اسلام صاحب قدرت و سطوت ہو ا،تو اس کی زعامت ومناصب  پرقابض ہو جائیں یااس کے حصّہ دار بن جا ئیں ۔
نفاق بربناء خوف کا سر چشمہ مدینہ ہے،اس لئے کہ اہل اسلام نے قدرت واقتدارکی باگ ڈور مدینہ میں حاصل کی ۔
لیکن نفاق بر بنا ء طمع وحرص کامبدا وعنصر مکہ ہو نا چاہئے،عقل وفکر کی بنا بر بعید نہیں ہے کہ بعض افرادروزبروز اسلام کی ترقی ،اقتصادی اورسماجی بائیکاٹ کے باوجود اسلام کی کامیابی ،مکرر مرسل اعظمؐ  کی طرف سے اسلام کے عالمی ہو نے والی خوش خبری وغیرہ کو دیکھتے ہو ئے دور اندیش ہو ں ،کہ آج کا ضعیف اسلام کل قوت وطاقت میں تبدیل ہو جائے گا،اسی دور اندیشی و طمع کی بنا پر اسلام لائے ہوں ،تا کہ آئندہ اپنے اسلام کے ذریعہ اسلام کے منصب وقدرت کے حق دار بن جائیں ۔
اس مطلب کا ذکر ضروری ہے کہ منافق طمع کے افعال و کا ر کرد گی منافق خوف کی فعالیت و کار کردگی سے کافی جدا ہیں ،منافق خوف کی خصوصیت خراب کاری، کا رشکنی،بیخ کنی ،اذیت وتکلیف سے دو چار کر نا ہے،جب کہ منافق طمع ایسا نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک تحریک کی کامیابی کے سلسلہ میں کوشش کرتے ہیں ،تا کہ وہ تحریک ایک شکل و صورت میں تبدیل ہو جائے ،اور یہ قدرت کی نبض او ر دھڑکن کو اپنے ہاتھوں میںلے سکیں ،منافق طمع صرف وہاں تخریبی حرکات کوانجام دیتے ہیں جہاں ان کے بنیادی منافع خطرے میں پڑ جائیں۔
اگر ہم نفاق طمع کے وجود کو مکہ قبول کریں،تو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ نفاق کا وجود اور اس کے  آغاز کو مدینہ تسلیم کیا جائے  ۔
 جیسا کہ مفسر قرآن علا مہ طبا طبا ئی ؒ اس نظریہ کو پیش کر تے ہیں ( تفسیر المیزان ،ج۱۹ ص ۲۸۷تا۲۹۰،سورہ منافقون کی آیات۱؍۸کے ذیل میں۔)،آپ ایک سوال کے ذریعہ مذکورہ مضمون کی تائید کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں ،با وجود یکہ اس قدر منافقین کے سلسلہ میں آیات ،قرآن میں موجود ہیں ،کیوں پیامبرؐ اکرم کی وفات کے بعد منافقین کا چرچا نہیں ہو تا ،منافقین کے بارے میں کوئی گفتگو اور مذاکرات نہیں ہو تے ،کیاوہ صفحہ ہستی سے محو ہو گئے تھے ؟کیا پیامبرؐ اسلام کی وفات کی بنا پر منتشرا ورپراکندہ ہو گئے تھے؟یا اپنے نفاق سے توبہ کر لی تھی؟یااس کی وجہ یہ تھی کے پیامبرؐ اسلام کی وفات کے بعد صاحبان نفاق طمع ،صاحبان نفاق خوف کا تال میل ہو گیا تھا ،اپنی خواہشات وحکمت عملی کو جامۂ عمل پہنا چکے تھے ،اسلام کی حکومت و ثر وت پر قبضہ کر چکے تھے اور بہ بانگ دہل یہ شعر پڑ رہے تھے:
لعبت ہاشم بالملک فلا        خبر جاء ولا وحی نزل
خلا صۂ بحث یہ ہے کہ نفاق اجتماعی ایک منظم تحریک کے عنوان سے مدینہ میں ظہور پذیر ہوا ،لیکن نفاق فردی جو بر بناء طمع وحرص عالم وجود میں آیا ہو اس کا انکار کر نے کی کوئی دلیل نہیں ،اس لئے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ میں بھی ظاہر ہو سکتا تھا ،وہ افراد جو پیامبر اسلام ؐکے دستور و حکم سے سر پیچی کر تے تھے ،ان میں بعض وہ تھے جو مکہ میں مسلمان ہو ئے تھے ،یہ وہی منافق تھے جو طمع وحرص کی بنا پر اسلام کا اظہار کرتے تھے ۔
مرض نفاق اوراس کے آثار:نفاق، قلب اور دل کی بیماری ہے ،قرآن کی آیات اس باریکی کی طرف توجہ دلاتی ہیں ،پاکیزہ قلب خدا کا عرش اور اللہ کا حر م ہے ( ’’قلب المؤمن عرش الر حمن‘‘بحار الانوار ،ج۵۸،ص۳۹ ۔ ’’لقلب حرم اﷲ فلا تسکن حرم اﷲغیر ﷲ‘‘بحار الانوار ،ج۷۰ ،ص۲۵۔)،اس میں اللہ کے علاوہ کسی اور کا گذر نہیں ہے ، لیکن مریض و عیب دار د ل ،غیر خدا کی جگہ ہے  ہوا وہوس سے پردل شیطان کا عرش ہے،قرآن مجید صریح الفاظ میں منافقین کو عیب داراورمریض ِدل سمجھتا ہے:فی قلوبہم مرض
(سورہ بقرہ ؍۱۰،مائدہ ؍۵۲،توبہ؍۱۲۵،محمد؍۲۰۔۲۹۔بعض آیات میں فی قلو بہم مرض کے ہمراہ منافقوں کا بھی ذکرکیا گیا ہے ،جیسے سورہ انفال کی آیت نمبر ۴۹ و سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۲،اذ یقول المنافقون والذ ین فی قلو بہم مرض یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بیمار دل والے منافق ہی ہیں یا ان کے علاوہ دو سرے افراد ،علامہ طباطبائی  ؒ تفسیر المیزان ،ج۱۵ ،ص۲۸۶،ج۹،ص۹۹،میں ان دونوں کو الگ الگ شمار کر تے ہیں ،آپ کا کہنا ہے کہ بیمار دل والوں سے مراد ضعیف الا عتقادمسلمان ہیں،اور منافقین وہ ہیں جو ایمان واسلام کا توظہار کر تے ہیں لیکن باطن میں کافر ہیں،بعض مفسرین کی نظر میں ،بیمار دل صفت والے افراد منافق ہی ہیں ،نفاق کے درجات ہیں ،نفاق کا آغاز قلب ودل کی کجی اور روح کی بیماری سے ہو تا ہے،اور آہستہ آہستہ پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے ،لیکن میرے خیال میں منافقون ،و والذ ین فی قلو بہم مرض دو مترادف الفاظ کے مثل ہیں جیسے فقیر ومسکین،اگر یہ دو لفظ ساتھ میں استعمال ہوں تو ہر لفظ ایک مخصوص معنی کا حامل ہو گا،لیکن اگر جدا استعمال ہوں تو دو نوں کے معنی ایک ہی ہوں گے،اس بنا پر وہ آیات جن میں لفظ منافقون و فی قلو بہم مرض  ایک ساتھ استعمال ہو ئے ہیں ،دو نوں کے مستقل معنی ہیں ،منافقون یعنی اسلام کا اظہار وکفر کو پوشیدہ رکھنا،و  فی قلو ہم مرضیعنی ضعیف الایمان یاآغاز نفاق،لیکن جب  فی قلو بہم مرضکا استعمال جدا ہو تو اس سے مراد منافقین ہیں ،کیوں کہ منافقین وہی ہیں جو فی قلوبہم مرضکے مصداق ہیں۔ )
نفاق جیسی پْر خطر بیماری میں مبتلا افراد، بزر گترین نقصان وضرر سے دو چار ہو تے ہیں ،اس لئے کہ آخرت میں نجات صرف قلب سلیم (پاکیزہ) کے ذریعہ ہی میسرہے،ہو اوہوس سے پر، غیر خدا کامحب وغیر خدا سے وابستہ د ل نجات کا سبب نہیں۔
یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی اللہ بقلب سلیم(سورہ شعراء ؍۸۸و۸۹۔)
اس دن مال اوراولادکام نہیں آئیں گے ،مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو ۔
 قرآن مجید اس مرض و بیماری کی شناخت و واقفیت کے سلسلہ میںکچھ مفید نکات کو بیان کر رہا ہے ،تمام مسلمانوں کو ان نکات کی طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ اپنے قلب ودل کی صحت وسلامتی ونیز مرض کو تشخیص دے سکیں ، نیز ان نکات کے ذریعہ معاشرے کے غیر سلیم و نادرست قلوب کی شنا سائی کر تے ہوئے ان کے مراکز فساد وفتنہ سے مبارزہ کر سکیں ۔
ایک سرسری جائزہ لیتے ہوئے آیاتِ قرآنی جو منافقین کی شناخت میں نازل ہو ئی ہیں ِ ان کو چند نوع میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
وہ آیات جو اسلامی معاشرے میں منافقین کی سیاسی و اجتما عی روش وطرز کو بیان کرتی ہیں ،وہ آیات جو منافقین کی فردی خصوصیت نیز ان کی نفسیاتی شخصیت  و عادت کورونما کر تی ہیں ،وہ آیات جو منافقین کی ثقافتی روش وطرز عمل کواجا گر کرتی ہیں،وہ آیات جو منافقین سے مبارزہ ورفتار کے طور وطریقہ کو پیش کر تی ہیں ۔
پہلی نوع کی آیات میں منافقین کے سیاسی و معاشرتی اسلوب ،اوردوسری نوع کی آیات میں منافقین کی انفرادی ونفسیاتی بیماری کی علامات کا ذکر ہے اورتیسری نوع کی آیات میں منافقین کے کفر ونفاق کے مرض کو وسعت دینے نیز اسلام کو تباہ و برباد کر نے کے طریقے کو بیان کیا گیاہے،چوتھی نوع کی آیات میں منافقین کی کار کر دگی کو بے اثر بنانے کے طریقۂ کا ر کو پیش کیا گیا ہے،اگر چہ قرآن میں جو آیات منافقین کے سلسلہ میں آئی ہیںوہ ان کے اعتقادی نفاق کو بیان کر تی ہیں، مگر جو آیات منافقین کی خصوصیت وصفات کو بیان کر تی ہیں وہ ان کی منافقانہ رفتار وگفتار کو پیش کررہی ہیں خواہ اعتقادی ہو ںیا نہ ہوں منافقین کے جو خصائص بیان کئے گئے ہیں،منافقانہ رفتار وگفتار کی شناخت کے لئے معیار و پیمانہ قرار دئے گئے ہیں،اس کے مطابق جو فردیا جماعت بھی اس نوع و طرز کی رفتار وروش کی حامل ہو گی اس کا شمار منافقین میں ہو گا ۔ ث ث ث