پیر، 4 جون، 2018

عالم با عمل


عالم با عمل
آیةاللہ العظمی محمد تقی بہجت قدس سرہ ١٣٣٤ھ کے اواخر میں ایران کے صوبۂ گیلان میں واقع شہر فومن میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے.١٦ سال کی عمر ہی میں سایۂ مادری سے محروم ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی ۔١٣٤٨ھ میں عراق کا سفر کیا .٤سال کربلائے معلی میں سیدالشہداـکے جوار میں رہ کر کسب علم کیا پھر باب مدینة العلم کی چوکھٹ پر تعلیم و تربیت کے لیے نجف اشرف کا رخ کیا اور وہاں پر وقت کے بزرگ مراجع سے کسب فیض کر کے ١٣٦٣ھ میں ایران واپس آئے۔
آپ دور حاضر کے برجستہ مراجع تقلید میں شمار کیے جاتے اور اخلاق و عرفان کے عظیم معلم ہونے کے ساتھ ساتھ بے پناہ معنوی فیوض و برکات کا سرچشمہ اور سیرت اہل بیت کا ایک نمونہ تھے ۔
 آپ نے اپنی ٩٦ سالہ بابرکت عمر میں دنیا کے سامنے زہد و تقویٰ ،علم و عمل اور خوف و خشیت الٰہی کا وہ نمونہ پیش کیا کہ خاص و عام کی توجہ کا مرکز اور ہر دلعزیز شخصیت رہے۔ آپ نے کثرت سے شاگردوں کی تربیت کی اور تقوی و خوف الٰہی کا وہ نمونہ پیش کیا کہ مرجع خاص و عام قرار پائے جس کی دلیل آپ کی تشیع جنازہ ہے جو قم کی تاریخ میں بے نظیر ہے ۔
اس مرد مومن اور عالم باعمل نے یکشنبہ ،٢٣جمادی الاول ١٤٣٠ھ کو حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ولیعصر ہاسپٹل قم میں انتقال کیا.سہ شنبہ ٢٥جمادی الاول کو لاکھوں کے مجمع میں تشیع جنازہ ہوئی ،آیةاللہ جوادی آملی نے نماز جنازہ پڑھائی ،حرم معصومۂ قم میں دفن کیے گئے۔
قارئین کے استفادہ کے لیے اس فقیہ اہل بیت کی زندگی کے چند پہلو اور کچھ فرمودات پیش ہیں تاکہ اس مرد مومن کی زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے ہم بھی اس طرح زندگی گزارنے کی کوشش کریں دعا کے ساتھ کہ ہمیں بھی علم و عرفان اور تقوائے الٰہی کی دولت عطا ہو اور ہم بھی عالم باعمل بنیں۔
اول وقت نماز کی اہمیت:آیةاللہ بہجت نے آقائے قاضی مرحوم کی زبانی نقل کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے:''اگر کوئی شخص اول وقت نماز کا پابند ہو اور مقامات عالیہ تک نہ پہنچے تو مجھے لعنت کرے''اول وقت میں ایک خاص راز ہے ''حافظوا علی الصلوات''یعنی نماز کی بجاآوری میں کوشا رہیے،اس جملہ میں خود ایک نکتہ ہے جو ''اقیموا الصلوة''نماز پڑھیے ،کے علاوہ ہے۔اور اگر نمازی خیال رکھتا ہو اور پابند ہوکہ نماز کو اول وقت پڑھے تو یہ خود بہت زیادہ آثار رکھتا ہے اگرچہ حضور قلب بھی نہ رکھتا ہو۔
تفکر ایک سال کی عبادت سے بہتر!:آیةاللہ بہجت نے فرمایا:نجف کے ایک بزگ عالم نے سحر کے وقت نماز شب کے لیے اپنے بیٹے کو پکارا اور کہا:اٹھو اور چند رکعت نماز شب پڑھ لو.لڑکے نے جواب دیا:اچھا،وہ عالم نماز میں مشغول ہوگئے کچھ دیر کے بعد پھر دیکھا تو دیکھا کہ بیٹا نہیں اٹھا ہے.دوبارہ پکارا کہ اٹھو اور چند رکعت نماز پڑھ لو،لڑکے نے پھر جوابدیا کہ:اچھا.وہ عالم دوبارہ نماز میں مشغول ہوگئے لیکن دیلھا کہ بیٹا بستر سے نہیں اٹھ رہا ہے.تیسری مرتبہ پھر پکارا ،تو بیٹے نے جواب دیا کہ :بابا جان میں تفکر کررہا ہوں ، جس کے بارے میں امام صادق  ـ نے فرمایا ہے کہ:تفکر ساعة خیر من عبادة سنة'' 
وہ عالم سخت ناراض ہوئے اور کہا...(آقای بہجت نے وہ کلمات زبان پر جاری نہیں کیے لیکن ان کے شاگرد کے بقول کہ ہم لوگ سمجھ گئے کہ اس عالم نے کہا :)اے بدبخت!وہ تفکر ایک سال یا ساٹھ سال سے بہتر ہے جو انسان کو نماز شب پڑھنے کے لیے وادار کرے ،نہ یہ کہ نماز شب کے وقت انسان بستر پر پڑا رہے اور تفکر کرے اور اس بہانے نماز نہ پڑھے!؟۔
عمل صالح کی اہمیت:ایک دن آقا نے عمل صالح کی جزا کے سلسلے میں فرمایا:ایک دن نجف میں ایک عالم نے راستہ میں ایک فقیر کو ایک درہم صدقہ دیا.رات میں خواب میں دیکھا کہ ان کو آراستہ باغ میں ایک عالیشان محل میں دعوت دی گئی ہے۔انھوں نے پوچھا کہ یہ باغ اور محل کس کا ہے؟ جواب ملا کہ تمہارا ہے.انتہائی تعجب سے پوچھا کہ میں تو ایسا  کوئی عمل انجام نہیں دیا کہ اس عظیم نعمت کا مستحق قرار پاؤں. کہا گیا:تعجب ہورہا ہے؟ کہا:ہاں!جواب ملا کہ تعجب نہ کرو، یہ تمہارے اس ایک درہم کی جزا ہے جسے تم نے خلوص نیت کے ساتھ فقیر کو دیا تھا!۔
فرمودات
 محبت اہل بیت  سے ہر گز دست بردار نہ ہوں اس لئے کہ اسی محبت میں تمام چیزیں ہیں ،اگر ہمارے پاس کوئی چیز ہے تو اسی محبت کی وجہ سے ہے۔
خدہی ا جانتا ہے کہ اہل بیت رسالت  کی رحمت کتنی وسیع ہے!ان کی رحمت ،خداوند عالم کی رحمت واسعہ کے تابع ہے۔
ائمہ اطہار خوف جہنم بھی رکھتے تھے اور شوق جنت بھی لیکن عبادت کو خوف و شوق میں نہیں انجام دیتے تھے۔
اگر امام کی معرفت آگے بڑھے گی تو خدا کی معرفت میں بھی اضافہ ہوگا اس لئے کہ امام  ـ سے بڑھ کر کون سی آیت ہے.امام ایسا آئینہ ہے جو پوری دنیا کی حقیقت کو دکھاتا ہے۔
ائمہ  ہم سے غافل نہیں ہیں گرچہ ہم ان سے غافل ہوجائیں۔
جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ اہل بیت  اور ان سے مروی احادیث سے دوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔
نجات اس شخص کے لئے ہے جو اہل بیت  کو ہر جگہ اپنا مخاطب اور حاضر و ناظر سمجھے۔
ائمہ  کے نقش قدم پر چلیے نہ کہ دوسروں کے ،ہمیشہ علمائے دین سے رابطہ رکھیے ۔  
جوانوں کو چاہیے کہ اپنے عقائد و اعمال کو مستحکم کریں اس لئے کہ ایسی صورت میں دنیا کی کوئی بھی بری ثقافت (یا کوئی بھی نقصان پہنچانے والی چیز )اثر نہیں کرے گی اور ان کو چاہیے کہ خدا پر توکل کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کریں اور عمل کریں۔
یہ بات واضح ہے کہ اگر انسان عقیدہ و عمل دونوں اعتبار سے گناہ اور معصیت کو ترک کرے یعنی تمام گناہوں کو چھوڑنے کا دل سے قصد کرے اور ا س پر عقیدہ بھی رکھے اور عملی طور سے تمام گناہوں کو ترک بھی کرے اور کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو تو وہ دوسروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔دوسرے اس کے محتاج ہوتے ہیں لیکن وہ کسی کا محتاج نہیںہوتا۔اور اسکے ساتھ ہی ساتھ گناہوںسے بچنا ،حسنات ونیکیوں کے وجود میں آنے کاسبب بنتا ہے اور برائیاںوسیئات اس سے دور ہوتی ہیںیعنی اس کو توفیق حاصل ہوتی ہے کہ اچھائیوں کو انجام دے اور برائیوں سے بچے(وَماخلقتُ الجنّ والانس الالیعبدون)ہم نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔بندگی و عبادت یہ ہے کہ عقیدہ عمل کے اعتبارسے بھی گناہوںکوترک کرے۔
   بعض افرادیہ خیال کرتے ہیںکہ ہم ترک معصیت کی منزل سے گزرچکے ہیںہم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا جبکہ اس بات سے غافل ہیںکہ گناہ صرف چندکبائرسے مخصوص نہیںہے یعنی ایسانہیںہے کہ صرف گناہانِ کبیرہ ہی گناہ ومعصیت ہوںاوران سے بچنے سے ترک معصیت انجام پارہاہے؛.ایسانہیںبلکہ گناہان صغیرہ پراصراربھی گناہ کبیرہ ہے.کوئی چھوٹایامعمولی گناہ ہے اگرہم اس کومستقل انجام دیںاوراس کی تکرارکریںتووہ بھی گناہ کبیرہ ہوجائے گا مثلااپنے نوکرکوڈرانے کے لئے اس کی طرف غضبناک نگاہوںسے دیکھنا بھی اذیت اورحرام ہے اسی طرح گنہ گارکی طرف مسکراکردیکھنابھی اس کی تشویق اورمعصیت میں مدد ہے لہذا اس طرح کے بظاہرچھوٹے اورمعمولی کام بھی معصیت اورگناہ ہیں۔
   علماء وصلحاء سے دوری بھی انسان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے.جب انسان ایسے افرادسے دوررہتاہے توبسااوقات اس کاایمان ودین بھی بہت جلداس سے رخصت ہوجاتاہے۔
   خداکرے ہم صرف زبانی دعوے کرنے والے نہ ہوں،ہمارے پاس فقط لقلقۂ زبانی نہ ہوبلکہ عملی میدان میںہم آگے ہوں،جوکچھ کہیںاس پرعمل پیرا بھی ہوںاورعمل بھی بغیرعلم کے نہ کریںبلکہ علم کے ساتھ کریںاورعلم کے ساتھ ثابت قدم رہیں،جتنی باتیںجانتے ہیںاس پرعمل کریں اورجس کے بارے میںنہیںجانتے اسمیںسکوت اختیار کریںاوراحتیاط سے کام لیںتاکہ یقین حاصل کرلیںکہ قطعًا یہ راستہ پشیمانی والانہیںہے.دوسروںکے اعمال پرنظرنہ رہے بلکہ شریعت کودیکھیںکہ وہ ہم سے کیاچاہتی ہے،کن چیزوںکاہمیں حکم دے رہی ہے اورکن چیزوںسے ہمیں روک رہی ہے؛اسی کے مطابق عمل کریں۔
احکام الہی کی انجام دہی ،خاصکرنمازمیںخضوع وخشوع پیداکرنے کے لئے نمازکے شروع میںامام زمانہ سے واقعی توسل کریںتاکہ عمل کو مکمل طورپرانجام دے سکیں۔
غصے کے علاج کے لئے پورے اعتقادکے ساتھ زیادہ سے زیادہ صلوةپڑھیں(اللھم صلِّ علی محمدوآل محمد)
اہلبیتـ؛خصوصًاامام زمانہ کی محبت اپنے دل میں پیداکرنے کے لئے اللہ کی معرفت حاصل کریںپھراس کی اطاعت کریںاوراس کی محبت اپنے دل میںپیداکریں،اس لئے کہ خداسے محبت کرنامحمدوآل محمدۖ کی محبت کاسبب بنتا ہے۔
حقیرکی نظرمیںسب سے بہترذکر،ذکرعملی ہے؛عقیدہ وعمل میںمعصیت کوترک کرنا۔
قرب الہی حاصل کرنے کے لئے اپنااستاداپنے علم کوبنایئے؛جتنی باتیںجانتے ہیںسب پرعمل کیجئے،اپنی معلومات کوپیروںتلے نہ روندیے۔
اگرانسان اپنی تمام عبادات،خاصکرنمازجوسرفہرست ہے، اسکی اصلاح کرلے تووہ کامیاب ہوگا۔  
زیارت کی توفیق کا پیسہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہم شیعہ حضرات ہر روز امیر المومنین ـ،ائمہ معصومین  اور رسول اکرم  ۖکے سامنے زانوئے ادب کیوں نہیں تہہ کرتے اور ان کی حدیثوںمیں پوشیدہ بے شمار آداب و معارف اور حکمت پر کیوں نہیں توجہ دیتے۔
توسلات بہت ہی مفید ہے ،ان امام زادوں کے زیارت کے لئے زیادہ جائیے ،جس طرح ہر پھل ایک خاص وٹامن رکھتا ہے اسی طرح ان میں سے ہر شخصیت ایک خاص اثر اور خصوصیت رکھتی ہے۔
شب عید غدیر اور اسی طرح کی دوسری راتوں میں ان راتوں اور ان دنوں کی فضیلت ،ان سے متعلق شخصیات کی عظمت و فضیلت،ان کے دشمنوں کے مطاعن،اور ولایت کے سلسلے میں وارد روایات کو دلیل و برہان کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے تاکہ سامعین کے مذہبی عقائد کی تقویت کا سبب بنیں .نہ کہ اس طرح کی مجالس ہنسی مذاق اور لہو ولعب میں گزار دی جائیں۔
شیعوں کا ایک امتیاز امام زادوں کی قبریں اور مزارات ہیں لہذا ان کی زیارت سے ہرگز غافل نہ ہوں اور اپنے کو اپنے ہی ہاتھوں محروم نہ کریں۔
سید محمد حسنین باقری


عمر کا خط معاویہ کے نام


عمر کا خط معاویہ کے نام

علامہ مجلسی علیہ الرحمہ بحار الانوار میں فرماتے ہیںکہ دلائل الامامت کی دوسری جلد سے اس خبر کو نقل کیا گیا ہے :
ابو الحسن محمد بن ہارون بن موسیٰ التلعبکری نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد ماجد ہارون بن موسیٰ التلعبکری نے بیان کیا، ان سے ابو علی محمد بن ہمام نے بیان کیا۔ انہوںنے کہا کہ ہم سے جعفر بن محمد بن مالک الفزاری کوفی نےبیان کیا، ان سے عبد الرحمان بن سنان الصیرفی نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن علی الجواد نےبیان کیا، ان سے حسن بن مسکان نےبیان کیا، ان سے مفضل بن عمر الجعفی نےبیان کیا۔ اور ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ جب حضرت امام حسین کو شہید کردیا گیا تو مدینہ رسولؐ میں حضرت امام حسینؑ کی شہادت اور اہل بیتؑ کی اسیری کی خبر پہنچی اور یہ کہ اہل بیتؑ سے اٹھارہ تن اور ۵۳؍اصحاب حسینی نے جامِ شہادت نوش کیا اور یہ کہ چھ مہینے کا شیر خوار مجاہد علی اصغرؑ پانی کے سوال پر اپنے باپ کے ہاتھوں پر جام شہادت سے سیراب ہوئے اور رسول خداؐ کی نواسیوں کو قیدی بنایا گیا اور آل محمدؐ کے قیدیوں کو دربار یزیدی میں دست بستہ پیش کیا گیا۔ 
اس خبر کو سن کر ازواجِ نبیؐ نے حضرت اُمِّ سلمیٰ کے گھر میں مجلسِ ماتم بپا کی اور مہاجرین اور انصار نے بھی اپنے گھروں میں مجالس و ماتم و سوگواری برپا کیں۔ 
امام حسینؑ کی شہادت اور حضرت زینبؑ و اُمِّ کلثومؑ کی اسیری کی خبر سن کر عبد اللہ بن عمر خطاب چیخ مارتے ہوئے گریباں چاک کئے روتے اور سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنے گھر سے باہر نکلے اور انصار اور مہاجرین اور بنی ہاشم سے کہا اولاد رسولؐ خدا کا خون بہادیا گیا اور ان کے اہل حرم کو قیدی اور اسیر بنایا گیا اور تم لوگ زندہ ہو اور کھانے پینے میں مشغول ہو؟
اب میں یزید کے پاس جاؤں گا اور مدینے سے یہ کہہ کر چل دیئے اور کہا کہ میں جب تک مدینے میں داخل نہیں ہوں گا کہ جب تک مدینے والے یزید کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں کرتے وہ خود یزید اور یزیدیوں پر لعنت بھیجا کرتے ۔ مدینۂ رسولؐ میں یزید حاکم نے اپنے امیر کو لکھا کہ خلیفہ عمر کا فرزند عبد اللہ تیرے خلاف لوگوں کو بھڑکارہا ہے۔ وہ کہتا ہےکہ یزید نے فرزندِ رسولؐ کو قتل کردیا اور رسولؐ کے اہل بیتؑ کو قیدی بنایا ہے اور جو شخص عبد اللہ بن عمر خطاب کی تائید نہیںکرے گا وہ دین اسلام سے خارج ہے۔ 
عبد اللہ بن عمر یہ کہتے ہوئے دمشق ، یزید کے پاس پہنچ گئے اور فریاد کرتے ہوئے کہا: اے امیر یہ تم نے کیا کیا؟ تم نے اولادِ رسولؐ کا خون بہایا اور آل رسولؐ کو قیدی بنایا۔ ایسا سلوک تو ترک و دیلم اور رومی قیدیوں کے ساتھ بھی روا نہیں ہے۔ 
اس مسندِ خلافت کو چھوڑ کر اب مسلمان کے سامنے حاضر ہوجاؤ اور دیکھو کہ وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ 
یزید نے عبد اللہ بن عمر خطاب کو خوش آمدید کہا اور اپنے سینے سے لگالیا اور کہا اے عبد اللہ خاموش ہوجاؤ اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس کے اطراف و جوانب پر غور کرو۔ 
اور یہ بتاؤ کہ تمہارا اپنے باپ عمر خطاب کے بارےمیں کیا نظریہ ہے؟
 وہ خلیفۂ رسولؐ خدا ، ہادی اور مہدی تھے اور رسولؐ خدا کے ناصر اور حامی تھے اور تمہاری بہن حفصہ حضرت رسولؐ خدا کی زوجہ تھیں یا یہ کہتے ہو کہ وہ اللہ کے مطیع فرمان نہیں تھے اور اللہ کی عبادت سے گریزاں تھے؟ عبد اللہ بن عمر خطاب نے کہا:
 میرے ابا میاں ویسے ہی تھے کہ جیسا تم نے ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا ہے ۔
اب تم ان کے بارےمیں کیا کہنا چاہتے ہو؟
 یزید نے کہا : اب یہ بتاؤ کہ تمہارے ابا میاں نے میرے ابا جی کے گلے میں خلافتی پٹّہ ڈالا تھا یا میرے ابّا نے تمہارے ابّا میاں کے گلے میں خلافت کا قلادہ ڈالا تھا؟ اور شام کا حاکم مطلق قرار دیا تھا۔ عبد اللہ بن عمر نے اقرار کیا کہ میرے ابّا نے تمہارے ابّا کو شام کی حکومت دے کر ان کی گردن میں قلادہ ڈال دیا تھا۔ 
 یزید نے کہا : اے عبد اللہ اپنے باپ کے اس کام سے تم راضی اور خوش ہو کہ انہوں نے میرے ابا کو شام کی حوکمت بخشی۔ عبد اللہ بن عمر خطاب نےکہا: ہاں یہاں تک تو میں راضی ہوں۔ یزید نے کہا : تم اپنے باپ سے راضی ہو؟ عبد اللہ نے گرد ن ہلا کر یزید کے قول کی تائید کی اور کہا میں اپنے باپ سے خو ش اور راضی ہوں۔ یزید نے عبد اللہ بن عمر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور کہا آؤ عمر خطاب کے فرزند میرے ساتھ چلو میں تمہیں ایک چیز دکھاؤں گا۔ عبد اللہ بن عمر یزید کے ساتھ چل دیئے۔ 
یزید انہیں اپنے خزانے میں لایا اور ایک صندوق طلب کیا اور اس صندوق کےا ندر سے ایک چھوٹی سی صندوقچی نکالی اور اس میں سے ایک طومار نکالا کہ جو سیاہ ریشمی کپڑے پر لکھا تھا یزید نے طومار عبد اللہ بن عمر کو دیا اور اور دریافت  کیا ’’ تم اس تحریر کو پہچانتے ہو؟ یہ خط تمہارے ابا میاں کا ہے یا کسی اور نے لکھ دیا ہے ‘‘۔؟
عبد اللہ بن عمر نے کہا یہ تحریر میرے ابا میاں کی ہے۔ ابن عمر خطاب نے وہ طومار یزید سے لے لیا اور اس کو بوسہ دیا یزید نے کہا: عبد اللہ اس کو پڑھو اور انہوں نے اس کو پڑھنا شروع کردیا۔ 
 ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم : وہ ذات کہ جس نے تلوار کی دھار پر ہم سے اپنا اقرار لیا۔ ہم نے اقرار تو کرلیا لیکن دل میں نفرت بھری تھی۔ ہماری سانسیں بھی گھٹ گئی تھیں، ہماری نیت اور ضمیر میں شک و تردید کی گرہیں پڑھیں تھیں، ہم نے مجبور ہوکر اپنے دین کو چھوڑا اپنے بتوں اور خداؤں کو چھوڑا اور جس کا انکار تھا اس کو قبول کرنا پڑا۔ ہم نے تلوار سے بچنے کی خاطر اطاعت کو قبول کرلیا۔ پھر قبول کرنے میں دینوی فائدے بھی تھے نعمتوں کی فراوانی تھی۔ مجھ کو اپنے آبائی دین سے بے حد محبت تھی۔ میرےد ل میں اس دین کی محبت و الفت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ 
میں اپنے ہُبل ولات و عزّیٰ اور اصنام اور بتوں کی قسم کھا کر اعلان کرتا ہوں کہ عمر نے جس روز سے اپنے معبودوں کی عبادت شروع کی تھی آج تک انہیں دل سے نہیں نکالا ہے اور خانہ کعبہ کا ان خداؤں کے سوائے کوئی پروردگار نہیں ہے۔ 
 میں نے کبھی دل سے محمدؐ کے قول کی تصدیق نہیں کی، اسلام کے قبول کرنے میں میری اپنی سیاست اور تدبیر تھی اور حیلہ گری کا کرشمہ تھا۔ مگر وہ بہت بڑے جادو کو لے کر آئے تھے اور وہ اپنی جادوگری میں بنی اسرائیل و موسیٰ و ہارون و داؤد و سلیمان و عیسیٰ سے بھی بڑھ چڑھ کر تھے ‘‘ ( یہ خط لندن سے شائع ہونے والے عربی جریدے میں کسی نئے متجد د نام سے بھی شائع ہوا ہے )





اس جادو کے سامنے ہم نے ہتھیار ڈال دیئے اور حقیقت یہ ہے کہ ’’ وہ سید السحرۃ‘‘ جادو گروں کےسردار تھے ‘‘ ({ FR 12 })
پس اے ابو سفیان کے جنے اپنی قوم کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اپنی ملت کی پیروی کرتے رہنا اور جس دین پر تمہارے اسلاف کار بند تھے اسی پر قائم رہنا اور اس دین میں یہ ہمارا دین نہیں ہے اس میں کہتے ہیں کہ ان کا اللہ ہے۔ پروردگار ہے۔ انہوں نے اپنا قبلہ بھی بنا لیا ہے اور انہوں نے نماز اور حج کو اسلام کا رکن قرار دیا ہے۔ محمدؐ کی مدد کرنے والے یہی سلمان فارسی تھے۔ وہ لوگ مدعی ہیں کہ سب سے پہلا گھر وہی ہے کہ جو مکے میں ہے اور لوگوں کو ہدایت کرتا ہے اور اس میں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ 
 وہ اپنی نماز پتھروں کے لئے پڑھتے ہیں اور ہمارے بتوں پرستش سے ہم کو منع کرتے ہیں۔ اگر ان کا جادو نہ ہوتا تو ہم ہرگز اپنے اصنام و بتوں کو فراموش نہ کرتے اور لات اور عزیٰ کی شان بر قرار رہتی ہے۔ اب چاہے وہ کتناہی جادو کریں مگر ہم لات و عزیٰ کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ 
وہ اپنی نماز پتھروں کےلئے پڑھتے ہیں اور ہمارے بتوں کی پرستش سے ہم کو منع کرتے ہیں اگر ان کا جادو نہ ہوتا تو ہم ہرگز اپنے اصنام و بتوں کو فراموش نہ کرتے اور لات و عزیٰ کی شان بر قرار ہتی ۔ اب چاہے وہ کتنا ہی جادو کریں مگر ہم لات و عزیٰ کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ 
اے معاویہ اب اچھی طرح آنکھیں کھول کر دیکھ  اور جو کچھ میں کہتا ہوں اس کو غور سے سن اور اپنے دل و دماغ سے اس موضوع پر غور و فکر کر اور ہمیشہ ’’ لات و عزیٰ‘‘ کا شکر گزار رہنا اور اے معاویہ اپنی آزادی میں اور خلافت میں عبد العزیٰ کے احسان کو فراموش مت کرنا۔ میں تجھ کو امت محمدؐ کا حاکم مقرر کررہا ہوں۔ تئجھ کو پورا اختیار ہے ان کے مال و دولت میں، ان کے جان و خون ، شریعت  و حلال و حرام میں، ان کے فرائض اور حقوق میں تو ہر سفید و سیاہ کا مالک مختار ہے۔ اس بات کا اچھی طرح خیال رکھنا کہ ظاہری طور پر تجھ کو انہیں کی طرح دین دار بن کر رہنا ہوگا اور پنہانی طور پر تجھ کو اپنے دین کو تقویت پہنچانی ہے۔ اس روش پر اگر تو کاربند رہے گا تو مسلمان تیری مدد کریں گے تو اپنے امور میں صاحب اختیار ہے، تیرا کوئی محاسبہ نہیں کرے گا ۔ ( مسلمانوں نے اگر معاویہ کی غیر اسلامی رفتار کی عمر سے شکایت کی تو جواب دیا کہ بھئی وہ قیصر اسلام ہے اور آزاد ہے )۔
میں نے بنی ہاشم کے درخشاں چہرے پر پردے چڑھادیئے ہیں۔ میں نے کوشش کی تھی کہ انہیں قتل کر ڈالوں اور اپنے بت پرستی کے دین کو بچالوں مگر حیدرؑ نے میری تدبیر اور حلیہ گری کو کامیابی سے ہمکنار نہ ہونےدیا۔ محمدؐ نے انہیں اپنا داماد قرار دیا اور فاطمہؑ زہرا کی ان کے ساتھ شادی ہوگئی۔ 
اور مسلمان انہیں سیدہ نساء کہتے ہیں۔ 
اب وہ بنی ہاشم کا چاند خاک کے دامن میں سورہا ہے اور میں نے علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ و زینبؑ اور ام کلثوم اور فضہ پر زندگی تنگ کردی ہے۔ 
میرے ساتھ خالد بن ولید و قنفذ ( ابوبکر کا غلام ) اور ہمارے وفادار لوگ تھے۔ میں نے ان کے دروازے کو زبردست دھکا دیا تو کنیز فضہ نے ہمارے آنے کی وجہ دریافت کی۔ میں نے کہا کہ علیؑ سے کہنا کہ اب اپنے دل میں خلافت کی خواہش مت کریں۔ یہ خلافت ان کےلئے نہیں ہے۔ امرِ خلافت کومسلمانوں نے طے کرلیا ہے اور انہوں نے جس کو خلیفہ بنایا وہی صاحب امر ہوگیا ہے۔ انہوں نے اپنے اجماع کے ذریعے اپنا خلیفہ منتخب کرلیا ہے۔ 
 پروردگار لات و عزیٰ کی قسم اگر ابو بکر کے اوپر امر خلافت کو چھوڑ دیا جاتا تو پھر خلافت اور حکومت مل چکی ہوتی وہ بس میری کوشش اور چالاکی تھی کہ جو فرزند ابو کبشہ خلیفہ بن جانےمیں کامیاب ہوگیا ورنہ ابو بکر سے خلافت کا دور کا بھی تعلق نہ رہتا۔ میں نے اس کی طرح رخ بدلا اور آنکھیں کھولیں اور نزار و قحطان کی داڑھیوں سے کہا۔ تم کیا کہتے ہو۔ خلافت بس قریش ہی کا حق ہے اور جو لوگ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ قریش کی اطاعت کریں اور یہ میں نے صرف اس لئے کیا کہ قریش کو علی بن ابی طالبؑ کی تلوار سے اسلامی لڑائیوں میں محمدؐ کی زندگی میں جو جانی نقصانات اٹھانا پڑے ہیں ان کی تلافی ہوجائے اور میں جانتا تھا کہ علیؑ اس وقت نہیں آئیں گے۔ وہ محمدؐ کے دفن کرنے میں مشغول ہیں اور دفن سے فرصت پائیں گے تو پھر انہیں رسولؐ خدا کے قرض کے اسّی(۸۰) ہزار درہم ادا کرنا ہوں گے پھر محمدؐ کے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں گے۔ قرآن کی گرد آوری اور جمع کرلینے سے پہلے وہ اپنے گھر سے باہر قدم نہیں نکالیں گے۔ انصاراور مہاجرین تُو تُو میں میں کرنے میں لگے تھے میں نے ان سے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت رسول خداؐ نے فرمادیا ہے :
 ’’ امامت بس قریش ہی میں رہے گی‘‘
 تو انہوں نے جواب دیا کہ پھر حضرت علیؑ بن ابی طالبؑ امام ہیں اور رسول خداؐ نے اپنی امت سے ان کے واسطے بیعت بھی لے لی ہے اور ہم کو حکم دیا کہ انہیں امیر المومنینؑ کہہ کر سلام کریں اور چار مقامات پر حضرت علیؑ کی بیعت لی گئی ہے ۔ اب قریش یہ کہیں کہ انہیں یہ بات یاد نہیں رہی تو ہم گواہی دیتے ہیںکہ ہم کو یہ واقعات اچھی طرح یاد ہیں اور یہ بیعت و امامت و خلافت اور وصیت برحق ہے اور امر خدا ہے اور اس میں ادعا اور خواہش اور آرزو کا دخل نہیں ہے۔ 
 ہم نے انصار کو جھٹلا دیا۔ اور میں نےچالیس گواہ کھڑے کردیئے۔ انہوں نے محمدؐ کے برخلاف گواہی دی کہ امامت مسلمانوں کو اختیار ہے تو پھر انصار نے کہا : ہمارا حق قریش سے زیادہ ہے ‘‘ کیوں کہ ہم نے اسلام کو پناہ دی اور مدد کی ہے اور دوسرے لوگ ہجرت کرکے ہماری طرف آئے ہیں جب تم لوگ مستحق امامت اور خلافت کو محروم قرار دیتے ہو تو پھر اس امر کے تم لوگ خود حق دار نہیں ہوگے بلکہ ہم خلافت اور امامت کے مستحق ہیں اور لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ ایک امیر ہماری طرف سے اور ایک امیر تمہاری طرف سے ہو۔ میں نے ان سے کہا : دیکھو ابھی چالیس آدمیوں نے گواہی دی ہےکہ حضرت رسول خداؐ نے فرمایاُ: کہ امامت بس قریش کا ہی حق ہے۔ کچھ لوگوں نے اس بات کو قبول کرلیا اور کچھ نے انکار کیا اور جھگڑے کی صورت پیش آگئی۔ ({ FR 23 })
میں نے ان سے کہا : دیکھو ہم میں جو شخص بھی عمر کے لحاظ سے بڑا ہوا اور مہربان بھی بڑھ کر ہو بس اسی کی بیعت کرلو اور اپنی خلافت اس کے حوالے کردو۔ 
لوگوں نے سوال کیا: کہ تم کس کے بارےمیں یہ کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا : اب وبکر اور میں نے دیکھا رسول خداؐ نے نماز میں اس کو آغے بـڑھا دیا تھا ( عمر نے قرآن کے خلاف بیان دیا ہے۔ سورۂ حجرات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ رسول خداؐ اور ید اللہؐ کے آگے نہ بڑھ جانا یہ عام حکم ہے۔ حضرت رسول خداؐ اور ید اللہ جہاں بھی ہوں کوئی مسلمان آنحضرتؐ کے آگے نہ آجھائے اور اگر کوئی بھولے سے اس گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا ایمان اور اسلام حبط ہوجائیں گے اور وہ کھرا کافر رہےگ ا) اور جنگ بدر میں میں بھی وہ حضور سرور عالمؑ کے پہلو میں بیٹھا تھا اور رسول خداؐ کو اپنا مشورہ دے رہا تھا اور غار میں بھی ساتھ تھا اور اس کی بیٹی عائشہ کو اپنی زوجہ بھی قرار دیا اور اس کو ام المومنینؑ کا خطاب دیا۔ 
ابو بکر کو خلیفہ بنا لیا اور بنی ہاشم کو ناراض کردیا۔ زبیر ان کا دست راست بنا ہوا تھا اور اس کی تلوار کا شرہ تھا اور یہ لوگ علیؑ کے بغیر بیعت کرنے والے نہیں تھے۔ زبیر اپنی تلوار سونت کر آگیا ۔ میں نے زبیر سے کہا تونے بنی ہاشم کی پشت پناہی کی قسم کھائی ہے اور تو ان کا حامی ہے۔ تیری والدہ صفیہ عبد المطلب ؑ کی بیٹی ہیں اس لئے تو ان کی حمایت کا دم بھرتا ہے۔ زبیر نے کہا: خدا کی قسم میرے واسطے یہ ایک فخر و مباہات اور شرف ہے۔ اور اے حنتمہ کے فرزند اور ضحاک کے بیٹے اور خاموش ہوجا تیرے ماں باپ کےلئے تو شرف کی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے اس سے وہی بات کہی کہ سقیفہ میں جس پر چالیس آدمی گواہی دے چکے تھے اس نے ہمارے بات کو مسترد کردیا اور شیر کی طرح ہم پر جھپٹا ۔ ہمارے ساتھ سینکڑوں جواں مرد تھے مگر ہم زبیر کے ہاتھ سے تلوار نہ چھین سکے۔ ایک مرتبہ وہ غصے کی وجہ سے ٹھوکر کھا کر زمین پر گرگیا اور ہم اس پر گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑے اور اس کے ہاتھ سے تلوار چھین لی اور ہم نے کسی کو اس کی مدد اور حمایت میں نہیں دیکھا۔ 
ہم اس کو گرفتار کرکے ابو بکر کے سامنےلے گئے ابوبکر نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیر دیا اور ہم نے اعلان کردیا کہ زبیر نے ابو بکر کی بیعت کرلی ہے۔ اب ہم نے کہا کہ جو شخص ہماری بیعت کرے گا ۔ وہ زندہ رہے گا۔ اور جس نے ہماری بیعت سے انکار کیا وہ قتل کردیا جائے گا۔ پھر لوگ از خود بڑھ بڑھ کر ابوبکر کی بیعت کرتے ۔ بنی ہاشم کی نخوت نے انہیں بیعت کرنے سے باز رکھا۔ 
میں نے ابوبکر کا ہاتھ پکڑا اور اس کو منبر رسولؐ پر چڑھا دیا۔ اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور منبر پر جاکر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا اور مجھ سے کہا اے ابو حفصہ مجھ کو ڈر ہے کہ علیؑ کہیں آجائیں اور مجھ کو منبر سے اتاردیں۔ 
میں نے کہا : علیؑ کی طرف سے بے فکر ہو جا اور اس بارے میں ابو عبیدہ بن جراح نے میری مدد کی اور میں ابو بکر کی ہمت بڑھاتا رہا ۔ وہ منبر پر کھڑا ہوا تو لگ رہا تھا کہ مدہوش ہے اور اس کو دین و دنیا کی کچھ خبر نہیں ہے۔ میں نے کہا : ابو بکر خطبہ پڑھ ، وہ ہکلا کر بولا زبان میں لکنت تھی اور آنکھیں بند تھیں۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا کچھ تو بول تو میری تمام محنت کو اکارت کررہا ہے۔ وہ پھر بھی کچھ نہیں بولا۔ اب میں نے چاہا کہ دھکا دے کر اس کو منبر سے گرادوں اور خود اس کی جگہ کھڑا ہوجاؤں۔ پھر میں نے سوچا کہ ابھی تو لوگوں کو اس کی شان میں جھوٹی حدیثیں گڑھ گڑھ کر سنائی ہیں۔ وہ سب مجھ کو جھٹلانے لگیں گے اور عین اسی وقت اکثر لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ تو تو بڑی ڈینگیں مار رہا تھا اور اس کے فضائل بیان کررہا تھا۔ جب کہ ہم نے حضرت رسولؐ خدا کی زبانی اس کی شان اور فضل میں ایک لفظ بھی نہیں سنا ہے۔ ان لوگوں سےمیں نے کہا : میں نے جو کچھ بھی ابوبکر کے بارےمیں کہا ہے وہ حضرت رسولؐ خدا کی زبان سنا تھا اور میں نے ابو بکر سے کہا مٹھو میاں بولو کچھ تو بولو! ورنہ نیچے آجاؤ اور میں نے یہ طے کرلیا تھا کہ کچھ بھی ہو میں فوراً منبر پر پہنچ جاؤں گا۔ اب ابوبکر اپنی مری اور دبی آواز میں بولا:
تم نے ایسے شخص کو اپنا ولی بنایا ہے کہ جو تم سے بہتر نہیں ہے جبکہ علیؑ تمہارے درمیان موجود ہیں۔({ FR 29 })
ابوبکر نے آگے کہا : واعلموا ان لی شیطاناً یعرینی وما ارابہ سوای ۔ فاء ذاذللت فقو مونی ۔ لا اقع فی شعورکم و ابشارکم واستغفر اللہ لی ولکم۔
میں اعلان کرتا ہوں کہ مجھ پر ہمیشہ شیطان سوار رہتا ہے اور وہ مجھ کو بری طرح پچھاڑ دیا کرتا ہے۔ اس کا چاہا کچھ اور ہوتا ہے اور میری خواہش کچھ اور ہوتی ہے۔ اگر میں ٹھوکریں کھاؤں تو تم لوگ مجھ کو سیدھا کردینا اور میری غلطی کا تمہارے شعور اور ذہن میں فتور نہ ہو اور تمہارے جسم پر بھی اس کا اثر نہ ہو۔ میں اپنے واسطے اور تمہارے تئیں بھی اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں‘‘۔
 ابوبکر یہ کہہ کر منبر سے نیچے آگئے۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور تمام لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں نے لوگوں کو بیعت کرنےکےلئے ان کی طرف اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے دیکھا۔ 
اور جو بیعت سے انکار کرتا میں اس کو ڈرا دھمکا کر بیعت کرنے پر مجبور کرتا۔ لوگ کہتے کہ تم تو حضرت علی ابن ابی طالب کی بیعت کرچکے ہو تو میں انہیں جواب دیتا ہم نے اپنی بیعت کو واپس لے لیا ہے اور اب مسلمانوں کی اکثریت کی اطاعت ہے اور بہت ہی کم لوگ ہیں کہ جو اس اکثریت کے فیصلہ کی مخالفت میں آواز اٹھا رہےہیں۔ علیؑ بھی یہی چاہتے ہیں کہ تم ابو بکر کی بیعت کرکے اکثریت کی بات کو قبول کرو اسی لئے تو وہ اپنے گھر میں گوشہ نشین ہیں۔ اب لوگوں نے اپنی کراہت کے ساتھ ابو بکر کی بیعت کرنا شروع کردیا۔ 
جب ابو بکر کی بیعت ہوگئی تو ہم کو خبر ہوئی کہ علیؑ حضرت فاطمہؑ کو سوار کرکے حسنؑ اور حسینؑ کو ساتھ لے کر مدینہ رسولؐ میں مقیم انصار اور مہاجرین کے گھر جاتے ہیں اور وہ انہیں یاد دلاتے ہیں کہ مسلمانوں نے حضرت رسول خداؐ کے حکم سے چار جگہ پرچار مرتبہ ان کی بیعت کی ہے۔ وہ مسلمانوں کو ہماری حکومت اور خلافت سے متنفر کرتے اور حکومت کے خلاف انہیں ورغلاتے۔ لوگ رات میں ان سے وعدہ کرلیا کرتے کہ ہم ضرور آپ کی مدد اور نصرت کریں گے اور دن میں گھر سے باہر نہ نکلتے اور گھر ہی میں بیٹھ رہتے ۔ 
اب میں ایک روز اپنے لوگوں کو ساتھ لے  کر ان کے گھر کے دروازہ پر پہنچ گیا اور ان کی کنیز فضہ سے کہا کہ علیؑ سے کہو کہ بیعت کرنے کےلئے گھر سے باہر آئیں: ابو بکر کی تمام مسلمانوں نے بیعت کرلی ہے۔ فضہ جواب لائیں کہ حضرت امیر المومنینؑ مشغول ہیں۔ میں نے کہا فضۃ اس بات کو چھوڑ دو اور علیؑ سے کہو کہ اگر تم خود سے باہر نہیں آئے تو پھر ہم تمہیں زبردستی باہر لے آئیں گے۔ 
حضرت فاطمہ ؑ یہ سن کر دروازے پر آئیں اور انہوں نے فرمایا:
 ’’ ایا الضالون المکذبون ماذا تقولون‘‘۔
 اے گمراہو اور خدا اور رسول خداؐ کو جھٹلانے والو! کیا کہتے ہو۔ اور کیا چاہتے ہو؟
 میں نے کہا : اے فاطمہؑ! تو فاطمہؑ نے فرمایا۔ اے عمر! تو کیا چاہتا ہے؟ میں نے کہا : یہ آپ کے ابن عم کو کیا ہوا کہ وہ تمہارے ذریعے جواب دیتے ہیںا ور خود باہر نہیں آتے تو انہوں نے مجھ کو جواب دیا۔ اے شقی ازلی تیرے طغیانی اور سرکشی نے مجھ کو مجبور کیا ہے کہ میں تجھ سے ہم کلام ہوں اور کہا کہ یا حجت اور دلیل لے کر آ اور یہ سمجھ لے کر ہر گمراہ سرکش ہوتا ہے ۔ میں نے کہا : اے فاطمہؑ یہ باطل اور پرانے زمانے سے چلی آرہی عورتوں کی باتوں کو چھوڑ دو اور علیؑ سے کہو کہ باہر نکل آئیں۔ 
اب ان کا کوئی احترام باقی نہیںرہا ہے اور ان کا کوئی چاہنے والا بھی نہیں ملے گا۔ فاطمہؑ نے کہا کیا گروہ شیطان کے بل بوتے پر اے عمر تو ہم کو ڈرا دھمکارہا ہے؟ اور شیطانی گروہ ضعیف اور ناتواں ہے۔ میں نے کہا فاطمہؑ اگر علیؑ باہر نہیں آئے تو آگ اور لکڑیاں لے کر آؤں گا اور تمہیں جلا کر مار ڈالوںگا اور میں نے قنفذ کے ہاتھ سے تازیانہ لے لیا اور فاطمہ زہراؑ کو زدو کوب کیا اور خالد بن ولید سے کہا کہ اپنے لوگوں کو ساتھ لے جا اورلکڑیاں لے کر آؤ اور اس گھر کو آگ لگا دو۔ 
فاطمہؑ نے کہا : اے دشمنِ خدا و رسول خداؐ اور امیر المومنینؑ کے دشمن تجھ کی پھٹکار اور نفرین ہو تو اہل بیتؑ رسولؐ کو ستارہا ہے اور اللہ ہماری محبت کو اجرت رسالت قرار دیتا ہے۔ فاطمہؑ دروازہ کھولنے سے منع کررہی تھیں۔ میں نے ان کے ہاتھ پر زور سے تازیانہ ماردیا اور انہوں نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ میں نے ان کے پہلو پر خوب تازیانے برسائے اور وہ گریہ و بکا آہ و فریاد کرتی رہیں۔ 
 میں نے کہا: وہ بھی تو یاد کرو کہ علیؑ کے ہاتھوں قریش کے صنادید کا قتل ہوا ہے اور علیؑ نے ہمارے آباؤ اجداد کو موت کے منہ میں بھیجا ہےا ور تیرے باپ کے جادو کے سامنے ہمیں سر جھکانا پڑ گیا تھا۔ میں نے دروازے کو لاتیں مار مار کر گرادیا اور لکڑیاں جلا کر اس کو آگ لگادی اور فاطمہ کو کیواڑ سے کچل دیا۔ اب فاطمہؑ نے فریاد کی۔ اور مجھ کو لگا کہ مدینہ ان کی مدد کےلئے امنڈ پڑے گا وہ فریاد کررہی تھیں۔ 
’’ اے بابا جان اے رسول خدا آپ کی بیٹی اور حبیبہ کے ساتھ عمر نے یہ سلوک کیا ہے آہ اے فضہ ! آکر مجھ کو سنبھالوں ۔ اس ظالم اور ستم گر نے میرے بچے کو شہید کردیا ہے۔ میں نے انہیں دیوار سے ٹکرا دیا اور ان کے کان سے گوشوارہ ٹوٹ کر زمین پر گر گیا۔ 
علیؑ بڑی تیزی کے ساتھ گھر سے باہر نکلے اور میں نے خالد اور قنفذ سے کہا کہ ہم بڑی مشکل میں پھنس گئے۔ اب دیکھو علیؑ گھر سے باہر نکل آئے ہیں اور یہ ہم سب کو ختم کرڈالیں گے۔ علیؑ نے فاطمہؑ سے کہا اے رحمت اللعالمین کی وارث اپنے بابا جان کی امت کے حق میں بددعا مت کرنا۔ تمہارے لبوں کے اشارے سے قیامت آجائے گی اور ان ستم گاروں کے ساتھ کچھ بے گناہ لوگ بھی مارے جائیں گے اور روئے زمین پر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ اللہ کی بارگاہ میں آپ کے بابا جان کا ایک مقام ہے۔ آپ کا ایک مرتبہ ہے۔ حضرت نوحؑ نے بد دعا کرکے اہل زمین کو ہلاک کرادیا تھاآپ کے بابا جانؐ اور آپ حضرت نوحؑ سے افضل ہیں۔ قوم ہود بھی نہیں بچی۔ عاد کے لوگ بھی فنا کی آغوش میں چلے گئے اور اگر آپ کے لبوں کو اشارہ ہوا تو امت محمدؐ بھی باقی نہیں رہے گی ۔ حضرت صالحؑ کے ناقے کو شہید کرنےوالے بارہ ہزار قوم ہود کے لوگ مارے گئے تھے۔ حضرت علیؑ انہیں اندر گھر میں لے گئے اور ان کا بچہ قتل ہوگیا۔ حضرت محمدؐ نےا س بچے کا نام محسنؑ رکھا تھا۔ 
ہمارے بہت سے حامی وہاں جمع ہوگئےاور علیؑ کا کوئی حامی نظر نہیں آرہا تھا اور مجھ کو اپنی اکثریت سے تقویت ہورہی تھی۔ ہم نے علیؑ کو گھیر لیا اور ہم اپنے زور سے ان کو گھر سے باہر نکال لائے اور میں نے ان کے سامنے اپنی بیعت کو پیش کیا اور میں اپنی آگاہی اور یقین کے ساتھ یہ بھی بتائے دیتا ہوں اس بات میں کسی رطح کا شک و شبہہ نہیں ہے۔ اگر میں اور روئے زمین پر آباد تمام افراد بشر علیؑ کے خلاف جہاد کرتے تب بھی ہم لوگ علیؑ پر تسلط نہیں پاسکتے تھے۔ میں جانتاہوں کہ علیؑ اپنے کئے گئے عہد کے پابند ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت اور اپنی جان و مال کے لئے تلوار نہیں اٹھائیں گے اور میں ان کے اللہ سے کئے ہوئے عہد کا پورا فائدہ اٹھا رہا تھا۔ ہم علیؑ کو ان کی مرضی کے بر خلاف سقیفہ بنی ساعدہ لے گئے۔ میں اور ابوبکر علیؑ کا مذاق اڑانے کےلئے کھڑے ہوگئے اس وقت علیؑ نے فرمایا: عمر کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں تیری ان برائیوں کو آشکار کردوں کہ جنہیں تو چھپائے ہے۔ 
 میں نے جواب دیا نہیں اے امیر المومنینؑ ۔ میں نے کہا : اے ابو الحسنؑ آپ ابوبکر کی بیعت کرچکے ہو۔ بس اپنی بیعت کا اعلان کردو۔ علیؑ نے اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا اور اب میں علیؑ سے بیعت کا مطالبہ نہیںکرسکتا تھا کیونکہ مجھ کو ڈر تھا کہ کہیںعلیؑ یری اس برائی کو آشکار نہ کردیں کہ جس کو وہ پوشیدہ رکھے ہیںا ور ابو بکر بھی یہی چاہتے تھے کہ علیؑ کو اس حال میں نہ دیکھیں۔ 
 علیؑ سقیفہ سے واپس پلٹ رہے تھے اور واپسی پر حضرت رسول خداؐ کے روضۂ اقدس پر آئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ 
 ابو بکر نے مجھ سے کہا : وائے ہو تجھ پر اے عمر تونے حضرت فاطمہؑ زہرا پر کیا کیا ستم ڈھائے ہیں۔ خدا قسم یہ خسران اور خسارے کا سبب ہوگا۔ میں نے کہا : ہمارے واسطے یہ بات بڑی ہے کہ جو بھی ہو وہ بیعت کرے اور جس بات کو مسلمان پسند نہ کریں میں اس پر اعتبار نہیںکرتا اور مسلمان اس بات کو پسند نہیں کریں گے کہ علیؑ پر مزید سختیاں کی جائیں۔ 
 ابو بکر نے کہا : پھر یہ تونے کیا کیا؟
میں نے کہا : لگتا ہے کہ وہ تمہارے بیعت کا اظہار کرنے جارہے ہیںا ور حضرت محمدؐ کی قبر پر وہ اعلان کریں گے ۔ وہ قبر رسولؐ پر قبلہ رو بیٹھے تھے اور قبر کی متی پر ہاتھ ٹیکے ہوئے تھے اور ان کے اطراف میں سلمان اور ابوذر و مقداد و عمار حذیفہ بن الیمان حلقہ باندھے ہوئے ہیں ہم ان کے رو بر کھڑے ہوگئے۔ میں نے ابوبکر سے کہا کہ جس طرح علیؑ قبر رسولؐ پر ہاتھ ٹیکے بیٹھےہیں تم بھی اسی طرح بیٹھ جاؤ۔ ابوبکر نے ایسا ہی کیا اور میں نے ابو بکر کا ہاتھ پکڑ کر حضرت علیؑ کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اعلان کردیا کہ بیعت ہوگئی۔ حضرت علیؑ نے اپنا دست ید اللٰہی بند کرلیا۔ اس کے بعد میں اور ابو بکر کھڑے ہوگئے اور میں نے کہا ۔ خدا علیؑ کو جزائے خیر دے۔ دیکھو قبر رسولؐ پر پہنچتے ہی تمہارے بیعت سے انکار نہیں کیا۔ اسی وقت ابوذر نے زور سے کہا: 
خدا کی قسم حضرت علیؑ کبھی آزاد کردہ آدمی کی بیعت نہیںکریں گے۔ 
 ہم جس آدمی اور جماعت سے ملاقات کرتے ہیں انہیں بتادیتے کہ علیؑ نے بیعت کرلی ہے اور ابوذر فوراً ہم کو جھوٹا قرار دیتے۔ خدا کی قسم علیؑ نے نہ ابو بکر کی بیعت کی اور نہ ہی میری بیعت کی اور میرے بعد جو بھی خلیفہ ہوگا علیؑ اس کی بھی بیعت نہیں کریں گے اور ان کے بارہ اصحاب نے بھی ہماری بیعت نہیں کی۔ 
اور علیؑ نے جو کچھ تیرے آباؤ اجداد اور خاندان والوں کے حق میں کیا ہے معاویہ تو اچھی طرح جانتا ہے۔ معاویہ تو خود جانتا ہے کہ تیرے والد ابو سفیان اور تیرے بھائی حنظلہ و عتبہ نے محمدؐ کے جھٹلانے میں کیا کچھ نہیں کیا۔ ان کا مکر، مکے میں بھی چھا گیا اور مکے پر ان کا تسلط ہوگیا اور جب وہ مکے سے مدینہ آرہے تھے تو حرا پہاڑ کی چوٹی سے میں نے ان کے قتل کرنے کی تدبیر کی۔ ہم نے گروہ کو جمع کیا اور سب نے ان کے خلاف جنگ کی۔ 
 اور تمہارے باپ ابو سفیان کو اونٹ پر سوار کیا اور کفار قریش کے احزاب و گروہوں کی وہ قیامت کرتے رہے اور محمدؐ کا یہ قول:
 لعن اللہ الراکب والقائد والسایق 
خدا کی لعنت ہو اس راکب و قائد اور سائق پر
اور اے معاویہ وہ راکب تیرا باپ ابوسفیان اور قائد تیرا بھائی عتبہ اور سائق تو خود ہے۔ 
 تیری ماں ہندہ نے کبھی آرام نہیں پایا اور اس نے اپنے غلام وحشی کو اپنا سب کچھ دے دیا اور اس نے حمزہؑ کے ساتھ کیا کیا۔ حمزہ ؑ کو روئے زمین پر اللہ کا شیر کہا جاتا تھا۔ وحشی نے ایک نیزے سے ان کا کام تمام کردیا اور ان کا جگر اور دل ان کے پیکر سے نکا ل کر تیری ماں ہندہ کو پیش کیا۔ ہندہ نے اس جگر کو چبایا مگر اس کو وہ نگل نہیں سکی کیوں کہ محمدؐ نے اپنے جادو سے اس کا منہ باندھ دیا تھا۔ محمدؐ اور ان کے ساتھیوں نے تیری ماں کو ’’ ہندی جگر خوارہ‘‘ کہنا شروع کردیا۔ 
نحن بنات طارق نمشی علی النمارق
کلدرنی المخالق والمسک فی المفارق
ان یقبلوا نعانق او یدبرو انفارق
فراق غیر وامق
ابو سفیان کے لشکر میں عورتوں کا زرد لباس تھا ان کے چہرے سینے اور سر برہنہ تھے اور وہ اپنے سپاہیوں کو محمدؐ کے خلاف مبارزے اور پیکار کےلئے اکسا رہی تھیں اور قتل ہوکر مرجانے پر انہیں رغبت دلارہی تھیں۔ اس بات کو ہرگز مت بھولنا کہ تم اپنی مرضی اور خوشی سے مسلمان نہیں ہوئے ہو۔ فتح مکہ کے روز بادل نا خواستہ تم لوگ مسلمان ہوئے۔ تمہیں زندہ چھوڑ دیا گیا اور تاریخ میںتمہارا نام طلقا ہوگیا۔ 
تیرے باپ نے اپنے دل میں یہ آرزو کی تھی اور خود بخود اس نے کہا : خداکی قسم اے ابو کبشہ کے فرزند میں ایک روز تمہارے خلاف سواروں اور پیادوں کے ساتھ جنگ کروں گا اور اپنے سب دشمنوں کا نابود کردوں گا اور محمدؐ نے اپنے لوگوں کے سامنے اس بات کا اعلان کردیا کہ وہ ابو سفیان کے دل کی بات سے آگاہ ہیں اور انہوں نے تیرے باپ سے کہا : اے ابو سفیان اللہ تیرے شر سے بچانے کےلئے کافی ہے۔ وہ اس روز لوگوں کو یہ دکھا رہے تھے کہ ان سے اور علیؑ سے اور ان کے اہل بیتؑ سے کوئی اونچا اور سر بلند نہیں ہے اور وہ سب سے افضل ہیں۔ 
 ان کا جادوباطل ہوگیا۔ ان کی کوشش کو میں نے بے کار بنا دیا ور ابوبکر کو سب سے بلند کر دکھایا اور ابو بکر کے بعد اسی بلندی پر میں نے اپنے قدم رکھ دیئے۔ اور اب میری آرزو ، تمنا اور خواہش ہے کہ گروہ بنی امیہ کا تمام عالم اسلام پر قبضہ اور تسلط رہے۔ اسی لئے میں نے تجھ کو شام کا والی قرار دیا اور تیری گردن میں اسلامی ملک کا قلادہ ڈٓل دیا ہے اور اس کو تیرے واسطے قرار دیا اور تمہارے بارے میں ، میں نے اس شعر کی بھی پرواہ نہیں کی کہ جس کو محمدؐ نے کہا تھا کہ ان پر یہ وحی نازل ہوئی ہے:
 والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن ( اسراء ص ۶)
 قرآن مجید بنی امیہ کو شجرۂ ملعونہ اعلان کرتا ہے ۔ سب مسلمان اس بات کو مانتے ہیں کہ ’’ قرآن میں شجرۂ ملعونہ بنی امیہ‘‘ ہیں۔ اب اس بات سے محمدؐ سے تمہاری دشمنی آشکار ہے۔ تم ہر حال میں شجرۂ ملعونہ رہو گے۔ بنی ہاشم اور بنی عبد الشمس میں دشمنی پرانی ہے اور اب یہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ 
 میری نصیحت ، وصیت ، حمایت اور پیار و محبت بس تیرے واسطے ہے۔ اے معاویہ اب تو اپنے دل کو تنگ مت کر اور تو اپنی رطف سے زیادہ حلم اور بردباری کی نمائش کرتا رہ۔ میری وصیت پر عمل کرنے میں جلد بازی مت کرنا اور حلم سے کام لینا میں تجھ کو زیادہ سے زیاہد طاقت ور بنادوں گا اور شریعت محمدؐ کا تجھ کو حاکم اور والی بنا کر چھوڑ دوں گا۔ امت محمدؐ تیری خلافت کو دل و جال سے قبول کرے گی۔ اگر تو مسلمانوں کو ڈرادھمکا کر اپنا بنانے کی کوشش کرے گا تو خود ہلاک ہوجائے گا اگر تو اپنی سر بلندی چاہتا ہے تو مسلمانوں کا احترام کرتے رہنا اور اپنی ذات کو تواضع اور انکساری صورت میں ہی ظاہر کرنا۔ 
اور جب تو مسجد محمدؐ میں جائے تو اپنی طرف سے بے حد احترام کرنا اور شریعت محمدؐ پر ظاہر میں پوری طرح عمل کرنا اور تو اپنی رعیت میں اپنی سخاوت اور حلم کی داستانوں کو رواج دینا اس طرح ہر مسلمان کےلئے تیری بخشش عام رہے ۔ حدود کے قائم کرنے میں کسی طر۵ح کی کوتاہی مت کرنا۔ ہاں اپنے مخالفوں کو کمزور بنا دینے میں کسی طرح کا تساہل سستی مت کرنا۔ لوگوں کے سامنے محمدؐ اور ان کی شریعت اور قرآن کی پوری طرح تصدیق کرنا اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی مت کرنا۔ سنت محمدیؐ میں تبدیلی مت کرنا۔ اگر تونے سنت محمدیؐ میں تبدیلی کی تو امت ہمارے خالف ہوجائے گی۔ انہیں ان کے ہی ہاتھوں سے قتل کرنا۔ ان سے ان کی پناہ گاہوں کو سلب کردینا، انہیں کی تلوار اور انہیں کا سر ہو۔ اپنی طرف سے ہمیشہ ان پر مہربانی اور کرم کرنا۔ ان کے حق میں کنجوسی مت کرنا۔ انہٰں ان کی قوم کے چودھری کے ذریعے قتل کرنا، ان کے قتل میں تیرا ہاتھ نمایاں نہ ہو۔ تیرا چہرہ ہمیشہ شاد اور بشاش رہے۔ اپنے دربار میں لوگوں کا کھلے دل سے استقبال کرنا، کبھی اپنے غیظ و غضب کو ظاہر مرت ہونے دینا۔ اگر وہ کوئی غلطی کریں تو انہیں معاف کرنا۔ اس طرح وہ تجھ پر واری اور صدقے ہونے لگیں گے اور تیری اطاعت کا دم بھریں گے۔ 
 علیؑ اور ان کے فرزندوں حسنؑ اور حسینؑ کی مخالفت سے کبھی مطمئن ہوکر مت بیٹھ جانا ۔ اگر امت کی تجھ کو حمایت حاصل ہوجائے تو پھر جو تو چاہتا ہے اس کو کر گزرنا اور کبھی چھوٹی باتوں کو اہمیت مت دینا اور بڑے امور سے غافل مت رہنا۔ ہمیشہ میری وصیت کو یاد رکھنا اور میرے عہد و میثاق کو فراموش مت کرنا۔ ان امور کو ہمیشہ پنہاں رکھنا۔ میرے اوامر اور فرامین پر عمل کرتے رہنا اور جن باتوں سے میں نے منع کیا ہے تو بھولے سے بھی ان کے قریب مت پھٹکنا۔ میری اطاعت کے لئے کھڑے ہوجانا اور میری مخالفت سے پرہیز کرنا اور اپنے اسلاف کے راستے ہی پر چلتے رہنا۔ اپنے خونوں کو طلب کرنا اور ان کی روش اور نشانات کو ڈھونڈھ نکال یہ تیرا ہی کام ہے اور میرا فرمان ہے۔ میں نے اپنا باطن اور ظاہر تیرے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے اور یاد رکھنا میرے اس خط کو ہمیشہ راز میں رکھنا اور میرے مرنے کے بعد اپنے کفن میں ساتھ لے جانے کی وصیت کردینا‘‘۔
 میں نے اپنی اولاد کو وصیت کردی ہے کہ وہ ہر حال میں تیرے ساتھ ہی رہیں اور اہل بیتؑ کی دشمنی میں وہ صبح اور شام بسر کریں۔ 
عبد اللہ بن عمر خطاب نئے اپنے باپ کا عہد نامہ پڑھنے کے بعد یزید لعین کے سر نجش کو بسہ دیا اور کہا : الحمد اے امیر الفاسقین ( لعین) تونے ہمارے مذہب کے خارجی اور خارجی کے بیٹے کو قتل کردیا۔ 
خدا کی قسم میرے ابا نے جو کچھ تمہارے ابا میاں کو بتایا ہے وہ مجھ کو نہیں بتایا تھا کاش وہ مجھ کو ان باتوں سے آگاہ  کردیتے۔ انہوں نے مجھ سے یہ تو کہا تھا کہ میں ہر حال میں تیرے باپ معاویہ کے ساتھ رہوں اور میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہا ہوں اب میں عہد کرتا ہوں کہ میں اولاد محمدؐ سے میں جس کو بھی دیکھوں گا ہمیشہ ان سے اپنی دشمنی کا اظہار کروں گا اور کبھی کسی سے خوش نہیں ہوں گا۔ یزید پلید نےعبد اللہ بن عمر خطاب کو اپنے انعامات اور اکرامات سے نواز کر مدینے واپس بھیج دیا۔ لوگوں نے عبد اللہ بن عمر سے پوچھا کہ امیر الفاسقین نے تمہیں کیا بتایا؟ تو انہوں نے کہا : ایک حق با بتائی ہے اور اب میری میری آرزو ہے اے کاش میں خود بھی اس معرکے میں ان کے شانہ بہ شانہ ہوتا اور جس نے بھی عبد اللہ بن عمر خطاب سے اس بارے میں کوئی سوال کیا تو وہ یہی جواب دیتے اے کاش میں خود اس معرکے میں میں یزید پلید کے ساتھ ہوتا۔ یزید نے اسی طرح کا ایک عہد نامہ عثمان بن عفان کا بھی عبد اللہ بن عمر کو دکھایا۔ یہ عہد نامہ عمر خطاب کے عہد نامے سے بھی بڑھ کر توہین آمیز تھا۔ ( بحار ، جلد ۸، ص۲۲۹۔۲۳۳۔ طبع کمپانی)
کتابی حوالے
از فعلت فلاتلم صفحہ ۲۵۵، یوم الغدیر و از حوالہ علامہ مجلسی جنوہں نے تاریخ الجامع بلاذری ۱۰۰ھ سے لکھا ہے اور اسی واقعے کو صاحب سللہ تالیفات صابریہ کی دوسری کتاب ’’ثبوت خلافت‘‘ جلد دوئم کے صفحہ ۱۰۲ پر بھی لکھا ہے جو ۱۳۴۴ھ؁ میں ڈاکٹر نور نے شائع کیا اور صاحب انوار انعمانیہ نے بھی اس خفیہ عہد نامہ کو بلاذری کی تاریخ سے نقل کیا ہے اور تنزیہ الانساب حصہ ثانیہ صفحہ ۷۱، ۷۲ پر بھی خط موجود ہے۔ 




سلامٌ علیکم

باسمہ تعالیٰ

سلامٌ علیکم

محمد حسنین باقری
اسلامی تہذیب و ثقافت اور کلچر دنیا کیہر تہذیب سے برتر ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہر پہلو، ہر قدم، ہر جگہ، ہر مرحلہ، ہر کام، ہر چیز میں راہنمائی موجود ہے۔ زندگی سے متعلق ہر چیز کے لئے احکامات بیان ہوئے ہیں کوئی بھی شعبۂ حیات راہنمائی و احکامات سے خالی نہیں ہے۔ انھیں احکامات و تعلیمات میں ’’سلام‘‘ بھی ہے۔ سلام کا مطلب ہے ایک دوسرے کی سلامتی چاہنا اور خدا سے سلامتی کی دعا کرنا۔ تم صحیح و سالم رہو، خدا تم کو سلامت رکھے، تمہارے لئے سلامتی ہو۔ یہ ہے ’’سلامٌ علیکم‘‘ کا مطلب۔ کسی بھی دین و مذہب اور کلچر و ثقافت میں سلام کی اتنی تاکید نہیں ہے جتنی اسلام میں ہے۔ جہاں ایک طرف قرآن کہہ رہا ہے:’’وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا۔۔۔‘‘ (سورہ نساء آیت۸۶) یعنی ’’اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ(سلام) پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو‘‘۔یا جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ابدؤا بالسلام قبل الكلام فمن بدأ بالكلام قبل السلام فلا تجيبوہ‘‘ ۔ گفتگو سے پہلے سلام کرو اور اگر کوئی سلام سے پہلے گفتگو کرے تو اس کا جواب نہ دو۔یعنی جبتک آپس میں سلام و آداب سلام انجام نہ پا جائیں گفتگو شروع نہ کرو۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلام میں سلام کا انداز و طریقہ ’’سلام علیکم‘‘ ہے۔ اسی جملہ کی تاکید ہے، اس کی جگہ پر دوسرے الفاظ سلام کا اسلامی طریقہ نہیں ہیں۔ جب معصومینؑ نے سلام علیکم کے لئے فرمایا ہےتو ہم اسی لفظ کے ذریعہ اس عمل کو انجام دیں۔ اور سلام علیکم کا جواب بھی علیکم السلام ہی ہے کوئی اور لفظ نہیں۔ اگر کسی نے ہم سے ’’سلام علیکم‘‘ کہا ہے تو صرف سر ہلا دینے یا ہاتھ اٹھادینے سے جواب نہیں ہوجاتا بلکہ اپنی زبان سے ’’علیکم السلام‘‘ کہنا پڑے گا۔ سلام کے لئے بہتر تو یہی ہے کہ چھوٹے بڑوں کو سلام کریں لیکن لازم و ضروری نہیں کہ بلکہ بڑے بھی اگر چھوٹوں کو سلام کریں تو ان کی تربیت کے لئے یہ بہتر ہے۔ اسی طرح اگر شوہر بیوی کو سلام تو کائی حرج نہیں ہے۔ 
سوال: مسجد میں وارد ہوتے وقت سلام کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس لیٔے کہ سلام کرنا، نمازیوں کی توجہ ہٹ جانے کا سبب بنتا ہے؟
جواب: بہتر ہے کہ سلام نہ کیا جائے۔
۲سوال: آیا نماز کی حالت میں سلام کا جواب دینا واجب ہے؟
جواب: ہاں جواب واجب ہے لیکن واجب ہیکہ جس طرح سلام کیا ہے اسی طرح جواب دے پس لفظ سلام کے جواب میں سلام کہے اور علیکم کو نیت میں رکھے یا پھر سلام علیکم کہے اور سلام علکیم کے جواب میں احتیاط واجب کی بنا پر سلام علیکم کہے علیکم سلام نہ کہے۔
۳سوال: کافر اگر سلام کرے تو جواب دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر لفظ سلام کے علاوہ کویٔی اور لفظ بولے تو اسی طرح جواب دے سکتے ہیں، لیکن اگر لفظ سلام کا استعال کرے تو جواب میں فقط (علیک) کہیں۔







تشہد :

تشہد :

دو رکعتی نماز میں دوسری رکعت کے آخری سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد واجب ہے۔ اور تین و چار رکعتی نماز میں دو مرتبہ واجب ہے۔ایک تو سابق کی طرح یعنی دوسری رکعت کے آخری سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد۔ اور دوسرا تشہد آخری رکعت کے دوسرے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد۔اور یہ تشہد واجب غیر رکنی ہے لہذا اگر جان بوجھ کر اور عمداً چھوڑا جائے تو نماز باطل ہوجائے گی اور اگر بھولے سے چھوٹ جائے تو اگر ابھی رکوع میں نہیں گیا ہے بجالائے گا اور اگر رکوع میں جانے کے بعد یاد آئے تو نماز کے بعد قضا کرے گا ساتھ دو سجدہ سہو بھی انجام دےگا۔
واجبات تشہد:تشہد میں سات چیزیں واجب ہیں:
(۱) دو شہادتیں(توحید و رسالت کی گواہی)۔
 (۲) محمد و آل محمد پر صلوات۔ لہذا کہے:اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللّهُ وَحْدَهُ لاشَرِیكَ لَهُ، وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُه، اَلّلهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّد وَ آلِ مُحَمَّد "۔
اور بنابر اقوی اس طرح کہنا بھی کافی ہے: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله،  اللهم صل على محمد وآل محمد 
 (۳) مذکورہ ذکر کی مقدار میں بیٹھنا۔
(۴)طمانینت یعنی بااطمینان بیٹھنا۔
(۵) مذکورہ ترتیب سے پڑھنا(یعنی پہلی گواہی کو دوسری پر مقدم کرنا اور دونوں گواہیوں کو صلوات پر)۔
(۶) مذکورہ تینوں فقرات اور کلمات و حروف میں موالات یعنی پے در پے کہنا اس طرح سے کہ درمیان میں اتنا فاصلہ نہ ہوجائے کہ عرف عام میں صادق آنے سے خارج ہوجائے۔
(۷)حروف و کلمات کی ادائیگی اور انکے اعراب و حرکات و سکنات کو صحیح عربی میں ادا کرے۔
مسألہ نمبر۱: شہادتین اور صلوات کو رائج و متعارف الفاظ ہی میں کہے(یعنی اہل شرع کے نزدیک جو الفاظ رائج ہیں اسی طرح کہے) اس سے ہٹ کر کسی دوسرے الفاظ سے کہنا کافی نہیں ہے اگرچہ وہ دوسرے الفاظ وہی معنی بیان کررہے ہوں مثلاً ’’أشھد‘‘ (میں گواہی دیتا ہوں)کے بجائے ’’أعلم‘‘ (میں جانتا ہوں) یا ’’أقرّ‘‘ (میں اقرار کرتا ہوں)یا ’’أعترف‘‘ (میں اعتراف کرتا ہوں) وغیرہ جیسے الفاظ کہنا کافی نہیں ہیں۔
مسالہ نمبر۲: تشہد کی حالت میں ہر طریقہ و انداز سے بیٹھنا کافی۔ چاہے بطور اقعاء کے ہو، اگرچہ احوط اس کا ترک ہے۔
مسالہ نمبر۳: جس شخص تشہد یاد نہ ہو یا ذکر تشہد سے جاہل ہو اس پر سیکھنا اور یاد کرنا واجب ہے اور جب تک یاد نہ ہو دوسرا شخص پڑھے یہ اس کے ساتھ ساتھ پڑھتا رہے۔ اور اگر یاد نہ ہو اور کوئی دوسرا پڑھوانے والا بھی نہ ہو یا وقت تنگ ہو تو جتنا جانتا ہو اتنا کہے بقیہ اپنی زبان میں ترجمہ پڑھے اور اگر کچھ بھی نہ جانتا ہو تو پورا اپنی زبان میں ترجمہ کہے اور اگر ترجمہ بھی جانتا وہ تو تشہد کی مقدار میں دیگر اذکار کہے اور بہتر ہے کہ ایسی حالت میں ’’الحمد للہ‘‘ کہے بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر ادا کرسکتا ہو اور اگر کوئی بھی ذکر نہ جانتا ہو تو حتی الامکان تشہد کی مقدار میں ذکر خدا اپنے دل میں دہرائے۔
مسالہ نمبر۴: (مستحبات تشہد:)تشہد میں چند چیزیں مستحب ہیں:
(۱) مرد تشہد کی حالت میں بطور متورّک بیٹھے(اس طرح سے کہ بائیں ران کے اوپر بیٹھے اور داہنے قدم کی پشت کو بائیں قدم کے باطن پر رکھے)
(۲) ذکر تشہد شروع کرنے سے پہلے ’’الحمد للہ‘‘ کہے۔ یا کہے: ’’بسم الله وبالله والحمد لله وخير الأسماء لله ‘‘یا ’’ الأسماء الحسنى كلها لله‘‘ 
(۳) دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھے اور انگلیاں ملی ہوئی ہوں۔
(۴) نگاہیں آغوش کی طرف ہوں۔
(۵)’’وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ‘‘ کہنے کے بعد کہے:’’أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، وأشهد أن ربي نعم الرب وأن محمدا نعم الرسول ‘‘پھر صلوات پڑھے: ’’ اللهم صل على محمد وآل محمد‘‘۔
(۶)صلوات کے بعد:’’وتقبل شفاعته وارفع درجته ‘‘۔ کہے اس کو پہلے تشہد میں بلکہ دوسرے تشہد میں بھی کہہ سکتے ہیںاگر چہ بہتر یہی ہے کہ دوسرے تشہد میں بغیر خصوصیت کے قصد کے کہے۔
(۷) پہلے اور دوسرے تشہد میں بنابر موثقہ ابی بصیر اس طرح کہے : امام نے فرمایا:جب تم دوسری رکعت میں بیٹھو تو کہو: ’’بسم الله وبالله، والحمد لله وخير الأسماء لله، أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، أشهد أنك نعم الرب، وأن محمدا نعم الرسول، اللهم صل على محمد وآل محمد، وتقبل شفاعته في امته وارفع درجته ‘‘پھر دو مرتبہ یا تین مرتبہ الحمدللہ کہو اس کے بعد تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہوجائو اور آخری رکعت میں کہو:’’بسم الله وبالله والحمد لله وخير الأسماء لله أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، أشهد أنك نعم الرب، وأن محمدا نعم الرسول، التحيات لله، والصلوات الطاهرات الطيبات الزاكيات الغاديات الرائحات السابغات الناعمات ما طاب وزكى وطهر وخلص وصفى فلله أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، أشهد أن ربي نعم الرب، وأن محمدا نعم الرسول، وأشهد أن الساعة آتية لا ريب فيها، وأن الله يبعث من في القبور، الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، الحمد لله رب العالمين، اللهم صل على محمد وآل محمد، وبارك على محمد وآل محمد، وسلم على محمد وآل محمد، وترحم على محمد وآل محمد، كما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد، اللهم صل على محمد وآل محمد، واغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان، ولا تجعل في قلوبنا غلا للذين آمنوا، ربنا إنك رؤف رحيم، اللهم صل على محمد وآل محمد، وامنن علي بالجنة وعافني من النار، اللهم صل على محمد وآل محمد واغفر للمؤمنين والمؤمنات، ولا تزد الظالمين إلا تبارا ‘‘پھر کہو: ’’السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام على أنبياء الله ورسله، السلام على جبرئيل وميكائيل والملائكة المقربين، السلام على محمد بن عبد الله خاتم النبيين، لا نبي بعده، والسلام علينا وعلى عباد الله الصالحين‘‘۔ پھر سلام پڑھو۔
(۸)پہلے تشہد کے بعد سات مرتبہ ’’سبحان اللہ ‘‘کہہ کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہونا چاہئیے۔
(۹)پہلے تشہد کے بعد کھڑے ہوتے وقت ’’ بحول الله وقوته و اقوم و اقعد‘‘کہنا چاہئیے۔
(۱۰)عورت تشہد کی حالت میں دونوں رانوں کو ملا کر بیٹھے۔
مسئلہ نمبر۵: تشہد کی حالت میں اقعاء کرکے بیٹھنا مکروہ ہے احتیاطا اس کو ترک کرنا چاہئیے۔(عروۃالوثقیٰ،)
۱۱۰۹۔ سب واجب اور مستحب نمازوں کی دوسری رکعت میں اور نماز مغرب کی تیسری رکعت میں اور ظہر، عصر اور عشا کی چوتھی رکعت میں انسان کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ جائے اور بدن کے سکون کی حالت میں تشہد پڑھے یعنی کہے اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ وَحدَہ لاَ شَرِیکَ لَہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّمدًا عَبدُہ وَرَسُولُہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ اور اگر کہے اَشہَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّمدًا صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ عَبدُہُ وَرَسُولُہ تو بنابر اقوی کافی ہے۔ اور نماز وتر میں بھی تشہُد پڑھنا ضروری ہے۔
۱۱۰۔ضروری ہے کہ تشہد کے جملے صحیح عربی میں اور معمول کے مطابق مسلسل کہے جائیں۔
۱۱۱۱۔ اگر کوئی شخص تشہد پڑھنا بھول جائے اور کھڑا ہو جائے، اور رکوع سے پہلے اسے یاد آئے کہ اس نے تشہد نہیں پڑھا تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے اور پھر دوبارا کھرا ہو اور اس رکعت میں جو کچھ پڑھنا ضروری ہے پڑھے اور نماز ختم کرے۔ اور احتیاط مستحب کی بنا پر نماز کے بعد بے جا قیام کرے اور نماز کے سلام کے بعد احتیاط مستحب کی بنا پر تشہد کی قضا کرے۔ اور ضروری ہے کہ بھولے ہوے تشہد کے لئے دو سجدہ سہو بجا لائے۔
۱۱۱۲۔مستحب ہے کہ تشہد کی حالت میں انسان بائیں ران پر بیٹھے اور دائیں پاوں کی پشت کو بائیں پاوں کے تلوے پر رکھے اور تشہد سے پہلے کہے "اَلحَمدُ لِلّٰہِ" یا کہے۔ "بِسمِ اللہِ وَ بِاللہِ وَالحَمدُ لِلّٰہِ وَ خَیرُالاَسمَآءِ لِلّٰہِ" اور یہ بھی مستحب ہے کہ ہاتھ رانوں پر رکھے اور انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملائے اور اپنے دامن پر نگاہ ڈالے اور تشہد میں صلوات کے بعد کہے :"وَتَقَبَّل شَفَاعَتَہ وَارفَع دَرَجَتَہ"۔
(توضیح السائل، مراجع)ترجمہ محمد حسنین باقری

حضرت فاطمہ ع مکمل نمونہ عمل

باسمہ تعالیٰ

حضرت فاطمہ ع  مکمل نمونہ عمل

سید محمد حسنین باقری، لکھنؤ
صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، پیغمبر اکرم ﷺ و امّ المومنین حضرت خدیجہ  کی اکلوتی بیٹی، امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی رفیقۂ حیات اور امام حسن و امام حسین و جناب زینب و جناب ام کلثوم( اور جناب محسن) ؊ کی مادر گرامی اور نو اماموں کی جدۂ ماجدہ ہیں۔
اسم گرامی ’’فاطمہ‘‘ کا انتخاب قدرت نے اس لئے کیا تھا کہ آپ اپنی پیروی و محبت کرنے والوں کو آتش جہنم سے نجات دلانے والی ہیں (قال رسولُ اللّهﷺ: إنَّما سُمِّيَت ابنَتي فاطِمَةُ لأنَّ اللّه َ عزّ و جلّ فَطَمَها وفَطَمَ مَن أحَبَّها مِنَ النَّارِ.(أمالي الطوسي : ۳۰۰ .)یا اس لئے کہ آپ کی عظمت ومنزلت تک کسی عام انسان کی رسائی ناممکن ہے۔(قال الصادقؑ: اِنَّما سُمّیتْ فاطمۃ لانّ الخلْق فُطِمُوا عن مَعْرِفَتِھا(تفسیر فرات کوفی،ص۵۸۱؛ بحار۴۳؍۶۵)
القاب: زہرا، سیدۃالنساء، صدیقہ، طاہرہ،مبارکہ، زکیہ، راضیہ، مرضیہ، شہیدہ، مظلومہ، مقہورہ، مغصوبہ، بتول، محدّثہ اور بضعۃالرسول وغیرہ ہیں۔
ولادت باسعادت جمعہ کے دن ۲۰؍جمادی الاخریٰ ۵  بعثت کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
پانچ برس کی عمر میں ۱۰ بعثت میں ۱۰ رمضان المبارک کو آپ کی مادر گرامی ام المومنین حضرت خدیجہؑ کا انتقال ہوگیا۔اسی سال حضرت ابوطالبؑ کا بھی انتقال ہوا۔ اس سال مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت واقع ہوئی۔
یکم ذی الحجہ ۲ ہجری کو حضرت فاطمہؑ کی شادی حضرت علی ؑ کے ساتھ ہوئی۔ حضرت امیرالمومنینؑ نے زرہ فروخت کرکے پانچ سو درہم کامہر شادی سے پہلے ادا کیا ،مہر ہی سے ۶۳ درہم کا جہیز مہیا ہوا۔ شادی کے بعد شوہر کے گھر میں سارے کام خود ہی انجام دیتی تھیںجیسا کہ جب پیغمبر اکرمﷺ نے (شائد دوسروں کے پیغام اور نمونہ عمل کے لئے) گھر کے اندر کے کاموں کو جناب فاطمہؑ اور گھر کے باہر کے کاموں کو حضرت علیؑ سے مخصوص فرمایا، اس مو قع پر حضرت زہرا علیہا السلام نے فرمایا:’’ فَلَا یَعْلَمُ مَا دَاخَلَنِی مِنَ السُّرُوْرِاِلّاللّٰہُ بِاِکْفَاءِ  رَسُوْلُ اللہِ تَحَمُّلَ رِقَابَ الرِّجَالِ‘‘.(وسائل الشیعہ ج ۱۴،ص۱۲۳ ،ح۲۵۳۴۱؛۱۔مستدرک الوسائل، ج۱۳ص۴۸ / بحارالانوار، ج۴۳ ص۸۱ و ص۳۱)خداکے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ اس تقسیم سے میں کتنا خوش ہوئی اس لئے کہ میں مردوں کے شانہ بشانہ ہونے سے نجات پاگئی اور نامحرموں کے ساتھ ملنے جلنے اور ان سے ملاقات سے میں بچ گئی ۔
 ۷ ہجری میں جناب فضہ کے کنیز کے طور پر آنے کے بعد گھر کے سارے کام ایک دن خود کرتی تھیں اور ایک دن جناب فضہ۔جیسا کہ جناب سلمان کہتے ہیں کہ میں گھر میں داخل ہوا دیکھا حضرت زہرا علیہاالسلام بیٹھی ہوئی چکی چلا رہی ہیںاور چکی کے دستہ پر ہاتھوں سے جاری خون لگا ہوا ہے اور ایک طرف امام حسینؑ گریہ فرمارہے ہیں۔ میں نے یہ دیکھ کر کہا :اے بنت رسولؐ آپ کے ہاتھ زخمی ہوگئے ہیں اور یہ فضہ موجود ہیں (لہٰذا ان سے کام کروالیجئے) شہزادیؑ نے فرمایا:’’اَوْصَانِی رَسُوْلُ اللہِ اَنْ تَکُوْنَ الْخِدْمَۃُ لَہَا یَوْماً وَلِیْ یَوْماً فَکَانَ اَمْسِ یَوْمَ خِدْ مِتِہَا وَالْیَوْمُ یَوْمَ خِدْمَتِی‘‘   (دلائل الامۃ، ص۱۴۰؛۲۔دلائل الامامۃ، ص۴۹ / کتاب عوالم، ج۱۱ص۲۰۵)۔پیغمبرؐ اسلام نے مجھ سے وصیت فرمائی ہے کہ ایک دن فضہ گھر کاکام انجام دیں اور ایک دن میں۔ کل فضہ کے کام کا دن تھا اور آج میرے کام کا دن ہے۔یہ اہل بیتؑ کے گھرانے میں غلام نوازی اور انسانیت کا ایک نمونہ۔
 شادی کے بعد حضرت علیؑ نے جناب فاطمہ زہراؑ کے بارے میں فرمایا کہ ’’میں نے ان کو خدا کی عبادت میں بہترین مددگار پایا‘‘۔گویا بیوی کو اپنے شوہر کے لئے عبادت خدا میں بھی مددگار ہونا چاہئے۔
آپ نے عورتوں کی معراج ’پردہ‘ کو بتایا اور خود بھی ہمیشہ اس پر عامل رہیں اور پردہ کرکے رہتی دنیا تک کے لئے ایک آئیڈیل اور نمونۂ عمل چھوڑ گئیں کہ عورت کی عزت و آبرو اور اس کی واقعی اہمیت و عظمت اور اس کا وقار و کامیابی اس کے پردہ ہی میں ہے۔
 فرماتی ہیں:’’ خَیْرٌلَلنِّسَاءِ اَن لَا یَرَیْنَ الرِّجَالَ وَلَا یَرَاہُنَّ الرِّجَالُ‘‘.(کشف الغمہ، ج۲ص۲۳ / مکارم الاخلاق، ج۱ص۲۶۷ / بحارالانوار، ج۱۰۱ص۳۶)
  ایک عورت کے لئے سب سے بہتر اور سب سے اچھا یہ ہے کہ کوئی (نامحرم) مرد اس کو نہ دیکھے اور نہ وہ کسی (نامحرم) مرد کی طرف نگاہ کرے ۔
دوسری جگہ فرمایا:اَدْنیٰ مَا تَکونُ مِنْ ربِّھا ان تلزمَ قَعرَ بیتِھا ۔
( بحارالانوار، ج 43، ص 92؛ ج 100، ص 250؛ مناقب ابن مغازلي، ص 381؛ مقتل خوارزمي، ص 62. )
جس وقت عورت اپنے گھر میں امور خانہ داری اور اپنے بچوں کی تربیت میں مشغول ہوتی ہے اس وقت وہ خدا سے بہت قریب ہوتی ہے۔
زندگی کے کسی بھی رُخ پر کمی کا تصور نہ پایا گیا۔ باپ کا بھی خیال، شوہر کی بھی خدمت اور بچوں کی تربیت، ساتھ ہی ساتھ گھریلو ذمہ داریاں، عبادت الہی میں توجہ اور اس کی بجاآوری، دینی و سماجی امور پر توجہ اور ان کی انجام دہی۔ اگرچہ عورت کےلئے ایک ساتھ سارے پہلؤں پر توجہ دینا بہت سخت ہوتا ہے لیکن حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام نے کسی بھی طرف ذرہ برابر کمی نہ آنے دی اور عورتوں کےلئے مثال قائم کردی کہ تمام حالات میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیا جاسکتا ہے۔آپ نے بظاہر اقتصادی و مالی مشکلات میں گھر کا انتظام بہت ہی اچھے انداز سے چلانے کا نمونہ بھی پیش کیا۔ ساس بہو کے رشتوں میں بھی کبھی تلخی نہ آنے دی، اپنی طرف سے کسی کو بھی ذرہ برابر شکوہ کا موقع نہیں دیا۔
آپ کی عظمت و منزلت کو جہاں سورۂ کوثر، سورۂ دہر، آیۂ تطہیر، آیۂ مباہلہ وغیرہ نے بیان کیا وہیں حدیث قدسی میں ارشاد خداوندی ہے:
 ’’یَا أحمدُ لَولاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأفلاكَ، ولَولا عليٌّ لما خلقتك، ولولا فاطمة لما خلقتكما‘‘.
(کشف اللآلي، للعرندس ،السيد مير جہاني فی الجنۃ العاصمۃ، والعلامۃ المرندي في (ملتقۃ البحرين): ص14، و(مستدرک سفينۃ البحار): ج3 ص334،  (عوالم العلوم): ص26 عن (مجمع النورين)، و(من فقہ الزہراء (عليہا السلام): ج1 ص19.)
اے احمدؐ! اگر آپ نہ ہوتے میں زمین و آسمان کو خلق نہ کرتا، اگر علیؑ نہ ہوتے آپ کو پیدا نہ کرتا اور اگر فاطمہؑ نہ ہوتیں میں آپ دونوں کو پیدا نہ کرتا۔
پیغمبر رحمتﷺ نے بھی اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے حضرت فاطمہؑ کے فضائل و مناقب اور عظمت و اہمیت کو بیان کیا۔ ایک دو نہیں متعدد حدیثیں عالم اسلام کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں مثلا: معتبر کتابوں میں حضرت عائشہ سے یہ جملہ انتہائی عظمت و منزلت کو ظاہر کر رہا ہے: 
 مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهَا ، كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَبَّلَهَا، وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ۔۔۔(سنن أبو داود،ح5217وصحیح الترمذي (3872)۔
یعنی رسول اکرمؐ سے ہر اعتبار سے سب سے زیادہ مشابہ فاطمہ زہرا تھیں، اور جب بھی وہ پیغمبرؐ کے پاس آتی تھیں تو نبی اکرمؐ کھڑے ہوجایا کرتے تھے، ہاتھ پکڑتے تھے، بوسہ دیتے تھے، اور اپنی جگہ پر بٹھایا کرتے تھے، یہی برتاؤ فاطمہ زہراؑ بھی نبی کے ساتھ کرتی تھیں۔
اسی طرح بہت سی معتبر کتابوں منجملہ صحاح ستہ میں یہ حدیث موجود ہے کہ پیغمبرؐ نے فرمایا:’’فاطمة بضعة مني فمن اذاها آذاني ومن آذاني آذى الله‘‘یا ’’ فمن اغضبھا اغضبنی‘‘. فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی، جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا، جس نے مجھے غضبناک کیا اس نے خدا کو غضبناک کیا۔
)صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، باب مناقب اقرباء رسول خداؐ، مناقب حضرت زہراؑ؛ صحیح ابی داود، ج12، باب مکروہات جمع میان زنان؛ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل حضرت زہراؑ؛ صحیح ترمذی، ج 2، ص319 باب فضیلت فاطمہؑ، علامہ امینیؒ نے ’الغدیر‘ ج۷،ص۲۳۲ پر اسی حدیث کو ساٹھ معتبر علمائے اہل سنت سے نقل کیا ہے)۔
اور رسول اکرمؐ کا حضرت فاطمہؑ سے خطاب کہ: انّ اللہ یَغْضِبُ لِغَضبکِ و یرضی لرضاکِ۔ (مستدرک حاکم، ۳؍۱۵۴ و۔۔)
یہ اور اس طرح کی متعدد معتبر و صحیح اور متفق علیہ احادیث کی روشنی میں ثابت ہے کہ حضرت فاطمہؑ کی ناراضگی، خدا و رسولؐ کی ناراضگی ہے۔ حضرت فاطمہؑ کا غضب ناک ہونا، خدا و رسولؐ کا غضبناک ہونا ہے۔ اور حضرت فاطمہؑ کی مرضی ہی خدا و رسولؐ کی مرضی ہے۔ 
رسول اکرمؐ کی طرح علم الٰہی کے حامل، پیغمبر ؐ کے حقیقی جانشین، زمین پر خدا کی حجت اور نمائندہ الٰہی یعنی ائمہ معصومین علیھم السلام نے پیغمبرؐ کی طرح حضرت زہراؑ کی عظمت و فضیلت کو اپنے قول و عمل کے ذریعہ پیش کیا ہے مثلاً:امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: هي الصديقةُ الكبرى وعلى معرفتِها دارت القرون الأولى۔(بحار ۱۰۵؍۴۳، ح۱۹؛ امالی طوسیؒ)۔
یہی صدیقۂ کبری ہیں اور آپ کی معرفت و شناخت پر ہی گذشتہ کے ادوار گردش کر رہے ہیں ۔
امام حسن عسکري؈ نے فرمایا:’’ نَحْنُ حُجج الله على خلقه ، وجّدتنا فاطمة عليها السلام حُجّة الله علينا‘‘۔(تفسير أطيب البيان۱۳؍۲۲۶)
ہم ائمہؑ اللہ کی تمام مخلوقات پر اس کی حجت ہیں اور ہماری جدۂ ماجدہ حضرت فاطمہ ہمارے اوپر حجت ہیں۔
امام زمانہ ؑ کا ارشاد گرامی ہے:فِی ابنَةِ رَسولِ اللَّهِ لي أُسوَةٌ حَسَنَةٌ۔ رسولؐ کی بیٹی میں میرے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔
( الغیبۃ، شیخ طوسی، ص286، ؛ الاحتجاج، طبرسی، ج 2، ص 537، ( ») ; بحارالانوار، ج 53، ص 180.)۔
خدا و رسولؐ کو غضبناک کرنے اور اذیت دینے کے سلسلے میں ارشاد الٰہی ہے:’’یقینا جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیاّ کر رکھا ہے‘‘۔(سورہ احزاب، آیت ۵۷)
اس کے علاوہ سورہ توبہ، آیت ۶۱؛سورہ ممتحنہ، آیت۱۳؛سورہ طٰہٰ، آیت ۸۱ وغیرہ بھی اس سلسلے میں صریح ہیں۔
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم غور و فکر کریں اور قرآن و حدیث و سیرت پیغمبر اکرمؐ کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقی اسلام کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ آخرت میں کف افسوس ملنا نہ پڑے، وہ کام کریں جس سے خدا و رسولؐ راضی ہوں اور ہر اس کام سے پرہیز کریں جو خدا و رسول کی نارضگی کا سبب ہے، وہی راستہ اختیار کریں جو خدا و رسولؐ کا راستہ ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ حق تھیں، ان کا ہر قدم حق تھا، ان کا ہر اقدام حق تھا، انھوں نے جو عمل بھی انجام دیا وہی سو فیصد صحیح تھا، انھوں نے جو راستہ اپنایا صرف وہی حق ہے، وہی صحیح ہے۔پیغمبر اکرمﷺ کے بعد جس کو حضرت فاطمہ ؑ نے اپنا امام و رہبر تسلیم کیا ہم نے اسی کو مانیں اور یہ ثابت و مسلّم ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ نے پیغمبرؐ کے بعد صرف اور صرف حضرت علی علیہ السلام کو اپنا امام و رہبر اور بطور جانشین تسلیم کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے کامیابی کا معیار بتایا تو فرمایا:
إنَّ السَّعیدَ كُلَّ السَّعیدِ، حَقَّ السَّعیدِ مَنْ احَبَّ عَلیّا فى حَیاتِهِ وَ بَعْدَ مَوْتِهِ،, وان الشقي كلّ الشقي حق الشقي من ابغض عليا في حياته و بعد وفاته۔
ینابیع المودۃ ۱؎ ۳۷۶؛شرح نهج البلاغه ابن ابى الحدید:ج2، ص 449 )40.؛;المتقي الهندي ج13 ص 145 حديث36458 ، ؛بحار الانوار 27: 74/1.)
بیشک سب سے بڑا سعادت مند اور خوش نصیب شخص، مکمل طور پر کامیاب ،جسے حق ہے کامیابی کا وہ ہے جس نے علیؑ سے ان کی زندگی اور مرنے کے بعد محبت کی ۔اور بد بخت و بد نصیب ہے مکمل طور پر شقی ہے، جسے حق ہے بدبختی کا وہ ہے جو علیؑ سے زندگی میں یا مرنے کے بعد دشمنی رکھے۔
صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہؑ کے سلسلے میں صحیح بخاری جیسی مسلمانوں کی اہم و معتبر کتاب میں جو جملات ملتے ہیں یہ ہر مسلمان کے قابل غور ہیں کہ وہ حکام وقت سے سخت ناراض تھیں:
فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْ ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَيْلا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ۔(صحيح البخاري – البخاري – ج 5 – ص 82 – 83)
البتہ یہ بات صرف صحیح بخاری ہی نہیں بلکہ بہت سی معتبر و مشہور کتب اہل سنت میں موجود ہے ، یہ جملہ:قال فهجرته فاطمة فلم تكلمه حتى ماتت،(حضرت فاطمہؑ نے خلیفہ اول سے ناراض ہوکر ان سے قطع تعلق کرلیا اور مرتے وقت تک ان سے بات نہیں کی) مندر جہ ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
(صحيح بخاری،ج۸،ص۳ ؛صحيح مسلم ،ج۵، ص۱۵۳۔۱۵۴؛السنن الکبری، بیہقی،ج۶،ص۳۰۰؛عمدۃ القاري،عينی، ج۱۷،ص۲۵۷۔۲۵۹ ؛صحيح ابن حبان،ج۱۱،ص۱۵۲۔۱۵۳؛شرح نہج البلاغہ – ابن أبی الحديد، ج۶،ص۴۷۔۵۱؛ الطبقات الکبری، – محمد بن سعد،ج۲،ص۳۱۵؛تاريخ المدينہ، – ابن شبہ نميری،ج۱،ص۱۹۶)
آخری وقت حضرت فاطمہؑ نے کس انداز سے ان ’’دونوں‘‘ سے اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا اس کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں میں ہم مراجعہ کریں:
(بحار، ج۲۸ص۳۰۳ / دلائل الامامۃ، ج۱ص۴۵ وص۱۴ / الامامۃ والسیاسۃ، ابن قطیبہ دینوری، ج۳ص۱۲ و ۱۴تحقیق زینی،ج۱، ص۲۰)
لیکن اس عظمت و جلالت اور صریحی آیات و احادیث اور عمل رسولؐ کے بعد بھی نتیجہ کیا ہوا؟!!رسول اکرمؐ کے بعد حضرت فاطمہ زہراؑ کے ساتھ کیسا برتاؤ ہوا،کیسا سلوک ہوا؟، باغ فدک زبردستی چھینا گیا، تمام مالی فائدے بند کردئے گئے، خلیفۂ وقت نے صدیقۂ طاہرہؑ کے مطالبے کو رد کردیا، دربار خلافت میں جھٹلایا گیا!، حضرت علیؑ کی تکذیب ہوئی، خلیفہ ثانی نے جلتا ہوا دروازہ حضرت فاطمہ ؑ پر گرایا جس سے جناب محسنؑ شکم مادر میں شہید ہوگئے، پسلیاں ٹوٹ گئیں، سینے میں کیل در آئی، پہلو ٹوٹ گیا، خلیفہ ثانی نے تازیانہ مارا جس سے بازو ٹوٹ گیا،جب خلیفہ اول نے مجبور ہوکر فدک کے بارے میں نوشتہ دیا تو دوم نے چھین کر پھاڑ دیا اور سیلی ماری، بستر بیماری پر پڑیں شہادت کے وقت تک اٹھنے کے لائق نہ رہیں، ایسے مصائب ڈھائے گئے کہ ۱۸ ہی سال کی عمر میں سر کے بال سفید ہو گئے، کمر جھک گئی، عصا کے سہارے چلنے پر مجبور ہوئیں، جسم اتنا کمزور ہوا کہ ’’صارت کالخیال‘‘ صرف ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا، دعا کرتی تھیں کہ ’’الہی عجّل وفاتی سریعاً‘‘ پروردگار اب سیدہ کو اس دنیا سے اٹھا لے، مرثیہ پڑھا: صبّت علیّ مصائبٌ۔۔۔ بابا آپ کے بعد جو مصائب ڈھائے گئے اگر دنوں پر پڑتے تو تاریک شب میں بدل جاتے۔
آپؑ نے در بار خلافت میں خلفائے وقت کے خلاف اپنے اور علیؑ کے مسلم الثبوت حق کے دفاع کے لئے معرکۃالآرا خطبہ ارشاد فرمایا جسے ’خطبۂ فدک‘ کہا جاتا ہے جو ایک طرف حقانیت اہل بیتؑ و حقانیت امیرالمومنینؑ کی دلیل بھی ہے نیز علیؑ و فاطمہؑ سےدشمنی کرنے والوں کے باطل ہونے اور دشمنِ خدا و رسولؐ ہونے کی دلیل بھی ہے۔ 
یہ مصائب اور سختیوں کا اظہار ہی تھا کہ آخری وقت وصیت فرمائی:یا علی! انا فاطمة بنت محمد زوجنی الله منک لاکون لک فی الدنیا و الآخرة انت أولی بی من غیری حنطنی و غسلنی و کفنی باللیل و صل علی و ادفنی باللیل و لا تعلم احدا و استودعک الله و اقرء علی ولدی السلام الی یوم القیامة (بحار الانوار، ج ۴۳، ص ۲۱۴؛ بیت الاحزان،ص۱۵۲).
 اے علیؑ! میں فاطمہؐ بنت محمدؐ ہوں! خدا وند عالم نے مجھے آپ کی زوجہ قرار دیا تاکہ دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ دوسروں کی بنسبت میرے نزدیک شائستہ تر ہیں۔ ، مجھے شب میں حنوط اور غسل دیجئے، شب ہی میں مجھ پر نماز پڑھئے اور شب ہی میں دفن کیجئے، کسی کو بھی خبر نہ کیجئے، آپ کو خدا کے سپرد کرتی ہوں اور اپنے بیٹوں پر قیامت تک سلام بھیجتی ہوں۔ 
ایک وصیت یہ تھی:’’ آپ کے جنازے پر ان میں سے کوئی نہ آئے جن سے آپ زندگی میں ناراض تھیں، ان میں سے کوئی آپ کی نماز جنازہ نہ پڑھے اور رات کو جنازہ اٹھایا جائے ۔
 چنانچہ اسی وجہ سے حضرت ابوبکر و عمر کو اجازت نہ دی گئی۔ (طبقات ابن سعد الجزء الثامن ذکر فاطمہ صفحہ ۱۹) اور نہ حضرت عائشہ کو اجازت دی گئی۔
( الاستیعاب جلد ۲ صفحہ ۷۷۲)
امام حاکم کا قول ہے کہ:’’حضرت فاطمہ ؐ رات کو دفن ہوئیں، حضرت علیؑ نے غسل دیا جنازہ اٹھایا اور رات کو دفن کیا اور حضرت ابو بکر کو اس کی اطلاع نہ ہوئی۔ (مستدرک الجزء الثالث صفحہ ۱۶۲)
حضرت ابوبکر نے صریحی اعتراف کیا کہ کاش میں نے فاطمہ کے گھر پر حملہ نہ کیا ہوتا، کاش میں نے سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کو قبول نہ کیا ہوتا۔۔۔
(میزان الاعتدال،ذہبی،ج3,109-؛لسان المیزان ابن حجر-ج4-ص889-؛تاریخ طبری-ج3-430))
مظالم و مصائب کا نتیجہ تھا کہ ۱۸ ہی سال کی عمر مبارک میں ۳؍جمادی الاخریٰ یا ۱۳؍ جمادی الاولیٰ ۱۱ ہجری کو جام شہادت نوش کیا، آپؑ کی شہادت کتنی سخت اور عظیم تھی کہ حضرت علیؑ جیسے عظیم المرتبت اور صابر انسان نے بھی جو مرثیہ پڑھا ہے وہ ہر دردمند انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے بالخصوص ہر محبّ علیؑ و فاطمہؑ کو متوجہ کرتا ہے کہ سیدۂ کونینؑ کی المناک شہادت پر شناخت و معرفت کے ساتھ غم منائے اور گریہ و بکا و عزاداری کرے۔ 
حضرت علی ؑ نے دفن کے وقت  جو جملات ارشاد فرمائے:
آپ سے بہت جلد ملحق ہوجانے والی بیٹی کا سلام ہو۔آپ کی برگزیدہ بیٹی کی رحلت سے میرا صبر و شکیب جاتا رہا۔ میری ہمت و توانائی نے ساتھ چھوڑ دیا۔۔۔یہ امانت مجھ سے چھین لی گئی، گروی رکھی ہوئی چیز چھڑا لی گئی، ۔ اب تو میرا غم بے پایان اور میری راتیں بے خواب رہیں گی۔۔۔آپ کی بیٹی آپؐ کو بتائیں گی کہ کس طرح آپ کی امت نے اُن پر ظلم ڈھانے کےلئے ایکا کرلیا، آپ ان سے پورے طور سے پوچھیں اور تمام مظالم و واردات دریافت کریں۔(نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۲۰۰)
اور بنت نبیؐ پر ڈھائے گئے مظالم کی نشانی یہ بھی ہے کہ آج تک اس مظلومہ کی قبر کا صحیح پتہ نہیں ہے، احتمال ہے کہ جنت البقیع میں ہو، لیکن یہ معلوم نہ ہونا اور قبر کا پوشیدہ رہنا ہر رسولؐ کے چاہنے والے کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بنت نبیؐ پر کیا گزری ؟ انھوں نے یہ وصیت کیوں کی کہ قبر پوشیدہ رہے؟آج تک اس مظلومہ و مقہورہ کی قبر کیوں پوشیدہ ہے؟؟؟!!!
ایسی ذات گرامی جو پوری کائنات کےلئے آئیڈیل اور نمونۂ عمل ہے، ہم کوشش کریں کہ اس صدیقہ طاہرہؑ کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنائیں اور آپ کو پہچاننے اور صحیح معرفت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کنیزان جناب سیدہؑ کو خصوصی طور پر چاہئے کہ شہزادی کو نمونۂ عمل بنائیں ، آپ کے نقش قدم پر چلیں، گھر اور باہر بلکہ ہر جگہ آپ کی ہی سیرت کو اپنائیں، حجاب و پردہ پر خصوصی توجہ دیں، اپنے کو پردہ کا پابند بنائیں،بے پردہ رہ کر حضرت فاطمہ ؑ کو تکلیف پہنچانے سے بچیں۔ گھر میں ماں باپ، ساس سسر، شوہر اور اولاد کے ساتھ وہ طریقہ اپنائیں جو حضرت زہراؑ نے اپنایا تھا ، سب کا خیال رکھیں، سب کے حقوق ادا کریںتاکہ گھر کا ماحول بھی خوش گوار رہے اور گھر جنت نظیر بن جائے۔ اولاد کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، ان کو دین کا پابند بنائیں، ان کی دنیا و آخرت دونوں کی فکر کریں۔اور شہزادی کا یہ پیغام و معیار ہمیشہ اپنی نگاہوں میں رکھیں:’’  اِنْ کُنْتَ تَعْمَلُ بِمَا اَمَرْنَاکَ وَتَنْتَھِی عَمّا زَجَرْنَاک عَنْہُ فَاَنْتَ مِنْ شِیْعَتِنَا وَ اِلَّا فَلَا ‘۔اگر تم ہماری بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہو اور ہماری منع کی ہوئی باتوں سے خود کو بچاتے ہو تو تم ہمارے شیعہ ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو تم ہمارے شیعہ نہیں ہو۔اور مایوسی کا شکار نہ ہوں اس لئے فرمایا ہے:شِیْعَتُنَا مِنْ خِیَارِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ وَکُلُّ مُحِبِّیْنَا وَمَوَالِی اَوْلِیائِنَا وَمُعَادِیْ اَعْدَائِنَا وَالْمُسْلِمُ بِقَلْبِہٖ وَلِسَانِہٖ لَنَا لَیْسُوْا مِنْ شِیْعَتِنَا اَذَا خَالَفُوا اَوَامِرِنَا وَنَوَاہِیْنَا فِی سَائِرِ الْمُوْبِقَاتِ وَہُمْ مَعَ ذَالِکَ فِی الْجَنَّۃِ وَلٰکِنْ بَعْدَ مَا یُطَہَّرُوْنَ مِنْ ذُنُوْبِہِمْ بِالْمَلَایَا وَالرَّزَایَا۔اَوْفِی عَرَصَاتِ الْقِیَامَۃِ بِاَنْوَاعِ شَدَائِدِہَا۔اَوْفِی الطَّبَقِ الْاَعْلیٰ مِنْ جَہَنَّمَ بِعَذَابِہَا اِلٰی اَنْ نَسْتَقِذَہُمْ بحُبِّنَا وَنَنْقُلَہُمْ اِلٰی حَضْرَتِنَا۔
 ہمارے شیعہ اہل جنت کے بہتر ین افراد میں سے ہیں، ہمارے محب اور ہمارے محبوں کے دوست اور ہمارے دشمنوں کے دشمن سب جنت میں جائیںگے اور یہ وہ ہیں جو لوگ دل وزبان سے ہمارے حکم کی تعمیل کرتے ہیں لیکن جو ہمارے منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتے وہ ہمارے سچے شیعہ نہیں ہیں۔یہ لوگ بھی (براہ راست جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ) گناہوں سے پاک ہونے، روز قیامت کی مشکلیں برداشت کرنے اور ایک مدت تک جہنم کے طبقہ بالا میں اپنے جہنم کے عذاب کا مزہ چکھنے کے بعد جنت میں جائیں گے اور ان کو ہم اس لئے جنت دلائیں گے کہ وہ ہم سے محبت کرتے ہیں ہم انھیں اپنے سامنے جنت میں منتقل کریں گے۔
( تفسیر امام حسن عسکریؑ ص ۳۰۸؛۱۔بحارالانوار، ج۶۵ص۱۵۵ / تفسیر البرہان، ج۴ص۲۱)
لہذا جب شہزادی کے سہارے نجات کے امیدوار ہیں تو اتنی انسانیت و غیرت کا مظاہرہ ضرور کریں کہ ان کی مخالفت سے اپنے کو بچائیں، وہی سیرت و طریقہ اپنائیں جو صدیقہ طاہرہؑ چاہتی ہیں اور ہر اس کام سے بچیں جو آپؑ کو ناپسند ہے۔
اور یہ دعا کرتے رہیں کہ خدا وند عالم اسی شہزادی کے صدقے میں ان کو ہم سے راضی و خوشنود بنائے اور اسی کے صدقے میں آپ کے بیٹے، جانشین رسولؐ، حضرت حجت ارواحنا لہ الفدا کے ظہور میں تعجیل فرمائے تاکہ وعدۂ الہی پورا ہو، ظلم و ستم کا خاتمہ ہو، امن و امان قائم ہو؛تمام ظالمین کیفر کردار کو پہنچیں اور دنیا عدل و انصاف کا گہوارہ بن جائے۔(آمین یا رب العالمین) 

امام سجاد علیہ السلام کی حکیمانہ زندگی

باسمہ تعالیٰ

امام سجاد علیہ السلام کی حکیمانہ زندگی

سید محمد حسنین باقری، لکھنؤ 
موبائل نمبر: 9598956660
حضرت علی ابن الحسین امام سجّاد علیہ السلام کی بابرکت و پاکیزہ زندگی دیگر معصومین علیہم السلام کی طرح حکمت سے معمور تھی، آج امام کی چودہ سوسالہ ولادت باسعادت کے انتہائی پُرمسرت موقع پر ضرورت ہے کہ آپؑ کی حکیمانہ زندگی پر ایک نظر ڈالی جائے تاکہ اس کی روشنی میں اپنی دینی و دنیوی زندگی کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی حقّ و حقیقت کو پہچاننے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔ 
امام زین العابدین علیہ السلام، پیغمبر اکرم ﷺ کے چوتھے جانشین برحق یعنی امیر المومنین، امام حسن و امام حسین علیہم السلام کے بعد ہمارے چوتھے امام ہیں۔آپ اپنے آباؤ اجداد کی طرح امامِ منصوص، معصوم، اعلم زمانہ اور افضل کائنات تھے۔
آپؑ کی ولادت بروز جمعہ ۱۵؍جمادی الاولیٰ ۳۸ ہجری(۱) کو علی الظاہر کوفہ(۲) میں ہوئی۔یہ زمانہ امیرالمومنینؑ کی ظاہری خلافت کا دور تھا اور اس درمیان امام حسین علیہ السلام بھی کوفہ میں تھے۔ گرچہ بعض مورخین نے جائے ولادت ’مدینہ‘(۳) لکھا ہے۔تاریخ ولادت میں دوسری تاریخیں بھی نقل ہوئی ہیںجنمیں ۵ شعبان المعظم(۴) ایران و عراق وغیرہ میں رائج ہے۔
آپ کا اسم گرامی اپنے دادا امیرالمومنین علیہ السلام کے نام نامی پر ’’علی‘‘ تھا۔ اُس دور میں جب کہ حقّ علیؑ ضائع ہورہا تھا ، امام علی ؑ پر سبّ و شتم ہورہا تھا، حضرت علیؑ کی مخالفت عام ہوچکی تھی اور نام علی ہی کو چھپانے کی کوششیں ہورہی تھیں ،امام حسین علیہ السلام نے اپنے تینوں بیٹوں کا نام ’علی‘ ہی رکھا۔اور امام علیؑ کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والی اپنی مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا علیہاالسلام کے نام پر اپنی تمام بیٹیوں کا نام ’فاطمہ‘ رکھا۔گویا نام علی و نام فاطمہ کے ذریعہ بھی دفاع حق کیا اور باطل کی سازشوں کو ناکام کیا ۔اور چاہنے والوں کے لئے ایک عملی پیغام بھی دیا کہ اولاد کے نام میں نیا پن ڈھونڈھنے کے بجائے اثرات و مقصد کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیئے اور اثرات کے اعتبار سے سب سے اچھے نام ائمہ معصومینؑ کےنام ہیں لہذا انھیں ہی ترجیح دینا چاہئے۔
 آپؑ نے دو قوموں کی ممتاز شرافتوں کو اپنی ذات جمع کیا تھاباپ کی طرف سے تو روئے زمین کے سب سے عظیم گھرانے سے تعلق رکھتے ہی تھے، ماں کی طرف سے بھی عجم کے ایک عظیم گھرانہ کی فرد قرار پائے؛ اسی وجہ سے آپؑ کا ایک لقب ہے ’’ابن الخیرتین‘‘ (یعنی دو بہترین خاندانوں کی اولاد)۔
امام سجاد علیہ السلام کی والدہ گرامی جناب ’شہر بانو‘ تھیں جن کے مختلف نام تاریخ نے لکھے ہیں جو قول مشہور کے مطابق عجم کے مشہور صاحب شرف و فضیلت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور امیرالمومنینؑ کی ظاہری خلافت کے دور میں مدینہ آئیں۔جب حضرت علی ؑ نے ایران کی بغاوت کو فرو کرنے کے لئے حریث بن جابر کو بھیجا اور اس نے وہاں سے مال غنیمت کے ساتھ دو شہزادیوں کو بھیجا جن میں سے جناب شہر بانو کا عقد امام حسینؑ کے ساتھ اور کیہان بانو کا عقد محمد بن ابی بکر کے ساتھ ہوا(۵)۔ جناب شہر بانو کا انتقال امام سجادؑ کی ولادت کے بعد دس دن کے اندر ہی ہوگیا تھا(۶)۔
چوتھے امام کی ایک شادی اپنی چچا زاد بہن یعنی امام حسن علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی جن سے امام محمد باقر علیہ السلام پیدا ہوئے (گویا امام باقر ؑ وہ امام ہیں جن کے دادا بھی امام تھے اور نانا بھی)۔مورخین نے دیگر چھ ازواج کا تذکرہ بھی کیا ہے جن سے کل اولاد کی تعداد پندرہ بیان کی ہے۔ (۷)
حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام اپنے صفات و کمالات کی وجہ سے متعدد القاب سے مشہور ہوئے مثلاً: زین العابدین، سیدالساجدین، ذوالثفنات، عابد، ساجد، سجّاد، ذکی و امین وغیرہ۔ اور کنیت ابومحمد، ابولحسن و ابوالحسین وغیرہ ہیں۔
’’زین العابدین‘‘ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے آپ کو یہ لقب عطا فرمایا تھا اور یہ خبر دے گئے تھے’’ اذا کان یوم القیامۃ يُنادِي مُنادٍ  أينَ زَينُ العابِدينَ؟ فَكَأنّي أنظُرُ إلي وَلَدِی عَلِيِّ بنِ الحُسَينِ‏ عليه السلام يَخطُرُ بَينَ الصُّفُوفِ‘ (۸)کہ روز قیامت جب ’این زین العابدین‘ (کہاں ہیں عبادت گزاروں کی زینت) پکارا جائے گا تو میرا فرزند علی بن الحسین لبیک کہتا ہوا بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوگا۔اور اس کی مزید تائید اس واقعہ سے بھی ہوگئی کہ آپ نماز تہجد میں مصروف تھے کہ شیطان نے بہ شکل اژدھا آکر آپ کو اذیت دینا شروع کیا اور پیروں کے انگوٹھے کو چبانے لگا لیکن جب آپ نے کوئی توجہ نہ کی تو شکست کھاکر چلا گیا اور ایک آواز غیبی آئی: ’’انت زین العابدین‘‘ ۔’ظاہر ہے کہ اس آواز کا کوئی تعلق اس اژدھا یا ابلیس سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک ندائے قدرت ہے جو اِس فتح مبین کے موقع پر بلند ہوئی تھی جس طرح کہ اس سے پہلے علیؑ کی میدانی فتح پر لا فتیٰ الا علی کی آواز فضائے عرش سے گونج رہی تھی‘۔(۹)اس واقعہ کی روشنی میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اللہ کے معصوم و برگزیدہ نبی جناب موسیٰ علیہ السلام کے لئے جب دربار فرعون میں عصا اژدھا بنا تھا تو اس وقت کے لئے قرآن نے کہا : قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولَىٰ   (۱۰)،(حکم ہوا کہ اسے لے لو اور ڈرو نہیں کہ ہم عنقریب اسے اس کی پرانی اصل کی طرف پلٹا دیں گے)’’وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ۔(۱۱)،(اب تم اپنے عصا کو زمین پر ڈال دو اس کے بعد موسیٰ نے جب دیکھا تو کیا دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح لہرا رہا ہے موسیٰ الٹے پاؤں پلٹ پڑے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا آواز آئی کہ موسیٰ ڈرو نہیں میری بارگاہ میں مرسلین نہیں ڈرا کرتے ہیں)۔ 
جناب موسیٰؑ جیسے عظیم و برگزیدہ نبی کے لئے قرآن کے یہ الفاظ ہیں گویا اعلان ہورہا کہ ہم ان آیات میں غور کرتے ہوئے اللہ کی طرف سے عطا کردہ عظمت اہل بیتؑ و عظمت امام سجادؑ کو پہچانیں کہ خدا نے انھیں فخر انبیاء و مرسلین بنایا ہے۔اگر یہ فخر موسیؑ و فخر انبیاء نہ ہوتے تو یہاں علی بن الحسینؑ نماز میں ضرور متاثر ہوتے اور وہاں علی بن ابی طالبؑ گہوارے میں ڈر گئے ہوتے۔ لیکن جو فخر موسیٰ ؑ و فخر انبیاءؑ تھے کسی بھی مرحلہ پر شیطان سے متاثر نہیں ہوئے جبکہ شیطان خود اعتراف کرچکا تھا کہ قَالَ رَبِّ ۔۔۔ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۔إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴿(۱۲)(شیطان نے کہا کہ پروردگار ۔۔۔ میں ان بندوں۔۔۔ میں سب کو اکٹھا گمراہ کروں گا۔علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنا لیا ہے)۔قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ  إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (۱۳)(شیطان نے کہا تو پھر تیری عزّت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا۔ علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنالیا ہے)یعنی پہلے ہی دن اس نے خالص بندوں یعنی محمد و آل محمدؑ کے سلسلے میں اعتراف کرلیا تھا کہ انہیں ہرگز نہیں بہکا سکتا پھر بھی اس نے کوشش کی لیکن اس کوشش کے نتیجہ میں عظمت اہل بیتؑ لوگوں کے سامنے مزید نکھر کر سامنے آئی اور دنیا کو پیغام فکر دیا کہ اسی واقعہ سے سہی ان کی حقانیت و عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی پیروی کو اپنے اوپر لازم قرار دے لے۔اور اپنوں کو پیغام دیا کہ عبادت میں شیطانی وسوسوں سے بچتے رہیں اور اس عمل میں شیطان کو مایوس کرتے ہوئے عبادت کو پوری توجہ اور انہماک سے انجام دیں اس لئے کہ شیطان کا کام عبادت سے دور کرنا اور عبادت میں خلل ڈالنا و مختلف بہانوں سے عبادت کو بے اہمیت بتاکر اس میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہے یا عبادت میں اپنی مرضی و خوشی شامل کرواکر عبادت کو عبادت خدا ہونے سے خارج کروانا ہے۔ امام سجادؑ کا حقیقی ماننے والا اس واقعہ سے درس لیتے ہوئے کبھی بھی عبادت میں کمی نہ آنے دیگا، عبادت الٰہی کے سلسلے میں کسی طرح کے شک و وسوسے کا شکار نہ ہوگا ، اس میں کسی طرح کی غفلت و کوتاہی نہ کرے گا، اپنی عبادت کو شیطان کی شرکت سے محفوظ رکھتے ہوئے اس کو صرف اور صرف رضائے معبود و خوشنودیٔ پروردگار کے لئے انجام دے گا ۔ 
اسی لقب ’’زین العابدین‘‘ یا ’’سید الساجدین‘‘ و ’’سید العابدین‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کی آیت وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ(۱۴)۔ (اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے)، کو سامنے رکھیں جس میں جنّ و انس کی غرض خلقت ،عبادت کو بیان کیا گیا ہے یعنی جناتوں و انسانوں کو اس لئے پیدا کیاگیا کہ وہ ’عابد‘ بنیں اور امام سجادؑ تمام عابدوں کے لئے زینت ہیں!۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس کی عبادت کائنات میں شہرۂ آفاق تھی، جسے ’زین العابدین‘ کے لقب سے یاد کیا گیا جب ان کی عبادت کی شدت و کثرت پر تعجب کیا گیا تو فرمایا کہ ذرا وہ صحیفہ تو لے آؤ جس میں میرے جد امیرالمومنینؑ کی عبادتوں کا تذکرہ ہے اور پھر اس صحیفہ کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ ’’من یبلغ ذلک‘‘ (اس منزل عبادت کو کون پاسکتا ہے؟!) اور کیوں نہ ہو، اگر آپ کی عبادت نے آپ کو ’زین العابدین‘ بنا دیا تو امیرالمومنینؑ کی ’ایک ضربت ثقلین کی عبادت پر بھاری‘ تھی۔(۱۵)۔
اس حکمت سے معمور زندگی کا ایک پہلو آپؑ کی عظیم الشان کتاب ’’صحیفہ کاملہ‘‘ ہے جو ایسے دور میں امامؑ نے لکھی اور اپنے فرزندوں امام محمد باقرؑ و جناب زید کو لکھوائی کہ حکومت کی طرف سے لکھنے پر پابندی لگی ہوئی تھی گویا آل محمدؐ کی جانب سے تعلیم و کتابت کی اہمیت کو بھی بتایا اور پابندی کے اسباب کی جانب بھی متوجہ کیا۔ اس کتاب کی عظمت کا ایک پہلو اس کے مختلف نام ہیں یعنی اس کتاب کو ’صحیفہ سجادیہ‘ ، ’اخت القرآن‘ ، ’زبور آل محمد‘ اور ’انجیل اہل بیتؑ‘ بھی کہا جاتا ہے گویا اس میں قرآن کی جھلک بھی ہے اور زبور و انجیل کا پرتو بھی۔ اور یہ بھی اعلان کہ اس کتاب کو لکھنے والے اور اس دعا کو انشاء کرنے والے امام سجادؑ عالم قرآن بھی اور عالم زبور و انجیل بھی۔گرچہ موجودہ صحیفہ میں ۵۴ دعائیں ہیں لیکن جیسا کہ اس کتاب کے مقدمہ میں موجود ہے کہ امام نے ۷۵ دعائیں لکھوائیں تھیں(۱۶)۔یہ دعائیں امام کی حکیمانہ زندگی کی عکاس بھی ہیں اور معرفت و حکمت کا دریا ہونے کے ساتھ ساتھ راہنما و درس زندگی بھی ہیں۔
امام سجاد علیہ السلام نے اپنی حکیمانہ زندگی میں اس انداز سے عبادت کی ہے کہ ’زین العابدین‘ بنے ۔ اس عبادت میں صرف نماز و روزہ ہی نہیں ہے بلکہ امام کا ہر عمل ہے جسے امام انجام دے رہے تھے۔ انھیں اعمال میں ایک عمل عزاداریٔ سیدالشہداؑ بھی تھی۔ان ہنگامی حالات اور انتہائی پُر آشوب دور میں آپ نے گریہ و بکا ، تاثرات غم اور مسلسل اشکباری کا سہارا لیا جو حکمت سے معمور اور بالکل فطری حیثیت رکھتا تھا، اور جس سے روکنا بھی کسی کے بس میں نہیں تھا۔ امام سجادؑ نے واقعہ کربلا کے بعد اپنی پوری عمر عزاداریٔ سیدالشہداؑ کو انتہائی اہتمام و توجہ کے ساتھ انجام دے کر اعلان کیا یہ بھی ایک عظیم عبادت ہے اور عظیم عبادت ہی نہیں بلکہ حقّ و انسانیت کے لئے قربانی دینے والوں کے مقصد کو زندہ رکھتے ہوئے انسانیت کے دشمنوں کو بے نقاب کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔لہذا ضروری ہے کہ ہم بھی امام کی اس سیرت سے درس لیتے ہوئے عزاداری کو اہمیت دیں، اس کا اہتمام کریں، اس میں کوئی کوتاہی نہ کریں، اس سے غافل نہ ہوں اور اسے عبادت سمجھیں اور عبادت سمجھ کر انجام دیں نہ رسم سمجھیں اور نہ رسم سمجھ کر انجام دیں اور اس کے ذریعہ دنیا کو وہ پیغام بھی دیں جو امام سجادؑ دینا چاہتے تھے۔
دوسری طرف نمازوں اور سجدوں کے ساتھ امام نے عزاداری کو انجام دیکر یہ پیغام بھی دیا کہ حقیقی عزادار وہی ہے جو سجدوں و نماز و عبادات کو بھی اہمیت دیتا ہو اور حقیقی عابد وہی ہے جو عزاداری سیدالشہداؑ کو اسی اہتمام سے بجا لاتا ہو۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، دونوں کی بجاآوری ضروری ہے اور اسمیں تقابل و ٹکراؤ بھی صحیح نہیں ہے۔ یہ سوچنا ہی شائد غلط ہو کہ کیا انجام دینا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری۔ جب امام سجاد علیہ السلام نے دونوں کو انتہائی اہتمام سے انجام دیا تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ دونوں کو انجام دیں ، دونوں میں کوئی کمی نہ آنے دیں، نماز و دیگر عبادات بجا لاکر واقعی عزادار بنیں اور عزاداری کرکے واقعی عابد بنیں۔
 امام سجاد ؑ کی حکیمانہ زندگی کا جب آغاز ہوا تو اس وقت امیرالمومنین علیہ السلام موجود تھے، ظاہری خلافت کا دور تھادو سال کے تھے جب مسجد کوفہ میں امام علیؑ کو شہید کیا گیا۔جس کے بعد امام حسن و امام حسین علیہما السلام مدینہ واپس آگئے، تقریبا دس سال بعد یعنی ۵۱ ھ میںحاکم شام کے ذریعہ امام حسن علیہ السلام کو زہر دیا گیا۔پھر والد کی امامت کا دور شروع ہواجس کا اختتام کربلا کے دردناک واقعہ پر ہوا جس موقع پر خود امام سجادؑ شریک تھے ، سارے مصائب و آلام کی منزلوں کو طے کیا گرچہ عاشور کے دن مصلحت الٰہی کے تحت آپ بیمار ہوئے (چونکہ امام حسین علیہ السلام کے بعد امام زین العابدینؑ کی امامت خداوند عالم کی جانب سے طے تھی جس کی خبر پیغمبر اکرم ﷺ بھی دے چکے تھے اس لئے اس دن بظاہر یہ مصلحت الٰہی قرار پائی کہ امام بیمار ہوں تاکہ آپ سے حکم جہاد ساقط ہو ورنہ امام وقت امام حسین ؑ کی نصرت اور آپ پر جان دینا ضروری قرار پاتا)۔ میدان کربلا کے انتہائی عظیم و جانکاہ مصائب و آلام سے گزر کر اس سے سخت منزل بے مقنع و چادر مخدرات عصمت و طہارت کے ساتھ بازار کوفہ ، بازار شام اور دربار شام سے گزرے ۔ لیکن ان حالات میں بھی اپنی حکیمانہ روش کے ذریعہ پرچم توحید کو بلند رکھا اور دین الٰہی کی حفاظت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔گویا اعلان کیا کہ عظمت پروردگار کو ہمارے ذریعہ پہچانو تب ہی معرفت ممکن ہے اور اگر ہمارے واقعی چاہنے والے ہو تو ہماری زندگی کو نگاہوں کے سامنے رکھتے ہوئے عظمت و توحید پروردگار کا ہر لمحہ خیال رکھو اور کسی بھی حالت میں عبادت الٰہی میں کمی نہ آنے دو۔
واقعہ کربلا کے بعد یزید کے ذریعہ مدینۃالنبوی کی تاراجی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھی ’’جب ۶۲ ہجری میں اہل مدینہ نے یزید کے ہاتھوں خاندان نبوت کے قتل عام اور کسی حد تک اس کی ملحدانہ حرکتوں سے آگاہ ہونے کے بعد یزید کی معطلی کا اعلان کردیا اور عبداللہ بن حنظلہ کو اپنا سردار بناکر یزید کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو مدینہ سے نکال دیا۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کو جو خونریزی کی کثرت کے سبب ’’مسرف‘‘ کے نام سے مشہور ہے، فوج کثیر دیکر اہلِ مدینہ کی سرکوبی کو روانہ کیا۔ اہل مدینہ نے باب الطیبہ کے قریب مقام ’’حَرّہ‘‘ پر شامیوں کا مقابلہ کیا۔ گھمسان کا رَن پڑا، مسلمانوں کی تعداد شامیوں سے بہت کم تھی باوجودیکہ انھوں نے دادِ مردانگی دی، مگر آخر شکست کھائی۔ مدینہ کے چیدہ چیدہ بہادر رسول اللہؐ کے بڑے بڑے صحابی انصار و مہاجرین اس ہنگامۂ آفت میں شہید ہوئے، شامی شہر میں گُھس گئے۔ مزارات کو اُن کی زینت و آرائش کی خاطر مسمار کردیا، ہزاروںعورتوں سے بدکاری کی، شہر کو لوٹ لیا، تین دن قتل عام کرایا، دس ہزار سے زائد باشندگان مدینہ جن میں سات سو مہاجر و انصار اور اتنے ہی حاملان و حافظان قرآن و علماء و صلحاء و محدث تھے۔ اس واقعہ میں مقتول ہوئے ہزاروں لڑکے لڑکیاں غلام بنائی گئیںاور باقی لوگوں سے بشرط قبول غلامی یزید کی بیعت لی گئی، مسجد نبوی اور آنحضرتؐ کے حرمِ محترم میں گھوڑے بندھوائے گئے۔ یہاں تک کہ لِید کے انبار لگ گئے۔ یہ واقعہ جو تاریخ اسلام میں ’’واقعہ حَرّہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اور ۲۷؍ذی الحجہ ۶۳ھ کو ہوا تھا۔(یزید ابن معاویہ، مسلم ابن عقبہ اور خوارج جیسوں کا دور حاضر میں نمونہ داعش، القاعدہ،سپاہ صحابہ، طالبان اور بوکو حرام جیسے افراد و تنظیموں کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے )
امام زین العابدین علیہ السلام کی حکیمانہ روش کے وجہ سے اس رسوائی سے آپؑ کا گھرانہ محفوظ رہا ، یزید امام سجاد ؑ سے متعرض نہیں ہوا، آپؑ مدینہ سے باہر ’’ینبع‘‘ نامی جگہ جہاں کھیتی باڑی کا کام ہوتا تھا، چلے گئے۔یہ وہی جگہ ہے جہاں حضرت علی علیہ السلام خلیفہ سوم کے دور میں قیام پذیر تھے۔‘‘(۱۷)جس موقع پر مروان جیسے بدترین دشمن نے بھی آپ سے پناہ کی درخواست کی کہ مدینہ مخالف ہوگیا ہے اور میں اپنے بچوں کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ میرے گاؤں بھیج دو میں ان کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور اس طرح اس شخص کے گھرانے کو پناہ دی جس نے سب سے پہلے قتل امام حسین علیہ السلام کا اشارہ دیا تھا۔آپؑ کا مروان کو پناہ دینا بتا رہا تھا کہ آپ انھیں علی بن ابی طالبؑ کی روایات کے حامل ہیں جنھوں نے اپنے قاتل کو بھی جام شیر پلانے کی سفارش کی تھی اور حضرت امام حسینؑ کے جنھوں نے دشمنوں کی فوج کو پانی پلوایا ،وہی کردار آج امام زین العابدینؑ کے قالب میں نگاہوں کے سامنے ہے (۱۸) اور ایک طرف پوری دنیا اور حقوق انسانی کے کھوکھلے دعوے کرنے والوں کو پیغام دے رہا ہے کہ آؤ دشمن کے ساتھ انسانی ہمدردی کا نمونہ دیکھو اور اس شکل میں انسانیت کے نمونۂ کامل تک پہنچو۔اور پھر امام کا یہ طریقہ اپنے چاہنے والوں کو بھی دعوت دے رہا کہ امام کے اس کردار کی روشنی میں دین و مذہب و اسلام کے لئے قربانی کا نمونہ بھی دیکھو اور اس کی روشنی میں اپنے لئے راستہ طے کرو۔ 
حکیمانہ زندگی کا ایک بہترین نمونہ واقعہ کربلا کے بعد اسیری کے عالم میں تبلیغ دین اور حق کی حفاظت اور باطل کو بے نقاب کرنا تھا۔آپ موقع ملنے پر کبھی آنسؤں کے ذریعہ تو کبھی مصائب کربلا بیان کرکے تو کبھی خطبات کے ذریعہ تبلیغ حق کرتے ہوئے باطل کے چہرے کو بھی بے نقاب کرتے رہے۔ آپ نے خطبات کے ذریعہ کوفہ و شام اور دربار یزید میں جانشین بلافصل امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے حق ہونے اور آپ کے فضائل و مناقب کو علی الاعلان بیان فرمایا، اپنے خاندان کی فضیلت و حقانیت کو ثابت کیا۔ انھیں خطبات میں آپ نے کربلا کی جنگ اور اس کے اہداف و مقاصد کو پیش کیا۔ ایک طرف اپنے گھرانے کی مظلومیت و شہادت و مصائب کو پیش کیا تو دوسری طرف(شام میں بیٹھے ہوئے) غاصب حاکم اسلامی کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو اتار کر رہتی دنیا تک کے لئے یزید کو قاتل فرزند نبیؐ کے طور پر پہچنوا دیا۔ گرچہ اس سے قبل پیغمبرؐ کے بعد سے ۶۱ھ کے درمیان خاندان نبوت کے اصلی قاتلوں کو پہچاننا آسان نہ تھا لیکن یہ کارنامہ امام زین العابدین علیہ السلام کا ہے کہ آپؑ نے شام میں بیٹھے ہوئے یزید کو اصلی قاتلِ نواسۂ رسولؐ کے طور پر پہچنوا دیا حتی یہی نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں کو اس سے پہلے کے مجرموں کی طرف بھی متوجہ کردیا تاکہ راہ حق مکمل طور پر آشکار ہوجائے اور لوگ حقیقی اسلام تک پہنچنے کے لئے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا یہ واقعہ یقینا عبرت انگیز بھی ہے اور دعوت فکر دینے والا بھی کہ امام سفر کی حالت میں اپنی نسبت کو ظاہر نہیں فرماتے تھے سوال ہوا: ما بالکُ اذا سافرتَ کتمتَ نسبکَ اھل الرفقۃ؟ آپ اپنے ہمراہیوں کے سامنے کیوں اپنی نسبت اور خاندان کو ظاہر نہیں فرماتے؟ کہ رسولؐ کے نواسے ہیں اور علیؑ و حسین ؑ کے بیٹے؟ آپ جواب دیتے ہیں: أکرہُ أن آخُذَ برسول اللہ ما لا أعطی مثلہ (۱۹)۔ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ رسولؐ سے نسبت ظاہر کرنے کے بعد اپنے کو ویسا ہی ظاہر نہ کروں۔یہ جواب یقیناً اپنے چاہنے والوں کے لئے پیغام تھا کہ جب اپنے کو خاندان عصمت و طہارت سے منسوب کرو، اپنے کو علیؑ کا ماننے والا کہو، اپنے کو غلام اہل بیتؑ و کنیز سیدہؑ کہو تو اس نسبت کی لاج بھی رکھو، ویسا ہی کردار و عمل بھی پیش کروجس سے معلوم ہو کہ تمہارا تعلق ہم سے ہے اور ہمارے چاہنے والے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو اپنے کو شیعۂ علیؑ کہو، زبان سے علوی و جعفری و حسینی کہو، زبان سے تو کنیز سیدہؑ و کنیز زینبؑ کہو لیکن عمل و کردار اس کی گواہی نہ دے رہا ہو۔  
امام سجادؑ نے جہاں غریبوں و محتاجوں کی کفالت انجام دی، ان کی دستگیری کی، ان کو سہارا دیا، راتوں میں ان کے گھروں میں اناج اور ضروریات زندگی خود پہنچائی۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ میرے بابا رات کی تاریکی میں پشت پر روٹیاں اٹھا کر فقرا کو پہنچاتے تھے اور فرماتے  تھے: تاریکیٔ شب میں صدقہ، خداوند عالم کے آتش غضب کو خاموش کرتا ہے(۲۰) حتی نقل ہے کہ سو گھرانوں کی کفالت کرتے۔(۲۱)
دوسری طرف غلاموں و کنیزوں کی تربیت و پرورش کے ذریعہ کی اس دور میں ان کو آزاد زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کئے چونکہ امامؑ کا ایک طریقہ یہ تھا کہ ہر سال غلام خریدتے تھے ایک سال تک ان کی تربیت کرتے پھر ماہ رمضان کے بعد عید کے دن انھیں آزاد کردیتے تھے۔ گویا اس طرح ایک طرف ان کی تربیت بھی کر رہے تھے، ان کو ایک علم و ادب سے آشنا بھی کر رہے تھے تو دوسری طرف انھیں آزاد کرکے آزادی کی زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرہے تھے۔ گویا اس طرح امام نے اسلام اور مذہب اہل بیتؑ میں انسانی ہمدردی کا ایک بہترین نمونہ بھی پیش کیا اور دوسروں بالخصوص زیردستوں و نوکروں و غلاموں کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ بھی بتایا۔
حالانکہ امام سجادؑ کا دور زندگی انتہائی پر آشوب اور سخت و کٹھن دور تھا لیکن اس دور میں امام نے اپنی الٰہی حکمت عملی سے ایک طرف اپنے چاہنے والوں کی حفاظت کی، ان تک پیغام حق پہنچانے کے لئے مختلف راستے اختیار کئے تو دوسری طرف دشمنوں اور مخالفین کے ساتھ بھی آپ کا طریقہ ایسا تھا کہ ان کو مزید دشمنی و مخالفت کا موقع نہ مل سکا اسی طرح بہت سے ایسے افراد جو معاویہ کے غلط پروپگنڈہ اور سازشوں کے نتیجے میں امیرالمومنینؑ و خاندان نبوت کے سلسلے میں غلط فہمی کا شکار تھے ان کے ساتھ امام کا برتاؤ ایسا تھا کہ ان کو اپنی غلط فہمی اور معاویہ کی سازشوں کا احساس ہوجاتا اور ان میں سے بہت سے افراد امام کے گرویدہ ہوجاتے تھے۔ 
امام سجاد علیہ السلام کی ۵۷ سالہ حکیمانہ زندگی کا بظاہر خاتمہ حاکم وقت ولید بن مروان کے ہاتھوں زہر (۲۲)کے ذریعہ شہادت کی شکل میں ۲۵ محرم ۹۵ھ (۲۳) کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ البتہ تاریخ شہادت میں بعض نے ۱۲ محرم ۹۴ھ(۲۴) بھی لکھا ہے ۔آپ جنت البقیع میں اپنے چچا امام حسنؑ کے پہلو میں دفن ہوئے۔لیکن آپ کی حکیمانہ زندگی کے نقوش آج چودہ سو سالہ ولادت باسعادت کے موقع پر ہمیں دعوت دے رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ امام سے آشنا ہوں، زیادہ سے زیادہ آپ کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اپنی زندگی کو آپؑ کے کردار کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔اس دعا کے ساتھ کہ خدا وند عالم ہم سب کو جلد از جلد وہ دن نصیب فرمائے جب ہم منتقم خون حسینؑ ، وارث امام سجادؑ حضرت امام عصر عج کے دیدار کا شرف حاصل کریں اور آپ کے اعوان و انصار میں شمار ہوں۔ 
حواشی:
۱۔بحرالانساب،ص۵۲۔ مسارالشیعہ، ص۳۱ و مصباح المتہجد،ص۷۳۳۔
۲۔شذرات الذھب،ج۱،ص۱۰۴۔
۳۔ارشاد شیخ مفیدؒ۔ فصول المہمہ، ص۱۸۷۔
۴۔مطالب السوول،ج۲،ص۴۱۔فصول المہمہ، ابن صبّاغ مالکی،ص۲۱۲۔ کشف الغمہ،ج۲،۔ص۷۴۔
۵۔نقوش عصمت۔
۶۔اثبات الوصیۃ مسعودی،ص۱۴۳۔
۷۔ ارشاد شیخ مفیدؒ۔
۸۔علل الشرائع۔
۹۔نقوش عصمت۔
۱۰۔سورہ طٰہٰ ۲۱۔
۱۱۔سورہ نمل ،آیت ۱۰۔
۱۲۔سورہ حجر، آیت۳۹ و ۴۰۔
۱۳۔سورہ ص، آیت ۸۲ و ۸۳۔
۱۴۔سورہ ذاریات، آیت۵۶۔
۱۵۔نقوش عصمت۔
۱۶۔ صحیفہ کاملہ۔
۱۷۔چودہ ستارے۔
۱۸۔معراج انسانیت۔
۱۹۔ نثر الدر، ج۱ ،ص۳۴۱۔ بنقل از حیات فکری و سیاسی امامان، ص۲۶۴۔
۲۰۔ مختصر تاریخ دمشق، ج۱۷،ص۲۳۸۔
۲۱۔ حلیۃالاولیاء،ج۳،ص۱۳۶۔ کشف الغمہ، ج۲،ص۷۷ و ۸۷۔ مختصر تاریخ دمشق ،ج۱۷، ص۲۳۸۔
۲۲۔ الاتحاف بحب الاشراف ،شبراوی، ص۱۴۳۔
۲۳۔اصول کافی،ج۲،ص۴۹۱۔ ارشاد شیخ مفیدؒ۔
۲۴۔توضیح المقاصد ،ص۳۔
منابع: 
(۱) قرآن کریم
(۲) صحیفہ سجادیہ
(۳) الارشاد، شیخ مفیدؒ۔
(۴)معراج انسانیت، سیدالعلماءؒ۔
(۵) حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، علامہ رسول جعفریان
(۶)تحلیلی از زندگانی امام سجاد علیہ السلام، باقر شریف قرشی
(۷)  نقوش عصمت، علامہ ذیشان حیدر جوادیؒ
(۸)چودہ ستارے، علامہ نجم الحسن کرارویؒ
(۹)۔۔۔۔

ولایت اور نماز

باسمہ تعالیٰ

ولایت اور نماز

سید محمد حسنین باقری

عَنْ زُرَارَۃ عَنْ اَبِی جَعْفَرٍ عَلَیْہِ السَّلَام قَالَ:یُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسَۃِ اَشْیَاءٍ عَلَی الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَ الْحَجِّ وَالصَّومِ وَالْوِلَایَۃِ قَالَ زُرَارَۃُ فَقُلْتُ:وَ اَیُّ شَی ءٍ مِنْ ذٰلِکَ اَفْضَلٌ فَقَالَ:اَلْوِلَایَۃُ اَفْضَلٌ لِاَنَّھَا مِفْتَاحُھُنَّ وَالْوَالِی ھُوَ الدَّلِیْلُ عَلَیْھِنَّ قُلْتُ:ثُمَّ الَّذِی یَلِیَ ذٰلِکَ فِی الْفَضْلِ؟قَالَ:اَلصَّلَاۃُ اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ قَالَ:اَلصَّلَاۃُ عَمُوْدُ دِیْنِکُمْ (کافی، ج۲،ص ۱۸)

زرارہ سے مروی ہے:امام باقر علیہ السلام نےفرمایا:اسلام کی بنیادپانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے:نماز، زکات، حج، روزہ اور ولایت ،زرارہ کہتے ہیں: میں نےامامؑسے معلوم کیا:ان پانچ میں کس کا رتبہ بلند ہے اورکون چیز افضل ہے؟امامؑ نے فرمایا:ولایت، کیونکہ ولایت ان سب کی کنجی ہے اور والی اس کا رہنما ہے، میں نے عرض کیا:ولایت کے بعد کس چیز کا رتبہ ہے، امامؑ نے فرمایا :نماز ،کیونکہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے:نماز تمہارے دین کا ستون ہے۔
نماز کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ اس کو ’ستون دین‘ کہا گیا ہے۔ مذکورہ حدیث میں بھی سب سے پہلے نماز کا تذکرہ ہے جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی مسلم ہے اور جسے امام باقر ؑ نے بھی بیان فرمایا کہ ولایت اساس و بنیاد اور تمام اعمال کی اولین شرط ہے ۔ اسی طرح امام باقر علیہ السلام ہی کا ارشاد گرامی ہے: ’’فمن لم یتولّنا لم یرفع اللہ لہ عملا‘‘۔ جو شخص ہماری ولایت قبول نہیں کرتا خدا اس کے اعمال قبول نہیں کرتا۔ (اصول کافی، ج۱،ص۴۳۰)
نماز تمام اعمال کی قبولیت کی شرط ہے اور نماز کی قبولیت کی شرط ولایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنی تاکید ولایت کی ہوئی ہے اتنی کسی چیز کی نہیں ہے ۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جس طرح ولایت رسولؐ کے بغیر ولایت خدا ناممکن ہے اسی طرح ولایت علیؑ و اولاد علیؑ کے بغیر نہ تو ولایت رسولؐ ممکن ہے اور نہ ولایت خدا۔ یہی ولایت ائمہ علیہم السلام ہے جو ہمیں ولایت رسولؐ اور ولایت خدا تک پہنچاتی ہے۔ ولایت خدا کی تکمیل ولایت علی علیہ السلام پر ہوتی ہے ۔امیرالمومنین ؑ کا ارشاد ہے ’’ہم باب خدا ہیں ہم سے راہ خدا پہچانی جاتی ہے‘‘(اصول کافی، ج۱،ص۱۴۵۔۱۹۳) چونکہ حق کا تصور بغیر ولایت کے نہیں ہے لہذا نماز کی قبولیت بھی بغیر ولایت ائمہؑ کے ناممکن ہے۔
قرآن میں بھی نماز پڑھنے کا نہیں بلکہ نماز قائم کرنے کا حکم ہے جس کا بظاہر مفہوم یہ ہے کہ صرف نماز پڑھ لینا رکوع و سجدہ کر لینا معیار نہیں ہے اس سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ قیام نماز ضروری ہیں یعنی ایسی نماز جو تمام شرائط منجملہ ولایت کے ساتھ ہو ۔
جب خداوند عالم نےشیطان کو سجدہ کا حکم دیا تو شیطان نے تکبر کیاخداوند عالم سے چاہا کہ اس حکم سے معاف رکھے اس کے بدلے ایسی عبادت کرے کہ کسی نے بھی خدا کی ایسی عبادت نہ کی ہو۔ خداوند عالم نے اس کے جواب میں فرمایا :
 عبادت وہی ہے جو میں حکم دوں نہ یہ کہ جو تم چاہو۔ ( یہ مفہوم امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت میں بیان ہوا ہے ۔ (بحار الانوار جلد ۶۳ ص ۲۵۰)
یعنی عبادت کا مطلب ہے حکم خدا کی بجا آوری۔ اس کی اطاعت کرتے ہوئے اور جیسا اس نے کہا ہے اسی کے مطابق بجالائی جائے تبھی عبادت ہے ورنہ نہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : خدا کی قسم اگر ابلیس خدا کے حکم کی مخالفت اور تکبر کے بعد دنیا کی عمر کے برابر بھی سجدہ کرتا تب بھی اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں تھا اور خدا اس سے قبول نہیں فرماتا صرف اس صورت میں کہ وہ حکم خدا کے مطابق آدم کو سجدہ کرتا۔
حکم خدا سے پیغمبرؐ نے جس کو اپنے بعد کے لئے معین فرمایا اور اپنا جانشین بنایا اس کو چھوڑ کر خداوندعالم ہرگز کسی کے اعمال قبول نہیں فرمائے گا اور ایسے شخص کی نیکیاں اوپر نہیں جا سکتیں۔ صرف اس صورت میں کہ جس طرح خدا نے حکم دیا اسی طرح بجالائیںا ور جس امام کی ولایت کا خدا نے حکم دیا ہے اس کی اطاعت کریں اور اس دروازہ سے وارد ہوں جو خدا اور اور اس کے رسول نے کھولا ہے(وسائل الشیعہ ج ۱ باب ۲۹،حدیث ۵)
امام محمد باقر یا امام جعفر صادق علیہما السلام کا ارشاد گرامی ہے :بنی اسرائیل میں ایک خاندان تھا جو اپنی چالیس روزہ عبادت کے بعد جو بھی خداوندعالم سے طلب کرتا خدا انہیں عطا فرماتا تھا۔ انھیں میں سے ایک اور نے چالیس دن عبادت کی لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ حضرت عیسیٰ کے پاس آکر شکایت کی ۔حضرت عیسیٰؑ نے نماز پڑھ کر خدا کی بارگاہ میں دعا کی وحی نازل ہوئی:
اے عیسیٰؑ! وہ اس دروازے سے نہیں آیا جس سے آنا چاہئیے اس نے مجھے پکارا تو لیکن اپنے دل میں تمہاری نسبت شک رکھتا تھا۔ لہٰذا اگر اسی طرح اتنا زیادہ مجھے پکارے کہ اس کی گردن ٹوٹ جائے اور انگلیاں جدا ہو جائیں تب بھی میں اس کی دعا کو قبول نہیں کروں گا۔
حضرت عیسیٰ ؑ نے اس شخص سے سوال کیا کہ تم میری نبوت کے بارے میں شک رکھتے ہو؟اس نے اعتراف کیا اور جناب عیسیٰؑ سے مطالبہ کیا کہ خدا سے دعا کریں کہ خدا اس کے دل سے شک کو ختم کر دے۔ حضرت عیسیٰؑ نے دعا کی خدا نے اس کی توبہ کو قبول کیا اورا س کی دعا مستحاب ہوئی۔(اصول کافی ج ۲ ص ۲۰۰ح۹)
رسول اکرمؐ نے خطبہ غدیر میں فرمایا:اے لوگو!خداوندعالم نے اپنے دین کو علیؑ کی امامت کے ذریعہ کامل کیا ۔لہٰذا جو بھی علیؑ اور میری اولاد میں ان کے جانشینوں کی امامت کو قبول نہ کرے ۔ تو دنیا و آخرت میں اس کےا عمال اکارت ہوں گے اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔(احتجاج ج ۱ ص۷۶)
اس بات میں کوئی تعجب بھی نہیں ہے اس لئے کہ خداوندعالم نے بھی رسول اکرمؐ کی ۲۳ سالہ زحمتوں کو ولایت امیرالمومنینؑ کی تبلیغ سے مشروط کرتے ہوئے فرمایا:و ان لم تفعل فما بلغت رسالۃ (مائدہ ۶۷)
یعنی اے رسول اگر آپ نے ولایت علیؑ کے پہنچانے کے اپنے وظیفہ کو انجام نہ دیا تو کوئی بھی کار رسالت انجام نہیں دیا ۔
دوسری جگہ فرماتا ہے :مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ۔۔۔۔۔ (سورہ ابراہیم ۱۸)
’’جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی ہے جسےمحشر کے دن کی تند ہوا اڑا لے جائے کہ وہ اپنے حاصل کئے ہوئے پر بھی کوئی اختیار نہ رکھیں گے اور یہی بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے‘‘
امام محمد باقر علیہ السلام کی روایت میں اہل بیت ؑ کی ولایت کاانکار کرنے والے اس آیت کا مصداق بتائے گئے ہیں۔ (کافی ج ۱ص ۱۸۴ح۸)
اسی وجہ سے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:ہمارے دشمن کے لئے کوئی فرق نہیں ہے چاہے روزہ رکھے، نمازہ پڑھے یا زنا و چوری کرے وہ آتش جہنم کا شکار ہوگا وہ جہنمی ہے (عقاب الاعمال ص۲۵۱ح۱۸)
عصر حاضر میں بھی وہ دروازہ جس کی ولایت کے قبول کئے بغیر کوئی عبادت قابل قبول نہیں ہے وہ امام زمانہ ؑ کا با برکت وجود ہے۔ زیارت جامعہ میں ان حضرات کو خطاب کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں:بموالاتکم تقبل الطاعۃ المفترضۃ۔آپ کی ولایت ہی کے ذریعہ خداوندعالم واجبی عبادتوں کو قبول کرتا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی اس راستہ کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے خدا کی بندگی کرے تو خداوندعالم اس سے قبول نہیںکرے گا۔ امام جعفرصادق علیہ السلام نے مفضل ابن عمر کو ایک خط میں لکھا:جو بھی نماز پڑھے، زکات ادا کرے حج و عمرہ بجالائے لیکن جس کی اطاعت خدا نے لازم قرار دی اس کی معرفت نہ رکھتا ہو تو نہ ا س نے کوئی نماز پڑھی نہ روزہ رکھا، نہ زکات دی نہ حج و عمرہ بجالایا۔ نہ جنابت سے غسل کیا اور نہ پاک ہوا نہ حرام سے بچا اور نہ حلال کو حلال رکھا۔ اس کے لئے نماز ہی نہیں ہے چاہے رکوع و سجدہ کرے اس کے لئے زکات و حج نہیں ہے۔ یہ تمام اعمال اس کی شناخت و معرفت کے بعد ہی انجام پاتے ہیں جس کی اطاعت کا حکم دے کر خدا نے لوگوں پر احسان کیا ہے۔(بحار ج ۲۷ ص ۱۷۶و۱۷۵)
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :جب بندہ بارگاہ خدا میں حاضر ہوگا تو سب سے پہلے جس چیز کا سوال ہو گا وہ نماز واجب، زکات واجب، روزہ واجب، حج واجب، اور ہم اہل بیتؑ کی ولایت ہے۔ اگر اس نے ہماری ولایت کا اقرار کیا اور اس پر دنیا سے گیا ہو تو اس کی نماز ، روزہ ، حج و زکات قبول ہونگے اور اگر بارگاہ خداوندی میں ہماری ولایت کا اقرار نہ کرے تو خداوندعالم اس کے اعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ (بحار الانوار ج ۲۷ ص۱۶۷)
رسول اکرمؐ نے فرمایا:امیرالمومنین علیؑ ابن ابی طالبؑ کے چہرہ پر نگاہ کرنا عبادت ہے اور ان کا تذکرہ عبادت ہے۔
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا :اگر کوئی بندہ قیامت کے دن ستر انبیاء کے برابر بھی عمل لے کر آئے خداوندعالم اس سے کوئی عمل قبول نہیں فرمائے گا جب تک میری اور میرے اہل بیتؑ کی ولایت نہ رکھتا ہو۔
ابو حازم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے معلوم کیا: وہ کونسی چیز ہے جو بارگاہ رب العزت میں نماز کے قبول ہونے کا سبب واقع ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا:’’وِلَایَتُنَا وَالْبَرَائَۃُ مِنْ اَعْدَائِنَا‘‘ہماری ولایت ومحبت اور ہمارے دشمنوں سےاظہار نفرت و بیزاری بارگاہ خداوندی میں نمازوں کے قبول ہونے کا سبب واقع ہوتی ہے۔(مناقب آل ابی طالب:ج۳،ص۲۷۴)
حضرت امام صادق علیہ السلام اس قول خداوندی (اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ)(سورہ فاطر:آیت ۱۰)’’پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح انھیں بلند کرتا ہے اور جو لوگ برائیوں کی تدبیر کرتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے‘‘کے بارے میں فرماتےہیں:
اس سے ہم اہل بیت مراد ہیں جنھیں دل میں جگہ دینا ضروری ہے’’فَمَنْ لَمْ یَتَوَلَّنَا لَمْ یَرْفَعِ اللہُ عَمَلاً‘‘پس جو بھی شخص ہماری ولایت اور رہبری کو قبول نہیں کرتا ہے خداوندعالم اس کے کسی بھی عمل کو قبول نہیں کرتا ہے۔(الکافی:ج۱،ص ۴۳۰)
ابن مسعود سے مروی ہے(رسول اکرمؐ فرماتے ہیں):مَنْ صَلّی صَلَاۃً وَ لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فِیْھَا وَ عَلٰی اَھْلِ بِیْتِیْ لَمْ تُقْبَلْ مِنْہُ ۔(الغدید (علامہ امینی):ج۲،ص۳۰۴)جو شخص نماز پڑھے اور مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہ بھیجے اس کی نماز قبول نہیں ہے۔
عَنْ مُحَمَّدِبْنِ مُسْلِمٍ قَالَ:سَمِعْتُ اَبَا جَعْفَرٍ عَلَیْہِ السَّلَامِ یَقُوْلُ:کُلُّ مَنْ دَانَ اللہُ بِعَبَادَۃٍ یَجْھَدُ فِیْھَا نَفْسَہُ وَ لَااِمَامَ لَہُ مِنَ اللہِ فَسَعْیُہُ غَیْرُ مَقْبُوْلٍ(کافی:ج۱،باب معرفت امامؑ،ص۱۸۳)
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام باقر علیہ السلام کو یہ فرماتے سنا ہے:
جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہو اورعمدہ طریقہ سے عبادت کرتا ہو لیکن خدا کی طرف سے معین کسی امام صالح کی پیروی نہ کرتا ہو اس کی ساری محنت و مشقت بیکار ہے اور وہ درجہ مقبولیت تک نہیں پہنچتی ہے۔(اصول کافی،ج۱، باب معرفت امامؑ،ص۱۸۳)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جس وقت مومن بندے کو قبر میں اتارا جاتا ہے تو پانچ چیزیں اس کے ساتھ قبر میں داخل ہوتی ہیں، ان میں سے ایک چیز سب سے زیادہ نورانی ہوتی ہے اور مومن کے چہرے کے سامنے رہتی ہے (اور ایک دائیں،دوسری بائیں جانب، تیسری سرہانے اور چوتھی پیروں کی طرف کھڑی رہتی ہے اور جس طرف سے بھی عذاب داخل ہونا چاہتا ہے تو وہ چیزیں مانع واقع ہو جاتے ہیں)اگرعذاب دائیں جانب سے داخل ہونا چاہتا ہے تونماز مانع ہو جاتی ہے، اگر بائیں جانب سے داخل ہونا چاہتا ہے تو زکات مانع ہو جاتی ہے، اگر سر کی جانب سے داخل ہونا چاہتا ہے تو حج مانع ہو جاتا ہے اورپیروں کی جانب سے داخل ہونا چاہتا ہے تو روزہ مانع ہو جاتا ہے وہ چیز(ولایت)جو سب سے زیادہ نورانی ہے دوسری چیزوں سے سوال کرتی ہے:تم کون ہو، خدا تمہیں جزائے خیر دے؟ان میں سے ایک کہتی ہے: میں نماز ہوں، دوسری کہتی ہے: میں زکات ہوں، تیسری کہتی ہے:میں حج ہوں اور چوتھی چیز کہتی ہے : میں روزہ ہوں،اب وہ چاروں چیزیں اس سے معلوم کرتی ہیں: تم کون ہو جو ہم سے زیادہ نورانی نظر آتی ہو؟وہ جواب دیتی ہے: میں آل محمد علیہم الصلاۃ والسلام کی ولایت ہوں۔
مندرجہ بالامضامین کی روایتیں شیعوں کی حدیثی کتابوں میں اتنی زیارہ ہیں کہ فقہاء نے اپنی فقہی کتابوں کے آغاز میں ایک باب اس نام سے قائم کیا ہے:’’ بغیر ائمہ علیہم السلام کی ولایت کے عبادت کا باطل ہونا‘‘یعنی جو عبادت بھی بغیر ائمہ ؑ کی ولایت کے اور ان کی امامت کا عقیدہ رکھے بغیر ہو وہ باطل ہے۔
عظیم شیعہ محدث مرحوم شیخ حرعاملی نے اپنی کتاب و سائل الشیعہ کی پہلی جلد کے باب ۲۹ کو اس مطلب سے مخصوص کیا ہے اور اس میں ۱۹ حدیثیں نقل کی ہیں اور محدث نوری نے مستدرک الوسائل میں ۶۶ مزید حدیثوں کا اضافہ کیا ہے۔
 اس طرح کی روایات اہل سنت کی کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہیں:جابر ابن عبد اللہ انصاری نے رسول اکرمؐ سے نقل کیا کہ آنحضرتؐ نے فرمایا :یا علی! لو ان امتی صاموا حتی یکونوا کالحنایا وصلوا حتی یکونوا کالاوتار و بغضوک لاکبھم اللہ فی النار ۔اے علیؑ!اگر میری امت بہت ہی زیادہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے لیکن تم سے دشمنی رکھتی ہوتو خداوندعالم ان کو دوزخ کے حوالے کرے گا۔(مناقب ابن مغازی۔ ۲۹۷؍ح۳۴۰)
ولایت اہل بیت علیہم السلام سے متعلق امام شافعی کا ایک مشہور شعر ہے:
یا آل رسول اللہ حبکم فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
کفاکم من عظیم القدر انّکم من لم یصل علیکم لا صلاۃ لہ
اے اہل بیت رسالت آپ کی محبت تو اس قرآن میں واجب کی گئی ہے جس کو خدا نے نازل فرمایا ہے اورآپ کی قدر و منزلت کے بارے میںبس اتنا جان لینا کافی ہے کہ جو آپ پر نماز میں درود نہ بھیجےاس کی نماز قبول نہیں ہے۔(ینابیع المؤدۃ :ج ۲،ص۳۴۳۔صواعق محرقہ :باب ۱۱،فصل ۱)
علامہ طباطبائی ’’تفسیر المیزان‘‘میں لکھتے ہیں:اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت اور ولایت کے بغیر نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہے اسی لئے ہم لوگ نماز سے پہلے اپنی اذان و اقامت میں ’’اَشْھَدُ اَنَّ عَلِیًّا وَلِیُّ اللہ‘‘قرائت نماز میں (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم)اور تشہد میں درود شریف پڑھ کر محمدؐ و آل محمدؐ کی محبت اور ان کی ولایت کا ثبوت پیش کرتے ہیں ، ائمہ اطہار علیہم السلام کی امامت کا اقرار کرتے ہیں، اسی لئے ہم لوگ سورۂ حمد کی قرائت میں (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم)کے یہ معنی مراد لیتے ہیں :بارالہٰا!تو ہم کو ائمہ علیم السلام کی راہ پر گامزن رکھ اور ہمیں امامت کے پیروکار اوردوستدار ولایت میں سے قرار دے، اسی آیۂ مبارکہ کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:’’صراط مستقیم‘‘سے علی بن ابی طالب علیہ السلام مراد ہیں اور امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:’’نَحْنُ صِرَاطُ الْمُسْتَقِیْمِ‘‘ہم (ائمہ طاہرین) صراط مستقیم ہیں۔(تفسیر المیزان :ج۱،ص۴۱)
جنگ نہروان میں حضرت علی علیہ السلام کے مقابلہ میں آنے والے سب لوگ (جنھیں تاریخ اسلام میں خوارج کا نام دیا گیا ہے)بے نمازی نہیں تھے بلکہ ان میں اکثر نمازی اور روزہ دار تھے، ان کی پیشانی پر مکرر اور طولانی سجدوں کی وجہ سے گٹھے پڑے ہوئے تھے لیکن ان کے دل اہل بیت رسولؐ کی محبت سے خالی تھے اوراہل بیت علیہم السلام کی ولایت کے منکر تھے، ان لوگوں نے امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کے مقابلے میں قیام کیا اور آپ کی طرف تلواریں چلائی۔(جس بنا پر ان کی نمازیں قبول نہیں ہیں۔(تفسیر نماز:ص۳۹)
کرب و بلاکی المناک تاریخ کو دیکھیں تو اس میں بھی ملے گا کہ جو لوگ امام حسین علیہ السلام اور ان کی اولاد و اصحاب کو شہید کرنے کے لئے کربلائے معلیٰ میں یزیدی لشکر میں موجود تھے وہ سب ’’تارک الصلاۃ‘‘ نہیں تھے بلکہ ان میں اکثر نمازی تھے اورجماعت کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، لیکن ان میں کسی ایک کی بھی نماز قبول نہیں ہے کیونکہ وہ سب دشمن اہل بیتؑ تھےاور ان کےدل ولایت آل محمدؐ سے خالی تھے۔
 نتیجہ یہی ہے کہ جب تک دل میں علیؑ و اولاد علیؑ کی ولایت نہ ہو نہ نماز قبول ہے اور نہ کوئی دوسری عبادت۔ ولایت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جانشین رسول کو ماننے میں بھی حکم خدا و رسولؐ کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے، اور ولایت سے مراد یہ بھی ہے کہ اپنے کو مکمل طور پر ولایت کا تابع قرار دیا جائے، اپنی مرضی، اپنی پسند و ناپسند، اپنی فکر، اپنی خوشی ، اپنی سوچ بلکہ مکمل طور اپنے کو مولیٰ کے حوالے کردیا جائے۔ جو بھی ان کی مرضی ہو، ان کا حکم ہو، ان کی منشا ہواسی کے مطابق زندگی گزاری جائے، ہر عمل صرف اور صرف انہیں کی مرضی و خوشنودی کا خیال کرکے انجام دیا جائے، انہی کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری جائے، کسی بھی عمل منجملہ نماز میں اپنی مرضی و خوشی یا اپنی پسند و فکر کو شامل نہ کیا جائے۔ جو علیؑ نے چاہا وہی کریں، جیسا علیؑ نے کیا ویسے ہی عمل کریںیہ ہے ولایت۔اور اگر ولایت ہے تو کبھی نماز نہیں چھوڑی جائے گی یہ ممکن ہی نہیں کہ ولایت ہو اور نماز نہ ہو۔ جب علیؑ کی نماز کبھی نہیں چھوٹی تو کسی علیؑ کو مولیٰ ماننے والے کی نماز بھی نہیں چھوٹ سکتی، جب علیؑ نے صرف اور صرف مرضیٔ خدا کا خیال رکھا تو ہر علیؑ کا ماننے والا ہمیشہ مرضیٔ علیؑ کا خیال رکھے گا۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا’’ و ما تنال ولایتنا الا بالعمل و الورع‘‘۔ ہماری ولایت عمل اور تقویٰ کے علاوہ کسی اور طریقے سے نصیب نہیں ہوسکتی(اصول کافی،ج۲، ص۷۵؛ بحار الانوار،۷۱،ص۱۸۷)۔ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ علیؑ نے کیا چاہا اور کیسے کیا؟ یہ ہر آدمی نہ جان سکتا ہے اور نہ وہاں تک پہنچ سکتا ہے لہذا یا تو ہمارے پاس اتنا علم، صلاحیت، مہارت، تقویٰ و پرہیزگاری ہو کہ ’ولیٔ خدا ‘ کی مرضی تک پہنچ سکیں، جو آسان نہیں اور اکثر افراد میں نہیں لہذا دوسرا راستہ یہی ہے جن کے پاس اتنا علم و مہارت و صلاحیت اور تقویٰ و پرہیزگاری ہے اور جن کا حکم امامؑ نے دیا اور جن کی تائید امامؑ نے بھی کی اور جو صرف اور صرف حکم امامؑ و مرضیٔ امامؑ ہم تک پہنچاتے ہیںان سے مرضی مولیٰ معلوم کریں اور اسی کے مطابق زندگی گزاریں۔
دعا ہے ہم کو صحیح ولایت کو سمجھنے، واقعی معنی میں مولائی بننے کی توفیق عنایت فرمائےاور دنیا و آخرت میں اسی ولایت سے وابستہ رکھے۔