پیر، 19 ستمبر، 2016

ارشادات پیغمبر اکرمﷺ ،دربارہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام از منابع اہل سنت



ارشادات پیغمبر اکرمﷺ ،دربارہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام از منابع اہل سنت 
(۱) اے علیؑ! اگر بندہ اتنے سال تک خدا کی عبادت کرے جتنے سال جناب نوحؑ نے اپنی قوم میں پیغمبری کی ہےاور کوہ احد کے برابر سونا خدا کی راہ میں انفاق کرے اور اتنی عمر پائے کہ ہزار پاپیادہ حج کرے پھر مظلومیت کے ساتھ صفا و مروہ کے درمیان قتل کردیا جائے ان سب کے باوجود اگر تم سے دوستی نہ رکھتا ہو اور تمہاری ولایت کا معتقد نہ ہو تو جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا۔ (مناقب خوارزمی ص۲۸)
(۲) اے علیؑ!تم خدا کی حجت ہو، تم باب اللہ ہو، تم خدا کی طرف لے جانے والا راستہ ہو۔ تم نبا عظیم (بڑی خبر) ہو، تم سچائی اور حق کا راستہ ہو ،تم خدا کی مثل اعلیٰ ہو۔ تم مسلمانوں کے پیشوا، مومنوں کے امیر، بہترین وصی اور سچے و نیک لوگوں کے سید و آقا و مولا ہو۔  تم ہی فاروق اعظم ہو ( یعنی حق و باطل کے درمیان بہترین فرق کرنے والے اور اس کا معیار ہو) تم ہی صدیق اکبر ہو ( یعنی سب سے پہلے تم ہی نے میری تصدیق کی اور قول و فعل میں تم سب سے سچے ہو) تمہارا گروہ میرا گروہ ہے اور میرا گروہ خدا کا گروہ ہے۔ تمہارے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے۔ ( ینابیع المودۃ ، ۹ب۹۵۔ص۴۹۶)
(۳) اے علیؑ! جو بھی مجھ سے جدا ہوا وہ خدا سے جدا ہوا اور جو تم سے جدا ہو وہ مجھ سے جدا ہوا۔ ( فرائدالسمطین ۱/۳۰۰)
(۴) اے علیؑ! تم ہی میرے بعد تمام مومنین کے درمیان میرے خلیفہ و جانشین ہو۔(کتاب السنۃ ابن عاصم،۵۵۱)
(۵) اے علیؑ! سزاوار نہیں ہے کہ میں لوگوں کے درمیان سے چلاجاؤں مگر یہ کہ تم میرے خلیفہ و جانشین ہو۔(المستدرک حاکم، ۱۳۳)
(۶) اے  عمار!علیؑ کی پیروی میری پیروی ہے اور میری پیروی خدا کی اطاعت ہے ۔ (فرائد السمطین ۱/۱۷۸)
(۷) خداوند عالم نے علیؑ اور ان کی شریک حیات اور ان کے بیٹوں کو اپنی مخلوق پر اپنی حجت قرار دیا ہے۔ یہ سب میری امت کے درمیان علم و دانش کا دروازہ ہیں جو بھی ان تک پہنچ گیا اس نے ہدایت کو حاصل کرلیا۔ ( شواہد التنزیل ۱ ص۵۸)
(۸) جو بھی چاہتا ہے کہ پل صراط سے بادِ تند کی طرح گزر جائے اور بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ میرے ولی ، میرے وصی ، میرے ساتھی اور میرے جانشین یعنی علی ابن ابی طالبؑ سے محبت کرے۔ اور جو بھی دوزخ میں جانا چاہتا ہے وہ علیؑ کی ولایت سے دوری اختیار کرے۔ اپنے پروردگار کی عزت و جلال کی قسم علیؑ ہی وہ دروازہ ہیں جس دروازے کے بغیر خدا تک رسائی نا ممکن ہے۔ وہی علیؑ راہ حق ہیں۔ علیؑہی کی ولایت کے بارے میں خدا سوال کرے گا۔ ( شواہد التنزیل ۱/۵۹)
(۹) جب میں شب معراج سدرۃالمنتہیٰ پر پہنچا تو خداوند عالم نے علیؑ کے بارے میں تین باتوں کی وحی کی: یقینا علیؑ ہی متقین کے امام ہیں، مسلمانوں کے سید و سردار اور جنت کی جانب روسفید لوگوں کے جلودار ہیں۔(معرفۃالصحابۃ، ابونعیم اصفہانی۳؍۱۵۸۷، المستدرک۳؍۱۳۸)
(۱۰) علی ابن ابی طالبؑ ہی دین کا دروازہ ہیں جو بھی ان سے وابستہ ہوگا وہی مومن ہے اور جو ان سے دور ہوا وہ کافر ہے۔ ( ینابیع المودۃ ۲/۶۱)
(۱۱) یقیناً علیؑ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، میرے بعد وہی مومنین کے مولیٰ و سرپرست ہیں۔(المستدرک حاکم۳؍۱۱۰؛ السلسۃ الصحیحۃ،۵؍۲۲۲)

غدیر روایات کی روشنی میں

غدیر روایات کی روشنی میں
غدیر عظیم الشان دن
حضرت امیر المو منین علیہ السلام :غدیر کا دن عظیم الشان دن ہے۔ (عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۰۹ )
 غدیر کے دن خوشی کا اظہار 
حضرت امیر المو منین علیہ السلام :اس دن ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کرتے وقت خوشی کا اظھار کریں .(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۱۵ )
 غدیر کے دن احسان کرنے سے برکت ہوگی
 حضرت امیر المو منین علیہ السلام :اس دن احسان کرنے سے مال میں برکت ہوتی اور اضافہ ہوتا ھے ۔(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۰۹)
ہر نبیؐ نے عید غدیر منائی 
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: خدا وند عالم نے کو ئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس پیغمبر نے غدیر کے دن عید منا ئی اور اس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا ۔(عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۴ )
 عید غید سب سے بڑی عید 
امام جعفر صادق علیہ السلام:عید غدیر عید اللہ اکبر یعنی خدا وند عالم کی سب سے بڑی عید ہے۔ (عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۱۱ )
غدیر کا دن سب سے افضل 
  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: عید غدیر خم؛عید فطر ،عید قربان ،روز جمعہ اور عرفہ کے دن سے افضل ہے اور خدا وند عالم کے نزدیک اس کا بہت بڑا مقام ہے ۔(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۱۲،۲۱۱،۲۱۰)
 غدیر سرور و خوشی کا دن  
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: غدیر کا دن بزرگ اور عظیم دن ہے یہ دن عید اور خوشی و سرور کا دن ہے۔(عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۳۔الیقین صفحہ۳۷۲ باب۱۳۲ )
 غدیر محبوں کی عید 
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:  روز غدیر وہ دن ہے جس کو خداوند عالم نے ہمارے شیعوں اور محبوں کیلئے عید قرار دیا ہے ۔(عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۳)
غدیر سب سے محترم دن 
 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: شاید تم یہ گمان کرو کہ خدا وند عالم نے روز غدیر سے زیادہ کسی دن کو محترم قرار دیا ہے !نہیں خدا کی قسم نہیں ،خدا کی قسم نہیں ،خدا کی قسم نہیں! ( عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۵)
 غدیر کے دن کثرت سے صلوات پڑھو
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:اس دن محمد و آل محمد پر بہت زیادہ صلوات بھیجو اور ان پر ظلم کرنے والوں سے برائت کرو ۔(بحا ر الانوار جلد۳۷  صفحہ۱۷۱ )
 غدیر شکر اور حمد و ثنا کا دن
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام :یہ دن خدا وند عالم کے شکر اور اس کی حمد وثنا کرنے کا دن ہے کہ اس نے تمہارے لئے امر ولایت کو نازل فرمایا ہے ۔(بحا ر الانوار جلد ۳۷صفحہ۱۷۰)
غدیر اہل بیتؑ کی عید
حضرت امام رضا علیہ السلام:یہ دن اہل بیت محمد علیھم السلام کی عید کا دن ہے ۔(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۲۳)
عید غدیر منانے سے مال میں برکت
حضرت امام رضا علیہ السلام:جو شخص اس دن عید منائے خداوند عالم اس کے مال میں برکت کرتا ہے۔ (عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۲۳ )٭٭٭٭

غدیر چہاردہ معصومین علیہم السلام کی نظر میں
رسول خداؐﷺ: اے علیؑ! خداوند عالم نے آیت "یا ایھا الرسول بلغ ۔۔۔"کو تمہاری ولایت کے بارے میں نازل کیا ہے۔ اگر اس ولایت کو کہ جسے پہنچانے کا خدا نے مجھے حکم دیا نہ پہنچاتا تو میری رسالت باطل ہو جاتی۔ اور جو شخص خدا سے تمہاری ولایت کے بغیر ملاقات کرے اس کا کردار باطل ہے۔ اے علیؑ میں وحی خدا کے سوا بات نہیں کرتا۔( امالی شيخ صدوق، مجلس، 74، ص .400)
امام علیؑ: اے مسلمانو! اور اے مہاجرین و انصار! کیا تم لوگوں نے نہیں سنا کہ رسول خدا ؐنے غدیر کے دن کیا فرمایا؟۔کیا میرے علاوہ کوئی اور تمہارے درمیان ہے جس کے بارے میں پیغمبر خدا ؐنے فرمایا ہو: من کنت مولاہ ۔۔۔( اثبات الہداۃ، ۲؍۱۱۲؍۴۷۳؛مناقب ابن شہر آشوب،۳؍۲۵)
حضرت زہرا علیہا  السلام:بہت تعجب ہے!  کیا تم لوگوں نے غدیر خم کو فراموش کر دیا ہے؟
امام حسن مجتبیؑ : پیغمبر اسلام ؐنے میرے بابا کے بارے میں فرمایا: " انہ منی بمنزلۃ ھارون من موسی" اسی طرح پیغمبرؐ  نے بابا کو غدیر خم میں امام کے عنوان سے منصوب کیا ہے۔(امالی شيخ صدوق، ج 2، ص .171)
امام حسینؑ:( بنی ہاشم سے فرمایا:) کیا تم سب جانتے ہو کہ پیغمبر اسلامؐ نے امیر المومنین علی ؑ کو غدیر خم کے دن مقام امامت پر منصوب کیا؟ سب نے کہا: ہاں ، [اے فرزند رسول]۔(سليم بن قيس، ص .168)
امام زین العابدینؑ:(من کنت مولاہ۔۔۔کے ذریعہ)پیغمبر اسلامؐ نے لوگوں کو یہ خبر دی کہ ان کے بعد علیؑامت کے امام ہیں۔
(معانی الاخبار،۶۵؛ بحارالانوار،۳۷؍۲۲۳)
امام باقر ؑ: پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا: امیر المومنین لوگوں کے درمیان میرے جانشین ہوں گے.(معانی الاخبار، ص .66)
امام صادق ؑ:ہر وہ چیز جس  کی انسان کو ضرورت ہے اس کا حکم خدا اور اس کے پیغمبر کی سنت میں موجود ہے۔ اگر سنت نہ ہوتی خداوند عالم کبھی بھی اپنے بندوں پر حجت تمام نہ کرتا۔خدا نے آیہ اکمال کے ذریعہ ولایت کو مکمل کیا اس سنت کے ذریعے اس نے حجت کو تمام کیا ہے۔ (تفسير برہان، ج 1، ص .446)
امام موسی کاظمؑ:( غدیر خم کی مسجد میں نماز کے بارے میں فرمایا:)اس میں نماز پڑھو اس لیے کہ اس میں نماز پڑھنے کی بہت فضیلت ہے اور بتحقیق میرے بابا نے اس امر کے لیے حکم کیا ہے۔(اصول كکافی، ج 4، ص .566)
امام رضاؑ: روز غدیر آسمان والوں کے یہاں زمین والوں سے زیادہ مشہور اور مقبول ہے۔ یقینا اس دن خداوند عالم مسلمان مرد و زن کے ساٹھ سال کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور دوبرابر زیادہ لوگوں کو ماہ رمضان کی نسبت ،جہنم کی آگ سے نجات دلاتا ہے۔ اگر لوگ اس دن کی قدر و قیمت کو جان لیتے تو بغیر شک کے ہر روز دس بار فرشتے ان سے مصافحہ کرتے۔(تہذيب الاحکام، شيخ طوسی، ج 6، ص 24، ح 52؛ مناقب ابن شہرآشوب، ج 3، ص .41)
امام محمد جوادؑ: پیغمبر اسلامؐ نے دس مقامات پر اپنے جانشین کی طرف اشارہ کیا اس کے بعد آیت "یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود" نازل ہوئی۔(تفسيرقمی، ج 1، ص .160)
امام ہادیؑ:  خداوند عالم نے حکم دیا: «يا ايهاالرسول بلغ ۔۔۔، پیغمبر اسلامؐ نے لوگوں کو خطاب کیا اور ان سے پوچھا: کیا میں نے جو کچھ میرے ذمہ تھا تم لوگوں تک نہیں پہنچایا؟سب نے کہا: پہنچا دیا یا رسول اللہؐ۔اس کے بعد فرمایا: خدایا گواہ رہنا۔ اس بعد فرمایا: کیا میں مومنین پر ان کے نفوس سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں؟ سب نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ آپ رکھتےہیں۔ اس کے بعد علیؑکا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جس کا میں مولاہوں اس کے علی مولا ہیں۔۔۔(بحارالانوار، ج 100، ص .363)
امام حسن عسکریؑ:  اگر محمد اور آل محمد نہ ہوتے تم لوگ حیوانوں کی طرح سرگرداں گھومتے رہتے۔ اور کسی بھی فریضہ کی ادائیگی نہ کر پاتے۔ مگر گھر میں دروازے کے علاوہ انسان داخل ہو سکتا ہے؟ جب خداوند عالم نے پیغمبرؐ کے اولیاء کو معین کر کے اپنی حجت تمہارے اوپر تمام کر دی تو فرمایا: «اليوم اكملت لكم ۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے اپنے اولیاء کے کچھ حقوق تمہاری گردنوں پر رکھے اور تمہیں حکم دیا کہ ان  کے حقوق کو ادا کرو تاکہ تمہاری عورتیں، تمہارا مال و دولت، خوراک و پوشاک تمہارے اوپر حلال ہو۔(علل الشرائع، ج 1، ص 249، باب 182، ح .66)
امام زمانہؑ:جب محمد رسول اللہؐ کا وقت پورا ہو گیا تو ان کی جگہ علی بن ابی طالبؑ نے لے لی ان دونوں پر اور ان کی آل پر تیری رحمتیں ہوں ، علیؑ رہبر ہیں جبکہ محمدؐ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے رہبر ہے پس آپؐ نے جماعت صحابہ سے فرمایا: من کنتُ مولاہ فعلی مولاہ۔(دعائے ندبہ میں )

عید سعید غدیر

باسمہ تعالیٰ
عید سعید غدیر 
اہمیت  و فضیلت، آداب و اعمال
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِیْنَ بِوِلَایَۃِ اَمِیْرِ المُؤْمِنِیْنَ وَ الاَئِمَّۃِ عَلَیْھِمُ السَّلام
(اس خدا کی حمد ہے جس نے ہم کو امیر المومنین علیہ السلام اور ائمہ علیہم السلام کی ولایت سے تمسک کرنے والوں میں قرار دیا)
’عید غدیر‘، اللہ کی عظیم ترین عید ہے اسے ’عید اللہ الاکبر‘ کہاگیا ہے،آل محمد ؑ کے لئے عظیم ترین عیدوں میں اور ’عید ولایت‘ ہے،خدا وند عالم نے ہر پیغمبر کے لئے اس دن کو عید قرار دیا اور محترم بنایا ہے،اس کا نام آسمان میں روز ’’عید موعود‘‘ اور زمین میں روز ’’میثاق ماخوذ‘‘ اور ’’جمع مشہود‘‘ قرار پایا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کی کہ غدیر کے دن کو عید سمجھیں اور ہر پیغمبر نے اپنے وصی کو وصیت کی کہ اس دن کو عید قرار دیں۔ یہ بے حد مبارک و مسعود دن اور شیعوں کے اعمال قبول ہونے کا دن ہے اور ان کے غموں کے دور ہونے کا دن ہے۔
اس دن یعنی ۱۸؍ ذی الحجہ ۱۰ ہجری کو پیغمبر اکرمؐ نے اپنے آخری حج سے واپسی میں آیۂ بلّغ( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ﴿سورہ مائدہ آیت:۶۷﴾)۔ ’’اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے‘‘ )، نازل ہونے پر حکم خدا کی بجاآوری کرتے هہوئے ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھَذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ‘‘  کے ذریعہ اپنے بعد کے لئے حضرت علی علیہ السلام كکو اپنا جانشین و خلیفۂ بلا فصل معین فرمایا۔ جس کے بعد آیۂ اکمال (۔۔۔اَلْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۔(سورہ مائدہ، آیت۳)’۔ ۔۔۔آج کے دن کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں لہذا تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو -آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے۔۔۔‘) نے نازل هہوکر غدیر کے دن دین کے مکمل اور جاودانی ہونے اور کفار و منافقین کی مایوسی کا اعلان کیا۔
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:جہاں کہیں بھی رہو کوشش کرو کہ روز غدیر حضرت علیؑ کی قبر مطہر کے پاس حاضر ہو ،خداوند عالم اس دن ہر مومن اور مومنہ کے ساٹھ سال کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور اس دن آتش جہنم سے اُس کے دوگنا لوگوں کو آزاد کرتا ہے جتنے ماہ رمضان اور شب قدر اور شب عید فطر میں آزاد کرتا ہے اور اس دن برادر مومن کو ایک درہم دینا ہزار درہم دینے کے برابر ہے اور اس دن برادران ایمانی کے ساتھ احسان کرو اور مومنین اور مومنات کوخوش کروبخدا اگر لوگوں کو اس دن کی فضیلت معلوم ہوجائے تو اس روز دس مرتبہ ملائکہ ان سے مصافحہ کریں گے۔
اس دن جناب موسیٰ ؑ نے جادوگروں پر غلبہ حاصل کیا، خدا نے جناب ابراہیم ؑ کے لئے آتش نمرود کو گلزار کیا، حضرت موسیؑ نے یوشع بن نون کو اپنا وصی بنایا، حضرت عیسیؑ نے شمعون الصّفا کو اپنا وصی بنایا،حضرت سلیمانؑ نے اپنی رعایا کو آصف بن برخیا کے خلیفہ ہونے پر گواہ بنایا ، رسول خداؐ نے اصحاب کے درمیان رشتۂ اخوت قائم کیا۔
اس دن کے بعض اعمال و آداب:
روزہ رکھنا(یہ روزہ دنیا کی عمر کے روزہ کے برابر ،سو مقبول حج اور سو مقبول عمرہ کے برابر اور ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے )،غسل کرنا، زیارت امیرالمومنین ؑ پڑھنا،نماز عید پڑھنا،غسل کرنا،دعائے ندبہ پڑھنا۔
اس دن کثرت سے عبادت کرنا، محمد و آل محمد ؑ کو یاد کرنا چاہیے اور ان پر بہت زیادہ درود بھیجنا چاہیے اور ان پر ظلم کرنے والوں سے برائت کرنا چاہیے،قبر حضرت علیؑ کی زیارت،مومنین کو عیدی دینا،مومن بھائیوں کے ساتھ احسان کرنا،مومنین کو خوش کرنا،اچھے لباس پہننا، زینت کرنا، خوشبو استعمال کرنا، خوش ہونا شیعوں کو خوش کرنا ،ان کی تقصیروں اور خطاؤں کو معاف کرنا، حاجتوں کو پورا کرنا ، صلۂ رحم کرنا، بیوی بچوں کو خوش کرنا اور ان کے لئے وسعت پیدا کرنا،مومنین کو کھانا کھلانا، روزہ رکھنے والوں کو روزہ کھلانا، مومنین سے مصافحہ کرنا، مومنین سے ملاقات کے لئے جانا، مومنین کو دیکھ کر مسکرانا، مومنین کے لئے تحفہ تحائف بھیجنا، ولایت کی عظیم نعمت کے لئے شکر بجا لانا، زیادہ صلوات پڑھنا، کثرت سے عبادت و اطاعت کرنا اسمیںسے ہر ایک عمل عظیم ترین فضیلت کا حامل ہے۔
اور اس دن جو ایک روپیہ برادر مومن کو دیتا ہے وہ اس ایک لاکھ روپیہ کے برابر ہوتا ہے جوا س کے علاوہ کسی اور دن دیا ہو۔
 اور اس دن مومن کو کھانا کھلانا تمام پیغمبروں اور صدیقین کو کھانا کھلانے کے برابر ہے۔ اور امیرالمومنین علیہ السلام کے خطبہ میں ہے کہ غدیر کے دن جو شخص مومن روزہ دار کو افطار کرائے افطار کے وقت تو گویا اس نے دس ’فئام‘ کو افطار کرایا ہے۔ کسی نے اٹھ کر پوچھا: یا امیرالمومنینؑ یہ فئام کیا ہے؟ فرمایا : ایک لاکھ پیغمبر، صدیق اور شہید۔ تو اب سوچو اس شخص کا حال کیا ہوگا جو تمام مومنین و مومنات کی کفالت کرے! میں اس کے لئے خدا کی بارگاہ میں ضامن ہوں کفر فقر وغیرہ سے محفوظ رہنے کا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس دن یہ جملات بہت زیادہ کہو:
 اللّٰھُمَّ الْعَنِ الْجَاحِدِینَ والنَّاکِثِینَ والمُغَیِّرِینَ والمُبَدِّلِینَ والمُکذِّبِینَ الَّذِینَ یُکَذِّبُونَ بِیَومِ الدِّینِ مِنَ الَاوَّلِینَ والآخِرِینَ۔ 
(اے خدا! قیامت کے دن انکار کرنے والے عہد توڑنے والے ،تغیر وتبدل کرنے والے ،بدلنے(بدعت ایجاد کرنے والے) اور جھٹلانے والے چاہے وہ اولین میں سے ہوں یا آخرین میں سے سب پر لعنت کر۔)
نماز عید:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں :زوال سے آدھا گھنٹہ پہلے(خدا وند عالم کے شکرانہ کے عنوان سے)دور کعت نماز پڑھو ۔ہر رکعت میں سورہ حمد دس مرتبہ ، سورہ توحید دس مر تبہ ، آیۃ الکر سی دس مرتبہ اور سورہ قدر دس مر تبہ پڑھو ۔اس نماز کے پڑھنے والے کو خدا وند عالم ایک لاکھ حج اور ایک لاکھ عمرے کا ثواب عطا کرتاہے اور وہ خدا وند عالم سے جو بھی دنیا اور آخرت کی حاجت طلب کرے گا وہ بہت ہی آسانی کے ساتھ بر آ ئیگی۔
عقد اخوت و برادری:
 عید غدیر کے لئے جو رسم رسومات بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک عقد اخوت ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ مومنین ایک اسلامی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آپس میں اپنی برادری کو مستحکم کرتے ہیں ،اور ایک دوسرے سے یہ عھد کرتے ہیں کہ قیامت میں بھی ایک دوسرے کو یاد رکھیں گے ضمنی طور پر اسلامی بھائی چارے کے حقوق چونکہ بہت زیادہ ہیں لہذا ان کی رعایت کیلئے خاص توجہ کی ضرورت ہے لہذا ان کے ادا نہ کرسکنے کی حلیت طلب کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کوحقوق کی ادا ئیگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔
 صیغۂ اخوت پڑھنے کا طریقہ یہ ہے : 
اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے مو من بھا ئی کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر کہو :
وآخَیتُکَ فِی اللہِ وصَافَیتُکَ فِی اللہِ وصَافَحْتُکَ فِی اللہِ وعَاھَدْتُ االلہَ وملا ئِکتَہ و کُتُبَہٗ وَ رُسُلَہٗ وَ اَنْبِیَائَہٗ والا ئِمۃَ الْمَعصُومِینَ علیھِمُ السَّلامِ عَلٰی اَنِّی اِنْ کُنْتُ مِنْ اَھْلِ الجَنَّۃِ وَالشَّفَاعَۃِ وَاُذِنَ لِیْ بِاَنْ اَدخُلَ الْجَنَّۃَ لا اَدْخُلُھَا اِلّا وَاَنْتَ مَعِیْ۔ 
(میں راہِ خدا میں تیرا بھائی ہوں ،اور راہِ خدا میں میں نے تجھ سے صفائی کی،اور راہِ خدا میں میں نے تجھ سے مصافحہ کیا،اور میں نے خدا سے اور اس کے ملائکہ، کتابوں، رسولوں، انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے عہد کیا ہے کہ میں اگر جنت والوں میں اور شفاعت والوں میں ہوا اور مجھ کو اجازت دی گئی کہ میں جنت میں داخل ہوجاؤں تو میں جنت میں تمہارے بغیر داخل نہ ہوں گا۔ )
پھر برادر مومن کہے :’’قبِلتُ ‘‘(میں نے قبول کیا)۔ اس کے بعد کہے : اَسْقَطْتُ عَنْکَ جَمِیْعَ حُقُوْقِ الْاُخُوَّۃِ مَاخَلا الشَّفَاعَۃَ وَالدُّعَاءَ وَالزِّیَارَۃَ ۔( میں نے بھائی چارگی کے اپنے تمام حقوق تجھ سے اٹھا لئے(تجھ کو بخش دئے )سوائے شفاعت ،دعا اور زیارت کے۔ )

تعزیہ اور تعزیہ داری کا جواز

تعزیہ اور تعزیہ داری کا جواز
علامہ سید علی حیدر نقوی طاب ثراہ

تعزیہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟مَن جدّد قبراً کا مطلب:
مولوی صاحب:رافضی ایک بت بناکر اس کو تمام گھماتے اور اس کے ساتھ نوحہ و ماتم کو چیخ چیخ کر پڑھتے ہیں اور لوگوں کو سناتے ہیں اس کو تو ہر شخص بت پرستی اور شرک کہے گا!
حسینی بیگم:رافضی بت کیسا اور کب بناتے ہیں؟
مولوی صاحب:کیا تم نہیں جانتیں!یہ جو محرم میں کاغذ اور بانس کی تیلیوں سے بناتے ہیں،کیا ہے؟
حسینی بیگم:وہ تو تعزیہ ہوتا ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارکہ کی شبیہ!
مولوی صاحب: یہی تو بت ہے،قبر کی شبیہ بنانا اور گھمانا بت پرستی نہیں تو اور کیا ہے؟اور لطف یہ کہ خود ان کی کتابوں میں اس کو منع کیا ہے ان کی بڑی معتبر کتاب ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘میں خود سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ :’’من جدّد قبرا او مثالا فقد خرج عن الاسلام‘‘ !
حسینی بیگم: تو اس سے تعزیہ بت کیسے ہوجائے گا؟دیکھو ہمارے اور تمہارے  پیشوائے اعظم مولانا وحید الزماں خان صاحب حیدر آبادی نے تحریر فرمایا ہے: ’’من جدّد قبراً ومثالاً فقد خرج عن الاسلام ‘‘جس نے قبر کو نیا کیا اس کی مرمت کی، اس پر گلا وہ یا چونہ کاری کی یا قبر کھود کر اس میں سے لاش نکالی یا مورت جاندار کی بنائی یا بدعت نکالی وہ اسلام سے باہر ہوگیا۔ (انوار اللغۃ پارہ ۵ ص۱۸) 
اس حدیث کا مطلب واضح ہے کہ: (۱) جوشخص تجدید قبر کرے یعنی قبر کھود کر اس میں کسی اور کو دفن کرے۔ (۲) جو شخص کوئی مورت بنائے وہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ اور اس پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ قبر کی تجدید کرنی یعنی ایک پرانی قبر میں دوسرے مردے کودفن کرکے اس کو نئی قبر بنانا حرام ہے نہ یہ کہ کسی قبر پر مٹی ڈالنا یا اس کی مرمت کرنا حرام ہو۔ چنانچہ مولانا نے بھی یہی لکھا ہے کہ’’ قبر کو کھود کر اس میں سے لاش نکالے‘‘ پس یہی تجدید قبر کا معنی ہے۔ اور اگر کوئی مطلب ہوتا تو من جدد قبراً نہیں فرماتے بلکہ من اصلح قبراً جو شخص کسی قبر کو درست کرے یا مرمت کرے) فرماتے، رہا دوسرا جملہ تو وہ بھی ٹھیک ہے کہ کسی جاندار کی تصویر بنانا منع کیا گیا ہے۔ لیکن بے جان چیزوں کی تصویر بنانا تو ممنوع نہیں ہوا  ۔ اگر بے جان چیزوں کی تصویر منع ہوتی تو ایک مسجد کی نقل دوسری مسجد بنائی جاتی ہے وہ بھی منع ہوتی ۔ ایک قرآن کی مثال دوسرا قرآن لکھا اور چھاپا جاتا ہے وہ بھی منع ہوتا تم نے ایک اچھی انگوٹھی کسی کے ہاتھ میں دیکھی ویسی ہی خود بھی بنوائی جو اس کی مثال کہی جائے گی۔ تویہ کیا حرام ہوجائے گی؟ ایک عمدہ مکان نظر آیا۔ اس کی نقل میں نے بھی ایک مکان بنوایا۔ تو کیا اس مکان کے ایسا دوسرا مکان بنوانے سے کوئی اسلام سے خارج ہوجائے گا پس تعزیہ بھی کسی جاندار چیز کی مثال نہیں ہے بلکہ بے جان چیز روضۂ حضرت امام حسینؑ کی مثال ہے۔ اس کا بنانا اسی طرح جائز ہے جس طرح ایک مسجد کی مثال دوسری مسجد بنوانی یا ایک قرآن کے مثل دوسرا قرآن لکھنایا چھاپنا۔ 
مولانا ممدوح نے اس کو بھی صاف صاف لکھ دیا ہے: فرماتے ہیں ’’ من مثل مثالا خرج عن الاسلام ‘‘ جو شخص جاندار کی مورت بنائے وہ اسلام سے نکل گیا۔ مجسم مورت جاندار کی بنانا تو بالاتفاق حرام ہے اس کو توڑ ڈالنا شیوہ اسلام ہے لیکن نقشی تصویر میں فوٹو گراف کی تصویر میں اختلاف ہے۔ غیر جاندار کی تو بالاتفاق درست ہے ۔ اور جاندار کی بعضوں نے جائز رکھی ہے۔ ‘ دیکھو (انوار الغۃ پ ۴۴ص ۱۶) اس عبارت پر غور کرنے کے بعد بتاؤ کہ قبر امام حسینؑ تو غیر جاندار ہی چیز ہے۔ پھر اس کی تصویر یا مثال بھی (جو تعزیہ ہوتا ہے) بالاتفاق درست ہوئی اب صحیح بخاری شریف کی اس عبارت کو بھی دیکھو : قال النووی قال اصحابنا و غیر ھم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم لان فیہ مضاھاۃ لخلق اللہ تعالی… واما تصویر صورۃ الشجر و رحال الابل و غیر ذالک مما لیس فیہ صورۃ حیوان فلیس بحرام ھکذاحکم نفس التصویر یعنی علامہ نووی بیان کرتے تھے کہ ہمارے اصحاب اور نیز دیگر علماء کا قول ہے کہ حیوان کی تصویر بنانا شدید حرام ہے کیوں کہ اس میں خلق خدا سے مشابہت ہوتی ہے لیکن درخت پالان شتر یا کسی غیر ذی روح چیز کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے یہی حکم بنی ہوئی تصویر کا ہے یعنی تصویر ذی روح خواہ کسی چیز پر بنی ہوئی ہو اس کا رکھنا حرام اور ناجائز ہے لیکن غیر ذی روح کی تصویر کا بنانا جس طرح جائز ہے اس کا رکھنا بھی جائز ہے (حاشیہ بخاری شریف جلد ۲ پارہ ۲۸ ص ۸۸۰ مطبوعہ نظامی کانپور) 
اب تو صاف ہوگیا کہ تعزیہ کا بنانا اور رکھنا جائز ہے کیوں کہ یہ ایک غیر ذی روح چیز ( روضہ امام حسینؑ) کی تصویر ہے۔اگر چہ بعض روایت صحاح سے ثابت ہوتا ہے کہ ذی روح کی تصویر بنانا اور رکھنا بھی جائز ہے چنانچہ ترمذی شریف میں ہے : عن عائشہ ان جبرئیل جاء بصورتھا فی خرقۃ حریر خضراء الی النبیؐ فقال ھذہ زوجتک فی الدنیا والآخرۃ ۔ یعنی حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ جناب جبرئیل میری تصویر ایک ریشمی کپڑے کے ٹکڑے پر حضرت رسول ؐ کے پاس لائے اور کہا دنیا و آخرت میں یہ آپ کی بیوی ہیں (جامع ترمذی جلد ۲ ص ۲۲۸) 
اس سے معلوم ہوا کہ خود خدا نے حضرت عائشہ کی تصویر بنوائی اور سنو عن عائشہ قالت کنت العب بالبنات عند رسول اللہ وکان لی صواحب یلعبن معی وکان رسول اللہ اذا دخل  ینقمعن منہ فیسربھن الی فیلعبن معی یعنی حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ میں حضرت رسول خدا صلعم کے پاس ہی گڑیاں کھیلا کرتی تھی اور میری ہمجولیاں بھی میرے ساتھ گڑیاں کھیلا کرتیں اور حضرت رسول خدا صلعم جب میرے پاس آتے تو میری ہمجولیاں سرک جایا کرتی تھیں مگر حضرت رسول خدا صلعم ان سب کو میرے پاس بھیج دیتے تھے تو وہ میرے پاس آکر کھیلنے لگتی تھیں۔( صحیح بخاری جلد ۲ پارہ ۲۵ ص ۹۰۵)
 یہ حدیث صحیح مسلم جلد ۲ ص ۲۸۵ وغیرہ میں بھی  ہے: عن عائشہ قالت کنت العب بالبنات وانا عند رسول اللہ ؐ فکان یسرب الی صواحباتی یلاعبنی  یعنی حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ حضرت رسول خدا صلعم کے پاس میںگڑیاں کھیلا کرتی تھی اور حضرت میری ہمجولیوں کو بھی میرے پاس بلا بھیجتے تھے جو آکر میرے پاس کھیلنے لگتی تھیں(سنن ابن ماجہ جلد ۱ ص ۱۴۳) عن عائشہ قالت کنت العب بالبنات فربما دخل علی رسول اللہ و عندی الجواری فاذا دخل خرجن واذاخرج دخلنی یعنی حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ میں برابر گڑیاں کھیلا کرتی تھی اسی حالت میں اکثر حضرت رسول خدا صلعم میرے پاس پہنچ جاتے تھے اور وہ ہمجولیاں بیٹھی رہتی تھی۔ پس جب حضرت میرے پاس آجاتے تو وہ سب ہٹ جاتیں اور جب حضرت چلے جاتے تو پھر چلی آتی تھیں( سنن ابو داؤد جلد۴ص ۳۱۹) 
یہ روایت بھی سن رکھو: عن عائشہ قالت قدم رسول اللہ ؐ من غزوۃ تبوک او خیبر و فی سہوتھا سترفھبت الریح فکشفت نامیۃ الستر عن بنات العائشۃ لعب فقال ما ھذا یا عائشۃ ؟۔ قالت بناتی ورای بینھن فرسالۃ جناحان من رقاع فقال ما ھذا الذی اری وسطھن؟ قالت فرس ، قال وما ھذا الذی علیہ؟  قلت جناحان ۔ قال فرس لہ جناحان؟۔ قالت اما سمعت ان لسلیمان خیلا لہ اجنحۃ قالت فضحک رسول اللہ ؐ حتیٰ رایت نواجذہ یعنی حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں کہ حضرت رسول خدا صلعم غزوہ تبوک یا غزوہ خیبر سے واپس تشریف لائے تو میرے گھر میں طاقچہ پر پردہ پڑا ہو اتھا  اتنے میں ہوا چلی جس نے اس پردے کو ہٹا دیا جو میری گڑیوں پر پڑا ہوا تھا۔ آنحضرتؐ نے فوراً پوچھا :عائشہ یہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا میرے کھیلنے کی گڑیاں ہیں۔ ان گڑیوں کے درمیان ایک گھوڑا بھی تھا جس کے دونوں طرف پر لگائے ہوئے تھے۔ حضرت ؐ نے اس کی طرف اشارہ کرکے پوچھا اور یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ گھوڑا۔حضرت نے پوچھا اور یہ (دونوں طرف) کیا ہے؟۔ میں نے کہا گھوڑے کے پر ہیں۔ آنحضرتؐ نے پوچھا کیا گھوڑے کے بھی دونوں طرف پر ہوتے ہیں؟ میں نے کہا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان پیغمبر کے گھوڑا تھا جس کے پر بھی تھے۔ یہ سن کرحضرت اس قدر ہنسے کہ آپ کے دانت دکھائی دینے لگے۔ (سنن ابو داؤد جلد ۴ ص ۲۹۴)
 ان صحیح حدیثوں سے ثابت ہوا کہ ذی روح کی تصویر بنانا اور رکھنا بھی جائز اور حلال بلکہ ایسا ہے جو خود حضرت رسول خدا ؐ کے گھر میں ہوتا اور حضرتؐ اس کو پسند فرماتے ۔ اگر یہ ذرہ برابر بھی برایا مکروہ ہوتا تو آںحضرت صلعم ضرور اس سے نفرت ظاہر کرتے ان گڑیوں میں آگ لگا دیتے۔ یا کم از کم ان سب کو پھینک دیتے اور حضرت عائشہ کو منع فرماتے کہ خبردار آئندہ اس قسم کی چیزیں نہ بنانا نہ رکھنا ۔اس کے عوض حضرتؐ ان گڑیوں اور ان  کے کھیل کو اس درجہ پسند فرماتے اور ا س قدر خوش ہوتے تھے کہ حضرت عائشہ کی ہمجولیوں کو بھی بلا بھیجتے تھے کہ جاؤ کھیلو پس جب ذی روح کی سایہ دار تصویر بنانا اور رکھنا جائز ہ اور سنت رسولؐ ہے تو تعزیہ بنانا، رکھنا، سڑکوں پر گھمانا بدرجہ اولی جائز اور حلال ہے جس پر کوئی اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔
تعزیہ کی ضرورت کیا ہے؟ اس کی ایجاد کب ہوئی؟ اس کی تاریخ:
مولوی صاحب: مگر اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟کیا صرف حسینؓ کے مصائب سننے سے رونا نہیں آتا جو خواہ مخواہ حضرتؑ کے روضۂ اقدس کی نقل بنا کر اور اسے دیکھ کر رونے کی کوشش کی جاتی ہے؟
حسینی بیگم:جو ضرورت حضرت رسول خداؐ کے لیے تھی کہ خدا نے حضرتؐ کو صرف امام حسینؑ کے مصائب سے خبر نہیں دی بلکہ حضرتؐ کے پاس گویا تعزیہ بھی بنواکر بھیجا تاکہ حضرتؐ کو اسے دیکھ کر زیادہ رونا آئے ،بہت بیتاب ہوں، شدت سے روئیں!
مولوی صاحب: معاذاللہ یہ کیا کفر بکنے لگیں! خدا نے کب اور کیوں حضرتؐ کے پاس تعزیہ بنواکر بھیجا؟
حسینی بیگم: میں پہلے کئی دفعہ یہ روایت بیان کر چکی ہوں کہ ام الفضل بیان کرتی تھیں کہ حضرت رسول خدا صلعم سے عرض کی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ کے جسم کاٹکڑا میری گود میں رکھ دیا گیا۔ حضرت ؐ نے فرمایا فاطمہؐ کا بیٹا تمہاری گود میں رہے گا۔ واقعاً ایسا ہی ہوا۔ پھر ایک روز میں نے حضرتؐ کی گود میں دیا تو حضرتؐ رونے گلے۔ میں نے وجہ پوچھی توفرمایا: میری امت اسے قتل کرے گی اور جبرئیل نے ان کے قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دی ہے(مشکوٰۃ شریف جلد ۸ صفحہ ۱۴۵) 
اس جملہ پر غور کرو کہ خدا نے جناب جبرئیل کے ذریعہ آنحضرتؐ کے پاس امام حسینؑ کے قتل گاہ کی سرخ مٹی بھیجی۔ یہ معلوم ہے کہ کربلا کی مٹی پہلے سے سرخ نہیں تھی بلکہ جو رنگ ہمیشہ وہاں کی مٹی کا تھا ویسی ہی تھی۔ مگر خدانے اس مٹی کو وہاں سے نکلوا کر سرخ کرایا تب حضرتؐ کے پاس بھیجا یعنی امام حسینؑ کے قتل گاہ کی مٹی حضرتؑ کی شہادت اور آپ کا خون بہنے کے بعد جیسی سرخ ہونے والی تھی ویسی ہی سرخ خدا نے اس مٹی کو بنوایا غرض اس مٹی کی شبیہ تیاری کرائی اور حضرت رسول خدا صلعم کے پاس بھیجی تاکہ حضرت اس کو دیکھ کر سمجھیں کہ امام حسینؑ کے قتل ہونے سے وہاں کی مٹی ایسی ہی سرخ ہوجائے گی اور اس وجہ سے آپ اس زمین کا تصور کریں اور ان مصائب کاتذکرہ کرکے خوب روئیں اور اپنی آنکھوں سے آنسو کے دریا بہائیں۔ 
اگر خدا امام حسین ؑ کے قتل گاہ کی زمین کی شبیہ نہیں بنواتا تو وہ مٹی اپنے معمولی رنگ پر رہتی سرخ نہیں ہوجاتی مگر خدا نے شہادت کے وقت کی مٹی کی شبیہ بناکر اس مٹی کو سرخ کردیا تب بھیجا ۔ پس جب خدانے امام حسینؑ کے قتل گاہ کی شبیہ بناکر وہ سرخ مٹی بھیجی تو معلوم ہوا کہ حضرتؑ کے قتل گاہ یا روضہ کی شبیہ بنانا خدا کی عملی تعلیم ہے۔ اب وہ شبیہ خواہ مٹی کی صورت میں بنائی جائے خواہ تعزیہ کی صورت میں خواہ دلد ل ، علم ، تابوت کی صورت میں سب خداہی کی تعلیم کی پیروی کہی جائے گی۔ البتہ بعد کو ان باتوں میں ترقی ہوگئی اور بہت کچھ اضافہ بھی ہوا مگر یہ اضافہ ویسا ہی ہے جیسا حضرت رسول خدا صلعم کی مسجد مدینہ کے اضافے ہوئے۔ جناب عبد السلام صاحب ندوی نے مسجد مدینہ کے حالات میں لکھا ہے ’’مسجد بن کر تیار ہوئی تو اسلام کی سادگی کا بہترین نمونہ تھی۔ لکڑیوں کے ستون تھے، کھجور کی شاخوں کی چھت اور پتھر کی چوکھٹ تھی۔ حضرت عمر نے مسجد نبوی میں صرف اضافہ کیا تھا مگر اس کی اصلی ہیئت قائم رکھی تھی۔ لیکن حضرت عثمان نے مسجد کا پورا نقشہ ہی بدلنا چاہا… نہایت شان و شوکت کے ساتھ مسجد نبوی کو تعمیر کرایا… ولید نے ان سب کا کفارہ کردیا ارد گرد کے مکانات کیساتھ ازواج مطہرات کے حجرے بھی تھے جو رسول اللہ ؐ  کے زہد و تقویٰ کی یادگار تھے ۔ یہ بجبر مسجد میں شامل کرلئے … آس پاس کے مکانات کو ڈھا کر زمین ہموار کی گئی اور ۸۸ھ؁ یا ۹۱ھ؁ میں نہایت وسیع پیمانہ پر تعمیر کا کام شروع ہواـــ۔۔۔۔۔۔ ولید نے جب گھوم پھر کے اچھی طرح مسجد کی سیر کرلی تو حضرت ابان بن عثمان کی طرف مخاطب ہو کر فخریہ لہجہ میں کہا کہ ہماری عمارت کہاں اورتمھاری عمارت کہاں؟!۔ ابان نے جواب دیا کہ ہم نے مسجد بنوائی تھی اور تم نے گرجا بنوایا ہے۔ (رسالہ معارف اعظم گڑھ جلد ۱ ص۲۳)۔
 غرض جس طرح اس کثرت سے اضافہ ہونے کے بعد بھی مدینہ کی مسجد کو سب لوگ مسجد رسولؐ ہی کہتے ہیں بالکل اسی طرح کچھ اضافہ ہونے کے بعد بھی موجودہ تعزیہ وہی ہے جس کو خدا نے ۴ھ؁ میں ایجاد کیا اور جناب رسول خداؐ کے پاس بھیجا اور حضرت نے اس تعزیہ کو جناب ام سلمہ کے پاس بغرض حفاظت رکھوا یا۔ اگر یہ کسی آدمی کا فعل ہوتا تو یہ لوگ حضرت رسول خدا صلعم ، حضرت فاطمہ ؑ ، حضرت علیؑ، حضرت حسنؑ کی قبروں کی شبیہ کیوں نہیں بناتے۔ کسی نے حضرت سیدہ ؑ یا حضرت علیؑ یا حضرت حسنؑ کا تعزیہ سنا ہے؟ پھر صرف امام حسینؑ کا تعزیہ کیوں رائج ہوگیا۔ انصاف سے غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر انسان آسانی سے پہنچ سکتا ہے کہ چونکہ امام حسینؑ کا تعزیہ (یعنی حضرت کے روضہ کی شبیہ ) خدا نے بنایا اور رسولؐ کے پاس بھیجا اس وجہ سے آج تک مسلمان بھی صرف امام حسینؑ ہی کا تعزیہ یعنی حضرتؑ کے روضہ کی شبیہ بناتے ہیں اور چونکہ خدا نے حضرت کے سوا اور کسی پیغمبر یا امام کے روضہ کی شبیہ نہیں بنائی اس وجہ سے مسلمان بھی کسی اور بزرگ کے روضہ کی شبیہ یعنی تعزیہ نہیں بناتے۔ اگر یہ فعل مسلمانوں کا ہوتا تو یہ لوگ پہلے حضرت رسول خداؐ یا حضرت علیؑ یا حضرت سیدہ ؑ یا حضرت امام حسنؑ کے روضہ کا تعزیہ بناتے اس کے بعد امام حسینؑ کے روضہ کا تعزیہ تجویز کرتے مگر ایسا نہیں ہے لہٰذا ماننا پڑے گا صرف امام حسینؑ کے روضہ کا تعزیہ اس وجہ سے بنتا ہے کہ خدا نے اسی کو بنوایا تھا۔ 
قرآن مجید سے تعزیہ کا ثبوت:
مولوی صاحب:تم نے یہ بھی سنا کہ ایک دفعہ آگرہ میں ایک بڑا سائن بورڈ لگایا گیا جس پر لکھا تھا:’’پچاس روپیے انعام پہلے اس مسلمان کو دیا جائے گا جو قرآن کی کسی آیت سے تعزیہ بنانا ثابت کردے‘‘!
حسینی بیگم:پھر کسی نے ثابت کیا یا نہیں؟
مولوی صاحب: تم بھی کیا باتیں کرتی ہو ،کون ثابت کرسکتا ہے،کیا کھیل ہے؟
حسینی بیگم: آسان تو ضرور ہے مگر ان اشتہار دینے والوں کی عقل کے قربان ہوں کہ کیا سوجھی تھی ! قرآن مجید تو حضرت رسول خدا ؐ کی زندگی ہی میں ۱۱ ۔؁ ہجری تک نازل ہوتا رہا اس کے بعد کوئی آیت نہیں آئی۔ اور امام حسین علیہ السلام ۶۱ھ؁ میں شہید کیے گئے جس کے بہت دنوں کے بعد حضرتؑ کا روضہ بنا ۔اسی روضہ کی نقل اور شبیہ تعزیہ ہوتا ہے!پھر قرآن مجید سے تعزیہ کا ثبوت طلب کرنا ایسا ہی تو ہے جیسے کوئی کہے کہ قرآن مجید سے ثابت کرو کہ حضرت رسول خدا صلعم کے روضہ کی زیارت جائز ہے؟!
مولوی صاحب:مگر تم نے اس کو آسان کیونکر کہہ دیا؟
حسینی بیگم:بہت سی آیتوں سے تعزیہ کاجواز ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً یہ آیہ یعملون لہ ما یشاء من محاریب و تماثیل و جفان کالجواب و قد ور راسیات ان آیات کا ترجمہ مولانا نزیر احمد صاحب دہلوی نے اس طرح کیا ہے: سلیمان کو جو کچھ (بنوانا) منظور ہوتا (یہ جنات) ان کے لئے بناتے (جیسے مسجد بیت المقدس کی بڑی) اونچی شاندار عمارتیں اور (ڈھلی ہوئی) مورتیں اور ایسے بڑے لگن جیسے حوض اور بڑی بھاری بھاری دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہیں۔(حمائل پ۲۲ ع ۸ ص ۶۸۶)
 اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ:(۱) خدا نے جنات کو حضرت سلیمان کا تابع کردیا تھا۔ (۲) جنات جو کچھ حضرت سلیمان کے لئے کرتے پروردگار کے حکم ہی سے ہوتا (۳) وہ جنات حضرت سلیمان کیلئے مورتیں بھی بناتے تھے۔ یہ مورتیں تماثیل کا ترجمہ ہے۔ اس کے متعلق مفسرین کی تحقیق بھی سنو۔ علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ : وتماثیل و صور او تما ثیل للملائکۃ والانبیاء علی ما اعتاد وا من العبادات لیراھا الناس فیعبدوا نحو عبادتھم  یعنی ثماثیل کا معنی تصویریں اور شبیہیں ہیں جو ان کی عادت کے مطابق فرشتوں اور انبیاء کی تصویریں تھیں تاکہ ان کو دیکھ کر دوسرے لو گ بھی انہیں کی طرح عبادت کریں( تفسیر بیضاوی جلد ۲ص ۱۷۳) 
اور علامہ بغوی کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ جنات فرشتوں اور نبیوں اور نیکوکاروں کی تصویریں مسجد میں بناتے تھے تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور اس سے زیادہ عبادت کرنے لگیں(معالم التنزیل ص۷۳۷) یہی مضمون کشاف جلد ۲ ص۴۴۵ تفسیر درمنثور جلد ۵ ص۲۲۸ وغیرہ میںبھی ہے۔
 ان عبارتوں سے واضح ہوا کہ خدا کے حکم سے جنات حضرت سلیمان کیلئے مختلف چیزوں کی تصویریں اور شبیہیں بنایا کرتے اور اس کی غرض صرف یہ تھی کہ ان شبیہوں کو دیکھ کر لوگ زیادہ عبادت کریں۔ اب تم ہی فیصلہ کرو کہ تعزیہ بھی روضہ امام حسینؑ کی شبیہ ہے اور اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کو دیکھ کر لوگ زیادہ گریہ و بکا کریں اور اس کا عبادت ہونامیںپہلے بیان کرچکی ہوں۔ اس سے واضح تر دلیل تعزیہ بنانے کے جائز ہونے کی اور کیا چاہئے کہ وہ عمل ہے جس کے کرنے کا حکم خدا نے جنات کو دیا تھا اور یہ عمل حضرت سلیمانؑ کے لئے کیا جاتاتھا جب حضرت سلیمان کیلئے اس کا بنانا جائز تھا تو ہم لوگوں کیلئے بھی جائز ہے کیونکہ خدا نے فرمادیا ہے: اولٰئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ یعنی یہ اگلے پیغمبر وہ تھے جن کی خدانے ہدایت کی پس تم بھی ان کی ہدایت کی پیروی کرو(پ۷ سورہ انعام آیت ۹۱) پس اس زمانہ کے مسلمان بھی انہیں حضرت سلیمان کی پیروی میں گریہ وبکاکی عبادت زیادہ انجام دینے کیلئے شبیہ (تعزیہ) بناتے اوراس کو دیکھ کر اس طرح روتے ہیں جس طرح حضر ت رسول خداؐ روتے تھے تو حضرت سلیمان ہی کی پیر وی نہیںہوئی بلکہ خدا کی پیروی ہوئی کیونکہ خدا ہی نے تو جنات کو حکم دیا تھا کہ سلیمان کیلئے شبیہ بناؤ۔(تصویر عزا)

پیر، 13 جون، 2016

ابوحمزہ ثمالی ؒ اور ان کی دعا

ابوحمزہ ثمالی ؒ اور ان کی دعا
سید محمد حسنین باقری جوراسی
نام ثابت بن ابی صفیہ تھا ، ابو حمزہ ثمالی کے نام سے مشہور تھے ۔[ثابت کے والد] ابی صفیہ کا نام دینار ہے اور وہی ابو حمزہ ثمالی ہیں(نجاشی، احمد بن علی، فہرست أسماء مصنفی الشیعہ(رجال نجاشی)، ص 115، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع ششم، 1365ش)۔قبیلہ ثمالی کی طرف منسوب ہیں جو بنی ازد کی ایک شاخ ہے اس قبیلہ کو ثُمالہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ثمالہ کے معنی بقیہ یا باقی چیز کے ہیں اور اس قبیلہ نے ایک جنگ میں شرکت کی جسمیں پورا قبیلہ کام آگیا صرف چند افراد باقی رہ گئے جنھیں ثُمالہ کہا جاتا تھا(نقوش عصمت، ص ۲۹۵)۔
ابو حمزہ ثمالی کی شخصیت :
ثابت بن دینار یا ابو حمزہ ثمالی،امام زین العابدین علیہ السلام کے خاص صحابی تھے اور آپ سے خصوصی انس رکھتے تھے اس کے علاوہ امام محمد باقر علیہ السلام،امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے بھی صحابی تھے اور ان چاروں اماموں سے احادیث نقل کی ہیں(رجال نجاشی، ص 115؛ کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃ الرجال، ص 124، نشر دانشگاہ مشہد، 1348ش.) ابو حمزہ ثمالی ائمہ اطہار علیہم السلام کے صحابی،ثقہ اور قابل اعتماد شخص ہیں،یہاں تک کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ : "ابو حمزہ ثمالی اپنے زمانہ کے سلمان ہیں "۔(رجال نجاشی، ص 115.)۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ : "ابو حمزہ ثمالی اپنے زمانہ کے لقمان تھے،انھوں نے ہم معصومینؑ میں سے چار افراد، یعنی امام علی بن حسینؑ ،امام محمد باقرؑ،امام جعفر صادقؑ کے علاوہ امام موسی کاظمؑ کا ایک مختصر زمانہ درک کیا ہے" ۔۔(ایضا، ص 203.).کوفہ کے رہنے والے تھے اور وہاں کے زاہدوں میں شمار ہوتے تھے۔ابو حمزہ ثمالی اس قدر مشہور تھے کہ اہل سنت نے بھی ان سے روایت نقل کی ہے(ملاحظہ ہو: سبحانی، جعفر، موسوعۃ طبقات الفقہاء، ج 1، ص 304، قم، مؤسسہ امام صادق (ع)، 1418ق.)۔
ابو حمزہ ثمالی کے پانچ نیک اور صالح بیٹے تھے جن میں تین یعنی نوح،حمزہ اورمنصور نے کوفہ میں زید بن علیؑ بن الحسینؑ کے قیام میں شرکت کی ہے اور ان کے ہمراہ امویوں کا مقابلہ کیا (ایضا، ص 115.)
 ابو حمزہ کے یہ تینوں بیٹے قیام زید کے برجستہ ترین اور اہم افراد میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کے بیٹے کے ہمراہ ظلم کے خلاف قیام کیا۔جب جنگ اپنے شباب پر تھی، جناب زید بن علیؑ کے ساتھیوں نے کمزوری و شکست کا احساس کیا تو بہت سے افراد نے بیعت کو توڑ کر راہ فرار اختیار کی، صرف تھوڑے سے لوگ جناب زید کے ہمراہ باقی بچے جنمیں سے ابو حمزہ کے بیٹے نوح، حمزہ اور منصور تھے۔ ان لوگوں نے آخری وقت تک استقامت و ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور امام سجاد علیہ السلام کے بیٹے کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
ابو حمزہ کے دوسرے دو بیٹے علی اور حسین، امام موسی کاظم علیہ السلام کے زمانے میں زندہ تھے۔ یہ دونوں محدثین و فقہائے شیعہ میں شمار ہوتے ہیں اور امام موسی کاظم علیہ السلام و دیگر ائمہؑ سے روایات نقل کی ہیں۔(اعیان الشیعہ، ج۴ ،ص۱۰ و نامہ دانشوران، ج۱ ،ص۵۰)
ابو حمزہ ثمالی کے علاوہ ان کے خاندان کے افراد بھی سارے کے سارے عظیم شخصیتیں اورثقات تھے(رجال کشی، ص 406.)
تالیفات :
ابو حمزہ ثمالی کی تالیفات میں سے "تفسیر قرآن"(ابن ندیم نے اپنی کتاب ’فہرست‘ میں اس کو بیان کیا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل یہ کتاب ایران میں شائع ہوئی ہے)،"کتاب النور"(اس کتاب کا موضوع حدیث ہے اور اس کو حسن بن محبوب نے ابوحمزہ ثمالی سے نقل کیا ہے)،اور"کتاب الزہد۔(شیخ طوسی، الفہرست، محقق و مصحح: آل بحر العلوم، سید محمد صادق، ص 105، نجف، المکتبۃ المرتضویہ، طبع اول، )باقی بچی ہیں اور "رسالہ حقوق امام سجادؑ" جو اپنی نوعیت کا بے مثال رسالہ ہے، کو بھی ابو حمزہ ثمالی نے امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کیاہے۔(رجال نجاشی، ص 116. و من لایحضرہ الفقیہ)۔
اس کے علاوہ بہت ابو حمزہ ثمالی کے زرین آثار شیعہ و سنی کی اہم کتابوں مختلف موضوعات پر نظر آتے ہیں(من لایحضرہ الفقیہ۔ ج۲، ص۴۵۹ و قاموس الرجال، ج۲ ، ص۴۴۴)۔
وفات:
بعض مشہور روایتوں کے مطابق ابو حمزہ ثمالی نے سنہ۱۵۰ ھ میں وفات پائی ہے۔(شیخ طوسی، محمد بن حسن، الابواب (رجال طوسی)، محقق و مصحح: قیومی اصفہانی، جواد، ص 110، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع سوم، 1427ق.)۔ لیکن ابن سعد ان کی وفات کو منصور کی خلافت کے زمانہ میں جانتے ہیں۔(ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: عطا، محمد عبد القادر، ج 6، ص 345، بیروت، دار الکتب العلمیہ، طبع اول، 1410ق.)اور منصور کی خلافت ۱۳۶ سے ۱۵۸ ھ تک تھی۔ شیعوں کی احادیث کی شہرت یہ ہے کہ حسن بن محبوب، ابو حمزہ ثمالی سے حدیث نقل کرتے تھے، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ابن محبوب سنہ۲۲۴ھ میں فوت ہوئے ہیں اور اس وقت ان کی عمر ۷۵ سال تھی(لہذا حسن بن محبوب کا سنہ ولادت 149 هجری ہےدیکھئے: امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعہ، ج 4، ص 9، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406ق.)۔ یعنی ابو حمزہ ثمالی کی وفات کے زمانہ [سنہ۱۵۰ھ]میں حسن بن محبوب دو سال سے کم تر عمر کے تھے ۔ پس جو تاریخ وفات ابن محبوب نے نقل کی ہے صحیح تر لگتی ہے،کیونکہ اگر ابو حمزہ ثمالی کی وفات کو ہم سنہ ۱۵۸ ھ مان لیں،تو اس زمانہ میں ابن محبوب کی عمر ۸ سال تھی اور اس قسم کی چیز کو ان کے ابو حمزہ ثمالی سے نقل کرنا  مناسب لگتا ہے(اعیان الشیعہ، ج 4، ص 10.)۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو بصیر سے فرمایا کہ ابو حمزہ سے ملاقات کرنا تو میرا سلام کہہ دینا اور کہنا کہ تم فلاں مہینہ میں فلاں دن انتقال کرجاؤ گے۔ ابو بصیر نے عرض کی کہ وہ آپ کے واقعی شیعوں میں ہیں؟ فرمایا: بیشک میرے پاس جو کچھ بھی ہے تم لوگوں کے لئے خیر ہے۔ ابو بصیر نے عرض کی کیا آپ کے شیعہ آپ کے ساتھ رہیں گے؟ فرمایا: بے شک اگر ان کے دل میں خوف خدا و رسولؐ ہے اور گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں تو یقیناً۔
دعائے ابو حمزہ ثمالی:
 رمضان المبارک میں سحر کے وقت پڑھی جانے والی بلند معنی و مفہوم سے لبریز دعا امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا ہے چونکہ یہ دعا ابو حمزہ ثمالی کے ذریعہ بیان ہوئی ہے اس لئے ’’دعائے ابو حمزۂ ثمالی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔(آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ إلی تصانیف الشیعہ، ج 8، ص 186، قم، اسماعیلیان، 1408ق.)۔
محدث شیخ عباس قمی ؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’مفاتیح الجنان‘‘ میں نقل کیا ہے کہ: ’’مصباح شیخؒ میں ابوحمزہؒ کی روایت ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام ماہ رمضان میں رات کے بیشتر حصہ میں نمازیں ادا فرماتے تھے اور جب وقتِ سحر ہوجاتا تھا تو یہ پڑھتے تھے۔یہ دعا یقینا بہت ہی اہم اور ضروری و مفید مطالب پر مشتمل ہے اگر ایک طرف اس میں دعا کا سلیقہ اور طریقہ بتایا گیا ہے تو دوسری طرف ہمارے لئے بہت سی ضروری و مفید باتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ لہذا کوشش ہونا چاہیے کہ اس مبارک مہینہ و قبولیت دعا کے مہینے میں اس اہم دعا سے بھی غافل نہ رہیں ۔ تلاوت و قرائت دعا کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ ضرور دیکھیں۔خدا سے دعا ہے ہم سب کو اس مہینہ تعلیمات آل محمدؐ پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
اس دعا کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:
إلھِی لاَ تُؤَدِّبْنِی بِعُقُوبَتِکَ، وَلاَ تَمْکُرْ بِی فِی حِیلَتِکَ، مِنْ ٲَیْنَ لِیَ الْخَیْرُ یَارَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِیارَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِی ٲَحْسَنَ اسْتَغْنی عَنْ عَوْ نِکَ وَرَحْمَتِکَ، وَلاَ الَّذِی ٲَسائَ وَاجْتَرَٲَ عَلَیْکَ وَلَمْ یُرْضِکَ خَرَجَ عَنْ قُدْرَتِکَ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پروردگار !مجھے اپنے عذاب میں گرفتار نہ کرنا، اور مجھے اپنی قدرت کے ساتھ نہ آزمانا، مجھے کہاں سے بھلائی حاصل ہوسکتی ہے اے پالنے والے جب کہ وہ تیرے سوا کہیں موجود نہیں۔ مجھے کیسے نجات مل سکے گی جبکہ اس پر تیرے سوا کسی کو قدرت نہیں، نہ ہی کوئی نیکی کرنے میں تیری مدد اور رحمت سے بے نیاز ہے اور نہ ہی کوئی برائی کرنے والا تیرے سامنے جرأت کرنیوالا اور تیری رضا جوئی نہ کرنیوالاتیرے قابو سے باہر ہے اے پالنے والے اے پروردگار والے اے معبود۔

اتوار، 6 جولائی، 2014

دعاء افتتاح

دعاء افتتاح
ماہ مبارک رمضان دعا و مغفرت و مناجات کا مہینہ ہے، اس کے تمام لمحات انتہائی فضیلت کے حامل ہیں اسی وجہ سے معصومین کی جانب سے اس مہینہ میں مختلف اوقات میں مختلف دعائیں وارد ہوئی ہیں ۔ بعض دعائیں بہت ہی خاص اور تاکید شدہ ہیں ان میں دعائے افتتاح بھی ہے جسے ماہ رمضان کی ہر شب میں پڑھنے کی تاکید ہے چونکہ یہ دعا بہت سے اہم مطالب پر مشتمل ہے اس لئے قارئین کے استفادہ کے لئے اس کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے ۔دعاؤں کی کتابوں میں یہ دعا دیکھی جاسکتی ہے:
اے معبود! تیری حمد کے ذریعے تیری تعریف کا آغاز کرتا ہوں اور تو اپنے احسان سے راہ راست دکھانے والا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تو معافی دینے مہربانی کرنے کے مقام پر سب سے بڑھ کر رحم و کرم کرنے والا ہے اور شکنجہ و عذاب کے موقع پر سب سے سخت عذاب دینے والا ہے اور بڑائی اور بزرگی کے مقام پر تو تمام قاہروں اور جابروں سے بڑھا ہوا ہے۔
 اے اللہ ! تو نے مجھے اجازت دے رکھی ہے کہ تجھ سے دعا و سوال کروں پس اے سننے والے اپنی یہ تعریف سن اور اے مہربان میری دعا قبول فرما۔
 اے بخشنے والے میری خطا معاف کر۔
پس اے میرے معبود! کتنی ہی مصیبتوں کو تو نے دور کیا اور کتنے ہی اندیشوں کو ہٹایا اور خطاؤں سے در گزر کی،رحمت کو عام کیا اور بلاؤں کے گھیرے کو توڑا اور رہائی دی۔
 حمد اس اللہ کیلئے ہے جس نے نہ کسی کو اپنی زوجہ بنایا اور نہ کسی کو اپنا بیٹا بنایا نہ ہی سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا سر پرست ہو اس کی بڑائی بیان کرو بہت بڑائی۔ 
حمد اللہ ہی کیلئے ہے اس کی تمام خوبیوں اور اس کی ساری نعمتوں کے ساتھ حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی حکومت میں اس کا کوئی مخالف نہیں نہ اس کے حکم میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا ہے، حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی آفرینش میں کوئی اس کا شریک نہیں اور اسکی بڑائی میں کوئی اس جیسا نہیں حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جسکا حکم اور حمد خلق میں آشکار ہے اس کی شان اس کی بخشش کے ساتھ ظاہر ہے۔ بن مانگے دینے میں اس کا ہاتھ کھلا ہے وہی ہے جس کے خزا نے کم نہیں ہوتے اور کثرت کے ساتھ عطا کرنے سے اس کی بخشش اور سخاوت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زبردست عطا کرنے والا ہے۔
 اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بہت میں سے تھوڑے کا جبکہ مجھے اس کی بہت زیادہ حاجت ہے اور تو ہمیشہ اس سے بے نیاز ہے وہ نعمت میرے لیئے بہت بڑی ہے اور تیرے لئے اس کا دینا آسان ہے۔
 اے معبود! بے شک تیرا میرے گناہ کو معاف کرنا، میری خطا سے تیری در گزر، میرے ستم سے تیری چشم پوشی، میرے برے عمل کی پردہ پوشی میرے بہت سے جرائم پر تیری برد باری ہے جبکہ ان میں سے بعض بھول کر اور بعض میں نے جان بوجھ کر کئے ہیں تب بھی اس سے مجھے طمع ہوئی کہ میں تجھ سے وہ مانگوں جس کا میں حقدار نہیں چنانچہ تو نے اپنی رحمت سے مجھے روزی دی اور اپنی قدرت کے کرشمے دکھائے قبولیت کی پہچان کرائی پس اب میں با امن ہوکر تجھے پکارتا ہوں اور سوال کرتا ہوں۔ 
الفت سے نہ ڈرتے اور گھبراتے ہوئے اور مجھے ناز ہے کہ اس بارے میں تیری بارگاہ میں آیا ہوں پس اگر تو نے قبولیت میں دیر کی تو میں بوجہ نادانی تجھ سے شکوہ کروں گا اگر چہ وہ تاخیر کاموں کے نتائج سے متعلق تیرے علم میں میرے لیے بہتری کی حامل ہو پس میں نے تیرے سوا کوئی مولا نہیں دیکھا جو میرے جیسے پست بندے پر مہربان و صابر ہو۔
 اے پروردگار! تو مجھے پکارتا ہے تو میں تجھ سے منہ موڑتا ہوں تو مجھ سے محبت کرتا ہے میں تجھ سے خفگی کرتا ہوں تو میرے ساتھ الفت کرتا ہے میں بے رخی کرتا ہوں جیسے کہ میرا تجھ پر 
کوئی احسان رہا ہو تو بھی میرا یہ طرز عمل تجھے مجھ پر رحمت فرمانے اور مجھ پر اپنی عطا و بخشش کیساتھ فضل و احسان کرنے سے باز نہیں رکھتا پس اپنے اس نادان بندے پر رحم کر اور اس پر اپنے فضل و احسان سے سخاوت فرما بے شک تو بہت دینے والا سخی ہے۔
 حمد ہے اس اللہ کے لیے جو سلطنت کا مالک کشتی کو رواں کرنیوالا ہواؤں کو قابو رکھنے والا صبح کو روشن کرنے والا او رقیامت میں جزا دینے والا جہانوں کا پروردگار ہے۔ حمد ہے اللہ کی کہ جانتے ہوئے بھی بردباری سے کام لیتا ہے اورحمد ہے اس اللہ کی جو قوت کے باوجود معاف کرتا ہے اور حمد ہے اس اللہ کی جو حالت غضب میں بھی بڑا بردبار ہے اور وہ جو چاہے اسے کرگزرنے کی طاقت رکھتا ہے حمد ہے اس اللہ کی جو مخلوق کو پیدا کرنیوالا روزی کشادہ کرنیوالا صبح کو روشنی بخشنے والا صاحب جلالت و کرم اور فضل و نعمت کا مالک ہے۔جو ایسا دور ہے کہ نظر نہیںآتا اور اتنا قریب ہے کہ سرگوشی کو بھی جانتا ہے وہ مبارک اور برتر ہے حمد ہے اس اللہ کی جس کا ہمسر نہیں جو اس سے جھگڑا کرے نہ کوئی اس جیسا ہے کہ اس کاہمشکل ہو نہ کوئی اس کا مددگار و ہمکار ہے وہ اپنی عزت میں سب عزت والوں پر غالب ہے اور سبھی عظمت والے اس کی عظمت کے آگے جھکتے ہیں وہ جو چاہے اس پر قادر ہے حمد ہے اللہ کی جسے پکارتا ہوں تو وہ جواب دیتا ہے اور میری برائی کی پردہ پوشی کرتا ہے میںاسکی نافرمانی کرتا ہوں تو بھی مجھے بڑی بڑی نعمتیں دیتا ہے کہ جن کا بدلہ میں اسے نہیں دیتا پس اس نے مجھ پر کتنی ہی خوشگوار عنایتیں اوربخششیں کی ہیں کتنی ہی خطرناک آفتوں سے مجھے بچالیا ہے کئی حیرت انگیز خوشیاں مجھے دکھائی ہیں پس ان پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہوں اور لگاتار اس کا نام لیتا ہوں۔ حمد ہے اللہ کی جس کا پردہ ہٹایا نہیںجاسکتا اس کا در رحمت بند نہیں ہوتا اس کا سائل خالی نہیں جاتا اور اس کا امیدوار مایوس نہیں ہوتا حمد ہے اللہ کی جو ڈرنے والوں کو پناہ دیتا ہے نیکوکاروں کو نجات دیتا ہے لوگوں کے دبائے ہوؤں کو ابھارتا ہے بڑا بننے والوں کو نیچا دکھاتا ہے بادشاہوں کو تباہ کرتا اور ان کی جگہ دوسروں کو لے آتا ہے۔ حمد ہے اللہ کی کہ وہ دھونسیوں کا زور توڑنے والا ظالموں کو برباد کرنے والا فریادیوں کو پہنچنے والا اور بے انصافوں کو سزا دینے والا ہے وہ دادخواہوں کا دادرس حاجات طلب کرنے والوں کا ٹھکانہ اور مومنوں کی ٹیک ہے حمد ہے اس اللہ کی جس کے خوف سے آسمان اور آسمان والے لرزتے ہیں زمین اور اس کے آبادکار دہل جاتے ہیں سمندر لرزتے ہیں اور وہ جو انکے پانیوں میں تیرتے ہیں حمد ہے اللہ کی جس نے ہمیں یہ راہ ہدایت دکھائی اور ہم ہرگز ہدایت نہ پاسکتے اگر اللہ تعالی ہمیں ہدایت نہ فرماتا حمد ہے اس اللہ کی جو خلق کرتا ہے اور وہ مخلوق نہیں وہ رزق دیتا ہے اور وہ مرزوق نہیں وہ کھانا کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں وہ زندوں کو مارتاہے اور مردوں کو زندہ کرتا ہے وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں۔ بھلائی اسیکے ہاتھ میں ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔
 اے معبود! حضرت محمدۖ پر اپنی رحمت نازل فرما جو تیرے بندے تیرے رسولۖ تیرے امانتدار تیرے برگزیدہ تیرے حبیب اور تیری مخلوق میں سے تیرے پسندیدہ ہیں تیرے راز کے پاسدار ہیں اور تیرے پیغاموں کے پہنچانے والے ہیں ان پر رحمت کر بہترین نیکوترین زیباترین کامل ترین روئیدہ ترین پاکیزہ ترین شفاف ترین روشن ترین اور تو نے جو بہت 
رحمت کی برکت دی نوازش کی مہربانی کی اور درود بھیجا اپنے بندوں میں اپنے نبیوں اپنے رسولوں اور اپنے برگزیدوں میں سے کسی ایک پر اور جو تیرے ہاں بزرگی والے ہیں تیری مخلوق میں سے۔
 اے معبود! امیرالمومنین علی پر رحمت فرما،جو تمام کائنات کے پروردگار کے رسول کے وصی ہیںتیرے بندے تیرے ولی تیرے رسولۖ کے بھائی تیری مخلوق پر تیری حجت تیری بہت بڑی نشانی اور بہت نبأ عظیم ہیں۔
 اور صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہراپر رحمت فرما جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں اور نبیۖ رحمت کے دو نواسوں اور ہدایت والے دو ائمہ حسن و حسین پر رحمت فرما جو جنت کے 
جوانوں کے سید و سردار ہیں۔ اور مسلمانوں کے ائمہ پر رحمت فرما کہ وہ علی زین العابدین محمد الباقر ،جعفر الصادق، موسی الکاظم، علی الرضا،محمد تقی الجواد،علی نقی الہادی،حسن العسکری اور بہترین سپوت ہادی المہدی ہیں جو تیرے بندوں پر تیری حجتیں اور تیرے شہروں میں تیرے امین ہیں ان پر رحمت فرما بہت بہت ہمیشہ ہمیشہ اے معبود اپنے ولی امر پر رحمت فرما کہ جو قائم، امیدگاہ عادل اور منتظر ہے اسکے گرد اپنے مقرب فرشتوں کا گھیرا لگادے اور روح القدس کے ذریعے اسکی تائید فرما اے جہانوں کے پروردگار اے معبود! اسے اپنی کتاب کی طرف دعوت دینے والا اور اپنے دین کیلئے قائم قرار دے اسے زمین میںاپنا خلیفہ بنا جیسے ان کو خلیفہ بنایا جو اس سے پہلے ہو گزرے ہیں اپنے پسندیدہ دین کو اس کیلئے پائیدار بنادے اسکے خوف کے بعد اسے امن دے کہ وہ تیرا عبادت گزار ہے کسی کو تیرا شریک نہیں بناتا۔
 اے معبود! اسے معزز فرما اور اس کے ذریعے مجھے عزت دے میں اسکی مدد کروں اور اس کے ذریعے میری مدد فرما اسے باعزت مدد دے اور اسے آسانی کے ساتھ فتح دے اور اسے اپنی طرف سے قوت والا مددگار عطا فرما۔ اے معبود! اس کے ذریعے اپنے دین اور اپنے نبیۖ کی سنت کو ظاہر فرما یہاں تک کہ حق میں سے کوئی چیز مخلوق کے خوف سے مخفی و پوشیدہ نہ رہ جائے۔
 اے معبود! ہم ایسی برکت والی حکومت کی خاطر تیری طرف رغبت رکھتے ہیں جس سے تو اسلام و اہل اسلام کو قوت دے اور نفاق و اہل نفاق کو ذلیل کرے اور اس حکومت میں ہمیں اپنی اطاعت کیطرف بلانے والے اور اپنے راستے کیطرف رہنمائی کرنے والے قرار دے اور اس کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی عزت دے۔
 اے معبود! جس حق کی تو نے ہمیں معرفت کرائی اسکے تحمل کی توفیق دے اور جس سے ہم قاصر رہے اس تک پہنچادے۔ اے معبود اسکے ذریعے ہم بکھروں کو جمع کردے اسکے ذریعے 
ہمارے جھگڑے ختم کر اور ہماری پریشانی دور فرما اسکے ذریعے ہماری قلت کوکثرت اور ذلت کو عزت میں بدل دے اسکے ذریعے ہمیں نادار سے تونگر بنا اور ہمارے قرض ادا کر دے اسکے ذریعے ہمارا فقر دور فرما دے ہماری حاجتیں پوری کر دے اور تنگی کو آسانی میں بدل دے اس کے ذریعے ہمارے چہرے روشن کر اور ہمارے قیدیوں کو رہائی دے اس کے ذریعے ہماری حاجات بر لا اور ہمارے وعدے نبھا دے اسکے ذریعے ہماری دعائیں قبول فرما اور ہمارے سوال پورے کر دے اس کے ذریعے دنیا و آخرت میں ہماری امیدیں پوری فرما اور ہمیں ہماری درخواست سے زیادہ عطا کر اے سوال کئے جانے والوں میں بہترین۔اور اے سب سے زیادہ عطا کرنے والے اس کے ذریعے ہمارے سینوں کو شفا دے اور ہمارے دلوں سے بغض و کینہ مٹا دے جس حق میں ہمارا اختلاف ہے اپنے حکم سے اس کے ذریعے ہمیں ہدایت فرما بے شک تو جسے چاہے سیدھے راستے کی طرف لے جاتا ہے اس کے ذریعے اپنے اور ہمارے دشمن پر ہمیں غلبہ عطا فرما اے سچے خدا ایسا ہی ہو۔
 اے معبود! ہم شکایت کرتے ہیں تجھ سے اپنے نبیۖ کے اٹھ جانے کی کہ ان پر اور ان کی آل پر تیری رحمت ہو اور اپنے ولی کی پوشیدگی کی اور شاکی ہیں دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت تعداد اور فتنوں کی سختی اور حوادث زمانہ کی یلغار کی شکایت کرتے ہیں پس محمدۖ اور ان کی آل پر رحمت فرما اور ہماری مدد فرما ان پر فتح کے ساتھ اور اس میں جلدی کر کے تکلیف دور کردے نصرت سے عزت عطا کر حق کے غلبے کا اظہار فرما ایسی رحمت فرما جو ہم پرسایہ کرے اور امن عطا کر جو ہمیں محفوظ بنا دے رحمت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
آمین یا ربّ العالمین۔(مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی)

روزہ کے احکام

روزہ کے احکام
مرجع جہان تشیع حضرت آیة اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی مدّ ظلہ
سوال: اگر مسئلہ بھول جانے کی وجہ سے کوئی ایسا کام انجام دیں جس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے تو کیا روزہ باطل ہو جائے گا ؟
جواب: روزہ باطل نہیں ہوتا۔
سوال: میں ایسے گھرانے سے ہوں جہاں کوئی مذہبی مسائل نہیں جانتا بلکہ میرا باپ مذہب کا مخالف ہے۔ لیکن میں اللہ کے فضل سے وقت کے ساتھ ساتھ مسائل جاننے اور سیکھنے لگا ہوں اور چونکہ یہ ایک لمبا راستہ ہے اور میں اماموں کی ولایت اور مرجع کی ضرورت جیسے مسائل پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا، مجھے ان چند سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
 میں نے اس زمانے میں، جو کئی سال بنتے ہیں، جو نمازیں پڑھیں ہیں اس میں میری قرائت صحیح نہیں تھی، کیا مجھ پر ان سب کا پھر سے پڑھنا واجب ہے؟ اور اس زمانے کے روزے، جب مجھے غسل کرنا نہیں آتا تھا اور مجھے روزے رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر آپ مطمئن تھے کہ اس طرح کی قرائت صحیح تھی تو نمازوں کی قضا لازم نہیں ہے لیکن اگر غسل صحیح نہیں تھا تو نماز یں صحیح نہیں تھیں لیکن روزہ صحیح تھا، بہتر ہے کہ آپ غسل صحیح نہ ہونے کی وجہ لکھیں اور جو روزے آپ نے مجبوری میں نہیں رکھے ہیں ان کی قضا ضروری ہے مگر کفارہ نہیں ہے۔
سوال: پہلا سال ہے کہ روزہ مجھ پر واجب ہوا ہے ا ور آج میرا پہلا روزہ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ سینے کے بلغم کو اگر منھ میں آ جائے تو اسے اندر نہیں لے جانا چاہیے۔ میرا روزہ باطل ہوا یا نہیں؟
جواب: نہیں، روزہ باطل نہیں ہوا۔
سوال: میں لکھنؤ میں پیدا ہوا ہوں اور وہیں میرا وطن ہے، سات سال پہلے حصول علم کے لیے دہلی آیا اور وہیں سکونت اختیار کر لی، البتہ اپنے وطن سے عدول نہیں کیا، دہلی میں چھ سال رہنے کے بعد تقریبا ایک سال پہلے لکھنؤ آ گیا۔ آجکل لکھنؤ میں رہتا ہوں اور وہیں کام کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ دہلی میں بھی کام کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے پہلے ہفتے میں دو روز اور آجکل دو ہفتے میں تین روز دہلی آتا ہوں اور احتمال قوی یہ ہے کہ دوبارہ دہلی میں رہائش اختیار کر لوں۔ اسی وجہ سے دہلی سے بھی عدول نہیں کیا تھا اور اس ایک سال کے عرصے میں دہلی میں بھی نماز پوری پڑھتا تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا یہ عمل صحیح تھا یا نہیں؟ اور میرا وظیفہ کیا ہے؟ اور اگر مجھے قصر نمازیں پڑھنا چاہیے تھیں تو اس مدت میں میرے نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جو آپ نے کیا صحیح تھا اور دونوں شھر آپ کے لیے وطن کا حکم رکھتے ہیں۔
سوال: روزہ کی حالت میں انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے اچانک کسی تصویر کے آ جانے اور اس پر نظر پڑ جانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: روزہ باطل نہیں ہوتا۔ اگرچہ شرعی اعتبار سے ایسے موقع پر نظر نہیں کرنا چاہیے۔
سوال: میں ہفتے میں تین دن حد ترخص سے گزرتا ہوں۔ میرے نماز و روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب: دونوں کامل ہیں۔
سوال: کیا سحری کھانے یا نہ کھانے سے روزہ پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
جواب: نہیں۔
سوال: اس بات کے پیش نظر کہ شب قدر ایران اور دوسرے ممالک میں ایک تاریخ میں نہیں ہوتی؟ اصلی شب ایران میں ہوگی یا ان ملکوں میں؟ کیا ہر ملک میں ایک الگ شب قدر ہوتی ہے؟
جواب: سب کو اپنے اپنے فریضہ پر عمل کرنا چاہیے۔
سوال: حمام میں ہونے والی بھاپ ناک کی نلی میں محسوس ہو تو کیا اس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟ اگر باطل ہے تو حمام کے لیے کیا کرنا چاہیے؟نیز غلیط بادل کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: بھاپ ناک میں پہچنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔ ہاں غلیظ بھاپ اور بادل کے پانی میں تبدیل ہو کر معدہ میں پہنچ جانے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔
سوال: پونے دو سال سے میں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہوں اور فلاں تاریخ کو دو سال پورے ہو جائینگے۔ اس دوران وہ شیشی سے دودھ پیتا تھا میرا سوال یہ ہے کہ میں اس سال روزہ رکھوں یا نہیں؟
جواب: روزہرکھیے۔
سوال: اذان صبح کے بعد آجکل کے پیسٹ سے برش کرنا کیسا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس کی رطوبت کو گھوٹنا صحیح نہیں ہے۔
سوال: روزہ دار کے لیے عطر اور پرفیوم کا استعمال کیسا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: کس صورت میں روزہ کو توڑنا مستحب ہے؟
جواب: مستحب روزہ رکھنے والے کے لیے کسی مومن کی دعوت ہر روزہ کھول لینا مستحب ہے۔
سوال: جیسا کہ توضیح المسائل میں لکھا ہے کہ انسان چار جگہ پر پوری نماز پڑھ سکتا ہے؟ کیا یہ حکم روزہ کا بھی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کیا مسافر دس روز کے قصد کے بغیر بھی مکہ اور مدینہ میں روزہ رکھ سکتا ہے؟
جواب: اس حکم میں روزہ شامل نہیں ہے۔
سوال: اس شخص کے روزے کا کیا حکم ہے جو ایسے شھر میں کام کرتا ہے جو اس کے یہاں سے  ٥٠کیلو میٹر ہے اور وہ روزانہ آمد و رفت کرتا ہے؟
جواب: ایسا انسان کثیر السفر ہے اور تمام سفر میں اس کا روزہ صحیح ہے۔
سوال: ماہ مبارک میں اگر کوئی شخص اذان صبح کے بعد اٹھے اور اس پر غسل واجب ہو تو کیا کریگا؟ کیا اس دن کا روزہ نہیں رکھ سکتا؟
جواب: اس کا روزہ صحیح ہے لیکن نماز کے لیے غسل کرنا پڑیگا۔
سوال: روزیدار کے لیے طاقت کا انجکشن لگوانا کیسا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے اس سے روزے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
سوال: میری بیوی نے اس نیت سے کہ ماہ مبارک رمضان میں سارے روزے رکھ سکے، حمل نہ ٹھرنے والی گولیاں استعمال کیں۔ لیکن ایک دن ہم سحر کے لیے نہیں اٹھ سکے اور وہ گولیاں نہیں کھا سکی۔ غفلت اور مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے (تا کہ اس کو حیض نہ آئے اور ایک ہفتے کے روزہ نہ چھوٹیں) صبح اذان کے بعد اس نے گولیاں کھا لیں اور اس کے بعد معدہ کی پریشانی جو اس دوا سے پیدا ہوتی ہے، کو دور کرنے کی غرض سے کھانا بھی کھا لیا ہے؟ آیا اس غلطی کے لیے کفارہ دینا پڑیگا؟
اس بات کے پیش نظر کہ مسئلہ جاننے کے بعد اس نے شام تک کچھ کھایا پیا نہیں ہے۔ اور اگر کفارہ واجب ہو جائے تو کیا اس کے ادا کرنے کے بعد گناہ سے پاک ہو جائیں گے یا نہیں؟
جواب: اگر اسے اطمینان تھا کہ دوا کا کھانا جائز ہے تو صرف اس دن کے روزہ کی قضا کرے گی۔
سوال: ایسے محتلم شخص کے روزہ کا، جو اذان صبح کے بعد نیند سے جاگا ہو اور اذان صبح کے بعد غسل جنابت کیا ہو، کیا حکم ہے؟
جواب: اس کا روزہ صحیح ہے۔
سوال: روزہ رکھنے کی کیا عمر ہے؟
جواب: بالغ ہونا ہے،جو لڑکیوں کے لیے  ٩سال قمری کا پورا ہونا اور لڑکوں میں ان علامت میں سے کسی کا پایا جانا ہے:
۔ زیر ناف بال، ڈاڑھی اور مونچھ نکلنا
۔ احتلام ہونا۔
۔  ١٥سال قمری پورے ہونا۔
سوال: ابتدا بلوغ میں، ماہ مبارک میں چھ بار روزے کو حرام سے توڑنے کا مرتکب ہو چکا ہوں اور اس بات کے پیش نظر کہ ان کا کفارہ ادا کروں گا بہت سے مستحب روزے رکھ چکا ہوں۔ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا اور روزے رکھ سکتا ہوں؟ کفارہ کتنا ہے اور کس طرح ادا ہوگا؟
جواب: جب تک ان واجب روزوں کی قضا نہیں ہوگی آپ مستحبی روزے نہیں رکھ سکتے۔ ہر دن کے روزہ کا کفارہ ساٹھ مسکین کو کھانا کھلانا ہے جو ہر فقیر کو سات سو پچاس گرام گیہوں دے کر پورا ہو سکتا ہے۔
سوال: روزہ میں نماز صبح کے بعد سونے سے اگر نیند میں احتلام ہو جائے تو کیا روزہ باطل ہو جاتا ہے؟
جواب: روزہ صحیح ہے۔
سوال: اگر روزے میں خود بخود منی اپنی جگہ سے باہر نکل آئے تو کیا روزہ باطل ہو جاتا ہے؟ اور اگر یہ اتفاق دن میں دو تین بار یا اس سے زیادہ ہو تو کیا ہر بار غسل کرنا ضروری ہے؟
جواب: روزہ باطل نہیں ہوتا مگر غسل کرنا ضروری ہے۔
سوال: کیا روزہ میں لا پرواہی کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟
جواب: نہیں، باطل نہیں ہوتا۔
سوال: روزہ میں برش کرنا کیسا ہے؟
جواب: اگر باہر آنے والے پانی اور اس کے ساتھ دوسری رطوبت کو اندر نہ لے جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: کیا ماہ مبارک رمضان میں ہمبستری سے روزہ باطل ہو جاتا ہے اگر چہ منی خارج نہ ہو؟
جواب: ہاں، روزہ باطل ہے۔
سوال: ماہ مبارک رمضان میں اذان صبح سے پہلے غسل جنابت کے لیے حمام گیا، غسل شروع کرنے کے بعد اتفاقا پانی بہت ٹھنڈا ہو گیا اتنا کہ غسل روکنا پڑا اور اس بیچ اذان ہو جاتی ہے اور جب پانی گرم ہونے کے بعد غسل سے فارغ ہوا تو دن نکل چکا تھا۔ کیا میں گنہگار ہوں؟ اس دن کے روزہ کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس دن کا روزہ صحیح ہے اور ایسے مورد میں تیمم کریگا اور غسل کرنے کے بعد نماز پڑھیگا۔
سوال: کیا ایک ساتھ کئی لوگ میت کے لیے نماز اور روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (
جواب: رکھ سکتے ہیں ترتیب ضروری نہیں ہے۔
سوال: اگر روزہ میں سوتے ہوئے منی نکل جائے تو کیا روزہ باطل ہے؟
جواب: روزہ باطل نہیں ہے۔
سوال: میں ٢٥ سالہ جوان ہوں۔ میری آنکھیں بہت زیادہ کمزور ہیں۔ کیا روزہ رکھنا میرے لیے واجب ہے؟
جواب: اگر نقصان اور مرض بڑھ جانے کا خطرہ ہو تو روزہ واجب نہیں ہے۔
سوال: کیا سگریٹ پینے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟
جواب: ہاں، احتیاط واجب کی بنا پر روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
سوال: ماہ مبارک رمضان میں جان بوجھ کر تھوک پینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
سوال: یوروپ کی مسلمان شیعہ خواتین بعض توہین سے بچنے کے لیے اسکارف نہیں باندھتیں مگر روزہ رکھتیں ہیں۔ کیا شرعی اعتبار سے روزہ قبول ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو راہ حل لکھیں؟
جواب: روزہ صحیح ہے۔
سوال: میں اسٹوڈنٹ ہوں اور امریکہ میں پڑھتا ہوں۔ ماہ مبارک رمضان کی وجہ سے ایک سوال پیش آتا رہتا ہے وہ یہ ہے کہ اکثر اوقات وسائل کی کمی اور وقت کی تنگی کے سبب گھر سے باہر افطار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان ریسورینٹ میں جو مرغ اور گوشت استعمال ہوتا ہے وہ شرعی طریقے سے ذبح نہیں ہوتا ہے۔ میرے لیے کیا حکم ہے اور راہ حل کیا ہے؟
جواب: ان کے کھانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا مگر ان کا کھانا حرام ہے اور آپ کا منھ اور وہ چیزیں جن سے وہ مس ہونگی نجس ہو جائیں گی۔
سوال: کیا برہنہ فوٹو دیکھنا اور فحش موضوع پر چیٹ کرنا، روزہ کو باطل کر دیتا ہے؟
جواب: نہیں اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
سوال: کیا آنکھ میں دوا ڈالنے سے، جبکہ اس کا کچھ حصہ آنسو کے راستے سے منھ میں جاتا ہے، روزہ باطل ہو جاتا ہے؟ اور آستما (asthma) کا اسپرے استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب: دونوں صورتوں میں روزہ صحیح ہے۔ مگر یہ کہ اسپرے سے یہ علم حاصل ہو جائے کہ جس مادہ سے اسپرے بنا ہے وہ ہاضمے کی نلی میں داخل ہو گیا ہے۔
سوال: میں ایک اسٹوڈینٹ ہوں اور دوسرے شہر میں پڑھتا ہوں۔ میں ایک یا دو ہفتے میں اپنے وطن سفر کرتا ہوں(سنیچر اتوار کی چھٹی میں)پھر شہر لوٹ جاتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری نماز محل تحصیل میں پوری ہے یا قصر؟ اور روزہ؟ اور کیا آپ محل تحصیل کو وطن مانتے ہیں یا نہیں؟
جواب: اگر آپ کا قصد تحصیل کی جگہ پر دو سال یا اس سے زیادہ رکنے کا ہے تو وہ آپ کے وطن کے حکم میں ہے۔
سوال: طلاب دینی و غیر دینی جو حصول علم کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کرتے ہیں، ان کے نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر بطور متوسط مہینے میں ١٠ دن سفر کرتے ہیں تو انہیں ہر سفر میں نماز پوری پڑھنی چاہیے اور روزہ رکھنا چاہیے اور اگر جہاں پڑھتے ہیں وہاں دو سال رکنے کا قصد ہو تو وہ ان کی قیام گاہ (وطن کے حکم میں ہے) ہے وہاں نماز پوری اور روزہ رکھنا چاہیے۔
سوال: اگر جوان میاں بیوی ماہ مبارک رمضان میں روزے کی حالت میں اپنے اوپر کنٹرول نہ کر سکیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہم بستری کر لیں اور ان کا روزہ باطل ہو جائے تو انھیں کیا کرنا چاہیے؟
جواب: قضا اور کفارہ دونوں واجب ہے اور کفارے میں دونوں کا ٦٠ مسکین کو ٧٥٠ گرام آٹا یا گیہوں دے دینا کافی ہے۔
سوال: ماہ مبارک رمضان میں سحری نہ کھانے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا سحری کھانا مستحب ہے؟
جواب: ممکن ہے کہ سحری نہ کھانا ضعف کا سبب ہو جائے لہذا سحری کھانا بہتر ہے۔
سوال: ماہ مبارک رمضان میں عورتوں کے لپسٹک لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: رمضان کے روزے کی قضا میں اگر بھولے سے کچھ کھا لے(ظھر سے پھلے یا بعد) تو اگر روزے کی قضا کرنے کا وقت ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: بھولے سے کھانے پینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
سوال: ہم جس جگہ کام کرتے ہیں وہاں کام کی نوعیت ایسی ہے کہ  ١٤ دن کام کرتے ہیں اور ١٤ دن گھر جاتے ہیں جو تقریبا ٢٧،٢٨ کیلو میٹر پر ہے اور ١٤ دن کام کے دوران بھی ایک دو بار کام کی غرض سے ۔ ٢٧، ٢٨ کیلو میٹر سے بھی زیادہ سفر کرنا پڑ جاتا ہے۔ اس صورت حال کے مطابق درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں:
دفتر میں ہمارے نماز روزے کا کیا حکم ہے؟
کام کے دوران سفر میں نماز، روزے کا کیا حکم ہے؟
دفتر اور گھر کے درمیان سفر میں نماز، روزے کا کیا حکم ہے؟
اگر دفتری کام ہر ہفتے پیش آئے اور وہ١٤  دن جو گھر میں گزرتے ہیں ان میں سفر پیش آئے یا نہ آئے تو نماز، روزہ کا کیا حکم ہے؟
اگر ٧ دن دفتر میں اور ١٤ دن گھر میں ہوں تو نماز، روزے کا کیا حکم ہے؟
اور اگر کام کے ان ١٤ دنوں میں ہر روز سفر در پیش ہو تو نماز، روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر ایک ہفتہ یا دو ہفتہ دفتر میں رہیں اور ڈیڑھ سال تک ایسا ہی ہو تو وہ جگہ وطن کے حکم میں ہے وہاں نماز تمام اور روزہ صحیح ہے لیکن سفر میں نماز قصر ہوگی اور اگر ظھر سے پھلے سفر ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے اور ایسا ہی اس وقت ہے جب دفتر اور گھر کے دوران سفر میں ہو مگر یہ کہ دفتر کے سفر دوسرے تمام سفر کے علاوہ ہوں اور مہینے میں ١٠ دن لگاتار ہوتے ہوں اس صورت میں کثیر السفر میں شمار ہوگا اور نماز ہر سفر میں حتی اگر دوسرے ملک کا ہو تو بھی تمام پڑھیگا اور یہی حکم ان ١٤ دنوں کا ہے جو دفتر میں ہوتے ہوئے سفر میں گزرتے ہیں۔
سوال: توضیح المسائل کے پہلے مسئلے کے مطابق اذان صبح سے کچھ دیر پہلے اور اذان مغرب سے کچھ دیر بعد تک کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو روزہ کو باطل کرنے والا ہو تا کہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ روزہ مکمل رکھا ہے، یہ مدت کتنی ہے؟ اور کیا اس کے باوجود کہ ایران میں نہایت دقت کے ساتھ اذان کا وقت معین کیا جاتا ہے، اس کی ضرورت باقی رہتی ہے؟
جواب: توضیح المسائل سے یہ عبارت بدلی جانی چاہیے اور لازم نہیں ہے کہ فجر طلوع ہونے سے پہلے کھانا پینا چھوڑ دے مگر اس بات کا یقین ہو کہ اگر احتیاط نہیں کرے گا تو فجر کے بعد تک کھاتا رہیگا اس صورت میں احتیاطا ضروری ہے کہ فجر سے پہلے ہاتھ روک لے۔ پھر بھی جب تک صبح میں فجر کا یقین حاصل نہ ہو جائے ہاتھ روکنا ضروری نہیں ہے لیکن مغرب میں جب تک وقت کا یقین حاصل نہ ہو جائے کھانا پینا جائز نہیں ہے۔ اذان کا وقت اور اس کے معین کرنے کا معیار کیلینڈر نہیں ہو سکتا ہے بلکہ معیار مغرب کے لیے مشرق کی طرف ہونے والی سرخی کا زا ئل ہو جا نا ہے اور سورج ظاہر نہ ہونے کی صورت میں احتیاط پر بنا رکھی جائیگی۔ اور پچھلے روزوں کے بارے میں اگر دن میں کھانے کا یقین نہ ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
سوال: میں ایک طالب علم ہوں اور ٢٢ سال سے تہران میں ساکن ہوں اور اسے اپنا وطن بنا چکا ہوں، ٤ ماہ پہلے اپنے مریض والدین کی دیکھ بھال کے لیے وہاں سے ترک وطن کرکے اصفہان آ چکا ہوں، اس عرصے میں جب بھی تہران جاتا ہوں نماز قصر پڑھتا ہوں، اب  ٤ماہ کے بعد احساس ہوا کہ اعراض کی نیت بھول تھی اور جس مسجد میں نماز پڑھاتا تھا وہاں کے مومنین کے اصرار کی وجہ سے تہران لوٹ آنے کا احتمال زیادہ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ میرے والدین بھی میرے ساتھ رہیں گے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی اعراض کی نیت سے پلٹ سکتا ہوں ایسی صورت میں کیا تہران میرا وطن باقی رہے گا؟
جواب: ہاں آپ دوبارہ اسے اپنا وطن بنا سکتے ہیں۔
سوال: اگر کوئی ماہ مبارک رمضان کی شب میں نیند میں محتلم ہو نے کے بعد جاگنے کے بعد دوبارہ سو جائے، بغیر یہ جانے کہ صبح ہو گئی ہے یا نہیں تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر یہ یقین تھا کہ اگر دوبارہ سوئیگا تو صبح کی نماز سے پہلے اٹھ جائیگا اور یہ بھی قصد تھا کہ اٹھنے کے بعد غسل کریگا تو اگر سونے کے بعد بیدار نہ ہو سکے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر اطمینان نہیں تھا کہ اٹھ سکے گا یا نہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر اس پر قضا واجب ہے۔
سوال: کیا خواتین ماہ مبارک رمضان میں تمام روزے رکھنے کی غرض سے حمل نہ ٹھرنے والی دوا استعمال کر سکتیں ہیں تا کہ حیض نہ آئے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: روزہ دار کے لیے منھ صاف کرنا (برش کرنا) کیسا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: کیا روزہ کی حالت میں نیند میں منی نکل آنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟
جواب: اس کا روزہ صحیح ہے۔
سوال: الف۔ اگرکوئی ماہ مبارک رمضان میں جان بوجھ کر کوئی ایسا کام کرے جس سے اسکی منی نکل جائے تو کیا اسے ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے؟
ب۔ سینے کے بلغم کو اندر لے جانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: الف۔ اگر یہ جانتا تھا کہ اس کام سے روزہ باطل ہو جاتا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور جاہل مقصر و مشکوک کے لیے بھی یہی حکم ہے اور کفارہ یہ ہے کہ  ٦٠ روز روزہ رکھے یا ٦٠ فقیر کو کھانا کھلائے یا انہیں ٧٥٠ گرام آٹا یا گیہوں دے۔
ب۔ اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
سوال: ماہ مبارک رمضان میں اگر منی نکلتے وقت نیند سے آنکھ کھل جائے تو کیا منی نکالنا جائز ہے؟ رمضان کے علاوہ استمنا کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس حالت میں منی کا باہر نکالنا جائز ہے۔ استمنا ہر حالت میں حرام ہے۔
سوال: ماہ مبارک رمضان میں روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے سے کیا روزہ باطل ہو جاتا ہے یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
سوال: اگر کوئی روزہ دار اپنی بیوی کے ساتھ نزدیکی کرے اور اس سے مذاق کرے جبکہ وہ چاہتا ہو کہ منی باہر نہ آئے اور یہ جانتا ہو کہ منی نکلنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے اور بے اختیار منی نکل جائے (جبکہ پہلے بھی اس طرح کے کام سے منی نکل جایا کرتی تھی) تو اس کا روزہ باطل ہے یا نہیں؟ کفارہ کیا ہوگا؟ اگر کفارہ واجب ہے تو کتنا؟
جواب: اس کا روزہ باطل ہے اوراگر اس کو مسئلہ کا علم تھا تو قضا کے علاوہ کفارہ بھی واجب ہے، احتیاط واجب کی بنا پر جاھل مقصر اور مشکوک کا بھی یہی حکم ہے۔
سوال: روزہ میں انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے اچانک کوئی گندی تصویر سامنے آ جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: روزہ باطل نہیں ہے اگرچہ شرعا ایسے موقع پر اسے دیکھنا نہیں چاہیے۔
سوال: اگر کوئی شخص ماہ مبارک رمضان میں استمنا کرے حالانکہ اس کی نیت منی نکالنے کی نہ ہو اور منی نکل جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر خود پر یقین نہیں تھا تو اس کا روزہ باطل ہے اور اگر مسئلہ کا علم تھا تو قضا کے علاوہ کفارہ بھی دے گا اور احتیاط واجب کی بنا پر یہی حکم جاہل مقصر کے ساتھ ساتھ مشکوک کا بھی ہے۔
سوال: کیا ماہ مبارک رمضان میں استمنا (منی نکالنا) حرام ہے؟
جواب: ہاں، حرام اور مبطلات روزہ میں سے ہے۔
سوال: اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس نے دو مرد کی شہادت پر ماہ مبارک میں  ٢٩ دن روزے رکھے ہیں؟
جواب: اس کے لیے اس ایک دن کی قضا ضروری نہیں ہے۔
سوال: مہربانی کرکے یہ بتائیے کہ انسان ان چار جگہوں پر پوری نماز پڑھ سکتا ہے کربلا، مکہ، مدینہ،کوفہ تو کیا ان شہروں کے کسی ہوٹل میں بھی ایسا کر سکتا ہے اور روزہ رکھ سکتا ہے یا ایسا صرف روضہ سے مخصوص ہے اور اگر روضہ میں صحن یا سرای کا اضافہ ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: مکہ اور مدینے میں ہوٹل میں بھی پوری نماز پڑھ سکتا ہے مگر کربلا اور کوفے میں ایسا نہیں کر سکتا، کربلا اور کوفہ میں صرف روضہ اور مسجدکے اندر ایسا کر سکتا ہے۔
سوال: بعض ممالک میں کئی کئی دن سورج طلوع اور غروب نہیں ہوتا، ایسے ملکوں میں نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ ایسے ممالک میں نماز وہاں سے سب سے نزدیک شہر کے مطابق پڑھے گا جہاں چوبیس گھنٹے کے دن و رات ہوتے ہوں، اگرچہ مطلقا قربت کی نیت سے پڑھے گا اور روزے کے لیے کسی ایسے ملک میں جائے جہاں روزہ رکھ سکتا ہو، کیونکہ روزہ کی بہت فضیلت ہے اور اگر ممکن نہ ہو تو رمضان کے علاوہ کسی ماہ میں اس کی قضا کرے۔