پیر، 15 اگست، 2011

روزہ کے مسائل


روزہ کے مسائل مطابق فتاویٰ آیةاللہ العظمیٰ سیستانی مدّظلّہ
سوال: ڈاکٹر مریض کو روزہ رکھنے سے منع کررہا ہے لیکن خود مریض کو معلوم ہے کہ روزہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے.ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب:روزہ رکھے
( مسائل جدید،ج٢،ص١٣٩)
سوال:تنفسکی بیماری میں مبتلا بیمار سانس لینے کے لیے ایک اسپرے استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے روزہ کا کیا حکم ہے؟
جواب:اگر سیال کی صورت میں حلق میں نہ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
( مسائل جدید)
سوال:لڑکیوں کے لیے ٩ سال کی عمر میں روزہ رکھنا سخت ہوتا ہے.کیا ممکن ہے کہ وہ کمزوری اور مشقت کی وجہ سے روزہ نہ رکھیں؟ ان کی کیا ذمہ داری ہے؟
جواب:اگر ضرر و نقصان نہ ہو اور غیر قابل تحمل حرج و مشقت نہ ہو تو روزہ رکھیں۔
( مسائل جدید،ج٣،ص١٠٧)
سوال:تاخیر روزہ کا کفّارہ کن صورتوںمیں ہے؟
جواب:اگر انسان دوسرا رمضان شروع ہونے سے پہلے روزہ رکھ سکتا تھا اور نہیں رکھا تو ایسی صورت میں کفّارۂ تاخیر ادا کرے۔
 (مسائل جدید،ج٥،ص٥٥)
سوال:ایک لڑکی جو ٩ سال کی پوری ہوچکی ہے.لیکن کمزوری کی وجہ سے رمضان میں روزہ نہیں رکھ سکتی اور رمضان سے دوسرے رمضان تک قضا بھی نہیں کر سکتی ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟( مسائل جدید)
جواب:کمزوری روزہ چھوڑنے کا سبب نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے لیے نقصان کا سبب ہو یا حرج ہو کہ ان دو صورتوں میں جب بھی روزہ رکھ سکتی ہو قضا واجب ہے لیکن بیمار ہو اور اس کی بیماری اگلے رمضان تک جاری رہے تو قضا ساقط ہے اور فدیہ کافی ہے۔
( مسائل جدید،ج٥،ص٩٢)۔
سوال:اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں استمنائ(استمناء یہ ہے کہ انسان خود سے یا دوسرے کے ساتھ کوئی ایسا کام کرے جس کی وجہ سے منی باہر آئے یہ عمل حرام ہے اور منی نکلنے کی صورت میں اس پر غسل جنابت واجب ہے)کے ذریعہ عمداًروزہ باطل کرے تو کیا حکم ہے؟
جواب:قضا کے علاوہ کفارہ بھی واجب ہے اور بنا بر احتیاط مستحب کفارۂ جمع (ساٹھ روزے اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا )بھی ادا کرے.
(احکام روزہ،ص٥٧)
سوال:اگر کسی کو معلوم ہو کہ رمضان میں استمناء حرام ہے لیکن یہ نہ معلوم ہو کہ اس سے روزہ بھی باطل ہوجاتا ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب:کفارہ ادا کرنا واجب نہیں ہے اور اگر اس حد تک جاہل ہو کہ روزہ باطل ہونے کا احتمال بھی نہ ہو تو روزہ کی قضا بھی واجب نہیں ہے۔
(احکام روزہ،ص٥٨)
سوال:کیا دن میں احتلام ہونے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے؟
جواب:دن کے وقت احتلام سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔جسے احتلام ہو اس کا فرض ہے کہ وہ نماز کے لیے غسل کرے،روزے سے اس کا کوئی تعلق نہیں
 (جدید فقہی مسائل،ص٨١)
سوال:اگر کوئی عورت حیض و نفاس سے پاک ہونے کے بعد طلوع فجر تک غسل نہ کرے تو اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟
جواب:روزے کو توڑنے والی چیزوں میں ایک یہ بھی ہے کہ کوئی خاتون حیض و نفاس سے پاک ہونے کے بعد غسل کی قدرت کے باوجود طلوع فجر تک اسی حالت میں رہے۔لہذا اگر ایسی عورت طلوع فجر تک بغیر غسل کے رہے تو اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو جنابت والے شخص کے لیے ہے ۔اگر غسل کی قدرت نہ ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرنا ہوگا.
(جدید فقہی مسائل،ص٨١)٭٭٭

روزہ احادیث کی روشنی میں


روزہ احادیث کی روشنی میں
روزہ دار قیامت کے دن انبیائ کا ہمنشین ہوگا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:جو شخص رمضان میں روزہ رکھنے کے ساتھ اپنے کان، آنکھ، زبان، ہاتھ اور جوارح کو حرام ،جھوٹ اور اذیت پہنچانے سے بچائے گا وہ روز قیامت انبیائ سے اتنا قریب ہوگا کہ خلیل خدا حضرت ابراہیم کے گھٹنے کو مس کرے گا اور عرش اور اس کے درمیان فرسخ سے زیادہ فاصلہ نہ ہوگا۔
(تحفة الاخبار ،ترجمہ جامع الاخبار،مترجمہ مولانا سید ظفر حسن صاحب،ص١٣٢،ح٣٨٧)
آنکھ کان کا بھی روزہ ضروری ہے
آنحضرت نے فرمایا:جب تم روزہ رکھو تو اپنے کانوں اور آنکھوں کا بھی روزہ رکھو۔
(جامع الاخبار،شیخ صدوق،باب٣٧،حدیث٣٨٨)
روزہ صحت مندی کا سبب ہے
پیغمبر اکرمۖ نے فرمایا:روزہ رکھو تا کہ صحت مند رہو۔
(منتخب میزان الحکمة،حجةالاسلام ری شہری،حدیث٣٧١٦)
تمام اعضاء و جوارح کا بھی روزہ واجب ہے
رسول اکرم ۖ نے فرمایا:خداوند عالم فرماتا ہے:جو اپنے اعضاء و جوارح کو حرام کاموں سے نہ روک سکے تو ایسے شخص کا میرے لیے کھانا پانی چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
(بحار الانوار،علامہ مجلسی،ج٩٦،ص٢٥٦،ح٣٨)
روزہ میں تمام حرام کاموں سے بچنا ضروری ہے
امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:روزہ کا حقیقی مفہوم یہ ہے تمام حرام کاموں سے اسی طرح بچے جیسے کھانے پینے سے اجتناب کرتا ہے۔
 (بحار٢١٢٩٤٩٦)
اعضاء و جوارح کو محفوظ رکھنے ہی میں روزہ کا فائدہ ہے
حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام نے فرمایا:اگر روزہ دار اپنے آنکھ کان زبان اور دیگر اعضاء و جوارح کو نہ روکے تو اس کے روزہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
(منتخب میزان الحکمة،ح٣٧٣٣)۔
روزہ دار کے شرائط
امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ رسول اکرم ۖ نے جابر ابن عبداللہ انصاری سے فرمایا:اے جابر! یہ رمضان کا مہینہ ہے جو شخص دن میں روزہ رکھے اور رات کو عبادت کرے اور اپنے بطن اور شرم گاہ کو گناہ سے بچائے اور زبان کو بد گوئی سے روکے تو اس کے گناہ دور ہوجائیں گے۔جناب جابر نے عرض کیا:یا رسول اللہۖ! کیسی اچھی یہ حدیث ہے؟!فرمایا:اے جابر!اور اس کی شرطیں کتنی سخت ہیں۔
(جامع الاخبار،باب ٣٧،ح٣٨٩)
روزہ کی جزا خدا دے گا
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:پروردگار عالم فرماتا ہے:روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
(اصول کافی،یعقوب کلینی،ج٤،ص٦٣،ح٦)۔
رمضان اور دوسرے دنوں میں فرق بھی ہو
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:جب بھی روزہ رکھو تو اپنے تمام اعضاء و جوارح مثلا آنکھ ،کان، ہاتھ،پیر وغیرہ کا بھی روزہ رکھو۔اور جس دن روزہ رکھو وہ دن تمہارے دوسرے دنوں کی طرح نہ ہو۔
(کافی١٨٧٤)
روزہ واجب ہونے کا سبب:
امام حسن عسکری علیہ السلام سے جب روزہ کے واجب ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:تاکہ دولتمند بھوک کا مزہ چکھے اور پھر حاجتمندوں کی مدد کرے۔
(بحار٥٠٣٦٩٩٦)٭٭٭

جمعرات، 4 اگست، 2011

حلول ماہ مبارک رمضان مبارک؛ ماہ مبارک کی آمد پر رسول خدا (ص) کا خطبہ

بسم الله الرحمن الرحیم
حدثنا محمد بن بكر بن النقاش و أحمد بن الحسن القطان و محمد بن أحمد بن إبراهيم المعاذى و محمد بن إبراهيم بن اسحاق المكتب قالوا: حدثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن سعيد الهمداني مولى بني هاشم قال: حدثنا على بن الحسن بن على بن فضال عن أبيه عن أبي الحسن على بن موسى الرضا عليه السلام عن أبيه موسى بن جعفر عن أبيه الصادق جعفر بن محمد عن أبيه الباقر محمد بن على عن أبيه زين العابدين على بن الحسين عن أبيه سيد الشهداء الحسين بن على عن أبيه سيد الوصيين أمير المؤمنين على بن أبي طالب عليهم الصلاة والسلام قال: ان رسول الله (ص) خطبنا ذات يوم فقال: ايها الناس انه اقبل اليكم شهر الله بالبركة والرحمة والمغفرة شهر هو عند الله افضل الشهور و ايامه افضل الايام و لياليه افضل الليالى و ساعاته افضل الساعات و شهر دعيتم فيه الى ضيافة الله و جعلتم فيه من أهل كرامة الله انفاسكم فيه تسبيح و نومكم فيه عبادة و عملكم فيه مقبول و دعاؤكم فيه مستجاب فاسألوا الله ربكم بنيات صادقة و قلوب طاهرة ان يوفقكم لصيامه و تلاوة كتابه فإن الشقى من حرم غفران الله في هذا الشهر العظيم و اذكروا بجوعكم و عطشكم جوع يوم القيامة و عطشه و تصدقوا على فقرائكم و مساكينكم و وقروا كباركم وارحموا صغاركم و صلوا ارحامكم واحفظوا السنتكم و غضوا عما لا يحل الاستماع إليه استماعكم و تحننوا على ايتام الناس كما يتحنن على ايتامكم و توبوا الى الله من ذنوبكم وارفعوا إليه ايديكم بالدعاء في اوقات صلواتكم فانها افضل الساعات ينظر الله عز و جل فيها بالرحمة الى عباده يجيبهم ناجوه و يلبيهم إذا نادوه و يستجيب لهم إذا دعوه ايها الناس ان انفسكم مرهونة باعمالكم ففكوها باستغفاركم و ظهوركم ثقيلة من اوزاركم فخففوا عنها بطول سجودكم واعلموا ان الله تعالى ذكره اقسم بعزته ان لا يعذب المصلين والساجدين و ان لا يروعهم بالنار يوم يقوم الناس لرب العالمين ايها الناس من فطر منكم صائما مؤمنا في هذا الشهر كان له بذلك عند الله عز و جل عتق رقبة و مغفرة لما مضى من ذنوبه فقيل له: يا رسول الله ليس كلنا يقدر على ذلك فقال (ص): اتقوا النار و لو بشق تمرة اتقوا النار و لو بشربة  من ماء ايها الناس من حسن منكم في هذا الشهر خلقه كان له جوازا على الصراط يوم تزل فيه الاقدام و من خفف في هذا الشهر عما ملكت يمينه خفف الله عليه حسابه و من كف فيه شره كفف عنه غضبه يوم يلقاه و من اكرم فيه يتيما اكرمه الله يوم يلقاه و من وصل فيه رحمه وصله الله برحمته يوم يلقاه و من قطع فيه رحمه قطع الله عنه رحمته يوم يلقاه و من تطوع فيه بصلاة كتب الله له براءة من النار و من ادى فيه فرضا كان له ثواب من ادى سبعين فريضة فيما سواه من الشهور و من اكثر فيه من الصلاة على ثقل الله ميزانه يوم تخف الموازين و من تلا فيه آية من القرآن كان له مثل اجر من ختم القرآن في غيره من الشهور ايها الناس ان ابواب الجنان في هذا الشهر مفتحة فاسألوا ربكم ان لا يغلقها عليكم و ابواب النيران مغلقة فاسألوا ربكم ان لا يفتحها عليكم والشياطين مغلولة فاسألوا ربكم ان لا يسلطها عليكم قال أمير المؤمنين عليه السلام فقمت فقلت: يا رسول الله ما افضل الاعمال في هذا الشهر؟ فقال: يا أبا الحسن افضل الاعمال في هذا الشهر الورع عن محارم الله عز و جل ثم بكى فقلت: يا رسول الله ما يبكيك؟ فقال: يا علي ابكى لما يستحل منك في هذا الشهر كانى بك و أنت تصلى لربك و قد انبعث اشقى الاولين والاخرين شقيق عاقر ناقة ثمود فضربك ضربة على قرنك فخضب منها لحيتك قال أمير المؤمنين عليه السلام: فقلت: يا رسول الله و ذلك في سلامة من دينى؟ فقال: (ص) في سلامة من دينك ثم قال: يا علي من قتلك فقد قتلني و من ابغضك فقد ابغضنى و من سبك فقد سبنى لانك منى كنفسي روحك من روحي و طينتك من طينتي ان الله تبارك و تعالى خلقني و اياك و اصطفانى و اياك واختارني للنبوة واختارك للامامة فمن انكر امامتك فقد انكر نبوتى يا على أنت وصيى و ابو ولدى و زوج ابنتى و خليفتي على امتى في حياتي و بعد موتى امرك امرى و نهيك نهيى اقسم بالذى بعثنى بالنبوة و جعلني خير البرية انك لحجة الله على خلقه و امينه على سره و خليفته على عباده.. مأخذ: (عيون اخبار الرضا للشيخ الاقدم والمحدث الاكبر ابي جعفر الصدوق محمد بن علي بن الحسين بابويه القمي قدة المتوفي سنة 381 صححه وقدم له وعلق عليه العلامة الشيخ حسين الاعلمي الجزء الثاني منشورات موسسة الاعلمي للمطبوعات بيروت - لبنان . ج 2 صص 255الي 257) 
اردو ترجمہ:۔۔۔ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدٍ،ْ عَلِی بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ سے وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء طیبین علیہم السلام سے روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ایک دن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! خدا کا مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ تمہاری جانب آرہا ہے۔ وہ مہینہ جو خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے اور اس کے ایام بہترین ایام اور اس کی راتیں بہترین راتیں ہیں اور اس کے لمحات اور ساعات بہترین لمحات و ساعات ہیں۔وہ مہینہ جس میں تمہیں خدا کی ضیافت میں مدعو کیا گیا ہے اور تم اس مہینے میں کرامت الہی کے اہل ہوچکے ہیں۔  اس مہینے میں تمہاری سانسیں ثواب اور تسبیح و ذکر خداوندی کے زمرے میں آتی ہیں اور تمہاری نیند کے لئےعبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اس مہینے میں تمہارے اعمال قبول ہیں اور تمہاری دعائیں مستجاب ہیں پس اپنے پرودگار سے سچی نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ دعا کرو کہ وہ تمہیں اس مہینے کے روزے رکھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ شقی اور بدبخت وہ شخص ہے جو اس عظیم مہینے میں خدا کی بخشش و مغفرت سے بے بہرہ ہوکر رہے۔ اس مہینے میں اپنے بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہوئے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔غرباء اور مسکینوں کی مدد کرو اور انہیں صدقہ دو۔معمر اور عمر رسیدہ لوگوں کا احترام و اکرام کرو۔ بچوں سے رأفت و مہربانی کے ساتھ پیش آؤ۔اپنے رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے کا اہتمام کرو۔اپنی زبان کو نازیبا کلام سے محفوظ رکھو۔ اپنی آنکھیں ناروا اور حرام نظروں سے بند کرکے رکھو اور اپنے کانوں کو ان چیزوں پر بند رکھو جو حرام اور ناروا ہیں۔ یتیموں کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ تا کہ تمہارے بعد تمہارے یتیموں سے مہربانی کا برتاؤ کیا جائے۔ اپنے گناہوں سے بارگاہ الہی میں توبہ کرو او اس کی طرف لوٹ جاؤ۔نماز کے اوقات میں اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھاؤ کیونکہ نماز کا وقت بہترین وقت ہے اور ان اوقات میں حق تعالی مہربانی سے اپنے بندوں پر نگاہ ڈالتا ہے اور اگر بندے خدا کے ساتھ راز و نیاز اور مناجات کریں خدا انہیں جواب دیتا ہے اور اگر خدا کو ندا کریں وہ انہیں لبیک کہتا ہے اور اگر اس سے کچھ مانگیں تو وہ عطا کرتا ہے اور جب اس کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔ اے لوگو!تمہاری جانیں تمہارے اعمال کے مرہون ہیں پس خدا سے مغفرت کی دعا کرکے اپنی جانوں کو رہن سے چھڑا دو، تمہاری پیٹھ پر گناہوں کا بہاری بوجھ لدا ہؤا ہے پس اپنے سجدوں کو طول دے کر اس بوجھ کو ہلکا کردو اور جان لو کہ حق تعالی نے اپنی عزت کی قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس ماہ میں نماز پڑھنے اور سجدہ کرنے والے بندوں کو عذاب سے دوچار نہیں کرے گا اور روز قیامت یہ لوگ دوزخ سے خدا کی امان میں ہونگے۔ اے لوگو!تم میں سے جو بھی کسی مؤمن روزہ دار کو افطار کروائے خدا کے نزدیک اس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب اور اس کے گذشتہ گناہوں کی مغفرت مقرر ہے۔ بعض اصحاب نے عرض کیا: ہم سب اس امر پر قادر نہیں ہیں (اور مؤمنین کو افطار نہیں دے سکتے) تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تم روزہ داروں کو افطار کرواکر جہنم کی آگ سے بچو  خواہ ایک نصف کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہے کیوں نہ ہو۔ اے لوگو!جو شخص اس مہینے میں اپنا اخلاق نیک کردے  صراط پر سے بآسانی گذرے گا جبکہ اس دن صراط پر پاؤں ڈگمگاتے ہیں۔ جو شخص اس مہینے میں غلاموں اور نوکروں کا کام ہلکا کردے (اور ان کا ہاتھ بٹادے) خدا بروز قیامت اس کا حساب آسان کردے گا۔  جو شخص اس ماہ لوگوں کو آزار پہنچانے سے اجتناب کرے خدا بروز قیامت اپنا غضب اس سے روک لے گا۔ جو شخص اس مہینے بِن باپ یتیموں کا اکرام کرے گا خدا اسے قیامت کے دن عزیز رکھے گا۔ جو شخص اس مہینے صلہ رحم کا پاس رکھے  اور رشتہ داروں کی قربت حاصل کرے (اور ان کی مدد کرے) خدا اسے قیامت کے روز اپنے رحمت سے متصل کرے گا اور جو شخص اپنا تعلق رشتہ داروں سے توڑ دے خداوند متعال بروز قیامت اپنی رحمت کو اس سے روک لے گا۔جو شخص اس مہینے مستحب نمازیں ادا کرے خدا اس کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔ اور جو شخص نماز واجب ادا کرے  خداوند اس کو دیگر مہینوں کی واجب نمازوں کے ستر گنا ثواب عطا کرے گا۔ جو شخص اس مہینے کے دوران مجھ پر صلوات و درود بھیجے خدا اس کے اعمال کا ہلکا پلڑا بھاری کردے گا اور جو شخص اس مہینے کے دوران ایک آیت کی تلاوت کرےگا اس کا ثواب اس شخص کی مانند ہے جس نے دوسرے مہینوں میں قرآن ختم کردیا ہو۔ اے لوگو!اس مہینے جنت کے دروازے کھلے ہیں۔ خداوند  متعال سے دعا کرو کہ انہیں تمہارے اوپر بند نہ کرے اور اس مہینے جہنم کے دروازے بند ہیں اور خدا سے التجا کرو کہ انہیں تمہارے لئے کھول نہ دے۔شیاطین اس ماہ غل و زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں اور خدا سے التجا کرو کہ انہیں تم پر مسلط نہ کرے۔ علی (ع) نے فرمایا: علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں اٹھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ! اس مہینے سب سے برتر و افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ای اباالحسن! سب سے افضل عمل اس ماہ کے دوران محرمات (افعال حرام) سے پرہیز کرنا ہے۔اس کے بعد رسول اللہ (ص) روئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! رونے کا سبب کیا ہے؟ تو آپ (ص) نے فرمایا: یا علی (ع)! میں رو اس لئے رہا ہوں کہ اس مہینے آپ کو ایک ناگوار حادثہ پیش آئے گا؛ گویا میں آپ کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنے پرودگار کے لئے نماز ادا کررہے ہیں اور اسی حال میں اولین و آخرین میں سب سے شقی ترین اور بدبخت ترین شخص  ـ جو ناقۂ صالح کو پے کرنے والے شخص کا بھائی اور ہم ردیف و ہم زمرہ شخص آپ کے سر کے اگلے حصے پر ضربت مارتا ہے اور آپ کی ڈاڑھی کو خون کے خضاب سے رنگ دیتا ہے۔میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا شہادت کے وقت میرا دین سلامت ہوگا؟ رسول اللہ ص نے فرمایا: ہاں! آپ کا دین سلامت ہوگا؛ یا علی (ع)! جو آپ کو قتل کرے اس نے مجھے قتل کیا ہے جو دل میں آپ کی عداوت رکھے اور آپ سے دشمنی کرے اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے اور دل میں میرے لئے دشمنی پالی ہے۔ جو آپ کے خلاف سبّ اور دشنام طرازی کرے اس نے مجھے دشنام دی ہے کیونکہ آپ مجھ سے اور میرے وجود سے ہیں؛ آپ کی روح میری روح اور آپ کی سرشت اور طینت میری سرشت اور طینت ہے؛ یا علی (ع)! بتحقیق خداوند متعال نے مجھے اور آپ کو خلق فرمایا اور مجھے اور آپ کو پسند کیا اور لوگوں میں سے مجھے نبوت کے لئے چنا اور آپ کو امامت کے لئے۔ پس جو آپ کی امامت کا انکار کرے اس نے میری نبوت کا انکار کیا ہے۔
یا على ! آپ میرے وصی و جانشین، میرے فرزندوں کے باپ، میری بیٹی کے خاوند اور امت کے اوپر میرے جانشین ہیں؛ آپ کا فرمان میرا فرمان اور آپ کی روک ٹوک اور نہی میری روک ٹوک اور نہی ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں اس خدا کی جس نے مجھے نبوت پر مبعوث فرمایا اور بہترین خلائق قرار دیا بتحقیق آپ تمام مخلوقات پر خدا کی حجت، اس کے اسرار و رموز کے امین اور اس کے بندوں کے بیچ اس کے نمائندے ہیں۔

اتوار، 17 جولائی، 2011

دعای فرج امام زمان (عج)

متن دعای فرج امام زمان (عج) با ترجمه :
اِلهى عَظُمَ الْبَلاَّءُ وَبَرِحَ الْخَفاَّءُ وَانْكَشَفَ الْغِطاَّءُ
خدايا بلاء عظيم گشته ؛ اسرار آشكار شده ؛ پرده‏ها برداشته شده ؛ 
وَانْقَطَعَ الرَّجاَّءُ وَضاقَتِ الاْرْضُ وَمُنِعَتِ السَّماَّءُ
اميد قطع گردیده ؛ زمين تنگ شده ؛ و آسمان رحمتی نمی‏بارد
واَنْتَ الْمُسْتَعانُ وَ اِلَيْكَ الْمُشْتَكى
و تويى ياور، و شكوه به سوى توست
وَعَلَيْكَ الْمُعَوَّلُ فِى الشِّدَّةِ وَالرَّخاَّءِ
و اعتماد و تكيه ما چه در سختى و چه در آسانى بر توست
اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ اُولِى الاْمْرِ الَّذينَ فَرَضْتَ عَلَيْنا طاعَتَهُمْ
خدايا درود فرست بر محمد و آل محمد آن زمامدارانى كه پيروي‏شان را بر ما واجب كردى
وَعَرَّفْتَنا بِذلِكَ مَنْزِلَتَهُمْ
و بدين سبب مقام و منزلتشان را به ما شناساندى
فَفَرِّجْ عَنا بِحَقِّهِمْ فَرَجاً عاجِلا قَريباً
به حق ايشان به ما گشايشى ده فورى و نزديك
كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ
مانند چشم بر هم زدن يا نزديكتر
يا مُحَمَّدُ يا عَلىُّ ، يا عَلىُّ يا مُحَمَّدُ
اى محمد اى على اى على اى محمد
اِكْفِيانى فَاِنَّكُما كافِيانِ وَانْصُرانى فَاِنَّكُما ناصِرانِ
مرا كفايت كنيد كه شماييد كفايت كننده ام و مرا يارى كنيد كه شماييد ياور من ما
يا مَوْلانا يا صاحِبَ الزَّمانِ
اى سرور ما اى صاحب زمان
الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ اَدْرِكْنى اَدْرِكْنى اَدْرِكْنى
فرياد، فرياد، فرياد، درياب مرا، درياب مرا ، درياب مرا
السّاعَةَ السّاعَةَ السّاعَةَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ
همين ساعت، همين ساعت، همین ساعت، زود زود زود
يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطّاهِرينَ.
اى خدا اى مهربان‏ترين مهربانان به حق محمد و آل پاكيزه‏اش.

ــــــــــــــــــــــــــــــــ
متن دعا برای سلامتی امام زمان (عج) با ترجمه :
اَللّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ
خدایا، برای ولىّ‏ات حجت بن الحسن
ــ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلى آبائِهِ ــ
ــ که درودهاى تو بر او و بر پدرانش باد ــ
في هذِهِ السّاعَةِ وَفي كُلِّ ساعَةٍ
در این لحظه و در تمام لحظات،
وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً
سرپرست و نگاهدار و راهبر و یاری‏گر و راهنما و دیده‏بان باش
حَتّى تُسْكِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً
تا زمانی که او را آنچنان که همه فرمانش برند ساکن زمین گردانی
وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلاً .
و مدّت زمانی طولانى در آن بهره‏مند سازى.

جمعہ، 8 جولائی، 2011

امام عصر عج اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ولادت علمائے اہل سنت کی نظر میں

امام عصر عج اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ولادت علمائے اہل سنت کی نظر میں
امام عصر حضرت حجت ابن الحسن العسکری ارواحنا لہ الفداء کی ولادت کے سلسلے میں تمام علمائے حقّہ کے علاوہ اکثر علمائے اہل سنّت اپنی کتابوںمیں آپ کی ولادت باسعادت سے متعلق تفصیلات تحریر فرمائی ہیں، بعض حضرات تو آپ کی امامت ومہدویت کے بھی معتقد تھے، بعض حضرات نے اظہار عقیدت اور مدح سرائی کے لئے عربی یا فارسی میں اشعار کہے یہاں تک کہ بعض حضرات تو آپ کی خدمت اقدس میں شرفیاب ہونے اور بہ نفس نفیس آپ سے حدیث سننے کے مدعی ہیں، ان میں سے بعض حضرات کے اقتباسات کا ترجمہ حجةالاسلام علی اصغر رضوانی کی امام مہدی عج کی ولادت کے سلسلے میں لکھی گئی کتاب سے پیش کیا جارہا ہے:
١۔علامہ شمس الدین قاضی ابن خلکان شافعی (متوفی ٦٨١ھ):''ابوالقاسم محمدا بن حسن عسکری ابن علی ابن محمد جوادبارہ امامی شیعوںکے نزدیک بارہویں امام اور حجت ہیں انکی ولادت جمعہ١٥شعبان٢٥٥ہجری کو ہوئی پدربزرگوار کی شہادت کے وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی...''(وفیات الاعیان،ج٤،ص١٧٦).
٢۔علّامہ صلاح الدین خلیل بن ایبک صفدی(متوفی ٧٦٤ھ):''حجت منتظرمحمدابن حسن عسکری ابن علی ہادی ابن محمدجواد ابن علی رضا ابن موسی کاظم ابن جعفر صادق ابن محمدباقرابن زین العابدین علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنھم،جو حجت منتظر اور بارہویں امام ہیںاور انھیں کے بارے شیعوں کاکہنا ہے کہ یہی منتظر قائم مہدی ہیں...اور١٥شعبان ٢٥٥ھ کو پیدا ہوئے''۔(الوافی بالوفیات،ج٢،ص٣٣٦)
٣۔ابن اثیر جزری(متوفیٰ ٦٣٠ھ): ٢٦٠ھ کے واقعات میںلکھا ہے کہ:''اس سال ابومحمد علوی نے وفات پائی.وہ مذہب شیعہ کے مطابق بارہ اماموں میں سے ایک ہیںانکے بیٹے محمد ہیںجنکا سامرہ کے سرداب میں انتظار کیا جا رہا ہے...''(الکامل فی التاریخ،ج٤،ص٤٥٤)
٤۔علامہ میر خواند(متوفی ٩٠٣ھ):''امام مہدی جنکا نام پیغمبرۖکانام اور کنیت پیغمبرۖ کی کنیت ہے آپ کی ولادت ١٥شعبان٢٥٥ھ کو سرّمن رای میں ہوئی.والد کے انتقال کے وقت آپ کی عمرمبارک پانچ سال تھی . خدا وند عالم نے جناب یحیی کی طرح بچپنے میںحکمت عطاکی اور جس طرح جناب عیسی کو بچپنے میںنبی بنایا اسی طرح بچپنے میںآپ کو امامت عطا کی ۔ (روضة الصفا،ج٣،ص٥٩)
٥۔علی ابن حسین مسعو دی (متوفی ٣٤٦ھ):''٢٦٠ھ میںابو محمد حسن ابن علی ابن محمدابن علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن علی ابن ابی طالب نے  معتمدعباسی کے دور خلافت میں رحلت فرمائی اس وقت آپ کی عمر مبارک ٢٩ سال تھی ۔آپ مہدی منتظراور شیعوں کے بارہویں امام کے والد بزرگوار ہیں۔ (مروج الذھب،ج٤،ص١١٢)
٦۔ابوالفداء اسماعیل بن علی شافعی(متوفی٧٣٢ھ):  ٢٥٤ھ کے واقعات میں لکھا ہے:''حسن عسکری،صاحب سرداب محمد منتظر کے والد بزرگوار ہیں.شیعوں کے مطابق مہدی منتظر بارہویں امام ہیں.انکوقائم،مہدی اور حجة کہا جاتا ہے...''(المختصر فی اخبارالبشر،المعروف تاریخ ابو الفدائ،ج١،ص٣٦١) 
٧۔علامہ محمد فرید وجدی:''ابوالقاسم محمدابن حسن عسکری ابن علی نقی...شیعوں کے عقیدہ کے مطابق بارہویں امام  اور حجت کے نام مشہور ہیں...شیعو ں کا عقیدہ ہے کہ وہ اپنے والد کے گھر کے سرداب میںچلے گئے جبکہ انکی والدہ انکا انتظار کر رہی تھیں اور ابھی تک باہر نہیں نکلے ہیں...''(دائرة المعارف،ج٦،ص٤٣٩)
٨۔سبط ابن جوزی :وہ حضرت مہدی سے متعلق فصل میںلکھتے ہیں:''محمد ابن حسن ابن علی ابن محمد...انکی کنیت ابو عبدللہ اور ابوالقاسم ہے اور جانشین ، حجت،صاحب الزمان،قائم اورمنتظر ہیں ...''(تذکرةالخواص،ص٣٧٧)
٩۔محمد ابن طلحہ شافعی :وہ امام مہدی کے حالات لکھتے ہوئے کہتے ہیں:''محمد ابن حسن خالص ابن علی متوکل ابن محمد...سامرہ میں پیدا ہوئے...کنیت ابوالقاسم اورلقب حجت،خلف صالح اوربقولے منتظر ہے ''(مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول،ج٢،ص١٥٢و١٥٣،باب١٢)
١٠۔شمس الدین محمد ابن طولون حنفی(متوفی٩٥٣ھ):وہ ائمہ کے حالات کے ذیل میں لکھتے ہیں:''...انمیں سے بارہویںانکے فرزندمحمدابن حسن ابوالقاسم ہیں...انکی ولادت بروز جمعہ ١٥شعبان٢٥٥ھ کوہوئی اورپدربزرگوارکی وفات کے وقت پانچ سال کے تھے...''(الشذرات الذھبیہ،ص١١٧و١١٨)
١١۔میرزا محمد ابن رستم بدخشی شافعی: امام عسکری کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:''...انکے محمدمنتظر کے علاوہ کوئی اولاد نہیں تھی...''(مفتاح النجاةفی مناقب آل العباس،ص١٠٤)
١٢۔احمد ابن حجر ھیتمی شافعی(متوفیٰ ٩٧٤ھ): وہ ابو محمد حسن عسکری کے حالات لکھنے کے بعد لکھتے ہیں:''حسن عسکری کے سوائے ابوالقاسم محمد حجت کے کوئی اور اولاد نہیں تھی والد کے انتقال کے وقت انکی عمر پا نچ سال تھی لیکن خداوند عالم نے اسی پانچ سا ل میں انھیں علم و حکمت کی عطا کیااور انکو قائم منتظر کہاجا تا ہے...''(صواعق المحرقہ،ص٢٠٨)
١٣۔محی الدین ابن عربی:''جان لو کہ مہدی کا نکلنا حتمی اور ضروری ہے.اور وہ اسی وقت خروج کریںگے جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی وہ اسکو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ...وہ پیغمبرکی عترت اوراولاد فاطمہ میں سے ہیں،انکے دادا حسین ابن علی ابن ابی طالب اور والد حسن عسکری ابن امام علی نقی ہیں...وہ رسول کے ہمنام ہیں مسلمان ان کے ہاتھوں پر رکن و مقام کے درمیان بیعت کریں گے... ''(فتوحات مکیہ،باب٣٦٦)
١٤۔مؤمن ابن حسن شبلنجی شافعی(متوفی١٢٩٨):ابو محمد حسن ابن علی کی وفات بروز جمعہ آٹھ ربیع الاول٢٦٠ھکو واقع ہوئی انھوں نے ایک اولاد چھوڑی جسکا نام محمد ہے.ماںکا نام امّ ولداور نرجس ہے.انکی کنیت ابوالقاسم اور امامیہ کے نزدیک لقب:حجت، مہدی خلف صالح،قائم،منتظر اور صاحب الزمان ہے انمیں سے سب سے زیادہ مشہور مہدی ہے...''(نور الابصار،ص٣٤١و٣٤٢)
١٥۔ابوالولید محمد ابن شحنہ حنفی:''خداوند عالم نے حسن عسکری کو ایک اولاد عطا کی جسکا انتظار کیا جارہا ہے شیعوں کے نزدیک وہ بارہویں امام ہیں انکا نام محمد اورالقاب مہدی،قائماور حجت ہیں انکی ولادت٢٢٥ھمیں ہوئی۔''(روضة المناظر در حاشیۂ مروج الذھب،ج١،ص٢٩٤) 
١٦۔شیخ محمد ابن علی صبان شافعی:انھوں نے حضرت حجت کی ولادت کو شعرانی اور محی الدین عربی سے نقل کیا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ وہ بھی اس قول کو مانتے ہیں(اسعاف الراغبین در حاشیۂ نور الابصار،ص١٥٤)
١٧۔شیخ صفی الدین عبد المؤمن بغدادی(متوفی٧٣٩ھ):اس مشہد میںیعنی مشہد عسکریین میں ایک سرداب ہے جس کے بارے میں رافضہ گمان کرتے ہیں کہ یہ حسن ابن علی کے لئے ہے انکے ایک بیٹاہے جسکا نام محمد صغیر ہے جو اس سرداب میں غائب ہوئے ہیں''(مراصد الاطلاع،ج٢،ص٦٨٥)۔
١٨۔شیخ زین الدین عمر ابن وردی(متوفی٧٤٩ھ):''اور حسن عسکری باپ ہیں شیعوں کے بارہویں امام محمد منتظر صاحب سرداب  کے ان کا لقب قائم،مہدی اور حجت ہے  اور انکی ولادت٢٥٥ھمیں ہوئی...''(تتمة المختصر فی اخبار البشر،ج١،ص٣١٩)
١٩۔ابوالعباس احمد ابن علی قلقشندی شافعی :وہ علم نسب کے ماہرہیں؛اور امام جعفر صادق  کے نسب اور آپ کی اولاد کے ذیل میں حضرت مہدی کو امام حسن عسکری کا بیٹا اورشیعوں کا بارہواں امام شمار کیا ہے جن کے بارے میں شیعہ عقیدہ رکھتے ہیںکی وہ زندہ ہیں۔ظاہری عبارت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قلقشندی امام مہدی کی ولادت کے معتقد ہیںلیکن انکے زندہ ہونے کو شیعوںکی طرف نسبت دیتے ہیں (نھا یةالارب،ص١١٨)
٢٠۔ابو عبداللہ یاقوت حموی:انھوں نے صفی الدین عبد المؤمن بغدادی کی طرح عبارت نقل کی ہے(معجم البلدان،ج٣،ص١٧٣)
٢١۔محمد امین بغدادی معروف بہ سویدی(علم نسب کے ماہر):''والد کی وفات کیوقت محمد مہدی کی عمر  پانچ سال تھی ...شیعہ حضرات انکو وہی صاحب شمشیر جانتے ہیں جو قیامت سے قبل قیام کریں گے ۔انکی دو غیبتیں ہیں جن میں سے ایک دوسرے سے طولانی ہے ۔ ''(سبائک الذھب،ص٧٨)
٢٢۔ابن خلدون مغربی (متوفی ٨٠٨ھ):رافضیوں نے خلا فت کوجعفر ابن محمد کے بعد انکے بیٹے موسی کا ظم کی طرف ان سے انکے بیٹے رضا ان سے جواد ان سے علی پھر عسکری اور ان سے ان کے بیٹے محمد مہدی کی طرف منتقل کیا ہے...۔ ''(تاریخ ابن خلدون،ج٣،ص٣٦١)
اس عبارت سے استفا دہ ہو تا ہے کہ ابن خلدون حضرت کی ولادت کو قبول کرتے ہیں لیکن خلافت کوشیعہ کی طرف نسبت دیتے ہیں ۔
٢٣۔ابوالفتح محمد ابن عبد الکریم شہرستانی (متوفی٥٤٨ھ):شیعوں کے نزدیک حسن عسکری کے بعد ان کے بیٹے محمد قائم منتظر جو سامرہ میں رہتے تھے ،امامت کے درجے پر فائز ہوئے اور وہ انکے نزدیک بارہویں امام ہیں ۔''(الفصول المھمہ،ص٢٧٣)
٢٤۔نورالدین ابن صبّاغ مالکی:وہ اپنی کتا ب کی بارھویں فصل میں لکھتے ہیں:ابو محمد حسن خالص کے بیٹے ابوالقاسم محمد حجت خلف صالح بارہویں امام ہیں۔پھر انکی تاریخ ولادت اور امامت کی دلیلوں کو بیان کیا ہے...''(الفصول المھمہ،ص٢٧٣)
٢٥۔محمد ابن محمود بخاری معروف بہ خواجہ پارسا حنفی:''ائمہ اہلبیت اطہار میں سے ابو محمد حسن عسکری ہیں...انکی اولاد میںسے صرف ابوالقاسم محمد منتظرالمعروف قائم،حجت،مہدی،صاحب الزمان اورشیعوں کے نزدیک بارہ اماموں میں سے آخری ہیں۔ولادت١٥شعبان٢٥٥ھکو ہوئی...'' (المرقاةفی شرح المشکاة،ج١٠ص٣٣٦و٣٣٧)
٢٦۔ملّا علی قاری حنفی مکّی(متوفی١٠١٤ھ):یہ بارہ خلفا والی حدیث کی شرح کے ذیل میں لکھتے ہیں:''بارہ امامی شیعہ انکو پیغمبر کے اہلیبیت میں سے جانتے ہیں...انمیں سے پہلے حضرت علی...اور آخری محمد مہدی ہیں رضوان اللہ علیھم اجمعین''(المرقاةفی شرح المشکاة،ج١٠ص٣٣٦و٣٣٧)
٢٧۔فضل ابن روزبہان:رسولۖ کی ذریت میںسے ہر امام پر سلام بھیجتے ہوئے یہاں تک پہنچ کرفرماتے ہیں:''سلام ہو قائم منتظر ابوالقاسم پر۔''(دلائل الصدق،ج٢،ص٣٧٠)
٢٨۔جمال الدین محمد ابن عوسف زرندی حنفی(متوفی...):''صاحب کرامات ،بارہویں امام ،جوعلم اور حق وسنت نبوی کی پیروی کرنے میںعظیم القدرت ہیں،جو حق کو قائم کرنے والے اور راہ حق کی طرف دعوت کرنے والے ہیں۔شیعوںکی نقل کے مطابق امام ابوالقاسم محمد ابن حسن کی ولادت معتمد عباسی کے دور خلافت میں شب پندرہ شعبان ٢٥٥ھکو سامرہ میں ہوئی۔انکی مادر گرامی نرجس خاتون بنت قیصر روم تھیں...  ''(معراج الاصول الی معرفة فضل آل الرسول)
٢٩۔قاضی بہلول بہجت آفندی::''بارھویں امام کی ولادت پندرہ شعبان ٢٥٥ھ کو ہوئی ؛ماںکانام نرجس ہے ۔انکے لئے دو غیبتیں ہیںایک صغری اور دوسری کبری پھر انکے باقی رہنے کی تصریح کی ہے۔جب بھی خداوند عالم انکو اجزت دے گاوہ ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے پر کریں گے... ''(المحاکمة فی تاریخ آل محمد،ص٢٤٦)
٣٠۔حافظ محمد ابن یوسف گنجی شافعی(متوفی٦٥٨ھ):وہ اپنی کتاب کے پچیسویں باب میں حضرت کی طول عمر کی بحث میں کہتے ہیں:''اس طالانی مدت تک انکا  باقی رہنا کوئی بعید نہیںہے کیونکہ حضرت عیسی والیاس وخضر جیسے اولیائے الہی بھی باقی ہیںاسی طرح دشمنان خدا  دجّال وابلیس ملعون بھی طولانی عمریں رکھتے ہیں۔''(البیان فی اخبار صاحب الزمان،ص١٤٨)
٣١۔احمد امین مصری:وہ بھی حضرت مہدی ابن امام حسن عسکری کی ولادت اور شیعوں کے نزدیک بارہواںامام ہونے کے قائل ہیں،صرف انکی امامت کے سلسلے میں اعتراض کرتے ہیں لیکن آپ کی ولادت کو قبول کرتے ہیں(ضحی الاسلام،ج٣،ص٢١٠،٢١٢)
٣٢۔شیخ حسین ابن محمد دیار بکری مالکی(متوفی٩٦٦ھ):ان میں سے بارھویں محمد ابن حسن ابن علی ابن محمد ابن علی رضاہیں جنکی کنیت ابوالقاسم اور القاب حجت ،قائم،مہدی،منتظراور صاحب الزمان ہیںاور وہ شیعوں کے نزدیک بارھویں امام ہیں...۔''(دیار بکری،تاریخ الخمیس،ج٢،ص٢٨٨)
٣٣۔شمس الدین ذھبی شافعی(متوفی٧٤٨ھ):انھوں نے بھی اپنی بعض کتابوں میں حضرت مہدی کی ولادت کا اعتراف کیا ہے مثلًا:
الف) ''محمدا بن حسن عسکری ا بن علی نقی ابن محمد الجوادا بن علی رضاا بن موسی کاظم ا بن جعفرصادق علوی حسینی ابوالقاسم جنکو رافضہ نے خلف حجت،مہدی،منتظراورصاحب الزمان کا لقب دیا ہے اور وہ بارہویں امام ہیں۔''( العبر فی خبر من غبر،ج١،ص٣٨١)
ب)'امام عسکری کے بیٹے محمد ابن حسن ہیں جنکو رافضی لوگ قائم خلف حجت کہتے ہیں...۔'(تاریخ اسلام،ص١١٣؛٢٥١ھ۔٢٦٠ھکے حوادث ووفیات)
ج)''منتظر،شریف ابوالقاسم محمدا بن حسن عسکری...آخری بارھویں بزرگوار۔''(سیر اعلام النبلائ،ج١٣،ص١١٩،نمبر٦٠)
٣٤۔فخر رازی شافعی: اپنی علم نسب کی کتاب میں کہتے ہیں:''حسن عسکری کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔بیٹوں میں سے ایک صاحب الزمان ہیں ؛ابوالقاسم محمد ابن حسن عسکری کی ولادت پر اکثر مورخین کا اتفاق ہے وہ اپنے باپ کے صلب اور اپنی ماں نرجس خاتون کے رحم سے٢٥٢ھ یا٢٥٥ھ یا ٢٥٩ھمیں پیدا ہوئے حالانکہ شیعوں کے مطابق وہ شب پندرہ شعبان ٢٥٥ھمیں پیدا ہوئے ہیں... ''(الشجرة المبارکة فی أنساب الطالبیہ ،ص٧٨ و٧٩)
٣٥۔نسب شناس علامہ سید محمد ابن حسین حسینی سمرقندی مدنی(متوفی٩٩٦ھ):''حسن عسکری کے بیٹے محمد مہدی ہیں...وہ بارہویں امام ہیں...جمعہ کے دن پندرہ شعبان ٢٥٥ھ کو پیدا ہوئے...انکی کنیت ابوالقاسم اور القاب: حجت، خلف صالح،قائم،منتظر،صاحب الزمان ہیںاورمشہورترین لقب مہدی ہے اور والد کی وفات کے وقت انکی عمر پانچ سال تھی ۔'(تحفة الطالب بمعرفةمن ینتسب الی عبد اللہ وابی طالب،ص٥٤و٥٥)
٣٦۔شریف انس کُتُبی حسنی:وہ کتاب ''تحفةالطالب''کے اپنے حاشیے میں کہتے ہیں:''امام مہدی بچپن میں پوشیدہ ہوگئے اور یہ امر شیعہ وسنی کے درمیان مسلّم ہے ۔تاریخی کتابیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ مہدی بچپنے میں داخل سرداب ہوئے اورانکے کوئی اولاد نہیں تھی علم نسب کی کتابیں بھی اس بات ثابت کرتی ہیں... ''(تحفة الطالب،ص٥٥)
٣٧۔شیخ عبد اللہ ابن محمد شبراوی مصری شافعی(متوفی١١٧٢ھ):''بارہویں امام ابوالقاسم محمد ہیںکہا جاتا ہے کہ وہی مہدی منتظر ہیں ۔حسن خالص کے بیٹے محمد حجت کی ولادت اپنے والد کے انتقال سے پانچ سال قبل پندرہ شعبان ٢٥٥ھ کو سامرہ میں ہوئی انکے والد انکو خلفا کے خوف سے لوگو سے پوشیدہ رکھتے تھے انکا لقب : مہدی، قائم،منتظر،خلف صالح اور صاحب الزمان ہے اور ان میں سے مشہور ترین لقب مہدی ہے شیعوںکا کہنا ہے کہ احادیث صحیح کے مطابق وہ آخری زمانے میں ظہور کریں گے...۔ ''(الاتحاف بحب الأشراف،باب٥،ص٧٩و١٨٠)
٣٨۔ابن عبّاد  دمشقی حنبلی(متوفی١٠٨٩ھ):''اس سال حسن ابن علی ابن محمد جواد ابن علی رضا ابن مو سی کاظم ابن جعفر صادق علوی حسینی نے وفات پائی  جو بارہ اماموں میں یس ایک تھے اور جنکے بارے رافضیوں کا عقیدہ ہے وہ سب معصوم ہیں ۔وہ صاحب سرداب محمد منتظر کے والد ہیں۔ (شذرات الذھب فی أخبار من ذھب،ج٣،ص٢٦٥)
٣٩۔جمال الدین احمد ابن علی حسینی المعروف ابن عنیہ(متوفی٨٢٨ھ):''علی ہادی جنکو سامرہ میں رہنے کی وجہ سے عسکری کے لقب سے یاد کیا گیا ...انکے دو بیٹے تھے ایک ابومحمدحسن عسکری اور دوسرے جعفر۔حسن عسکری علم و تقوے کے عظیم درجے پر فائز اورمہدی منتظر کے والدتھے انکی ماںنرجس خاتون تھیں... ''(عمدةالطالب فی أنساب آل أبی طالب ،ص١٩٩)
٤٠۔محمد ابن عبد الرسول برزنجی شافعی(متوفی١١٠٣ھ):انھوں نے امام حسن عسکری کے محمد نام کے بیٹے کی ولادت اعتراف کرتے ہوئے غیبت صغری و کبری اور انکے ظہور میں اعتراض کیا ہے(الاشاعةلاشراط الساعة،ص١٤٩) 
٤١۔ابوالبرکات نعمان ابن محمود آلوسی حنفی(متوفی١٣١٧ھ):'' شیعی مذاہب میں سے مشہور تریں مذہب بارہ امامی امامیہ مذہب ہے جنکا عقیدہ ہے کہ محمد ابن حسن عسکری ابن علی ہادی ہی مہدی ہیں اور وہی حجت ،منتظر اورقائم ہیں۔''(غالیة الواعظ،ج١،ص٧٨)
جو لوگ امام مہدی عج ہی کو موعود جہانی جانتے ہیں :
بعض اہل سنت جوحضرت مہدی کی ولادت کا عقیدہ رکھتے ہیںوہ شیعوں کی طرح انکو وہی موعود جہانی جانتے ہیںیہاں پر ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کر رہے ہیں: 
١۔حافظ محمد ابن یو سف گنجی شافعی (متوفی٦٥٨ھ):وہ امام ابو محمد حسن عسکری کے بارے میں کہتے ہیں :''انھوں نے ایک اولاد چھوڑی وہی امام منتظر ہیں'' (کفایةالطالب، ص٣١٢) 
٢۔عارف عبد الوھاب شعرانی حنفی:وہ بعض عرفا سے نقل کرتے ہیں کہ:''آخری زمانہ میں مھدی کے خروج کی امید ہے۔وہ امام عسکری کی اولاد ہیں اور پندرہ شعبان ٢٥٥ھکو پیداہوئے وہ ابھی تک زندہ ہیں اور عیسی بن مریم کے ساتھ آئیں گے انکی عمر اس وقت تک ٧٠٦ سال ہے ؛شیخ حسن عراقی نے اس طرح کی مجھے خبر دی۔''(الیواقیت والجواہر،ج٢،ص١٢٧)
٣۔شیخ سلیمان قندوزی حنفی(متوفی١٢٩٤ھ) :''ثقہ اور معتبر افراد کے نزدیک تحقیق شدہ امر یہ ہے کہ قائم کی ولادت شب پندرہ شعبان ٢٥٥ھ کو سامرہ میں پیدا ہوئے...(شواھد النبوة،ج٤٠٤۔٤٠٨)
٤۔شیخ نور الدین عبد الرحمان جامی حنفی(متوفی٨٩٨ھ):انھوں نے حجت ابن الحسن کو بارھواں امام جانا ہے ؛اورامام کی تاریخ ولادت ،حالات، اور بعض معجزات بیان کرنے کے  بعد فرماتے ہیں:الذی یملأ الارض عدلًا و قسطًا...وہ ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے (شواھد النبوة،ص٤٠٤۔٤٠٨)
٥۔شیخ الاسلام صدرالدین حموینی:وہ اپنی کتاب کے باب نمبر ٣١ میں ایک حدیث نقل کرتے جو واضح طور پر حضرت مہدی ولادت پر دلالت کرتی ہے.اس حدیث میں پیغمبر اکرم ۖ اپنے بعد کے تمام اولیا و اوصیا کو شمار کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں:''بیشک ہماری بارہویں اولاد غیبت اختیار کرے گا...یہاں تک کہ خدا وند عالم اسے اذن دے... .''(فرائد السمطین ،ج٢۔ص١٣٢)
٦۔شیخ فرید الدین عطّار نیشاپوری:وہ اپنے اشعار میں تمام ائمہ کو ذکر کرنے بعد کہتے ہیں:
صد ھزاران اولیا روی زمین      از خدا خواھند مھدی را یقین
یا الھی مھدیم از غیب آر        تا جھان عدل گردد آشکار
از تو ختم اولیای این زمان       وز  ھمہ معنا نھانی جان جان 
از تو ھم پیدا وپنھان آمدہ     بندہ عطّارت ثنا خوان آمدہ (ینابیع المودة ،ج٣،ص٣٥٠و٣٥١) 
٧۔جلال الدین بلخی رومی المعروف مولوی(متوفی٦٧٢ھ):مدرسہ عالی شہید مطہری کے نسخے اور بمبئی سے چاپ شدہ نسخہ کے مطابق مولوی نے اپنے مشہور دیوان میںمندرجہ ذیل قصیدہ اھلبیت کی شان میںکہا ہے:
اے سرور مردان علی مستان سلامت می کنند     وی صفدر مردان علی مردان سلامت می کنند
یہاں تک کہ اس شعر تک پہنچتے ہیں:
با میر دین ھادی بگو با عسکری مھدی بگو     با آن ولی مھدی بگو مستان سلامت می کنند(گذشتہ،ج٣،ص٣٥١) 
٨۔ابوالمعالی صدرالدین قونوی:وہ اپنی وفات کے وقت اپنے شاگردوں سے کہتے ہیں:''میری وفات کی پہلی رات کو حضور قلب کے ساتھ ستّر مرتبہ کلمہ توحید یعنی لاالہ الااللہ پڑھنا اورمیرا سلام حضرت مہدی تک پہنچانا...(گذشتہ،ص٣٤٠و٣٤١)
٩۔احمد ابن یوسف ابوالعباس قرمانی حنفی(متوفی١٠١٩ھ):وہ لکھتے ہیں:'محمد حجت خلف صالح،جنکی عمر والد کے انتقال کے وقت پانچ سال تھی.خداوندعالم نے اس کمسنی میں انکو حکمت عطا کی جس طرح سے حضرت یحیی کو بچپنے میں عطا کی تھی...علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مہدی وہی قائم آخر الزمان ہیں...۔ (أخبار الدول وآثار الأول،ج١،ص٣٥٣)۔

پیر، 6 جون، 2011

انوار الحدیث


انوار الحدیث
فضائل صلوات:
٭آ ل رسولۖ کو صلوات میں شامل کرنا ضروری
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر صلوات بھیجتا ہے لیکن میری آل پر صلوات نہیں بھیجتا وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکتا۔( جبکہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کے فاصلے سے سونگھی جاسکتی ہے) (فضائل صلوات اور مشکلات کا حل، صفحہ ٢٨)
٭ناقص صلوات نہ پڑھو!
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ناقص درود نہ بھیجا کرو لوگوں نے عرض کیا: ناقص درود کیا ہے؟ فرمایا: 'اللھم صلّ علی محمد' کہہ کر نہ رہ جاؤ یہ ناقص صلوات ہے بلکہ یوں کہو: اللھم صلی علیٰ محمدۖ و آل محمد۔     (حاشیہ قرآن مترجم مولانا فرمان علی صاحب بنقل از صواعق محرقہ ابن حجر مکّی) ٭بہتّر شہیدوں کا اجر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:جو بھی کہے:''صلّی اللہ علیٰ محمد و آل محمد'' (یعنی محمد وآل محمدۖ پر صلوات پڑھے) تو خدا وند عالم اس کو بہتّر شہیدوں کا اجر عطا فرماتا ہے۔     (جامع الاخبار،صفحہ٧٤)
٭فقر و تنگ دستی کا علاج صلوات
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: صلوات پڑھنے سے فقر و تنگ دستی دور ہوتی ہے۔ (داستانہائے صلوات٩٧)
٭سب سے بڑا کنجوس!
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بڑا کنجوس وہ ہے جس کے سامنے میرا نام لیا جائے لیکن مجھ پر صلوات نہ پڑھے۔ 
(کنز العمال ،حدیث٢١٤٤)
٭صلوات کے ساتھ حاجت پوری ہوتی ہے
امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: جب خدا سے کوئی حاجب طلب کرو تو پہلے رسول خداۖ پر درود پڑھو پھر اپنی حاجت مانگو کیونکہ خدا اس سے بلند تر ہے کہ اس سے دو حاجتیں طلب کی جائیں اور وہ ایک تو پوری کردے اور ایک روک لے۔ (صحیفۂ سجادیہ، مترجم مولانا مفتی جعفر حسین صاحب،صفحہ ١٠٤) ٭سب سے سنگین عمل صلوات 
امام محمد باقر علیہ السلام  نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میزان اعمال پر سب سے سنگین اور وزنی عمل جو قرار دیا جائے گا وہ محمدۖ وآل محمد پر صلوات ہے۔ 
      (بحار ٩٤،٤٩،٩: کافی ٢/٤٩٤)
٭بغیر صلوات کے دعا رکی رہتی ہے
امام جعفر صادق علیہ السلام  نے ارشاد فرمایا: ہر دعا اس وقت تک رکی رہتی ہے (اور خدا تک نہیں پہنچتی) جب تک محمدۖ اور ان کی آل پر درود نہ بھیجا جائے۔ 
                          (صحیفہ سجادیہ ،ترجمہ مفتی جعفر صاحب،صفحہ ١٢٠)
٭ایک صلوات کے بدلے ہزار نیکیاں
امام جعفر صادق علیہ السلام  نے ارشاد فرمایا:جو محمد اور آل محمدۖ پر صلوات پڑھتا ہے تو پروردگار عالم اس کے نامۂ اعمال میں ہزار نیکیاں لکھتا ہے۔
(جامع الاخبار،صفحہ٧٧)
٭گناہوں کا کفارہ صلوات
امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے گناہوں کا کفارہ ادا نہیں کرسکتا اسے کثرت سے صلوات پڑھنا چاہئے۔ اس لئے کہ محمد وآل محمد ۖ پر صلوات پڑھنے سے گناہ ختم ہوجاتے ہیں۔ (جامع الاخبار ٢٨)

  ناقص صلوات نہ پڑھو!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:مجھ پر بترائ(دم کٹی )صلوات نہ پڑھو،لوگوں نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول!یہ دم کٹی صلوات کیا ہے؟ فرمایا:اللھم صل علی محمد کہہ کر خاموش ہوجاؤ(تو یہ دم کٹی صلوات ہے) بلکہ کہو: ''اللھم صلّ علی محمد و علی آل محمد''۔حضرتۖ سے سوال کیا گیا :اے اللہ کے رسول ۖ! آپ کے اھل کون لوگ ہیں؟فرمایا:علی و فاطمہ و الحسن و الحسین۔ (کشف الغمہ،ج١،فصل فی الامر بالصلاة،ص٣٢٥؛ینابیع المودة،قندوزی،جزء اول،باب وجوب الامام،ص١١)
صلوات کا طریقہ!
عبد الرحمن ابن ابی لیلی نقل کرتے ہیں کہ کعب ابن عجرہ نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا :آیا تم پسند کرتے ہو کہ ایک حدیث ہدیہ کے طور پر تمھیں تمھارے سامنے پیش کروں؟وہ حدیث یہ ہے کہ ایک دن پیغمبر اکرم  ۖ ہم صحابہ کے پاس آئے ۔ہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!ہم نے آپ پر سلام کرنے کے طریقے کو (قرآن سے )سیکھا ہے لیکن فرمائیے کس طرح آپ پر صلوات بھیجیں؟حضرتۖ نے فرمایا: کہو: ''اللھم صل علی محمد و آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و آل ابراھیم انک حمید مجید''پروردگارا !محمدۖ اور ان کی آل پر درود بھیج جیسا کہ ابراہیم پر درود بھیجاہے بیشک تو حمید و بزگوار ہے۔((صحیح  بخاری،کتاب التفسیر،ج٦،ص٢١٧،سورہ احزاب کے ذیل میں؛ کنزالعمال،ج٢،حدیث٤٠٠٦؛ صواعق محرقہ،ص٤٦)
صلوات پڑھنے سے نفاق و کینہ ختم ہوتا ہے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مجھ پر بلند آواز سے صلوات پڑھو اس لیے کہ اس سے نفاق و کینہ ختم ہوتا ہے۔ (اصول کافی،ج٢،ص٤٩٣،ح١٣)
صلوات فراموشی کا علاج
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:جب کوئی چیز بھول جاؤ تو مجھ پر صلوات بھیجو کہ یہ اس چیز کے یاد آنے کا سبب ہے۔انشاء اللہ(فضائل صلوات ،ص٤٠)
صلوات، نجات اخروی کا سبب
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:جو بھی ایک دفعہ مجھ پر صلوات پڑھے تو اس کا کوئی گناہ باقی نہیں رہتا اور جو ہزار مرتبہ صلوات پڑھے تو خدا وند عالم اسے آتش دوزخ سے نجات عطا کرتا ہے۔(ثمرات الحیات،ج٢،ص٧٥٨بنقل از لآلی الاخبار)
صلوات پڑھنے سے امام زمانہ کا دیدار!
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص نماز صبح و نماز ظہر کے بعد اللھم صل علیٰ محمد و آل محمد و عجّل فرجھم کہتا رہے تو وہ اس وقت تک نہیں مر سکتا جب تک کہ امام مہدی عج کا دیدار و ملاقات نہ کرلے۔(سفینةالبحار،ج٢،ص٥٠۔آثار و برکات صلوات ،ص٦٨)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام سن کر صلوات پڑھو
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:جب تم جناب رسول خدا کا نام لو یا کوئی دوسرا تمہارے سامنے نام لے یا اذان وغیرہ میں ان جنابۖ کا نام نامی سنو توآنحضرتۖ پر درود بھیجو۔(حاشیہ ترجمہ قرآن مولانا مقبول احمد صاحب، ص٩٩٦بنقل از اصول کافی و من لایحضر)


ہفتہ، 4 جون، 2011

شیعہ امامیہ اور علم کلام


شیعہ امامیہ اور علم کلام

تحریر: حجةالاسلام و المسلمین ربانی گلپائگانی ترجمہ: سید محمد حسنین باقری
''شیعہ'' لغت و اصطلاح میں:لغت میں لفظ شیعہ کا اطلاق دو معنی پر ہوتا ہے : 
ایک کسی مطلب پر دو یا چند افراد کی موافقت وہماہنگی اور دوسرے کسی فرد یا گروہ کا کسی دوسرے فرد یا گروہ کی پیروی کرنا۔
( الشیعة؛القوم الذین تجتمعوا علی  امر، وکل قوم اجتمعوا علی امر فہم شیعة، وکل قوم امرہم واحد یتبع بعضہم رأی بعض فہم شیع، (لسان العرب ،کلمہ شیع؛ المیزان،ج١٧،ص١٤٧)
اور اصطلاح میں مسلمانوں کے اس گروہ کو شیعہ کہتے ہیں جوحضرت علی  ـ کی بلا فصل امامت و خلافت کا عقیدہ رکھتے ہیں نیز یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام اور پیغمبر  ۖ کا جانشین شرعی نص کے ذریعہ معین ہوتا ہے اور حضرت علی  ـ اور بقیہ تمام ائمہ  ٪ کی امامت شرعی نص کے ذریعہ ثابت ہے۔( اوائل المقالات،ص٣٥؛ الملل والنحل،ج١،ص١٤٦)
حضرت علی  ـکے چاہنے والوں اور پیروی کرنے والوں پر لفظ شیعہ کا اطلاق پہلی مرتبہ پیغمبر اکرم  ۖ کی جانب سے ہوا ہے. یہ بات پیغمبر اکرم  ۖ سے بیان شدہ متعدد حدیثوں میں ذکر ہوئی ہے جیسا کہ سیوطی نے جابر بن عبد اللہ انصاری اور ابن عباس اورحضرت علی  ـ سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم  ۖ نے آیت (ِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ُوْلٰئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) ( سورہ بینہ:٧)( بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے یہی لوگ بہترین خلائق ہیں) کی تفسیرمیں حضرت علی  ـ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قیامت کے دن تم اورتمہارے شیعہ کامیاب ہونگے( تفسیر در المنثور،ج٨،ص٥٨٩، مطبوعہ دارالفکر؛ اس کے علاوہ د یکھئے: الغدیر، ج٢، ص٥٨ ۔ ٥٧ )
شیعیت کی تاریخ میں متعدد فرقے وجود میں آئے جن میں سے بہت سے ختم ہوچکے ہیں لہٰذا ان کے بارہ میں بحث کرنے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ شیعوں کے ا صلی فرقے جو اس وقت موجود ہیںوہ اس طرح ہیں: شیعہ اثناعشری ، شیعۂ زیدیہ ،شیعہ اسماعیلیہ. یہاں پر موضوع بحث شیعہ اثنا عشری ہے۔ 
وجہ تسمیہ:شیعوں میں اکثر شیعۂ امامیہ اثنا عشریہ ہیں ۔ چونکہ وہ پیغمبر  ۖ کے جانشینوں کو بارہ جانتے ہیں اس وجہ سے اثنا عشریہ( بارہ امامی) کہے جاتے ہیں، بارہ اماموں کے نام اور خصوصیات ، پیغمبر اکرم  ۖ سے مروی روایتوں میں بیان ہوئے ہیں. بارہ امام یہ ہیں:
١۔ علی بن ابی طالبـ
٢۔ حسن بن علی  ـ
٣۔ حسین بن علی  ـ
٤۔ علی بن الحسین  ـ(امام سجاد )
٥۔محمد بن علی  ـ(امام باقر  )
٦۔ جعفر بن محمد  ـ (امام صادق  )
٧۔موسیٰ بن جعفر  ـ (امام کاظم )
٨۔ علی بن موسیٰ   ـ(امام رضا )
٩۔ محمد بن علی  ـ ( امام جواد )
١٠۔ علی بن محمد  ـ (امام ہادی )
 ١١۔حسن بن علی  ـ (امام عسکری )
 ١٢۔ حجة بن الحسن ( امام مہدی )
شیعہ ا ثنا عشری امامت کے مسئلے میں خاص تاکید رکھتے ہیں اور امام کی عصمت اور امت اسلامی کے دوسرے افراد پرافضلیت کو بہت اہم اوربنیادی جانتے ہیں دوسری طرف پہلے تین اماموں کے بعد امامت کو امام حسین  ـ کی اولاد میں منحصر جانتے ہیں امام کے سلسلے میں مذکورہ خاص عقائد کی وجہ سے امامیہ کے نام سے مشہور ہوئے ہیں۔
شیخ مفید  شیعہ کی یہ تعریف کرنے کے بعد کہ وہ لوگ جو حضرت علی  ـ کی بلا فصل امامت کاعقیدہ رکھتے ہیں،شیعہ امامیہ کے بارے میں کہتے ہیں: یہ عنوان شیعوں کے اس گروہ سے مخصوص ہے جو ہر زمانے میں امام کے موجود ہونے اور نص جلی کے واجب ہونے اور ہرامام کے لئے عصمت اورکمال کے معتقد اور امامت کو (پہلے تین اماموں کے علاوہ) امام حسین  ـ کی اولاد میںمنحصر جانتے ہیں...۔( اوائل المقالات،ص٣٨)
تاریخ پیدائش تشیع:باوجودیکہ پیغمبر  ۖ کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بعض مسائل میں اختلافات پیش آئے (اس سلسلے میں علامہ شر ف الدین کی کتاب '' النص والاجتہاد'' کی طرف رجوع کیا جائے) پھر بھی فرقے او رگروہ جو بعد میں وجود میں آئے اس زمانے میں موجودنہیں تھے لیکن پیغمبر اکرم  ۖ کی رحلت کے بعد اختلافات وجود میں آئے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے درمیان مختلف فرقے پیدا ہوئے ۔ سب سے اہم اختلاف جو پیغمبر  ۖ کی وفات کے بعد ابتدائی دنوں میں وجود میں آیا وہ امامت و خلافت کے مسئلے سے متعلق تھا جس نے مسلمانوں کودو گروہوں میں تقسیم کیا۔
ایک گروہ کا عقیدہ یہ تھا کہ نبوت کی طرح امامت بھی الہٰی منصب و مقام ہے اور امام کے شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ خطا وگناہ سے معصوم ہو اور اس صفت کو خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا. اسی بناپر امام کے معین ہونے کا راستہ نص الہٰی ہے جو قرآن یا احادیث نبوی میں بیان ہوتی ہے اوراس نص کے مطابق علی ابن ابی طالب  ـ پیغمبر اکرم  ۖ کے جانشین اور مسلمانوں کے امام ہیں۔ حضرت علی  ـ ، بنی ہاشم اور مہاجر و انصارمیں سے بعض بزرگ اصحاب اسی نظریہ کے قائل تھے اور امامت کے مسئلے میں یہی شیعوں ( خصوصاً شیعہ امامیہ) کا عقیدہ ہے۔
دوسر ا گروہ کہ جس کے سر فہرست ابو بکر و عمر تھے، اس عقیدہ پر تھا کہ پیغمبر  ۖنے اپنا جانشین معین نہیں کیا ہے اور یہ کا م مسلمانوں کے حوالے کردیاہے، لہٰذا خلافت و امامت کے مسئلے کی اہمیت اور امت اسلامی کی سرنوشت میںاس کے حیات بخش کردار کے پیش نظر،ایک جلد بازی کے اقدام میں (اس حالات میں کہ جب حضرت علی  ـ اور بعض بزرگ اصحاب، پیغمبرۖ کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے) بعض مہاجرین و انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اورخلیفہ پیغمبر  ۖ کے سلسلے میں کافی بحث و گفتگو کے بعد خلیفۂ پیغمبر کے عنوان سے ابوبکر کی بیعت کی ، اور چونکہ دنیائے اسلام اور دنیا کے سیاسی و ا جتماعی شرائط کچھ اس طرح تھے کہ اگر امام علی  ـ اور آپ کے ساتھی اپنے عقیدے کو ثابت کرنے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عملی اقدام یا جنگ کرتے تو اسلام باہر ی دشمنوں (ایران وروم) و اندرونی دشمنوں ( منافقین) کی جانب سے سخت نقصان اٹھاتا. لہذا امام علی  ـ نے صبر وتحمل ہی میں اسلام و مسلمین کی مصلحت دیکھی اگر چہ مناسب مواقع پر ان کے غلط اقدام کے بارے میں اپنا نظریہ بیان کرتے رہے اور جنگ وجدال سے پرہیز کیا۔ اور اسلامی معاشرے کی ہدایت و ترقی کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی تلاش وکوشش سے خود داری نہیں کی۔
مسائل حل کرنے میں وہ خلفا کی مدد کرتے ،یہاں تک کہ خلیفہ دوم سے نقل ہوا کہ انہوں نے ستر مرتبہ کہا ''... اگر علی  ـ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا '' اور اسی طرح کہا :خدایا مجھے کسی ایسے مشکل مسئلے سے روبرو نہ کرنا جس میں علی ابن ابی طالب   ـ نہ ہوں۔( مذکورہ روایات کے لئے الغدیر، ج١ کی طرف مراجعہ کیا جائے)
شیعہ فرقہ، علی ابن ابی طالب کے ماننے والوں اور آپ  کی بلافصل امامت کا عقیدہ رکھنے والوں کے عنوان سے پیغمبر  ۖکی وفات کے بعد ابتدائی دنوں میں وجود میں آیاالبتہ ایسی روایتیں بھی پائی جاتی ہیں جس میںپیغمبر  ۖ کے زمانے ہی میں لفظ شیعہ کا اطلاق چار افراد یعنی سلمان ، مقداد، ابوذر ، عمار یاسرپر ہوتا تھا۔ ( فرق الشیعہ،ص١٧۔١٨؛ اعیان الشیعہ،ج١،ص ٨۔١٩)۔ یہ وہی افراد ہیں جو خلافت و امامت کے مسئلے میں حضرت علی  ـ کو پیغمبر  ۖ کا بلافصل خلیفہ جانتے تھے اوراس بات کومد نظر رکھتے ہوئے کہ امامت کے مسئلے میں شیعوں کا نظریہ ،کتاب و سنت کی نصوص پر موقوف ہے ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ : در حقیقت، شیعیت، اسلام کے ساتھ رہی ہے اگرچہ ایک مذہب کے عنون سے پیغمبر  ۖ کی رحلت کے بعد وجود میں آئی ہے۔
تاریخ پیدائش کلام امامیہ:جیسا کہ اس سے پہلے ذکر ہوا کہ امامیہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جوامامت کے مسئلہ میں نص شرعی کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ یعنی امام کے معین ہونے کا راستہ شرعی نص ہے۔ اسی طرح ذکر ہوا کہ امامت کے سلسلے میں اختلاف پیغمبر  ۖکی وفات کے فوراً بعد مسلمانوں کے درمیان پیش آیا اور اس سلسلے میںدو کلی نظریئے وجود میں آئے:
ایک یہ کہ خلیفہ اور امام خدا کی جانب سے ،پیغمبر  ۖکے ذریعے معین ہوا ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ اس پر کوئی نص نہیں آئی اور مسلمانوں پر چھوڑدیا گیا ہے۔
ا مام علی  ـ اور بزرگان مہاجر وانصار میں سے ایک گروہ پہلے نظریے کے قائل تھے جن کے نام اور ان کے احتجاجات ، تاریخ وحدیث کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں۔ شیخ صدوق   نے کتاب خصال میں بارہ افراد کے نام ان کے احتجاجات کے ساتھ نقل کیے ہیں ، مہاجرین یہ ہیں: خالد بن سعید عاص، مقداد بن اسود، ابی بن کعب ، عمار یاسر، ابوذر غفاری، سلمان فارسی، عبد اللہ بن مسعود،بریدہ اسلمی اور انصار یہ ہیں: خزیمہ بن ثابت، سہل بن حنیف، ابو ایوب انصاری،ابوہیثم بن تیہان وغیرہ ان لوگوں نے اپنے احتجاجات میں دو مطلب کی طرف استناد کیا ہے ایک پیغمبر  ۖسے وارد نص اور دوسرے امام علی  ـ کی افضلیت و برتری۔
 علامہ طباطبائی کلام امامیہ کی تاریخ پیدائش کے سلسلے میں کہتے ہیں : کلام امامیہ کی تاریخ پرانی ہے ، پیغمبر  ۖکی رحلت کے بعد ہی وجود میں آیا اس زمانے میں اکثر متکلمین اصحاب میں سے تھے ،مثلاً: سلمان ، ابوذر، مقداد، عمر بن حمق وغیرہ اورتابعین میں سے بھی مثلا، رشید، کمیل ومیثم وغیرہ علوی تھے جو بنی امیہ کے ہاتھوں مارے گئے ، اورامام باقر   ـ و امام صادق   ـ کے زمانے میں قدرت پیدا کی اور بحثیں کیں، کتاب و رسالے لکھے(المیزان،ج٥،ص٢٧٨)
مسألہ امامت سے قطع نظر بعض دوسرے مسائل جیسے خدا کے صفات ، قضاو قدر، جبر و استطاعت او رتفویض جوقدیمی ترین کلامی بحثیں ہیں ان مسائل میں بھی امامیہ صف اول میں ہے ا س لئے کہ سب سے پہلا شخص جس نے اس سلسلے میں کلامی بحث کی اور سؤالات و شبہات کے جواب دیئے وہ حضرت علی  ـ کی ذات ہے اور بلاشک آپ کے اصحاب و ساتھیوں نے بھی آپ کے کلامی نظریات و آراء کی پیروی کرتے ہوئے ان کو ضرورت کے موقع پر پیش کیا ہے ۔ امام علی  ـ کے بعد امام حسن اور امام حسین  اور ان کے بعد امام زین العابدین   ـ اور دوسرے ائمہ  ٪ میں سے ہر ایک اپنی امامت کے دور میں کلام کے صاحب عصمت استاد، کلامی جدو جہد کے علمبردار اور صحیح اسلامی عقائد کے مدافع کے عنوان سے تھے اور اس راہ میں اصحاب و شاگردوں کی بھی تربیت کی ہے۔
لہذا تاریخی اعتبار سے امامیہ مذہب اور کلام تمام اسلامی کلامی مذاہب پر مقدم ہے یہاں تک کہ قدر یہ کے ظہور میں آنے سے پہلے ( پہلی صدی ہجری کے اواخر میں) اور معتزلہ کے وجود میں آنے ( دوسری صدی ہجری کے ابتدا میں ) اور توحید و عدل الہی سے دفاع کے لئے تشبیہ گرا و جبر گرالوگوں  کے ساتھ مبارزہ کے لئے اٹھنے سے پہلے ہی کلام امامیہ کے رہبروںنے اس راستے کو طے کیا اوراپنی محکم اور قوی عقلی دلیلوں کے ذریعے توحید اورعدل کے ستونوںکو محکم کیا ہے۔ اسی دلیل کی وجہ سے عدل اور توحید کو دو علوی افکار  کے عنوان سے یاد کیا گیاہے(العدل و التوحید علویان)۔
ممکن ہے کہا جائے : صحیح ہے کہ اسلامی عقائد سے دفاع ، کلامی اعتراضات و شبہات کی جواب دہی اور کلام تقریری کے اعتبار سے کلام امامیہ مقدم ہے لیکن دوسرے دو اعتبار سے معتزلہ کا کلامی مکتب، امامیہ پر مقدم ہے:ایک اصول و قواعدکی تاسیس اور استدلال کے طریقوںکی ترسیم۔دوسرے کلامی رسائل و کتب کی تالیف و تصنیف کے اعتبار سے کہ یہ دونوں چیزوں ایک کلامی مکتب کے اہم خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
لیکن یہ کہنا صرف خام خیالی ہے اس لئے کہ دونوںموارد میں امامیہ پیش قدم  رہا ہے اس لئے کہ امام علی  ـ (قرآن کے بعد) پہلے شخص ہیں جنہوں نے عقلی تفکرات و نظریات کے دروازے مسلمانوں پر کھولے اور معارف و عقائد کے اصولوں کوبیان اور ان کو مستحکم کیا ، جیسا کہ توحید و عدل ( جواہم کلامی محور میں سے ہیں) کے سلسلے میں فرمایا: ''التوحید الا تتوہمہ ، والعدل الاتتہمہ''( نہج البلاغہ، حکمت ٤٧٠) توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بنائو. اور عدل یہ ہے کہ اس پر الزام نہ لگائو۔
اور اسی طرح امام علی  ـ  الہٰی صفات کی شناخت پر عقل کی توانائی کے سلسلے میں فرماتے ہیں :'' لم یطلع العقول علی تحدید صفتہ ولم یحجبہا عن واجب معرفتہ ''.(نہج البلاغہ،خطبہ٤٩)نہ عقلوں کو اپنی صفات کی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا اور ان کو اپنی معرفت سے محروم نہیں رکھا۔
اسی طرح روایت ہے کہ ایک دن امام کو اطلاع دی گئی کہ مسلمانوں کا ایک گروہ عدل الہٰی کے سلسلے میں بحث کررہا ہے ۔ امام  مسجد میں آئے اورپیدائش کی غرض، بندوں کی ذمہ داری ، وعدوعیدا ور دنیاوی لذائذ و آرام کے سلسلے میں تقریر فرمائی۔
 معروف معتزلی عالم و متکلم جاحظ (متوفی٢٥٥ ھ)نے امام کے اسی کلام کے سلسلے میں کہا ہے : ''یہ تاریخ انسانیت کا ایسا جامع کلام ہے جو ان کی کتابوں میں نقل ہوا یا محاورات میں استعمال ہوا ہے'' اورکلام معتزلہ کے مشہور استادابو علی جبائی (متوفی ٣٠٣ھ) نے کہاہے : جاحظ نے سچ کہا ہے اس لئے کہ اس کلام (کلام امام)میں کمی و زیادتی نہیں ہوسکتی۔(احتجاج طبرسی،ص٢٠٧)
امامیہ علم کلام میں تألیف کے اعتبار سے بھی معتزلہ اور دوسرے مکاتب  سے متاخر نہیں رہے ہیں اس لئے کہ ان رسائل کے علاوہ جنہیں ائمہ شیعہ نے بعض کلامی مسائل میں لکھا ہے ( جیسے مسألہ ''قدر'' کے سلسلے میں رسالہ امام حسن مجتبیٰ  ـ)امامیہ متکلمین بھی زمانۂ قدیم سے کلامی موضوعات کے سلسلے میں صاحب تصنیف و تالیف رہے ہیں ۔
نجاشی نے کہا ہے: عیسی بن روضہ (تابعی)سب سے پہلے شخص ہیں جنھوں نے امامت کے موضوع پرکتاب لکھی ہے.( رجال نجاشی، ترجمہ نمبر ٧٩٦؛مذکورہ شخصیت منصور کے زمانے میں تھی)
ابن ندیم نے علی بن اسماعیل بن میثم تمار (متوفیٰ ١٧٩ھ) کو سب سے پہلا شخص جانا ہے کہ جنھوں نے امامت کے سلسلے میں تکلم کیا اور پھر ان کی تالیفات میں کتاب ''الامامة'' و''کتاب الاستحقا ق ''کانام لیا ہے۔( فہرست ابن ندیم، فن دوم، مقالہ سوم،ص٢٤٩) اور نجاشی کے مطابق وہ نظّام اور ابو ہذیل کے معاصر تھے اور ان کے ساتھ کلامی مناظرہ کیا ہے۔(رجال نجاشی، نمبر ٦٦١)
امام صادق و امام کاظم   کے زمانے میں شیعہ متکلمین میں سے ایک اہم شخصیت ہشام بن حکم تھے، علم کلام میں متعدد رسالے و کتابیں لکھیں جن میں سے کتاب التوحید ، کتاب الامامة، کتاب فی الجبر والقدر، کتاب الاستطاعة، الرّد علی اصحاب الاثنین،الدلالات علی حدوث الاشیائ،الرّد علی الزنادقہ،الرّد علی من قال بامامة المفضول،المعرفة وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔
لہذا کلام امامیہ دو اعتبار سے دوسرے تمام اسلامی کلامی مکاتب پر مقدم ہے:١۔وجود میں آنے اور کلامی بحثیں پیش کرنے کے اعتبار سے۔٢۔ کلامی اصول و مبادی کی تأسیس کے اعتبار سے اور اگر کلام میں تالیف  وتصنیف کے اعتبار سے دوسروں سے مقدم نہ مانیں پھر بھی حد اقل دوسروں سے مؤخر نہیں ہے۔
احمد امین کا جواب:احمد امین نے پہلے کہا کہ: '' شیعہ اصول دین سے متعلق بہت سے مسائل میں معتزلہ سے ہمفکر ہیں مثلا صفات عین ذات ہیں، قرآن مخلوق ہے، کلام نفسی کا انکار، خدا سے رؤیت بصری کا انکار ،حسن وقبح عقلی، قدرت و اختیار انسان، خداوند عالم سے قبیح باتوں کا صادر نہ ہونا، افعال الہٰی اغراض کے تابع ہیں وغیرہ..'' پھر کہا ہے: میںشیعہ متکلم ابراہیم بن نوبخت کی کتاب ''یا قوت'' پڑھ رہا تھا اس میں امامت سے متعلق بحث کو چھوڑ کر معلوم ہو رہا تھا گویا میں معتزلی عقائدکی کوئی کتاب پڑھ رہا ہوں۔
 اس کے بعد اس بارے میں کہ ان دوکلامی مکتب میں سے کون دوسرے کا تابع ہے ، کہا ہے: بعض شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ معتزلہ نے اپنے اصولی عقائد کو ان سے لیا لیکن میں ترجیح دیتا ہوں کہ شیعوں نے اپنی تعالیم کو معتزلہ سے لیا ہے، جیسا کہ مذہب اعتزال کی تاریخ کے مطالعہ سے اس بات کی تائید ہوتی ہے اور شیعۂ زیدیہ کے پیشوا زید بن علی ، واصل بن عطاء کے پیروکار تھے ا ورا مام جعفر صادق  ـ اپنے چچا کے ساتھ رابطے میں تھے جیسا کہ ابوالفرج اصفہانی نے ''مقاتل الطالبین'' میں نقل کیا ہے کہ جعفر بن محمد ،زید کی رکاب کو پکڑتے اور جب وہ گھوڑے پر سوار ہوجاتے توان کے لباس کوصحیح کرتے تھے اوردوسری طرف بہت سے معتزلی حضرات شیعہ مذہب کی طر ف منتقل ہوئے۔(ضحی الاسلام، احمد امین، ج٢،ص٢٦٨۔٢٦٧)
احمد امین کے جواب میں چند نکات پیش ہیں:
اولاً: توحید و عدل اوردوسری کلامی بحثوں کے سلسلے میں مولائے کائنات کے کلام و اقوال اوراسی طرح بزرگان معتزلہ کی اس بات پرتصریح کہ انہوں نے اپنے  مکتب کے اصول و قواعد کوامام علی  ـ سے سیکھا ہے (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج١٠، ص٢٢٧)مذکورہ دونوں باتوں کومدنظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تواحمد امین کا نظریہ ''اجتہاد در مقابل نص'' اورحقیقت سے بہت دور ہے ۔
ثانیاً: زیدبن علی کی واصل کی شاگردی پرکوئی محکم دلیل ہمارے پاس نہیں ہے۔ بہت ہی بعید ہے کہ علوی گھرانے کا پلا ہوا اور تربیت یافتہ، امام زین العابدین و امام محمد باقر  جیسے کلام کے ماہرین کے ہوتے ہوئے اپنے عقائد کودوسرے سے سیکھے وہ بھی ایسے سے جواس سے چھوٹا یا ہم سن وسال ہو۔
بالفرض اگر اس بات کومان  بھی لیا جائے تو اس سے معتزلہ سے زیدیہ مذہب کی پیروی  ثابت ہوتی ہے نہ بارہ ا مامی امامیہ کی...
ثالثاً: امامیہ، معتزلہ کے ساتھ تمام کلامی مسائل میں مکمل طور پر ہماہنگی نہیں رکھتے جیسا کہ تفویض معتزلہ کے سلسلے میں ان کی مخالفت مشہور ہے. اسی طرح ایمان، وعدو وعید، گناہ کبیرہ کے ارتکاب، شفاعت اور دوسرے بہت سے کلامی مسائل میں ان سے مخالفت رکھتے ہیں۔اس سلسلے میں شیخ مفید کی اوائل المقالات کی طرف رجوع کیا جائے ۔
رابعاً: اکثر معتزلی حضرات کا رجحان شیعوں کی طرف صرف فرضیہ ہے اس لئے کہ امامت کی بحثوں کے سلسلے میں ان کی شیعوں کے ساتھ مخالفت روشن ہے . آل بویہ ( چوتھی صدی ہجری کی ا بتدا میں) جو شیعہ تھے اور معتزلہ کے ساتھ ان کی ان کا برتاؤ مسالمت آمیز تھا، صرف ان کے زمانے میں کسی سیاسی پہلو کی وجہ سے معتزلہ اور شیعہ نزدیک ہوئے . لیکن اس سے پہلے ان کے درمیان اس طرح کا کوئی رابطہ نہیں تھا. بلکہ آپس میں اختلافات بھی تھے۔
ہاں! اگر شیعوں کی طرف میلان سے مراد اہل بیت پیغمبر  ۖ کی مودت و محبت ہے تو کہا جائے کہ اشعریوں اور حنبلیوں کے بزرگ افراد بھی یہ میلان رکھتے تھے اوراگر مراد یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علی  ـد وسرے خلفاء سے برتر ہیں تو یہ عقیدہ صرف بغداد کے اکثر معتزلہ کو شامل ہوتا ہے اس لئے کہ وہ لوگ خلفاکی خلافت کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ امام علی  ـکو ان سے برتر جانتے تھے۔ لیکن اگر تشیع سے مراد امام علی  ـ اور دوسرے ائمہ کی امامت پر نص کے ہونے کا عقیدہ رکھنا ہے ،تو اس میں شیعہ منفرد ہیں۔
کلام امامیہ کا طریقۂ بحث:کلام امامیہ، عقلی استدلال کے طریقے کی پیروی کرتاہے اور عقلی تفکر کی بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے اور کلام معتزلہ کے ساتھ ا ن کا فرق یہ ہے کہ تنہا عام عقل پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ عقل برتر ( یعنی عقل ائمہ) کو تکیہ گاہ قراردیتے ہیں۔ اسی وجہ سے دینی معارف کو بیان کرنے اور کلامی پیچیدگیوں کو حل کرنے میں لغزش و انحراف سے محفوظ رہے ہیں اور تمام جگہوں پر اعتدال کے راستے ( امر بین الامرین) کو طے کیا ہے۔
جیسا کہ استاد مطہری  نے بیان کیا ہے کہ شیعی تعقل و تفکر نہ صرف افکار حنبلی (جو مذہبی عقائد میں استدلال کے سرے سے ہی منکر ہیں) اور اشعری تفکر( کہ جنہوں نے اصالت کوعقل سے لیا ہے اور اس کو ظواہر الفاظ کا تابع قرار دیا ہے) کے مخالف و مغایر ہے بلکہ معتزلی تفکر کے( تمام عقل گرائی کے باوجود) بھی مخالف ہے اس لئے کہ معتزلی تفکر گرچہ عقلی ہے لیکن جدلی ہے نہ کہ برہانی، اسی وجہ سے اکثر اسلامی  فلاسفہ شیعہ رہے ہیں۔
در حقیقت اسلامی معارف میں عقلی و عمیق بحثیں پہلی مرتبہ حضرت علی  ـ کے توسط سے آپ  کے خطبات و دعوات اورمذاکرات میں پیش ہوئیں اور وہ بحثیں معنوی رنگ رکھتے ہوئے معتزلیوںو اشعریوں کی کلامی روش سے حتی کہ بعض شیعہ علماء کی کلامی روش سے بھی جو  اپنے زمانے کے کلام سے متأثر ہوئے ،مکمل طور پر متفاوت ہے۔(آشنائی باعلوم اسلامی(کلام ۔عرفان)،ص٥٤)
 شیعہ حدیثوں میں کلامی بحثیں دقیق ترین عقلی وبرہانی روش پر مورد تحقیق قرار پائی ہیں اسی وجہ سے دینی معارف کے سلسلہ میں شیعہ احادیث امامیہ متکلمین و حکماء کے اصیل ترین منابع سمجھے جاتے ہیں اور اسلامیکلام و فلسفہ کا پایۂ تکمیل کو پہنچنا انہیں افکار و نظریات کی بنیاد پر ہے۔
شہید مطہری نے اسلامی فلسفہ میں نہج البلاغہ کی تاثیر کے سلسلہ میں کہا ہے: نہج البلاغہ ،مشرقی فلسفہ کی تاریخ میں بہت بڑا حصہ رکھتا ہے، صدر المتألہین جنہوں نے حکمت الہٰی کے نظریات کو پیش کرنے میں دوسروں پر سبقت حاصل کی وہ امام علی  ـ کے کلمات سے بہت زیادہ متأثر تھے،توحیدکے مسائل میںان کی روش ذات سے ذات اور ذات سے صفات و افعال پر استدلال کی بنیاد پر ہے اور یہ تمام واجب کے وجود محض ہونے پرموقوف ہے اور وہ ان کے فلسفہ عامہ میں بیان شدہ دوسرے بعض کلی اصول کی بنیاد پر قائم ہے۔(سیری در نہج البلاغہ، دوسراحصہ ،ص٧٦)
علامہ طباطبائی شیعی اور معتزلی کلام کے فرق کے سلسلے میں لکھتے ہیں : بعض لوگوں نے غلط فہمی کا شکار ہوکرکلام شیعی اور کلام معتزلہ کی روش کو ایک جانا ہے لیکن اس تصور کے غلط ہونے پر دلیل یہ ہے کہ وہ اصول جو ائمہ اہل بیت  ٪ سے بیان  ہوئے اور امامیہ ان پراعتماد کرتے ہیں وہ معتزلہ کے مزاج سے سازگار نہیں ہیں۔ (المیزان ،ج٥،ص٢٧٩)
محقق لا ہیجی کا قول:محقق لاہیجی نے کلام امامیہ کی خصوصیات اس طرح بیان کی ہیں :''گذشتہ باتوں سے یہ واضح ہوگیا کہ کلام مشہور جو اشعریت و اعتزال پر تقسیم ہے وہ قابل اعتبار یقینی معارف میں غیر یقینات پرموقوف ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہے''۔اس کے بعد معارف یقینی کے بیان کرنے میں حکماء و پیغمبروں کے طریقہ میں فرق کو پیش کرتے ہوئے کہا ہے: جومقدمات معصوم سے لئے جائیں وہ برہانی قیاس میں اولیات کی جگہ پر ہیں اور جس طرح قیاس برہانی یقین کا فائدہ دیتا ہے اسی طرح وہ دلیل جو معصوم سے لئے گئے مقدمات سے تشکیل پائی ہو وہ بھی یقین کا فائدہ پہنچائے گی اس طرح سے کہ یہ معصوم کا کہا ہوا ہے او ر جو بھی معصوم کاکہا ہوا ہووہ حق ہے پس یہ مقدمہ حق ہے پس کلام کی یہ قسم صحیح ہوگی اور یقین کا فائدہ دینے میں طریقۂ برہان کی طرح ہوگی اور فرق یہی ہوگاکہ طریقۂ حکمت ،یقین تفصیلی کا فائدہ دیتا ہے اور یہ طریقہ یقین اجمالی کا فائدہ دیتا ہے اور یہ طریقہ قدیم شیعہ متکلمین کا ہے جیسے ہشام بن حکم وغیرہ اور ائمہ کی احادیث میں ثابت ہوا ہے کہ جو کلام ہم سے حاصل ہو وہ قابل قبول ہے اور اس کے علاوہ مذموم، اورمراد یہی کلام ہے جو بیان ہوا۔(گوہر مراد، ص٢٦۔٢٤)
ان محقق کا نظریہ اس اعتبار سے ثابت اور قوی ہے کہ انہوں نے کلام امامیہ کی خصوصیت کو ائمہ معصومین  ٪ کے ارشادات و کلام میں موقوف جانا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان کی بات اعتراض و اشکال  سے خالی نہیں ہے اس لئے کہ ایک شیعہ متکلم تمام مسائل میں معصوم کے کلام کی طرف نسبت دیتے ہوئے اپنے دعوے کو ثابت اور مد مقابل کے نظریے کو باطل نہیں کرسکتا ۔ اس لئے کہ ممکن ہے مدمقابل معصوم کے وجود کا اس طرح قائل نہ ہو جس طرح شیعہ قائل ہیں اور اس کے علاوہ بعض کلامی مسائل مثلانبوت، اعجاز قرآن، عصمت وغیرہ ان مسائل میں سے نہیں ہیں جنہیں معصوم کے کلام پر تکیہ کرتے ہوئے ثابت کیا جائے یا دوسرے الفاظ میں یہ باتیں معصومین کے کلام کی حجیت کے مقدمات میں سے ہیں۔
البتہ جب ایک شیعہ متکلم چاہے کہ دینی معارف و مفاہیم کو معصومین  ٪ کے ماننے والوں کے لئے بیان کرے تو ایسی صورت میں مذکورہ طریقے سے استدلال کر سکتا ہے اور اس کا استدلال، برہانی ہوگا اس لئے کہ بغیر کسی شک کے معصوم  کا کلام صحیح اورواقع  کے مطابق ہوگا نیز یقینی قضایا میں اس کا شمار ہوگا 
اور جو انہوں نے ذکر کیا کہ امام معصوم نے اس کلام کو ممدوح جانا ہے جو ان سے لیا گیا ہو، وہ اسی زاویہ سے متعلق ہے یعنی اگر کوئی چاہے کہ دینی عقائد کو شیعوں کے لئے بیان کرے تووہ معتزلی و اشعری کلام کے قواعد اور ان کے نظریات کو بنیاد قرار نہ دے۔ اس لئے کہ اس میں خطا و غلطیاں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ ارادہ الہٰی ، رؤیت، جبرو اختیار ،عصمت، امامت اور قیامت سے متعلق بحثوں جیسے اہم مسائل میں ان کی غلطیاں مسلّم اور واضح و روشن ہیں اورہرگز مراد یہ نہیں ہے کہ ہر کلامی مسئلہ میں معصوم کے کلام کی طرف رجوع کیا جائے، ایسے کے سامنے جو حتی کہ معصوم پیشوا کے وجود کو بھی قبول نہیں کرتا۔ مثلاً کیا صحیح ہے کہ امامت کے سلسلہ میں اور امام میں عصمت کی شرط اوراس کا خدا کی جانب سے نصب  کیا جانا جیسے مسائل میں کسی معصوم کے کلام سے استدلال کیا جائے یا خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کی آیات سے تمسک حاصل کیا جائے؟!
 اگر اس طرح کی جگہوںمیں کسی آیت یا حدیث کی طرف استناد ہوتا ہے تواس وجہ سے ہے کہ در حقیقت وہ آیت یاروایت خود استدلال عقلی کو بیان کر رہی ہے اس طرح سے کہ وہ روشن اور سب کے لئے قابل فہم بیان ہوئی ہے۔
متکلمین اور ان کے کلامی آثار:تمام شیعہ متکلمین کے حالات زندگی اور ا ن کے کلامی آثار کو بیان کرنے کے لئے ایک مستقبل کتاب کی ضرورت ہے ہم یہاں صرف چند نمونے ذکر کرر ہے ہیں:
١۔ہشام بن حکم: (وفات ١٧٩   ھ یا ١٩٩   ھ)امام صادق  و امام کاظم   کے اصحاب و شاگردوں میں سے تھے اورعلم  کلام میں ا ئمہطاہرین ٪ کے اہم شاگردوں میں سے ا یک تھے۔
علم کلام میں ان کی مہارت ، خاص وعام اور موافق و مخالف کے نزدیک مشہور ہے ۔ امام صادق  ـ نے ان کی تعریف وتوصیف میں فرمایا ہے: '' ہشام بن حکم ہمارے حق کے دفاع میں جلودار ہیں، ہماری رائے اور ہماری بات کی سچائی کی تائید کرتے ہیں ہمار ے دشمنوں کے باطل عقائد کا قلع قمع کرتے جو بھی ان کے طریقے کی پیروی کرے گویا  اس نے ہماری پیروی کی ہے اور جو بھی ان کی مخالفت کرے اورا نکار کرے اس نے مجھ سے دشمنی کی اورہمارا انکار کیا''۔(فلاسفة الشیعہ،ص٦٣٤)
شہرستانی نے ان کو ا صول عقائد میں صاحب نظر اور عمیق جانا ہے(ملل و نحل شہرستانی،ج١،ص١٨٥) احمد امین مصری نے کہا ہے: ہشام سے نقل شدہ بہت سے مناظرے ان کے حضور ذہن اورقوی دلیل پردلالت کرتے ہیں۔( ضحی ا لاسلام،ج٣،ص٢٦٨)
کلامی موضوع پر ان کی بعض کتابیں:الامامة؛الدلالات علی حدوث الاشیائ؛ الرّد علی الزنادقہ؛ الرّد علی اصحاب الاثنین؛التوحید؛الرّد علی مَن قال بامامة المفضول؛ کتاب فی الجبر و القدر؛ المعرفة؛ الاستطاعة؛ القدر؛ و...
٢۔ شیخ مفید: ( ابو عبد اللہ محمد بن نعمان المعروف شیخ مفید ،٣٣٨ھ۔٤١٣ھ)ن کو زمانۂ غیبت کی ابتداء میں شیعہ امامیہ کے عقائدمیں نئی روح پھوکنے والا کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ عباسی حکومت میں سیاسی تبدیلیوں کے پیدا ہونے سے جو مناسب موقع ملااس میں اور اسی طرح آل بویہ جو شیعہ تھے اور سیاست میں اہم کردار رکھتے تھے ان کے زمانے میں شیخ مفید نے فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعی عقائد کے اصول و مبانی کو قرآن و سنت اور قوی عقلی دلیلوں کے ذریعے تبیین کیا۔ متعدد کلامی کتابیں اور رسالے تحریر کیے جو مصنفات شیخ مفید کے نام سے یکجا شائع ہوئے ہیں ان کے کلامی آثار میں سے دو بہت اہم ہیں: ایک '' اوائل المقالات فی المذاہب والمختارات'' ہے جس میں شیعہ عقائدکو نقل کرتے ہوئے دوسرے مذاہب و اسلامی فرقوں سے مقایسہ کیا ہے اور دوسری کتاب'' تصحیح الاعتقادات بصواب الانتقاد'' ہے جو شیخ صدوق  کی کتاب ''الاعتقادات فی دین الامامیہ'' کی تنقیدی شرح ہے۔
٣۔ابو اسحاق ابراہیم بن نوبخت:کتاب '' الیاقوت فی علم الکلام'' کے مؤلف ہیں جس کی شرح علامہ حلّی نے ''انوار الملکوت فی شرح الیاقوت'' کے نام سے کی ہے. ان کی یہ کتاب علم کلام میں شیعہ امامیہ کے استدلالی متون کی قدیمی ترین کتابوں میں سے ہے جس میں اسلامی عقائدکے بارے میں عقلی طریقے سے بحث کی  گئی ہے اور آغاز کتاب میں منطقی و فلسفی بحثیں بھی بطور اختصار بیان ہوئی ہیں۔
ابو اسحاق ،نو بخت خاندان کے دوسرے مفکرین کی طرح فلسفہ میں بھی استاد و صاحب نظر تھے اور علم کلام میں فلسفی بحثوں کے قواعد وروش سے استفادہ ان کے ایجادات میں سے ہے حالانکہ ان کے بعد یہ طریقہ فخر الدین رازی اورخواجہ نصیر الدین طوسی کے ذریعے آگے بڑھا اور خواجہ نصیرا لدین کے ذریعے اپنے بلند مقام تک پہنچا۔ ان کے زمانے کے سلسلے میں اختلاف ہے لیکن مختلف قرائن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ چوتھی صدی ہجری میں زندگی گزار رہے تھے۔(اس سلسلے میں کتاب خاندان نوبختی یا کتاب انوار الملکوت کے مقدمے جسے محقق کتاب نے لکھا ہے رجوع کیا جاسکتا ہے)
٤۔ سید مرتضیٰ : (ابو القاسم علی بن الحسین بن موسی المعروف سید مرتضیٰ وملقب بہ علم الہدیٰ،٤٣٦ھ۔ ٣٥٥ھ)شیخ مفید کے شاگردوں میں سے او رعلم کلام میں مانے ہوئے  اور بے نظیر استاد تھے ان کے مقام و منزلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ خواجہ نصیر الدین جب بھی مجلس درس میں تذکرہ کرتے تو کہتے: '' صلوات اللہ علیہ''( فلاسفة الشیعہ ،٣٣٩ ) اور علامہ حلّی نے ان کے آثار کی توصیف کرتے ہوئے کہا ہے :'' امامیہ نے سید مرتضیٰ کے زمانے سے آج تک ان کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے ( رجال علامہ ،ص٩٥) اورابو العلاء معرّی نے سید مرتضیٰ سے ملاقات کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ سید کوکیسا پایا؟ تو کہا: اگران کے پاس آتے تو تمام انسانوں کو ایک شخص میں اور زمین کو ایک گھر میں اور زمانے کو ایک لمحے میں پاتے۔
علم کلام کے موضوع پر ان کی مشہور ترین کتابوں میں سے '' الشافی '' (امامت کے موضوع پر)،'' تنزیہ الانبیائ''( پیغمبروں و ائمہ کی عصمت کے سلسلے میں)اور ''الذخیرہ فی اصول الدین '' ہیں سب سے پہلے ''الشافی'' کو جو پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ہے امامت کے موضوع پر قاضی عبد الجبار معتزلی کے اعتراضات کے جواب میں لکھا:'' تنزیہ الانبیائ'' انبیاء و ائمہ کی عصمت کے سلسلے میں شبہات کے جواب میں ہے اور تیسر ی کتاب جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے ، اصول دین کے بارے لکھی گئی ہے۔ ان کے رسالا ت کا مجموعہ تین جلدوں میں ''رسائل الشریف المرتضیٰ'' کے نام سے شائع ہوا ہے ۔
٥۔ شیخ طوسی:( محمد ابن حسن طوسی ،(٤٦٠۔٣٨٥) المعروف شیخ طوسی وشیخ الطائفہ)سید مرتضیٰ کے شاگرد اور مختلف اسلامی علوم و فنون میں علمی تبحر میں یکتائے زمانہ تھے ، علم کلام، فقہ، حدیث ، اصول فقہ، تفسیر، دعا وآداب عبادت میں متعدد تألیفات ہیں جو تمام کی تمام دینی علوم کے مصادر میں شمار ہوتی ہیں ۔ علم کلام میں بہت زیادہ کتابیں لکھیں ہیں جن میں سے ریاضة العقول (علم کلام پر مقدمہ)، تلخیص الشافی، تمہید الاصول، الغیبة، الاقتصاد فی الاعتقاد ( دیکھئے الفہرست شیخ طوسی مقدمے کے ساتھ؛ کتاب معالم العلمائ) اور توحید و عدل قابل ذکر ہیں۔
٦۔ سدید الدین حمصی رازی :( انہوں نے ٥٨٠  سے ٥٩٠   کے درمیان وفات پائی ہے فخر الدین رازی نے ان کے بعض احتجاجات کو آیہ مباہلہ کی تفسیر میں نقل کیا ہے اسی طرح خواجہ نصیر الدین طوسی نے بھی کتاب قواعد العقائد کی اعادہ معدوم کی بحث میں صفر ١٣٣ میں ان کا ذکر کیا ہے)چھٹی صدی ہجری میںزندگی گزاری اور شیعوں کے برجستہ متکلمین میں شمار کئے جاتے ہیں علم کلام میں اہم اور مفید کتاب '' المنقذ من التقلید ''کے نام سے لکھی ۔ اس کے اختتام کی تاریخ ٥٨١  ھ ہے۔
٧۔ خواجہ نصیرا لدین طوسی: (محمد بن محمد بن حسن طوسی(٦٧٢۔٥٩٨) ان کو محقق طوسی نصیر الدین سلطان المحققین ، خواجہ نصیر الدین اور خواجہ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے)یہ ایک برجستہ اسلامی متکلمین میں سے ہیں جو تمام شیعہ و سنی محققین کے نزدیک قابل احترام ہیں ان کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: 
پہلا دور: اسماعیلیوں سے ملاقات سے پہلے جس میں بعض شہروں مثلاً قم و نیشاپور میں تحصیل علم میں مشغول تھے۔
دوسرادور:اسماعیلیوں سے آشنائی و رفت و آمد کادور جو ایک چوتھائی صدی سے زیادہ تھا ایران میں مغولوں کی وجہ سے نا امنی کے سبب خواجہ اسماعیلیوں کے پاس رہے اور ٦٥٣  ھ میں ہلاکوں خان کے ہاتھوں اسماعیلیوں کی شکست تک وہیں رہے مورخین نے اس دور کو قید و زنداں کے دور سے یاد کیا ہے ان کے مطابق اسماعیلی، خواجہ کو ڈرادھمکا کر اپنے پاس لے گئے اور ان سے چاہا کہ ان کی موافقت کریں ۔
شرح اشارات جواسی دور میں لکھی گئی اس کے آخر میں شیخ کی عبارت اسی نظریہ کے تائید کرتی ہے چونکہ انہوںان شرائط کو بہت برے شرائط سے یاد کیا ہے اورمندرجہ ذیل شعر کو انہیں شرائط کو یاد کرتے ہوئے ذکر کیا ہے  
بہ گرداگرد خود چندان کہ بینم

بلا انگشتری ومن نگینم               ( شرح اشارات،ج٣،ص٤٢١۔٤٢٠)
بہر حال اس دورہ میں انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں سے روضة القلوب، رسالة التولی و التبری، تحریر المجسطی ، تحریر اقلیدس ،روضة التسلیم، مطلوب المومنین و شرح اشارات ہیں۔
تیسرا دور: ہلاکو خان مغول کے ہاتھوں اسماعیلیوں کی شکست کادور ہے اس دورمیں انہوں نے مناسب تدبیر کے ساتھ ہلاکوں خان کے نظریات و احساسات کو مکمل طور پر مسخّر کیا اور اس کودین اسلام سے مشرف کیا اس ذ ریعہ سے ہلاکو کے ہاتھوں لوگوں کے قتل عام کو روکا اورعلم و دانش کے پھیلانے اور امامیہ مذہب کے مستحکم کرنے میں تمام پائے جانے والے امکانات کو بروئے کار لائے اوردیکھ بھال کے لئے سپرد کئے گئے اوقاف کے ذریعہ آپ نے علماء کی حمایت اور' 'مراغہ'' کے بڑے رصد خانہ کو تاسیس کرنے کے علاوہ چارلاکھ کتابوں پر مشتمل کتب خانہ کی بنیاد ڈالی۔
خواجہ نصیر الدین طوسی نے اہم کلامی آثار چھوڑے جن میں سے اہم کتاب ''تجرید العقائد'' ہے جو ہراعتبار سے بے سابقہ ہے اسی وجہ سے تمام اسلامی مفکرین نے چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ اس کتاب کو مورد توجہ قرا ر دیا ہے اس کتاب کی بہت زیادہ شرحیں لکھی گئیں اورحاشیہ لگائے گئے۔ '' قواعد العقائد'' بھی علم کلام میں جامع اور مختصر کتاب ہے جس میں زیادہ تر مختلف اسلامی مذاہب کے آرا ء و اقوال کو بیان کیا گیا ہے اگر چہ تمام مسائل میں امامیہ کے نظریے کو بیان کر کے اس کومستحکم کیا ہے اور بعض جگہوں پرمخالف نظریات کو نقد بھی کیاہے لیکن ان کا انتقاد واستدلال کا پہلو ،نقل عقائد ومذاہب کے پہلو سے کم ہی ہے۔ '' تلخیص المحصل'' جو '' نقد المحصل'' کے نام سے بھی مشہور ہے نیز خواجہ کے اہم کلامی آثار میں سے ایک ہے (خواجہ نصیر الدین طوسی کی زندگی اوران کے آثار کے سلسلے میں مزید معلومات کے لئے ''فرق و مذاہب کلامی'' آقای ربانی گلپائگانی،کی طرف مراجع کیاجاسکتا ہے؛مترجم)
٨۔ ابن میثم بحرانی :(کمال الدین میثم علی بن میثم بحرانی (٦٩٩۔٦٣٦ھ) جو علوم معقول ومنقول میں استاد اور صاحب نظر تھے۔ نہج البلاغہ کی مشہور و معروف شرحوں میں سے ان کی پانچ جلدوں پر مشتمل شرح ہے ۔ قواعد المرام فی علم الکلام، ایک اہم کلامی کتاب ہے جو آٹھ قواعد پر تنظیم دی گئی ہے: پہلے قاعدہ میں بعض اہم منظقی بحثوں کا خلاصہ ذکر ہوا ہے ۔ دوسرے قاعدہ میں فلسفہ کے عمومی مسائل سے متعلق دس بحثوں کوذکر کیا گیا ہے تیسرے قاعدہ میں حدوث عالم کو ثابت کیا گیا ہے .چوتھا قاعدہ وجود صانع کی دلیلوں اور خدا کے صفات ثبوتیہ و سلبیہ کی تبیین پر مشتمل ہے۔ پانچویں قاعدہ میں افعال خداوند اورمسئلہ عدل الہٰی سے بحث کی گئی ہے ۔ چھٹا قاعدہ نبوت سے متعلق ہے ۔ ساتواں قاعدہ معاد جسمانی و روحانی کے سلسلہ میں اورآخری یعنی آٹھویں قاعدہ میں امامت کے سلسلے میں بحث ہوئی ہے۔
٩۔علامہ حلّی: (جمال الدین حسن بن یوسف بن علی بن مطہر (٧٢٦۔٦٤٨ھ) علوم نقلی و عقلی میں جامعیت کے اعتبار سے نوادر زمانہ میں شمار ہوتے ہیں آپ کے مقام ومرتبہ کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ کے استاد خواجہ نصیر الدین طوسی نے ان کو تعظیم و ا حترام کے ساتھ یا د کیا ہے اورجب ان سے حلّہ کے مشاہدات منجملہ علامہ حلّی سے ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کو عظیم وماہر مفکر کے عنوان سے یاد کیا ہے ( اعیان الشیعہ،ج٥،ص٣٩٦) علامہ حلّی  نے عقلی ونقلی علوم میں متعدد کتابیں لکھیں ۔ اعیان الشیعہ کے مؤلف نے فقہ،اصول فقہ، کلام ، تفسیر، آداب بحث ، فلسفہ ، حدیث ، رجال، ادبیات اور ادعیہ کے موضوع پر سو سے زیادہ آثار کا ذکر کیا ہے: بعض مشہور کلامی آثار اس طرح ہیں:نہایة المرام فی علم الکلام ، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد ، کشف الفوائد فی شرح قواعد العقائد، نہج المستر شدین فی اصول الدین ، انوار الملکوت فی شرح الیاقوت، کشف الحق ونہج الصدق، منہاج الکرامة فی اثبات الامامة، الالفین، الباب الحادی عشر، الرسالة السعدیة فی الکلام۔
١٠۔ فاضل مقداد: (ابو عبد اللہ مقداد بن عبد اللہ بن محمد بن الحسین بن محمد السیّوری متوفی ٨٢٦ ھ ، سیوری کوفہ و حلّہ کے درمیان فرات کے نزدیک واقع سیوراء شہر سے نسبت کی وجہ سے) مختلف علوم بالخصوص فقہ و کلام میں مشہور شیعہ علماء میںسے ہیں۔ فقہ میں اہم کتابوں میں سے کتاب ،''کنز العرفان فی فقہ القرآن'' آیات الاحکام کے بارے میں اور کتاب ''نضد القواعد الفقہیہ علی مذہب الامامیة'' ہیں ۔ مشہور ترین کلامی کتابوں میںسے : '' ارشاد الطالبین فی شرح نہج المسترشدین'' ،'' اللوامع الالٰہیة فی المباحث الکلامیة'' اور'' النافع یوم الحشر فی شرح باب الحادی عشر '' ہیں، ان کی کلامی کتابوں کی طرف رجوع کرنے سے اس فن میں ان کی مہارت و اضح ہوتی ہے نیز مطالب بیان کرنے میں قدرت ودقت اور اقوال پر تسلط قار ی کومتعجب کرتا ہے۔ ( در آمدی بر علم کلام)