ہفتہ، 4 جون، 2011

مسلمان بھائیوں سے چند سوال


مسلمان بھائیوں سے چند سوال
١۔ آیا خلیفہ معین کرنا اچھاکام ہے ؟!
   اگر اچھا ہے تو آپ کیوں کہتے ہیں کہ پیغمبر  ۖ نے خلیفہ معین نہیں کیا؟!
   اگر براہے تو ابوبکر و عمر نے یہ کام کیوں کیا؟!
٢۔ جب پیغمبر  ۖ نے وقت آخر کہا کہ ''دوات وقلم لے آئو تاکہ تمہارے لئے توشتہ لکھ دوں جس سے ہرگز گمراہ نہ ہو'' (١) تو عمر نے کیوں کہا '' پیغمبر  ۖپر بیماری کا غلبہ ہے کتاب خدا ہمارے لئے کافی ہے'' لیکن جب ابوبکر نے چاہا کہ وصیت لکھیں اس وقت یہ نہیں کہا کہ یہ شخص ہذیان بک رہا ہے ، کتاب خدا ہمارے لئے کافی ہے؟!
٣۔ متقی ہندی نے اس حدیث کو عمر سے نقل کیا ہے کہ عمر نے کہا: '' کسی بھی امت نے اپنے پیغمبر کے بعد آپس میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ ان میں سے باطل گروہ، گروہ حق پر غالب آیا اور کامیاب ہوا (٢)۔ اس حدیث کو مد نظر رکھتے ہوئے سقیفہ کے اختلاف اور ابوبکر و عمر کی کامیابی کی کس طرح توجیہ کریں گے ؟!
٤۔اگر سقیفہ میں بیعت اور خلیفہ معین کرنے کا طریقہ صحیح تھا تو کیوں عمر نے اس کو '' فلتة '' (یعنی ناگہانی اور بغیر سوچا سمجھا  کام) کہا(٣)۔ 
٥۔ اگر کسی کی بیعت بغیر مشورے کے جائز ہے تو کیوں عمر نے قتل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا: '' ا گراس کے بعد سے کسی نے اس طرح کاکام کیاتو بیعت کرنے والا اور جس کی بیعت کی جائے، دونوں قتل کئے جائیں گے '' اور اگرحرام ہے او ر''مہدور الدم'' (جس کا خون بہانا جائز ہو) ہونے کا سبب ہے تو کیوں اس حکم کو سقیفہ کے سلسلے میں جاری نہیں کیا اور جاری نہیں جانا؟!(٤)
٦۔ خلافت کے مسئلے میں اگر پیغمبر اکرم  ۖ ابوبکر یاعمر کو معین کرناچاہتے تھے تو کیوں اپنے آخری وقت میں جبکہ اپنے انتقال کے نزدیک ہونے کی خبر بھی دے چکے تھے، پیغمبر  ۖ کا اصرار تھا کہ یہ لوگ اسامہ کے لشکر میں شریک ہوکر جنگ میں جائیں؟!
٧۔ آپ کہتے ہیںکہ ا بوبکر و عمراس آیت کا مصداق ہیں جس میں ارشاد خداوندی ہے ( وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات یستخلفنہم فی الارض)خدا نے 
اگر ا بوبکر و عمر،پیغمبر  ۖ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اسامہ کے لشکر کے ساتھ شہر سے باہر چلے جاتے تو یقینا کوئی دوسرا خلیفہ ہوتا ۔  گویا پیغمبر  ۖ کے حکم پر عمل نہ کرنا وعدۂ الہی کے انجام پانے کاسبب بنا ہے؟!
٨۔ عقل یہ کہتی ہے لشکر کی سرداری کے لئے طاقتور،بہادر، شجاع اور مدبر شخص کا انتخاب ہونا چاہئے تو کیوں پیغمبر  ۖ نے ان لوگوں کو سردار نہیں بنایا بلکہ اسامہ کو ا ن کا سردار بنایا اور ان لوگوں کو اطاعت گزار؛یعنی پیغمبر  ۖنے ان لوگوں کو سرداری کے لائق نہیں سمجھا؟! پس جو شخص لشکر کی سرداری کے لائق نہ ہو وہ کس طرح پیغمبر  ۖ کی جانشینی کے لائق ہوگا جوایک ا ہم اور انتہائی  بلند عہدہ ہے۔
٩۔ آپ کہتے ہیں کہ حضرت علی  ـ ،خلفا کو مانتے اور ان کو قبول کرتے تھے جبکہ عمر کا کہنا ہے کہ حضرت علی  ـ ہم کو جھوٹا، گنہ گار اوردھوکے باز جانتے ہیں!۔آپ سچ کہتے ہیں یا عمر؟(٥)
١٠۔ خلیفہ دوم نے چھ آدمیوں کو معین کیا اور کہا کہ یہ لوگ اپنے درمیان سے ایک آدمی کو منتخب کریں یعنی ان میں سے ہر ایک مسلمانوں کی قیادت اور پیغمبر   ۖ کی جانشینی کی لیاقت رکھتا ہے!۔ اس کے بعد کہا: اگر ان میںسے کسی نے مخالفت کی تواس کی گردن ماردی جائے گی۔پس جو شخص خلافت کی لیاقت رکھتا ہو وہ کس طرح جائز القتل ہے؟
صحابہ
١۔ ۔آیا صحابی ہونا ایک اختیاری امر ہے ؟! اگر اختیاری نہیں ہے تو کیوں صحابہ کی اہمیت ایک غیر اختیاری امر کی وجہ سے زیادہ بلکہ دوسروں سے چند برابر ہے ؟ !آیا یہ خدا کے حکیم ہونے سے سازگار ہے؟!(٦)
٢۔ صرف پیغمبر  ۖ کو دیکھ لینا کیسا اثر رکھتا ہے کہ جو بھی آپ ۖ کو دیکھ لے، عادل اور ستارہ کی طرح ہدایت کاذریعہ ہوجائے؟
٣۔ آپ کہتے ہیں کہ تمام صحابہ عادل تھے جبکہ بخاری کا کہنا ہے کہ: صحابی ولید بن عقبہ نے شراب پی(٧) ، آیا آپ جھوٹ بول رہے ہیں یا بخاری؟ یا شراب پینا اورخداکی نافرمانی و معصیت ،عدالت کو نقصان نہیں پہنچا تی؟!۔
٤۔ آپ کہتے ہیں کہ خداوند عالم نے صحابہ کے گناہوں مثلا ًجنگ احد سے فرار کو بخش دیا ہے ۔آیا اگرایک قاتل یا جھوٹے اور شرابخور کو خدا بخش دے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ اس نے گناہ ہی نہیں کیا ہے اور ہمیشہ عادل تھا؟!۔ اگرایسا نہیں ہے تو بالفرض خدانے بعض صحابہ کے گناہوں کو بخش دیاہو لیکن یہ بخشش و عفو کس طرح ان کی عدالت کا سبب اوران سے منقولہ تمام چیزوں کے قبول کرنے او ر ان سے منقول چیزوں کے حجت ہونے کا سبب بنے گا؟
٥۔ آپ کہتے ہے کہ تمام صحابہ (یعنی وہ مسلمان جنہوں نے پیغمبر  ۖ کو دیکھا ہے) سچے تھے اور پیغمبر  ۖسے مروی ان کی تمام روایتوں کو بغیر تحقیق و بررسی کے قبول کرتے ہیں جبکہ قرآن کہتا ہے کہ بعض مسلمانوں (اصحاب) نے پیغمبر  ۖ کی بیوی کی طرف ناجائز تعلقات کی نسبت دی!(٨)آیا صحابہ کا وہ گروہ سچاتھا یاجھوٹا؟!
٦۔ قرآن کہتا ہے : اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو(٩) ''آپ کے مفسرین و محدثین لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس جھوٹ کی وجہ سے نازل ہوئی جسے ولید بن عقبہ (صحابی) نے پیغمبر  ۖسے بولا(١٠) ۔کیا ولید بن عقبہ کے جھوٹے ہونے کومانتے ہیں؟ یا اپنے مفسرین و محدثین کو جھوٹا جانتے ہیں؟ !یا یہ کہیں گے کہ تما م صحابہ سچے تھے معاذ اللہ قرآن ...؟!
٧۔آپ کہتے ہیں کہ پیغمبر  ۖ نے فرمایا: ''اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم'' میرے اصحاب ستاروں کے مثل ہیں، جس کی پیروی کرو ہدایت پائو گے۔اور صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ ولید بن عقبہ صحابی تھا اوراس نے شراب پی عثمان نے حکم دیا اور اس کو اسی کوڑے لگائے گئے(١١)۔میں سوال کرتا ہوں کہ آیا آپ کی نظر میں کوئی اس کی پیروی کرتے ہوئے شراب پئے تو کیا وہ ہدایت یافتہ ہے؟
٨۔ (سوال نمبر ٧ کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے) صحابی خالد بن ولید نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا اور اسی رات ان کی زوجہ کے ساتھ زنا کیا(١٢)۔آپ کی نظر میں آیا اگر کوئی اس کی اقتدا کرتے ہوئے لوگوں کی عورتیں کے ساتھ زنا کرے تو کیا وہ ہدایت یافتہ ہے؟!
٩۔(سوال٧ کی روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے) قرآن کریم سورہ ٔ جمعہ میں فرماتا ہے : بعض صحابہ نماز جمعہ چھوڑ کر لہو و لعب میں پڑگئے اور پیغمبر  ۖ کو تنہا چھوڑ دیا(١٣)۔ آیا اگر مسلمان ان کی اقتدا کرتے ہوئے نماز جمعہ کے بجائے لہو ولعب (ناج گانے) میں پڑے تو کیا وہ ہدایت یافتہ ہے؟!۔
١٠۔ (سوال ٧ کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے) قرآن کہتا ہے:جنگ احد (اور جنگ حنین) سے بعض اصحاب نے فرار اختیا رکی، پیغمبر  ۖ پکارتے رہے لیکن ان لوگوں نے توجہ نہیں کی (١٤)تو اگرکوئی ان کی اقتدا کرتے ہوئے جنگ وجہاد سے فار کرے تو کیا آپ کی نظر میں وہ ہدایت یافتہ ہے؟
١١۔ (سوال نمبر٧ کے پیش نظر) سعد بن عبادہ جن کا شمارہ بزرگ اصحاب میں ہوتا ہے انہوں نے ہر گز ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ابوبکر کو خلیفہ نہیں سمجھتے  تھے(١٥)۔ لہذا جو لوگ ابوبکر کی خلافت کو نہیںمانتے ان کو آپ سعد بن عبادہ کا پیرو اورہدایت یافتہ کیوں نہیں مانتے ہیں؟
١٢۔ (سوال نمبر ٧ کی روایت کے مطابق) صحیح بخاری میں ہے کہ،بعض اصحاب نے آپس میں اختلاف و جھگڑا کیا اور جوتے ،چپل، لاٹھی ، ڈنڈے لے کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے (١٦) ۔آج اگر مسلمان آپس میں  ایک دوسرے پر لاٹھی ڈنڈے لے کر ٹوٹ پڑیں تو کیا ہدایت یافتہ ہیں؟!
صحابہ پر لعنت اور ان کو برا بھلا کہنا
١٣۔ (حدیث ''اصحابی کالنجوم'' کومدنظر رکھتے ہوئے) عمرنے اہل بدر کے صحابی حاطب ابن ابی بلتعہ کو برا بھلا اورمنافق کہا(١٧)۔ لہٰذا اصحاب کو برا بھلا کہنا عمر کی پیروی ہے اس لئے کہ وہ بھی صحابی تھے اور ان کی پیروی ہدایت کا سبب ہے !!
١٤۔ صحابیہ اور مومنین کی ماں عائشہ نے خلیفہ سوم اور صحابی، عثمان کی توہین کی اور ان کو ''نعثل'' کہا (١٨)مقصد جو بھی رہا ہو برا بھلا کہنا شمار ہوگا۔
لہٰذا ام المومنین عائشہ کی پیروی کرتے ہوئے عثمان کو برا بھلا کہنا راہ ہدایت ہے !!
١٥۔صحابیہ عائشہ ،معاویہ کے ذریعہ اپنے بھائی محمد ابن ابی بکر کے قتل کے بعد ہر نماز کے بعد معاویہ کو نفرین کرتی تھیں (١٩) لہذا معاویہ کی نفرین، عائشہ کی اقتدا اور ہدایت کا سبب ہے!۔
١٦۔صحیح مسلم نے عائشہ سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر  ۖ نے دو صحابیوں پر نفرین کی (٢٠)  پیغمبر  ۖ کے ذریعہ اصحاب کی نفرین کے پائے جانے کے باوجود کیا اب بھی آپ اصحاب پر لعنت جو ایک طرح کی نفرین ہے، بڑا گنا ہ اور کفر اور مہد ورالدم ہونے کاسبب ہے؟
حواشی
١۔ عمر نے کہا: ان النبی ۖ غلبہ الوجع وعندنا کتاب اللہ حسبنا، صحیح بخاری، کتاب العلم باب کتابة ا لعلم۔
٢۔ ما اختلفت الا مة بعد نبیہا الا ظہر اہل باطلہا علی اہل حقہا۔ کنز العمال،ج١،ص٢٨٣، حدیث ٩٢٩؛ کتاب ''الاعتصام بالکتاب والسنة''۔
٣۔٤۔  صحیح بخاری ، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی من الزنا،ج٨،ص٥٨٥، ایک طولانی حدیث کے ضمن میں۔
٥۔ صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب الفیٔ، ایک طولانی حدیث کے ضمن میں۔
٦۔ عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ ]وآلہ[ وسلم: لاتسبوا اصحابی  فلو ان احدکم انفق مثل اُحُدٍ ذہبًا مابلغ مُدّ أحدہم و لا نصیفہ۔
صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی   ۖ  باب قول النبی  ۖ ولوکنت متخذا خلیلا قالہ ابوسعید ، ج٥،ص٦٧ و صحیح مسلم کتاب فضائل ا لصحابہ، باب تحریم سب الصحابہ رضی اللہ عنہم، ج٤،ص١٩٦٧۔
٧۔ صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی  ۖ، باب مناقب عثمان بن عفان،ج٥،ص٧٥، طبع دار القلم، بیروت۔
٨۔ ارشاد خداوندی: ( ان الذین جاؤا بالافک عسبة منکم) (سورہ نور١١)؛ صحیح بخاری، کتاب الشہادة،باب تعدیل النساء بعضھم بعضا۔
٩۔( یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ِنْ جَاء َکُمْ فَاسِق بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا)حجرات:٦۔
١٠۔روح المعانی میں آلوسی نے آیہ شریفہ کے ذیل میں احم، ابن ابی الدنیا ،الطبرانی ،ابن مندہ اور ابن مردیہ سے ایک حدیث اسی معنی میں نقل کی ہے۔ج١٦،ص١٤٤۔
١١۔ صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی   ۖ، با مناقب عثمان بن عفان، ج٥، ص٧٥، عثمان اس سلسلے میں کہتے تھے:(اماماذکرت من شأن الولید فسنأخذ فیہ بالحق ان شاء اللہ ثم دعا علیًّا فامرہ ان یجلدہ فجلدہ ثمانین۔ فتح الباری میں اسی حدیث کی شرح میں لکھا ہے''شرب الولید خمرً ا فصلی الصبح اربع رکعات'' کہ ولید نے شراب پی اور اسی شراب کی حالت میں صبح کی نماز چار رکعت پڑھائی۔
١٢۔الکامل فی التاریخ: حوادث سنة ١١ ، حدیث السقیفة وخلافة ابی بکر،ج٢،ص٣٥٩، ذکر مالک بن نویرہ (٣٥٩٢): اسد الغابة، شرح حال مالک بن نویرہ اورالاصابہ۔
تمہاری نظر میں ہدایت یافتہ ہے؟
١٣۔قال اللہ تعالیٰ:(وَِذَا رََوْا تِجَارَةً َوْ لَہْوًا انفَضُّوا ِلَیْہَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اﷲِ خَیْر مِنْ اﷲْوِ وَمِنْ التِّجَارَةِ وَاﷲُ خَیْرُ الرَّازِقِینَ )۔جمعہ:١١۔
١٤۔ قال اللہ تعالیٰ: (ِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَتَلْوُونَ عَلَی َحَدٍ وَالرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ فِی ُخْرَاکُمْ فََثَابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِکَیْلاَتَحْزَنُوا عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلاَمَا َصَابَکُمْ وَاﷲُ خَبِیر بِمَا تَعْمَلُونَ  ) سورہ آل عمران :١٥٣۔
١٥۔ عسقلانی نے اپنی کتاب'' الاصابة فی تمییز الصحابة ''میں لکھا ہے کہ ''قصتہ فی تخلفہ عن بیعة ابی بکر مشہورة'' سعد کا ابوبکر کی بیعت نہ کرنے کا واقعہ مشہور و معروف ہے۔،ج٣،ص٨٠؛ الکامل فی التاریخ ،حوادث سنة ١١، حدیث السقیفة و خلافة ابی بکر،ج٢،ص٣٣١۔
١٦۔ صحیح بخاری ، کتاب الصلح ، باب ماجا ء فی الاصلاح بین الناس ، حدیث نمبر ١ و ٢، ج٣، ص ٦٠۔
١٧۔ اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ، ابن اثیر،ترجمہ حاطب بن ابی بلتعہ،ج١،ص٣٦١؛ صحیح مسلم۔
١٨۔ تاریخ طبری، حوادث سنة ٣٦؛ قول عائشہ رضی اللہ عنہا ۔ واللہ لا طلبن بدم عثمان، ج٣، ص٤٧٦۔
١٩۔ الکامل فی التاریخ۔ حوادث سنة٣٨؛ ذکر ملک عمر و بن العاص،ج٣،ص٣٥٧۔
٢٠۔ صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والآداب؛ من لعنہ النبی  أوسبّہ اودعا علیہ،حدیث اول،ج٤، ص٢٠٠٧۔
سید محمد حسنین باقری
(بااستفادہ از استاد توحیدی دامت برکاتہ)







اخلاقی نکات


بعض اخلاقی نکات 
آیة اللہ اشتہاردی۔قم
رفتار و گفتار میں تامل:
مراقبت و مواظبت کے معنی یہ ہیں کہ انسان جو بات بھی کرے اس میں تأمل اور غور وفکر کرے ، ہر شخص خود اپنا حساب و کتاب جانتا ہے ، '' بل الانسان علی نفسہ بصیرة'' ماہ مبارک رمضان کے آثار میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دیکھے اس مہینے کے بعد بہتر ی آئی یا نہیں؟ اگر وہ بری صفات جو ماہ رمضان سے پہلے تھیں اب وہ صفتیں اس مہینے کی برکت کی وجہ سے نہیں ہیں تو خدا کا شکر ہے کہ ماہ رمضان نے اس میں اثر کیا ہے ، امام خمینی نے فرمایا ہے : بعض لوگ ائمہ یا امام زادوں کے روضوں میں جاتے ہیں اور گریہ کرتے ہیں اگرروضہ سے باہر آنے کے بعد اس میں بہتری پیدا ہوتو وہ گریہ کا اثر ہے یعنی گریہ اس لئے ہو کہ میں نے ایک عمر ترقی نہیں کی اگر ایسا نہ ہوتو یہ رونامصنوعی ہے۔
دنیاوی زندگی کی اہمیت:
 تمام نیکیوںاور برکتوں کا محور زندگی ہے اور اس صورت میں انسان اپنے کو کامل کرسکتاہے اور کمالات حاصل کرسکتا ہے لہذ زندہ رہنے کی توفیق کی وجہ سے ذات الہی کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اگرچہ زندگی میں بہت سے خطرات ہیں اور سب سے بڑا خطرہ گذشتہ اعمال کا محو ہوجانا ہے ، یہ ایک اہم مطلب ہے کہ انسان خیال رکھے کہ کہیں گذشتہ میں انجام دیئے ہوئے نیک اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔
عمل میں اخلاص:
 انسان کو متوجہ رہنا چاہئے اور اپنے اعمال و عبادات کو دوسروں کے لئے انجام نہ دے قصد قربت کا مسئلہ بہت ہی مشکل ہے اور اس کو باقی رکھنا مشکل تر ہے ، جن لوگوں نے تبلیغ دین کی ہے اگر کسی کی ہدایت کی ہے ، کوئی نیک کام انجام دیاہے ، مسجد و امام باڑہ بنایا ہے یا کچھ لوگوں کو دیندار اور نماز خوان بنایا ہے  ... تو ضروری نہیں کہ ان باتوں کو دوسروں کے سامنے پیش کریں ، خد اکے تمام احکام و فرامین کو خلوص نیت کے ساتھ انجام دینا چاہئے ۔
طہارت کا استمرار:
ابتدائے جوانی میں خدا کی طرف توجہ بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے کہ نہ کسی سے دشمنی ہوتی ہے ، نہ غرور و گھمنڈ ہوتا ہے اور نہ زیادہ آرزوئیں ، پاک و صاف ہوتا ہے لیکن جب لوگوں کے درمیان آتا ہے اس وقت بخل، کینہ ، حسد ، غیبت اور بہتان وغیرہ پیدا ہوتا ہے ، یہ تمام کا م شیطانی ہیں ،خودسازی کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے ۔تعلیم کے وقت بھی اور دوسرے تک کوئی بات پہنچاتے وقت بھی، شیطان علماء اور صلحاء سے زیادہ سر وکار رکھتا ہے ، ناجائز راستوں کو جائز پیش کرتاہے ، خداوند عالم بھی ا ہل علم کو ہر اعتبار سے زیادہ مورد امتحان قرار دیتا ہے اور علماء دوسروں کے مقابلہ زیادہ الٰہی امتحان سے روبرو رہتے ہیں امام خمینی کہا کرتے تھے : بعض حضرات منبر پر جاتے ہیں اچھی تقریر کرتے ہیں لیکن قیامت میں ان کوکوئی بدلہ نہیں ملے گا ،کہا جائے گا کہ تم لوگوں کے لئے منبر پر گئے ،تم نے لوگوں کے لئے مجلسیں پڑھیں ، انہوںنے تمہاری تعریف کی ، واہ واہ کی اب ہم سے کیا چاہتے ہو؟!
لہذا توجہ رکھئے ایسا نہیں ہے کہ جو بھی دینی تعلیم کی طرف آتا ہے وہ خدا کے لئے درس پڑھتا ہے  یا جو بھی منبر پر جاتا ہے وہ خدا کے لیے جاتا ہے۔
زندگی میں حضور: 
اس بات کی طرف توجہ رکھئے کہ کبھی بھی اپنے کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھئے ، اگر تبلیغ کے لئے کہیں گئے تو اپنے کو تمام لوگوں سے نیچا تصور کیجئے ، خدا وند عالم نے جناب موسیٰ سے خطاب کیا: اے موسیٰ! میری سب سے بری مخلوق کو میرے پاس لاؤ، جناب موسیٰ نے بہت زیادہ تلاش و جستجو کے بعد حتیٰ ایک مرا ہو ا کتا لانے سے بھی اجتناب کیا اور آخر میں خدا وند عالم کے سامنے عرض کیا : خدایا! میں نے اپنے سے برا کسی کو نہ پایا۔ میرزائے شیرازی  سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا کام کیا جس کی وجہ سے اس عظیم درجہ پر فائز ہوئے اور ایک دستخط کے ذریعہ استعمار کو شکست دیدی ؟ انہوںنے جواب دیا: میں نے کبھی بھی اپنے کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھا۔
درس آموز نکات:
پیغمبر اکرم  ۖ نے فرمایا: کوے سے تین چیزیںسیکھو، ایک پوشیدگی جو کنایہ ہے غیرت و عفت کا ، دوسرے یہ کہ کوے طلوع آفتاب سے پہلے جگتے ہیں ، بہتر ہے کہ انسان جو کام بھی انجام دینا چاہے صبح تڑکے شروع کرے ، نیند چھوڑ کراپنا کام شروع کرے ،درس میں حاضر ہو ، پیغمبر نے تیسری چیز بیان کی جسے کوے سے سیکھنا چاہئے وہ حذرہ ہے یعنی کوا جیسے ہی دیکھتا ہے کہ کوئی زمین کی طرف جھکا تووہ فورا ًفرار کرتا ہے کہ کہیں وہ پتھر نہ اٹھائے اور مارنہ دے ، حذر کرتا ہے یعنی احتیاط کرتاہے ضروری نہیں کہ انسان سو فیصدی یقین کرے کہ فلاں چیز حرام ہے ، دیندار وہ شخص ہے کہ جب بات کرنا چاہئے تو اگر خوف ہو کہ غیبت ہوگی ، نہ کہے اور کچھ اپنے نفس کو لگام دے ۔
توبہ سے بہتر ہے گناہ نہ کرنا:
اگر انسان گناہان کبیرہ کو ترک نہ کرے تو گناہان صغیرہ بھی لکھ لئے جاتے ہیں لیکن اگر کبائر کو ترک کرے تو صغائر کو بھی خداوند عالم بخش دیتا ہے جس طرح سے سر پر ہتھوڑا مارناجائز نہیں ہے اسی طرح جھوٹ بولنا بھی جائز نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بدتر ہے ، اس لئے کہ یہ علاج کے ذریعہ صحیح ہوجاتا ہے لیکن جھوٹ کے لئے توبہ کی ضرورت ہے اور توبہ کے بعد بھی اس کے اثرات ہیں ، امام خمینی اس سلسلے میں مثال دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : دو نئے لباس تصور کیجئے ، ایک کو پہن کر دھو چکے ہیں اور دوسرا پہنا نہیں گیا ہے ، کوئی بھی گندا نہیں ہے پھر بھی آپس میںفرق ہے ، توبہ بھی دھونے کی طرح ہے انسان ممکن ہے کہ کام کرے کہ اس کا لباس زیادہ گندا نہ ہو، اگر زیادہ گندا ہوجائے تو اس کا دھونا اور صاف کرنا بہت ہوجاتا ہے ۔ (ترجمہ: محمد حسنین باقری۔از: افق حوزہ قم )

جمعہ، 3 جون، 2011

پردہ کیوں؟!



پردہ کیوں؟!
دور حاضر کو بعض بزعم خود ترقی یافتہ لوگوں نے عریانیت اور جنسی آزادی کا زمانہ قرار دیا ہے، اور مغرب نواز لوگوں نے اس کو عورتوں کی آزادی کا ایک حصہ قرار دیا ہے، لہذا ایسے لوگ پردہ کی باتوں کو سن کر منہ بناتے ہیں اور پردہ کو گذشتہ زمانہ کا ایک افسانہ شمار کرتے ہیں۔
لیکن اس آزادی اور بے راہ روی سے جس قدر فسادات اور برائیاں بڑھتی جارہی ہیں اتنا ہی پردہ کی باتوں پر توجہ کی جارہی ہے۔
 اسلامی اور مذہبی معاشرہ میں بہت سے مسائل حل ہوچکے ہیں اور بہت سے سوالات کا اطمینان بخش جواب دیا جا چکا ہے، لیکن چونکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے لہذا اس مسئلہ پربحث و گفتگو کی ضرورت ہے۔
 مسئلہ یہ ہے کہ (بہت ہی معذرت کے ساتھ)کیا عورتوں سے (ہمبستری کے علاوہ) سننے ، دیکھنے اور لمس کرنے کی دوسری لذتیں تمام مردوں کے لئے ہیں یا صرف ان کے شوہروں سے مخصوص ہیں؟!
 بحث اس میں ہے کہ عورتیں اپنے جسم کے مختلف اعضا کی نمائش کے مقابلہ میں جوانوں کی شہوتوں کو بھڑکائیںاور آلودہ مردوں کی ہوس کا شکار بنیں یا یہ مسائل شوہروں سے متعلق ہیں؟!
 اسلام اس دوسری قسم کا طرفدار ہے ، اور حجاب کو اسی لئے قرار دیا ہے، حالانکہ مغربی ممالک اور مغرب نواز لوگ پہلے نظریہ کے قائل ہیں۔
 اسلام کہتا ہے کہ جنسی لذت اور دیکھنے ، سننے اور چھونے کی لذت شوہر سے مخصوص ہے اوریہ کام دوسرے کے لئے گناہ، آلودگی اور معاشرہ کے لئے ناپاکی کا سبب ہے۔
 فلسفۂ حجاب کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز نہیں ہے، کیونکہ:
 بے پردہ عورتیں معمولا بنا ؤسنگار اور دیگر زرق و برق کے ذریعہ جوانوں کے جذبات کو ابھارتی ہیں جس سے ان کے احساسات بھڑک اٹھتے ہیں اور بعض اوقات نفسیاتی امراض پیدا ہوجاتے ہیں،انسان کے احساسات کتنے ہیجان آور وزن کو برداشت کرسکتے ہیں؟ کیا نفسیاتی ڈاکٹر یہ نہیں کہتے کہ ہمیشہ انسان میں ہیجان سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
 خصوصا جب یہ بھی معلوم ہو کہ جنسی غریزہ انسان کی سب سے بنیادی فطرت ہوتی ہے جس کی بنا پر تاریخ میں ایسے متعددخطر ناک حوادث اور واقعات ملتے ہیں جس کی بنیاد یہی چیز تھی،یہاں تک بعض لوگوں کا کہنا ہے: ''کوئی بھی اہم واقعہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ اس میں عورت کا ہاتھ ضرور ہوگا''!
 ہمیشہ بازاروںاور گلی کوچوں میں عریاں پھر کر احساس کو بھڑکانا؛ کیا آگ سے کھیلنا نہیں ہے؟ اور کیا یہ کام عقلمندی ہے؟!
 اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ مسلمان مرد اور عورت چین و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں اور ان کی آنکھیں اور کان غلط کاموں سے محفوظ رہیں اور اس لحاظ سے مطمئن طور پر زندگی بسر کریں، پردہ کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے۔
 مستند اور قطعی رپورٹیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ دنیا بھر میں جب سے بے پردگی بڑھی ہے اسی وقت سے طلاقوں میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، کیونکہ ''ہر چہ دیدہ بیند دل کند یاد'' انسان جس کا عاشق ہوجاتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے لہذا انسان ہر روز ایک دلبرکو تلاش کرتا ہے تو دوسرے کو الوداع کہتا ہوا نظر آتا ہے۔
 جس معاشرہ میں پردہ پایا جاتا ہے اور اسلامی دیگر شرائط کی رعایت کی جاتی ہے اس میں یہ رشتہ صرف میاں بیوی میں ہوتا ہے ان کے احساسات، عشق اور محبت ایک دوسرے کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔
 لیکن ''اس آزادی کے بازار'' میں جبکہ عورتیں ؛ عملی طور پر ایک سامان کی حیثیت رکھتی ہیں کم از کم جنسی ملاپ کے علاوہ تو پھر ان کے لئے میاں بیوی کا عہد و پیمان کوئی مفہوم نہیں رکھتا، اور بہت سی شادیاں مکڑی کے جالے کی طرح بہت جلد ہی جدائی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں، اور بچے بے سر پرست ہوجاتے ہیں۔
 فحاشی کا اس قدر عام ہوجانا اور نا جائز اولادیں پیدا ہونا؛ بے پردگی کے نتیجہ کا ایک معمولی سا درد ہے، جس کے بارے میں بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ مسئلہ خصوصا مغربی ممالک میں اس قدر واضح ہے جس کے بارے میں بیان کرناسورج کو چرا غ دکھاناہے، سبھی لوگ اس طرح کی چیزوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ سے سنتے رہتے ہیں۔
 ہم یہ نہیں کہتے کہ فحاشی اور نا جائز بچوں کی پیدائش کی اصل وجہ یہی بے حجابی ہے،ہم یہ نہیں کہتے کہ مغربی ماحول اور غلط سیاسی مسائل اس میں موثر نہیں ہے، بلکہ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ عریانیت اور بے پردگی اس کے موثر عوامل اور اسباب میں سے ایک ہے۔
 فحاشی اور ناجائز اولاد کی پیداوار کی وجہ سے معاشرہ میں ظلم و ستم اور خون خرابہ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر اس خطرناک مسئلہ کے پہلو واضح ہوجاتے ہیں۔
 جس وقت ہم سنتے ہیں کہ ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں ہر سال پانچ لاکھ بچے ناجائز طریقے سے پیدا ہوتے ہیں، اور جب ہم سنتے ہیں کہ انگلینڈ کے بہت سے دانشوروں نے حکومتی عہدہ داروں کو یہ چیلنج دیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک کی امنیت کو خطرہ ہے انھوں نے اخلاقی اور مذہبی مسائل کی بنیاد پر یہ چیلنج نہیں کیا ہے بلکہ صرف اس وجہ سے کہ ناجائز بچے معاشرہ کے امن و امان کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عدالت کے مقدموں میں اس طرح کے افراد کا نام پایا جاتا ہے، تو واقعا اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ دین و مذہب کو بھی نہیں مانتے ،اس برائی کے پھیلنے سے وہ بھی پریشان ہیں، لہذامعاشرہ میں جنسی فساد کو مزید پھیلانے والی چیزمعاشرہ کی امنیت کے لئے خطرہ شمار ہوتی ہے اور اس کے خطر ناک نتائج ہر طرح سے معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہیں۔
تربیتی دانشوروں کی تحقیق بھی اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جن کالجوں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے ہیں یا جن اداروں میں مرد اور عورت ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کو ہر طرح کی آزادی ہے تو ایسے کالجوں میں پڑھائی کم ہوتی ہے اور اداروں میں کام کم ہوتا ہے اور ذمہ داری کا احساس بھی کم پایا جاتا ہے۔
 بے پردگی اور عریانیت عورت کی عظمت کے زوال کا بھی باعث ہے، اگر معاشرہ عورت کو عریاں بدن دیکھنا چاہے گا تو فطری بات ہے کہ ہر روز اس کی آرائش کا تقاضا بڑھتا جائے گا اور اس کی نمائش میں اضافہ ہوتا جائے گا، جب عورت جنسی کشش کی بنا پر ساز و سامان کی تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی ، انتظار گاہوںمیں دل لگی کا سامان ہوگی اور سیاحوں کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی تو معاشرہ میں اس کی حیثیت کھلونے یا بے قیمت مال و اسباب کی طرح گرجائے گی، اور اس کے شایانِ شان انسانی اقدار فراموش ہوجائیں گے، اور اس کا افتخار صرف اس کی جوانی، خوبصورتی اور نمائش تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔
 اس طرح سے وہ چند ناپاک فریب کار انسان نما درندوں کی سر کش ہواو ہوس پوری کرنے کے آلہء کار میں بدل جائے گی!۔
 ایسے معاشرہ میں ایک عورت اپنی اخلاقی خصوصیات، علم و آگہی اور بصیرت کے جلووں کو کیسے پورا کرسکتی ہے اور کوئی بلند مقام کیسے حاصل کرسکتی ہے؟!
 واقعا یہ بات کتنی تکلیف دِہ ہے کہ مغربی اور مغرب زدہ ممالک میں عورت کا مقام کس قدر گرچکا ہے۔ بعض ملکوں میںحالت یہ ہے کہ نام، شہرت، دولت اور حیثیت ان چند ناپاک اور بے لگام عورتوں کے لئے ہے جو ''فنکار'' اور آرٹسٹ کے نام سے مشہور ہیں ، جہاں وہ قدم رکھتی ہیں اس گندے ماحول کے ذمہ دارافراد ان کے لئے آنکھیں بچھاتے ہیں اور انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔
اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں تبدیلی آئی اور آج وہاں عورتوں نے کسی حد تک اپنا مقام حاصل کرلیا اور اس دور سے نکل آئیں جس میں انھیں رسوا کردیا گیا تھا، جہاں وہ ثقافتی کھلونے اور بے قیمت ساز و سامان بن کر رہ گئی تھیں، اب انھوں نے اپنا مقام و وقار دوبارہ حاصل کرلیا ہے اور اپنے کو پردہ سے ڈھانپ لیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ گوشہ نشین ہوگئی ہوں، بلکہ معاشرہ کے تمام مفید اور اصلاحی کاموں میں یہاں تک کہ میدان جنگ میں اسی اسلامی پردے کے ساتھ بڑی بڑی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
حجاب کے مخالفین کے اعتراضات:
ہم یہاں پر حجاب کے مخالفین کے اعتراضات کو بیان کرتے ہیں اور مختصر طور پر ان کے جوابات بھی پیش کرتے ہیں:
 حجاب کے مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ معاشرہ میں تقریبا نصف عورتیں ہوتی ہیں لیکن حجاب کی وجہ سے یہ عظیم جمعیت گوشہ نشین اور طبعی طور پر پسماندہ ہوجائے گی ، خصوصا جب انسان کو کاروبار کی ضرورت ہوتی ہے اور انسانی کار کردگی کی ضرورت ہوتی ہے، تو اگر عورتیں پردہ میں رہیں گی تو اقتصادی کاموں میں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا، نیز ثقافتی اور اجتماعی اداروں میں ان کی جگہ خالی رہے گی! اس طرح وہ معاشرہ میں صرف خرچ کریں گی اور معاشرہ کے لئے بوجھ بن کر رہ جائیں گی۔
 لیکن جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے وہ چند چیزوں سے غافل ہیں یا انھوںنے اپنے کو غافل بنا لیا ہے، کیونکہ:
 پہلی بات : یہ کون کہتا ہے کہ اسلامی پردہ کی وجہ سے عورتیں گوشہ نشین اور معاشرہ سے دور ہوجائیں گی؟ اگر گزشتہ زمانہ میں اس طرح کی دلیل لانے میں زحمت تھی تو آج ایران کے اسلامی انقلاب نے ثابت کر دکھایا ہے کہ عورتیں اسلامی پردہ میں رہ کر بھی معاشرہ کے لئے بہت سے کام انجام دے سکتی ہیں، کیونکہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خواتین ؛اسلامی پردہ کی رعایت کرتے ہوئے معاشرہ میں ہر جگہ حاضر ہیں، اداروں میں، کار خانوں میں، سیاسی مظاہروں میں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں، ہسپتالوں میں، کلینکوں میں، خصوصا جنگ کے دوران جنگی زخمیوں کی مرہم پٹی اور ان کی نگہداشت کے لئے، مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں، دشمن کے مقابلہ میں میدان جنگ میں، خلاصہ ہر مقام پر عورتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
 مختصر یہ کہ ایران کے موجودہ حالات خوداس اعتراض کا دندان شکن جواب ہیں، اگرچہ ہم گزشتہ زمانہ میں ان جوابات کے لئے ''امکان'' کی باتیں کرتے تھے یعنی عورتیں پردہ میں رہ کر کیا اجتماعی امور کو انجام دے سکتی ہیں،لیکن آج کل یہ دیکھ رہے ہیں، اور فلاسفہ کا کہنا ہے کہ کسی چیز کے امکان کی دلیل خود اس چیز کا واقع ہونا ہے، یہ بات خود آشکار ہے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 دوسری بات: اگر ان چیزوں سے قطع نظر کریں تو کیا عورتوں کے لئے گھر میں رہ کر بچوں کی تربیت کرنا اور ان کو آئندہ کے لئے بہترین انسان بنانا تاکہ معاشرہ کے لئے بہترین اور مفید واقع ہوں، کیا یہ ایک بہتر ین اور مفید کام نہیں ہے؟
 جو لوگ عورتوں کی اس ذمہ داری کو مثبت اور مفید کام نہیں سمجھتے، تو پھر وہ لوگ تعلیم و تربیت، صحیح و سالم اور پر رونق معاشرہ کی اہمیت سے بے خبر ہیں، ان لوگوں کا گمان ہے کہ مردو عورت مغربی ممالک کی طرح اداروں اور کارخانوں میں کام کرنے کے لئے نکل پڑیں اور اپنے بچوں کو شیر خوار گاہوں میں چھوڑ دیں، یا کمرہ میں بند کرکے تالا لگا دیا جائے اور ان کو اسی زمانہ سے قید کی سختی کا مزا چکھادیں۔
 وہ لوگ اس چیز سے غافل ہیں کہ اس طرح بچوں کی شخصیت اور اہمیت درہم و برہم ہوجاتی ہے، بچوں میں انسانی محبت پیدا نہیں ہوتی،جس سے معاشرہ کو خطرہ در پیش ہوگا۔
 پردہ کے مخالفین کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ پردہ کے لئے برقع یا چادر کے ساتھ اجتماعی کاموں کو انجام نہیں دیا جاسکتا خصوصا آج جبکہ ماڈرن گاڑیوں کا دور ہے، ایک پردہ دار عورت اپنے کو سنبھالے یا اپنی چادر کو ، یا اپنے بچہ کو یا اپنے کام میں مشغول رہے؟!۔
 لیکن یہ اعتراض کرنے والے اس بات سے غافل ہیں کہ حجاب ہمیشہ برقع یاچادر کے معنی میں نہیں ہے بلکہ حجاب کے معنی عورت کا لباس ہے اگر چادر سے پردہ ہوسکتا ہو تو بہتر ہے ورنہ اگر امکان نہیں ہے تو صرف اسی لباس پر اکتفا کرے یعنی صرف اسکارف کے ذریعہ اپنے سر کے بال اور گردن وغیرہ کو چھپائے رکھیں۔
ایران کے دیہی علاقوں کی عورتوں نے زراعتی کاموں میں اپنا پردہ با قی رکھتے ہو ئے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ ایک بستی کی رہنے والی عورت اسلامی پردہ کی رعایت کرتے ہوئے بہت سے اہم کام بلکہ مردوں سے بہتر کام کرسکتی ہیں، اور ان کا حجاب ان کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
 ان کا ایک اعتراض یہ ہے کہ پردہ کی وجہ سے مرد اور عورت میں ایک طرح سے فاصلہ ہوجاتا ہے جس سے مردوں میں دیکھنے کی طمع بھڑکتی ہے، اور ان کے جذبات مزید شعلہ ور ہوتے ہیں کیونکہ ''الانسان حرِیص علی ما منِع''! جس چیز سے انسان کو روکا جاتا ہے اس کی طرف مزید دوڑتا ہے؟
 اس اعتراض کا جواب یا صحیح الفاظ میں یہ کہا جائے کہ اس مغالطہ کا جواب بھی ایران ہی کو سامنے رکھتے ہوئے دیا جاسکتا ہے کہ آج وہاں کے معاشرہ کا شاہ کے زمانہ سے موازنہ کیا جائے تو آج وہاں ہر ادارہ میں پردہ حکم فرما ہے، اور شاہ کے زمانہ میں عورتوں کو پردہ کرنے سے روکا جاتا تھا۔
 اس زمانہ میں ہر گلی کوچہ میں فحاشی کے اڈے تھے، گھروں میں بہت ہی عجیب و غر یب ماحول پایا جاتا تھا، طلاق کی کثرت تھی ناجائز اولادوں کی تعداد زیادہ تھی، وغیرہ وغیرہ۔
  ہم یہ نہیں کہتے کہ اب یہ تمام چیزیں بالکل ختم ہوگئی ہیں لیکن بے شک اس میں بہت کمی واقع ہوئی ہے،وہاں کے معاشرہ میں بہت سدھار آیا ہے ۔



قرآن کریم اور ہماری ذمہ داریاں


قرآن کریم اور ہماری ذمہ داریاں
قرآن کے سلسلے میں ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے اور قرآن کے درمیان کافی فاصلہ ہے۔ اس فاصلے کو کم کرنا چاہیے ،پچھڑے پن کی تلافی کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ باضابطہ طور پر معاشرے میں قرآن مجید کا وجود نہیں ہے؛ کہیں کہیں پر لوگ قرآن سے آشنا ہیں، دیندار لوگ گھروں میں قرآن پڑھتے ہیں لیکن یہ صرف قرآن کی تلاوت ہوتی ہے، قرآن مجید پر غور و فکر، بالخصوص پورے معاشرے کی سطح پر اور عمومی طور پر بہت کم ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا روشن فکراور کالج و یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والا طبقہ کافی حد تک قرآن مجید سے دور ہے؛ یعنی واقعا اس زمانے کے تعلیم یافتہ افراد کے درمیان ایسے لوگ دکھائی نہیں دیتے جو قرآن مجید سے انس اور آشنائی رکھتے ہوں اور وہ بھی بہت وسیع اور عمیق نہیں بلکہ محدود سی آشنائی بھی نہیں رکھتے ، حقیقت میں ایسے لوگ بہت کم ہیں، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے تھوڑی بہت دینی تعلیم حاصل کی ہے یا کچھ آیتیں حفظ کر لی ہیںتاہم اسلامی ممالک میں خصوصا عرب ملکوں میں ان کی خاص صورتحال کی وجہ سے پہلے بھی حالات ایسے نہیں تھے اور اب بھی یہی صورتحال ہے۔ انسان جب ان کے روشن فکر افراد سے، تعلیم یافتہ افراد سے، یونیورسٹی سے متعلق افراد سے، جو مختلف سرکاری عہدوں پر بھی فائز ہیں، ملاقات کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ لوگ اپنی گفتگو میں قرآن مجید کی آیتوں کو تمثیل کے طور پر، اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے شاہد کے طور پر، اپنی بات کی تائید میں اور دلیل کے طور پراستعمال کرتے ہیں؛ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے روشن فکر طبقے میں موجود نہیں ہے ۔ یہ قرآن مجید سے دور رہنے کا سبب ہے اور ہم اس سے دور ہو چکے ہیں۔ ان ممالک میں تعلیم و تربیت کا معیار کیسا تھا؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔ تو خاص طور پر عرب ممالک میں یہ بات رائج تھی اور اب بھی ہے۔ یہ عرب ممالک کے سیاستداں اور حکام جن پر ہم عمل میں قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات سے دوری پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ اعتراض بھی بالکل بجا ہے تاہم ان کے ذہن میں اور زبان پر قرآن مجید موجود ہے۔ ہمیشہ افسوس ہوتا ہے کہ ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔مثال کے طور پر اگر میں تشبیہ دینا چاہوں تو باذوق افراد اپنی گفتگو میں ممکنہ طور پر بعض کہاوتیں، بعض جملے ،شعراء  کے اشعار یا کسی معروف مصنف کے جملوں کا استعمال کر سکتے ہیں، عرب اسی طرح سے قرآن مجید سے استفادہ کرتے ہیں؛ لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ ہم تربیت اور پرورش کے طریقے کے سبب قرآن مجید سے دور ہو گئے ہیں۔
  ہم کو اس کی تلافی کرنا چاہیے ۔ قرآن میں ضم ہو جانا چاہئے، پوری طرح سے جڑ جانا چاہیے؛ قرآن کے مفاہیم ایسے مفاہیم ہیں جو زندگی کے لیے صرف معلومات نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے پاس قرآن کی اچھی معلومات ہوتی ہیں تاہم اس کی زندگی میں قرآن کا کوئی اثر نہیں ہوتا!  ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہماری زندگی میں قرآن مجسم ہو جائے۔ جس طرح سے کہ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک زوج مکرمہ سے پیغمبرۖ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ''کان خلقہ القرآن'' (فضائل الخمسہ،ج١،ص١١٧)ان کا اخلاق قرآن تھا۔ یعنی قرآن مجسم تھا۔ اس بات کو ہمارے معاشرے میں بھی عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔
مفاہیم، قرآنی کلمات کے حقیقی معنی کے مطابق ہو جائیں اس کے لیے ہمارا انفرادی رویہ، انتظامی رویہ، تنظیمی رویہ، تعلیم و تربیت کے سلسلے میں ہمارا رویہ؛ تعلیم و تربیت کے اداروں سے مراد تمام یونیورسٹیاں، تحقیقی مراکز اور تمام دینی تعلیمی مراکز ہیں؛ خاندان کے اندر ہمارا رویہ، ہمارا سیاسی رویہ، ہمارا بین الاقوامی رویہ، یہ سب اسلام کی بنیاد پر ہونا چاہیے؛ یہ کب ہوگا؟ یہ تب ہوگا جب ہم قرآن مجید کے مفاہیم سے صحیح طریقے سے اور بخوبی واقف ہوں گے۔ یہ وہی کام ہے جو قرآن پر تحقیق کی اس عظیم تحریک سے، چاہے وہ خواتین کے شعبے سے متعلق ہو یا مردوں کے شعبے سے، عملی جامہ پہنے گا۔ سمت یہ ہونی چاہیے؛ اسی سمت میں تحقیقات کو آگے بڑھنا چاہیے۔
قرآن مجید کے سلسلے میں تحقیقی کاموں کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جو شخص بھی قرآن مجید پر کام کے راستے میں آگے بڑھنا چاہتا ہے اسے اپنے دل کو قرآن کی خالص حقیقت سے روبرو ہونے کے لیے تیار کرنا چاہیے؛ یعنی دل کی پاکیزگی۔ اگر دل پاکیزہ نہ ہو، قرآن کی زبان سے حق اور حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو، غیر اسلامی اور غیر خدائی معیارات پر فریفتہ ہو تو قرآن سے روبرو ہونے کے باوجود وہ اس سے استفادہ نہیں کرے گا۔ یہ جو قرآن مجید فرما رہا ہے کہ ''یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا''(سورۂ بقرہ،آیت٢٦) تو قرآن کے ذریعے اضلال اورگمراہی کیوں؟ قرآن کے ذریعے ہدایت تو خیر واضح ہے لیکن قرآن کے ذریعے اضلال اور گمراہی کیونکر ممکن ہے؟ یہ اس وجہ سے ہے کہ ''و اما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم(سورہ توبہ،آیت١٢٥) جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، وہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی اندرونی گندگی اور برائی میں اضافہ ہی ہوگا۔ قرآن مجید کی یہ آیت یا کوئی دوسرا سورہ ان کی گندگی میں اضافہ ہی کرے گا۔ یہ گندگی کیا ہے؟ یہ ''فی قلوبھم مرض'' کون سا مرض ہے؟ یہ مرض، اخلاقی بیماریوں سے عبارت ہے۔ جب ہم حسد میں مبتلا ہیں، جب دوسروں کی برائی چاہتے ہیں جب حرص و طمع میں پھنسے ہوئے ہیں، جب دنیا پرستی میں گرفتار ہیں، جب نفسانی خواہشات ہم پر غالب آ چکی ہیں، جب اقتدار پرستی کا ہم پر غلبہ ہو چکا ہے، جب حق تلفی، حق کو نہ دیکھنا اور حق کو چھپانا ہماری روح اور ہمارے دل پر غالب آ چکا ہے تو ہم قرآن مجید سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ جو چیز قرآن سے ہمیں ملنی چاہیے ہم اس کی ضد اور برخلاف چیز کو قرآن سے حاصل کرتے ہیں۔ خدا سے پناہ مانگنی چاہیے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ بعض لوگ اسلام کی سرکوبی کے لیے کبھی کبھی قرآن کی کوئی آیت پڑھتے ہیں! پاکیزگی کے ساتھ قرآن مجید سے روبرو ہونا چاہیے تاکہ نور قرآن اور نصیحت قرآن ہمارے دل میں سما سکے اور ہم اس سے استفادہ کر سکیں، ان شاء اللہ۔
قرآنی تحقیقات میں بنیادی اور اصولی، علمی کاموں پر توجہ بہت زیادہ ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جسے بھی عربی آتی ہو وہ قرآن مجید کی تمام باتوں کو صحیح طریقے سے سمجھ لے گا اور قرآن کے سلسلے میں تحقیق کر سکے گا، نہیں۔سب سے پہلے تو خود قرآن مجید سے انس بہت ضروری ہے؛ یعنی قرآن مجید کے سلسلے میں تحقیق کرنے والے کو پورے قرآن سے مانوس ہونا چاہیے؛ قرآن کی تلاوت، قرآن کو دوبارہ اور سہ بارہ پڑھنا اور قرآن مجید میں بذات خود غور کرنا اس بات میں مدد کرتا ہے کہ جب ہم قرآن مجید میں کسی ایک خاص موضوع کے بارے میں حقائق تلاش کریں تو اس موضوع کے بارے میں ہم کسی نتیجے تک پہنچ جائیں، بنابریں خود قرآن مجید سے انس بہت زیادہ ضروری ہے۔
اس کے بعد قرآن مجید سے استفادے کی کیفیت ہے؛ قرآن مجید کی آیات اور معصومین کی روایات سے استفادے کے سلسلے میں ہمارے علمائے دین اور فقہا کی جو روش ہے وہ ایک مجرب روش ہے، ایک مکمل طور پر آزمایا ہوا اور ثابت شدہ علمی طریق کار ہے؛ انہیں حاصل کرنا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ جو بھی قرآن کے سلسلے میں تحقیق کرنا چاہتا ہے وہ جا کر کئی برسوں تک دینی تعلیم حاصل کرے، میرا مطلب یہ نہیں ہے، تاہم قرآنی تحقیق، قرآن کے سلسلے میں بعض بنیادی اور تمہیدی چیزوں کے ادراک کے بغیر ممکن نہیں ہے؛ ان میں زبان سے آگاہی، زبان کے نکات اور ظرافتوں سے آگاہی، اصول فقہ کی بعض بنیادی باتوں سے آگاہی، یہ سب ضروری چیزوں میں شامل ہیں، انہیں سیکھنا چاہیے، اسی طرح قرآن کے ذیل میں موجود روایات سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔ یہ ساری باتیں قرآن کے سلسلے میں تحقیق کرنے میں بہت موثر ہیں۔
ہیومن سائنس کے موضوعات کے بارے میں ایک گلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں یہ موضوعات ایسے معیارات اور بنیادوں پر استوار ہیں جو قرآنی اور اسلامی بنیادوں کے منافی ہیں۔مغربی ہیومن سائنس، ایک دوسری آئیڈیالوجی پر مبنی ہیں، خلقت کے بارے میں ان کے ایک دوسرے ادراک پر مبنی ہیں اور یہ ادراک اور نظریہ زیادہ تر مادی ہے۔ تو یہ نظریہ، ایک غلط نظریہ ہے؛ یہ بنیاد ایک غلط بنیاد ہے۔ ہم ان علوم کے بارے میں کسی بھی قسم کی اسلامی تحقیق کئے بغیر انہیں ترجمے کی صورت میں اپنے درمیان لے آتے ہیں اور مختلف شعبوں میں ان کی تعلیم دیتے ہیں؛ جبکہ انسانی علوم کی جڑ، اساس اور بنیاد کو قرآن مجید میں تلاش کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں تحقیق کا ایک اہم شعبہ یہ ہے۔ مختلف میدانوں میں قرآن مجید کے نکات اور ظریف باتوں پر توجہ دی جانی چاہیے اور انسانی علوم کے بنیادی معیارات کو قرآن کریم میں تلاش کرنا چاہیے۔ یہ ایک بہت ہی بنیادی اور اہم کام ہے۔ اگر یہ ہوگیا تو پھر مختلف انسانی علوم کے محققین اور صاحب نظر افراد ان بنیادوں پر عظیم عمارتیں تعمیر کر سکیں گے۔ اسی طرح وہ مغرب والوں اور جن لوگوں نے علوم کے میدان میں پیشرفت کی ہے، ان کی پیشرفت سے استفادہ بھی کر سکیں گے تاہم بنیاد، قرآنی بنیاد ہونی چاہیے۔(رہبر انقلاب ایران آیةاللہ خامنہ ای کی تقریر سے اقتباس)

طاغوتی نظاموں میں جس طرح سے عورت کو ایک دوسری نظر سے دیکھا جاتا تھا اسلام اس کے بالکل برخلاف عورت کو ایک شخصیت عطا کرتا ہے۔ اسلام میں جب مومن کے لیے کوئی نمونہ اور آئیڈیل معین کیا جاتا ہے تو عورت کا نمونہ معین کیا جاتا ہے۔و ضرب اللہ مثلا للذین امنوا امراة فرعون))1 یہ پہلی شخصیت، ((و مریم ابنت عمران))2 یہ دوسری شخصیت، ان لوگوں کے لیے نمونہ جو ایمان لائے ہیں۔ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے ان کے لیے بھی دو عورتوں کی مثالیں ہیں: ((امرا ةنوح و امرا لوط انتا تحت عبدین من عبادنا ۔۔۔ فخانتاھما))3 یعنی عورت کو قرآن نہ صرف یہ کہ خواتین کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے محور، عبرت اور آئینہ قرار دیتا ہے۔ کسی مرد کا بھی انتخاب کیا جا سکتا تھا۔ نہیں، یہ اس منحرف اور غلط نظریے کے مقابلے کے لیے ہے جو خواتین کے سلسلے میں موجود تھا۔ یہ نظریہ ہمیشہ تحقیر آمیز نہیں تھا تاہم ہمیشہ غلط تھا۔
طاغوتی نظام میں ہمیشہ غلط طریقے سے عورت کو دیکھا گیا ہے؛ آج بھی مغرب میں ایسا ہی ہے۔ اب ممکن ہے کہ مغرب کے انہی نظاموں میں بہت سے مردوں کی طرح کچھ خواتین بھی اہم، محترم اور پاکیزہ شخصیت کی مالک ہوں لیکن مغرب کی رائج ثقافت میں عورت کے بارے میں عمومی نظریہ، غلط نظریہ ہے، اسے ایک استعمال کی چیز کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، یہ ایک اہانت آمیز نظریہ ہے۔ مغرب کی نظر میں اس بات کی وجہ کہ آپ چادر نہ اوڑھیں اور حجاب نہ کریں، یہ نہیں ہے کہ آپ آزاد رہیں۔ آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے حجاب کے ساتھ بھی آزادی حاصل ہے۔ بنابریں بات کچھ اور ہے؛ مردوں کی حریص نگاہوں کی تسکین کے لیے، مرد کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے وہ چاہتے ہیں کہ عورت ایک خاص انداز میں معاشرے میں سامنے آئے۔ یہ عورت کی سب سے بڑی توہین ہے؛ اب چاہے وہ اس بات پر کتنے ہی پردے ڈالتے رہیں اور اسے دوسرے نام دیتے رہیں۔
عورت کی شان یہ ہے کہ اسے موقع دیا جائے کہ وہ ان تمام عظیم اور اہم صلاحیتوں اور استعدادوں کو جنہیں خداوند متعال نے عورت سمیت ہر انسان کے اندر رکھا ہے اور ان صلاحیتوں کو جو صرف خواتین کے اندر ہی ہوتی ہیں، مختلف سطحوں پر پوری طرح سے ظاہر کر سکے؛ خاندان کی سطح پر، معاشرے کی سطح پر، عالمی سطح پر، علم و دانش کے لیے، معرفت اور تحقیق کے لیے، تربیت، پرورش اور تعمیر کے لیے۔ عورت کے احترام کا مطلب یہ ہے۔

خواتین اور اسلامی حجاب


خواتین اور اسلامی حجاب
اسلامی ثقافت میں حجاب کا مقام
فطری انسانی نظام:حجاب انسان کی فطرت سے ہم آہنگ اقدار کا جز ہے۔ دونوں صنف مخالف کا حد سے زیادہ نزدیک ہونا ، آپس میں زیادہ رابطہ، بے پردگی اور ایک دوسرے کے سامنے عریانیت فطرت انسانی اور مزاج انسانی کے خلاف عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد و زن کی زندگی کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنے کی غرض سے اور فوائد کی بنیاد پر ایک فطری نظام قائم کیا ہے تاکہ وہ دونوں مل کر دنیا کا نظم و نسق چلائیں۔ کچھ فرائض عورتوں اور کچھ مردوں کے دوش پر رکھے ہیں اور ساتھ ہی مرد و زن کے لئے کچھ حقوق کا تعین کیا ہے۔ مثال کے طور پر عورت کے حجاب کے سلسلے میں مرد کے لباس سے زیادہ سخت گیری کی گئی ہے۔ یوں تو مرد کو بھی بعض اعضاء کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت کا حجاب زیادہ ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ عورت کے مزاج، خصوصیات اور نزاکت کو قدرت کی خوبصورتی و ظرافت کا مظہر قرار دیا گیا ہے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ برائیوں، آلودگی اور انحراف سے محفوظ رہے اور اس میں گمراہی نہ پھیلے تو اس صنف نازک کو حجاب میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے مرد پوری طرح عورت کی مانند نہیں ہے اور اسے تھوڑی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اس کی وجہ دونوں کی فطری ساخت اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں نظام حیات چلانے کے تقاضے ہیں۔ 
اسلام میں خوبصورتی کی اہمیت:اسلام میں جمالیات کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ خوبصورتی، جمال پسندی اور خوبصورتی پیدا کرنا ایک فطری چیز ہے۔ البتہ یہ چیز جدیدیت سے کچھ مختلف ہے۔ جدیدیت اس سے زیادہ عام چیز ہے جبکہ آرائش اور پوشاک کا مسئلہ ایک خاص چیز ہے اور انسان بالخصوص نوجوان کو خوبصورتی پسند ہوتی ہے، ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خود بھی خوبصورت لگیں۔ ہم اکثر و بیشتر سنتے ہیں : " ان اللہ جمیل و یحب الجمال" اللہ تعالی جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ احادیث کی کتابوں میں وضع قطح درست رکھنے کے تعلق سے بہت سی روایات منقول ہیں۔ نکاح سے متعلق احادیث میں تفصیلی بیان ہے کہ عورت اور مرد اپنی وضع قطح پر توجہ دیں۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مردوں کو ہمیشہ سر منڈوائے رہنا چاہئے۔ جی نہیں، شریعت نے نوجوانوں کے لئے بال رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ روایت میں ہے: " الشعر الحسن من کرام اللہ فاکرموہ" خوبصورت بال الہی وقار کی چیز ہے لہذا اس کی عزت کیجئے۔ اسی طرح روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرمۖ جب اپنے احباب سے ملنے جاتے تو پانی کے برتن میں اپنا چہرا دیکھتے اور اپنے بالوں کو سنوارتے تھے۔ اس زمانے میں آج کی طرح ہر گھر میں آئینہ نہیں ہوتا تھا۔ مدینہ کا معاشرہ یوں بھی غریبوں کا معاشرہ تھا۔ پیغمبر اکرمۖ کے گھر میں ایک برتن میں پانی رکھا رہتا تھا اور جب بھی آپ اپنے احباب و اصحاب سے ملنے جاتے تو اس برتن کو آئینے کے طور پر استعمال فرماتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وضع قطح درست رکھنا اور اچھا لباس زیب تن کرنا شریعت اسلامی میں مستحسن چیزیں ہیں۔ برائی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ چیزیں فتنہ و فساد کا باعث بننے لگیں۔
حجاب، اقدار کا جز:مرد و زن کے درمیان حد بندی کا موضوع مسلمانوں کے نزدیک ایک بنیادی اصول ہے۔ یہ واقعی ایک بنیادی اصول ہے۔ مسلمانوں کا اس پر ایقان ہے۔ حالانکہ یہ فروع دین کا جز ہے۔ حجاب فروع دین کا حصہ ہے۔ ناجائز طریقے سے مرد و زن کی آمیزش کی حرمت فروع دین کا جز ہے لیکن مرد و زن کے مابین حدود کا مسئلہ بذات خود اصول کا درجہ رکھتا ہے۔ یہاں سیاہ چادر کی بات نہیں ہے، یہ خود کو اوپر سے ڈھانپ لینے کی بات نہیں ہے، یہ مسئلہ نہیں ہے کہ حجاب کی شکل کیا ہو۔ کیونکہ ممکن ہے کہ مختلف ادوار میں، مختلف مقامات پر اور مختلف مناسبتوں کے لحاظ سے اس کی شکل بھی مختلف ہو۔ لیکن بذات خود یہ حد اور یہ حفاظتی دیوار اسلامی نظریے سے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ حجاب کا مسئلہ اقدار سے تعلق رکھتا ہے۔ حجاب حالانکہ خود تو بلند تر چیزوں کے لئے مقدمے اور تمہید کا درجہ رکھتا ہے لیکن بجائے خود بھی یہ اقدار میں شامل ہے۔ ہم جو حجاب پر اتنی تاکید کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ حجاب سے عورت کو یہ آسانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مطلوبہ معنوی و روحانی مقام پر پہنچ جائے اور اس کے سر راہ موجود لغزش کے اسباب و علل سے اس کے قدم نہ ڈگمگائیں۔ 
مرد اور عورت کے روابط:مرد و زن کے درمیان ایک حد بندی ہے، وہ آپس میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں، لین دین رکھیں، بحث و تکرار کریں، دوستانہ انداز میں گفتگو کریں لیکن اس حد بندی اور حفاظتی فاصلے کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ یہ چیز اسلام میں ہے اور اس کا پاس و لحاظ ضروری ہے۔ مرد و زن کے درمیان قائم سرحد سے تجاوز اور عورت کے انسانی وقار کو مجروح کرنا اور اسے لذت کے سامان یا زرق برق مصنوعات کے استعمال کی مشین بنا دینا ممنوع ہے۔ 
اسلام عورت کو ایسا با شرف اور با وقار دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ قطعا اس بات پر توجہ نہ دے کہ کوئی مرد اسے دیکھے۔ یعنی عورت ایسی با وقار رہے کہ اس پر اس کا کوئی فرق نہ پڑے کہ کوئی مرد اسے دیکھ رہا ہے یا نہیں۔ یہ کہاں اور وہ کہاں کہ عورت کا اپنے لباس، اپنے میک اپ، اپنے طرز گفتگو اور چلنے کے انداز کے سلسلے میں سارا ہم و غم یہ ہو کہ مرد اسے دیکھیں؟! ان دونوں کے مابین کتنا فرق ہے؟!
خود نمائی ممنوع:اسلام میں تبرّج ممنوع ہے۔ تبرج یعنی فتنہ انگیزی کی غرض سے مردوں کے سامنے عورتوں کی خود نمائی۔ یہ ایک طرح کا فتنہ ہے اور اس سے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے یہی ایک مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کہ ایک نوجوان لڑکی یا نوجوان لڑکے سے گناہ سرزد ہو رہا ہے، یہ تو بالکل ابتدائی چیز ہے اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سب سے معمولی چیز ہے، اس کا سلسلہ خاندانوں تک پہنچتا ہے۔ بے روک ٹوک اور بے لگام روابط خاندانوں کے لئے سمّ قاتل کا درجہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں کا دار و مدار عشق و محبت پر ہوتا ہے۔ خاندان کی عمارت عشق و الفت پر ٹکی ہوتی ہے۔ اگر یہ جذبہ عشق، خوبصورتی کا عشق اور صنف مخالف کا عشق، کسی اور جگہ تسکین پانے لگے تو کنبے کی محکم بنیاد ختم ہو جائے گی اور خاندان متزلزل ہو جائیں گے اور ان کی وہی درگت ہوگی جو آج بد قسمتی سے مغربی دنیا بالخصوص شمالی یورپ کے ممالک اور امریکا میں ہوئی ہے۔ خاندان بکھر کر رہ جائیں گے، یہ بہت بڑی بلا ہے۔ اس بلا کا نقصان سب سے پہلے خواتین کو ہی پہنچتا ہے۔ یوں تو مردوں کو بھی بے شمار مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن عورتوں کو زیادہ خسارہ ہوتا ہے اور پھر اس نسل کو جو دنیا میں آ رہی ہے۔ دنیا اور امریکا کی اس گمراہ نسل کو آپ دیکھ رہے ہیں؟ اس کا سرچشمہ وہی ہے۔ یعنی یہ چیز اس شر کا مقدمہ اور کنجی ہے جس سے پے در پے شر وجود میں آتا ہے! 
حجاب اور عورت کی سماجی ترقی:اسلام چاہتا ہے کہ عورتوں کا فکری، علمی، سماجی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر روحانی ارتقا اپنی بلند ترین منزل تک پہنچے اور ان کا وجود معاشرے اور انسانی کنبے کے لئے زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر ثمرات اور فوائد کا سرچشمہ قرار پائے۔ اسلام کی تمام تعلیمات منجملہ حجاب کی بنیاد اسی چیز پر رکھی گئی ہے۔ حجاب، عورت کو معاشرے سے الگ کر دینے کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر پردے کے سلسلے میں کسی کا تصور یہ ہے تو بالکل غلط تصور ہے۔ حجاب، معاشرے میں مرد اور عورت کی بے ضابطہ آمیزش کو روکنے کا ذریعہ ہے۔ یہ آمیزش معاشرے اور مرد و زن دونوں بالخصوص عورت کے نقصان میں ہے۔ 
 مغربی تہذیب میں حجاب
اسلام اور مغربی تہذیب میں حجاب کا چیلنج:میں نے بارہا کہا ہے کہ یہ ہماری مجبوری نہیں ہے کہ ہم اپنے موقف کا دفاع کریں۔ دفاع تو مغرب کی انحطاط پذیر ثقافت کو کرنا چاہئے۔ عورتوں کے سامنے جو بات ہم پیش کرتے ہیں اس کا کوئی بھی با شعور اور منصف مزاج انسان منکر نہیں ہو سکتا۔ ہم عورت کو عفت، پاکیزگی، حجاب، مرد و زن کی حد سے زیادہ آمیزش سے اجتناب، انسانی وقار کی حفاظت، غیر مردوں کے سامنے سجنے سنورنے سے اجتناب کی دعوت دیتے ہیں۔ کیا یہ بری چیز ہے؟ یہ تو مسلمان عورت کے وقار کی ضمانت ہے، یہ عورت کے عزت و شرف کی بات ہے۔ جو لوگ عورت کو اس انداز کے میک اپ کی ترغیب دلاتے ہیں کہ گلی کوچے کے لوگ اسے ہوسناک نظروں سے دیکھیں، انہیں اپنے اس نظریے کا دفاع کرنا چاہئے کہ انہوں نے عورت کو اتنا کیوں گرا دیا ہے اور اس کی اس انداز سے تذلیل کیوں کر رہے ہیں؟! ان کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ ہماری ثقافت تو ایسی ثقافت ہے جسے مغرب میں بھی با شعور افراد اور اچھے انسان پسند کرتے ہیں اور اسی انداز سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہاں بھی با عفت و بامتانت خواتین اور وہ عورتیں جو اپنی شخصیت کو اہمیت دیتی ہیں کبھی بھی غیروں کی ہوسناک نگاہوں کی تسکین کا ذریعہ بننا پسند نہیں کرتیں۔ مغرب کی انحطاط پذیر ثقافت میں ایسی مثالیں بہت ہیں۔
یورپ میں حجاب کی قدر و قیمت کی نفی:مغربی دنیا کو چاہئے کہ ہمیں جواب دے جس نے گزشتہ ادوار سے موجودہ دور تک عورتوں کی اتنی توہین کی اور انہیں اتنا گرا دیا! آپ دیکھئے کہ یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں کچھ عرصہ قبل تک عورتوں کو مالیاتی اختیارات حاصل نہیں تھے۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل تک، تمام تر دعوں کے باوجود اور عجیب و غریب انداز کی بے پردگی کے باوجود جو مغرب میں روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، اس بے لگام جنسی اختلاط اور آمیزش کے باوجود جسے وہ عورت کے احترام اور قدر و قیمت کی علامت قرار دیتے ہیں، ان ساری چیزوں کے باوجود عورت کو یہ حق نہیں تھا کہ اس ثروت کو بھی جو اس کی اپنی ہوتی تھی، اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے! شوہر کے سامنے وہ اپنے مال و متاع کی بھی مالک نہیں ہوتی تھی۔ یعنی جو عورت شادی کرتی تھی اس کی ساری دولت اس کے شوہر کی ہو جاتی تھی۔ اسے یہ حق نہیں ہوتا تھا کہ خود اسے استعمال کرے۔ پھر رفتہ رفتہ بیسویں صدی کے اوائل میں عورت کو مالکانہ حقوق ملے اور کام کی آزادی دی گئی۔ یعنی اس چیز سے بھی عورت کو محروم رکھا تھا جو بنیادی ترین انسانی حقوق میں شمار ہوتی ہے۔ ان کا سارا زور اقدار کا درجہ رکھنے والے امور کے منافی چیزوں پر تھا۔ حجاب کے سلسلے میں ہم جو اتنی تاکید کرتے ہیں، اس کی یہی وجہ ہے۔
عورت کی عریانیت اور الکحل ازم، یورپی روایت:اس وقت دنیا میں کچھ مخصوص چیزوں کے سلسلے میں بڑی حساسیت دیکھنے میں آتی ہے۔ اگر کسی شخصیت، کسی فلسفی، کسی سیاستداں نے عورت کی عریانیت کی مخالفت کر دی تو اس پر دنیا میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے! بہت سی بری عادتوں اور حرکتوں کے سلسلے میں یہ حساسیت نہیں ہے! اگر کوئی ملک پالیسی کے تحت شراب کی مخالفت کرنے لگے تو ایک شور شرابا مچ جاتا ہے اور تمسخرانہ مسکراہٹیں نظر آنے لگتی ہیں، اسے رجعت پسند کہا جانے لگتا ہے! یہ بھی کوئی ثقافت ہوئی؟ ثقافت کے جز کے طور پر عورت کی عریانیت اور نشے کو عمومی رواج کے طور پر متعارف کرانا کس کا کام ہے؟ اس کا تعلق یورپ سے ہے اور یہ چیز ان ممالک کی قدیمی تہذیب سے نکلی ہے۔ یہی چیزیں اب دنیا کے دیگر علاقوں میں مسلمہ رواج کا درجہ حاصل کر چکی ہیں اور اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو گویا اس سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو۔
مغرب کی متضاد باتیں:یورپی ممالک میں جو خود کو ترقی یافتہ کہتے ہیں اور اپنے پروپیگنڈوں میں ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی حقوق اور انسانوں کی آزادی کا موضوع ان کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے یعنی انہی برطانیہ اور فرانس نے چند عورتوں یا لڑکیوں کو اتنی بھی اجازت نہیں دی کہ وہ اسلامی حجاب کے ساتھ آمد و رفت کر سکیں اور اسکولوں میں جائیں! اس مرحلے میں تو اکراہ و اجبار سب کچھ ان کے لئے جائز ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں رہ جاتا! لیکن اسلامی جمہوریہ ایران پر اس وجہ سے کہ وہ معاشرے میں حجاب کو لازمی سمجھتا ہے ان حلقوں نے شدید اعتراض کیا ہے! اگر عورتوں کو کسی وضع قطع یا کسی لباس میں رہنے پر مجبور کرنا برا ہے تو یہ برائی حجاب کو ضروری قرار دئے جانے کی برائی سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ حجاب سلامتی و تحفظ سے زیادہ نزدیک ہے۔ کم از کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ دونوں کی باتوں کو ایک نظر سے دیکھا جائے لیکن مغرب کا نظریہ یہ نہیں ہے۔
مغربی ثقافت میں عورت کی تذلیل و تحقیر:عورتوں کے مسئلے میں ہمارا موقف دفاعی نہیں، جارحانہ ہے۔ مغرب والوں کا ہم پر اعتراض ہے کہ آپ کی عورتیں حجاب میں کیوں رہتی ہیں، کیوں حجاب کو لازمی کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ان لوگوں نے بے حجابی و بے پردگی کو لازمی کر رکھا ہے۔ عورتوں کے قضیئے میں ان کی مشکل اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ مغربی دنیا میں عورت کو رسوا کرکے رکھ دیا گیا ہے، اس کی تحقیر و توہین کی گئی ہے۔ یہ جو سفارت کاری کے امور میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں اس سے اس کاری ضرب کی تلافی نہیں ہو سکتی جو مغرب نے عورت پر لگائی ہے۔ انہوں نے عورت کو لذت و شہوت کے سامان کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ میک اپ کے بغیر عورت کی کوئی ارزش و قیمت نہیں ہے۔ اسے چاہئے کہ سجے سنورے تاکہ مردوں کو اچھی لگے۔ یہ عورت کی سب سے بڑی توہین ہے۔
حجاب، اسلامی ثقافت کی کنجی:کسی ملک پر دائمی قبضے اور تسلط کے لئے ضروری ہے کہ اس ملک کی ثقافت بدل دی جائے۔ یعنی اس ملک کو قابض ملک کی ثقافت میں ڈھال دیا جائے تاکہ وہ پوری طرح ہتھیار ڈال دے۔ مغرب والوں نے ماضی میں مشرقی خطوں میں یہ کام کیا لیکن انہیں بہت کامیابی نہیں ملی۔ اس وقت وہ افغانستان میں یہی کام کرنا چاہتے ہیں اور یقینا ان کا ایک ہدف یہ ہے کہ شخصیت اور تشخص ساز بنیادوں کو ختم کر دیں۔ بات اسلام سے شروع کرتے ہیں۔ حجاب کی مخالفت کرتے ہیں، لوگوں کی دینداری اور مذہبی علامتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان اقدار کی حفاظت کرنا چاہئے انہیں تقویت پہنچانا چاہئے۔ 
مغرب اسلامی جمہوریہ ایران کو، جہاں عورتوں کی پوشاک کی ایک لازمی شکل معین ہے، تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن ان ملکوں کے سلسلے میں اس کی تیوریوں پر کبھی بل نہیں پڑتے جنہوں نے عریانیت اور عورت اور مرد کے ما بین بے پردگی کو جبرا لازمی قرار دے دیا ہے! اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حجاب مغرب کی عام ثقافت کے برخلاف ہے۔ یہ مغرب والے اس سلسلے میں بہت حساس ہیں۔
یورپ میں حجاب پر پابندی:حالیہ چند برسوں میں یورپ ، فرانس، جرمنی اور کچھ دیگر ممالک میں حجاب کے خلاف اقدامات اٹھائے گئے۔ کچھ لڑکیاں اسکارف کے ساتھ اسکول جارہی تھیں، انہیں صاف منع کر دیا گیا کہ "بالکل ہو ہی نہیں سکتا" اس کی مخالفت کی گئی! دوسری طرف آپ یہ دیکھیں گے کہ عالمی معیاروں کی بات کی جا رہی ہے۔ جب وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو کچھ فرائض کی انجام دہی کی تلقین کرنا چاہتے ہیں تو جس چیز پر ان کی سب سے زیادہ تاکید ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ " ایران کو خود کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کر لینا چاہئے" معیارات سے مراد یہی چیزیں ہیں! یعنی وہ چیزیں جو مغربی ثقافت سے میل کھاتی ہوں۔ تو مغرب کی جانب سے یہ سخت گیر رویہ اور یہ دباؤ ہمیشہ رہتا ہے، جب بھی کوئی ثقافت بالخصوص یہ اسلامی ثقافت، جو اپنا ایک مقام و مرتبہ رکھتی ہے اور کمزور اور دفاعی پوزیشن میں بھی نہیں ہے، آگے آنا چاہتی ہے تو اسے تذلیل، توہین اور شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 ایران کے اسلامی جمہوری نظام میں حجاب
حجاب کا اثر و نفوذ:آپ دیکھ رہے ہیں کہ عورتیں مختلف ممالک میں، خواہ وہ ایسے اسلامی ممالک ہوں جہاں حجاب کا کوئی نام و نشان نہیں ہے اور جو مغربی ثقافت میں غرق ہیں یا خود یورپی ممالک، حجاب میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ البتہ یہ میلان پہلے مسلمانوں کے یہاں نظر آیا اور انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم نے دیکھا کہ دور دراز کے ممالک نے بھی جو مغربی و یورپی تہذیب کے دلدادہ یا زیر اثر تھے، ایرانی خواتین کے حجاب کو اختیار کیا اور اس میں دلچسپی دکھائی۔ آج بھی مغربی دنیا اسلامی حجاب کی سمت بڑھ رہی ہے۔ میں نے شمالی افریقا کے مسلمان نشین علاقے کے ایک ملک میں دیکھا کہ عورتیں اور لڑکیاں ایرانی عورتوں کے حجاب کی طرز پر حجاب استعمال کر رہی ہیں۔ آج مغربی دنیا بھی رفتہ رفتہ اسلامی حجاب کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ 
عالم اسلام کے مشرقی علاقے میں، جہاں تک اطلاعات حاصل ہو رہی ہیں، حقیقی و خالص و انقلابی اسلام کی عملی تصویر، ملت ایران کی اس عظیم تحریک کے اثرات لوگوں کے دلوں پر پڑے ہیں۔ 
یہ جو آپ دیکھتے ہیں کہ بعض مغربی ممالک میں، غیر اسلامی حکومتوں والے مسلم ممالک میں حجاب دشمنوں کے حملوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، یہ عورتوں میں حجاب کی گہری رغبت کی علامت ہے۔ ہمارے ہمسایہ ممالک میں جہاں پردے پر توجہ نہیں دی جاتی تھی، اسلامی ممالک میں جہاں میں نے خود نزدیک سے مشاہدہ کیا کہ پردے اور حجاب کا نام لینا گوارا نہیں کیا جاتا تھا انقلاب کے بعد عورتیں بالخصوص روشن خیال خواتین اور خصوصا طالبات میں حجاب کی شدید رغبت نظر آنے لگی۔ انہوں نے حجاب کو اپنایا اور اس کی حفاظت کی۔ 
مغربی ثقافت کی جبری ترویج:جس نے مغربی تہذیب یعنی در حقیقت ایران پر مغرب کے تسلط کے حق میں اور برطانیہ کے سامراجی قبضے کے مفاد میں اس زمانے میں سب سے بڑا قدم اٹھایا وہ سابق شاہ ایران رضا خان تھا۔ موجودہ حالات میں یہ اقدامات کتنے شرمناک سمجھے جاتے ہیں کہ کوئی بادشاہ یکبارگی ملک کے قومی لباس کو بدل دے! ہندوستان اور دنیا کے دور دراز کے علاقوں میں قوموں کے پاس اپنی پوشاک اور اپنا لباس ہے اور وہ اس پر فخر بھی کرتی ہیں، کسی طرح کی خفت محسوس نہیں کرتیں۔ لیکن ایران کے شاہی دربار سے متعلق لوگوں نے یکبارگی اعلان کر دیا کہ یہ قومی لباس ممنوع ہے! کیوں؟ کیونکہ اس لباس کے ساتھ صاحب علم نہیں ہوا جا سکتا! واہ بھئی واہ! ایران کے عظیم ترین سائنسداں جن کی کتابیں اب بھی یورپ میں پڑھائی جاتی ہیں اسی ثقافت اور اسی ماحول میں پلے بڑھے۔ اس لباس کا ان پر کیا منفی اثر پڑا؟ یہ کیا بات ہوئی؟! اس طرح کی مضحکہ خیز باتیں کی گئیں۔ ایک قوم کا لباس ہی بدل دیا گیا۔ عورتوں کی چادر کو ممنوع کر دیا گیا۔ اعلان کر دیا گیا " چادر میں رہ کر عورت دانشور اور سائنسداں نہیں بن سکتی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتی" میں سوال کرتا ہوں کہ ایران میں چادر پر پابندی لگا دینے کے بعد عورتوں نے سماجی سرگرمیوں میں کتنا حصہ لیا؟ کیا رضا خان کے دور حکومت میں یا رضا خان کے بیٹے کے دور میں عورتوں کو سماجی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی گئی؟! نہ مردوں کو اس کی اجازت دی جاتی تھی اور نہ عورتوں کو اس کا موقع ملتا تھا۔ جس وقت ایرانی خواتین سماجی سرگرمیوں کے میدان میں اتریں اور انہوں نے ملک کو اپنے مقتدر ہاتھوں پر بلند کیا اور ملک کے مردوں کو بھی جد و جہد کے میدان میں کھینچا اس وقت وہ چادر پہنے ہوئے میدان میں آئی تھیں۔ چادر کے کیا منفی اثرات ہیں؟! کسی مرد یا کسی عورت کی سرگرمیوں میں لباس کب رکاوٹ بنتا ہے؟! یہ نادان، ان پڑھ بدمعاش رضاخان دشمن کے ہاتھوں میں پڑ گیا اور اس نے اچانک ہی ملک کا لباس بدل دیا۔ اس لئے کہ مغربی عورتوں کے ہاں سر برہنہ باہر نکلنے کا رواج تھا! مغرب سے یہ چیزیں لائی گئی تھیں۔ قوم کو جن چیزوں کی اشد ضرورت تھی وہ نہیں لائی گئیں۔ علم و دانش لانے کی کوشش نہیں کی گئی، تجربات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، سعی و کوشش اور محنت کی عادت کی پیروی نہیں کی گئی، مہم جوئی کے جذبے کو لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہر قوم میں کچھ اچھی صفات و خصائص ہوتے ہیں، ان صفات کو اپنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ جو چیزیں لائی گئیں انہیں آنکھ بند کرکے قبول کر لیا گیا۔ جو افکار و نظریات لائے گئے وہ بغیر غور و فکر کے من و عن قبول کر لئے گئے۔ کہا گیا کہ چونکہ یہ مغربی افکار و نظریات ہیں اس لئے انہیں قبول کر لینا بہتر ہے۔ لباس، غذا، انداز گفتگو اور چلنے کی روش چونکہ مغربی ہے اس لئے اسے اپنا لینا چاہئے! اس میں کسی پس و پیش کی گنجائش نہیں ہے! کسی بھی ملک کے لئے یہ صورت حال مہلک زہر کی مانند ہوتی ہے۔ یہ قطعا درست نہیں ہے۔
مسلمان عورت پر مظالم:مردہ  ضمیر اور پست سلطنتی نظام میں عورت حقیقت میں ہر لحاظ سے مظلوم تھی۔ اگر وہ علمی میدان میں وارد ہونا چاہتی تو اسے دین و تقوا و عفت و پاکیزگی سے کنارہ کشی کرنی پڑتی تھی۔ یہ کہاں ممکن تھا کہ مسلمان خاتون یونیورسٹی، تعلیمی مراکز، علمی و ثقافتی اداروں میں آسانی سے اپنے حجاب، متانت اور وقار کو برقرار رکھتی؟ یہ کہاں ممکن تھا کہ تہران اور بعض دیگر شہروں کی سڑکوں پر مسلمان خاتون اسلامی متانت و وقار کے ساتھ یا حتی آدھے ادھورے حجاب کے ساتھ آسانی سے گزر جائے اور اسے مغربی فحاشی و فساد کے دلدادہ افراد کے رکیک جملوں کا سامنا نہ کرنا پڑے؟ نوبت یہ آ گئی تھی کہ اس ملک میں عورتوں کے لئے حصول علم تقریبا نا ممکن ہو گیا تھا۔ البتہ اس میں کچھ استثنا بھی ہے لیکن اکثر و بیشتر عورتوں کے لئے علمی میدان میں وارد ہونا ممکن نہیں ہو پاتا تھا۔ اس کا ایک ہی راستہ تھا کہ وہ حجاب ترک کر دیں اور تقوی و اسلامی وقار سے خود کو الگ کر لیں۔ 
ایران میں حجاب اور عورتوں کی سماجی ترقی:اسلام، انقلاب اور امام خمینی رہ نے اس ملک میں آکر عورت کو سیاسی سرگرمیوں کے محور و مرکز میں پہنچا دیا اور انقلاب کا پرچم خواتین کے سپرد کر دیا۔ اس سب کے ساتھ ساتھ عورتوں نے اپنے حجاب و وقار و اسلامی متانت، دین و تقوا اور عفت و پاکدامنی سے بھی خود کو آراستہ رکھا۔ آج مسلمان ایرانی عورت کی گردن پر کوئی حق باقی نہیں رہ گیا ہے جو ادا نہ ہوا ہے۔ 
آپ غور کیجئے! جب ایک مسلمان عورت اپنی فطرت اور حقیقت کی سمت لوٹتی ہے تو کیسے کیسے شاہکار تخلیق کرتی ہے! بحمد اللہ ہمارے انقلاب اور اسلامی نظام میں اس کا مشاہدہ کیا گیا اور آج بھی یہ چیز ہمارے سامنے ہے۔ ہم نے کب عورتوں کی یہ قدرت و عظمت دیکھی تھی جو آج مادران شہداء کے ہاں دیکھ رہے ہیں؟! ہم نے نوجوان لڑکیوں کا یہ ایثار کہاں دیکھا تھا کہ وہ اپنے عزیز شوہروں کو محاذ جنگ پر بھیجیں اور یہ لوگ پورے اطمینان کے ساتھ ان میدانوں میں سرگرم عمل رہیں؟ یہ عظمت اسلام ہے جو انقلاب کے ایام میں اور آج بھی ہماری انقلابی خواتین کے چہروں سے ہویدا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ نہیں کیا جانا چاہئے کہ حجاب اور عفت کی حفاظت کے ساتھ، گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی پرورش کے ساتھ انسان علمی میدانوں میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ آج ہم اپنے سماج میں بحمد اللہ کتنی خاتون سائنسدانوں اور مختلف میدانوں کی ماہر عورتوں کو دیکھ رہے ہیں! محنتی، با صلاحیت اور با ارزش طالبات سے لیکر فارغ التحصیل خواتین اور ممتاز و صف اول کی ڈاکٹروں تک! اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران میں مختلف علمی شعبے خواتین کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان عورتوں کے ہاتھوں میں جنہوں نے اپنی عفت و پاکیزگی کی حفاظت کی ہے، حجاب کی بھی مکمل پابندی کی ہے، اسلامی روش کے مطابق اپنے بچوں کی پرورش بھی کی ہے، جو اسلام کا حکم ہے اسی انداز سے شوہر کے تعلق سے اپنے فرائض بھی انجام دئے ہیں ساتھ ہی ساتھ وہ علمی اور سیاسی سرگرمیاں بھی انجام دے رہی ہیں۔ اسلامی ماحول میں، اسلامی مزاج کے ساتھ خاتون حقیقی کمال تک پہنچ سکتی ہے۔ آرائشی سامان اور استعمال کی چیز بنے بغیر۔
ایران کی مسلمان خواتین کا پیغام:ایرانی خواتین بالخصوص وہ عورتیں جو مختلف علمی و سائنسی شعبوں میں، اسلام اور اسلامی احکامات کے دائرے میں رہتے ہوئے اور سب سے بڑھ کر حجاب کی پابندی کے ساتھ آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئی ہیں، وہ اپنے عمل سے دنیا کی عورتوں، لڑکیوں اور طالبات کو یہ دکھائیں کہ نہ تو تعلیم کے معنی بے راہروی کے ہیں اور نہ ہی تحصیل علم کا لازمہ مرد اور عورت کے ایک ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے متعلق اخلاقی اصول و ضوابط سے بے اعتنائی ہے۔ ان ضوابط اور اقدار کی مکمل پابندی کرتے ہوئے تعلیم بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور خود کو بلند مقامات پر پہنچایا بھی جا سکتا ہے اور ساتھ ہی مسلمان خاتون کے وجود کو اسلام کے عالمی پیغام کے ایک نمونے کے طور پر پیش بھی کیا جا سکتا ہے۔(آیةاللہ خامنہ ای کی تقریر سے اقتباس)

جوان، نو جوانی اور اسلام


جوان، نو جوانی اور اسلام
نوجوانی ہر انسان کی زندگی کی ایک درخشاں حقیقت اور بے بدل اور عدیم المثال باب ہے۔ جس ملک یا جس معاشرہ میں نوجوانوں کے مسائل پر کماحقہ توجہ دی جاتی ہے وہ ملک یا معاشرہ ترقی کی راہ میں بڑی کامیابیاں حاصل کرتا ہے۔ یہ نوجوانی، یہ ضوفشاں دور وہ دور ہے کہ جو اپنی کم طوالت کے باوجود انسان کی پوری زندگی پر طویل المیعاد اور دائمی اثرات مرتب کرتا ہے۔
جس طرح نوجوانوں کے جسم انرجی اور شادابی کی آماجگاہ ہوتے ہیں ان کی روح بھی اسی طرح شاداب ہوتی ہے۔ اس متنفس کو اس کی فکری توانائی، اس کی عقلی صلاحیت، اس کی جسمانی طاقت، اس کی اعصابی قوت اور اس کے ناشناختہ پہلوؤں کے ساتھ اللہ تعالی نے خلق فرمایا ہے تاکہ وہ ان قدرتی نعمتوں اور اس مادی دنیا کو وسیلے کے طور پر استعمال کرے اور خود کو قرب الہی کے بلند مقامات پر پہنچائے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نوجوانوں کے بارے میں بڑی تاکیدات فرمائی ہیں۔ آپ نوجوانوں کے ساتھ بہت مانوس تھے اور آپ نے کارہائے بزرگ کی انجام دہی میں نوجوانوں کی طاقت سے استفادہ کیا۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام مکے میں اپنی نوجوانی کے ایام میں فداکار، با ہوش ،سرگرم و فعال اور پیش قدم نوجوان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ پر خطر میدانوں میں سینہ سپر ہو جاتے اور دشوار ترین کام اپنے ذمے لے لیتے تھے۔ آپ نے اپنی فداکاری و جاں نثاری سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدینہ کی جانب ہجرت کی راہ ہموار کی، اس کے بعد آپ مدینہ منورہ میں بھی فوج کے سپہ سالار، فعال دستوں کے قائد، عالم، دانشمند، سخی اور شجاع انسان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ میدان جنگ میں آپ پیش قدم سردار لشکر اور جانباز سپاہی تھے، حکومتی اور انتظامی امور میں آپ ایک مدبر انسان تھے، سماجی امور میں آپ ہر لحاظ سے پیش پیش رہنے والے شخص تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی دس سال اور چند مہینوں کی حکومت میں صرف علی علیہ السلام کی با عظمت ذات سے ہی نہیں بلکہ بنیادی طور پر نوجوانوں سے بھرپور استفادہ کیا۔
نوجوان حق بات کو آسانی سے قبول کر لیتا ہے، یہ بہت اہم ہے۔ نوجوان پوری صداقت کے ساتھ واضح الفاظ میں اپنا اعتراض بیان کرتا ہے اور بغیر کسی اندرونی جھجک اور پس و پیش کے بے فکری کے ساتھ اقدام کرتا ہے۔ یہ بھی بہت اہم بات ہے۔ آسانی سے بات کا قبول کرنا، سچائی کے ساتھ اپنا اعتراض بیان کر دینا اور بے فکری کے ساتھ عمل کرنا۔ اگر آپ ان تینوں خصوصیات کو ایک ساتھ رکھئے اور غور کیجئے تو آپ کو بڑی خوبصورت اور دلکش حقیقت نظر آئے گی، آپ کو معلوم ہوگا کہ مسائل کے حل کی کتنی اہم کنجی آپ کو مل گئی ہے۔
نوجوان فطری طور پر اصلاح پسند ہوتا ہے۔ فطری طور پر عدل و انصاف کا خواہاں ہوتا ہے، قانونی آزادی اور اسلامی امنگوں کو عملی جامہ پہنائے جانے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اسلامی اہداف اور مقاصد اس کے اندر ہیجانی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں، اس کے اندر جوش و جذبہ پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کے ذہن میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی جو تصویر ہے وہ اسے ہیجان میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مقائسے اور موازنے کے ذریعے چیزوں کی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بہت بڑی اور بالکل نمایاں خصوصیت ہے۔
نوجوانی کے قابل تعریف خصائص میں، توانائی، قدرت، جدت عمل اور جوش و جذبہ ہے۔ کیا نوجوان کی یہ خصوصیات اکتسابی ہیں یعنی کیا اس نے یہ خصوصیات اپنے اندر پیدا کی ہیں؟ نہیں، انصاف پسندی، جوش و جذبہ، بلند ہمتی یہ خصوصیات جو نوجوان میں پائی جاتی ہیں وہ ایسی نہیں ہیں کہ اس نے ان کے لئے خاص محنت کی ہو۔ یہ تو اس کی زندگی اور اس کی عمر کے اس مرحلے کا فطری تقاضا ہے۔ بنابریں یہ عطیات ہیں، تو ظاہر ہے کہ اس کے جواب میں کچھ فرائض بھی ہوں گے جنہیں پورا کیا جانا چاہئے۔
یہ صرف ماں باپ ہی نہیں ہیں جو جوانوں کے ذمہ دار ہیں بلکہ اساتذہ،قوم کے بزرگ افراد،علماء ،تعلیمی عہدہ دار، سیاسی حکام، معاشی منصوبہ ساز، سب کو ان افراد میں شمار کیا جاتا ہے جو نوجوانوں کے ذمہ دار کہلاتے ہیں۔ 
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ یہ افراد، دانشمندانہ، عاقلانہ اور عالمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے سب سے پہلے اس دریا کی اہمیت و افادیت کو پہچانیں، دوسرے مرحلے میں ان جگہوں اور مراکز کی نشاندہی کریں جنہیں اس دریا کے پانی کی ضرورت ہے، تیسرے مرحلے میں منصوبہ بندی اور پانی کی سپلائی کا نیٹ ورک تیار کریں اور پھر پانی کو جہاں جہاں ضرورت ہے، پہنچائیں۔ یہ کر لیا گیا تو ہزاروں باغ اور لالہ زار چمن اس لا محدود نعمت الہی سے بہرہ مند ہوں گے اور بے آب و گیاہ خطوں میں شادابی دوڑ جائے گی۔ اس دریائے متلاطم کے پانی کو انرجی پیدا کرنے والے ڈیم تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے اور اس طرح انرجی کا ایک عظیم سرچشمہ تیار کیا جا سکتا ہے اور پورے سماج کو فعالیت اور سعی و کوشش کے لئے آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں یہ طرز عمل اختیار کیا جائے تو یہ نعمت ثمر بخش اور بارآور بن جائے گی جس پر اگر معاشرے کا ہر فرد روزانہ سیکڑوں بار سجدہ شکر بجا لائے تو بھی کم ہے۔ اس طرح کے طرز عمل کا لازمہ ہے منصوبہ بندی کرنا، رہنمائی کرنا، راستوں اور میدانوں کو کھولنا، احتیاجات کو متعین کرنا اور اس گراں بہا پونجی اور اس ہدیہ الہی کو ضرورت کی جگہ پر رکھنا ہے۔ جس کا نتیجہ شادابی، تازگی، تعمیر و ترقی، جوش و جذبے اور برکت و رحمت کی شکل میں نکلے گا۔
دوسرا طرز عمل یہ ہے کہ یہ افراد اس موجزن اور فیض رساں دریا کو اس کی حالت پر چھوڑ دیں، اس کے بارے میں کوئی فکر کرنے کی زحمت نہ کریں، اس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہ کریں اور اس کی قدر و قیمت نہ سمجھیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف کھیتیاں سوکھ جائیں گی اور باغ اجڑ جائیں گے بلکہ خود یہ پانی بھی ضائع ہوگا۔ اس صورت حال میں اس پانی کا بہتر انجام یہی ہو سکتا ہے کہ وہ سمندر کے کھارے پانی میں مل کر ضائع ہو جائے، یا پھر دلدل یا ایسے مرکز میں تبدیل ہو جائے جو انواع و اقسام کی آفات و بلیات کی جڑ شمار کئے جاتے ہیں، بد ترین صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ ایک سیلاب کا روپ اختیار کرکے قوم کی ساری جمع پونجی کو مٹا دے۔ اگر منصوبہ بندی نہ ہوئی اور محنت سے کام نہ کیا گیا تو یہی نتائج نکلیں گے۔
علمی، اخلاقی اور جسمانی خود سازی وہ توقعات ہیں جو نوجوانوں سے کی جا سکتی ہیں اور خود نوجوانوں کو بھی اس خود سازی کی احتیاج ہے۔ نوجوان کو چاہئے کہ خود فیصلہ کرے اور اپنی زمین پر اپنی پسند کا بیج بوئے، اپنی ثقافتی دولت اور جمع پونجی سے استفادہ کرے، اپنے ارادے کو بروئے کار لائے، اپنی شخصیت اور اپنی خود مختاری کو اہمیت دے۔ دوسروں کی تقلید اور اغیار کے آئیڈیل کی نقل نہ کرے۔
نوجوانوں کو تقلید کا اسیر نہیں ہونا چاہئے۔ جس روش اور جس راہ پر چل کر ان کا ذہن، ان کا ارادہ اور جذبہ ایمانی تقویت پاتا ہو اور جس پر چل کر وہ اخلاقی خوبیوں سے آراستہ ہو سکتے ہوں اسی راستے کے بارے میں انہیں فکر کرنا چاہئے۔ ایسی صورت میں نوجوان اس ستون میں تبدیل ہو جائے گا جس پر ملک کی تمدنی زندگی اور اس قوم کی حقیقی تہذیب کا تکیہ ہے۔
نوجوانوں کے لئے جو چیزیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ان میں ایک آگاہانہ احساس ذمہ داری ہے۔ نوجوان میں توانائی اور انرجی بھری ہوتی ہے اور وہ حساس بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ احساس ذمہ داری سے مراد یہ ہے کہ انسان جس طرح زندگی، معیشت، روزگار، شادی بیاہ اور اپنی ذات سے متعلق دیگر چیزوں کی فکر میں رہتا ہے، ان اہداف و مقاصد کے لئے بھی فکرمند رہے جو اس کی ذاتی زندگی سے بالاتر ہیں، وہ اہداف جو صرف اس کی ذات تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایک گروہ ، ایک قوم ، تاریخ اور تمام انسانیت سے متعلق ہیں۔
انسان کے اندر ان اہداف کے تعلق سے بھی احساس ذمہ داری، فرض شناسی اور پابندی ہونا چاہئے۔ کوئی بھی انسان اور کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک سعادت و خوشبختی کی بلند چوٹیوں پر نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کے اندر یہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی پیدا نہ ہو جائے۔ یہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی آگاہانہ انداز میں ہونی چاہئے، انسان کو پتہ ہونا چاہئے کہ وہ کس ہدف و مقصد کی جانب بڑھ رہا ہے اور راستے میں کون سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اسی کو آگاہانہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی کہتے ہیں۔
نوجوان اپنے معاشرے کے امور کے سلسلے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ معاشرے یعنی اس فضا میں جس میں نوجوان سانسیں لے رہا ہے اگر تفریق و امتیاز ہو تو وہ آزردہ خاطر اور رنجیدہ ہوتا ہے، اگر گھر کے اندر تفریق نظر آئے تو نوجوان کبیدہ خاطر ہو جاتا ہے، اگر اسکول اور کلاس کے اندر اسے تفریق و امتیاز دکھائی دیتا ہے تو اس کو دلی تکلیف پہنچتی ہے۔ بعض افراد ایسے بھی ہیں جو ان سماجی برائیوں اور آفتوں کے سلسلے میں بے حسی کا شکار ہو گئے ہیں یا اپنی ذاتی زندگی اور امور میں مستغرق ہیں، یا پھر دیکھتے دیکھتے اسی کے عادی ہو گئے ہیں۔ نوجوان ایسا نہیں ہوتا۔ نوجوان جذباتی ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں انصاف و مساوات نہ ہو تفریق و امتیاز ہو تو نوجوان کو دکھ ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں بد عنوانیاں پھیل جائیں تو وہ نوجوان جو اپنے ملک کے وقار کا متمنی ہے یقینا آزردہ خاطر ہوگا۔ اگر کہیں قومی جوش و جذبے کا معاملہ ہو تو وہاں نوجوانوں کی فرض شناسی قابل دید ہوتی ہے۔ ایران پر مسلط شدہ جنگ کے دوران امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے ایک اشارے پر اور محاذوں میں سے کسی محاذ کی ایک درخواست پر نوجوان جوق در جوق محاذوں کی سمت دوڑ پڑتے تھے، حالانکہ ان کو یہ یقین ہوتا تھا کہ سامنے خطرات موجود ہیں۔ ہر معاشرے میں نوجوانوں کی یہ مشترکہ خصوصیت ہے، تاہم جن معاشروں میں ایمان و روحانی اقدار ہیں وہاں یہ خصوصیت زیادہ نظر آتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جب دفاع کا مسئلہ، قومی حمیت کا معاملہ اور عز و وقار اور آزادی و خود مختاری کی حفاظت کی بات آ جاتی ہے تو نوجوان بے لوثی اور بے غرضی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اقدام کرتے ہیں، انہیں اپنی زندگی اور اپنے چین و سکون کی ذرہ برابر فکر نہیں ہوتی، وہ پر خطر وادی میں اتر جاتے ہیں۔
ایک مجاہد نوجوان کے لئے جو چیزیں لازمی ہیں ان میں تعلیم کا حصول، سستی و کاہلی کا مقابلہ، گومگو کی کیفیت سے چھٹکارا اور غور و فکر کی عادت ہے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ مختلف امور میں غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیں، یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ ہر انسان بالخصوص نوجوان نسل کے لئے بہت بڑے خطرات میں سے ایک یہ ہے کہ واقعات و حادثات اور معاشرے کی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے لا تعلق بنا رہے۔ نوجوانوں کے افکار و نظریات کو صحیح سمت و رخ عطا کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے اور بعض افراد ہیں جن کے دوش پر یہ فریضہ ہے تاہم اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کا بھی یہ فریضہ ہے کہ مختلف امور کے سلسلے میں غور و فکر کریں اور سوچ سمجھ کر اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ چھوٹے بڑے ہر واقعے کے سلسلے میں تدبر اور غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیں، مطالعہ کریں، جائزہ لیں۔ اگر کسی نے غور و فکر اور تدبر کی اپنی عادت ڈال لی اور اہل فکر و نظر میں شامل ہو گیا تو دوسروں کے مشوروں سے بھی استفادہ کرے گا۔ جو چیزیں غور و فکر سے انسان کو روک دیتی ہیں ان میں بد عنوانی اور مایوسی کے دام میں پھنس جانا ہے۔ بنابریں نوجوانوں کا ایک بڑا جہاد مایوسی اور بد عنوانی کے علل و اسباب کا ازالہ کرنا ہے۔
نوجوان سب سے پہلے مرحلے میں تعلیم، نوکری، روزگار اور مستقبل کی فکر میں رہتا ہے۔ مستقبل کو روشن اور یقینی بنانا اس کے نزدیک بہت اہم ہوتا ہے۔ اپنا گھر بسانا اور ہمت و حوصلے کے مطابق علمی سرگرمیاں انجام دینا بھی اس کے لئے بہت اہم ہوتا ہے، شادمانی و ہیجانی کیفیت کا بھی وہ دلدادہ ہوتا ہے۔ انسان کے اندر پائی جانے والی جمالیاتی حس نوجوان میں زیادہ قوی ہوتی ہے، انسانی جذبات و احساسات بھی نوجوان کے اندر زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان کے شخصی اور ذاتی مسائل و امور ہیں لیکن نوجوان کی فکرمندی یہیں تک محدود نہیں ہے۔
نوجوان کو جو فکریں لاحق رہتی ہیں ان میں روحانیت و معنویت کی بھی فکر ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر منصوبہ سازوں اور ذمہ دار افراد کی پوری توجہ ہونا چاہئے۔ نوجوانی کے دور میں ایک عمومی مذہبی و عرفانی جذبہ غالب رہتا ہے۔ نوجوانوں کی قلبی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالی، روحانیت کے اس مرکز اور حقیقت کے اس محور سے رابطہ و رشتہ قائم کریں چنانچہ مذہبی پروگراموں میں نوجوان بڑی دلچسپی و رغبت سے شرکت کرتے ہیں۔ جہاں بھی مذہبیت کا رنگ پھیکا نہیں پڑا ہے وہاں نوجوان آپ کو حاضر ملیں گے۔
البتہ بہت سے مذاہب میں، دنیا کے بہت سے ممالک میں مذہبی روحانیت و معنویت کے جلوے نظر نہیں آتے تو نوجوان ان مذاہب سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس پر توجہ نہیں دیتے لیکن جس معاشرے میں مذہب کی قدر و قیمت پہچانی جاتی ہے، جہاں مذہب میں جان ہے اور خاص پیغام ہے معرفت و عرفان ہے اور مذہب نوجوان کو روحانیت و معنویت و جوش و جذبہ عطا کرتا ہے وہاں نوجوان مذہب کی جانب راغب نظر آتے ہیں۔
عبادت انسانوں کے دلوں اور روحوں کی تطہیر کا عمل ہے۔ عبادت انسان کا گوہر بیش بہا ہے۔ جن لوگوں کے سر سجدہ حق سے محروم ہیں وہ روحانیت و معنویت کی لذت سے بھی نابلد ہیں۔ خدا کی ذات سے انسیت، اللہ تعالی سے راز و نیاز، خدائے وحدہ لا شریک لہ سے طلب حاجت، اس کی بارگاہ میں اپنے غموں اور دکھوں کا شکوہ، غنی مطلق خدا سے اپنی خواہشات کا اظہار، اعلی اہداف کے حصول کے لئے اللہ تعالی سے طلب نصرت و مدد، یہ چیزیں انسان کو عبادت سے ملتی ہیں۔ بہترین عبادت گزاروں کا تعلق نوجوانوں کے طبقے سے ہوتا ہے۔ نوجوان کی عبادت میں زیادہ انہماک و ارتکاز، جوش و جذبہ اور روحانیت ہوتی ہے اور اس کی دعائیں زیادہ مستجاب ہوتی ہیں۔
نوجوان کے اندر نوجوانی کے ایام بالخصوص اس دور کی ابتدا میں بہت سی خواہشات ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ چونکہ اس کی نئی شخصیت کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے لہذا وہ مائل ہوتا ہے کہ اس کی اس نئی شخصیت کو با قاعدہ تسلیم کیا جائے جبکہ اکثر و بیشتر یہ ہو نہیں پاتا اور والدین نوجوان کی نئی شخصیت اور شناخت کو تسلیم نہیں کرتے۔ دوسرے یہ کہ نوجوان کے اندر اپنے الگ قسم کے احساسات و جذبات ہوتے ہیں۔ اس کا روحانی و جسمانی نشو نما ہو رہا ہوتا ہے اور اس کے قدم ایک نئی وادی میں پڑ رہے ہوتے ہیں، اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ ارد گرد کے لوگ، خاندان کے افراد اور معاشرے کے لوگ اس نئی وادی اور نئی زندگی سے ناآشنا ہوتے ہیں یا پھر اس پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ ایسے میں نوجوان میں احساس تنہائی اور اجنبیت پیدا ہونے لگتا ہے۔ بڑے بوڑھوں کو چاہئے کہ اپنے نوجوانی کے ایام کی یاد کو تازہ کریں۔ اوائل بلوغ کا مرحلہ ہو یا بعد کا نوجوان کو نوجوانی کے دور میں بہت سی ایسی چیزوں کا سامنا ہوتا ہے جو ان کے لئے نا آشنا اور نامعلوم ہوتی ہیں۔ اس کے سامنے متعدد نئے سوال آتے ہیں جو جواب طلب ہوتے ہیں۔ اس کے ذہن میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں اور وہ ان سوالات اور شکوک و شبہات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ اسے تشفی بخش اور مناسب جواب نہیں دیا جاتا نتیجے میں نوجوان کو خلا اور ابہام کا احساس ہوتا ہے۔ نوجوان کے اندر یہ بھی نیا احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس کے اندر توانائیاں اور انرجی بھری ہوئی ہے، وہ اپنے اندر جسمانی اور فکری و ذہنی دونوں طرح کی توانائیاں پاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو توانائی اور انرجی نوجوان کے اندر بھری ہوتی ہے وہ اس کے ذریعے سے کرشماتی کام انجام دے سکتا ہے، اس میں پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دینے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کی اس توانائی اور انرجی سے استفادہ نہیں کیا جا رہا ہے نتیجے میں اسے لگتا ہے کہ وہ عبث اور بے کار گھوم رہا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانی میں انسان کو پہلی بار ایک بڑی دنیا کا سامنا ہوتا ہے جس کا سامنا اس نے پہلے نہیں کیا ہوتا ہے، اسے اس دنیا کی بہت سی چیزوں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہوتا ہے۔ اسے زندگی کے بہت سے ایسے واقعات اور تبدیلیوں کا سامنا ہوتا ہے جن کے بارے میں اسے نہیں معلوم کہ کیا کرنا چاہئے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اسے کسی رہنمائی کرنے والے اور راستہ بتانے والے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ماں باپ کی چونکہ مصروفیات زیادہ ہیں تو وہ نوجوان پر توجہ نہیں دے پاتے اور اس کی فکری مدد کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو ذمہ دار مراکز ہیں وہ اکثر و بیشتر وہاں جہاں انہیں کام کرنا چاہئے موجود نہیں ہوتے نتیجے میں نوجوان کو مدد نہیں مل پاتی اور نوجوان کو کسمپرسی کا احساس ستانے لگتا ہے۔
نوجوان چاہتا ہے کہ مذہبی اور دینی باتیں اسے بتائی اور سمجھائی جائیں۔ آج کا نوجوان چاہتا ہے کہ اپنے دین کو عقل و منطق اور دلیل و استدلال کی روشنی میں سمجھے، یہ بالکل بجا خواہش ہے۔ اس خواہش اور مطالبہ کی تعلیم تو خود دین نے لوگوں کو دی ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے سلسلے میں فکر و نظر اور فہم و تدبر کے ساتھ آگے بڑھیں۔ متعلقہ ذمہ دار افراد اگر نوجوانوں میں یہ فکری عمل رائج کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ دیکھیں گے کہ نوجوان دینی احکامات و تعلیمات پر عمل آوری سے بہت مانوس ہو گیا ہے۔
نوجوانوں کے اندر جنسیاتی پہلو ایک تشویشناک چیز ہے اور بر وقت شادی کرنے اور گھر بسانے سے اس تشویش کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کی شادی کے سلسلے میں میرا تو یہ خیال ہے کہ اگر اس رسم و رواج اور اسراف و زیادہ روی سے پرہیز کیا جائے جو بد قسمتی سے ہمارے درمیان پھیلتی جا رہی ہے تو نوجوان اس موقع پر جب انہیں ضرورت ہے شادی کر سکتے ہیں۔ نوجوانی کی عمر شادی کے لئے بہت مناسب عمر ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ مغربی ثقافت کی اندھی اور کورانہ تقلید کے نتیجے میں بہت پہلے سے خاندانوں کے اندر یہ غلط رواج آ گیا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شادی تاخیر سے ہونا چاہئے، جبکہ اسلام میں یہ نہیں ہے۔ اسلام کی نظر میں تو شادی، آغاز نوجوانی کے بعد جتنی جلدی کر دی جائے بہتر ہے۔
عصر حاضر میں جدید ٹکنالوجی کا سہارا مل جانے کے بعد ثقافتی یلغار اور بھی خطرناک ہو چکی ہے۔ نوجوانوں کے ذہن و دل اور فکر و نظر تک رسائی کے سیکڑوں اطلاعاتی راستے اور وسائل موجود ہیں۔ ٹی وی، ریڈیو اور کمپیوٹر سے متعلق انواع و اقسام کی روشوں کا استعمال کیا جانے لگا ہے اور نوجوانوں میں گوناگوں شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جب یورپیوں نے اندلس کو مسلمانوں سے واپس لینے کا ارادہ کیا تو دراز مدت پالیسی تیار کی۔ ان دنوں صیہونی نہیں ہوا کرتے تھے لیکن دشمنان اسلام اور سیاسی مراکز اسلام کے خلاف تب بھی سرگرم عمل تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ کام وہ دینی اور سیاسی عوامل کے تحت انجام دے رہے تھے۔ ایک کام یہ کیا گیا کہ انہوں نے کچھ مخصوص مقامات معین کر دئے جہاں نوجوانوں کو مفت شراب پلائی جاتی تھی! نوجوانوں کو (فاحشہ) لڑکیوں اور عورتوں کے جال میں پھنسایا گیا تاکہ وہ شہوت پرستی میں مبتلا ہو جائیں۔ زمانہ گزر جانے کے بعد بھی کسی قوم کو آباد یا برباد کرنے والے اصلی طریقے بدلتے نہیں ہیں۔ آج بھی وہ یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔
انسان کا ایک بد ترین دشمن جو خود اس کے اندر جنم لیتا ہے، سستی، کاہلی، کام چوری اور کام میں دل کا نہ لگنا ہے۔ اس دشمن سے سختی کے ساتھ نمٹنا چاہئے۔ اگر نوجوان اس دشمن کا مقابلہ کرنے اور اسے زیر کرنے میں کامیاب ہو گیا تو باہری دشمن کی ملک پر یلغار کی صورت میں بھی دشمن پر غالب آ جائے گا۔ اس اندرونی دشمن پر قابو پا لیا تو اس باہری دشمن کو بھی مغلوب کر لے جائے گا جو ایک ملت کے وسائل اور ذخائر کو لوٹ لینے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر کہیں انسان اپنی کاہلی پر قابو نہ پا سکا، بلکہ الٹے کاہلی ہی اس پر غالب آ گئی تو جب بھی فرائض اسے کسی میدان میں اترنے پر آمادہ کریں گے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہی رہے گا۔ جو شخص درس، کام، عبادت اور گوناگوں خاندانی، سماجی اور دیگر فرائض کی انجام دہی کے لئے تیار نہیں ہوتا اور سستی و آرام طلبی میں پڑا رہتا ہے اسے یہ دعوی کرنے کا حق نہیں کہ اگر باہری دشمن نے اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو وہ دشمن کے مقابلے میں فتحیاب ہوگا۔
سامراج نوجوان نسل کے لڑکے لڑکیوں کو جو عزم و ارادے اور طہارت و پاکدامنی کے ساتھ دین و روحانیت اور عالم اسلام کی صف اول میں سرگرم عمل ہوں، ہرگز پسند نہیں کرتا۔ وہ گمراہ اور بے راہرو نوجوان نسل دیکھنا چاہتے ہیں، اسے یہ پسند ہے۔ دشمن کی خواہشات کے بر خلاف مسلم نوجوان کو چاہئے کہ ثابت قدمی کا مظاہر کرے۔ تمام ذمہ داروں کو چاہئے کہ سب سے پہلے کمر ہمت کسیں، کسی شخص اور کسی چیز سے خوفزدہ نہ ہوں، دشمن کی ہنگامہ خیزی سے مرعوب نہ ہوں۔ یہ عظیم قومی محاذ ان کے اختیار میں ہے، انہیں چاہئے کہ اس سے بھرپور استفادہ کریں۔ قوم کے افراد بالخصوص نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنی قدر و منزلت کو سمجھیں اور خود سازی پر توجہ دیں۔
صحتمند انسانی و الہی فطرت ایک خدائی دولت ہے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ اس فطرت سے بھرپور استفادہ کریں اور گناہوں کے مقابلے میں مضبوط قوت ارادی کا مظاہرہ کریں۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انسان گناہوں کے سلسلے میں اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ جی نہیں، ایسا نہیں ہے کہ یہ محال ہو۔ ہاں اس کے لئے مشق ضروری ہے۔ نوجوانی کے ایام میں جو نوجوان فیصلہ کر لیتے تھے کہ اپنی قوت ارادی کو مضبوط کریں گے وہ اپنی نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہتے تھے۔ اسلام میں روزہ جو واجب قرار دیا گیا ہے، در حقیقت اسی راہ میں کی جانے والی مشق ہے۔ انسان کبھی کبھی کسی گناہ کی جانب کھنچا چلا جاتا ہے۔ لیکن جب انسان اس گناہ کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے تو کیا وہ واقعی بے اختیار ہو جاتا ہے؟ گناہ کی غلاظت میں ڈوب جانے کے علاوہ کیا واقعی کوئی راستہ اس کے پاس نہیں ہوتا؟ اکثر و بیشتر تو یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن نفسانی خواہشات اور وسوسے اسے فیصلہ نہیں کرنے دیتے۔ اگر انسان نے اپنی عمر ان وسوسوں کی رو میں بہتے ہوئے گزار دی تو پھر بڑھاپے میں وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گا، یہ اس کے لئے بے حد دشوار اور سخت ہوگا لیکن نوجوان میں اس کی ضروری طاقت و قوت موجود ہوتی ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ گناہ و معصیت سے دوری تو بڑھاپے کا کام ہے، جبکہ بوڑھوں کا عالم یہ ہوتا ہے کہ جس طرح ان کے جسمانی اعضا کمزور اور مضمحل ہو چکے ہوتے ہیں اسی طرح ان کی روحانی طاقت بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ نوجوان میں فیصلہ کرنے اور ثابت قدم رہنے کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔
جو نوجوان قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے تا حیات فکری اور ذہنی ذخیرہ تیار کر لیا ہے۔ یہ بے حد قیمتی چیز ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانی کے ایام میں آیات قرآنی سے گہرے مفاہیم اور تعلیمات کا استنباط نہ ہو سکے اور نوجوان صحیح طور پر اس کا ادراک نہ کر پائے، ممکن ہے کہ نوجوان کو قرآنی تعلیمات کی بہت سطحی باتیں ہی سمجھ میں آ سکیں لیکن جیسے جیسے وہ علمی پیشرفت کرے گا اور اس کی معلومات میں اضافہ ہوگا وہ اپنے حافظے اور ذہن میں موجود آیات قرآنی سے اور زیادہ استفادہ کرنے کے لائق ہوگا۔ ذہن انسانی میں قرآن کا نقش ہو جانا بہت بڑی نعمت ہے۔ ایک شخص ہے جو کسی موضوع پر کوئی آیت تلاش کرنے کے لئے بارہا قرآن کی فہرست اور آیات کو متلاشی نظروں سے دیکھتا ہے اور دوسرا شخص ہے کہ آیات قرآنی اس کے ذہن و دل اور آنکھوں کے بالکل سامنے ہیں اور وہ انہیں با قاعدہ دیکھ رہا ہوتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے ہر شعبے میں ضرورت کے مطابق وہ قرآن سے استنباط اور استدلال کرتا ہے، ان پر غور و فکر کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرتا ہے، دونوں میں بہت فرق ہے۔ بچپنے اور لڑکپن سے لیکر نوجوانی تک قرآن سے انس بہت بڑی نعمت ہے۔
نوجوانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالی پر توکل کریں، اس سے طلب نصرت و مدد کریں، اپنے قلوب میں ایمان کو مضبوط کریں، یہ کامیابیاں بہت اہم ہیں، خود اس نوجوان کی شخصی کامیابی کے لحاظ سے بھی اور قومی کامیابی کی نظر سے بھی، انہیں چاہئے کہ ایمان کو کمزور کرنے والے عوامل و اسباب کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ دیمک کی مانند ایمان کی جڑوں کو چاٹ جائیں۔
اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور توجہ اس لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے نفس اور اپنے دل کو مستحکم اور قوی بنا سکیں۔ واقعی اگر ہمارے اندر ہماری اندرونی ساخت محکم بنی رہی تو کوئی بھی بیرونی مشکل ہمیں مغلوب نہیں کر سکے گی۔ اپنے باطن اور اپنے دل کو اس طرح محکم بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام ظاہری جسمانی اور ارد گرد کی خامیوں، کمیوں اور کمزوریوں پر قابو پایا جا سکے۔ یہ چیز توکل علی اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔
نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنے طبقے کے اندر تلاش و جستجو، امید و بلند ہمتی، خود اعتمادی کے جذبے اور اس خیال کو کہ " ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں" تقویت پہنچائیں۔ عربوں کے یہاں ایک کہاوت ہے " ادل دلیل علی امکان شی وقوعہ" اس بات کی محکم ترین دلیل کہ ایک چیز دائرہ امکان میں ہے، یہ ہے کہ وہ چیز واقع ہو جائے۔
نوجوانوں کو چاہئے کہ حصول علم کی راہ میں اور اپنی علمی توانائیاں بڑھانے کے سلسلے میں ہرگز کوئی کوتاہی نہ کریں۔ جو کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں اس پر قناعت نہ کریں بلکہ اسے پہلا قدم ہی مانیں۔ نوجوان کوہ پیما کی مانند ہوتا ہے جسے چوٹی پر پہنچ جانے تک آگے بڑھنا ہی رہتا ہے۔ راستے کے شروعاتی پیچ و خم میں بسا اوقات آدمی کو پسینے چھوٹنے لگتے ہیں۔ ابتدائی کامیابیوں پر قانع نہیں ہونا چاہئے۔ نظریں چوٹی پر ٹکی ہونی چاہئے۔ محنت و مشقت کرنی چاہئے، دشواریوں اور سختیوں کو برداشت کرنا چاہئے تاکہ چوٹی کو فتح کیا جا سکے۔
نوجوانوں کو چاہئے کہ وقت کا بہترین استعمال کریں۔ البتہ یہ چیز وقت کو منظم کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہیں چاہئے کہ بیٹھ کر اپنی سمجھ سے اپنا نظام الاوقات تیار کریں۔ نظام الاوقات کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کوئی عمومی نمونہ نہیں ہے کہ میں کہوں کہ سارے لوگ اسی ایک نظام الاوقات کے مطابق کام کریں۔ ہر انسان اپنی عمر کے لحاظ سے، اپنی گھریلو زندگی کی مصروفیات کے لحاظ سے، اپنے وسائل کے لحاظ سے، اس شہر کے لحاظ سے جہاں وہ زندگی گزار رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک مخصوص نظام الاوقات تیار کرے۔ نظام الاوقات ہر ایک کو تیار کرنا چاہئے اور اس کے ذریعے اپنے وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہئے۔
اگر انسان کوئی با ارزش چیز حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ محنت و سخت کوشی کی عادت ڈال لے، یہ لازمی اور ضروری ہے۔ البتہ بنیادی طور پر نوجوانوں کی اہم ترین خصوصیتوں میں سے تین خصوصیتیں بہت نمایاں ہوتی ہیں۔ اگر ان تینوں خصوصیات کی نشاندہی کر دی جائے اور ان کو صحیح سمت میں رکھا جائے تو ایک نوجوان با آسانی زندگی کے سفر کو پورا کرکے اپنے اہداف تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ تینوں خصوصیات ہیں انرجی، امید اور جدت عمل۔ یہ نوجوان کی تین نمایاں خصوصیات ہیں۔
قرآن میں ایک بے حد حیاتی نکتہ بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے تقوے پر توجہ۔ جب لوگ تقوا کا نام سنتے ہیں تو ان کے ذہن و خیال میں جو تصویر ابھر کر آتی ہے وہ نماز، روزے، عبادات، اذکار اور دعا و مناجات کی تصویر ہوتی ہے۔ یہ ساری چیزیں تقوا میں شامل ضرور ہیں اور تقوا کا جز ہیں لیکن ان میں کوئی بھی تقوا کا ہم معنی لفظ نہیں ہے۔ تقوا یعنی اپنے اعمال و رفتار پر محتاطانہ نظر رکھنا۔ تقوا یعنی یہ کہ انسان کو بخوبی علم ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے، یعنی یہ کہ اپنا ہر عمل غور و فکر اور ارادے اور نیت کے ساتھ منتخب کرے، اس انسان کی مانند جو گھوڑے پر سوار ہے اور باگ اس کے ہاتھ میں ہے اور جانتا ہے کہ اس کی منزل کہاں ہے۔ جس انسان میں تقوا نہ ہو اس کے اعمال و رفتار، اس کے فیصلے اور اس کا مستقبل اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہتا۔ نہج البلاغہ کے خطبے کے مطابق اس کی مثال ایسے انسان کی ہے جسے سرکش گھوڑے پر ڈال دیا گیا ہو، وہ خود سوار نہ ہوا ہو اور اگر خود سے سوار بھی ہوا ہے تو اسے گھڑ سواری نہ آتی ہو۔ لگام اس کے ہاتھ میں تو ہے لیکن اسے نہیں معلوم کی گھڑ سواری کیسے کی جاتی ہے، اسے نہیں پتہ کہ کہاں جانا ہے۔ گھوڑا جہاں بھی اسے لے جائے گا وہ مجبورا چلا جائے گا، ظاہر ہے کہ اسے نجات کی توقع نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ گھوڑا سرکش ہے۔
نوجوانوں کو اپنے ہیجانی جذبے کو تسکین دینے اور اس سے استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غور کیا جائے کہ ہیجان خاص مواقع پر پیدا ہوتا ہے۔ بعض چیزیں ہیں جن میں ہیجان بالکل نمایاں اور واضح ہوتا ہے۔ جیسے کھیل کود، مثال کے طور پر فٹبال ایک ہیجانی چیز ہے۔ فٹبال کے کھیل کا انداز ہی یہی ہے اور کرکٹ ،والیبال اور ٹینس سے یہ مختلف اور الگ ہے۔ کیونکہ اس کھیل کا ڈھانچہ ہی کچھ اس انداز کا ہے کہ اس میں مقابلہ آرائی، ہیجان اور اس جیسی دیگر چیزیں زیادہ ہیں۔ ویسے کھیل کوئی بھی ہو مجموعی طور پر ایک ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ فنکارانہ کاموں میں بھی ہیجان ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا ہیجان ظاہر نہیں ہوتا۔
ہیجان صرف انہیں چیزوں تک محدود نہیں ہے۔ اگر انسان کو اپنی دلچسپی کا میدان اور شعبہ مل جائے خواہ وہ کوئی بھی میدان ہو تو وہ آسانی سے اپنے جوش و ولولے اور ہیجانی جذبے کی تسکین کا سامان فراہم کر سکتا ہے۔ 
انسان جب درس کا نام زبان پر لاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درس میں کوئی ہیجان اور جوش و خروش ہے ہی نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کلاس میں کوئی ہیجان اور جوش و خروش نہیں ہوتا لیکن فرض کیجئے کہ یونیورسٹی کے اندر یا باہر کلاس میں تمام وسائل سے آراستہ ایک ورکشاپ ہو، جس طرح آج کل ہو رہا ہے کہ انجینئرنگ کے طلبہ جاتے ہیں اور کارخانوں سے رابطہ کرتے ہیں، نوجوان کو اگر یہ محسوس ہو کہ اس ورکشاپ میں وہ وسائل ہیں جن سے اپنی دلچسپی کی چیز ایجاد کر سکتا ہے اور اس کے ذہن میں جو آئیڈیا ہے اس جگہ پر وہ اسے عملی جامہ پہنا سکتا ہے، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس کا ہیجان اور جوش و خروش کم ہوگا؟ اس میں بڑا جوش و خروش پیدا ہو جائے گا۔ تحقیق کا کام شوق اور دلچسپی سے انجام دیاجانا چاہئے۔ وہ تحقیقاتی کام جس کے لئے انسان کو مجبور کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ تحقیق لامحالہ پوری کرنا ہے تو اس کام میں کوئی جوش و خروش اور کوئی ہیجان نہیں ہوگا، اس کا کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلے گا۔
گوناگوں سماجی اور سیاسی امور میں اختلاف نظر سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ نظریات کا اختلاف کوئی بری چیز نہیں ہے اور اس میں کوئی اشکال بھی نہیں ہے کہ دو سیاسی نظریات ہوں۔ ایک نوجوان کسی ایک نظرئے کا حامی ہے او ر دوسرا دوسرے نظرئے کا طرفدار۔ جو چیز نقصان دہ ہے وہ ہے بے سوچے سمجھے اور بغیر مطالعے اور تحقیق کے اقدام کر دینا، عجلت پسندانہ فیصلہ اور بغیر معلومات کے عمل کرنا۔ میں نوجوانوں کو اس چیز سے دور رہنے کی ہدایت کرنا چاہوں گا۔ نوجوانی کا لازمی تقاضا عجلت پسندانہ فیصلہ کرنا نہیں ہے۔ نوجوانی کے معنی بیباکانہ اقدام کرنا ضرور ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ انسان نشیب و فراز اور پیچ و خم کے وہم میں نہ پڑے۔ اس سے مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ بے سوچے سمجھے اور بغیر غور و فکر کے اقدام کر دیا جائے۔ نوجوان سوچ سمجھ کر نپا تلا قدم بھی اٹھا سکتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے بھی کام کر سکتا ہے۔ یعنی فکری صلاحیتوں کو بخوبی بروئے کار لاکر اقدام کرے۔ اگر اس میں غور و فکر کرنے، مطالعہ و تحقیق اور تدبر کی عادت پیدا ہو جائے، در حقیقت یہ ایسی خصوصیات ہیں کہ نوجوان میں پیدا ہو سکتی ہیں اور بعض خصوصیات تو حق پسندی کی مانند نوجوان کی سرشت میں شامل ہوتی ہیں، تو نظریاتی اختلاف میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اس سے گمراہی پیدا نہیں ہوگی، یا کم از کم یہ ہوگا کہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا۔
دوسروں کی نفی کر دینے کی عادت، یہ کہ کوئی انسان سماجی امور میں ایک موقف اپنائے اور اعلان کر دے کہ بس یہی صحیح موقف ہے اس کے علاوہ کوئی اور موقف صحیح ہو ہی نہیں سکتا تو یہ درست نہیں ہے، یہ اچھی عادت نہیں ہے۔ اصول دین کے سلسلے میں تو یہ ہے کہ انسان فکر و مطالعے کے ساتھ اس کی جانب بڑھے اور ایک مستحکم نقطے پر پہنچ جانے کے بعد دو ٹوک انداز میں کہہ دے کہ حقیقت یہی ہے، اس کے علاوہ نہیں۔ اس مقام پر یہ کہنا کہ "بس یہی ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں" برا نہیں ہے بلکہ اچھی بات ہے لیکن سماجی مسائل میں، سیاسی امور میں اور سماجی اختلافات کی صورت میں یہ کہنا کہ "بس یہی ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں" ٹھیک نہیں ہے۔ میری نظر میں انسان کو چاہئے کہ دوسرے فریق کے نظرئے کو بھی تحمل کرے۔ جب وہ اپنے نظرئے کے مطابق کوئی عمل انجام دینا چاہے تو بہت سوچ سمجھ کر کام کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ایسا ہو تو میری نظر میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ (رہبر انقلاب اسلامی ایران آیةاللہ خامنہ ای کی تقریر سے استفادہ)