بدھ، 13 مئی، 2020

لوگوں نے حضرت علی کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

لوگوں نے حضرت علی کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟
آیۃاللہ مصباح یزدی مد ظلہ
ولایت سے گریز کا معمہ 
اہل بیت اطہار علیہم السلام خاص کر حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل و مناقب میں شیعہ اور سنی دونوں مکاتب فکر سے لاتعداد روایات منقول ہیں،مکتب اہل بیت کے علماء کے علاوہ مکتب خلفاء کے علماء نے بھی امیرالمومنین کی ولایت،مناقب اور ان آیات کے بارے میں کتابیں تحریر فرمائی ہیں جو آنجنابؑ کی شان میں نازل ہوئی ہیں اسی طرح غدیر کے بارے میں کافی کتابیں لکھی ہیں۔
شیعہ اور سنی حضرات نے جو کثیر روایات حضرت امیر کے فضائل،وصایت اور خلافت کے بارے میں نقل کی ہیں ان کی روشنی میں چاہئے تو یہ تھا کہ آپ علیہ السلام کی شخصیت کی عظمت اور بعد از رسولؐ خدا آپ کی خلافت ونیابت میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ کیا جاتا۔
آپ علیہ السلام کی عظمت اور فضائل اور مناقب کا شہرہ اس قدر ہے کہ آج بہت سے غیر مسلم۔(مثلاً جارج جرداق مسیحی)بھی بڑے جوش و خروش اور عقیدت و احترام کے ساتھ آپ کے بارے میں کتابیں لکھ رہے ہیں اور تقریریں کر رہے ہیں ،حتی کہ بعض اوقات جو لوگ کسی بھی آسمانی دین کے پیروکار نہیں وہ بھی آپ علیہ السلام کی ذات سے عشق کی حد تک اظہار محبت کرتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام مظہر عدالت اور تمام انسانی فضائل کا مجسم نمونہ ہیں،علیؑکا نام آتے ہی عدالت اور انسانی فضائل کا نقشہ ذہن میں آجاتا ہے،لیکن اوائل اسلام کے جن مسلمانوں نے اس مظلوم ہستی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ لوگ تھے جن کا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ساتھ شب و روز کا اٹھنا بیٹھنا تھا،علی علیہ السلام کے بارے میں سرکار رسالتؐ کے فرامین کو اپنے کانوں سے سن چکے تھے اور امیرالمومنین علیہ السلام کی اسلام اور رسول اکرمؐ کے لئے فدا کاری،جاں نثاری،شجاعت،شہامت،ایثار،قربانی،محبت،دل سوزی اور خیر خواہی جیسے عناصر کو ایک نہیں متعدد بار ملاحظہ کر چکے تھے۔
اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان تمام خوبیوں کے باوجود مسلمانوں نے آپؑ کی ذات کے ساتھ اس عقیدت اور احترام کا ثبوت نہیں دیا جو آپ کے شایان شان تھا؟نہ صرف یہ بلکہ الٹا آپؑ کی ذات کے دشمن ہوگئے ؟۔
ادھر یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی خلافت،وصایت اور امامت کی بات بھی کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو حضرت رسول پاک کی زندگی میں مخفی رہی ہو اور اس کا کسی کو علم تک نہ ہو،بلکہ اپنی نبوت کے اعلان کے روز اول ہی سے آپؐ نے فرما دیا تھا کہ ’’جو شخص مجھ پر ایمان لے آئے گا وہی میرا جانشین ہوگا‘‘(بحارالانوار جلد ۱۸باب۱ روایت۲۷)اور اسی موقعہ پر سب نے دیکھ لیا کہ ایک بارہ تیرہ سالہ نوجوان کے علاوہ کسی اور نے آپ کی دعوت کا مثبت جواب نہیں دیا اور وہ تھے علی بن ابی طالب علیہ السلام۔
چنانچہ رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اس دن کے بعد سے اپنے وصال کے آخری ایام تک مختلف موقعوں اور مختلف مناسبتوں پر اسی امر کی طرف علی الاعلان اور اشاروں کنایوں کے ساتھ لوگوں کومتوجہ فرماتے رہے کہ ’’میرے جانشین علیؑ ہیں‘‘اور آخری مرتبہ اپنی رحلت سے ستر دن پہلے غدیر خم کے مقام پر ان تمام مسلمانوں کے مجمع میں جتنا اس مقام پر اکٹھا ہو سکتے تھے۔(اکثر مورخین کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی)ایک ایسے بیابان میں جہاں غضب کی دھوپ اور گرمی تھی اور کسی قسم کے سایہ کانام تک نہیں تھا،علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا :’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ‘‘جس جس کا میں مولااور سردار ہوں اس اس کے یہ علیؑ مولااور سردار ہیں یعنی میرے بعد یہ میرے جانشین ہیں۔
آخریہ کیا ہو گیا کہ صرف ستر دن کے بعد مسلمانوں نے اس فرمان ذیشان کو بھلادیا اور اپنی طرف سے آنحضرتؐ کا جانشین متعین کردیا اور یہ تک نہ سوچا کہ حضور پاک نے بھی مقام غدیر پر کچھ فرمایا تھا؟۔
جو لوگ سقیفہ میں اکٹھے ہوئے وہ کوئی نو مسلم نہیں تھے بلکہ ان میں سےبہتیرے تو وہ لوگ تھے جو بدر،احد،خیبر اور حنین تک کی جنگوں میں شرکت فرما چکے تھے اور سالہا سال تک اسلام کی راہ میں تلوار چلاتےرہے اور سختیاں جھیلتے رہے،پھر بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ابھی حضور سرور کائناتؐ کا جنازہ دفن نہیں ہو پایا تھا کہ انہی مسلمانوں نے حضورؐ کے لئے کسی اور شخص کو چن لیا اور فرمان رسولؐ کو یاد تک نہ کیا؟۔
یہ اس حالت میں ہے کہ روایات اہل بیت علیہم السلام میں علی علیہ السلام کی ولایت کے بارے عجیب اسرار سے کام لیا گیا،یہاں تک کہ اگر کوئی شخص آپؑ کی ولایت کا منکر ہے نہ تو اس کا ایمان مکمل ہے اور نہ ہی اس کا عمل قابل قبول ہے ،حتی کہ بعض روایات میں تو یہ بھی ہے کہ ’’اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کے درمیان اس قدر عبادت کرے کہ مشکیزے کی مانند خشک ہو جائے لیکن اگر وہ علی علیہ السلام کی ولایت کا منکر ہے تو اس کی عبادت قطعاً قبول نہیں ‘‘۔(بحار الانوار جلد ۲۳ باب ۱۳ ص ۲۳۰)
آخر علی علیہ السلام کی ولایت میں کونسا ایسا راز پوشیدہ ہے کہ وہ اس حدتک اہمیت کا حامل ہے ؟۔
علی علیہ السلام کی مخالفت کے تین اہم عنصر 
ابتدائے اسلام کے کم و بیش تمام مسلمان حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت سے واقف تھے،آپ علیہ السلام کے فضائل و مناقب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے اور پیغمبر اکرمؐ کی زبانی اپنے کانوں سے سن چکے تھے،ہمارے اس مدعا کی شاہد وہ متعدد اور معتبر روایات ہیں جو علماء تسنن نے اپنی کتابوں میں خود انہی مسلمانوں سے نقل کی ہیں ۔(ازاں جملہ سید سلیمان حنفی قندوزی کی کتاب ’’ینابیع المودۃ‘‘ہے)اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سب کچھ کےباوجودمسلمان حضرت علی علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ کر دوسرے لوگوں کے پیچھے کیوں لگ گئے؟اور صرف یہی نہیں بلکہ بعض مسلمان تو آپ علیہ السلام کی دشمنی پر کمر بستہ ہوگئے؟تو اس سوال کے جواب میں تین اہم عناصر کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرائی جاتی ہے:۔
(۱)۔ذاتی کینہ اور بغض:
اس سوال کے جواب میں چند سلسلہ وار نفسیاتی مسائل کو پیش کیا جاتا ہے جن میں سے بعض کی طرف ’’دعائے ندبہ‘‘میں بھی اشارہ کیا گیا ہے،یعنی جن لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ دیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے دلوں پر جناب امیر علیہ السلام کی ذات سے حسد اور کینہ کے سانپ لوٹ رہے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ جو لوگ آغاز اسلام میں مسلمان ہوئے تھے در اصل وہ پہلے یا تو مکہ کے بت پرست تھے یا عرب کے مختلف قبائل سے ان کا تعلق تھا اور بہت سی جنگوں میں پیغمبر ؐ اکرم کے مد مقابل محاذوں میں شرکت کر چکے تھے اور ان میں سے بہتیروں کے لواحقین بدرو حنین جیسے محاذوں میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کی تلوار سے واصل جہنم ہو چکے تھے ،اس زمانے میں ۔(اور اب بھی)قبائلی تعصب حکم فرما تھا اور ہے،چنانچہ اگر کسی جنگ میں کسی کا کوئی عزیز مارا جاتا تو وہ سارا قبیلہ اس کے قاتل کا دشمن ہوجاتا اور اس کے بارے میں ان لوگوں کے دلوں میں کینہ پیدا ہوجاتا،چنانچہ اس بارے میں دعائے ندبہ کے الفاظ ہیں ’’اَحْقَادًا بَدَرِیَّۃً وَ خَیْبَرِیَّۃً وَ حُنَیْنِیَّۃً وَ غَیْرَ ھُنَّ فَاَضَبَّتْ عَلٰی عَدَاوَتِہٖ وَ اَکَبَّتْ عَلٰی مُنَابَذَتِہٖ‘‘وہ لوگ اگر چہ مسلمان تو ہو گئے تھے اور بظاہر علی ابن ابی طالب، کے ساتھ دوستی کا بھی اظہارکرتے تھے مگر اپنے دلوں کے مختلف زاویوں میں ان کی دشمنی کو چھپائے ہوئے تھے حتی کہ ناخود آگاہ صورت میں ان سے کینہ اور دشمنی کا اظہار کیاکرتے تھے اور خود سے کہا کرتے تھے ’’یہی تو وہ ہے  جس نے ہمارے باپ کو،چچا کو اور ماموں کو اور کسی دوسرے رشتہ دار کو قتل کیا ہوا ہے‘‘۔
(۲)۔علی علیہ السلام کی عدالت:
آغاز اسلام کے مسلمانوں کی علیؑ کے ساتھ مخالفت اور دشمنی کا سبب ایک اہم عنصر مولاکی وہ صفت تھی جسے لوگ آپ علیہ السلام کی کمزوری سمجھتے تھے وہ لوگ مولاعلی علیہ السلام کے دوسرے فضائل کا اعتراف کرتے تھے لیکن اپنی سوچ کے مطابق ان کی ایک صفت جسے وہ ان کا عیب یا کمزوری شمار کیا کرتے تھے اور اعتراض کیا کرتے تھے ،وہ یہ تھا کہ بقول ان کے ’’علیؑبہت سخت گیر ہیں ان میں کسی قسم کی لچک نہیں پائی جاتی وہ بال کی کھال اتارتے ہیں اور حد سے زیادہ کسی بات کا مواخذہ کرتے ہیں خاصکر ان مطالب کے بارے میں جو شرعی احکام سے تعلق رکھتے اور حقوق الناس اور بیت المال سے ان کا تعلق ہوتا ہے اس بارے میں توبہت ہی سخت گیری سے کام لیتے ہیں ‘‘۔
ہم میں سے بہت سے لوگ حضرت علی علیہ السلام کے بھائی جناب عقیل کی داستان کو جانتے ہیں جو نابینا ہو چکے تھے اور کافی عیالدار تھے ،بعض اوقات ان کی اولاد فاقوں سے وقت گزار دیتی تھی،کیونکہ انہیں بیت المال سے جو وظیفہ ملاکرتا تھا وہ نہایت ہی ناکافی ہوتا تھا،انھوں نے ایک دن حضرت علی علیہ السلام کی دعوت کی تا کہ وہ آکر اپنی آنکھوں سے بچوں کی حالت دیکھیں شاید اس طرح سے بیت المال سے وظیفہ میں اضافہ کردیں،ان کے مطالبے کو سن کر حضرت ؑ نے لوہا گرم کرکے ان کے نزدیک کیا تو ان کی چیخ نکل گئی اور کہنے لگے : ’’آپ علیہ السلام مجھے جلانا چاہتے ہیں؟میں نے کیا قصور کیا ہے جس کی آپؑ مجھے سزا دے رہے ہیں ؟‘‘امیرالمومنین ؑنے فرمایا :’’تم اس لوہے سے چیخ اٹھے ہو جسے میرے ہاتھوں نے گرم کیا ہے اور میں اس آگ سے نہ ڈروں جو قیامت کے دن غضب الہٰی سے بھڑکائی جائے گی اگر میں بیت المال سے ایک درہم بھی زیادہ تمہیں دوں تو آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنوں؟‘‘(بحارالانوار جلد ۴۱ باب ۱۰۷روایت ۲۳)
جی ہاں!حضرت علی علیہ السلام بیت المال اور اسلامی معاشرہ کے بارے میں اس قدر سختی سے کام لیتے تھے کہ بہت سے لوگ اس سے اکتا گئے تھے حتی کہ آپؑ کے بہت سے قریبی دوستوں کے لئے بھی یہ بات ناقابل برداشت تھی،حضرت کی اس قسم کی کڑی سختی خاص کر بیت المال کے معاملے میں اس بات کا باعث بن گئی کہ آپ کے کئی دوستوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا،مخالفین کا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
(۳)۔ذہنی پسماندگی۔یا۔جہالت:
امیرالمومنین کے ساتھ مخالفت کا نہایت ہی موثر عامل کہ جو ایک عمومی حیثیت کا حامل ہے اور ا سے موثر ترین اور نہایت ہی بنیادی عنصر قرار دیا جا سکتا ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں اسے بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے حتی کہ آج بھی ہمارے معاشرے کو اسی سے زیادہ خطرہ لاحق ہے وہ ہے’’جہالت‘‘یا عوام کی ذہنی پسماندگی۔
سرکار رسالتمآبؐ کے دور میں عمومی طور پرلوگ ۔(سوائے معدودے چند لوگوں کے)اسلام کے بارے میں مکمل اور گہری معلومات سے بے بہرہ تھے،بعثت کے تیسرے سال ہی آنجنابؐ کی اعلانیہ تبلیغ کا آغا زہوگیا،اور اس کے بیس سال بعد تک بڑی مشکل سے گنتی کے چند لوگ مسلمان ہوئے جبکہ لوگوںکی بڑی تعداد نے حضورؐ اکرمؐ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد اسلام قبول کیا اور وہ آپؐ کی عمر مبارک کے آخری تیسرے یا چوتھے سال میں ۔
واضح سی بات ہے کہ ایک تو رسل و رسائل اور معلومات کے وسائل بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھے دوسرے لوگوں کا تعلیمی تناسب تقریباً صفر کے برابر تھا تو حضورؐ اس محدود مدت میں کیونکر جزیرۃ العرب کے مسلمانوں کو عمیق اور وسیع تر اسلامی معارف سے آگاہ کر سکتے تھے۔اسی لئے حضور اکرم کے زمانے کا معاشرہ شدید ذہنی پسماندگی کا شکار تھا،اس قدر شدید کہ ہم اس کی حدوحدود کو صحیح معنوں میں نہیں سمجھ سکتے،اس دور کےلوگ اپنے ہی ہاتھوں سے کھجور کے بت بناتے جب تک جی چاہتا ان کی پوجا پاٹ کرتے رہتے اور جب بھوک لگتی تو انہیں چٹ کر جاتے تو یہ تھی اس دور کے لوگوں کی معلومات کی حد!!اب آپ خود ہی اندازہ لگائیے کہ اللہ کا پاک رسولؐ کس حد تک جگر کا خون پئے اوران لوگوں کو توحید سے آشنا کرے؟اور انہیں اس خدا سے آشنا کرے جو جسم و جسمانیت سے پاک اور ان آنکھوں سے قابل دید نہیں ہے اور انہیں اس خدا کے دئیے ہوئے معارف سے آگاہ کرے؟ایسے لوگوں کے لئے جن کی معلومات کی سطح اس حد تک گری ہوئی تھی اس بات کا قبول کرنا بڑا مشکل تھا کہ حضور رسالتمآبؐ کی وفات کے بعد کسی ایسے شخص کی رسول کی مانند اطاعت کریںجو رسول نہیں ہے !اگر وہ انتہائی درجے کے ایمان کے حامل تھے اور کسی حد تک تسلیم کرنے کے لئےآمادہ بھی تھے تو صرف اتنا کہ ’’اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ‘‘نبی گرامی مومنین کے نفسوں پر تصرف کرنے کے لئے خود ان کی ذات سے  زیادہ حق رکھتا ہے (احزاب؍۶)کے پیش نظر صرف حضور نبی کریمؐ کی ذات کی اطاعت کو قبول کریں،رہی رسول خدا ؐ کے بعد کسی اور کی اطاعت کے وجوب کی بات تو ان کے لئے بڑی آسانی کے ساتھ اس کا ہضم کرنا مشکل تھا۔
جمہوریت ایک سقیفائی ’’تحفہ‘‘
اس زمانے کے لوگ جن کی فکرو معلومات کی سطح اس حد تک معمولی تھی کہ ہزارکوششوں کے باوجود وہ صرف حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اطاعت کے وجوب پر ہی راضی ہوئے تھے،لیکن جب آپؐ کی رحلت ہوگئی،چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ کسی کا نام نہیں لیا تھا کہ ’’فلاں شخص بھی ’’اولی بالمومنین ‘‘ہے ‘‘لہٰذا ان سادہ لوح مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد آپؐ کے جانشین کا تقرر خود لوگوں کے ہاتھ میں ہے یا آج کل کی اصطلاح میں یہ ایک جمہوری مسئلہ ہے،اگر ایک گروہ کہ جو اہم شخصیات پر مشتمل تھا کہنے لگا:’’اگر نبوت کے بارے میں ہمیں کسی قسم کی مداخلت کا حق حاصل نہیں تھا کم از کم اس کےجانشینی کے مسئلہ میں تو ہمیں یہ حق ضرور ملنا چاہئے‘‘۔(بحارالانوار جلد ۳۷ باب ۵۲ روایت ۴۰)یہ وہ لوگ تھے جن کا عام طور پر قبائل کے رؤسا سے تعلق تھا اور معاشرہ میں ان کا ایک مقام تھا ۔جس طرح ہمارے بعض حضرات ہوتے ہیں۔اور وہ اپنے لئےایک خاص مقام ومنزلت کے قائل تھے،انھوں نے از خود ایک ’’حدیث‘‘بنائی کہ ’’پیغمبر ؐ خدا نے فرمایا ہے کہ نبوت اور امامت ایک خاندان میں اکٹھی نہیں ہو سکتی ‘‘(ایضاً جلد ۲۷ باب ۹ روایت ۱۵)
انھوں نے یہ حدیث اس لئے گڑھی ہے تا کہ اپنے لئے رسولؐ خدا کی جانشینی اور لوگوں پر حکومت کی راہ ہموار کر سکیں،اب آپ خود ہی اندازہ کیجئے کہ کتنے عوامل ہیں کہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ملاکر ولایت کے سد راہ ہو گئے اور علی علیہ السلام کو ان کے حق سے محروم کر دیا،وہ عوامل یہ تھے،لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، ان کی دینی معلومات پہلے تو تھی نہیں اگر تھیں تو بالکل سطحی اور ادنیٰ درجے کی،گہرے اور عمیق ایمان کا فقدان اور بعض شیطان صفت لوگوں کا غلط پروپیگنڈا۔
اگر چہ عوام الناس سادہ لوح تھے اور ان کی معلومات بھی ادنیٰ درجے کی تھیں لیکن جو سیاستدان تھے وہ اس قدر مشاق تھے کہ آج کی ترقی یافتہ دنیا کے سیاستدانوں کو ان سے سبق لینا چاہئے اور ان کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرنا چاہئے اور یہ باور نہیں کرنا چاہئے کہ سقیفہ کا ماجرا کوئی معمولی واقعہ تھا اور ان کے افراد نے اتفاق سے اکٹھے ہو کر رسول گرامیؐ کے جانشین کا انتخاب کرلیا ،انھوں نے کافی عرصہ پہلے سے اس کا نقشہ تیار کیا ہوا تھا،بلکہ اقرار نامے لکھ کر ان پر دستخط بھی کر چکے تھے کہ رسولؐ خدا کے بعد کس شخص کو کھڑا کیا جائے اور اس کا پیغمبر کا خلیفہ اورجانشین کے عنوان سے تعارف کرایا جائے اس کام کے لئے ہر کسی کو پیش نہیں کیا جا سکتا،بلکہ وہ شخص ہونا چاہئے جو رسول خداؐ کی زوجہ محترمہ کا والد ہو، اس کی ریش مبارک سفید ہو اور اس کا شمار ان افراد میں ہوتا ہو جو سب سے پہلے حضورؐ کی ذات پر ایمان لاچکے ہوں،حضور پاک کا یار غار بھی ہو،اسی قسم کے آدمی کو پیش کیا جاسکتا تھا،اسی لئے منظور نظر شخصیت کا پہلے ہی سے انتخاب ہو چکا تھا اور بطور خلیفہ اس کو منتخب کر لیا گیا تھا،اب صرف اعلان کی دیر تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے کس طرح پیش کیا جائے؟اس کام کے لئے باقاعدہ ایک نقشہ تیار کر لیا گیا تھا،کہنے لگے:’’ایک شوریٰ بنا دیتے ہیں اس میں بیٹھ کر پہلے تو بحث و مباحثہ کریں گے پھر رسولؐ خدا کے ایک خسر محترم کھڑے ہوکر کہیں گے کہ میں تو خلیفہ اول کی بیعت کرتا ہوں ان کے بعد دوسرا آدمی کھڑا ہو جائے گا وہ بھی اسی طرح کہے گا پھر دوسرا پھر تیسرا بالآخر منصوبے پر عمل ہو جائے گا اور ہوا‘‘اور ہوا بھی وہی جو انھوں نے چاہا۔
رسول خداؐ نے ستر دن پہلے علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا :’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہٗ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہٗ‘‘(بحار جلد ۲۸ باب ۴ روایت۱) لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سقیفہ میںکسی ایک شخص نے بھی یہ نہ کہا:’’رسولؐ خدا نے کس شخص کو خلیفہ مقرر کیا تھا؟‘‘وہاں کون موجود تھے؟وہی جنھوں نے بدر سے لے کر حنین کی جنگوںمیں شرکت کی تھی اور ایک عرصے تک اسلام کی راہ میں تلوار چلاتے رہے تھے،کسی نے بھی نہیں کہا کہ رسولؐ پاک نے ستر دن پہلے غدیر خم کے مقام پر کس کو خلیفہ مقرر کیا تھا؟کیونکہ انھوں نے پہلے ہی سے یہ منصوبہ تیارکر لیا تھا کہ مسلمانوں پر خود ہی حکومت کریںگے۔
ہو سکتا ہے کہ یہاں پر کوئی شخص یہ بات کہے کہ:اس دور کی حکومت کی کوئی آمدنی ہی نہیں تھی حتی کہ خلیفہ اول چٹائی بنابنا کر اپنا گزر اوقات کیا کرتے تھے ،تویہ کام ان کے لئے کس حد تک فائدہ مند تھا؟جواب میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ’’حکومت کی خواہش‘‘ایک ایسی پیاس اور آتش ہے کہ اگر کوئی اس کا شکار ہو جائے اسے کہیں کانہیں چھوڑتی،رسول پاکؐ کا جانشین ہونا کوئی معمولی اہمیت کا حامل نہیں تھا،یہاں تخت و تاج اور محل اور قصر پیش نظر نہیں تھا حتیٰ کہ ایک گھوڑا بھی خلیفہ کے نصیب میںنہیں تھا،لیکن ’’خلیفہ‘‘ہونا بہت بڑا اعزاز تھا کیونکہ رسول خداؐ کی جانشینی اور لوگوں پر حکومت بڑی بات اور جاذب نظر تھی۔
اس دن کچھ شیطان صفت اور مکار لوگ عوام میں داخل ہوگئے اور تدبیریں کرنے لگے کہ لوگوں کو کس انداز میں اپنا بنایا جا سکتا ہے؟اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے دورانیہ میں اس قبیل کے افراد نے ہر مناسب موقع و محل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کے گمراہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیںچھوڑی اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔
اس روز بھی اس طرح کے لوگوں نے اس قسم کی منصوبہ بندی کی کہ معاشرہ کی راہ کو کیونکر بدلاجائے،کس قسم کا پروپیگنڈا کیا جائے اور کونسا نعرہ لگایا جائے کہ جس سے لوگ خود گمراہ ہوں؟کیونکہ لوگوں کے گمراہ کرنے میں یہی شیطان صفت زیرک لوگ منصوبہ سازی کرتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال بھی ان کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے ہیں اور قیامت کے دن بھی یہی لوگ عظیم ترین اور المناک ترین عذاب کے مستحق ہوں گے اس لئے کہ قیامت تک جو لوگ بھی گمراہ ہوتے رہیں گے وہ ان کے گناہوں میں برابر کے شریک ہوں گے اور ان کی تعداد چند گنے چنے افراد سے زیادہ نہیں تھی۔
بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ انھوں نے کہا:پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم لوگوں کے دین کے ضامن تھے اور ان کی اطاعت بھی دینی امور کے بارے میں ہمارے اوپر واجب ہے اور اب بھی ان کی وفات کے بعد ان کے بارے میں ہماری محبت میں بال برابر کمی نہیں آئی آج بھی ہم ان پر درود بھیجتے ہیں،ان کی ذات کا احترام کرتے ہیں،وہ صرف ہمارے دین کے کفیل تھے،اب جبکہ انھوں نے ہمارے لئےعترت اور قرآن ورثے میں چھوڑے ہیں اور خود ہم سے جدا ہوگئے ہیں،ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی دنیا کو سنوار نے کے لئے کچھ کریں اور خود ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا خلیفہ اور جانشین منتخب کریں تو اس طرح سے سقیفہ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ انھوں نے ’’اسلامی ڈیموکریسی‘‘کی بنیاد رکھی اور یہ نظریہ دیا کہ ’’عوام ہی کو رسول خداؐ کا خلیفہ منتخب کرنے کا حق حاصل ہے‘‘۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ’’ڈیموکریسی‘‘یا ’’جمہوریت‘‘ہمیں مغرب کی طرف سے سوغات میں ملی ہے لیکن یہ آج کی جدت نہیں ہے بلکہ سقیفہ کے منصوبہ سازوں کا منحوس ہدیہ ہے جنھوں نے لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کرائی ہے کہ عوام ہی اپنے حکمران کا انتخاب کر سکتے ہیں۔حضرت رسولؐ خدا نے فرمایا :’’خدا نے علیؑ کو مقرر فرمایا ہے‘‘لیکن ان لوگوں نے کہا :’’ہم اپنے لئے خود ہی رسولؐ کے جانشین کا انتخاب کریں گے‘‘تو اس طرح سے سقیفہ میں ڈیموکریسی کی بنیاد رکھی گئی۔
سیکولرازم کا نقطہ آغاز’’سقیفہ‘‘
سقیفہ کی ایک اور ’’منحوس سوغات‘‘جو مسلمانوںکو نصیب ہوئی ’’سیکولرازم‘‘ہے جبکہ بہت سے لوگوں کا تصوریہ ہے کہ یہ دنیائے عرب کی پیشکش ہے اور تازہ وجود میں آیا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’سیکولرازم ‘‘کی بنیاد اور دین سے سیاست کی جدائی کا نظریہ بھی سقیفہ میں ہی معرض وجود میں ،انھوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ’’حضور سرورکائناتؐ نے جو احکام،قرآن اور فرامین خدا کی طرف سے پیش کئے ہیں ان سب کا تعلق دین سے ہے اور دین کا دنیوی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے،دنیا کا حساب،آخرت سے علیحٰدہ ہے،حکومت کا مسئلہ بھی دنیاداری سے متعلق ہے،دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے،حضور پاکؐ نے جو کچھ فرمایا تھا اس کا دین سے تعلق تھا،حضرت ؐ نے فرمایا نماز پڑھو،روزہ رکھو،حج بجالاؤ وغیرہ تو ہم نے بھی انہیں مانا اور ان پر عمل کیا،لیکن ان میں سے کسی ایک کا بھی حکومت اور سیاست سے تعلق نہیں ہے‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ انھوں نے ان مسائل کو بھی اسی طرح قبول نہیںکیا تھا جس طرح کہ حضورؐ پاک نے فرمایا تھا،لیکن بہرحال کہا یہی کہ ان مسائل کا تعلق دین کے ساتھ ہے،لیکن یہ بات کہ کون شخص رئیس مملکت ہو،کون احکام صادر کرے،کون بیت المال کو اکٹھا کرے،کون عدالتوں کے لئے حاکم اور قاضی مقرر کرے؟اور اس طرح کے دوسرے مسائل،یہ سب دنیوی امور سے متعلق ہیں،جن کا پیغمبر گرامیؐ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے،یہ لوگوں کا کام ہے کہ وہ اپنی آراء (Votes)سے اسے منتخب کریں کہ کون صاحب یہ کام انجام دیں؟اس کے بعد کچھ لوگ جمع ہوگئے جن کے بارے میں کہا جانے لگا کہ ’’یہ حضرات اہل حل و عقد ہیں ‘‘مسلمانوں نے انہیں رائے (Votes)دیدئیے،خلافت کا عہدہ ان کے سپرد کر دیا گیا اور بات ختم ہوگئی۔
پس بنابریں سقیفہ میں دو اہم مسئلوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ایک ’’سیکولرازم‘‘اور دوسرے’’جمہوریت‘‘اور تب سے اب تک ہمارے لئے ایک کسوٹی کی صورت اختیار کرگیا جس سے ہم ایک دوسرے کو پرکھ سکتے ہیں کہ ’’سقیفائی‘‘ہیں یا ’’علوی‘‘ہیں؟۔
اُس دن کہنے لگے کہ دین کا معاملہ دنیا سے الگ ہے اور حکومت کا معاملہ خود عوام کے ہاتھ میں ہے اور آج بھی ہم میں سے کچھ روشن خیال ایسے ہیں نیز ارباب حکومت بھی جو ان روشن خیالوں سے مرعوب ہیں انہی الفاظ کو دہراتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :دین کا معاملہ علیحٰدہ ہے اور دنیا کا معاملہ علیحٰدہ ہے،یہ لوگوں کا کام ہے کہ خود ہی اپنے لئے حکمرانوں کا چناؤ کریں اور وہ امام خمینیؒ کے اس فرمان سے ناجائز مفاد اٹھاتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا ہے:’’اصل معیار قوم کی رائے ہے‘‘اور وہ سمجھتے ہیں کہ امام خمینی ؒنے یہ جملہ تمام موارد کے لئے فرمایا ہے حتیٰ کہ اگر لوگ’’خدا نہیں ہے‘‘کےبارے میں بھی رائے (Votes)دیدیں تو ان کی رائے معتبر مانی جائے گی،حالانکہ ایسا نہیں ہے ،امام خمینی ؒنے یہ صرف ایک موقع کے لئے فرمایا تھا جب کہ کچھ لوگ آگے بڑھ کر بعض افراد کو اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے نامزد کرنا چاہتے تھے تا کہ اس طرح سے وہ لوگ اسمبلی میں پہنچ کر ان کے لئے قوانین وضع کریں۔
امام خمینیؒنے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا تھا:’’تمہیں کوئی حق حاصل نہیں ہے،یہ عوام ہی ہوں گے جو اپنی طرف سے نمائندے منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجیں گے‘‘لہٰذا ان کا یہ فرمان ممبر ان اسمبلی کے اور دوسرے انتخابات کے بارے میں ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کے تشکیل شدہ آئین میں مذکور ہے،فرمایا:’’معیار قوم کی رائے ہے‘‘اور امامؒکا یہ فرمان ان موارد کے بارے میں ہے جو ملک کے آئین میں مذکور ہیں،جبکہ خود آئین بھی اسی صورت میں معتبر سمجھا جاتا ہے جسے ولی فقیہ کی تائید اور تصدیق حاصل ہے ،بنابریں لوگوں کی رائے بھی اس وقت معتبر ہے جب ولی فقیہ نے اسے معتبر قرار دے کر اس کی تصدیق و تائید کی ہو۔
حضرت امامؒ کا لوگوں کی رائے کو معیار قرار دینا اس مقصد کے لئے نہیں تھا کہ اگر لوگ آئین کے بارے میں اس کے غلط اور جھوٹا ہونے کی رائے(ووٹ)دیں تو وہ جھوٹا ہی سمجھا جائے گا ،یا یہ رائے دیں کہ اسلام نہ ہو اور ولایت فقیہ نہ ہو!!کون عقلمند اسے صحیح سمجھے گا؟کوئی سبک سرہی ہوگا جو کہے گا کہ ان امور کے بارے میں ملت کی رائے معیار ہوگی۔
جس شخصیت نے اپنی ساری زندگی اسلام اوراحکام دین کے احیاء کے لئے صرف کردی ہو اور ہر وقت جس کا ورد زبان ہی اسلام اور اسلامی احکام کا نفاذ ہو تو کیا وہ شخصیت اس بات کی اجازت دے گی کہ لوگ آئین اور اسلام کو منسوخ کردیں؟آیا اس شخصیت کا نظریہ یہی تھا کہ معیار عوام کی رائے ہے خواہ وہ اسلام کے خلاف ہی ہو؟۔
بہرحال یہ سقیفہ ہی تھا جس نے سب سے پہلے دین اور حکومت کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا اور اس چیز کی بنیاد سب سے پہلے وہیں رکھی گئی کہ دین اور دینی مسائل کے بارے میں رسولؐ خدا اور علی مرتضیٰؑ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے اور حکومت اور سیاست کے متعلق دوسروں کی طرف !!حتی کہ خلیفہ اول اور دوم بہت سے دینی مسائل کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کے پاس آیا کرتےتھے اور انہیں اس بارے میں کسی قسم کا مضائقہ بھی نہیں تھا اور یہ جو حضور پاکؐ نے حدیث ثقلین میںاہل بیت علیہم السلام کی طرف رجوع کرنے کی سفارش کی تھی اسے بھی وہ دینی مسائل میں رجوع کرنے پر محمول کرتے تھے،بالفاظ دیگر حضرت علی علیہ السلام نے دینی مسائل دوسروں سے زیادہ یاد کئے ہوئے تھے۔
آج بھی مکتب خلفاء کے بہت سے لوگ ہیں جو اسی بات پر اعتقاد رکھتے ہیں،حتی کہ بعض شافعی مذہب کے لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ ائمہ اثنا عشر علیہم السلام دین کے مرجع تھے،یعنی دین انہی لوگوں سے سیکھا جا سکتا ہے اور جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے جو روایات ان مقدس ہستیوں کے بارے میںبیان ہوئی ہیں وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں،ان کے خلیفہ ہونے پر نہیں۔
یہ وہی بعینہ دین اور سیاست کی جدائی کا نظریہ ہے اور روشن خیالی کا تصور ہے کہ دین اور حکومت و سیاست دو علیحٰدہ چیزیں ہیں جس کی بنیاد ردر حقیقت سقیفہ میں رکھی گئی تھی۔
دین سیاست سے جدا نہیں ’’ولایت علی علیہ السلام اس کا عملی نمونہ ہے‘‘
مذکورہ تفصیل کے پیش نظر یہ بات بخوبی روشن ہو جاتی ہے کہ کس لئے سرکار رسالتمآبؐ اور حضرات ائمہ اطہار علیہم السلام نے علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت پر اس قدر زور دیا ہے اور بار بار اس کی کیوں تاکید فرمائی ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی ولایت پر اس قدر زیادہ تاکید کی ایک حکمت عملی یہ بھی ہے کہ سیاست دین سے جدا نہیں ہے اور یہ جو احادیث میںہے کہ ’’اگر علی کی ولایت کا انکار کرو گے تو تمہارا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہوگا،تمہارا ایمان ناقص ہوگا وغیرہ‘‘تو اس کا ایک  بنیادی عنصر یہی مسئلہ ہے ،یعنی اگر علی علیہ السلام کی ولایت کے بارے میں ایمان کمزور ہوگا تو نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ کہیں گے:’’دین سے سیاست کو الگ رکھنا چاہئے،دین تو صرف مسجدوں امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں تک محدود ہے،جاؤنمازیں پڑھو،اذانیں دو،ماتم کرو،زنجیر مارولیکن حکومت اور سیاست سے کوئی کام نہ رکھو‘‘جیسا کہ آج کل ’’روشن خیالی‘‘کے اس نظرئیے کی بڑے دھوم دھام سے ترویج کی جا رہی ہے۔
مولاعلی علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس بات کو تسلیم کریں کہ ’’علیؑآقا دینی رہبر بھی ہیں اور سیاسی رہبر بھی‘‘ورنہ اگر کوئی آپ علیہ السلام کی دینی رہنمائی کو تو مانے اور رسول خدا کے بعد آپ علیہ السلام کی سیاسی رہنمائی کا انکار کرے تو ایسا شخص امیرالمومنین ؑ کی ولایت کا قطعاً منکر ہے،اسی لئے علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنا در حقیقت سیکولرازم کے انکار کے مترادف ہے،اسی طرح آنجناب کی ولایت آج کے یورپ کی اختراع کردہ ڈیموکریسی کے ساتھ کسی صورت میں اکٹھی نہیں ہو سکتی کیونکہ :
ولایت علی علیہ السلام کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی گئی ہے کہ 
(۱)۔حاکم کو خدا مقرر فرماتا ہے۔
(۲)۔حکومت کو قانونی حیثیت دینا اسی کا کام ہے۔
(۳)۔جو لوگ اپنی ذات پر حق حکومت نہیں رکھتے وہ کیونکر خلق خدا کا اختیار کسی کو دے سکتے ہیں ؟
یعنی آیا مجھے حق حاصل ہے کہ میں اپنا ہاتھ کاٹ ڈالوں؟آیا شریعت میں مجھے یہ حق دیا گیا ہے؟حتی کہ میں تو اتنا چھوٹا سا اختیار بھی نہیں رکھتا کہ اپنے جسم پر ایک معمولی سا زخم بھی لگا دوں تو پھر مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ میں یہ اختیار کسی اور کو دیدوں کہ جو شخص چوری کرے تو وہ اس کا ہاتھ کاٹ دے؟جب میں خود اپنے ہاتھ کاٹنے کا اختیار نہیں رکھتا تو دوسرے کے ہاتھ کاٹنے کا اختیار مجھے کیسے مل سکتا ہے؟کیونکر کسی دوسرے کو یہ اختیار دے سکتا ہوں؟۔
ممکن ہے یہاں پر کوئی شخص یہ کہے کہ چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم آج سے چودہ سو سال پہلے کے لئے ہے۔جیسا کہ آج کے روشن خیال لوگ یہی کہتے ہیں کہ اس قسم کے احکام کا وقت ختم ہو چکا۔
ہم کہیں گے کہ ٹھیک ہے،زندان کے حکم کو تو قبول کرتے ہو؟یا نہ بلکہ چور کے ساتھ خوش ہوکر پیش آتے ہو؟چلو اگر زندان ہی کو مانتے ہو تو پھر مجھے کیا حق حاصل ہے کہ میں کسی کو زندان میں ڈال دوں؟ یا کسی اور کو حکم دوں کہ کسی کو قیدخانے میں بند کردے؟اور مجھے یہ اختیار کس نے دیا ہے؟۔
یہ تو خدا کی ذات ہی ہے جو اپنے تمام بندوں کے اختیارات کی مالک ہے اور وہ ہی اس قسم کے اختیار دے سکتی ہے،اگر وہ خدا کسی حکومت کو قانونی نہ بنائے اس حکومت کو کیا حق حاصل ہے کہ خدا کے بندوں میں کسی قسم کا تصرف کرے؟۔
پس جو شخص ولایت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو مانتا ہے وہ رائج الوقت ڈیموکریسی (جمہوریت)کو قبول نہیں کر سکتا خواہ ڈیموکریسی کی کتنی بھی تعریف و تمجید کرے حتی کہ اسے پوستش و پوجا پاٹ کی اس حدتک لے جائے کہ کسی کو اس کے خلاف بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
اس کے باوجود پھر بھی کچھ لوگ ہیں جو بلند آواز سے کہتے ہیں کہ :’’جمہوریت (ڈیموکریسی)اسلام کے بالکل سازگار نہیں ہے،اسلام مطلقاً’’اللہ‘‘کی حاکمیت کا قائل ہے،جبکہ ڈیموکریسی کا معنی یہ ہے کہ ’’انسان‘‘اور’’عوام‘‘کا مطلق ارادہ اور ان کی خواہش ،تو پھر کیونکر ان دونوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے؟ولایت علی علیہ السلام کا مقصد ہے مخلوق خدا کے درمیان حکومتِ اللہ کو حقیقت بخشنا،یا تو اللہ کی حکومت کو تسلیم کیا جائے یا بندوں کی حکومت کو ارشاد ہوتا ہے:’’أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ ھٰذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیْمٌ‘‘اے آدمؑ کی اولاد!کیا میں نے تمہارے ساتھ عہد نہیں کیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری عبادت کرو،یہی سیدھا راستہ ہے۔(یونس؍۶۰تا۶۱)
عبادت مخصوص ہے خداوندذوالجلال کے لئے اور جو بھی اس کے خلاف ہوگی وہ بت پرستی ہوگی خواہ وہ بت،پتھر کے ہوں یا کھجور کے پھل کے،یا گوشت و پوست اور ہڈیوں کا مجموعہ (انسان)ہوں یعنی خدا کے علاوہ جس کی بھی پوجا کی جائےگی وہ بُت ہوگا۔
ولایت علی یعنی :
خداوندعالم کی خالص توحید کا مظہر،خداوندیگانہ کی پرستش یعنی صرف ایک خدا کی حاکمیت اور حکومت کو قبول کرنا جس کا نام ’’اللہ‘‘یعنی اللہ کی حکومت!خداوندیگانہ کی حکومت نہ کہ سرداروں کی حکومت ،نہ کہ وڈیروں کی حکومت ،نہ کہ زور آوروں کی حکومت،نہ کہ دھوکہ بازوں کی حکومت،نہ کہ عوام کی حکومت۔بلکہ صرف اور صرف اللہ کی حکومت 
ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت۔موالیان اہل بیتؑ ۔کو عطا فرمائی ہے:’’اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِیْنَ بِوِلَایَۃِ اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ؑ وَالْاَئِمَّۃِ الْمَعْصُوْمِیْنَ علیھم السلام‘‘۔
(ماہنامہ اصلاح لکھنؤ، امیرالمومنینؑ نمبر، رمضان ۱۴۴۰ھ)

قرآن ناطق کی شہادت

قرآن ناطق کی شہادت
آیۃاللہ العظمیٰ وحید خراسانی مد ظلہ
ماہ رمضان کو جس بات نے دوسرے تمام مہینوں سے ممتاز کیا ہے دو چیزیں ہیں کہ ایک قرآن اس مہینے ہی نازل ہوا ۔ اور ایک قرآن اس مہینہ میں اوپر گیا ۔ اس قرآن کے نزول اور اُس قرآن ناطق کے عروج نے اس مہینہ کو اکسیر احمر کردیا ہے جس کی وجہ سے اس میں قلب و انقلاب کی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔ 
۲۱؍ رمضان کو جب امام حسنؑ دفن امیر المومنین ؑ سے واپس ہوئے تو بالائے منبر تشریف لے گئے اور فرمایا :
’’ آج رات تم سے وہ رخصت ہوا ہے جس سے علم میں گزشتگان سبقت نہیں لے جاسکے اور آنےوالے بھی علم و حلم میں ان کو درک نہیںکرسکے۔ ان کو رسول اکرمؐ پر چم عطا فرماتے اور وہ دشمنوں سے قتال کرتے جبکہ جبرئیل داہنی جانب ہوتے اور میکائیل بائیں جانب خدا کی قسم انہوں نے اپنے بعد کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا سوائے سات سو درہم کے جو آپ کے حصے کا بیت المال سے بچا تھا جس سے آپ اپنے گھر والوں کےلئے خادم خریدنا چاہتے تھے وہ اس رات میں دنیا سے رخصت ہوئے جس میں عیسیٰ بن مریم آسمان پر گئے اور اس رات موسیٰ پر تو ریت نازل ہوئی ۔ (اصول کافی جلد ۱ ص ۴۵۷)
ان کلمات پر غور کیجئے۔ اولین و آخرین کون ہیں۔ گزشتگان میں جناب آدم سے جناب عیسیٰ تک۔ یعنی ایسی ذات رخصت ہوئی کہ اس میدان میں گزشتگان میں کوئی سبقت نہیں لے جاسکا۔ اور آخرین میں آنے والوں میں قیامت تک کوئی بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ 
یہ ذات کون ہے ؟ امام احمد ابن حنبل نے نقل کیا:
’’ والذی نفسی بیدہ لولا ان تقول طوائف من امتی فیک ما قالت النصاریٰ فی ابن مریم لقلت الیوم فیکا مقالاً لا تمرّ یملأ من المسلمین الا خذوا التراب من تحت قدمیک للبرکۃ ‘‘ 
( شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۹ ص ۱۶۷، ینابیع المودۃ ، قندوزی جلد ۲ ص ۴۸۷۔۔) 
خدا کی قسم ! اے علی! اگر مجھے اپنی امت سے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ وہ تمہارے بارے میں وہی کہنے لگیں گے جو عیسائی جناب عیسیٰ کے لئے کہتے ہیں تو میں تمہارے بارے میں وہ بتاتا کہ لوگ تمہارے قدموں کے نیچے کی خاک تبرک کے لئے اٹھاتے‘‘۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں تمہارے مقام و مرتبہ کو بیان کردوں تو جس طرح عیسائی انجیل کے نازل ہونے کے بعدتثلیث کا شکار ہوگئے اور عیسیٰ کو خدا کا شریک قرار دے دیا۔ اگر میں تمہارے تمام فضائل و مناقب بیاں کروں تو لوگ تمہارے بارے میں بھی گمراہی کا شکار ہوجائیں گے۔ 
گویا یہ حدیث بیان کررہی ہے کہ امیر المومنینؑ کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا اس سے زیادہ پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
ان احادیث پر غور کیجئے :
امام ابن حنبل کا بیان ہے :رسول اکرمؐ نے فرمایا : جو بھی چاہتا ہے کہ آدمؑ کو ان کے علم میں دیکھے نوح ؑکو ان کے عزم میں دیکھے ابراہیمؑ کو ان کے حلم میں موسیٰ ابن عمران کو ان کی فطانت و ذہانت میں عیسیٰ بن مریم کو ان کے زہد میں دیکھے تو ’’فلینظر الیٰ علی ابن ابی طالب‘‘ وہ علیؑ ابن ابی طالب کو دیکھے۔ ( شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید جلد ۹ ص ۱۶۸، ینابیع المودۃ ، قندوزی جلد ۱ ص ۳۶۳)
لہٰذا قابل غور تو یہ ہے کہ جب بیان کیا ہوا یہ ہے تو پھر جو بیان نہیں فرمایا وہ کیا ہوگا ؟!!
صحیح بخاری جو اہل سنت کے نزدیک سب سے برتر کتاب ہے اس میں ذکر ہوا ہے :’’ علی منی و انا من علی ‘‘
پیغمبرؐ نے فرمایا علی مجھ سے ہیں اور میں علیؑ سے ہوں‘‘ 
( صحیح بخاری جلد ۳ ص ۱۶۸، کتاب الصلح و جلد ۴ ص ۲۰۷، باب مناقب علی ابن ابی طالب ؑ و جلد پانچ ص ۸۵ باب عمرۃ القضا)
 ماہ رمضان میں فرمایا :
 ’’ اے علیؑ جو تمہیں قتل کرے اس نے مجھے قتل کیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۱؍ رمضان کو علیؑ کی شہادت نہیں ہے بلکہ پیغمبر ؐ خاتم کی شہادت ہے ۔ تمام شیعوں کی ذمہ داری ہے کہ اس دن پیغمبرؐ اکرمؐ کی عزا برپا کریں۔ اس کلمہ کا مطلب صرف شیعوں کے لئے نہیں بلکہ اہل سنت کے لئے بھی یہ ہے کہ اس دن پیغمبرؐ کی عزا کا دن ہے۔ 
اس کے بعد پیغمبرؐ نے دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا :
 ’’ اے علیؑ کیونکہ تمہاری روح میری روح سے ہے ، تمہاری طینت میری طینت سے ہے گویا تمہارا بدن مجھ سے ہے تمہاری جان مجھ سے ہے ، لہٰذا تمہارے دنیا سے جانے کا دن میری رحلت کا دن ہے ‘‘۔
 رسول اکرمؐ نے فرمایا :’’ اے علیؑ جس نے تمہیں قتل کیا اس نے مجھے قتل کیا ، جس نے تم سے دشمنی و بغض رکھا اس نے مجھ سے دشمنی کی ، جس نے تمہیں برا کہا اس نے مجھے برا کہا، اس لئے کہ تم میری جان و نفس ہو۔ تمہاری روح میری روح ہے، تمہاری طینت میری طینت ہے۔
(ینابیع المودۃ قندوزی جلد ۱ ، ص ۱۶۸و بحار الانوار جلد ۴۲ صفحہ ۱۹۰و جلد ۹۳ صفحہ ۳۵۸و امالی شیخ صدوق صفحہ ۱۵۳)۔
لہٰذا آپ تمام حضرات کی ذمہ داری ہے کہ ۲۱؍ ماہ صیام کو خاتم الانبیاءؐ اور امیر المومنینؑ کے شایان شان غم منائیں اور مجالس عزا برپا کریں۔ 
(ترجمہ سید محمد حسنین باقری)٭…٭…٭

حضرت علی علیہ السلام کے چالیس فضائل

حضرت علی علیہ السلام کے چالیس فضائل
آیۃاللہ سید طیب آغا جزائری طاب ثراہ

(۱) کعبہ میں ولادت
بوقت زادن عیسیٰ ندا از آسماں آمد

کہ بیرون حضرت مریم رود از مسجد الاقصیٰ
سوائے حیدر صفدر کرا این منقبت حاصل

کہ شد در  خانہ پاک خدائے لم یلد پیدا
( ملا علی حسن جائسی)
 (۲) مسجد میں شہادت :
کسی را میسر نشد این سعادت بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
(۳) شب ہجرت نفس کی تجارت:
 مولا علی امام ہے کل کائنات کا مظہر ہے دو جہاں میں خدا کے صفات کا
بستر دیا نبی نے تو اللہ نے رضا انعام یہ ملا ہے فقط ایک رات کا
(۴) تا ابد مومنین کی امارت
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ  (النساء/۵۹)
(۵) تا قیامت سر پر تاج ولایت :
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ﴿٥٥﴾ وَمَن يَتَوَلَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ﴿٥٦﴾(المائدہ ۵۵/۵۶)
(۶) علی ؑ مسلم اول :
 مسلم اول شہ مردان علیؑ عشق را سرمایۂ ایمان علیؑ
از ولائے دود مانش زندہ ام در جہاں مثل گہر تابندہ ام
زمزم ار جوشد ز خاک من از وست مے اگر ریزد زتک من ازوست
نرگسم وا رفتۂ نظارہ ام درخیابانش چوبو آورہ ام ( علامہ اقبالؔ )
(۷) علیؑ مصدّق اول : ( دعوت ذو العشیرہ میں)
(۸) علیؑ مصلّی ٰ اول : ( سات سال تک رسول اللہؐ کے پیچھے تنہا نماز پڑھی فقط حضرت خدیجہ  آپ کے پیچھے نماز پڑھتی تھیں)
 (۹) علیؑ امام اول  (۱۰) علیؑ علمدار اول ، (۱۱) علی ؑ وصی رسولؐ ِ(۱۲) علیؑ زوج بتول ، (۱۳) علیؑ اعلم الناس ، (۱۴) علیؑ اقویٰ الناس ۔ (۱۵) علیؑ اسخی الناس ، (۱۶) علیؑ افضل الناس ، (۱۷) علی ؑ اکمل الناس۔ (۱۸) علیؑ اعدل الناس۔ (۱۹) علیؑ اجمل الناس۔ 
علی افضل علی اکمل علی اعدل علی اجمل علی عالی علی والی علی یعلو ولا یعلی
شکیل ایسے کہ بہتر روئے انور ماہ کامل سے کریم ایسے بدی کا حرف زائل یک قلم دل سے
سخی ایسے کہ جیتے جی لیا بدلہ نہ قاتل سے ضعیف ایسے کہ توڑی نان جو حضرت نے مشکل سے
قوی ایسے کہ دروازہ اکھاڑا شہ نے خیبر کا
(۲۰) علیؑ کی محبت ہر وبال کی ڈھال ، (۲۱) علیؑ امام انس و جان ، (۲۲) قسیم الجنۃ والنار۔ 
علیٌ حبہ جنۃ امام الانس والجنۃ
وصی المصطفیٰ حقا قسیم النار والجنۃ ( امام شافعی)
(۲۳) صدیق اکبر: ( انا صدیقۃ الاول صدقۃ و آدم بین الروح والجسد) ( امالی شیخ مفید ص ۱۰)
(۲۴)فارق بین الحق والباطل ، ( قال رسول اللہ ستکون بعدی فتنۃ فاذا کان ذالک فالزموا علی بن   ابی طالب فانہ الصدیق الاکبر و فاروق بین الحق والباطل ) ( الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ ۱۶۷۷)
(۲۵) علی ؑ صراط مستقیم:
 (۲۶) علیؑ نبأ عظیم : ( قال علی علیہ السلام انا النباء العظیم انا الصراط المستقیم ) (ینابیع المودۃ ۱۵۳۲ باب ۶۸)
(۲۷) علیؑ کے گزر نامہ کے بغیر پل صراط سے گزرنا ناممکن ہے۔ : لا یجوز علی الصراط الا من کتب لہ علی الجو از ( مناقب خوازمی ص ۸۷۱طبع مصر)
حدیث مصطفیٰ شاہد کہ بی حکم شہ مرداں گزشتن از صراط حشر باشد تو ام عنقا (ملا حسن جائسی)
(۲۸) علیؑ کے چہرہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے : النظر الیٰ وجہ علی عبادۃ ( صواعق محرقہ ۱۷۵ طبع قاہرہ )
عبادت دیدن سہ شے بفرمان نبی آمد یکی کعبہ دوم قرآں سوم روئے شہ والا ( شاعر مذکور)
(۲۹) علیؑ باب علوم رسولؐ : انا مدینۃ العلم و علی بابھا ( مستدرک صحیحین ۲۷۵)
(۳۰) علیؑ فاتح خیبر: اثابھم فتحاً قریباً و مغانم کثیرۃ ( سورہ فتح آیت ۱۸۔۱۹)
 پتھر پہ علم دین کا گاڑا کس نے مرحب سے پہلواں کو پچھاڑا کس نے
اصحاب پیمبرؐ تو سبھی تھے موجود بولو در خیبر کو اکھاڑا کس نے
(۳۱) علیؑ داور محشر : ( اقول للنار ھٰذا لی فاترکیہ و ھٰذا عدوی فخذیہ) ( امالی شیخ مفید ص ۱۰)
 اقول للنار حین توقف للعرض دعیہ لا تقربی الرجلاً
دعیہ لا تقربیہ ان لہ حبلاً بحبل الوصی متصلاً ( سید حمیری)
(۳۲) علیؑ ساقی کوثر: ( قال رسول اللہ اعطیت ثلاثہ و علی مشارک فیھا واعطی علی ثلاثہ ولم اشارکہ فیھا لی لواء الحمد و علی حاملہ ولی الکوثر و علی ساقیہ ولی الجنۃ والنار وعلی قسیمھما اعطی علی صھراً مثلی ولم اعطی مثلہ واعطی زوجۃ فاطمۃ و لم اعطی مثلھا واعطی ولدیہ الحسن والحسین و لم اعطی مثلھا ( ریاض الابرار ، سید نعمۃ اللہ جزائری ۷۹)
از خود آگاہی ید اللٰہی کند از ید اللٰہی شہنشاہی کند
زیر پاش این جا شکوہ خیبر است دست او آن جا قسیم کوثر است ( علامہ اقبالؔ)
(۳۳) علیؑ خیر البشر: ( قال النبی علی خیر البشر فمن ابی فقد کفر) ( کنز العمال ۱۵۹۶ )متکلم اس کلام سے مستثنیٰ ہے۔ 
(۳۴) سیدہ کے شوہر : لولکم یکن علی لم یکن لفاطمۃ کفو آدم و من دونہ ) مناقب شہر آشوب ۲۹۲)
علیؑ و فاطمہ ؑ کے عقد سے ہم دل کو اپنے شاد کرتے ہیں یہ شادی ہے فرشتے جس کو اب تک یاد کرتے ہیں
علیؑ کو میں محمدؐ سے تو بہتر کہہ نہیں سکتا مگر اپنے سے بہتر ڈھونڈھ کر داماد کرتے ہیں 
(۳۵) علیؑ کی شان میں نزول ھل اتیٰ :
 الیٰ ما الیٰ ما وحتیٰ متیٰ الام فی حب ھٰذا الفتیٰ
وھل زوجت غیرہ فاطم وفی غیرہ ھل اتیٰ ھل اتیٰ
(۳۶) علیؑ شاہ لا فتیٰ : (تاریخ طبری ۱۹۷)
مرتضیٰ اے مرتضیٰ سوجاں سے میں تجھ پر نثار ہے تجھ ایسا کون بعد احمد و پروردگار
قطرہ باراں کا ہوجائے شمار آسان ہے پر نہیں ممکن شہا تیرے فضائل کا شمار
مرحب جرار نامی پہلوان و جنگجو ایک ضربت میں کیا اس کو روانہ سوئے نار
یاں زمیں پر اس کو مارا واں فلک پر تھی پکار لافتیٰ الا علی لا سیف الا ذو الفقار ( مفتی محمدعلی)
(۳۷) علیؑ کا ذکر عبادت ہے : ( ذکر علیٌ عبادۃ ) (صواعق محرقہ ص ۸۴ طبع قدیم)
علیؑ کا ذکر ہے خوشنودی نبی کے لئے نبی کے بعد فضائل ہیں سب علیؑ کے لئے
مجھے کسی سے محبت نہیں علیؑ کے سوا اگر کسی سے محبت ہے تو علیؑ کے لئے
سنا ہے جب سے کہ مولا لحد میں آئیں گے دعا ہی مانگی نہیں میں نے زندگی کےلئے
(۳۸) علیؑ کے نام پر بھی صلوات بھیجنا چاہئے :
 ( قال النبیؐ: یا علی لحمک لحمی و دمک دمی ) ( کفایۃُ الطالب ص ۱۳۵)
گرلحمک لحمی از حدیث نبوی ہست بی صل علیٰ نام علی بی ادبی ہست
(۳۹) علیؑ کی معراج بر دوش صاحب معراج :
 علیؑ بردوش احمد چشم بد دور عیاں شد معنی نور علیٰ نور
اللہ اللہ دوش ختم المرسلیں زیر قدم سایہ افگن سر پہ چتر رحمت پروردگار
عرش پر کرسی ہے یا قرآن پر قرآن ہے یاسر قرآن بسم اللہ ہوئی ہے آشکار
لو اٹھی شمع حرم سے مہر سے پھوٹی کرن عرش اعظم آیا کعبہ پر بہ صد عز و وقار
نور کا فوارہ گلزار نبوت سے چلا گلشن اسلام میں جاکر گری جس کی پھہار
شاخ امامت کی ہوئی نخل نبوت سے بلند ہاں نمو کرتا ہے یوں ہی جو شجر ہو ہونہار
آرزو مہر نبوت کو قدم بوسی کی تھی کیا کہوں ورنہ کہاں جاتا وہ پائے ذی وقار ( مفتی محمد علی)
(۴۰) علیؑ دنیا کے وہ واحد انسان ہیں جنہوں نے اپنے قاتل کو شربت پلاکر سیراب کیا :
 یا علیؑ آپ کے کرم کی ہے دھوم بھیجا شربت برائے قاتل شوم
اس عنایت سے ہوگیا معلوم دوستاں را کجا کنی محروم
تو کہ بادشمناں نظر داری
علی اے ہمائے رحمت تو چہ آیتی خدا را کہ بہ ماسویٰ فکندی ہمہ سایہ ہمارا
بجز علی کہ گوید بہ پسر کہ قاتل من چو اسیر توست اکنون بکن بہ او مدارا
بروئے گدای مسکین در خانہ علی زن کہ نگین پادشاہی زکرم دہد گدارا ( شہریارؔ)
 بزرگ سبز است تحفۂ درویش چہ کند بے نواہمین دارد۔
(ماہنامہ اصلاح لکھنؤ، امیرالمومنینؑ نمبر، رمضان ۱۴۴۰ھ)

توحید حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں

توحید حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں
آیۃاللہ سید جعفر سیدان
ترجمہ : حجۃالاسلام مولانا شمس الحسن عارفی
استاذ جامعہ ناظمیہ لکھنؤ 
(نوٹ: اس مقالے میں ’’حضرت علیؑ کی نگاہ میں توحید‘‘ سے بحث کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خدا شناسی سے متعلق وہ مباحث جن کے بارے میں امام علیہ السلام نے اپنے گرانقدر افکار و خیالات کا اظہار فرمایا ہے وہ اس مقالے میں شامل نہیں ہیں)
اس مقالے میں روایات حضرت علیؑ سے استفادہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل عناوین سے بحث کی گئی ہے: (۱) اہمیت وآثار توحید۔ (۲) توحید کے معنی اور اقسام۔ (۳) ادلۂ توحید۔ (۴) خصوصیات توحید۔
اہمیت وآثار توحید: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اصول دین میں’ ’اصلِ توحید‘‘ ایک خاص عظمت واہمیت کی حامل ہے اس طرح کہ تمام اصول دین کی بنیاد اسی اصل پر ہے (یعنی توحیدپر) بنابریں حضرت علیؑ کی نگاہ میں اصل توحید اور اس کے آثار ونتائج کی خاص اہمیت ہے اور اسی لیے حضرت علیؑ نے اپنے ارشادات میں توحید کا بکثرت ذکر فرمایا ہے۔ ایک روایت میں حضرت علیؑ آنحضرتؐ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا ’’التوحید نصف الدین‘‘ یعنی توحید نصف دین ہے۔(۱)
اور خود حضرت علیؑ نے فرمایا: پروردگار عالم نے انسان کے اعضاء بدن میں مقام زبان کو عظمت بخشی ہے۔ (جس سے انسان کلمۂ توحید ادا کرتا ہے) اور قرآن نے توحید کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (۲)
حضرت علی علیہ السلام نے بعض احادیث میں اصل توحید کی فضیلت اور اس کے عظیم اجروثواب کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرتؑ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’جب بھی کوئی بندۂ مسلم اپنی زبان سے کلمہ لاالہ الااللہ ادا کرتا ہے تو اس کی یہ گفتار ہر رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے بلندی تک پہنچتی ہے اور گناہ سے محفوظ رکھتی ہے یہاں تک کہ اس کو اطمینان قلب حاصل ہوجاتا ہے۔(۳)
حضرت امام رضا علیہ السلام حدیث سلسلۃ الذہب کے آخر میں حضرت علی علیہ السلام کے حوالے سے آنحضرتؐ کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل امین نے اللہ کی جانب سے بیان فرمایا ہے ’’میں خدائے یگانہ ہوں، اے میرے بندو! میری عبادت کرو جو بندہ خلوص نیت کے ساتھ کلمہ ’’لاالہ الااللہ‘‘ کہے گا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوجائے گا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے امان میں ہوگا۔
حضرت امام رضا علیہ السلام سے پوچھا گیا: اے فرزند رسول! اخلاص سے مراد کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا: (اخلاص سے مراد) خدا اور رسول کی اطاعت اور ولایت اہل بیتؑ کو قبول کرنا ہے۔ (۴)
دوسری روایت میں حضرت علیؑ نے حضرت رسول خداؐ کے حوالے سے فرمایا ’’توحید پر اعتقاد کا نتیجہ بہشت میں داخل ہونا ہے۔
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: جو شخص اس دنیا سے اٹھے اس حال میں کہ اس نے کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ قرار دیا ہو اس سے نیکی سرزد ہویا برائی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (۵)
دوسری جگہ حضرتؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرتؐ سے سنا کہ آپ نے آیہ کریمہ ’’ھل جزاء الاحسان الاالاحسان‘‘ کے بارے میں فرمایا: اللہ ارشاد فرماتا ہے ’’جو شخص توحید کو دوست رکھے میں اس کو بہشت کے علاوہ کوئی جزاء نہیں دوں گا۔ (۶)
امامؑ نے دوسری روایات میں توحید کے نتائج وثمرات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ مثلاً نہج البلاغہ کے دوسرے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جاچکا ہے جس پر عقیدہ خلوص نیت کے ہمراہ ہے جب تک ہم زندہ رہیں گے۔ اس سے متمسک رہیں گے اور مستقبل میں پیش آنے والے سخت ترین دنوں کے لیے اس کو ذخیرہ بناکر رکھیں گے ایسی گواہی ہمارے مضبوط ومستحکم ایمان کی نشانی اور ہماری نیکیوں کا راز اور خوشنودیٔ پروردگار کا ذریعہ ہے اور شیطان سے دوری کاسبب ہے۔ 
توحید الٰہی پر ایمان کے بعض آثار ونتائج:
(۱)نجات وحفاظت کا وسیلہ ہے۔ (۲) مستقبل میں پیش آنے والی سختیوں اور پریشانیوں کے لیے ایک ذخیرہ ہے۔ (۳) ایمان کے مستحکم ہونے کی ایک پہچان ہے۔ (۴) احسان ونیکی کا عنوان ہے۔ (۵) خوشنودیٔ پروردگار کا ایک سبب ہے۔ (۶) شیطان سے جنگ کرنے کا ایک وسیلہ ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے دوسری جگہ کلمۂ اخلاص (یعنی لاالہ الااللہ) کو خدا تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضرت ؑ ارشاد فرماتے ہیں: جو افراد خدائے سبحان تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں ان کے لیے بہترین وسیلہ خدا ورسول پر ایمان لانا ہے۔ اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ اور کلمۂ توحید کہ وہ فطرت کی آواز ہے۔ (۷)
دوسری جگہ حضرتؑ نے مسلمانوں کے حقوق اور توحید الٰہی کے درمیان ارتباط کا بھی تذکرہ فرمایا ہے۔ ’’پروردگار عالم نے کلمۂ اخلاص کے ذریعہ مسلمانوں میں سے ہر ایک کے دوسرے سے مربوط حقوق کو مستحکم قرار دیا ہے۔ (۸)
عقیدۂ توحید کی عظمت اور اس کے آثار اس سے کہیں زیادہ بیان کیے گئے ہیں۔ اس مقالہ میں تمام مطالب کو پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا اس عنوان کو یہیں پر تمام کرتے ہوئے دیگر مباحث کو پیش کرتے ہیں۔
توحید کے معنی اور اس کے اقسام: توحید سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کی عظمت واہمیت اس اعتبار سے اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ایک انسان کے ایمان واسلام کی لازمی شرط صحیح توحید کی معرفت ہے۔ درحقیقت آثار توحید کی عظمت واہمیت کی بنیاد صحیح توحید کی معرفت ہے۔ جس کو قرآن وسنت کے عقلی وقطعی اصول سے درک کیا گیا ہو۔
مفکرین اسلامی کے درمیان توحید کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں یہ حقیقت اہمیت موضوع میں مزید اضافہ کا سبب ہے۔ اس فصل میں حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کی روشنی میں توحید کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ہم اس بات کی کوشش کریں گے کہ مطالب حقہ تک ہماری رسائی ہوسکے۔ توحید کے معنی ہیں پروردگار عالم کا ایک ہونا اس وحدت ویگانگی پر مختلف پہلوئوں سے بحث کی جائے گی ان میں اہم ترین پہلو، توحید ذاتی، توحید صفاتی، توحید افعالی، توحید عبادی ہیں۔
توحید ذاتی: حضرت علیؑ کی نظر میں توحید ذاتی کے معنی یہ ہیں کہ پروردگارکا نہ کوئی شریک ہے نہ کوئی مثل ہے اور نہ کوئی جز ہے اس اعتبار سے توحید کے دیگر معانی چاہے وہ توحید عددی ہو یا توحید نوعی ہو پروردگار سے متعلق صحیح نہیں ہیں۔
حضرت علیؑ نے ایک روایت میں واحد کے معانی بیان فرمائے ہیں اور اس سے متعلق معانیٔ حقہ کو مشخص فرمایا ہے۔ شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ جنگ جمل میں ایک اعرابی نے حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا۔ کیا خدا واحد ہے؟ حضرت ؑ کے اصحاب نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا یہ سوال کا کون سا موقع ہے جب کہ حضرتؑ مصروف جنگ ہیں؟ حضرتؑ نے فرمایا اس کو سوال کرنے دو ہماری جنگ بھی اسی بنیاد پر ہے۔ اس موقع پر حضرت نے فرمایا: اے اعرابی! اللہ واحدہے اس قول سے متعلق چار صورتیں ممکن ہیں ان میں دو صورتیں ’’اللہ‘‘ کے بارے میں جائز نہیں ہیں اور دوصورتیں اس کے بارے میں جائز ہیں۔ لیکن دو صورتیں جو اللہ کے بارے میں جائز نہیں ہیں وہ یہ ہیں:
پہلی صورت: اگر کوئی کہنے والا لفظ واحد کہے اور اس کا مقصد عدد ہو تو یہ جائز نہیں ہے اس لیے جس کا کوئی ثانی نہ ہو وہ فہرست اعداد میں شامل نہیں ہوگا۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ شخص کافر ہے جو یہ کہے ’’ثالث ثلٰثۃ‘‘۔ (یعنی تین میں کا تیسرا)
دوسری صورت: اگر کوئی شخص یہ کہے ’’ھوواحد من الناس‘‘ اور اس کے ذریعہ نوع کا ارادہ کرے تو یہ مفہوم اللہ کے لیے جائز نہیں ہے اس لیے کہ تشبیہ ہے اور ہمارا رب اس سے بلند وبالا ہے۔
اور دوصورتیں اللہ کے بارے میں جائز ہیں ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے’’ ھوواحد لیس لہ فی الاشیاء شبہ ‘‘یعنی خدا ایک ہے تمام اشیاء میں کوئی اس کے مشابہ نہیں ہے یقینا ہمارارب ایسا ہی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کوئی کہے ’’انہ احدی المعنی‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وجود کے اعتبار سے نہ اس کی تقسیم کی جاسکتی ہے اور نہ عقل ووہم کے اعتبار سے اس کی تقسیم ممکن ہے’’ کذالک ربنا‘‘۔ (۹)
اس روایت کی بنیاد پر واحد کے چار معنی ہیں:(۱) واحد عددی۔ (۲) واحد نوعی۔ (۳) واحد بمعنیٔ موجود بے نظیر۔ (۴) واحد بمنی موجود ناقابل تقسیم۔ پہلے اور دوسرے معنی اللہ کے لیے ناجائز ہیں اور تیسرے اور چوتھے معنی اللہ کے لیے جائز ہیں۔
تشریح:
 توحید عددی: اس سے مراد وہ واحد ہے جو کثرت اور تعدد کو قبول کرتا ہو چاہے یہ کثرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم جنس ومشابہ نہ ہو جب ہم کسی موجود کے لیے لفظ واحد استعمال کرتے ہیں تو اس موجود کے لیے دو، تین وغیرہ کا تصور بھی ممکن ہے اس قسم کے واحد کو اللہ کے لیے استعمال نہیں کرسکتے اس لیے کہ ذات پروردگار تعدد بردار نہیں ہے اور نصاریٰ یہ کفرآمیز جملہ کہتے ہیں:’’ ان اللہ ثالث ثلٰثہ‘‘۔ (سورہ مائدہ آیت؍۷۳)
درحقیقت وہ خد اکے واحد عددی ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں۔
حضرت امیرعلیہ السلام نے مختلف انداز سے پروردگار عالم سے متعلق واحد عددی کی نفی فرمائی ہے۔ واحد عددی کی مذکورہ تعبیرات کے علاوہ دیگر تعبیرات کی جانب بھی اشارہ ممکن ہے۔
واحد لابعددیعنی یگانہ ہے لیکن شمار کے ذریعہ نہیں۔ (۱۰)
الاحدبلاتاویل عدد۔ یعنی وہ یگانہ ہے لیکن عدد کے معنی میں نہیں۔ (۱۱)
واحد لامن عدد۔ یعنی وہ یگانہ ہے لیکن عدد کے ذریعہ نہیں۔ (۱۲)
توحید نوعی: اس سے مراد وہ واحد ہے جو تعدد بردار ہو جنس کے اعتبار سے مماثلت رکھتا ہو۔ لفظ نوع یہ ان افراد پر بولا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں اور ہم جنس ہوں۔ (۱۳)
مثلاً جب یہ کہاجاتا ہے ’’لیس ھٰذا من نوع ذالک‘‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہ دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ مشابہ اور ہم جنس نہیں ہیں۔ (۱۴)
اسی طرح جب کسی کے بارے میں کہتے ہیں: ’’واحد من الناس‘‘ تو اس سے مقصد یہ ہوتا ہے متشابہ اور ہم جنس افراد میں سے ایک ہے۔
اس بنا پر وحدتِ نوعی میں تعدد اور تشابہ پایاجاتا ہے۔ واحد نوعی نوع کے دیگر افراد کے ساتھ ہم جنس اور متشابہ ہے اس طرح یہ نہیں کہاجاسکتا کہ خدا وندعالم واحد نوعی ہے اس لیے کہ اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ پروردگار عالم دیگر افراد کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ 
اس اعتبار سے جب ائمہ معصومین علیہم السلام یہ فرماتے ہیں: ’’اللہ شیء‘‘ تو اس کے ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں ’’لاکالا شیاء‘‘ (۱۵) یعنی خدا شئے ہے لیکن دیگر اشیاء کے مانند نہیں ہے۔
توحید بمعنائے بے نظیر وبے شبیہ
حضرت علی علیہ السلام وحدت عددی اور وحدت نوعی کی نفی فرمانے کے بعد اللہ کے لیے وحدت کے دوسرے معانی بیان فرماتے ہیں: (۱) واحد لیس لہ فی الاشیاء شبہ۔ یعنی وہ واحد کہ تمام اشیاء میں کوئی بھی شئی اس کے مشابہ نہیں ہے۔
ہم اپنی بحث میں توحید کے اس معنی کے خصوصیات کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
(۲) یعنی واحد کے دوسرے معنی ہیں کہ جو تجزیہ اور تقسیم کو قبول نہ کرتا ہو۔
توحید کے اس دوسرے معنی میں ذات پروردگار سے ہرقسم کے تجزیہ اور تقسیم کی نفی کی گئی ہے چاہے وہ تقسیم خارجی ہو یا عقلی ہو یا وہمی ہو۔ (۱۶)
خدا کے بارے میں اس کا تصور نہیں کیاجاسکتا جیسا کہ حضرت امیر فرماتے ہیں کہ اللہ کے بارے میں تجزیے (یعنی جزء جزء ہونا) اور تبعیض کا تصور ناممکن ہے۔ (۱۷)
حضرت امیر علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ پروردگار جزء نہیں رکھتا کہ جس کے ذریعہ اس کی توصیف کی جاسکے اور نہ وہ اعضاء وجوارح رکھتا ہے جن کے ذریعہ اس کی توصیف ممکن ہو۔ اور نہ وہ عرض ہے اور نہ پروردگار کی اس طرح توصیف ممکن ہے کہ اس کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ دوسروں کا غیر ہے۔ (۱۸)
اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ذات پروردگار میں ترکیب کا کوئی گذر نہیں اور نہ وہ تجزیہ اور تحلیل کو قبول کرتا ہے۔ اس کی فاعلیت فاعلیتِ ارادی ہے۔ اس کی لامن شی سے ہے اور نہ یہ کہ اس کی خلقت کسی دوسرے کے فیضان کے سبب ہے (یعنی کسی دوسرے نے اس کو وجود نہیں بخشا) اور نہ یہ کہ تمام موجودات اس کے ہم جنس بلکہ اس کے عین وجود ہوں۔
دوم: توحید صفاتی: اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح پروردگار ذات کے اعتبار سے یگانہ وبے مثل ہے اسی طرح اپنے صفات کمالیہ میں بھی یگانہ و بے مثل ہے اس کے صفات میں کوئی اس کا مثل ونظیر نہیں ہے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ کے علاوہ ہر غلبہ وطاقت والا عاجز وناتواں ہے اور اس کے علاوہ ہر مالک مملوک ہے۔ اور ہر عالم اس کے علاوہ طالب علم ہے اور اس کے علاوہ ہر قدرتمند کمزور وناتواں ہے۔ (۱۹)
ان کلمات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صفات پروردگار اس سے مخصوص ہیں کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں ہے۔ کوئی بھی عالم وقادر، مالک اس کے بالمقابل نہیں ہے بلکہ سب اسی کی وجہ سے عالم وقار ومالک ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمام اشیاء کے صفات وکمالات خدا کے صفات ہیں اوران کے علاوہ خدا کی مطلقاً صفات وکمال نہیں ہیں۔ اس لیے کہ دلیل اس مطلب پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے صفات کمالی جیسے قدرت وحیات خود اسی سے مربوط ہیں نہ یہ کہ وہ صفات پروردگار ہیں دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ تمام موجودات کے صفات وکمالات خدا کے ارادے کے سبب ہیں لیکن اس کے صفات نہیں ہیں۔
توحید افعالی: اس سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں تمام امور پروردگار کے ارادے اور مشیت سے انجام پاتے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ یہ انسان کے اپنے افعال میں صاحب اختیار ہونے سے کوئی منافات نہیں رکھتی اس لیے کہ فعل اختیاری کے مقدمات میں سے خود اختیار ہے کہ اللہ نے اس قدرت واختیار کا انسان کومالک بنایا ہے۔ اللہ کا ارادہ ومشیت انسان کے فعل اختیاری سے متعلق ہے۔
لیکن مکتب فلسفہ وعرفان کی جانب سے توحید افعالی سے متعلق کچھ نظریات وارد ہوئے ہیں جو صحیح نہیں معلوم ہوتے مثلاً یہ کہ ارادۂ خدا وندی بلکہ اس کی ذات تمام موجودات کی علت تامہ ہے۔ انہیں میں سے افعال انسان بھی ہیں۔
اس نظریے سے بخوبی واضح ہے کہ بندے اپنے افعال میں مجبور ہیں اور ان کے اختیارات کا کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسری جانب سے وحدت وجود وموجود کی بناء پر بھی چونکہ غیریت درکار نہیں ہے فعل کی نسبت انسان کی جانب مجازی ہے اور یہاں جبر وتفویض کا موضوع بھی نہیں ہے۔
لاہیجی شرح گلشن میں مراتب شہود کو بیان کرتے ہوئے کہ ان میں سے ایک توحید افعالی ہے تحریر فرماتے ہیں: حضرت حق تعالیٰ افعال کی تجلی میں سالک پر متجلی ہوتا ہے اور سالک صاحب تجلی تمام افعال واشیاء کو حق تعالیٰ میں فانی سمجھتا ہے اور کسی بھی مرتبہ میں کوئی شئی علاوہ حق تعالیٰ کے اس کو نظر نہیں آتی اور وہ اس کے غیر کو مؤثر نہیں سمجھتا۔ (۲۰)
توحید عبادی: حضرت علی علیہ السلام اذان کی خوبیوں اور عظمتوں کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اما قولہ اشھدان لاالہ الااللہ‘‘ جب مؤذن اس کلمہ کو ادا کرتاہے تو گویا اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس بات کو جان لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس کے علاوہ ہر معبود باطل ہے۔ (۲۱)
حضرت امیر علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ بعثت نبوی کے اہم مقاصد میں سے ایک مقصد لوگوں کو عبادت الٰہی کی جانب توجہ دلانا تھا۔ چنانچہ آ پ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’وہ خدا جس نے محمدؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تاکہ اپنے بندوں کو اپنے بندوں کی پرستش سے اپنی عبادت کی جانب متوجہ کرے۔ (۲۲)
عبادت خشوع وخضوع کے معنی میں ہے اور مخلوقاتِ الٰہی میں سے کسی بھی مخلوق کی دوسری مخلوق کی مولویت اور مالکیت کی طرف نسبت نہیں ہے (یعنی اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا اس مخلوق کا مالک، مولی نہیں ہے تاکہ اس کی بارگاہ میں خشوع وخضوع لازم ہو اس لیے کہ فقط عبادت اور خشوع وخضوع کا مستحق حقیقی مالک ومولا ہے۔) یہ عبادت وخشوع وخضوع اس کی اطاعت وپیروی کے ساتھ ہوگی اسی لیے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آیۂ کریمہ ’’واتخذوا من دون اللہ الخ‘‘ (۲۳)کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’وہ لوگ جنہوں نے خدائے متعال کے علاوہ دوسروں کو اپنا معبود قرار دیا ہے روز قیامت وہ معبود ان کی مخالفت کریں گے۔ اور وہ ان سے اور ان کی عبادت سے بیزاری اختیار کریں گے۔‘‘
پھر حضرت نے فرمایا: عبادت وپرستش فقط رکوع وسجود بجالانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی اطاعت وفرمانبرداری ہی اس کی عبادت ہے۔ اور جو شخص بھی کسی مخلوق کی اللہ کی معصیت میں اطاعت کرے اس نے اس مخلوق کی عبادت کی ہے۔ (۲۴)
ادلۂ توحید: ۱۔ فطرت:دینی منابع کی بناء پر خداشناسی ایک فطری جذبہ ہے خدائے متعال نے اپنے فضل ومہربانی کے ذریعہ تمام انسانوں کی فطرت کو اپنی معرفت کے ساتھ جوڑ دیا ہے اس اعتبار سے جب کوئی انسان دنیا میں آتا ہے تو اپنے ہمراہ ذات پروردگار اور اس اسماء وصفات کی معرفت اپنے ہمراہ لے کر آتا ہے یہ معرفت الٰہی کا فطری جذبہ مختلف اسباب کے ذریعہ مثلاً پیغمبران الٰہی کی نصیحت اور کائنات کے رموز واسرار میں غوروفکر کے ذریعہ یاد آتا ہے حضرت علیؑ نے اپنے ایک انتہائی عمدہ ترین قول میں فرمایا: انبیاء الٰہی کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری فطری میثاق کو واپس لانا اور اس فراموش شدہ نعمت کی یاد آوری کرانا ہے یعنی خداشناسی۔
پروردگار عالم اپنے انبیاء کو بندوں کے درمیان مسلسل بھیجتا رہا تاکہ ان کے عہدوپیمان کو ابھاریں اور ان کو ان کی فراموش شدہ نعمت کو یاد دلائیں۔(۲۵)
اس فطری معرفت میں توحید پروردگار کی معرفت موجود ہے اس میں پروردگار عالم کو بندوں کے درمیان خدائے وحدہ لاشریک کے عنوان سے پہنچوایا گیا ہے۔
معرفت فطری کا محور خدائے واحد ہے لامحالہ فطری معرفت کی جانب توجہ کرنا خدائے واحد کی جانب توجہ کرنا ہے۔ جیسا کہ کتاب توحید میں ابوہاشم کے حوالہ سے روایت میں آیا ہے۔ (راوی کہتا ہے) میں نے حضرت امام جواد علیہ السلام سے سوال کیا کہ واحد کے معنی کیا ہیں؟ حضرت نے فرمایا: وہ کہ جس کی وحدانیت پر سب متفق ہوں جیسا کہ پروردگار فرماتا ہے: اگر ان لوگوں سے پوچھو کہ کس نے آسمان وزمین کو زیور وجود سے آراستہ کیا ہے؟ وہ بغیر کسی شک وتردید کے یہی کہیں گے خدا۔ (۲۶)
ایک روایت میں حضرت امیر نے توحید کے فطری ہونے کو اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’اس میں کوئی شک نہیں وہ بہترین وسیلہ جس کو تلاش کرنے والوں نے اپنایا ہے اور پروردگار سے متوسل ہوئے ہیں وہ کلمۂ اخلاص ہے اور یہی فطرت الٰہی ہے۔ (۲۷)
۲۔ ہماہنگی اور وحدتِ تدبیر:توحید پروردگار کی دلیل اس نظام ہستی کا ایک ہونا ہے اس کائنات میں ہر طرف پروردگار کی ربوبیت کے بکھرے ہوئے نمونوں میں غوروفکر کے ذریعہ اس کی وحدانیت کو سمجھاجاسکتا ہے۔ قرآن کریم لوگوں کو تکوینی نشانیوں میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس راہ سے خالق کائنات اور اس کی وحدانیت کو سمجھ سکیں۔ جیسا کہ سورۂ نمل کی آیات ۶۰ سے ۶۴ تک ہر آیت میں اللہ کی کچھ نعمتوں اور بخششوں کو ذکر کیا ہے اس موقع پر ’’ ء الہ مع اللہ‘‘ اس جملے کے ذریعہ اللہ کی وحدانیت پر استدلال کیاجاسکتا ہے مثلاً آیت نمبر ۶۴ میں فرماتا ہے: ’’وہ کون ہے جو خلقت کا آغاز فرماتا ہے پھر اس کو پلٹاتا ہے اور وہ کون ہے جو تم کو آسمان وزمین سے رزق عطا فرماتا ہے کیا خدا کے ساتھ دوسرا معبود ہے (اے رسول) تم کہہ دو اگر تم سچے ہو اپنی دلیل پیش کرو۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کہ جو مکتب قرآن کے پروردہ ہیں وہ ایک جانب آسمان وزمین کے کچھ رموز واسرار کو بیان فرماتے ہیں۔ (۲۸)۔ اور دوسری جانب نصیحت فرماتے ہیں تمام چیزوں کا خالق خدائے واحد ہے۔ (خطبہ نمبر؍۱۸۵) میں ارشاد فرماتے ہیں: اگر تم غوروفکر کے راستے پر چلو تو تم اس کے ذریعہ وحدانیتِ پروردگار تک پہنچ جائو گے۔ تم کو معلوم ہوگا کہ جو چیونٹیوں کا پیدا کرنے والاہے وہ ہی درختوں کا خالق ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ تمام مخلوقات چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی ہو، کمزور ہو یا قوی ہو، خلقت میں سب ایک دوسرے کے مانند ہیں ۔ درحقیقت اس کائنات کی تمام مخلوقات کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی اور خلقت کا استحکام اس بات کی علامت ہے کہ اس جہان ہستی پر صرف ایک قوت حاکم ہے
(۳) شریک پروردگار کی نشانیوں کا نہ ہونا: حضرت علی علیہ السلام کے بیانات میں اللہ کے شریک نہ ہونے پر اس کے آثار ونشانیاں موجود نہ ہونے کے ذریعہ تیسری دلیل اس طرح پیش کی گئی ہے کہ اگر خدائے واحد کا کوئی شریک وہمسر ہوتا تو اس دنیا میں ضرور اس کی صفت وتدبیر کے آثار موجود ہوتے اور چونکہ ایسا نہیں ہے اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔ حضرت امیر علیہ السلام نے اسی دلیل کو حضرت امام حسن علیہ السلام کے نام ایک مکتوب میں نہایت خوبصورت انداز میں مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ’’اے میرے فرزند! اگر تمہارے پروردگار کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے رسول بھی تمہاری جانب آتے اور اس کی سلطنت وملکیت کے آثار کا بھی تم ضرور مشاہدہ کرتے اور اس کے کچھ افعال وصفات بھی معلوم ہوتے مگر وہ ایک ہے جیساکہ خود اس نے بیان کیا ہے۔ (۲۹)
یہ تمام آثار وعلامات اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اس اعتبار سے مخلوقات میں اور ان پر حاکم نظم وتدبیر میں غوروفکر سے وجود خالق کی جانب راہنمائی ہوتی ہے بہرحال یہ تمام آثار ومخلوقات اس سے قطع نظر کہ یہ وجود خالق پر دلالت کرتے ہیں اس خالق کی وحدانیت پر بھی دلالت کرتے ہیں جیسا کہ گذشتہ دلیل میں بیان کیا گیا ہے۔ مخلوقات کی نظم وہم آہنگی خدائے واحد کی خبر دیتی ہے۔ موجودہ مخلوقات کے علاوہ کسی دوسرے کے آثار ومخلوقات درمیان میں نہیں ہیں تاکہ دوسرے خالق کے وجود پر دلالت کریں۔
خدائے متعال کے وہ آثار جن کو حضرت علی علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے ارسال رُسُل (یعنی دنیا میں رسولوں کا بھیجنا) بھی ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ انبیاء علیہم السلام خدائے واحد کے بارے میں خبر دیتے ہیں اور دوسرے خدا کے وجود کی نفی کرتے ہیں۔ اگر دوسرا خدا درمیان میں ہو تو انبیاء جھوٹے قرار پائیں گے حالانکہ انبیاء کی صداقت دین اسلام کے واضح ترین حقائق میں سے ہے۔
اگر کوئی کہے: ممکن ہے اس دنیا کے پیدا کرنے والے چند خالق ہوں اور وہ باہم ایک دوسرے کے ساتھ اس دنیا کے نظم وترتیب میں موافقت رکھیں اور سب اپنے اپنے دائرۂ کار کو مشخص کرلیں؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہوگا کہ یہ خیال ان فرض شدہ خدائوں کی محدودیت پر دلالت کرتا ہے اور نقص ومحدودیت مخلوقات کے صفات میں سے ہے۔ خالق ان صفات سے بری ہے۔
توحید کے شرائط: حضرت علی علیہ السلام کے اقوال میں غوروفکر کے بعد ہم اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ توحید واقعی جس کا تذکرہ قرآن وسنت میں ہوا ہے اور امام کے اقوال میں بھی اس کا وجود ملتا ہے اس توحید واقعی کی منزل تک پہنچنے کے لیے کچھ شرائط ہیں جو بہت ضروری ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہوگی تو یہ نفی توحید کے مترادف ہوگا۔
توحید کے شرائط یہ ہیں : (۱) انکار تشبیہ۔ (۲) توصیف پروردگار کا ممکن نہ ہونا۔ (۳) تباین کا ہونا۔
پہلی شرط: انکارتشبیہ۔ یعنی انسان حقیقت توحید تک اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب ذات الٰہی سے ہر قسم کی تشبیہ ومثل ونظیر کی نفی کرے اس کی جھلک حضرت علیؑ کے اقوال میں پائی جاتی ہے ہمیشہ آپ نے اس مفہوم کی جانب تاکید فرمائی ہے۔ مثلاً ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ’’وہ یعنی پروردگار تمام مخلوق سے جدا ہے کوئی چیز اس کے مانند نہیں ۔ (۳۰)۔ دوسری جگہ حضرتؑ ارشاد فرماتے ہیں: اللہ کے لیے نہ کوئی مثل ہے اور نہ کوئی نظیر ہے۔ (۳۱)۔ حضرت کا یہ بھی ارشاد ہے: وہ یعنی خدا وندعالم واحد ویگانہ ہے، دیگر اشیاء کے مانند نہیں ہے۔ (۳۲)۔ اسی طرح حضرت نے یہ بھی فرمایا ہے: وہ اپنے وجود پر اپنی مخلوق کی قوت کے ذریعہ اور اپنے ازلی ہونے اور اپنی مخلوق کے حادث ہونے پر گواہ ہے۔(۳۳)
حضرت امیر علیہ السلام کے اس قول کے یہ معنی ہیں کہ پروردگار اپنی مخلوق کے ساتھ ہر قسم کی مشابہت ویگانگت سے پاک ومنزہ ہے تمام اشیاء اس اعتبار سے کہ حادث ہیں عالم وجود میں آنے کے لیے ایک خالق کے محتاج ہیں اور تمام مخلوق اس احتیاج میں یکساں ہیں۔ لیکن چونکہ ذات پروردگار ازلی وبے نیاز ہے وہ کسی خالق کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے مثل کوئی نہیں ہے۔ (مثل ہونے کی صورت میں) اس کی مخلوق اس کے مانند قرار پائے گی وہ ہمیشہ اہل معرفت کے نزدیک مشابہت رکھنے والوں اور اضداد سے پاک ومنزہ ہے۔
دوسری شرط: خدا کی توصیف ناممکن ہے۔ یہ نکتہ نہایت قابل توجہ ہے کہ کسی حقیقت کی معرفت اسی وقت ممکن ہوگی جب ہم اس کا ادراک کریں اور پھر اس کی معرفت حاصل کریں لیکن ذاتِ پروردگار اپنے لامحدود قدس ونورانیت کے سبب عقل وفکر کے دائرے سے باہر ہے۔ (۳۴)
حضرت امیرعلیہ السلام کی نظر میں پروردگار عالم کی توصیف کا مطلب اس کو محدود کرنا ہے۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو شخص خدا کے لیے کسی صفت (یعنی زائد برذات) کا قائل ہو اس نے خدا کو محدود کردیا اور جس نے اس کو محدود کردیا وہ اس کو شمار میں لے آیا اورجو اس کو شمار میں لے آیا اس نے خدا کی ازلیت کو باطل قرار دیا اور جس نے اس کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا وہ اس کی صفت (یعنی زائد برذات) کا قائل ہوا۔ (۳۵)
پس اللہ کی صفت (یعنی زائد برذات) کا لازمی نتیجہ اس کو محدود کرنا ہے اور اس سے قبل یہ بیان کیاجاچکا ہے کہ توحید عددی کا اس کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا۔ اس مفہوم کے واضح طور پر بطلان سے متعلق اپنی دلیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اس سے مربوط حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کا ذکر کریں گے۔
پہلی دلیل: ذات پروردگار ہماری عقل کے دائرے میں نہیں سما سکتا اس مطلب کو پیش نظر رکھتے ہوئے خالق ومخلوق کے درمیان سنخیت نہیں ہے۔ (یعنی دونوں ایک حقیقت نہیں رکھتے۔)
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ذات پروردگار ایک ایسا وجود ہے جس کی حقیقت دیگر تمام حقائق سے جدا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ ایک مبائن کا دوسرے مبائن سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر یہ انسان ذات پروردگار کا کس طرح ادراک کرسکتا ہے۔ حقیقت انسان حقیقت پروردگار سے جدا ہے۔
دوسری دلیل: انسان ایک محدود مخلوق ہے اور ایک محدود مخلوق لامحدود حقیقت کو درک نہیں کرسکتی۔ بنابریں ذات پروردگار کا احاطہ یا دوسرے لفظوں میں اس کی حقیقت تک پہنچنا ناممکن ہے۔
تیسری دلیل: انسانی فکروذہن کچھ مفاہیم کے ذریعہ حقائق تک پہنچتا ہے۔ دوسری جانب سے ہر مفہوم کی چمک ایک خاص حد تک پہنچتی ہے اور چونکہ خداوندعالم کی کوئی حد نہیں ہے ہماری فکرو ذہن میں اس کا کوئی مفہوم نہیں سما سکتا۔
پروردگار کی توصیف (یعنی زائد برذات) یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کی آیات وروایات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔ ’’آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں لیکن وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے۔ (سورہ انعام؍۱۰۲)
دوسری جگہ فرماتا ہے: تمہارا رب عزت کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں۔ (سورہ صافآت؍۱۸۰)
اور ایک مقام پر اس طرح فرماتا ہے۔ ان لوگوں نے (یعنی یہودیوں) نے خد اکی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدر کرنا چاہئے تھی۔ (سورہ انعام؍۹۱)
(سورہ نجم آیت؍۴۲) میں اس طرح فرماتا ہے: بے شک سب کو تمہارے رب کی جانب پہنچنا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں فرماتے ہیں: دین کا آغاز معرفت پروردگار ہے اور خدا کی معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے اور اس کا کمال تصدیق اس کی وحدانیت ہے اور کمال توحید اخلاص ہے اور کمال اخلاص یہ ہے کہ اس کی ذات سے صفت کی نفی کی جائے اس لیے کہ ہروصف گواہی دیتا ہے کہ وہ موصوف کا غیر ہے۔ اور ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کا غیر ہے۔ پس جو بھی خدائے سبحان کی توصیف کرے اس نے اس کو کسی چیز کے نزدیک کیا ہے اور جس نے اس کو کسی چیز سے نزدیک کیا ہے اس نے اس کو دو قرار دیتا ہے اور جو اس کے دو ہونے کا قائل ہو اس نے اس کو تجزیہ کیا اور جس نے اس کا تجزیہ کیا اس نے اس کو نہیں پہچانا اور جو اس کو نہ پہچانے وہ اس کی جانب اشارہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف اشارہ کرے اس نے گویا خدا کو محدود کیا اور جو اس کو محدود کرے اس نے اس کو معدود بنایا ہے۔ (۳۶)
دوسری جگہ حضرت ارشاد فرماتے ہیں: عبادت پروردگار کا آغاز اس کی معرفت ہے اور معرفت خدا کی اصل اس کی توحید ہے اور نظام توحید اس کی ذات سے صفات کی نفی ہے وہ بلند وبالا ہے اس سے کہ اس کی جانب صفات کا رخ ہو۔ اس لیے کہ عقلیں گواہی دیتی ہیں اس بات پر کہ جس کے لیے صفات کی تجویز کی جائے وہ مصنوع اور مخلوق ہے۔ اور عقلیں گواہی دیتی ہیں کہ پروردگار صانع ہے مصنوع نہیں۔(۳۷)
پروردگار کی توصیف (زائد برذات) کے ناممکن ہونے کو مندرجہ ذیل روایات میں اس طرح بیان کیا گیاہے وہ ایسی صفت نہیں رکھتا جو قابل ادراک ہو وہ ایسی حدنہیں رکھتا جس کی مثالیں بیان کی جائیں۔ آنکھیں اس کی صفات کے مقابلے میں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں۔ مختلف صفات اس کی بارگاہ قدرت میں رک جاتے ہیں ہماری فکریں اس کی بارگاہ ملکوتی میں حیران ہیں۔
وہ پاک ومنزہ ہے وہ اسی طرح جیساکہ خود اس نے اپنی توصیف فرمائی۔ دیگر توصیف کرنے والوں کی رسائی اس تک ناممکن ہے۔ (۳۸)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت امیر مسجد کوفہ میں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے دوران خطبہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اے امیرالمومنین! ہمارے لیے خدا کی توصیف فرمائیے تاکہ ہمارے قلوب میں اس کی محبت ومعرفت میں اضافہ ہو۔ یہ سن کر حضرت ناراض ہوگئے اعلان فرمایا: الصلوٰۃ جامعہ۔ یہ سن کر لوگ جمع ہوگئے مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ حضرت اسی ناراضگی کی حالت میں بالائے منبر تشریف لے گئے خد اکی حمدوثناء بجالانے کے بعد محمد وآل محمدؐ پردرودوسلام بھیجا پھر اس طرح آپ نے فرمایا: خدائے متعال اہل فکر کی فکروں میں نہیں سماسکتا۔ عقل وفکر اس کی حقیقت ذات تک پہنچنے سے قاصر ہے یہاں تک کہ اس کی عظمت وجلالت کی ایک جھلک تک بھی انسانی عقل وفکر نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے کہ وہ مخلوق کی محدود ادراکی قوتوں کے دائرے میں نہیں سماسکتا۔ اس کی حقیقت الگ ہے اور مخلوق کی حقیقت الگ ہے۔ بے شک ہر چیز اس چیز کے مشابہ ہے جو اس سے مماثلت رکھتی ہے اور جو ذات اپنا مثل ونظیر نہیں رکھتی وہ کس طرح دوسری چیز کے مشابہ ہوگی۔ (۳۹) پروردگار سے متعلق ہر قسم کے تصور کی نفی سے متعلق حضرت امیر علیہ السلام کے ایک کلام کا ذکر کرکے اس بحث کو یہیں تمام کرتے ہیں۔
حضرت امیر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: حقیقت توحید یہ ہے کہ تم اپنی عقل وفکر کے ذریعہ اس کا کوئی تصور نہ کرو۔(۴۰)
تیسری شرط: تباین۔ یہ توحید کی تیسری بنیادی شرط ہے جس سے مراد یہ ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان ذات وصفت کے اعتبار سے تباین وجدائی موجود ہے۔ اور خالق ومخلوق کے درمیان تبائن ذاتی وصفتی سے مراد یہ ہے کہ پروردگار ذات اور تمام صفات میں اپنی مخلوق سے حقیقتاً جدا ہے خالق ومخلوق کے درمیان کوئی شرکت نہیں ہے۔ خداشناسی سے متعلق یہ موضوع قرآن وسنت کے مسلمات میں سے ہے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہم یہاں حضرت علی علیہ السلام کے کچھ اقوال کا ذکر کرتے ہیں۔
حضرت علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: وجود پروردگار کی دلیل اس کی واضح نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں کا ہونا وجود پروردگار پر دلالت کرتا ہے اور اس کی معرفت اس کی وحدانیت پر ایمان لانا ہے اور توحید یہ ہے کہ اس کو اس کی مخلوق سے علیحدہ رکھاجائے اور یہ جدائی ایک صفت ہے مکانی اعتبار سے دوری نہیں ہے۔
پروردگار خالق ہے مخلوق نہیں اور جو کچھ (اس کے بارے میں) وہم وگمان کرتے ہیں وہ اس کے خلاف ہے۔ (۴۱)
حضرت علی علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد گرامی ہے: حمدوثناء مخصوص ہے اس پروردگار سے جو اپنی مخلوق کے ذریعہ اپنے وجود پر دلالت کرتا ہے اور اس مخلوق سے جدا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ وہ ان سے کچھ مسافت کی دوری پر ہے۔ وہ اپنے غلبہ وقدرت کے سبب تمام اشیاء سے جدا ہے اور تمام اشیاء اس سے جدا ہیں اس لیے کہ وہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ان کی بازگشت اس کی جانب ہونے والی ہے۔ (۴۲)
ایک دوسری جگہ حضرت فرماتے ہیں: حمدوثناء کا مستحق ہے وہ پروردگار جس نے افکار کو اپنی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر بتایا ہے اور عقلوں کو اپنی اس ذات کے تصور سے کہ جو بے شبیہ ہے دور رکھا ہے اس کی ذات میں کوئی تفاوت نہیں ہے وہ عدد کے ذریعہ نہ شمار کے دائرے میں آسکتا ہے اور نہ قابل تجزیہ ہے۔ وہ تمام چیزوں سے جدا ہے لیکن اس معنی میں نہیں کہ وہ ان سے دور ہے۔(۴۳)
حضرت کا یہ بھی ارشاد ہے: حمدوثناء مخصوص ہے اس پروردگار سے جو واحد ویگانہ ہے بے نیاز ہے اس کا وجود کسی چیز کی وجہ سے نہیں اس نے اپنی مخلوق کو کسی چیز سے پیدا نہیں کیا وہ اپنی قدرت وغلبہ کے ذریعہ تمام چیزوں سے جدا ہے اور تمام چیزیں اس سے جدا ہیں اس نے ان اشیاء کو ان کی تخلیق کے موقع پر محدود قرار دیاتاکہ یہ واضح وآشکار ہو جائے کہ وہ اس سے مشابہ نہیں ہے اور نہ وہ اشیاء اس سے مشابہ ہیں۔ (۴۴)
ایک جگہ حضرت نے یہ فرمایا ہے کہ حمدوثناء اس خد اکے لیے ہے جس کا وجود کسی چیز کی وجہ سے نہیں ہے اس نے مخلوقات کو کسی چیز کی وجہ سے پیدا نہیں کیا وہ صفات میں اپنی مخلوقات سے جدا ہے۔ (۴۵)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ پروردگار تمام مخلوقات سے جدا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان جدائی درحقیقت یکسانیت کی نفی کے ساتھ ہے۔ تمام صفات میں جدائی سے مراد یہ نہیں ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان فقط صفات میں جدائی برقرار ہے اور ذات میں جدائی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس حدیث میں صفت کے معنی متصف ہونے کے ہیں۔ یعنی پروردگار صفت میں اپنی مخلوق سے جدا ہے اور اس وجہ سے کہ صفات پروردگار عین ذات ہیں۔ درحقیقت حدیث مذکورہ باعتبارذات جدائی کی تاکید کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ حدیث بخوبی خالق ومخلوق کے مابین تبائن ذاتی کو آشکار کررہی ہے اس لیے کہ اگر یہ فرض کرلیاکہ پروردگار ذات کے اعتبار سے اپنی مخلوق کے ہم جنس ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پروردگار اپنی مخلوق سے مشابہت رکھتا ہے۔ حالانکہ روایت بارگاہ ربوبی سے تمام اوصاف کی نفی کرتی ہے نتیجہ یہ ہے کہ حدیث مذکورہ اس بات کی نفی کرتی ہے کہ پروردگار اپنے مخلوق کے ہم جنس ہے۔
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ حضرت امیرعلیہ السلام سے پوچھا گیا۔ کہ آپ نے اپنے رب کو کس چیز سے پہچانا؟ حضرتؑ نے فرمایا اس چیز سے کہ جس کا اس نے حکم دیا ہے۔
حضرت سے سوال کیا گیا کہ پروردگار نے کس طرح اپنے کو پہچنوایا ہے؟ حضرتؑ نے فرمایا: نہ کوئی صورت اس سے مشابہت رکھتی ہے اور نہ حواس کے ذریعہ اس کو محسوس کیاجاسکتا ہے اور نہ لوگوں پر اس کا قیاس کیاجاسکتا ہے۔ وہ دور ہوتے ہوئے بھی قریب ہے اور قریب ہوتے ہوئے بھی دور ہے۔ وہ ہر چیز کے اوپر ہے لیکن اس کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا کہ فلاں چیز اس کے اوپر ہے۔ وہ ہر چیز کے آگے ہے اس کے لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ کوئی چیز اس سے آگے ہے وہ تمام اشیاء میں داخل ہے لیکن اس طرح نہیں کہ اس کے بارے میں یہ کہاجائے کہ فلاں چیز اس میں داخل ہے۔پاک ومنزہ ہے وہ ذات کہ جو ایسی ہی ہے اور اس کا غیر یہ صفات نہیں رکھتا۔ (۴۶)
اس روایت میں امام علیہ السلام نے یہ پیغام دیا ہے کہ پروردگار کی نہ کوئی شبیہ ہے کسی بھی صورت میں اس کا کوئی ہم جنس نہیں ہے اور نہ مخلوقات کے درمیان کوئی شبیہ رکھتا ہے۔ خالق ومخلوق کے درمیان مکمل طور پر تباین وجدائی برقرار ہے۔ گویا ان بیانات نے خالق ومخلوق کے درمیان تباین سے متعلق مزید توضیح سے بے نیاز کردیا ہے۔ حضرتؑ نے اس جملے میں جس چیز کی تاکید فرمائی ہے وہ یہ کہ مقدس بارگاہِ الٰہی ہرقسم کی تشبیہ اور ہم جنس جو قابل تصور ہو اس سے دور ہے مذکورہ فرمان میں آخری جملے انتہائی لطافت سے بھرپور ہیں اس طرح کہ اگر ہم اس سے متعلق (یعنی اللہ) کو سنخیت وہم جنسیت کو قبول کرلیں تو ہم ہرگز اس کی تشریح نہیں کرسکتے۔
یہ کہ امامؑ فرماتے ہیں: ’’قریب فی بعدہ وبعید فی قربہ‘‘ یہ فقرہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ سنخیت درمیان میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کوئی معنی نہیں ہیںکہ جو چیز دور ہو وہ قریب بھی ہو اور جو چیز نزدیک ہو وہی چیز دور بھی ہو۔
حضرت علیؑ ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: وہ تمام اشیاء سے قریب ہے (لیکن اس طرح کہ) وہ ان سے ملا ہوا نہیں ہے اور ان سے دور بھی ہے (لیکن اس طرح کہ) وہ ان سے جدا بھی نہیں ہے۔ وہ متکلم ہے لیکن اس طرح کہ اس کو پہلے سے) غوروفکر اور ارادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ صانع ہے۔ (لیکن ایسا کہ) وہ اعضاء وجوارح کا محتاج نہیں ہے۔(۴۷)
مذکورہ فرمان میں اس عبارت سے ’’قریب من الاشیاء غیر ملابس وبعیدمنھا غیر مباین‘‘ کم از کم دوحقیقتوں تک رسائی ہوسکتی ہے:
پہلی حقیقت یہ کہ خارج میں دو حقیقتیں موجود ہیں ان میں عینیت درکار نہیں ہے۔ یہ تعبیر اور وہ تمام روایات جن میں یہ مضمون نقل ہوا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دوحقیقتیں موجود ہیں ایک وہ کہ جو بذات خود قائم ہے دوسری وہ کہ جو اپنے قائم ہونے میں دوسرے کی محتاج ہے۔
دوسری حقیقت یہ کہ خالق ومخلوق کے درمیان کوئی سنخیت نہیں ہے اور اس سے متعلق ہر قسم کی مشابہت جو ہمارے ذہن میں آئے وہ ممنوع ہے۔
اس روایت میں حضرتؑ نے فرمایا: ’’قریب من الاشیاء وغیر ملابس‘‘عموماً ایسی دوچیزیں جو ایک دوسرے سے نزدیک ہوں ان کے درمیان مناسبت ہوتی ہے۔ لیکن ذات پروردگار باوجودیکہ تمام اشیاء سے نزدیک ہے اور انسان کی شہ رگ سے زیادہ اس سے قریب ہے۔ وہ مخلوقات کے ساتھ ملابست نہیں رکھتا لیکن اس اعتبار سے کہ تمام چیزیں پروردگار کی وجہ سے قائم ہیں۔ درحقیقت وہ تمام اشیاء سے خود ان سے زیادہ قریب ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان سے جدا بھی ہے اور دور بھی ہے۔ لیکن اس معنی میں نہیں کہ وہ بُعْدِ مکانی رکھتا ہے کہ وہ یعنی پروردگار کسی ایک جگہ ہو اور دیگر تمام اشیاء دوسری جگہ پر ہوں یہاں باعتبار مکان جدائی مراد نہیں ہے بلکہ باعتبار حقیقت ذات جدائی مراد ہے۔
حضرت علی علیہ السلام اس حدیث میں سلسلۂ بیان کو جاری رکھتے ہوئے خالق ومخلوق کے درمیان مشابہت کی نفی کے بعد فرماتے ہیں: پروردگار متکلم ہے لیکن اس طرح نہیں جیسا کہ مخلوق کلام کرتی ہے اس لیے کہ مخلوق پہلے سوچتی ہے پھر کلام کرتی ہے خداوندعالم صاحب ارادہ ہے لیکن انسان کے مانند نہیں کہ جو اس مقصد کے لیے پہلے کچھ مقدمات کی فراہمی کا محتاج ہوتا ہے۔ مثلاً تصور، تصدیق، شوق، عزم۔
خداوندعالم خالق ہے لیکن مخلوق کے مانند خالق نہیں ہے لیکن مخلوق کچھ آلات کے ذریعہ کسی چیز کو وجود میں لاتی ہیں۔(۴۸)
وحدت شخصی وجود اور توحید پروردگار
وہ تمام روایات جو شرائط توحید سے مربوط فصل میں بالخصوص نفی سنخیت کی بحث میں گزر چکی اور ان کے علاوہ دیگر بکثرت احادیث سب خدا اور مخلوق کے درمیان نفی سنخیت پر گواہی دیتی ہیں۔
بنابریں بعض عرفاء کے اس نظریے کا بطلان بھی ظاہر ہوجاتا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ خالق ومخلوق کے درمیان عینیت ہے اور یہ کہ موجود حقیقی وجود لاشریک میں منحصر ہے۔ اور یہ کثرت جو ہر طرف نظر آتی ہے یہ درحقیقت عین وجود پروردگار ہے۔ ابن عربی فصول الحکم میں کہتے ہیں: عارف وہ شخص ہے جو خدا کو تمام چیزوں میں بلکہ تمام چیزوں کا عین سمجھتا ہے۔(۴۹)
اسی طرح دوسری جگہ لکھتے ہیں: پاک ومنزہ ہے وہ ذات جس نے تمام چیزوں کو ظہور بخشا ہے اور تمام چیزیں بعینہ وہ ہی ذات ہیں۔ (۵۰)
صدر الدین شیرازی کہتے ہیں:میرے پروردگار نے آسمانی دلیلوں کے ذریعہ اس طرح راہ مستقیم دکھائی کہ وجود اور موجود اور جو کچھ بھی ہے وہ سب ایک ہی حقیقت میں منحصر ہے۔۔۔اور در حقیقت خدا کے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں۔ دنیا میں جو کچھ بھی واجب معبود کے علاوہ وجود دکھائی دیتا ہے وہ صرف اس کی ذات کا ظہور اور صفات کی تجلی ہے جو وہ بھی درحقیقت اسی کا عین ذات ہے۔ جیسا کہ عرفا کی زبانی اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے(۵۱)۔
منابع:
۱) شیخ صدوق، التوحید، ص ۲۸، ح ۲۴ ۔۲) بحار الانوار، محمدباقر مجلسی، ج ۳، ص ۱۳، ح ۳۱ ۔ ۳) التوحید، ص ۲۱ ح ۱۲ ۔ ۴) بحارالانوار، ج ۳، ص ۱۴، ح ۳۹ ۔ ۵) التوحید، ص ۳۰، ح ۳۲ .دوسری احادیث میں لازمی شرط مثلا ولایت کو بیان کیا گیا ہے۔ ۶) التوحید، ص ۲۸، ح ۲۹ .۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۶ ۔ ۸) گذشتہ، خطبہ ۱۶۲ ۔ ۹) التوحید، ص ۸۳، ح ۳ ۔ ۱۰) نہج البلاغہ: خطبہ ۱۸۰ ۔ ۱۱)خطبہ ۱۴۸ ۔۱۲) التوحید: ص ۷۰ ح ۲۶ ۔ ۱۳) ابن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۵، ص ۲۷۰ ۔ ۱۴)سابق، ص ۳۷۰ ۔ ۱۵) کلینی، اصول کافی، ج ۱، ص ۔ ۱۶) تقسیم خارجی مثلا انسان کی تقسیم بدن و روح کی طرف۔ تقسیم عقلی مثلا انسان کی تقسیم حیوان و ناطق۔ اور تقسیم وہمی مثلا انسان کی تقسیم دو دو حصوں کی طرف۔۱۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۸۱ ۔ ۱۸) خطبہ ۱۷۹ ۔ ۱۹) خطبہ ۶۵ ۔ ۲۰) شرح گلشن راز، ص ۲۶۸ ۔ ۲۱) شیخ صدوق، معانی الاخبار، ص ۳۹ ۔ ۲۲) ثقۃ الاسلام کلینی، الکافی، ج ۸، ص ۳۸۶ ۔ ۲۳) اور مشرکین نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کرلئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزّت بنیں۔ہرگز نہیں عنقریب یہ معبود خود ہی ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے(سورہ مریم، آیت ۸۱ و ۸۲)۔ ۲۴) تفسیر قمی، ج ۲، ص ۵۵ ۔ ۲۵) نہج البلاغہ، خطبہ ۱ ۔ ۲۶) التوحید، ص ۸۳، ح ۲ ۔ ۲۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۶ ۔ ۲۸) نمونہ کے دیکھیے خطبہ ۱ و ۸۷ و ۱۰۸ ۔ ۲۹) نہج البلاغہ، خط ۳۱ ۔ ۳۰) التوحید، ص ۳۲، ح ۱ ۔ ۳۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۱ ۔ ۳۲) التوحید، ص ۸۳ ۔ ۳۳) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۲ ۔ ۳۴) دیکھیے ملکی میانجی، محمدباقر، توحید الامامیہ، فصل ششم و ہفتم۔ ۳۵) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۵ ۔ ۳۶) نہج البلاغہ، خطبہ ۱ . اسی طرح کا مطلب امام رضا علیہ السلام کے کلام میں بینا ہوا ہے۔ دیکھیے: التوحید، ص ۳۴، ح ۲ .۳۷) الاحتجاج، ج ۱، ص ۲۹۸ ۔ ۳۸) التوحید، ص ۴۲، ح ۳ ۔ ۳۹) التوحید، ص ۵۲، ح ۱۳؛ دیکھیے:نہج البلاغہ، خطبہ ۸۷ ۔ ۴۰) نہج البلاغہ، حکمت ۴۷۰ ۔ ۴۱) الاحتجاج، ج ۱، ص ۲۹۹ ۔ ۴۲) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۲ ۔ ۴۳) التوحید، ص ۷۳، ح ۲۷ ۔ ۴۴) سابق، ص ۴۱، ح ۳ ۔ ۴۵) التوحید، ص ۶۹، ح ۲۶ ۔ ۴۶) التوحید، ص ۲۸۵، ح ۲ ۔ ۴۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۹ ۔ ۴۸) سنخیت کی بحث کے سلسلہ میں کتاب ’’تنبیہات حول المبدء و المعاد‘‘،   ۵۳- ۹۵  کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ۴۹) شرح فصوص الحکم، قیصری، ص ۴۳۶ ۔ ۵۰) الفتوحات المکیہ، ج ۲، ص ۶۰۴ ۔ ۵۱) الاسفار الاربعہ، ج ۲، ص ۲۹۲ .٭…٭…٭
(ماہنامہ اصلاح لکھنؤ، امیرالمومنینؑ نمبر، رمضان ۱۴۴۰ھ)

جمعہ، 8 مئی، 2020

مایوس یا ناامید نہ ہوں mayus ya naummeed na hon

مایوس یا ناامید نہ ہوں
سید محمد حسنین باقری
خدائے واحد و یکتا کا حقیقی ماننے والا نہ تو کبھی ناامید ہوتا ہے اور نہ کبھی مایوس۔ اس لیے کہ خدا وند عالم ہی ایسی ذات ہے جو تمام امیدوں کا مرکز ہے، جس بارگاہ میں ناامیدی و مایوسی کا تصور نہیں ہے۔ پُر امید رہنا اور مایوس نہ ہونا ایک ایسی طاقت ہے جو بڑے سے بڑے مرحلہ سے گزرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے اور سخت سے سخت منزل میں بھی گھبرا کر قدم پیچھے ہٹا لینے کے بجائے ہمت و حوصلہ عطا کرتی ہے کہ زندگی کو آگے بڑھایا جاسکے اور جینے کے راستے ہموار کیے جاسکیں۔ دنیا میں سختیاں بھی آتی ہیں، مصائب و مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے، پریشانیاں و دشواریاں بھی گھیرتی ہیں، وبائیں و بیماریاں بھی اپنی چپیٹ میں لیتی ہیں،دشوار گزار و کٹھن مراحل بھی سامنے آتے ہیں، گناہ و معصیت تاریک وہولناک مناظر نگاہوں کے سامنے لاتے ہیں، لغزشیں و خطائیں دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی کے مناظر نگاہوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ ان تمام صورتوں میں اگر کوئی سہارا دینے والا، نجات کا راستہ، امید کا مرکز،مشکل سے نکالنے والا، حوصلہ و ہمت عطا کرنے والا ہے تو صرف و صرف خداوند عالم کی ذات ہے۔
’’مایوسی، کفر کے ناپاک آثار کا لازمہ اور رب العزت کی عظمت و شان سے انکار کے مترادف ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو اس کی قدرت کاملہ ، فضل و کرم اور علم و رزاقیّت سے پہچان لیا اور جانتا ہے کہ وہ سارے عوالمِ امکان کا پیدا کرنے والا اور تمام عوالمِ وجود کو تربیت دینے والا ہے۔ اس کی قدرت لا محدود، اس کی حکمت و رحمت لا متناہی ہے۔ تمام ممکنات کے ہر فرد کو جو کچھ ضرورت ہے اسی کریم کا فیضانِ رحمت ہے۔ چنانچہ ناامیدی کے عالم میں متحیّر و غمگین رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ نا امیدی کو گناہ کبیرہ شمار کیا گیا ہے۔‘‘
خوف خدا لازم و ضروری ہے اس کی عظمت و بزرگی کے اقرار کا ایک مطلب اس سے خوف بھی ہے لیکن اس طرح کا خوف و ڈر جو اس کی رحمت سے مایوس کردے، قابل مذمت اور بدترین چیز ہے۔
(البتہ ایسی امید جو خدا سے بے خوف اور اس کی مخالفت پر جری بنادے نیز انتہائی مذموم و بدترین چیز ہے۔ اس لیے کہ کسی سے امیدوار رہنے کا مطلب یہی ہے کہ اس کی مخالفت نہ ہو )۔
جہاں قرآن کریم نے متعدد آیات میں خدا سے ڈرنے کا حکم دیا اور اس کو خدا والوں کی صفت بیان کی وہیں اس کی رحمت سے ناامیدی کو گمراہی شمار کیا ہے اس سلسلہ میں اعلان ہوتا ہے:
 قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ 
(سورہ حجر، آیت۵۶)۔
’’(ابراہیمؑ‘ نے) کہا کہ رحمت خدا سے سوائے گمراہوں کے کون مایوس ہوسکتا ہے‘‘
اسی طرح سورہ یوسف میں رحمت خدا سے مایوسی کو کافروں کا عمل قرار دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:
۔۔۔ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ ۔
 ( آیت ۸۷)۔’’خدا کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے‘‘
خدا وندعالم نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کے لیے اپنے کو بہت سی صفات کے ساتھ پہچنوایا ہے۔ جن میں سے ہر صفت جمال و جلال الٰہی کو پیش کررہی ہے۔ رحمت خدا بھی انھیں صفات میں سے ایک ہے جس کا تذکرہ تقریبا پانچ سو آیات میں ہوا ہے:
۱۔ تکرار:
قرآن میں لفظ ’’الرحمٰن‘‘ ۱۵۷ مرتبہ اور ’’الرحیم‘‘، ’’رحیم‘‘ ، ’’رحیما‘‘ ۱۶۶ مرتبہ ذکر ہوئے ہیں، قرآن میں یہ الفاظ خدا کی صفت کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں لیکن ایک جگہ پر سورہ توبہ آیت ۱۲۸ میں کلمہ ’’رحیم‘‘ پیغمبر اکرمﷺ کی صفت بیان ہوئی ہے۔چار جگہوں پر خدا سے رحمت طلب کی گئی ہے جنمیں سے تین میں پیغمبروں کی جانب سے اور ایک جگہ پر مخلص بندوں کی طرف سے: سورہ بقرہ، آیت ۲۸۶ ، اعراف ۱۵۱ و ۱۵۵، مؤمنون ۱۰۹۔ چار جگہوں پر خدا ’’ارحم الراحمین‘‘ سے متصف ہوا ہے:اعراف ۱۵۱، یوسف ۶۴، یوسف ۹۲ و انبیاء ۸۳  اور ایک جگہ پر ’’خیر الراحمین ‘‘ کہا گیا ہے: مؤمنون ۱۱۸۔
۲۔ بعض آیات میں رحمت الہی:
وَرَبُّکَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ۔(سورہ کہف، آیت۵۸)۔’’آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا اور صاحبِ رحمت ہے ‘‘
کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ۔(انعام، ۱۲ و ۵۲)۔
’’تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دے لیا ہے ‘‘
وَرَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیء۔(اعراف،۱۵۶)۔
’’میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے‘‘
إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِیبٌ مِنَ الْمُحْسِنِینَ۔(اعراف،۵۶)۔
’’خدا کی رحمت صاحبان حسن عمل سے قریب تر ہے‘‘
قُلْ یا عِبَادِی الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ۔(سورہ زمر، ۵۳)
’’پیغمبر آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا ‘‘
وَمَنْ یقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ۔(حجر ۵۶)۔
’’ رحمت خدا سے سوائے گمراہوں کے کون مایوس ہوسکتا ہے‘‘
مَایفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِکَ لَهَا وَمَایمْسِکْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ۔(فاطر ۲)
’’اللہ انسانوں کے لئے جو رحمت کا دروازہ کھول دے اس کا کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس کو روک دے اس کا کوئی بھیجنے والا نہیں ہے‘‘۔
۳۔ مومنین کے درمیان رحمت:
اصحاب الیمین کی خصوصیات میں ایک دوسرے کو رحمت کی سفارش کرنا ہے:
 ... وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ أُولَئِکَ أَصْحَابُ الْمَیمَنَةِ۔(سورہ بلد، ۱۷،۱۸)
’’ انہوں نے صبر اور مرحمت کی ایک دوسرے کو نصیحت کی؛ یہی لوگ خو ش نصیبی والے ہیں‘‘
وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَینَهُمْ۔(فتح ۲۹)
’’محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میںانتہائی رحمدل ہیں ‘‘
وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ۔(بنی اسرائیل،۲۴)۔
’’اور ان کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دینا ۔‘‘
... وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیانِی صَغِیراً۔(بنی اسرائیل،۲۴)
’’اور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا کہ پروردگار اُن دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح کہ انہوں نے بچپنے میں مجھے پالا ہے‘‘
بندوں کی بنسبت وسیع رحمت الٰہی کو بیان کرنے والی آیت:
بعض روایات کے مطابق امید و رحمت الٰہی کے حوالے سے سب سے اہم آیت یہ ہے:
قُل یا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ»؛ (زمر، ۵۳) ۔
’’پیغمبر آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے‘‘۔
مندرجہ بالا تعبیرات میں غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت گنہ گاروں کے لیے سب سے زیادہ امید دلانے والی ہے اور اس کی وسعت اتنی زیادہ ہے کہ اسے ’’أوسَعُ الآیات‘‘ کہا گیا ہے۔
۱): پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:مجھے پسند نہیں کہ دنیا و مافیہا میں جو کچھ ہے وہ اس آیت کے بدلے میں مجھے مل جائے:
یا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ...
ایک شخص نے کہا:اے اللہ کے رسولؐ! جس نے شرک کیا ہے (کیا وہ بھی اس آیت میں شامل ہوگا؟) پیغمبرﷺ کچھ دیر خاموش رہے پھر تین مرتبہ فرمایا: شرک کرنے والے کے علاوہ 
(أبوبکر بیہقی، أحمد بن حسین، شعب الایمان، ج۹، ص۳۴۰ و ۳۴۱)
۲): امام علی علیہ السلام نے فرمایا: 
قرآن میں اس آیت سے زیادہ وسعت رکھنے والی دوسری آیت نہیں ہے: یا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ...
 (طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۸، ص۷۸۴)
۳): کہا گیا ہے کہ یہ آیت جناب حمزہ ؑکے قاتل غلام وحشی کے لیے نازل ہوئی جب اس نے چاہا کہ اسلام قبول کرے۔ نبی اکرمﷺ سے سوال ہوا: اے اللہ کے رسولؐ! یہ آیت اس غلام سے مخصوص ہے یا تمام مسلمانوں کو شامل ہوگی؟ پیغمبرﷺ نے فرمایا: تمام مسلمانوں کو شامل ہے 
(طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۸، ص۷۸۵)
اس آیت کی وسعت اور سب کو شامل ہونے کی دلیل واضح ہے اس لیے کہ:
۱۔ ’’یا عبادی‘‘ (اے میرے بندو)کی تعبیراس لطف و مہربانی کو شروع کرنے والی جو پروردگار کی جانب سے ہے۔
۲۔ ظلم و گناہ و جرم کے بجائے اسراف کا لفظ استعمال کرنا بھی لطف پروردگار ہے۔
۳۔ عَلی أَنْفُسِهِمْ۔ کی تعبیر سے یہ واضح ہورہا ہے کہ انسان کے گناہ خود اسی کی طرف پلٹتے ہیں، یہ بھی خدا کی محبت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس طرح اپنے بیٹے سے بہت زیادہ محبت کرنے والا ایک باپ اپنے بیٹے سے کہے کہ اتنا زیادہ اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔
۴۔ ’’لاتقنطوا‘‘ (مایوس نہ ہو) کی تعبیر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ’’قنوط‘‘ در حقیقت خیر و بھلائی سے مایوس نہ ہونے کے معنی میں ہے(راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن ، ص ۶۸۵) ، یہ تنہا ہی اس بات پر دلیل ہے کہ گنہ گاروں کو الطاف الہی سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔
۵۔ ’’مِنْ رَحْمَةِ اللهِ‘‘ کی تعبیر، جملۂ ’’لا تقنطوا‘‘ کے بعد اس بھلائی و محبت پر مزید تاکید ہے۔
۶۔  جملۂ ’’إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ‘‘ کا آغاز حرف تاکید سے ہوا ہے اور کلمۂ ’’الذنوب‘‘ (جمع با الف و لام) تمام گناہوں کو بغیر استثنا کے شامل ہےجس سے دریائے رحمت الٰہی کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
۷۔ جب ’’جمیعا‘‘ کے ذریعہ دوسری تاکید ذکر ہوتی ہے تو امیدواری آخری مرحلہ کو پہنچ جاتی ہے۔
۸ و ۹۔ آیت کے آخر میں ’’غفور‘‘ و ’’رحیم‘‘ جیسے پُر امید کرنے والے اوصاف کے ذریعہ خداوند عالم کی توصیف نا امیدی و مایوسی کو مکمل ختم کردیتی ہے۔ (تفسیر نمونہ، ج۱۹، ص۴۹۹  و۵۰۰)۔
نتیجہ نکلا کہ مذکورہ بالا آیت قرآن کریم کی ایسی آیت ہے جو تمام گناہوں و خطاؤں کو شامل کیے ہوئے ہے اسی وجہ سے قرآن کی سب سے زیادہ امید دلانے والی اور مایوسی و ناامیدی سے محفوظ رکھنے والی آیت ہے۔ اس آیت کی جلوہ گری انسان کی واقعی توبہ میں ہے۔ 
شیطان کا رحمت الٰہی کی طمع کرنا:
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس سلسلے میں فرمایا:
إذا کانَ یَوْمُ الْقِیامَةِ نَشَرَ اللّهُ تَبارَک وَتَعالی رَحْمَتَهُ حَتّی یَطْمَعَ إبْلیسُ فی رَحْمَتِهِ. 
قیامت میں جب خدا اپنی رحمت کا سایہ کرے گا یعنی اسکی وسیع رحمت کا نمونہ سامنے آئے گا تو شیطان بھی حق تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر رحمت کی امید کرے گا۔(بحار الأنوار،۷؍۲۸۷، باب۱۴، حدیث۱؛ الأمالی، شیخ صدوق،۲۰۵، حدیث۲)
سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت: 
ابوحمزہ ثمالیؓ نے امام زین العابدین یا امام محمدباقر علیہماالسلام سے نقل کیا ہے کہ ایک دن امام علی‎علیہ السلام نے لوگوں سے سوال فرمایا کہ تمہاری نظر میں قرآن کریم کی کون سی آیت سب سے زیادہ امید دلانے والی ہے؟ بعض نےکہا:
إِنَّ اللَّهَ لا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِهِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاء؛ (نساء ،۴۸)۔
’’اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش سکتا ہے اور جو بھی اس کا شریک بنائے گا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے‘‘
امام علیؑ نے فرمایا: بہترین آیت ہے لیکن یہ مقصود نہیں ہے۔ بعض نے جواب دیا:
وَ مَنْ یَعْمَلْ سُوءاً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللَّهَ یَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَحیما؛ (نساء، ۱۱۰)
’’اور جو بھی کسی کے ساتھ برائی کرے گا یا اپنے نفس پر ظلم کرے گا اس کے بعد استغفار کرے گا تو خدا کو غفور اور رحیم پائے گا‘‘
امیرالمومنینؑ نے فرمایا: بہت اچھی آیت ہے لیکن یہ وہ نہیں ہے۔ بعض دوسرے افراد نے کہا:قُلْ یا عِبادِیَ الَّذینَ أَسْرَفُوا عَلى‏ أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمیعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحیم‏؛(زمر، ۵۳)
علی علیہ السلام نے فرمایا: بہترین آیت تو ہے لیکن یہ منظور نہیں ہے۔ پھر سوال کیا کہ کیا تمہاری نظر میں کوئی اور آیت نہیں ہے جو سب سے زیادہ امیدوار کرنے والی ہو؟ اصحاب نےکہا: نہیں اے امیرالمومنین، ہم کو تو نہیں معلوم ہے۔ امامؑ نے فرمایا: میں نے اپنے حبیب رسول خدا ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:قرآن مجید میں سب سے زیادہ امید دلانے والی یہ آیت ہے:
وَ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَیِ النَّهارِ وَ زُلَفاً مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَناتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئاتِ ذلِکَ ذِکْری‏ لِلذَّاکِرِینَ؛ (ہود، ۱۱۴)
’’اور پیغمبر آپ دن کے دونوں حصّو ں میں اور رات گئے نماز قائم کریں کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں اور یہ ذکر خدا کرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے‘‘
پھر پیغمبرﷺ نے فرمایا: یَا عَلِیُّ وَ الَّذِی بَعَثَنِی بِالْحَقِّ بَشِیراً وَ نَذِیراً إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ فَتَسَاقَطُ عَنْ جَوَارِحِهِ الذُّنُوب۔  اے علی! اس خدا کی قسم جس نے مجھےبشیر و نذیر بنایا اور مجھے رسول بناکر اس کائنات میں بھیجا، اگر تم میں کوئی وضو کے ساتھ نماز قائم کرے تو تمہارے اعضائے وضو کے گناہ ختم ہوجائیں گے۔
فَإِذَا اسْتَقْبَلَ اللَّهَ بِوَجْهِهِ وَ قَلْبِهِ لَمْ یَنْفَتِلْ عَنْ صَلَاتِهِ وَ عَلَیْهِ مِنْ ذُنُوبِهِ شَیْ‏ءٌ کَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَإِنْ أَصَابَ شَیْئاً بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ کَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِک.
جب اپنے چہرے اور دل کے ساتھ خدا کی طرف توجہ کرےتو ابھی نماز ختم بھی نہیں ہوگی کہ تمام گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاؤ گے جیسے ماں کے شکم سے دنیا میں قدم رکھا ہے اور دو نمازوں کے درمیان اگر کسی گناہ کے مرتکب ہوگئے تو وہ بھی خدا معاف کرے گا۔
آنحضرتؐ نے اسی طرح نماز پنجگانہ کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا:
 یَا عَلِیُّ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لِأُمَّتِی کَنَهَرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِکُمْ فَمَا ظَنَّ أَحَدُکُمْ لَوْ کَانَ فِی جَسَدِهِ دَرَنٌ ثُمَّ اغْتَسَلَ فِی ذَلِکَ النَّهَرِ خَمْسَ مَرَّاتٍ فِی الْیَوْمِ أَ کَانَ یَبْقَى فِی جَسَدِهِ دَرَنٌ فَکَذَلِکَ وَ اللَّهِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ لِأُمَّتِی.»
 اے علیؑ! میری امت کے لیے پنجگانہ نماز کی منزلت اس نہر کی طرح ہے جو تمہارے گھر کے سامنے ہو ، اگر تم میں سے کسی کے بدن میں کوئی میل و گندگی ہو اور روزانہ پانچ مرتبہ اس نہر میں نہائے تو کیا بدن میں کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ خدا کی قسم میری امت کے لیے پنجگانہ نماز اسی طرح ہے۔
(بحار الانوار، علامہ مجلسی، جلد ۷۹، صفحہ۲۲۰  از تفسیر عیاشی و مجمع البیان)
خدائے رحیم و کریم جیسی ذات کے ماننے والے ہوکر اور اس کی طرف سے نماز جیسی عبادت کے ہوتے ہوئے نہ کبھی مایوسی ہوسکتی ہے اور نہ کبھی ناامیدی۔ اسی لیے اس ذات باری کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو واقعی معنی میں اپنی ذات پر بھروسہ کرنےاور امید وار رہنے اور مایوس نہ ہونے کی توفیق عنایت فرمائے؛ ایسی امید و بھروسہ جس میں کسی طرح کی معصیت و گناہ نہ ہو۔خخخ