بدھ، 13 مئی، 2020

توحید حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں

توحید حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں
آیۃاللہ سید جعفر سیدان
ترجمہ : حجۃالاسلام مولانا شمس الحسن عارفی
استاذ جامعہ ناظمیہ لکھنؤ 
(نوٹ: اس مقالے میں ’’حضرت علیؑ کی نگاہ میں توحید‘‘ سے بحث کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خدا شناسی سے متعلق وہ مباحث جن کے بارے میں امام علیہ السلام نے اپنے گرانقدر افکار و خیالات کا اظہار فرمایا ہے وہ اس مقالے میں شامل نہیں ہیں)
اس مقالے میں روایات حضرت علیؑ سے استفادہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل عناوین سے بحث کی گئی ہے: (۱) اہمیت وآثار توحید۔ (۲) توحید کے معنی اور اقسام۔ (۳) ادلۂ توحید۔ (۴) خصوصیات توحید۔
اہمیت وآثار توحید: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اصول دین میں’ ’اصلِ توحید‘‘ ایک خاص عظمت واہمیت کی حامل ہے اس طرح کہ تمام اصول دین کی بنیاد اسی اصل پر ہے (یعنی توحیدپر) بنابریں حضرت علیؑ کی نگاہ میں اصل توحید اور اس کے آثار ونتائج کی خاص اہمیت ہے اور اسی لیے حضرت علیؑ نے اپنے ارشادات میں توحید کا بکثرت ذکر فرمایا ہے۔ ایک روایت میں حضرت علیؑ آنحضرتؐ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا ’’التوحید نصف الدین‘‘ یعنی توحید نصف دین ہے۔(۱)
اور خود حضرت علیؑ نے فرمایا: پروردگار عالم نے انسان کے اعضاء بدن میں مقام زبان کو عظمت بخشی ہے۔ (جس سے انسان کلمۂ توحید ادا کرتا ہے) اور قرآن نے توحید کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (۲)
حضرت علی علیہ السلام نے بعض احادیث میں اصل توحید کی فضیلت اور اس کے عظیم اجروثواب کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرتؑ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’جب بھی کوئی بندۂ مسلم اپنی زبان سے کلمہ لاالہ الااللہ ادا کرتا ہے تو اس کی یہ گفتار ہر رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے بلندی تک پہنچتی ہے اور گناہ سے محفوظ رکھتی ہے یہاں تک کہ اس کو اطمینان قلب حاصل ہوجاتا ہے۔(۳)
حضرت امام رضا علیہ السلام حدیث سلسلۃ الذہب کے آخر میں حضرت علی علیہ السلام کے حوالے سے آنحضرتؐ کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل امین نے اللہ کی جانب سے بیان فرمایا ہے ’’میں خدائے یگانہ ہوں، اے میرے بندو! میری عبادت کرو جو بندہ خلوص نیت کے ساتھ کلمہ ’’لاالہ الااللہ‘‘ کہے گا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوجائے گا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے امان میں ہوگا۔
حضرت امام رضا علیہ السلام سے پوچھا گیا: اے فرزند رسول! اخلاص سے مراد کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا: (اخلاص سے مراد) خدا اور رسول کی اطاعت اور ولایت اہل بیتؑ کو قبول کرنا ہے۔ (۴)
دوسری روایت میں حضرت علیؑ نے حضرت رسول خداؐ کے حوالے سے فرمایا ’’توحید پر اعتقاد کا نتیجہ بہشت میں داخل ہونا ہے۔
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: جو شخص اس دنیا سے اٹھے اس حال میں کہ اس نے کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ قرار دیا ہو اس سے نیکی سرزد ہویا برائی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (۵)
دوسری جگہ حضرتؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرتؐ سے سنا کہ آپ نے آیہ کریمہ ’’ھل جزاء الاحسان الاالاحسان‘‘ کے بارے میں فرمایا: اللہ ارشاد فرماتا ہے ’’جو شخص توحید کو دوست رکھے میں اس کو بہشت کے علاوہ کوئی جزاء نہیں دوں گا۔ (۶)
امامؑ نے دوسری روایات میں توحید کے نتائج وثمرات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ مثلاً نہج البلاغہ کے دوسرے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جاچکا ہے جس پر عقیدہ خلوص نیت کے ہمراہ ہے جب تک ہم زندہ رہیں گے۔ اس سے متمسک رہیں گے اور مستقبل میں پیش آنے والے سخت ترین دنوں کے لیے اس کو ذخیرہ بناکر رکھیں گے ایسی گواہی ہمارے مضبوط ومستحکم ایمان کی نشانی اور ہماری نیکیوں کا راز اور خوشنودیٔ پروردگار کا ذریعہ ہے اور شیطان سے دوری کاسبب ہے۔ 
توحید الٰہی پر ایمان کے بعض آثار ونتائج:
(۱)نجات وحفاظت کا وسیلہ ہے۔ (۲) مستقبل میں پیش آنے والی سختیوں اور پریشانیوں کے لیے ایک ذخیرہ ہے۔ (۳) ایمان کے مستحکم ہونے کی ایک پہچان ہے۔ (۴) احسان ونیکی کا عنوان ہے۔ (۵) خوشنودیٔ پروردگار کا ایک سبب ہے۔ (۶) شیطان سے جنگ کرنے کا ایک وسیلہ ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے دوسری جگہ کلمۂ اخلاص (یعنی لاالہ الااللہ) کو خدا تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضرت ؑ ارشاد فرماتے ہیں: جو افراد خدائے سبحان تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں ان کے لیے بہترین وسیلہ خدا ورسول پر ایمان لانا ہے۔ اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ اور کلمۂ توحید کہ وہ فطرت کی آواز ہے۔ (۷)
دوسری جگہ حضرتؑ نے مسلمانوں کے حقوق اور توحید الٰہی کے درمیان ارتباط کا بھی تذکرہ فرمایا ہے۔ ’’پروردگار عالم نے کلمۂ اخلاص کے ذریعہ مسلمانوں میں سے ہر ایک کے دوسرے سے مربوط حقوق کو مستحکم قرار دیا ہے۔ (۸)
عقیدۂ توحید کی عظمت اور اس کے آثار اس سے کہیں زیادہ بیان کیے گئے ہیں۔ اس مقالہ میں تمام مطالب کو پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا اس عنوان کو یہیں پر تمام کرتے ہوئے دیگر مباحث کو پیش کرتے ہیں۔
توحید کے معنی اور اس کے اقسام: توحید سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کی عظمت واہمیت اس اعتبار سے اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ایک انسان کے ایمان واسلام کی لازمی شرط صحیح توحید کی معرفت ہے۔ درحقیقت آثار توحید کی عظمت واہمیت کی بنیاد صحیح توحید کی معرفت ہے۔ جس کو قرآن وسنت کے عقلی وقطعی اصول سے درک کیا گیا ہو۔
مفکرین اسلامی کے درمیان توحید کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں یہ حقیقت اہمیت موضوع میں مزید اضافہ کا سبب ہے۔ اس فصل میں حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کی روشنی میں توحید کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ہم اس بات کی کوشش کریں گے کہ مطالب حقہ تک ہماری رسائی ہوسکے۔ توحید کے معنی ہیں پروردگار عالم کا ایک ہونا اس وحدت ویگانگی پر مختلف پہلوئوں سے بحث کی جائے گی ان میں اہم ترین پہلو، توحید ذاتی، توحید صفاتی، توحید افعالی، توحید عبادی ہیں۔
توحید ذاتی: حضرت علیؑ کی نظر میں توحید ذاتی کے معنی یہ ہیں کہ پروردگارکا نہ کوئی شریک ہے نہ کوئی مثل ہے اور نہ کوئی جز ہے اس اعتبار سے توحید کے دیگر معانی چاہے وہ توحید عددی ہو یا توحید نوعی ہو پروردگار سے متعلق صحیح نہیں ہیں۔
حضرت علیؑ نے ایک روایت میں واحد کے معانی بیان فرمائے ہیں اور اس سے متعلق معانیٔ حقہ کو مشخص فرمایا ہے۔ شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ جنگ جمل میں ایک اعرابی نے حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا۔ کیا خدا واحد ہے؟ حضرت ؑ کے اصحاب نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا یہ سوال کا کون سا موقع ہے جب کہ حضرتؑ مصروف جنگ ہیں؟ حضرتؑ نے فرمایا اس کو سوال کرنے دو ہماری جنگ بھی اسی بنیاد پر ہے۔ اس موقع پر حضرت نے فرمایا: اے اعرابی! اللہ واحدہے اس قول سے متعلق چار صورتیں ممکن ہیں ان میں دو صورتیں ’’اللہ‘‘ کے بارے میں جائز نہیں ہیں اور دوصورتیں اس کے بارے میں جائز ہیں۔ لیکن دو صورتیں جو اللہ کے بارے میں جائز نہیں ہیں وہ یہ ہیں:
پہلی صورت: اگر کوئی کہنے والا لفظ واحد کہے اور اس کا مقصد عدد ہو تو یہ جائز نہیں ہے اس لیے جس کا کوئی ثانی نہ ہو وہ فہرست اعداد میں شامل نہیں ہوگا۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ شخص کافر ہے جو یہ کہے ’’ثالث ثلٰثۃ‘‘۔ (یعنی تین میں کا تیسرا)
دوسری صورت: اگر کوئی شخص یہ کہے ’’ھوواحد من الناس‘‘ اور اس کے ذریعہ نوع کا ارادہ کرے تو یہ مفہوم اللہ کے لیے جائز نہیں ہے اس لیے کہ تشبیہ ہے اور ہمارا رب اس سے بلند وبالا ہے۔
اور دوصورتیں اللہ کے بارے میں جائز ہیں ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے’’ ھوواحد لیس لہ فی الاشیاء شبہ ‘‘یعنی خدا ایک ہے تمام اشیاء میں کوئی اس کے مشابہ نہیں ہے یقینا ہمارارب ایسا ہی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کوئی کہے ’’انہ احدی المعنی‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وجود کے اعتبار سے نہ اس کی تقسیم کی جاسکتی ہے اور نہ عقل ووہم کے اعتبار سے اس کی تقسیم ممکن ہے’’ کذالک ربنا‘‘۔ (۹)
اس روایت کی بنیاد پر واحد کے چار معنی ہیں:(۱) واحد عددی۔ (۲) واحد نوعی۔ (۳) واحد بمعنیٔ موجود بے نظیر۔ (۴) واحد بمنی موجود ناقابل تقسیم۔ پہلے اور دوسرے معنی اللہ کے لیے ناجائز ہیں اور تیسرے اور چوتھے معنی اللہ کے لیے جائز ہیں۔
تشریح:
 توحید عددی: اس سے مراد وہ واحد ہے جو کثرت اور تعدد کو قبول کرتا ہو چاہے یہ کثرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم جنس ومشابہ نہ ہو جب ہم کسی موجود کے لیے لفظ واحد استعمال کرتے ہیں تو اس موجود کے لیے دو، تین وغیرہ کا تصور بھی ممکن ہے اس قسم کے واحد کو اللہ کے لیے استعمال نہیں کرسکتے اس لیے کہ ذات پروردگار تعدد بردار نہیں ہے اور نصاریٰ یہ کفرآمیز جملہ کہتے ہیں:’’ ان اللہ ثالث ثلٰثہ‘‘۔ (سورہ مائدہ آیت؍۷۳)
درحقیقت وہ خد اکے واحد عددی ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں۔
حضرت امیرعلیہ السلام نے مختلف انداز سے پروردگار عالم سے متعلق واحد عددی کی نفی فرمائی ہے۔ واحد عددی کی مذکورہ تعبیرات کے علاوہ دیگر تعبیرات کی جانب بھی اشارہ ممکن ہے۔
واحد لابعددیعنی یگانہ ہے لیکن شمار کے ذریعہ نہیں۔ (۱۰)
الاحدبلاتاویل عدد۔ یعنی وہ یگانہ ہے لیکن عدد کے معنی میں نہیں۔ (۱۱)
واحد لامن عدد۔ یعنی وہ یگانہ ہے لیکن عدد کے ذریعہ نہیں۔ (۱۲)
توحید نوعی: اس سے مراد وہ واحد ہے جو تعدد بردار ہو جنس کے اعتبار سے مماثلت رکھتا ہو۔ لفظ نوع یہ ان افراد پر بولا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں اور ہم جنس ہوں۔ (۱۳)
مثلاً جب یہ کہاجاتا ہے ’’لیس ھٰذا من نوع ذالک‘‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہ دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ مشابہ اور ہم جنس نہیں ہیں۔ (۱۴)
اسی طرح جب کسی کے بارے میں کہتے ہیں: ’’واحد من الناس‘‘ تو اس سے مقصد یہ ہوتا ہے متشابہ اور ہم جنس افراد میں سے ایک ہے۔
اس بنا پر وحدتِ نوعی میں تعدد اور تشابہ پایاجاتا ہے۔ واحد نوعی نوع کے دیگر افراد کے ساتھ ہم جنس اور متشابہ ہے اس طرح یہ نہیں کہاجاسکتا کہ خدا وندعالم واحد نوعی ہے اس لیے کہ اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ پروردگار عالم دیگر افراد کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ 
اس اعتبار سے جب ائمہ معصومین علیہم السلام یہ فرماتے ہیں: ’’اللہ شیء‘‘ تو اس کے ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں ’’لاکالا شیاء‘‘ (۱۵) یعنی خدا شئے ہے لیکن دیگر اشیاء کے مانند نہیں ہے۔
توحید بمعنائے بے نظیر وبے شبیہ
حضرت علی علیہ السلام وحدت عددی اور وحدت نوعی کی نفی فرمانے کے بعد اللہ کے لیے وحدت کے دوسرے معانی بیان فرماتے ہیں: (۱) واحد لیس لہ فی الاشیاء شبہ۔ یعنی وہ واحد کہ تمام اشیاء میں کوئی بھی شئی اس کے مشابہ نہیں ہے۔
ہم اپنی بحث میں توحید کے اس معنی کے خصوصیات کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
(۲) یعنی واحد کے دوسرے معنی ہیں کہ جو تجزیہ اور تقسیم کو قبول نہ کرتا ہو۔
توحید کے اس دوسرے معنی میں ذات پروردگار سے ہرقسم کے تجزیہ اور تقسیم کی نفی کی گئی ہے چاہے وہ تقسیم خارجی ہو یا عقلی ہو یا وہمی ہو۔ (۱۶)
خدا کے بارے میں اس کا تصور نہیں کیاجاسکتا جیسا کہ حضرت امیر فرماتے ہیں کہ اللہ کے بارے میں تجزیے (یعنی جزء جزء ہونا) اور تبعیض کا تصور ناممکن ہے۔ (۱۷)
حضرت امیر علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ پروردگار جزء نہیں رکھتا کہ جس کے ذریعہ اس کی توصیف کی جاسکے اور نہ وہ اعضاء وجوارح رکھتا ہے جن کے ذریعہ اس کی توصیف ممکن ہو۔ اور نہ وہ عرض ہے اور نہ پروردگار کی اس طرح توصیف ممکن ہے کہ اس کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ دوسروں کا غیر ہے۔ (۱۸)
اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ذات پروردگار میں ترکیب کا کوئی گذر نہیں اور نہ وہ تجزیہ اور تحلیل کو قبول کرتا ہے۔ اس کی فاعلیت فاعلیتِ ارادی ہے۔ اس کی لامن شی سے ہے اور نہ یہ کہ اس کی خلقت کسی دوسرے کے فیضان کے سبب ہے (یعنی کسی دوسرے نے اس کو وجود نہیں بخشا) اور نہ یہ کہ تمام موجودات اس کے ہم جنس بلکہ اس کے عین وجود ہوں۔
دوم: توحید صفاتی: اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح پروردگار ذات کے اعتبار سے یگانہ وبے مثل ہے اسی طرح اپنے صفات کمالیہ میں بھی یگانہ و بے مثل ہے اس کے صفات میں کوئی اس کا مثل ونظیر نہیں ہے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ کے علاوہ ہر غلبہ وطاقت والا عاجز وناتواں ہے اور اس کے علاوہ ہر مالک مملوک ہے۔ اور ہر عالم اس کے علاوہ طالب علم ہے اور اس کے علاوہ ہر قدرتمند کمزور وناتواں ہے۔ (۱۹)
ان کلمات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صفات پروردگار اس سے مخصوص ہیں کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں ہے۔ کوئی بھی عالم وقادر، مالک اس کے بالمقابل نہیں ہے بلکہ سب اسی کی وجہ سے عالم وقار ومالک ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمام اشیاء کے صفات وکمالات خدا کے صفات ہیں اوران کے علاوہ خدا کی مطلقاً صفات وکمال نہیں ہیں۔ اس لیے کہ دلیل اس مطلب پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے صفات کمالی جیسے قدرت وحیات خود اسی سے مربوط ہیں نہ یہ کہ وہ صفات پروردگار ہیں دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ تمام موجودات کے صفات وکمالات خدا کے ارادے کے سبب ہیں لیکن اس کے صفات نہیں ہیں۔
توحید افعالی: اس سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں تمام امور پروردگار کے ارادے اور مشیت سے انجام پاتے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ یہ انسان کے اپنے افعال میں صاحب اختیار ہونے سے کوئی منافات نہیں رکھتی اس لیے کہ فعل اختیاری کے مقدمات میں سے خود اختیار ہے کہ اللہ نے اس قدرت واختیار کا انسان کومالک بنایا ہے۔ اللہ کا ارادہ ومشیت انسان کے فعل اختیاری سے متعلق ہے۔
لیکن مکتب فلسفہ وعرفان کی جانب سے توحید افعالی سے متعلق کچھ نظریات وارد ہوئے ہیں جو صحیح نہیں معلوم ہوتے مثلاً یہ کہ ارادۂ خدا وندی بلکہ اس کی ذات تمام موجودات کی علت تامہ ہے۔ انہیں میں سے افعال انسان بھی ہیں۔
اس نظریے سے بخوبی واضح ہے کہ بندے اپنے افعال میں مجبور ہیں اور ان کے اختیارات کا کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسری جانب سے وحدت وجود وموجود کی بناء پر بھی چونکہ غیریت درکار نہیں ہے فعل کی نسبت انسان کی جانب مجازی ہے اور یہاں جبر وتفویض کا موضوع بھی نہیں ہے۔
لاہیجی شرح گلشن میں مراتب شہود کو بیان کرتے ہوئے کہ ان میں سے ایک توحید افعالی ہے تحریر فرماتے ہیں: حضرت حق تعالیٰ افعال کی تجلی میں سالک پر متجلی ہوتا ہے اور سالک صاحب تجلی تمام افعال واشیاء کو حق تعالیٰ میں فانی سمجھتا ہے اور کسی بھی مرتبہ میں کوئی شئی علاوہ حق تعالیٰ کے اس کو نظر نہیں آتی اور وہ اس کے غیر کو مؤثر نہیں سمجھتا۔ (۲۰)
توحید عبادی: حضرت علی علیہ السلام اذان کی خوبیوں اور عظمتوں کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اما قولہ اشھدان لاالہ الااللہ‘‘ جب مؤذن اس کلمہ کو ادا کرتاہے تو گویا اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس بات کو جان لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس کے علاوہ ہر معبود باطل ہے۔ (۲۱)
حضرت امیر علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ بعثت نبوی کے اہم مقاصد میں سے ایک مقصد لوگوں کو عبادت الٰہی کی جانب توجہ دلانا تھا۔ چنانچہ آ پ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’وہ خدا جس نے محمدؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تاکہ اپنے بندوں کو اپنے بندوں کی پرستش سے اپنی عبادت کی جانب متوجہ کرے۔ (۲۲)
عبادت خشوع وخضوع کے معنی میں ہے اور مخلوقاتِ الٰہی میں سے کسی بھی مخلوق کی دوسری مخلوق کی مولویت اور مالکیت کی طرف نسبت نہیں ہے (یعنی اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا اس مخلوق کا مالک، مولی نہیں ہے تاکہ اس کی بارگاہ میں خشوع وخضوع لازم ہو اس لیے کہ فقط عبادت اور خشوع وخضوع کا مستحق حقیقی مالک ومولا ہے۔) یہ عبادت وخشوع وخضوع اس کی اطاعت وپیروی کے ساتھ ہوگی اسی لیے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آیۂ کریمہ ’’واتخذوا من دون اللہ الخ‘‘ (۲۳)کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’وہ لوگ جنہوں نے خدائے متعال کے علاوہ دوسروں کو اپنا معبود قرار دیا ہے روز قیامت وہ معبود ان کی مخالفت کریں گے۔ اور وہ ان سے اور ان کی عبادت سے بیزاری اختیار کریں گے۔‘‘
پھر حضرت نے فرمایا: عبادت وپرستش فقط رکوع وسجود بجالانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی اطاعت وفرمانبرداری ہی اس کی عبادت ہے۔ اور جو شخص بھی کسی مخلوق کی اللہ کی معصیت میں اطاعت کرے اس نے اس مخلوق کی عبادت کی ہے۔ (۲۴)
ادلۂ توحید: ۱۔ فطرت:دینی منابع کی بناء پر خداشناسی ایک فطری جذبہ ہے خدائے متعال نے اپنے فضل ومہربانی کے ذریعہ تمام انسانوں کی فطرت کو اپنی معرفت کے ساتھ جوڑ دیا ہے اس اعتبار سے جب کوئی انسان دنیا میں آتا ہے تو اپنے ہمراہ ذات پروردگار اور اس اسماء وصفات کی معرفت اپنے ہمراہ لے کر آتا ہے یہ معرفت الٰہی کا فطری جذبہ مختلف اسباب کے ذریعہ مثلاً پیغمبران الٰہی کی نصیحت اور کائنات کے رموز واسرار میں غوروفکر کے ذریعہ یاد آتا ہے حضرت علیؑ نے اپنے ایک انتہائی عمدہ ترین قول میں فرمایا: انبیاء الٰہی کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری فطری میثاق کو واپس لانا اور اس فراموش شدہ نعمت کی یاد آوری کرانا ہے یعنی خداشناسی۔
پروردگار عالم اپنے انبیاء کو بندوں کے درمیان مسلسل بھیجتا رہا تاکہ ان کے عہدوپیمان کو ابھاریں اور ان کو ان کی فراموش شدہ نعمت کو یاد دلائیں۔(۲۵)
اس فطری معرفت میں توحید پروردگار کی معرفت موجود ہے اس میں پروردگار عالم کو بندوں کے درمیان خدائے وحدہ لاشریک کے عنوان سے پہنچوایا گیا ہے۔
معرفت فطری کا محور خدائے واحد ہے لامحالہ فطری معرفت کی جانب توجہ کرنا خدائے واحد کی جانب توجہ کرنا ہے۔ جیسا کہ کتاب توحید میں ابوہاشم کے حوالہ سے روایت میں آیا ہے۔ (راوی کہتا ہے) میں نے حضرت امام جواد علیہ السلام سے سوال کیا کہ واحد کے معنی کیا ہیں؟ حضرت نے فرمایا: وہ کہ جس کی وحدانیت پر سب متفق ہوں جیسا کہ پروردگار فرماتا ہے: اگر ان لوگوں سے پوچھو کہ کس نے آسمان وزمین کو زیور وجود سے آراستہ کیا ہے؟ وہ بغیر کسی شک وتردید کے یہی کہیں گے خدا۔ (۲۶)
ایک روایت میں حضرت امیر نے توحید کے فطری ہونے کو اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’اس میں کوئی شک نہیں وہ بہترین وسیلہ جس کو تلاش کرنے والوں نے اپنایا ہے اور پروردگار سے متوسل ہوئے ہیں وہ کلمۂ اخلاص ہے اور یہی فطرت الٰہی ہے۔ (۲۷)
۲۔ ہماہنگی اور وحدتِ تدبیر:توحید پروردگار کی دلیل اس نظام ہستی کا ایک ہونا ہے اس کائنات میں ہر طرف پروردگار کی ربوبیت کے بکھرے ہوئے نمونوں میں غوروفکر کے ذریعہ اس کی وحدانیت کو سمجھاجاسکتا ہے۔ قرآن کریم لوگوں کو تکوینی نشانیوں میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس راہ سے خالق کائنات اور اس کی وحدانیت کو سمجھ سکیں۔ جیسا کہ سورۂ نمل کی آیات ۶۰ سے ۶۴ تک ہر آیت میں اللہ کی کچھ نعمتوں اور بخششوں کو ذکر کیا ہے اس موقع پر ’’ ء الہ مع اللہ‘‘ اس جملے کے ذریعہ اللہ کی وحدانیت پر استدلال کیاجاسکتا ہے مثلاً آیت نمبر ۶۴ میں فرماتا ہے: ’’وہ کون ہے جو خلقت کا آغاز فرماتا ہے پھر اس کو پلٹاتا ہے اور وہ کون ہے جو تم کو آسمان وزمین سے رزق عطا فرماتا ہے کیا خدا کے ساتھ دوسرا معبود ہے (اے رسول) تم کہہ دو اگر تم سچے ہو اپنی دلیل پیش کرو۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کہ جو مکتب قرآن کے پروردہ ہیں وہ ایک جانب آسمان وزمین کے کچھ رموز واسرار کو بیان فرماتے ہیں۔ (۲۸)۔ اور دوسری جانب نصیحت فرماتے ہیں تمام چیزوں کا خالق خدائے واحد ہے۔ (خطبہ نمبر؍۱۸۵) میں ارشاد فرماتے ہیں: اگر تم غوروفکر کے راستے پر چلو تو تم اس کے ذریعہ وحدانیتِ پروردگار تک پہنچ جائو گے۔ تم کو معلوم ہوگا کہ جو چیونٹیوں کا پیدا کرنے والاہے وہ ہی درختوں کا خالق ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ تمام مخلوقات چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی ہو، کمزور ہو یا قوی ہو، خلقت میں سب ایک دوسرے کے مانند ہیں ۔ درحقیقت اس کائنات کی تمام مخلوقات کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی اور خلقت کا استحکام اس بات کی علامت ہے کہ اس جہان ہستی پر صرف ایک قوت حاکم ہے
(۳) شریک پروردگار کی نشانیوں کا نہ ہونا: حضرت علی علیہ السلام کے بیانات میں اللہ کے شریک نہ ہونے پر اس کے آثار ونشانیاں موجود نہ ہونے کے ذریعہ تیسری دلیل اس طرح پیش کی گئی ہے کہ اگر خدائے واحد کا کوئی شریک وہمسر ہوتا تو اس دنیا میں ضرور اس کی صفت وتدبیر کے آثار موجود ہوتے اور چونکہ ایسا نہیں ہے اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔ حضرت امیر علیہ السلام نے اسی دلیل کو حضرت امام حسن علیہ السلام کے نام ایک مکتوب میں نہایت خوبصورت انداز میں مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ’’اے میرے فرزند! اگر تمہارے پروردگار کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے رسول بھی تمہاری جانب آتے اور اس کی سلطنت وملکیت کے آثار کا بھی تم ضرور مشاہدہ کرتے اور اس کے کچھ افعال وصفات بھی معلوم ہوتے مگر وہ ایک ہے جیساکہ خود اس نے بیان کیا ہے۔ (۲۹)
یہ تمام آثار وعلامات اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اس اعتبار سے مخلوقات میں اور ان پر حاکم نظم وتدبیر میں غوروفکر سے وجود خالق کی جانب راہنمائی ہوتی ہے بہرحال یہ تمام آثار ومخلوقات اس سے قطع نظر کہ یہ وجود خالق پر دلالت کرتے ہیں اس خالق کی وحدانیت پر بھی دلالت کرتے ہیں جیسا کہ گذشتہ دلیل میں بیان کیا گیا ہے۔ مخلوقات کی نظم وہم آہنگی خدائے واحد کی خبر دیتی ہے۔ موجودہ مخلوقات کے علاوہ کسی دوسرے کے آثار ومخلوقات درمیان میں نہیں ہیں تاکہ دوسرے خالق کے وجود پر دلالت کریں۔
خدائے متعال کے وہ آثار جن کو حضرت علی علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے ارسال رُسُل (یعنی دنیا میں رسولوں کا بھیجنا) بھی ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ انبیاء علیہم السلام خدائے واحد کے بارے میں خبر دیتے ہیں اور دوسرے خدا کے وجود کی نفی کرتے ہیں۔ اگر دوسرا خدا درمیان میں ہو تو انبیاء جھوٹے قرار پائیں گے حالانکہ انبیاء کی صداقت دین اسلام کے واضح ترین حقائق میں سے ہے۔
اگر کوئی کہے: ممکن ہے اس دنیا کے پیدا کرنے والے چند خالق ہوں اور وہ باہم ایک دوسرے کے ساتھ اس دنیا کے نظم وترتیب میں موافقت رکھیں اور سب اپنے اپنے دائرۂ کار کو مشخص کرلیں؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہوگا کہ یہ خیال ان فرض شدہ خدائوں کی محدودیت پر دلالت کرتا ہے اور نقص ومحدودیت مخلوقات کے صفات میں سے ہے۔ خالق ان صفات سے بری ہے۔
توحید کے شرائط: حضرت علی علیہ السلام کے اقوال میں غوروفکر کے بعد ہم اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ توحید واقعی جس کا تذکرہ قرآن وسنت میں ہوا ہے اور امام کے اقوال میں بھی اس کا وجود ملتا ہے اس توحید واقعی کی منزل تک پہنچنے کے لیے کچھ شرائط ہیں جو بہت ضروری ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہوگی تو یہ نفی توحید کے مترادف ہوگا۔
توحید کے شرائط یہ ہیں : (۱) انکار تشبیہ۔ (۲) توصیف پروردگار کا ممکن نہ ہونا۔ (۳) تباین کا ہونا۔
پہلی شرط: انکارتشبیہ۔ یعنی انسان حقیقت توحید تک اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب ذات الٰہی سے ہر قسم کی تشبیہ ومثل ونظیر کی نفی کرے اس کی جھلک حضرت علیؑ کے اقوال میں پائی جاتی ہے ہمیشہ آپ نے اس مفہوم کی جانب تاکید فرمائی ہے۔ مثلاً ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ’’وہ یعنی پروردگار تمام مخلوق سے جدا ہے کوئی چیز اس کے مانند نہیں ۔ (۳۰)۔ دوسری جگہ حضرتؑ ارشاد فرماتے ہیں: اللہ کے لیے نہ کوئی مثل ہے اور نہ کوئی نظیر ہے۔ (۳۱)۔ حضرت کا یہ بھی ارشاد ہے: وہ یعنی خدا وندعالم واحد ویگانہ ہے، دیگر اشیاء کے مانند نہیں ہے۔ (۳۲)۔ اسی طرح حضرت نے یہ بھی فرمایا ہے: وہ اپنے وجود پر اپنی مخلوق کی قوت کے ذریعہ اور اپنے ازلی ہونے اور اپنی مخلوق کے حادث ہونے پر گواہ ہے۔(۳۳)
حضرت امیر علیہ السلام کے اس قول کے یہ معنی ہیں کہ پروردگار اپنی مخلوق کے ساتھ ہر قسم کی مشابہت ویگانگت سے پاک ومنزہ ہے تمام اشیاء اس اعتبار سے کہ حادث ہیں عالم وجود میں آنے کے لیے ایک خالق کے محتاج ہیں اور تمام مخلوق اس احتیاج میں یکساں ہیں۔ لیکن چونکہ ذات پروردگار ازلی وبے نیاز ہے وہ کسی خالق کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے مثل کوئی نہیں ہے۔ (مثل ہونے کی صورت میں) اس کی مخلوق اس کے مانند قرار پائے گی وہ ہمیشہ اہل معرفت کے نزدیک مشابہت رکھنے والوں اور اضداد سے پاک ومنزہ ہے۔
دوسری شرط: خدا کی توصیف ناممکن ہے۔ یہ نکتہ نہایت قابل توجہ ہے کہ کسی حقیقت کی معرفت اسی وقت ممکن ہوگی جب ہم اس کا ادراک کریں اور پھر اس کی معرفت حاصل کریں لیکن ذاتِ پروردگار اپنے لامحدود قدس ونورانیت کے سبب عقل وفکر کے دائرے سے باہر ہے۔ (۳۴)
حضرت امیرعلیہ السلام کی نظر میں پروردگار عالم کی توصیف کا مطلب اس کو محدود کرنا ہے۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو شخص خدا کے لیے کسی صفت (یعنی زائد برذات) کا قائل ہو اس نے خدا کو محدود کردیا اور جس نے اس کو محدود کردیا وہ اس کو شمار میں لے آیا اورجو اس کو شمار میں لے آیا اس نے خدا کی ازلیت کو باطل قرار دیا اور جس نے اس کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا وہ اس کی صفت (یعنی زائد برذات) کا قائل ہوا۔ (۳۵)
پس اللہ کی صفت (یعنی زائد برذات) کا لازمی نتیجہ اس کو محدود کرنا ہے اور اس سے قبل یہ بیان کیاجاچکا ہے کہ توحید عددی کا اس کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا۔ اس مفہوم کے واضح طور پر بطلان سے متعلق اپنی دلیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اس سے مربوط حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کا ذکر کریں گے۔
پہلی دلیل: ذات پروردگار ہماری عقل کے دائرے میں نہیں سما سکتا اس مطلب کو پیش نظر رکھتے ہوئے خالق ومخلوق کے درمیان سنخیت نہیں ہے۔ (یعنی دونوں ایک حقیقت نہیں رکھتے۔)
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ذات پروردگار ایک ایسا وجود ہے جس کی حقیقت دیگر تمام حقائق سے جدا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ ایک مبائن کا دوسرے مبائن سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر یہ انسان ذات پروردگار کا کس طرح ادراک کرسکتا ہے۔ حقیقت انسان حقیقت پروردگار سے جدا ہے۔
دوسری دلیل: انسان ایک محدود مخلوق ہے اور ایک محدود مخلوق لامحدود حقیقت کو درک نہیں کرسکتی۔ بنابریں ذات پروردگار کا احاطہ یا دوسرے لفظوں میں اس کی حقیقت تک پہنچنا ناممکن ہے۔
تیسری دلیل: انسانی فکروذہن کچھ مفاہیم کے ذریعہ حقائق تک پہنچتا ہے۔ دوسری جانب سے ہر مفہوم کی چمک ایک خاص حد تک پہنچتی ہے اور چونکہ خداوندعالم کی کوئی حد نہیں ہے ہماری فکرو ذہن میں اس کا کوئی مفہوم نہیں سما سکتا۔
پروردگار کی توصیف (یعنی زائد برذات) یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کی آیات وروایات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔ ’’آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں لیکن وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے۔ (سورہ انعام؍۱۰۲)
دوسری جگہ فرماتا ہے: تمہارا رب عزت کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں۔ (سورہ صافآت؍۱۸۰)
اور ایک مقام پر اس طرح فرماتا ہے۔ ان لوگوں نے (یعنی یہودیوں) نے خد اکی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدر کرنا چاہئے تھی۔ (سورہ انعام؍۹۱)
(سورہ نجم آیت؍۴۲) میں اس طرح فرماتا ہے: بے شک سب کو تمہارے رب کی جانب پہنچنا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں فرماتے ہیں: دین کا آغاز معرفت پروردگار ہے اور خدا کی معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے اور اس کا کمال تصدیق اس کی وحدانیت ہے اور کمال توحید اخلاص ہے اور کمال اخلاص یہ ہے کہ اس کی ذات سے صفت کی نفی کی جائے اس لیے کہ ہروصف گواہی دیتا ہے کہ وہ موصوف کا غیر ہے۔ اور ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کا غیر ہے۔ پس جو بھی خدائے سبحان کی توصیف کرے اس نے اس کو کسی چیز کے نزدیک کیا ہے اور جس نے اس کو کسی چیز سے نزدیک کیا ہے اس نے اس کو دو قرار دیتا ہے اور جو اس کے دو ہونے کا قائل ہو اس نے اس کو تجزیہ کیا اور جس نے اس کا تجزیہ کیا اس نے اس کو نہیں پہچانا اور جو اس کو نہ پہچانے وہ اس کی جانب اشارہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف اشارہ کرے اس نے گویا خدا کو محدود کیا اور جو اس کو محدود کرے اس نے اس کو معدود بنایا ہے۔ (۳۶)
دوسری جگہ حضرت ارشاد فرماتے ہیں: عبادت پروردگار کا آغاز اس کی معرفت ہے اور معرفت خدا کی اصل اس کی توحید ہے اور نظام توحید اس کی ذات سے صفات کی نفی ہے وہ بلند وبالا ہے اس سے کہ اس کی جانب صفات کا رخ ہو۔ اس لیے کہ عقلیں گواہی دیتی ہیں اس بات پر کہ جس کے لیے صفات کی تجویز کی جائے وہ مصنوع اور مخلوق ہے۔ اور عقلیں گواہی دیتی ہیں کہ پروردگار صانع ہے مصنوع نہیں۔(۳۷)
پروردگار کی توصیف (زائد برذات) کے ناممکن ہونے کو مندرجہ ذیل روایات میں اس طرح بیان کیا گیاہے وہ ایسی صفت نہیں رکھتا جو قابل ادراک ہو وہ ایسی حدنہیں رکھتا جس کی مثالیں بیان کی جائیں۔ آنکھیں اس کی صفات کے مقابلے میں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں۔ مختلف صفات اس کی بارگاہ قدرت میں رک جاتے ہیں ہماری فکریں اس کی بارگاہ ملکوتی میں حیران ہیں۔
وہ پاک ومنزہ ہے وہ اسی طرح جیساکہ خود اس نے اپنی توصیف فرمائی۔ دیگر توصیف کرنے والوں کی رسائی اس تک ناممکن ہے۔ (۳۸)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت امیر مسجد کوفہ میں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے دوران خطبہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اے امیرالمومنین! ہمارے لیے خدا کی توصیف فرمائیے تاکہ ہمارے قلوب میں اس کی محبت ومعرفت میں اضافہ ہو۔ یہ سن کر حضرت ناراض ہوگئے اعلان فرمایا: الصلوٰۃ جامعہ۔ یہ سن کر لوگ جمع ہوگئے مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ حضرت اسی ناراضگی کی حالت میں بالائے منبر تشریف لے گئے خد اکی حمدوثناء بجالانے کے بعد محمد وآل محمدؐ پردرودوسلام بھیجا پھر اس طرح آپ نے فرمایا: خدائے متعال اہل فکر کی فکروں میں نہیں سماسکتا۔ عقل وفکر اس کی حقیقت ذات تک پہنچنے سے قاصر ہے یہاں تک کہ اس کی عظمت وجلالت کی ایک جھلک تک بھی انسانی عقل وفکر نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے کہ وہ مخلوق کی محدود ادراکی قوتوں کے دائرے میں نہیں سماسکتا۔ اس کی حقیقت الگ ہے اور مخلوق کی حقیقت الگ ہے۔ بے شک ہر چیز اس چیز کے مشابہ ہے جو اس سے مماثلت رکھتی ہے اور جو ذات اپنا مثل ونظیر نہیں رکھتی وہ کس طرح دوسری چیز کے مشابہ ہوگی۔ (۳۹) پروردگار سے متعلق ہر قسم کے تصور کی نفی سے متعلق حضرت امیر علیہ السلام کے ایک کلام کا ذکر کرکے اس بحث کو یہیں تمام کرتے ہیں۔
حضرت امیر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: حقیقت توحید یہ ہے کہ تم اپنی عقل وفکر کے ذریعہ اس کا کوئی تصور نہ کرو۔(۴۰)
تیسری شرط: تباین۔ یہ توحید کی تیسری بنیادی شرط ہے جس سے مراد یہ ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان ذات وصفت کے اعتبار سے تباین وجدائی موجود ہے۔ اور خالق ومخلوق کے درمیان تبائن ذاتی وصفتی سے مراد یہ ہے کہ پروردگار ذات اور تمام صفات میں اپنی مخلوق سے حقیقتاً جدا ہے خالق ومخلوق کے درمیان کوئی شرکت نہیں ہے۔ خداشناسی سے متعلق یہ موضوع قرآن وسنت کے مسلمات میں سے ہے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہم یہاں حضرت علی علیہ السلام کے کچھ اقوال کا ذکر کرتے ہیں۔
حضرت علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: وجود پروردگار کی دلیل اس کی واضح نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں کا ہونا وجود پروردگار پر دلالت کرتا ہے اور اس کی معرفت اس کی وحدانیت پر ایمان لانا ہے اور توحید یہ ہے کہ اس کو اس کی مخلوق سے علیحدہ رکھاجائے اور یہ جدائی ایک صفت ہے مکانی اعتبار سے دوری نہیں ہے۔
پروردگار خالق ہے مخلوق نہیں اور جو کچھ (اس کے بارے میں) وہم وگمان کرتے ہیں وہ اس کے خلاف ہے۔ (۴۱)
حضرت علی علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد گرامی ہے: حمدوثناء مخصوص ہے اس پروردگار سے جو اپنی مخلوق کے ذریعہ اپنے وجود پر دلالت کرتا ہے اور اس مخلوق سے جدا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ وہ ان سے کچھ مسافت کی دوری پر ہے۔ وہ اپنے غلبہ وقدرت کے سبب تمام اشیاء سے جدا ہے اور تمام اشیاء اس سے جدا ہیں اس لیے کہ وہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ان کی بازگشت اس کی جانب ہونے والی ہے۔ (۴۲)
ایک دوسری جگہ حضرت فرماتے ہیں: حمدوثناء کا مستحق ہے وہ پروردگار جس نے افکار کو اپنی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر بتایا ہے اور عقلوں کو اپنی اس ذات کے تصور سے کہ جو بے شبیہ ہے دور رکھا ہے اس کی ذات میں کوئی تفاوت نہیں ہے وہ عدد کے ذریعہ نہ شمار کے دائرے میں آسکتا ہے اور نہ قابل تجزیہ ہے۔ وہ تمام چیزوں سے جدا ہے لیکن اس معنی میں نہیں کہ وہ ان سے دور ہے۔(۴۳)
حضرت کا یہ بھی ارشاد ہے: حمدوثناء مخصوص ہے اس پروردگار سے جو واحد ویگانہ ہے بے نیاز ہے اس کا وجود کسی چیز کی وجہ سے نہیں اس نے اپنی مخلوق کو کسی چیز سے پیدا نہیں کیا وہ اپنی قدرت وغلبہ کے ذریعہ تمام چیزوں سے جدا ہے اور تمام چیزیں اس سے جدا ہیں اس نے ان اشیاء کو ان کی تخلیق کے موقع پر محدود قرار دیاتاکہ یہ واضح وآشکار ہو جائے کہ وہ اس سے مشابہ نہیں ہے اور نہ وہ اشیاء اس سے مشابہ ہیں۔ (۴۴)
ایک جگہ حضرت نے یہ فرمایا ہے کہ حمدوثناء اس خد اکے لیے ہے جس کا وجود کسی چیز کی وجہ سے نہیں ہے اس نے مخلوقات کو کسی چیز کی وجہ سے پیدا نہیں کیا وہ صفات میں اپنی مخلوقات سے جدا ہے۔ (۴۵)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ پروردگار تمام مخلوقات سے جدا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان جدائی درحقیقت یکسانیت کی نفی کے ساتھ ہے۔ تمام صفات میں جدائی سے مراد یہ نہیں ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان فقط صفات میں جدائی برقرار ہے اور ذات میں جدائی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس حدیث میں صفت کے معنی متصف ہونے کے ہیں۔ یعنی پروردگار صفت میں اپنی مخلوق سے جدا ہے اور اس وجہ سے کہ صفات پروردگار عین ذات ہیں۔ درحقیقت حدیث مذکورہ باعتبارذات جدائی کی تاکید کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ حدیث بخوبی خالق ومخلوق کے مابین تبائن ذاتی کو آشکار کررہی ہے اس لیے کہ اگر یہ فرض کرلیاکہ پروردگار ذات کے اعتبار سے اپنی مخلوق کے ہم جنس ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پروردگار اپنی مخلوق سے مشابہت رکھتا ہے۔ حالانکہ روایت بارگاہ ربوبی سے تمام اوصاف کی نفی کرتی ہے نتیجہ یہ ہے کہ حدیث مذکورہ اس بات کی نفی کرتی ہے کہ پروردگار اپنے مخلوق کے ہم جنس ہے۔
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ حضرت امیرعلیہ السلام سے پوچھا گیا۔ کہ آپ نے اپنے رب کو کس چیز سے پہچانا؟ حضرتؑ نے فرمایا اس چیز سے کہ جس کا اس نے حکم دیا ہے۔
حضرت سے سوال کیا گیا کہ پروردگار نے کس طرح اپنے کو پہچنوایا ہے؟ حضرتؑ نے فرمایا: نہ کوئی صورت اس سے مشابہت رکھتی ہے اور نہ حواس کے ذریعہ اس کو محسوس کیاجاسکتا ہے اور نہ لوگوں پر اس کا قیاس کیاجاسکتا ہے۔ وہ دور ہوتے ہوئے بھی قریب ہے اور قریب ہوتے ہوئے بھی دور ہے۔ وہ ہر چیز کے اوپر ہے لیکن اس کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا کہ فلاں چیز اس کے اوپر ہے۔ وہ ہر چیز کے آگے ہے اس کے لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ کوئی چیز اس سے آگے ہے وہ تمام اشیاء میں داخل ہے لیکن اس طرح نہیں کہ اس کے بارے میں یہ کہاجائے کہ فلاں چیز اس میں داخل ہے۔پاک ومنزہ ہے وہ ذات کہ جو ایسی ہی ہے اور اس کا غیر یہ صفات نہیں رکھتا۔ (۴۶)
اس روایت میں امام علیہ السلام نے یہ پیغام دیا ہے کہ پروردگار کی نہ کوئی شبیہ ہے کسی بھی صورت میں اس کا کوئی ہم جنس نہیں ہے اور نہ مخلوقات کے درمیان کوئی شبیہ رکھتا ہے۔ خالق ومخلوق کے درمیان مکمل طور پر تباین وجدائی برقرار ہے۔ گویا ان بیانات نے خالق ومخلوق کے درمیان تباین سے متعلق مزید توضیح سے بے نیاز کردیا ہے۔ حضرتؑ نے اس جملے میں جس چیز کی تاکید فرمائی ہے وہ یہ کہ مقدس بارگاہِ الٰہی ہرقسم کی تشبیہ اور ہم جنس جو قابل تصور ہو اس سے دور ہے مذکورہ فرمان میں آخری جملے انتہائی لطافت سے بھرپور ہیں اس طرح کہ اگر ہم اس سے متعلق (یعنی اللہ) کو سنخیت وہم جنسیت کو قبول کرلیں تو ہم ہرگز اس کی تشریح نہیں کرسکتے۔
یہ کہ امامؑ فرماتے ہیں: ’’قریب فی بعدہ وبعید فی قربہ‘‘ یہ فقرہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ سنخیت درمیان میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کوئی معنی نہیں ہیںکہ جو چیز دور ہو وہ قریب بھی ہو اور جو چیز نزدیک ہو وہی چیز دور بھی ہو۔
حضرت علیؑ ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: وہ تمام اشیاء سے قریب ہے (لیکن اس طرح کہ) وہ ان سے ملا ہوا نہیں ہے اور ان سے دور بھی ہے (لیکن اس طرح کہ) وہ ان سے جدا بھی نہیں ہے۔ وہ متکلم ہے لیکن اس طرح کہ اس کو پہلے سے) غوروفکر اور ارادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ صانع ہے۔ (لیکن ایسا کہ) وہ اعضاء وجوارح کا محتاج نہیں ہے۔(۴۷)
مذکورہ فرمان میں اس عبارت سے ’’قریب من الاشیاء غیر ملابس وبعیدمنھا غیر مباین‘‘ کم از کم دوحقیقتوں تک رسائی ہوسکتی ہے:
پہلی حقیقت یہ کہ خارج میں دو حقیقتیں موجود ہیں ان میں عینیت درکار نہیں ہے۔ یہ تعبیر اور وہ تمام روایات جن میں یہ مضمون نقل ہوا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دوحقیقتیں موجود ہیں ایک وہ کہ جو بذات خود قائم ہے دوسری وہ کہ جو اپنے قائم ہونے میں دوسرے کی محتاج ہے۔
دوسری حقیقت یہ کہ خالق ومخلوق کے درمیان کوئی سنخیت نہیں ہے اور اس سے متعلق ہر قسم کی مشابہت جو ہمارے ذہن میں آئے وہ ممنوع ہے۔
اس روایت میں حضرتؑ نے فرمایا: ’’قریب من الاشیاء وغیر ملابس‘‘عموماً ایسی دوچیزیں جو ایک دوسرے سے نزدیک ہوں ان کے درمیان مناسبت ہوتی ہے۔ لیکن ذات پروردگار باوجودیکہ تمام اشیاء سے نزدیک ہے اور انسان کی شہ رگ سے زیادہ اس سے قریب ہے۔ وہ مخلوقات کے ساتھ ملابست نہیں رکھتا لیکن اس اعتبار سے کہ تمام چیزیں پروردگار کی وجہ سے قائم ہیں۔ درحقیقت وہ تمام اشیاء سے خود ان سے زیادہ قریب ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان سے جدا بھی ہے اور دور بھی ہے۔ لیکن اس معنی میں نہیں کہ وہ بُعْدِ مکانی رکھتا ہے کہ وہ یعنی پروردگار کسی ایک جگہ ہو اور دیگر تمام اشیاء دوسری جگہ پر ہوں یہاں باعتبار مکان جدائی مراد نہیں ہے بلکہ باعتبار حقیقت ذات جدائی مراد ہے۔
حضرت علی علیہ السلام اس حدیث میں سلسلۂ بیان کو جاری رکھتے ہوئے خالق ومخلوق کے درمیان مشابہت کی نفی کے بعد فرماتے ہیں: پروردگار متکلم ہے لیکن اس طرح نہیں جیسا کہ مخلوق کلام کرتی ہے اس لیے کہ مخلوق پہلے سوچتی ہے پھر کلام کرتی ہے خداوندعالم صاحب ارادہ ہے لیکن انسان کے مانند نہیں کہ جو اس مقصد کے لیے پہلے کچھ مقدمات کی فراہمی کا محتاج ہوتا ہے۔ مثلاً تصور، تصدیق، شوق، عزم۔
خداوندعالم خالق ہے لیکن مخلوق کے مانند خالق نہیں ہے لیکن مخلوق کچھ آلات کے ذریعہ کسی چیز کو وجود میں لاتی ہیں۔(۴۸)
وحدت شخصی وجود اور توحید پروردگار
وہ تمام روایات جو شرائط توحید سے مربوط فصل میں بالخصوص نفی سنخیت کی بحث میں گزر چکی اور ان کے علاوہ دیگر بکثرت احادیث سب خدا اور مخلوق کے درمیان نفی سنخیت پر گواہی دیتی ہیں۔
بنابریں بعض عرفاء کے اس نظریے کا بطلان بھی ظاہر ہوجاتا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ خالق ومخلوق کے درمیان عینیت ہے اور یہ کہ موجود حقیقی وجود لاشریک میں منحصر ہے۔ اور یہ کثرت جو ہر طرف نظر آتی ہے یہ درحقیقت عین وجود پروردگار ہے۔ ابن عربی فصول الحکم میں کہتے ہیں: عارف وہ شخص ہے جو خدا کو تمام چیزوں میں بلکہ تمام چیزوں کا عین سمجھتا ہے۔(۴۹)
اسی طرح دوسری جگہ لکھتے ہیں: پاک ومنزہ ہے وہ ذات جس نے تمام چیزوں کو ظہور بخشا ہے اور تمام چیزیں بعینہ وہ ہی ذات ہیں۔ (۵۰)
صدر الدین شیرازی کہتے ہیں:میرے پروردگار نے آسمانی دلیلوں کے ذریعہ اس طرح راہ مستقیم دکھائی کہ وجود اور موجود اور جو کچھ بھی ہے وہ سب ایک ہی حقیقت میں منحصر ہے۔۔۔اور در حقیقت خدا کے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں۔ دنیا میں جو کچھ بھی واجب معبود کے علاوہ وجود دکھائی دیتا ہے وہ صرف اس کی ذات کا ظہور اور صفات کی تجلی ہے جو وہ بھی درحقیقت اسی کا عین ذات ہے۔ جیسا کہ عرفا کی زبانی اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے(۵۱)۔
منابع:
۱) شیخ صدوق، التوحید، ص ۲۸، ح ۲۴ ۔۲) بحار الانوار، محمدباقر مجلسی، ج ۳، ص ۱۳، ح ۳۱ ۔ ۳) التوحید، ص ۲۱ ح ۱۲ ۔ ۴) بحارالانوار، ج ۳، ص ۱۴، ح ۳۹ ۔ ۵) التوحید، ص ۳۰، ح ۳۲ .دوسری احادیث میں لازمی شرط مثلا ولایت کو بیان کیا گیا ہے۔ ۶) التوحید، ص ۲۸، ح ۲۹ .۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۶ ۔ ۸) گذشتہ، خطبہ ۱۶۲ ۔ ۹) التوحید، ص ۸۳، ح ۳ ۔ ۱۰) نہج البلاغہ: خطبہ ۱۸۰ ۔ ۱۱)خطبہ ۱۴۸ ۔۱۲) التوحید: ص ۷۰ ح ۲۶ ۔ ۱۳) ابن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۵، ص ۲۷۰ ۔ ۱۴)سابق، ص ۳۷۰ ۔ ۱۵) کلینی، اصول کافی، ج ۱، ص ۔ ۱۶) تقسیم خارجی مثلا انسان کی تقسیم بدن و روح کی طرف۔ تقسیم عقلی مثلا انسان کی تقسیم حیوان و ناطق۔ اور تقسیم وہمی مثلا انسان کی تقسیم دو دو حصوں کی طرف۔۱۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۸۱ ۔ ۱۸) خطبہ ۱۷۹ ۔ ۱۹) خطبہ ۶۵ ۔ ۲۰) شرح گلشن راز، ص ۲۶۸ ۔ ۲۱) شیخ صدوق، معانی الاخبار، ص ۳۹ ۔ ۲۲) ثقۃ الاسلام کلینی، الکافی، ج ۸، ص ۳۸۶ ۔ ۲۳) اور مشرکین نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کرلئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزّت بنیں۔ہرگز نہیں عنقریب یہ معبود خود ہی ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے(سورہ مریم، آیت ۸۱ و ۸۲)۔ ۲۴) تفسیر قمی، ج ۲، ص ۵۵ ۔ ۲۵) نہج البلاغہ، خطبہ ۱ ۔ ۲۶) التوحید، ص ۸۳، ح ۲ ۔ ۲۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۶ ۔ ۲۸) نمونہ کے دیکھیے خطبہ ۱ و ۸۷ و ۱۰۸ ۔ ۲۹) نہج البلاغہ، خط ۳۱ ۔ ۳۰) التوحید، ص ۳۲، ح ۱ ۔ ۳۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۱ ۔ ۳۲) التوحید، ص ۸۳ ۔ ۳۳) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۲ ۔ ۳۴) دیکھیے ملکی میانجی، محمدباقر، توحید الامامیہ، فصل ششم و ہفتم۔ ۳۵) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۵ ۔ ۳۶) نہج البلاغہ، خطبہ ۱ . اسی طرح کا مطلب امام رضا علیہ السلام کے کلام میں بینا ہوا ہے۔ دیکھیے: التوحید، ص ۳۴، ح ۲ .۳۷) الاحتجاج، ج ۱، ص ۲۹۸ ۔ ۳۸) التوحید، ص ۴۲، ح ۳ ۔ ۳۹) التوحید، ص ۵۲، ح ۱۳؛ دیکھیے:نہج البلاغہ، خطبہ ۸۷ ۔ ۴۰) نہج البلاغہ، حکمت ۴۷۰ ۔ ۴۱) الاحتجاج، ج ۱، ص ۲۹۹ ۔ ۴۲) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۲ ۔ ۴۳) التوحید، ص ۷۳، ح ۲۷ ۔ ۴۴) سابق، ص ۴۱، ح ۳ ۔ ۴۵) التوحید، ص ۶۹، ح ۲۶ ۔ ۴۶) التوحید، ص ۲۸۵، ح ۲ ۔ ۴۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۹ ۔ ۴۸) سنخیت کی بحث کے سلسلہ میں کتاب ’’تنبیہات حول المبدء و المعاد‘‘،   ۵۳- ۹۵  کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ۴۹) شرح فصوص الحکم، قیصری، ص ۴۳۶ ۔ ۵۰) الفتوحات المکیہ، ج ۲، ص ۶۰۴ ۔ ۵۱) الاسفار الاربعہ، ج ۲، ص ۲۹۲ .٭…٭…٭
(ماہنامہ اصلاح لکھنؤ، امیرالمومنینؑ نمبر، رمضان ۱۴۴۰ھ)

جمعہ، 8 مئی، 2020

مایوس یا ناامید نہ ہوں mayus ya naummeed na hon

مایوس یا ناامید نہ ہوں
سید محمد حسنین باقری
خدائے واحد و یکتا کا حقیقی ماننے والا نہ تو کبھی ناامید ہوتا ہے اور نہ کبھی مایوس۔ اس لیے کہ خدا وند عالم ہی ایسی ذات ہے جو تمام امیدوں کا مرکز ہے، جس بارگاہ میں ناامیدی و مایوسی کا تصور نہیں ہے۔ پُر امید رہنا اور مایوس نہ ہونا ایک ایسی طاقت ہے جو بڑے سے بڑے مرحلہ سے گزرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے اور سخت سے سخت منزل میں بھی گھبرا کر قدم پیچھے ہٹا لینے کے بجائے ہمت و حوصلہ عطا کرتی ہے کہ زندگی کو آگے بڑھایا جاسکے اور جینے کے راستے ہموار کیے جاسکیں۔ دنیا میں سختیاں بھی آتی ہیں، مصائب و مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے، پریشانیاں و دشواریاں بھی گھیرتی ہیں، وبائیں و بیماریاں بھی اپنی چپیٹ میں لیتی ہیں،دشوار گزار و کٹھن مراحل بھی سامنے آتے ہیں، گناہ و معصیت تاریک وہولناک مناظر نگاہوں کے سامنے لاتے ہیں، لغزشیں و خطائیں دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی کے مناظر نگاہوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ ان تمام صورتوں میں اگر کوئی سہارا دینے والا، نجات کا راستہ، امید کا مرکز،مشکل سے نکالنے والا، حوصلہ و ہمت عطا کرنے والا ہے تو صرف و صرف خداوند عالم کی ذات ہے۔
’’مایوسی، کفر کے ناپاک آثار کا لازمہ اور رب العزت کی عظمت و شان سے انکار کے مترادف ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو اس کی قدرت کاملہ ، فضل و کرم اور علم و رزاقیّت سے پہچان لیا اور جانتا ہے کہ وہ سارے عوالمِ امکان کا پیدا کرنے والا اور تمام عوالمِ وجود کو تربیت دینے والا ہے۔ اس کی قدرت لا محدود، اس کی حکمت و رحمت لا متناہی ہے۔ تمام ممکنات کے ہر فرد کو جو کچھ ضرورت ہے اسی کریم کا فیضانِ رحمت ہے۔ چنانچہ ناامیدی کے عالم میں متحیّر و غمگین رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ نا امیدی کو گناہ کبیرہ شمار کیا گیا ہے۔‘‘
خوف خدا لازم و ضروری ہے اس کی عظمت و بزرگی کے اقرار کا ایک مطلب اس سے خوف بھی ہے لیکن اس طرح کا خوف و ڈر جو اس کی رحمت سے مایوس کردے، قابل مذمت اور بدترین چیز ہے۔
(البتہ ایسی امید جو خدا سے بے خوف اور اس کی مخالفت پر جری بنادے نیز انتہائی مذموم و بدترین چیز ہے۔ اس لیے کہ کسی سے امیدوار رہنے کا مطلب یہی ہے کہ اس کی مخالفت نہ ہو )۔
جہاں قرآن کریم نے متعدد آیات میں خدا سے ڈرنے کا حکم دیا اور اس کو خدا والوں کی صفت بیان کی وہیں اس کی رحمت سے ناامیدی کو گمراہی شمار کیا ہے اس سلسلہ میں اعلان ہوتا ہے:
 قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ 
(سورہ حجر، آیت۵۶)۔
’’(ابراہیمؑ‘ نے) کہا کہ رحمت خدا سے سوائے گمراہوں کے کون مایوس ہوسکتا ہے‘‘
اسی طرح سورہ یوسف میں رحمت خدا سے مایوسی کو کافروں کا عمل قرار دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:
۔۔۔ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ ۔
 ( آیت ۸۷)۔’’خدا کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے‘‘
خدا وندعالم نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کے لیے اپنے کو بہت سی صفات کے ساتھ پہچنوایا ہے۔ جن میں سے ہر صفت جمال و جلال الٰہی کو پیش کررہی ہے۔ رحمت خدا بھی انھیں صفات میں سے ایک ہے جس کا تذکرہ تقریبا پانچ سو آیات میں ہوا ہے:
۱۔ تکرار:
قرآن میں لفظ ’’الرحمٰن‘‘ ۱۵۷ مرتبہ اور ’’الرحیم‘‘، ’’رحیم‘‘ ، ’’رحیما‘‘ ۱۶۶ مرتبہ ذکر ہوئے ہیں، قرآن میں یہ الفاظ خدا کی صفت کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں لیکن ایک جگہ پر سورہ توبہ آیت ۱۲۸ میں کلمہ ’’رحیم‘‘ پیغمبر اکرمﷺ کی صفت بیان ہوئی ہے۔چار جگہوں پر خدا سے رحمت طلب کی گئی ہے جنمیں سے تین میں پیغمبروں کی جانب سے اور ایک جگہ پر مخلص بندوں کی طرف سے: سورہ بقرہ، آیت ۲۸۶ ، اعراف ۱۵۱ و ۱۵۵، مؤمنون ۱۰۹۔ چار جگہوں پر خدا ’’ارحم الراحمین‘‘ سے متصف ہوا ہے:اعراف ۱۵۱، یوسف ۶۴، یوسف ۹۲ و انبیاء ۸۳  اور ایک جگہ پر ’’خیر الراحمین ‘‘ کہا گیا ہے: مؤمنون ۱۱۸۔
۲۔ بعض آیات میں رحمت الہی:
وَرَبُّکَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ۔(سورہ کہف، آیت۵۸)۔’’آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا اور صاحبِ رحمت ہے ‘‘
کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ۔(انعام، ۱۲ و ۵۲)۔
’’تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دے لیا ہے ‘‘
وَرَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیء۔(اعراف،۱۵۶)۔
’’میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے‘‘
إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِیبٌ مِنَ الْمُحْسِنِینَ۔(اعراف،۵۶)۔
’’خدا کی رحمت صاحبان حسن عمل سے قریب تر ہے‘‘
قُلْ یا عِبَادِی الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ۔(سورہ زمر، ۵۳)
’’پیغمبر آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا ‘‘
وَمَنْ یقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ۔(حجر ۵۶)۔
’’ رحمت خدا سے سوائے گمراہوں کے کون مایوس ہوسکتا ہے‘‘
مَایفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِکَ لَهَا وَمَایمْسِکْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ۔(فاطر ۲)
’’اللہ انسانوں کے لئے جو رحمت کا دروازہ کھول دے اس کا کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس کو روک دے اس کا کوئی بھیجنے والا نہیں ہے‘‘۔
۳۔ مومنین کے درمیان رحمت:
اصحاب الیمین کی خصوصیات میں ایک دوسرے کو رحمت کی سفارش کرنا ہے:
 ... وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ أُولَئِکَ أَصْحَابُ الْمَیمَنَةِ۔(سورہ بلد، ۱۷،۱۸)
’’ انہوں نے صبر اور مرحمت کی ایک دوسرے کو نصیحت کی؛ یہی لوگ خو ش نصیبی والے ہیں‘‘
وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَینَهُمْ۔(فتح ۲۹)
’’محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میںانتہائی رحمدل ہیں ‘‘
وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ۔(بنی اسرائیل،۲۴)۔
’’اور ان کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دینا ۔‘‘
... وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیانِی صَغِیراً۔(بنی اسرائیل،۲۴)
’’اور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا کہ پروردگار اُن دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح کہ انہوں نے بچپنے میں مجھے پالا ہے‘‘
بندوں کی بنسبت وسیع رحمت الٰہی کو بیان کرنے والی آیت:
بعض روایات کے مطابق امید و رحمت الٰہی کے حوالے سے سب سے اہم آیت یہ ہے:
قُل یا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ»؛ (زمر، ۵۳) ۔
’’پیغمبر آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے‘‘۔
مندرجہ بالا تعبیرات میں غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت گنہ گاروں کے لیے سب سے زیادہ امید دلانے والی ہے اور اس کی وسعت اتنی زیادہ ہے کہ اسے ’’أوسَعُ الآیات‘‘ کہا گیا ہے۔
۱): پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:مجھے پسند نہیں کہ دنیا و مافیہا میں جو کچھ ہے وہ اس آیت کے بدلے میں مجھے مل جائے:
یا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ...
ایک شخص نے کہا:اے اللہ کے رسولؐ! جس نے شرک کیا ہے (کیا وہ بھی اس آیت میں شامل ہوگا؟) پیغمبرﷺ کچھ دیر خاموش رہے پھر تین مرتبہ فرمایا: شرک کرنے والے کے علاوہ 
(أبوبکر بیہقی، أحمد بن حسین، شعب الایمان، ج۹، ص۳۴۰ و ۳۴۱)
۲): امام علی علیہ السلام نے فرمایا: 
قرآن میں اس آیت سے زیادہ وسعت رکھنے والی دوسری آیت نہیں ہے: یا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ...
 (طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۸، ص۷۸۴)
۳): کہا گیا ہے کہ یہ آیت جناب حمزہ ؑکے قاتل غلام وحشی کے لیے نازل ہوئی جب اس نے چاہا کہ اسلام قبول کرے۔ نبی اکرمﷺ سے سوال ہوا: اے اللہ کے رسولؐ! یہ آیت اس غلام سے مخصوص ہے یا تمام مسلمانوں کو شامل ہوگی؟ پیغمبرﷺ نے فرمایا: تمام مسلمانوں کو شامل ہے 
(طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۸، ص۷۸۵)
اس آیت کی وسعت اور سب کو شامل ہونے کی دلیل واضح ہے اس لیے کہ:
۱۔ ’’یا عبادی‘‘ (اے میرے بندو)کی تعبیراس لطف و مہربانی کو شروع کرنے والی جو پروردگار کی جانب سے ہے۔
۲۔ ظلم و گناہ و جرم کے بجائے اسراف کا لفظ استعمال کرنا بھی لطف پروردگار ہے۔
۳۔ عَلی أَنْفُسِهِمْ۔ کی تعبیر سے یہ واضح ہورہا ہے کہ انسان کے گناہ خود اسی کی طرف پلٹتے ہیں، یہ بھی خدا کی محبت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس طرح اپنے بیٹے سے بہت زیادہ محبت کرنے والا ایک باپ اپنے بیٹے سے کہے کہ اتنا زیادہ اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔
۴۔ ’’لاتقنطوا‘‘ (مایوس نہ ہو) کی تعبیر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ’’قنوط‘‘ در حقیقت خیر و بھلائی سے مایوس نہ ہونے کے معنی میں ہے(راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن ، ص ۶۸۵) ، یہ تنہا ہی اس بات پر دلیل ہے کہ گنہ گاروں کو الطاف الہی سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔
۵۔ ’’مِنْ رَحْمَةِ اللهِ‘‘ کی تعبیر، جملۂ ’’لا تقنطوا‘‘ کے بعد اس بھلائی و محبت پر مزید تاکید ہے۔
۶۔  جملۂ ’’إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ‘‘ کا آغاز حرف تاکید سے ہوا ہے اور کلمۂ ’’الذنوب‘‘ (جمع با الف و لام) تمام گناہوں کو بغیر استثنا کے شامل ہےجس سے دریائے رحمت الٰہی کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
۷۔ جب ’’جمیعا‘‘ کے ذریعہ دوسری تاکید ذکر ہوتی ہے تو امیدواری آخری مرحلہ کو پہنچ جاتی ہے۔
۸ و ۹۔ آیت کے آخر میں ’’غفور‘‘ و ’’رحیم‘‘ جیسے پُر امید کرنے والے اوصاف کے ذریعہ خداوند عالم کی توصیف نا امیدی و مایوسی کو مکمل ختم کردیتی ہے۔ (تفسیر نمونہ، ج۱۹، ص۴۹۹  و۵۰۰)۔
نتیجہ نکلا کہ مذکورہ بالا آیت قرآن کریم کی ایسی آیت ہے جو تمام گناہوں و خطاؤں کو شامل کیے ہوئے ہے اسی وجہ سے قرآن کی سب سے زیادہ امید دلانے والی اور مایوسی و ناامیدی سے محفوظ رکھنے والی آیت ہے۔ اس آیت کی جلوہ گری انسان کی واقعی توبہ میں ہے۔ 
شیطان کا رحمت الٰہی کی طمع کرنا:
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس سلسلے میں فرمایا:
إذا کانَ یَوْمُ الْقِیامَةِ نَشَرَ اللّهُ تَبارَک وَتَعالی رَحْمَتَهُ حَتّی یَطْمَعَ إبْلیسُ فی رَحْمَتِهِ. 
قیامت میں جب خدا اپنی رحمت کا سایہ کرے گا یعنی اسکی وسیع رحمت کا نمونہ سامنے آئے گا تو شیطان بھی حق تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر رحمت کی امید کرے گا۔(بحار الأنوار،۷؍۲۸۷، باب۱۴، حدیث۱؛ الأمالی، شیخ صدوق،۲۰۵، حدیث۲)
سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت: 
ابوحمزہ ثمالیؓ نے امام زین العابدین یا امام محمدباقر علیہماالسلام سے نقل کیا ہے کہ ایک دن امام علی‎علیہ السلام نے لوگوں سے سوال فرمایا کہ تمہاری نظر میں قرآن کریم کی کون سی آیت سب سے زیادہ امید دلانے والی ہے؟ بعض نےکہا:
إِنَّ اللَّهَ لا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِهِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاء؛ (نساء ،۴۸)۔
’’اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش سکتا ہے اور جو بھی اس کا شریک بنائے گا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے‘‘
امام علیؑ نے فرمایا: بہترین آیت ہے لیکن یہ مقصود نہیں ہے۔ بعض نے جواب دیا:
وَ مَنْ یَعْمَلْ سُوءاً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللَّهَ یَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَحیما؛ (نساء، ۱۱۰)
’’اور جو بھی کسی کے ساتھ برائی کرے گا یا اپنے نفس پر ظلم کرے گا اس کے بعد استغفار کرے گا تو خدا کو غفور اور رحیم پائے گا‘‘
امیرالمومنینؑ نے فرمایا: بہت اچھی آیت ہے لیکن یہ وہ نہیں ہے۔ بعض دوسرے افراد نے کہا:قُلْ یا عِبادِیَ الَّذینَ أَسْرَفُوا عَلى‏ أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمیعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحیم‏؛(زمر، ۵۳)
علی علیہ السلام نے فرمایا: بہترین آیت تو ہے لیکن یہ منظور نہیں ہے۔ پھر سوال کیا کہ کیا تمہاری نظر میں کوئی اور آیت نہیں ہے جو سب سے زیادہ امیدوار کرنے والی ہو؟ اصحاب نےکہا: نہیں اے امیرالمومنین، ہم کو تو نہیں معلوم ہے۔ امامؑ نے فرمایا: میں نے اپنے حبیب رسول خدا ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:قرآن مجید میں سب سے زیادہ امید دلانے والی یہ آیت ہے:
وَ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَیِ النَّهارِ وَ زُلَفاً مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَناتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئاتِ ذلِکَ ذِکْری‏ لِلذَّاکِرِینَ؛ (ہود، ۱۱۴)
’’اور پیغمبر آپ دن کے دونوں حصّو ں میں اور رات گئے نماز قائم کریں کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں اور یہ ذکر خدا کرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے‘‘
پھر پیغمبرﷺ نے فرمایا: یَا عَلِیُّ وَ الَّذِی بَعَثَنِی بِالْحَقِّ بَشِیراً وَ نَذِیراً إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ فَتَسَاقَطُ عَنْ جَوَارِحِهِ الذُّنُوب۔  اے علی! اس خدا کی قسم جس نے مجھےبشیر و نذیر بنایا اور مجھے رسول بناکر اس کائنات میں بھیجا، اگر تم میں کوئی وضو کے ساتھ نماز قائم کرے تو تمہارے اعضائے وضو کے گناہ ختم ہوجائیں گے۔
فَإِذَا اسْتَقْبَلَ اللَّهَ بِوَجْهِهِ وَ قَلْبِهِ لَمْ یَنْفَتِلْ عَنْ صَلَاتِهِ وَ عَلَیْهِ مِنْ ذُنُوبِهِ شَیْ‏ءٌ کَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَإِنْ أَصَابَ شَیْئاً بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ کَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِک.
جب اپنے چہرے اور دل کے ساتھ خدا کی طرف توجہ کرےتو ابھی نماز ختم بھی نہیں ہوگی کہ تمام گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاؤ گے جیسے ماں کے شکم سے دنیا میں قدم رکھا ہے اور دو نمازوں کے درمیان اگر کسی گناہ کے مرتکب ہوگئے تو وہ بھی خدا معاف کرے گا۔
آنحضرتؐ نے اسی طرح نماز پنجگانہ کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا:
 یَا عَلِیُّ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لِأُمَّتِی کَنَهَرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِکُمْ فَمَا ظَنَّ أَحَدُکُمْ لَوْ کَانَ فِی جَسَدِهِ دَرَنٌ ثُمَّ اغْتَسَلَ فِی ذَلِکَ النَّهَرِ خَمْسَ مَرَّاتٍ فِی الْیَوْمِ أَ کَانَ یَبْقَى فِی جَسَدِهِ دَرَنٌ فَکَذَلِکَ وَ اللَّهِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ لِأُمَّتِی.»
 اے علیؑ! میری امت کے لیے پنجگانہ نماز کی منزلت اس نہر کی طرح ہے جو تمہارے گھر کے سامنے ہو ، اگر تم میں سے کسی کے بدن میں کوئی میل و گندگی ہو اور روزانہ پانچ مرتبہ اس نہر میں نہائے تو کیا بدن میں کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ خدا کی قسم میری امت کے لیے پنجگانہ نماز اسی طرح ہے۔
(بحار الانوار، علامہ مجلسی، جلد ۷۹، صفحہ۲۲۰  از تفسیر عیاشی و مجمع البیان)
خدائے رحیم و کریم جیسی ذات کے ماننے والے ہوکر اور اس کی طرف سے نماز جیسی عبادت کے ہوتے ہوئے نہ کبھی مایوسی ہوسکتی ہے اور نہ کبھی ناامیدی۔ اسی لیے اس ذات باری کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو واقعی معنی میں اپنی ذات پر بھروسہ کرنےاور امید وار رہنے اور مایوس نہ ہونے کی توفیق عنایت فرمائے؛ ایسی امید و بھروسہ جس میں کسی طرح کی معصیت و گناہ نہ ہو۔خخخ

اتوار، 3 مئی، 2020

غِیبت gheebat

غِیبت
جن گناہوں کا کبیرہ ہونا عذاب کے اس وعدے سے سمجھا جاتا ہے جو ان کے لیے قرآن مجید اور بہت سی حدیثوں میں کیا گیا ہے ان میں سب سے پہلا ’’غیبت کرنا‘‘ ہے۔ جیسا کہ خدا سورۂ نور میں فرماتا ہے: "دُنیا اور آخرت میں ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے جو ایمان لانے والوں (مومنوں) کی بُری حرکتیں (مثلاً زنا اور دوسری قسم قسم کی بُرائیاں) فاش کرنا پسند کرتے ہیں۔" (سورہ نور آیت ۱۹)
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مومن کے بارے میں وہ سب کچھ کہہ دیتا ہے جو اس کی دونوں آنکھوں نے دیکھا اور دونوں کانوں نے سُنا ہے اس کا شمار ان لوگوں میں ہے جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے: "جو لوگ مومنوں کے متعلق بُری باتیں آشکار ہونا پسند کرتے ہیں ان کے لیے واقعی دردناک عذاب ہے۔"
چنانچہ صحیح کی اس روایت کے مطابق غیبت اس آیت کے حکم میں داخل ہے جس میں اس کے لیے عذاب کا صاف صاف وعدہ کیا گیا ہے۔ سورہ حجرات کی آیت ۱۲ میں کہا گیا ہے: "تم میں سے بعض لوگوں کو دوسروں کی غیبت نہیں کرنا چاہیئے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ تم اسے ضرور بُرا سمجھو گے۔"
اس آیت میں چند امکانات ہیں: ایک یہ کہ غیبت کرنے والے پر آخرت میں جو عذاب ہو گا اس کا بیان ہے اور وہ اس طرح کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے غیبت آخرت میں اس کا مردہ گوشت کھانے کی صورت میں مجسم ہو جائے گی اور اس امکان کی تائید بھی پیغمبر اکرم ﷺ کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ: میں نے معراج کی شب میں کچھ لوگوں کو جہنم میں دیکھا کہ وہ مردار کھا رہے تھے۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا: "یہ کون لوگ ہیں؟" تو انہوں نے جواب دیا:" یہ وہ لوگ ہیں جو دُنیا میں لوگوں کا گوشت کھاتے تھے ۔" (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۲) یعنی لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ اسی سے ایک حکم میں داخل ہونا مراد ہو یعنی شریعت کے حکم کے مطابق غیبت کرنا اس شخص کا مردار گوشت کھانے کے برابر ہو جس کی غیبت کی گئی ہے
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:"تمہارا اپنے مومن بھائی کی غیبت کرنا مردار کھانے سے بھی بڑا حرام ہے۔" (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۲) ان دونوں امکانات کے پیشِ نظر آیت سے ظاہر ہے کہ غیبت گناہِ کبیرہ ہے۔
سورہ ہمزہ میں کہا گیا ہے: "ویل لکل ھمزہ لمزة" تفسیر مجمع البیان میں لکھا ہے: یہ جملہ خدا کی طرف سے ہر غیبت کرنے والے اور اس چغل خور کے لیے عذاب کا وعدہ ہے جو دوستوں میں تفرقہ ڈالتا ہے۔
بعضوں نے کہا کہ ہمزہ طعنہ دینے والے اور لمزہ غیبت کرنے والا ہے اور بعضوں نے اس کے بالکل برعکس کہا ہے اور بعضوں نے کہا کہ ہمزہ اسے کہتے ہیں کہ جو سامنے بُرائی کرتا ہے اور لمزہ وہ ہے جو کسی کی پیٹھ پیچھے غیبت کرتا ہے۔
ویل بھی جہنم کا ایک درجہ ہے یا اس کا ایک کنواں ہے اور سخت عذاب کے معنوں میں بھی استعمال ہو اہے اس لیے غیبت وہ گناہ ہے جس کے لیے قرآن مجید میں کتنے ہی مقامات پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ گناہِ کبیرہ ہے۔
غیبت اور اہل بیت (علیھم السلام) کی روایات
جن روایتوں میں غیبت کرنے پر عذاب کے وعدے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہت ہیں بلکہ متواتر ہیں یہاں صرف وہ بیان کی جاتی ہیں جو شیخ انصاری علیہ الرحمہ نے مکاسب محر ّمہ میں لکھی ہیں۔
رسول خداﷺ سے روایت ہے کہ غیبت کا گناہ زنا سے بھی بدتر ہے کیونکہ زنا کرنے والا اگر توبہ کر لیتا ہے تو خدا اسے بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو نہیں بخشتا جب تک کہ وہ شخص جس کی اس نے غیبت کی ہے اسے معاف نہیں کر دیتا۔ (مکاسب)
ایک دن آنحضرت نے اپنے خطبے کے بیچ میں سود کے گناہ کی شدت بیان کی اور فرمایا کہ سود کے ایک درہم کا گناہ چھتیس بار زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ پھر فرمایا "بلاشبہ سود کھانے کا بدترین درجہ مسلمان کی آبروریزی اور اس کی بے عزتی ہے۔" ان دونوں حدیثوں کی رو سے غیبت کا گناہ کبیرہ ہونا اس اعتبار سے بھی ثابت ہے کہ وہ زنا اور سود سے بھی بدتر ہے ۔
آپؐ یہ بھی فرماتے ہیں "جو کسی مومن کی غیبت کرتا ہے اور وہی بُرائی بیان کرتا ہے جو اس میں موجود ہے پھر بھی خدا اس شخص کو اور اس مومن کو بہشت میں اکٹھا نہیں کرے گا اور جو شخص مومن کے پیٹھ پیچھے اس کی وہ بُرائی بیان کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے تو دونوں میں جو دین کی پاکیزگی ہے وہ پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ پھر غیبت کرنے والا اس مومن سے الگ ہو جائے گا اور ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جہنم بُری جگہ ہے۔" (مکاسب)
جو شخص لوگوں کی غیبت کر کے ان کا گوشت کھاتا ہے اگر اس نے یہ سوچا کہ وہ حلال زادہ ہے تو غلط سوچا۔ غیبت سے بچو کیونکہ یہ دوزخ کے کتوں کی غذا ہے۔ (مکاسب)
جو اپنے دینی بھائی کی غیبت کرنے کے لیے اور اس کا چھپا ہوا عیب فاش کرنے کے لیے سفر کرے گا وہ جو پہلا قدم اُٹھائے گا وہ اسے دوزخ میں پہنچا دے گا۔(مکاسب)
روایت ہے کہ غیبت کرنے والا اگر توبہ بھی کرے گا تو وہ آخری شخص ہو گا جو بہشت میں پہنچے گا اور جو توبہ کیے بغیر ہی مر جائے گا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو دوزخ میں جائے گا۔ (مکاسب)
شہیدِ ثانی حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) اور پیغمبر اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ کفر کے سب سے زیادہ قریب حالت یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے ایک لفظ سنتا ہے اور اسے اس لیے روک لیتا ہے کہ اس بات سے رسوا کرے ایسے شخص کو آخرت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ (کشف الربیہ، شہید ثانی)
اس سے ملتے جلتے مضمون کی چند روایتیں اصولِ کافی میں نقل کی گئی ہیں:
پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: "غیبت کرنا کوڑھ کی بیماری سے زیادہ تیزی کے ساتھ ایک شخص کے دین پر اثر کرتا اور اسے اس کے دل سے ختم کر دیتا ہے ۔"(اصول کافی )
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :"غیبت کرنا ہر مسلمان کے لیے حرام ہے اس میں شک نہیں ہے کہ غیبت نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے اور ختم کر ڈالتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا کر ختم کر دیتی ہے۔" (اصولِ کافی)
شیخؒ فرماتے ہیں :غیبت کے نیکیوں کو کھا جانے والے جملے سے مراد یہ ہے کہ غیبت ان تمام نیک کاموں کو جو کیے گئے ہیں باطل کر دیتی ہے یا یہ مراد ہے کہ اس کے پچھلے ثوابوں سے اس کی سزائیں زیادہ ہو جاتی ہیں یا یہ کہ غیبت کرنے والے کی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج ہو جاتی ہیں جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ چنانچہ یہ بات کئی حدیثوں میں آئی ہے۔ مثلاً رسول خدا سے روایت ہے کہ ایک بندے کو قیامت میں حساب کتاب کے مقام پر لائیں گے اور اس کا اعمال نامہ اسے دیں گے۔ جب وہ اس میں وہ نیک کام جو اس نے دُنیا میں کیے تھے نہیں پائے گا تو کہے گا: "اے خدا! یہ اعمال نامہ تو میرا نہیں ہے کیونکہ مجھے اس میں اپنی نیکیاں نہیں ملتیں؟" تب اس سے کہا جائے گا "تیرا خدا نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔ تیری نیکیاں لوگوں کی تیرے غیبت کرنے کی وجہ سے مٹ گئیں۔" پھر دوسرے بندے کو لائیں گے اور اس کا اعمال نامہ اسے دیں گے۔ وہ اس میں وہ نیکیاں بھی دیکھے گا جو اس نے نہیں کی ہیں تو وہ کہے گا: "اے خدا! یہ نامہ اعمال میرا نہیں ہے کیونکہ اس میں جو یہ سب نیکیاں درج ہیں میں نے انجام نہیں دی ہیں؟۔" اس سے کہا جائے گا: "یہ فلاں شخص کی نیکیاں ہیں جس نے تیری غیبت کی تھی۔ اس کے بدلے میں اس کی نیکیاں تجھے بخش دی گئی ہیں۔"
شیخؒ مذکورہ روایتیں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "ان حدیثوں سے ظاہر ہے کہ غیبت گناہِ کبیرہ ہے جیسا کہ بعض فقہاء نے فرمایا ہے بلکہ سخت ترین گناہِ کبیرہ (سود اور زنا سے بھی بڑھ کر) ہے جیسا کہ مذکورہ روایتوں میں صراحت کی گئی ہے۔"
خیانت بھی ان کبیرہ گناہوں میں شامل ہے جن کی صراحت نص میں کی گئی ہے۔ اور غیبت کو خیانت کی ایک قسم بھی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اپنے دینی بھائی کا گوشت کھانے سے بڑھ کر جب کہ وہ بے خبر اور غافل ہو اور کونسی خیانت ہو سکتی ہے اس سے بڑھ کر اور کونسی خیانت ہو سکتی ہے جو اس کا بھید کھولتی اور اس کا عیب ظاہر کر دیتی ہے۔
جاننا چاہیئے کہ غیبت کا حرام ہونا صرف مومن سے مخصوص ہے یعنی اس شخص سے جو صحیح عقیدہ رکھتا ہو جن میں آئمہ اثنا عشر (علیھم السلام) کی امامت کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ اس لحاظ سے اس عقیدے کے مخالفین کی غیبت حرام نہیں۔ پھر بھی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کے تمام فرقوں کی غیبت ترک کر دینا چاہیئے خصوصاً ان لوگوں کی جو حق کے دشمن نہ ہوں اور صحیح عقیدہ ترک نہ کر چکے ہوں۔
یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ غیبت کا حرام ہونا صرف بالغ مومن سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ نابالغ بچے سے غیبت کرنا بھی حرام ہے جو غیبت سن کر متاثر اور دُکھی ہوتا ہے اور بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ مومن بچّوں سے غیبت کرنا بالکل حرام ہے۔ چاہے وہ بالغ ہوں چاہے نابالغ۔
غیبت کے معنی اور اس کے مواقع
رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں: "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے دینی بھائی کی کسی بُری یا کریہہ بات کا ذکر کرو۔" (مکاسب) اور حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "غیبت یہ ہے کہ تُم اپنے دینی بھائی کا وہ عیب بیان کرو جسے خدا نے چھپا رکھا ہے۔" (مکاسب) اور حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو کوئی کسی غیر حاضر شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اس میں موجود ہے اور لوگ بھی اس سے واقف ہیں تو وہ غیبت نہیں ہے۔ البتہ اگر ایسی بات کہے جو اس میں موجود ہے لیکن لوگ نہیں جانتے تو گویا اس نے اس کی غیبت کی اور اگر کوئی ایسی بات کہے جو اس میں ہے ہی نہیں تو پھر اس نے اس پر بہتان باندھا ہے۔" (مکاسب)
ان دوسری دو روایتوں کے بموجب جب کوئی بات کسی مومن کے بارے میں کہی جاتی ہے اور وہ اس کا ایسا عیب ہے جو سُننے والے اور دوسرے لوگوں سے پوشیدہ نہیں ہے تو غیبت میں اس کا شمار نہیں ہوتا چاہے وہ مومن کی بُرائی، ملامت، تکلیف دہی اور توہین میں شمار نہیں ہوتا چاہے وہ مومن کی بُرائی، ملامت، تکلیف دہی اور توہین میں شمار ہو اور ان عنوانات کے تحت حرام ہو جیسا کہ ذکر کیا جاتا ہے۔
شیخؒ نے اہل لغت کے کلمات، غیبت کے معنی سے متعلق روایات اور معنی کی تحقیقات نقل کرنے کے بعد کچھ بیانات دئیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ غیبت کے اطلاق کی تین قسمیں ہیں: غیبت ہونا مسلّم ہو یا غیبت ہونا ظاہر ہو یا اس کا غیبت ہونا ظاہر نہ ہو۔
پہلی قسم وہ موقع جب کہ وہ قطعی غیبت ہوتی ہے ایک ایسی بات کا ذکر کرنا ہے جو کسی شخص سے منسوب اس کا کوئی شرعی یا مشہور عام نقص ہو اور وہ بھی سننے والے سے اس طرح چھپا ہو کہ جس کی غیبت کی جائے وہ اس کے کھل جانے پر رضامند نہ ہو اور غیبت کرنے والا بھی اسے ذلیل کرنے اور اس میں عیب نکالنے پر تلا ہوا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی کسی مومن کو گھٹانے کے لیے اس کی پوشیدہ بُرائی بیان کرے تو وہ بلاشبہ غیبت اور گناہِ کبیرہ ہے۔
دوسری قسم جو بظاہر غیبت کا مصداق ہے دوسرے کا چھپا ہوا عیب بیان کرنا ہے لیکن اس کی مذمت کرنے، اس میں عیب نکالنے اور اُسے گرانے کے لیے نہیں بلکہ کسی اور غرض سے مثلاً تفریح کے لیے یا دلیل اور ثبوت دینے کے لیے یا ہمدردی کی خاطر دوسرے کا چھپا ہوا عیب بیان کرے تو بھی اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور روایتیں بھی ظاہر کرتی ہیں کہ یہ بھی غیبت کا مصداق ہے اور اسی ذیل میں آتا ہے۔
تیسری قسم ایک شخص کا عیب کسی ایسے آدمی کے سامنے بیان کرنا ہے جو اسے جانتا ہے بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ غیبت کے دائرے سے خارج ہے اگرچہ کچھ روایتوں سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ یہ بھی غیبت ہے۔
ایسی صورت میں جب کہ کہنے والا دوسرے کو ملامت کرتا اور اس کی مذمت کرتا ہے قطعی حرام ہے چاہے اس کا غیبت میں شمار ہونا مشکوک ہو کیونکہ اس قسم کا بیان مومن کی دل آزاری اور توہین کا سبب ہوتا ہے اور اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
اگر مذمت اور توہین کی نیّت نہیں ہے اور مجبوراً مذمت ہو جاتی ہے مثلاً کسی شخص کی ماں بدکردار تھی تو یہ تذکرہ کرنا بھی حرام ہے۔ چنانچہ سورہ حجرات میں دوسروں کے بارے میں نام رکھنے سے صاف صاف منع کیا گیا ہے۔ (آیت ۱۰)
غیبت کی قسمیں
واضح روایتیں اور فقہاء کے اقوال یہ ہیں کہ کسی کا عیب یا نقص بیان کرنے میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ نقص جسم کا ہے یا خاندان کا یا عادتوں کا، گفتگو کا ہے یا عمل کا، دین کے متعلق ہے یا دُنیا کے متعلق یا خاص اس انسان سے متعلق ہے مثلاً لباس، گھر، سواری وغیرہ کا عیب ہے اور بعض نے ہر ایک کی مثالیں بھی بیان کر دی ہیں۔ مثلاً جسم سے متعلق غیبت یہ ہے کہ کوئی کہے کہ فلاں اعمش ہے (جس کی آنکھیں ہمیشہ ڈبڈبائی رہتی ہیں) یا احول (بھینگا) ہے یا اعور (ایک آنکھ کا یعنی کانا) ہے اقرع (گنجا) ہے یا بونا، لمبا، کالا یا پتلا وغیرہ ہے یعنی اس کی ایسی خصوصیات بیان کرے جن کو سن کر وہ ناخوش اور آزردہ ہو جائے۔
غیبت گالی بھی ہوتی ہے مثلاً کوئی کہے کہ فلاں کا باپ بدکار یا بدذات یا کنجوس تھا یا اوباش وغیرہ تھا اور اخلاق کی غیبت یہ ہوتی ہے جیسے کہے کہ فلاں بداخلاق، کنجوس، مغرور یا ڈرپوک یا کمزور اور منافق یا چور اور ظالم ہے۔
دین سے متعلق کاموں کی غیبت یہ ہوتی ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں شخص جھوٹا یا شرابی یا نماز میں سست ہے۔ دُنیاوی کاموں کی غیبت یہ ہے جیسے کوئی کہے فلاں بے ادب ہے، ناشکرا ہے، اپنی اوقات نہیں پہچانتا، بکواسی یا پیٹو یا بہت سونے والا ہے۔ لباس کے متعلق مثلاً کوئی کہے کہ اس کا لباس میلا، پھٹا، پرانا، ڈھیلا ڈھالا، اٹنگا ہے۔ ایسے ہی اس کے متعلق دوسری باتوں میں بھی اگر اسے بُرائی سے اس طرح یاد کیا جائے کہ اسے اچھا نہ لگے بلکہ اس کی دل آزاری ہو تو یہ غیبت ہو گی۔
جاننا چاہیئے کہ غیبت میں کوئی فرق نہیں ہے خواہ دوسرے کا عیب زبان سے کھولا جائے یا عمل سے یا اشارے سے صاف صاف کہا جائے یا ایسے کنائے سے جو سمجھ میں آجائے۔ کبھی کبھی کنائے سے غیبت اور بھی بُری ہوتی ہے جیسے یہ کہا جائے الحمد للہ کہ خدا نے ہمیں حکومت کی ہوس یا ظالموں کی ہم نشینی یا دولت کا لالچ نہیں دیا یا یہ کہا جائے حرص یا کنجوسی یا بے شرمی سے خدا کی پناہ، خدا ہمیں شیطان کی بُرائی سے بچائے اور ان باتوں سے کنایہ اس شخص کی طرف ہو جو ان کاموں کا مرتکب ہوا ہے۔
اکثر ہوتا ہے کہ بعض دھوکے باز جب کسی کی غیبت کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تعریف سے شروع کرتے ہیں کہ فلاں کتنا اچھا آدمی ہے لیکن افسوس ہے کہ شیطان کے چکر میں آ گیا اور اب یوں ہو گیا ہے۔ کبھی منافقت سے دوسرے کے لیے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں کہ افسوس مجھے کتنا صدمہ ہوا اور فلانے کے لیے میرا دل کتنا کڑھا جب اس سے یہ فعل سرزد ہوا۔ اگر سچ مچ کا دوست ہوتا اور اس کا غم کھاتا تو کبھی اس کا راز فاش نہ کرتا اور اس کی بُرائی نہ کرتا۔
ایک غیر معین شخص کی غیبت
غیبت اس صورت میں ہوتی ہے جبکہ کسی مخصوص شخص کی ہو اور اگر کسی ایسے شخص کی غیبت ہو جس کا نام ونشان نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے مثلاً کوئی کہے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ایسا تھا اور ایسا تھا۔ البتہ جب چند لوگوں میں سے ایک غیر معین شخص کی غیبت کرے کہ فلاں شخص کا ایک بیٹا ایسا ہے تو یہ حرام ہے کیونکہ اس طرح کہنے والے نے ان سب کو تکلیف دی اور آزار پہنچایا ہے اور اگر زیادہ لوگوں میں سے صرف ایک شخص کی غیبت کرے مثلاً کہے کہ ایک اصفہانی یا شیرازی ایسا اور ویسا تھا تو یہ جائز ہے اور اگر یہ بھی کہے کہ بعض اصفہانیوں یا شیرازیوں میں فلاں عیب ہوتا ہے تو بھی جائز ہے لیکن یہ کہے کہ تمام شیرازیوں یا اصفہانیوں میں فلاں عیب ہوتا ہے تو اس میں شک نہیں ہے کہ یہ حرام ہے کیونکہ اس صورت میں اس شہر کے تمام باسیوں کی توہین ہوتی ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں شہر کے اکثر لوگوں میں یہ عیب پایا جاتا ہے تو یہ بات اختیار کے خلاف یعنی غیر محتاج بلکہ اس کے حرام ہونے میں زیادہ قوت اور امکان ہے۔(جاری)
غیبت کا کفارہ اور توبہ
چونکہ غیبت کرنا گناہِ کبیرہ ہے اس لیے اگر کسی نے ایسا کیا تو اس پر واجب ہے کہ فوراً اپنے کہے پر شرمندہ ہو کیونکہ اس نے اپنے پروردگار کی مخالفت کی اور دل سے شرمندہ ہونے کے بعد زبان سے استغفار بھی کرے اور نیّت کرے کہ پھر ایسا گناہ نہیں کرے گا۔ چونکہ بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کا غیبت کرنے والے پر حق پیدا ہو جاتا ہے اس لیے ممکن ہو تو اس سے معافی مانگ لے اور اپنے آپ سے راضی کر لے اور جس طرح اس نے اس کی غیبت کی ہے اس کے مقابلے میں اسے نیکی سے یاد کرے تو بہتر ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے وہ مر چکا ہے یا اس کی پہنچ سے باہر ہے یا اس سے معافی مانگنے سے اس کے دُور ہو جانے کا اندیشہ ہو مثلاً وہ غیبت کی باتوں سے بے خبر ہے اور ان کے سُننے سے ناخوش ہو جائے گا اور معافی مانگنے کی غرض پوری نہیں ہو سکے گی تو ایسے موقع پر اس کی مغفرت کی دعا کرنا چاہیئے اور خدا سے عرض کرنا چاہیئے کہ اے پروردگار! اس شخص کو راضی اور خوش کر دے جیسا کہ صحیفہ سجادیہ کی دعا ۳۹ میں اور پیر کے دن کی دعا میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔
غیبت کے جائز ہونے کے مواقع
فقہاء نے بعض موقعوں پر غیبت کرنے کو جائز سمجھا ہے۔ یہاں شیخؒ نے جو کچھ مکاسب میں فرمایا ہے اسی پر اکتفا کی جاتی ہے:
( ۱) اس شخص کی غیبت کرنا جس کا گناہ پوشیدہ نہیں ظاہر ہو۔ مثلاً کوچہ وبازار میں ہاتھ میں شراب کا پیالہ لیے کھلم کھلا پیتا پھرے۔ چنانچہ روایت میں ہے :"جب کوئی گناہگار کھلم کھلا گناہ کرتا ہے اور کسی کا لحاظ نہیں کرتا تو اس کی غیبت حرام نہیں ہے۔" اسی طرح جس نے شرم اور لحاظ ختم کر دیا یعنی لوگوں کے سامنے جو گناہ کرنے میں نہیں شرمایا اس کی غیبت نہیں ہوتی یعنی اس کی غیبت کرنا حرام نہیں ہے۔ (مکاسب)
جاننا چاہیئے کہ غیبت اس گناہ کے سبب سے جائز ہو جاتی ہے جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ جو گناہ پردے میں کیے جاتے ہیں ان کے باعث بھی غیبت جائز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگرچہ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر کھلا ہوا گناہ چھپے ہوئے گناہ سے زیادہ سخت ہو تو اس کے ذکر میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن احتیاط اسے ترک کر دینے میں ہی ہے۔
یہ بھی معلوم ہو جانا چاہیئے کہ کھلم کھلا گناہ کرنے والے کی غیبت اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس نے خود اپنے گناہ کا اقرار کیا ہو لیکن اگر وہ اپنے عمل کا کوئی صحیح عذر پیش کرے تو اس کی غیبت جائز نہیں ہے۔ مثلاً شراب کو دَوا کے طور پر اور بیماری کے علاج کی غرض سے پینے کا عذر کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں ایسے شخص کی تقلید میں ہوں جو شراب کو اس صورت میں جائز جانتا ہے یا مثلاً رمضان کے مہینے میں کھانا کھانے کے لیے یہ عذر پیش کرتا ہے کہ میں مریض یا مسافر ہوں یا دوسرے قابلِ قبول عذر رکھتا ہے اور مثلاً ایسا شخص جو گناہ کرتا ہے تو اپنے عمل کے لیے کوئی عذر گھڑ لیتا ہے بشرطیکہ اس عذر میں بظاہر کوئی نقصان یا خرابی نہ ہو اور احتیاط اس شخص کی غیبت ترک کرنے میں بھی ہے جو کسی انجان شہر یا اجنبی محلے میں وہ گناہ کھلم کھلا کرتا ہے۔
( ۲) مظلوم اگر اپنے آپ پر کیے ہوئے ظالم کا ظلم بیان کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے یہ غیبت نہیں ہے جیسا کہ خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے :" جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد ظالم سے انتقام لیتا ہے اور جو ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں ان پر کوئی سختی یا ناخوشی نہیں ہے۔" (ظالموں سے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے )۔ دراصل گناہ اور عذاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور کسی سبب اور دلیل کے بغیر حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ انہیں لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔" (سورہ شوریٰ آیت ۳۹)
خداوند عالم سورہ نساء میں فرماتا ہے:" خدا مظلوم کے علاوہ اور کسی کا کھلم کھلا بُری باتیں کرنا پسند نہیں کرتا۔" (آیت ۱۴۸)
احتیاط اس میں ہے کہ مظلومیت کا اظہار اس شخص کے سامنے کرے جس سے اسے داد خواہی یعنی انصاف کی اُمید ہو اور اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس شخص سے انصاف نہیں ہو گا یا یہ انصاف نہیں کرے گا تو اس سے ظالم کی شکایت نہ کرے اور اس کے ظلم کا ذکر بھی نہ کرے۔
( ۳) مشورہ طلب کرنے والے کو نصیحت: جب کوئی مسلمان کسی ایسے معاملے میں جو کسی مخصوص شخص کے ساتھ کرنا چاہتا ہے کسی سے مشورہ کرتا ہے اور جس سے مشورہ کیا جاتا ہے اور وہ اس مخصوص شخص کا کوئی ایسا عیب جانتا ہے جو اگر بیان نہیں کرتا تو معاملہ مکمل ہو جاتا ہے اور وہ مسلمان پریشانی میں پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ درحقیقت اس کو یہ عیب نہ بتانا نقصان میں پھنسانے اور اس کے ساتھ خیانت کرنے کے مترادف ہے۔ تو اس صورت میں اس شخص کا عیب بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جاننا چاہیئے کہ اس مسئلے میں احتیاطاً دو باتوں کا لحاظ رکھنا ہے ایک یہ کہ ایسی صورت میں اس شخص کا عیب بیان کرے جب نہ کہنے سے نقصان زیادہ ہو اور اگر اس کے برعکس ہو یعنی مشورہ کرنے والے کا نقصان سے زیادہ اس شخص کی بے آبروئی اور بے عزّتی کا نقصان ہو جس کا عیب بیان کیا جاتا ہے تو لازم ہے کہ اس کا عیب بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس شخص کے عیب کا ذکر کرنا اس وقت جائز ہے جب اس معاملے سے پیدا ہونے والی خرابی روکنے کے لیے اس عیب کا ذکر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہ ہو۔ اگر اس عیب کا ذکر کیے بغیر ہی کام چل جائے مثلاً اتنا ہی کہے کہ اس معاملے میں مجھے اس کی صلاحیت کا علم نہیں ہے اور وہ (مشورہ کرنے والا) اسی کو مان لیتا ہے تو پھر اسی پر اکتفا کرنا چاہیئے۔
( ۴) نہی از منکر کی نیّت سے جب کہ اس کی تمام شرطیں پوری ہوتی ہوں غیبت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یعنی جب کسی مسلمان کا کوئی بُرا فعل دیکھے اور یہ سمجھے کہ اگر وہ اس کی غیبت کرتا ہے تو وہ اس کام کو ترک کر دے گا غیبت جائز ہے۔ لیکن اس صورت میں جب کہ اس کے بُرے فعل پر اس شخص کا اصرار جانتا ہے البتہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس نے ترک کر دیا ہے تو اس کا ذکر جائز نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلے قضیئے کے مانند غیبت کرنے کی خرابی اور اس بُرے فعل کی خرابی کا موازنہ کر لینا چاہیئے۔ اگر اس مسلمان کی بے عزتی کا نقصان اس بُرے فعل کے نقصان سے زیادہ ہے جس میں وہ مشغول ہے تو اس کی غیبت کرنا جائز نہیں ہے چاہے اسے اس بات کا یقین ہی ہو کہ غیبت کرنے سے وہ شخص اس گناہ کو ترک کر دے گا۔
اس بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کا گناہ دیکھو تو اس کے صحیح ہونے ہی کا گمان کرو اور اگر اس کا گناہ ہونا قطعی نظر آئے اور اسے صحیح سمجھا ہی نہ جا سکے تو ایسی صورت میں جبکہ اس مسلمان نے وہ گناہ ترک کر دیا ہو اور اسے نہ دُہرایا ہو اس کے اس گناہ کا ذِکر کرنا حرام ہے اور اسی طرح اسے منع کرنا یا ملامت کرنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ نہی از منکر کا مقصد ترکِ گناہ ہوتا ہے اور جب کسی نے خود ہی گناہ ترک کر دیا ہو تو پھر اسے منع کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور اگر اس نے گناہ ترک نہیں کیا بلکہ اس پر اصرار کرتا ہے تو اس صورت میں چھپے ہوئے گناہ کو دوسرے کے سامنے کھولنا اور بیان کرنا حرام ہے۔ اسے نہی از منکر کی تمام شرطوں کے ساتھ گناہ سے روکنا چاہیئے اور اگر نہ رُکے اور یہ سمجھ میں آئے کہ اس کا گناہ دوسروں سے بیان کرنے پر یہ اسے ترک کر دے گا تو اس صورت میں اس کا گناہ بیان کرنا جائز ہے لیکن شرط یہی ہے کہ گناہ کا ترک کرنا اس مسلمان کی آبرریزی اور رسوائی سے زیادہ اہم ہو۔
جو کچھ یہاں کہا گیا ہے اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ نہی از منکر کی خاطر مسلمان کی غیبت اسی صورت میں جائز ہے جب وہ مسلمان اس گناہ پر اصرار کرتا ہو اور صرف منع کرنے سے باز نہ آتا ہو اور اس گناہ کا نقصان اس کی آبروریزی اور رسوائی سے زیادہ ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اگر اس کی غبیت کی جائے گی تو وہ اس گناہ کو ترک کر دے گا۔ اگر ان چاروں شرطوں میں سے ایک بھی کم ہوئی تو اس کی غیبت کرنا حرام ہے
( ۵) ایسے شخص کا عیب کھولنا اور اس کی غیبت کرنا جو خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے اور خدا کے دین میں بدعت کو رواج دینے والا ہے تو اس خیال سے کہ لوگ اس سے دھوکا نہ کھائیں اور اس کے جال میں نہ پھنسیں۔
( ۶) جس گناہگار نے کوئی روایت بیان کی ہو یا کسی بات کی گواہی دی ہو اس نیت سے اس کی غیبت کرنا کہ لوگ اس کے گناہ سے واقف ہو جائیں او اس کی بات کا اثر قبول نہ کریں۔
( ۷) کسی کا ایسے عیب اور نقص سے ذکر کرنا جس سے وہ مشہور ومعروف ہو جیسے اعمش (جس کی بینائی کمزور ہو اور آنکھیں برابر ڈبڈبائی رہتی ہوں)، بھینگا، لنگڑا وغیرہ لیکن اس طرح کہ اس کا عیب بیان کرنا مقصود نہ ہو بلکہ اسے صرف پہچنوانا منظور ہو اور وہ شخص بھی ان القاب (ناموں) سے ناراض نہ ہو ورنہ ان سے پرہیز کر کے کسی دوسری طرح اسے صرف پہچنواناچاہیئے ۔
( ۸) کسی ایسے شخص کی تردید (کاٹ) کرنا جو کسی خاندان سے یا نسل سے اپنے تعلق کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہو کیونکہ نسلوں اور خاندانوں کی حفاظت کا خیال دعوے دار کی بے عزت کے نقصان پر مقدم ہے۔
( ۹) کتاب کشف الریبہ میں بعض فقہاء سے نقل کیا گیا ہے جب دو آدمی کسی شخص کا گناہ دیکھیں اور اس کی غیر حاضر میں ایک دوسرے سے بیان کریں تو یہ جائز ہے کیونکہ کہنے والا سُننے والے سے کوئی ایسی بات نہیں کہتا جو سُننے والے کی نظر سے چھپی ہوئی ہو بلکہ جو بات اس نے خود بھی دیکھی ہے وہی دُہراتا ہے اور شہید نے فرمایا ہے کہ ایسی بات چیت ترک کرنا خاص طور پر اس صورت میں بہتر ہے جب کہ یہ خیال ہو کہ سُننے والا اسے بھول چکا ہے یا یہ اندیشہ ہو کہ اصل واقعہ مشہور نہ ہو جائے۔
شیخ انصاری فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کا اس گناہ کا ایک دوسرے سے بیان کرنا اگر اس شخص کی ملامت اور عیب جوئی کی خاطر ہو تو حرام ہے ورنہ جائز ہے۔
( ۱۰) کلیہ یہ ہے کہ جس موقع پر کسی مومن کی غیبت کرنے میں اس کی رسوائی کے نقصان سے زیادہ فائدہ ہو جیسے اپنے معاملات میں گواہی دینا تو غیبت جائز ہے۔(جاری)
غیبت سُننا بھی حرام ہے
جس طرح غیبت کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اسی طرح غیبت سُننا بھی تمام فقہاء کے نزدیک یکسر حرام ہے اور پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: " غیبت سُننے والا غیبت کرنے والے کے برابر ہے اور غیبت پر کان دھرنے والا غیبت کرنے والوں میں سے ہے۔" (مستدرک الوسائل کتاب حج باب ۱۳۶) اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "کسی مسلمان کی غیبت کرنا کفر کے برابر ہے اور غیبت سننا اور اس سے خوش ہونا شرک کے برابر ہے۔"(کشف الریبہ)
ان روایتوں کو دیکھنے کے بعد جو مومن کی شان میں آئی ہیں، اس کے احترام کو کعبے سے بھی زیادہ اور اس کی آبروریزی کو اس کا خون بہانے کے برابر جانتی اور اس کا راز کھولنے کو دردناک عذاب کا سبب شمار کرتی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیبت کا سب سے بڑا رکن اور مومن کی توہین کا سبب سُننے والا شخص ہوتا ہے کیونکہ اگر سُننے والا نہ ہو یا نہ سُنے تو غیبت نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جب یہ دیکھے کہ کوئی شخص کسی مومن کا عیب بیان کر رہا ہے تو اسے نہ سنے بلکہ اس کی کاٹ کرے اور اس مومن کی حمایت کرے۔
رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیں: "جس کسی کے سامنے اس کے دینی بھائی کی غیبت ہو رہی ہو اور وہ حتی الامکان اس کی حمایت کرتا ہے تو خدا دُنیا اور آخرت میں اس کی، مدد فرمائے گا اور اگر اس نے امکان اور سکت کے باوجود اس کی حمایت نہیں کی تو خدا بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دے گا اور دُنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا۔" (المجالس)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جو کوئی اپنے دینی بھائی کے ساتھ اس کی اس غیبت کے سلسلے میں جو کسی صحبت میں ہوتی ہے اس طرح نیکی کرتا ہے کہ اس غیبت کی تردید کرتا ہے تو خدا دُنیا اور آخرت کی ہزاروں قسم کی بُرائیاں اس سے دُور کر دے گا اور اگر وہ شخص امکان اور سکت کے باوجود غیبت کی تردید نہیں کرے گا تو اس کے گناہ غیبت کرنے والے کے گناہ سے ستر گنا زیادہ ہو جائیں گے۔"
شیخ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس غیبت سُننے والے کے گناہ جس نے غیبت سن کر اس کی کاٹ نہیں کی خود غیبت کرنے والے سے بڑھ جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی یہ خاموشی یا پہلو تہی مومن اور دوسروں کی غیبت کرنے کی لوگوں کو جرأت دلاتی ہے۔
غیبت کی کاٹ نہ کرنا، غیبت سے نہ روکنا، اور غیبت سُن کر خاموش رہنا غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
پس اگر کوئی دُنیاوی عیب ہو تو کہے کہ یہ عیب نہیں ہے بلکہ عیب وہ باتیں ہیں جنہیں خدا نے عیب قرار دیا ہے اور جن سے منع فرمایا ہے یعنی گناہ اور اس میں اپنے بھائی سے ایسی بات منسوب کرنا بھی شامل ہے جس کو خدا نے عیب نہیں جانا ہے یعنی تیرا غیبت کرنا عیب ہے اور اگر وہ دینی عیب ہو مثلاً اگر کوئی مومن کا کوئی گناہ بیان کرتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی صحیح صحیح وجہ بیان کرے یعنی اس کی صحیح توجیہ کرے اور اگر صحیح توجیہ ممکن نہ ہو تو کہے کہ مومن معصوم نہیں ہوتا اس سے گناہ سرزد ہونا ممکن ہے اس لیے اس کی مغفرت کی دعا کرنا چاہیئے اسے ملامت یا رُسوا نہیں کرنا چاہیئے۔ ممکن ہے تیری ملامت اور تنبیہ اس مومن کے گناہ سے زیادہ ہو۔
غیبت کی کاٹ کے مستثنٰی موقعے
جاننا چاہیئے کہ اس صورت میں غیبت سُننا حرام اور اس کی کاٹ اور مومن کی حمایت واجب ہے جبکہ ان دس موقعوں میں سے کوئی موقع پیش نہ آئے جن پر غیبت کے جائز ہونے کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس لیے غیبت کی تین قسمیں ہو سکتی ہیں: اوّل وہ جسے وہ یہ جان لے کہ یہ دس استثنائی موقعوں کی غیبت ہے۔ ایسی صورت میں اس کا سُننا جائز اور اسے کاٹنا واجب نہیں ہے۔ دوم وہ جبکہ یہ یقین کر لے کہ یہ غیبت مذکورہ موقعوں کی نہیں ہے پھر اس کا سُننا قطعی حرام اور امکانی حد تک اس کی کاٹ واجب ہے۔ سوم جب یہ خیال ہو کہ یہ غیبت کے جائز موقعوں سے متعلق ہے۔ اس صورت میں موازنہ کرے اس غیبت کو نہ سُننے، رد کرنے بلکہ مومن کی حمایت کا غیبت کرنے والے کی عزت بچانے سے کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ موقع جائز ہو اور گناہ نہ ہو۔ مثلاً غیبت کرنے والا کہے کہ شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور اس عیب کی وہ کوئی صحیح وجہ بیان کرے۔
دوزخ اور دوزبانا
شیخ انصاریؒ مکاسب میں غیبت کی بحث کے آخر میں فرماتے ہیں: "اگر غیبت کرنے والا ایسا ہو جو اس شخص کے منہ پر جس کی غیبت کر رہا ہے تعریفوں کے پل باندھ دیتا ہے لیکن پیٹھ پیچھے اس کے عیب بیان کرتا ہے تو اس کا عذاب دُگنا ہوتا ہے اور شرع میں اسے ذواللسانین یعنی دو زبانوں والا کہا جاتا ہے اور اس صورت میں غیبت سخت حرام ہو جاتی ہے۔ روایتوں میں کہا گیا ہے کہ ایسا شخص جب قیامت میں آئے گا تو اس کے منہ سے آگ کی دو زبانیں لٹکتی ہوں گی۔ . ۔(مکاسب)
کتاب گناہان کبیرہ، شہید دستغیب شیرازیؒ


تاریخ فقاہت و مرجعیت

باسمہ تعالیٰ
تاریخ فقاہت و مرجعیت 
از زمانہ غیبت (۲۶۰ھ)تا ۱۴۱۵ ہجری
نواب اربعہ:
۱۔ عثمان بن سعید عمریؒ(متوفیٰ ۲۸۰ھ)
۲۔ محمد بن عثمان اسدی (متوفیٰ ۳۰۵ھ)
۳۔ حسین بن روح نوبختی (متوفیٰ ۳۲۶ھ)
۴۔ علی بن محمد سمری (متوفیٰ ۳۲۹ھ)
(۱) عیّاش سمرقندی ؒ:(متوفیٰ ۳۲۰ھ)
(۲) علی بن بابویہ قمیؒ:(متوفیٰ ۳۲۹ھ)
(۳)ثقۃ الاسلام کلینیؒ :(متوفی ٰ۳۲۹ھ)
(۴)ابن ماہیارؒ :(م۔۔۔)
(۵)ابن ابی عقیل عُمّانی ؒ:(متوفیٰ۳۴۰ھ)
(۶)ابن ولیدؒ: (متوفیٰ ۳۴۳ھ)
(۷)ابو غالب زراریؒ: (متوفیٰ ۳۶۸ھ)
(۸)ابن داوودؒ(م ۳۶۸ھ)
(۹)جعفر ابن قولویہؒ:(متوفیٰ۳۶۹ھ )
(۱۰) شیخ صدوقؒ :(متوفیٰ۳۸۱ھ)
(۱۱) ابن جنید اسکافیؒ:(متوفیٰ ۳۸۱ھ)
(۱۲)سید رضیؒ :(م ۴۰۶ھ)
(۱۳) شیخ مفیدؒ:(متوفیٰ ۴۱۳ھ)
(۱۴) سید مرتضیٰ علم الھدیٰؒ:(متوفیٰ ۴۳۶ھ)
(۱۵) شیخ ابو الصلاح حلبی ؒ:(متوفیٰ۴۴۷ھ)
(۱۶) سلّار  دیلمیؒ :(متوفیٰ ۴۴۸ھ یا)
(۱۷) نجاشیؒ:(متوفیٰ ۴۵۰ھ)
(۱۸) شیخ طوسی ؒ:(متوفیٰ ۴۶۰ھ)
(۱۹) شریف جعفری ؒ (متوفیٰ ۴۶۳ھ)
(۲۰) قاضی ابن برّاج:(متوفیٰ ۴۸۱ھ)
(۲۱) مفید ثانیؒ:(متوفیٰ ۵۱۵ھ)
(۲۲)علامہ طبرسیؒ (۵۴۸ھ) 
(۲۳) ابن حمزہ طوسیؒ:(متوفیٰ ۵۵۰ھ)
(۲۴)قطب الدین راوندی ؒ: (متوفیٰ۵۷۳ھ)
 (۲۵)ابن زُہرہ ؒ:(متوفیٰ ۵۸۵ھ)
(۲۶)ابن حمزہ  طوسیؒ: (متوفیٰ ۵۸۵ھ)
(۲۷)ابن شہر آشوبؒ (۵۸۸ھ)
(۲۸) ابن ادریس حلی  ؒ:(متوفیٰ۵۹۸ھ)
(۲۹)ابن یونسؒ(م ۶۳۹ھ)
(۳۰)سید ابن طاووسؒ (۶۶۴ھ)
(۳۱)خواجہ نصیر الدین طوسیؒ (۶۷۲ھ)
(۳۲)محقق حلّیؒ:(متوفی۶۷۶ھ)
(۳۳) علامہ حلیؒ:(متوفی۷۲۶ھ)
(۳۴) فخر المحققین ؒ :(متوفیٰ ۷۷۱ھ)
(۳۵) شھید اولؒ:(متوفیٰ۷۸۶ھ)
(۳۶) فاضل مقداد ؒ:(متوفیٰ ۸۲۶ھ)
(۳۷) ابن فہد حلی ؒ :(متوفیٰ ۸۴۱ھ)
(۳۸) شیخ علی بن ھلال جزائریؒ:(متوفی۹۳۷ھ)
(۳۹) محقق کرکیؒ:(متوفیٰ ۹۴۰ھ)
(۴۰)ملاطاہر شاہ دکنیؒ:(۹۵۲ھ؁)
(۴۱) شہید ثانیؒ:(متوفیٰ ۹۶۶ھ)
(۴۲)شیخ عز الدینؒ  (متوفیٰ ۹۸۴ھ):
(۴۳) مقدس اردبیلیؒ :(متوفیٰ ۹۹۳ھ):
(۴۴)صاحب مدارک ؒ (۱۰۰۹ھ):
(۴۵)صاحب معالمؒ (۱۰۱۱ھ):
(۴۶)شہید ثالثؒ:(متوفیٰ ۱۰۱۹ھ):
(۴۷) شیخ بہائیؒ :(متوفیٰ ۱۰۳۰ھ):
(۴۸)میر دامادؒ :(متوفی ۱۰۴۱ھ):
(۴۹)ملّا صدراؒ :(متوفیٰ ۱۰۵۰ھ) 
(۵۰)ملّا تقی مجلسیؒ :(م ۱۰۷۰ھ) :
(۵۱) محقق سبزاواری ؒ:(متوفیٰ ۱۰۹۰ھ) :
(۵۲)ملّا فیض کاشانیؒ : (متوفیٰ ۱۰۹۱ھ):
(۵۳) محقق خوانساری:(متوفیٰ ۱۰۹۸ھ):
(۵۴)شیخ حرّ عاملیؒ(متوفیٰ ۱۱۰۴ھ):
(۵۵)علامہ بحرانیؒ (۱۱۰۷ھ):
(۵۶)علامہ  مجلسیؒ (۱۱۱۱ھ):
(۵۷) جمال المحققین آقا جمال خوانساریؒ(متوفی ۱۱۲۲ھ):
(۵۸) فاضل ہندیؒ(متوفیٰ ۱۱۳۷ھ):
(۵۹)صاحب حدائقؒ : (متوفیٰ ۱۱۸۶ھ):
(۶۰) وحید بہبہانیؒ:(متوفیٰ ۱۲۰۵ھ):
(۶۱)ملّا مہدی نراقیؒ : (متوفیٰ ۱۲۰۹ھ):  
(۶۲)۔سید مہدی بحرالعلومؒ:(متوفیٰ ۱۲۱۲ھ):
(۶۳)سید جواد عاملیؒ : (م ۱۲۲۶ھ):
(۶۴)۔شیخ جعفرکاشف الغطاءؒ:(متوفیٰ ۱۲۲۸ھ):
(۶۵) میرزائے قمّیؒ : (م ۱۲۳۱ھ):
(۶۶) سید علی طباطبائیؒ :(م۱۲۳۱ھ):
(۶۷) سید عبد اللہ شبّرؒ : (م ۱۲۴۲ھ):
(۶۸)صاحب جواہر ؒ :(متوفیٰ ۱۲۶۶ھ):
(۳۳)۔شیخ مرتضیٰ انصاریؒ:(متوفیٰ ۱۲۸۱ھ)
(۷۰)صاحب قوامعؒ :(۱۳۰۶ھ)
(۷۱)۔میرزائے شیرازی ؒ :(متوفیٰ ۱۳۱۲ھ)
(۷۲)میرزا حبیب اللہ رشتیؒ :(م ۱۳۱۲ھ)
(۷۳)محدث نوریؒ (۱۳۲۰ھ):
(۷۴)۔آخوند خراسانی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۲۹ھ) :
(۷۵)۔محقق یزدی ؒ:(متوفیٰ۱۳۳۷ھ)
(۷۶)۔میرزا فتح اللہ نمازی شیرازی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۳۹ھ)
(۷۷)ملّا حبیب اللہ کاشانی ؒ (م ۱۳۴۰ھ)
(۷۰)ملا حبیب اللہ شریف کاشانیؒ :(۱۳۴۰ھ)
(۷۸)میرزا جواد آقا ملکیؒ (م۱۳۴۳ھ): 
(۷۹)شیخ محمد جواد بلاغی نجفیؒ (م۱۳۵۲ھ):
(۸۰)۔شیخ عبدالکریم حائری ؒ:(متوفیٰ ۱۳۵۵ھ):
(۸۱)۔ حاج میرزا حسین نائینی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۵۵ھ):
(۸۲)محدث قمیؒ:(متوفیٰ ۱۳۵۹ھ):
(۸۳)آقا ضیاء الدین عراقیؒ(م ۱۳۶۱ھ):
(۸۴)شیخ حسن علی اصفہانیؒ(م ۱۳۶۱ھ):
(۸۵)غروی اصفہانیؒ:(متوفیٰ ۱۳۶۱ھ):
(۸۶)۔سیدابوالحسن اصفہانیؒ :(متوفیٰ ۱۳۶۵ھ):
(۸۷)حسین طباطبائی قمیؒ: (متوفیٰ ۱۳۶۶ھ)
(۸۸)آیۃاللہ شاہ آبادیؒ: (متوفی۱۳۶۹ھ)
(۸۹)سید محسن امینؒ:  (متوفیٰ۱۳۷۱ھ)
(۹۰) سید محمد تقی خوانساری ؒ: (متوفیٰ ۱۳۷۱ھ)
(۹۱) شیخ محمد حسین کاشف الغطاءؒ: (متوفیٰ ۱۳۷۳ھ)
(۹۲) سید حسین طباطبائی بروجردیؒ:(متوفیٰ ۱۳۸۰ھ) 
(۹۳)شیخ محمد رضا مظفرؒ: (متوفیٰ ۱۳۸۳ھ):
(۹۴)۔سید محسن الحکیمؒ:(متوفیٰ ۱۳۹۰ھ):
(۹۵)شیخ آقا بزرگ تہرانی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۹۰ھ):
(۹۶)سید باقر الصدرؒ:(متوفیٰ ۱۴۰۰ھ):
(۹۷)علامہ شعرانیؒ (م۱۳۹۳ھ)
(۹۸)سید محمد ہادی میلانیؒ (م۱۳۹۵ھ)
(۹۹)۔سید روح اللہ خمینیؒ: (متوفیٰ  ۱۴۰۹ھ):
(۱۰۰)سید شہاب الدین مرعشی نجفیؒ:(متوفیٰ ۱۴۱۱ھ)
(۱۰۱)۔سید ابوالقاسم خوئیؒ:(متوفیٰ ۱۴۱۳ھ)
(۱۰۲)محمد رضا گلپائگانیؒ:(متوفیٰ ۱۴۱۴ھ):
(۱۰۳)محمد علی اراکی ؒ:(متوفی ۱۴۱۵ھ)
مرتب: محمد حسنین باقری
(نوٹ:یقینا اس میں دیگر بہت سے نام بھی ہیں جو شامل نہیں ہوسکے۔ برصغیر کے فقہاء کی بھی طویل فہرست ہے ۔ جو الگ سے پیش کی جارہی ہے)

جمعہ، 1 مئی، 2020

تحفہ اثنا عشریہ اور اس کے جوابات

تحفہ اثنا عشریہ اور اس کے جوابات
سید محمد حسنین باقری، لکھنو

علمائے مذہب حقہ نے ہر دور میں مذہب اہلبیتؑ یعنی حقیقی اسلام کی حفاظت و پاسداری کا اہم و خطیر وظیفہ بحسن و خوبی انجام دیا، اس مذہب کو بچانے اور اس کی تبلیغ میں انتھک کوششیں کیں اور اس سلسلے میں ہر طرح کی قربانی بھی پیش کرنے میںقدم پیچھے نہیں ہٹائے۔چونکہ دین کا سب سے اہم و بنیادی رکن ’’ولایت‘‘ ہے اور یہی اسلام کا سیاسی فلسفہ بلکہ ترقی یافتہ فلسفہ ہے، بشریت کی نجات و سعادت اور عظمت و کامیابی اسی ولایت و امامت کی مرہون منت ہے،اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں اہل بیتؑ کے زمانے میں خود انھوں نے اس کی ہر طرح سے حفاظت و پاسداری کی اس کو بچانے میں ہر طرح کی قربانی دی یہاں تک کہ’’ ام ابیہا‘‘ کا لقب پانے والی جگر گوشۂ رسولؐ صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا علیہا  السلام نے اسی ولایت کے لئے ہر طرح کے مظالم برداشت کئے نتیجہ میں اپنے فرزند جناب محسنؑ کی شہادت کے بعد اپنی شہادت کا نذرانہ پیش کیا اور رہتی دنیا تک علی ؑ و ولایت علیؑ کی حقانیت اور اس کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کردیا۔اور جب غیبت کا زمانہ شروع ہوا تو اس ذمہ داری کو ہمارے علماء و مجتہدین اور فقہاء و مراجع نے انجام دیا اور آجتک اس ولایت کی صحیح معنوں میں حفاظت و پاسداری یہی علماء و مراجع انجام دے رہے ہیں اور آج بنام دین و ولایت جو کچھ بھی ہے وہ انہیں علماء و فقہاء کی زحمتوں کا نتیجہ ہے آج اگر ہم ’مولائی‘ ہیں تو انھیں علماء کی وجہ سے جنھوں نے ہم تک مولا کی ولایت پہنچائی ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اگر ان علماء نے زحمت و مشقت کرکے، اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کا وظیفہ انجام نہ دیا ہوتا تو ہم کو کون بتاتا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟۔کسی امامؑ نے خود آکر ہم سے نہیں کہا کہ ہم حق ہیں ، ہمارا مذہب حق ہے بلکہ یہ علماء اور انکی تحریر کردہ کتابیں ہی ہیں جن سے ہم کو حقائق کا علم ہوا۔ان بزرگوں نے دین کو پہنچانے اور اس کی حفاظت میں تمام سعی و تلاش کے ساتھ کتابیں لکھیں اسی طرح جب بھی مذہب اہلبیتؑ پر کبھی کوئی حملہ ہوا یا اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کا ہر ممکنہ طریقہ سے مقابلہ کیا اور اس راہ میں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر سامنے آئے اور جوابات دئے ۔اگر مخالفین اسلام کی طرف سے کوئی اعتراض ہوا تو اس کا دندان شکن جواب دیا ۔
 اسلام حقیقی یعنی مذہب اہلبیتؑ کے خلاف چلی جانے والی سازشوں کی ایک کڑی کتاب ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ تھی لیکن جیسے ہی یہ کتاب سامنے آئی علماء کمر بستہ ہوئے گرچہ سارے اعتراضات پرانے اور گھسے پٹے تھے اور یہ کتاب ’صواقع موبقہ‘ کا سرقہ تھی۔تب بھی علماء نے اپنے وظیفہ کو انجام دینے کے لئے ایک کتاب کے جواب میں دسیوں کتابیں لکھیں ۔اس دور میں کس طرح انھوں نے یہ کتابیں لکھیں یہ وہی جانتے ہیں لیکن ان جوابات کو دیکھ کر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے برّ صغیر ،بالخصوص ہندوستان کے علماء تالیف و تحقیق کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے ان جوابات میں سے اکثر کتابیں فارسی یا عربی میں لکھی گئیں جو ہمارے علماء کی علمی جلالت کا ایک اور نمونہ ہے۔لہذا آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ تحفہ اثنا عشریہ کیسی کتاب ہے؟ پھر یہ معلوم کریں گے کہ اس کے جواب میں کن علماء نے کون کون سی کتابیں تحریر کی ہیں۔
جہاں تک تحفہ اثنا عشریہ کے ذریعہ مذہبی منافرت کا بیج بونے کی بات ہے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بر صغیر میں تعصب و مذہبی منافرت کا بیج بونے والے بدرالدین احمد فاروقی ماتریدی نقشبندی سر ہندی المعروف مجدد الف ثانی (۹۷۱ھ۔ ۱۰۳۴ھ) ہیں۔شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی عُمَری (۱۱۵۹ھ۔۱۲۳۹ھ) ابن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عمری (شاہ صاحب کا سلسلہ نسب حضرت عمر ابن خطاب سے ملتا ہے،(تحفہ اثنا عشریہ اردو،صفحہ۴)نے اس تعصب کو نئی زندگی دی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینے میں بہت اہم رول ادا کیا، در حقیقت صاحب تحفہ نے دشمنان اسلام کے منشاء کو پورا کرنے اور مسلمانوں کی صفوں میں شگاف ڈالنے کے لئے تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں یہ کتاب لکھی جس کا اصلی نام ’’نصیحۃالمؤمنین و فضیحۃالشیاطین‘‘ ہے لیکن تحفہ اثنا عشریہ کے نام سے مشہور ہے اور تقریبا پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ پہلی مرتبہ یہ کتاب ۱۲۰۴ھ (۹۰۔۱۷۸۹ء) میں مطبع ثمر ہند میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے شیعوں کے عقائد و نظریات پر تہمت لگانے اور جھوٹ و افترا باندھنے اور الزام تراشی پر پورا زور لگادیا ۔نیز اس کتاب کا سب سے اہم مقصد مذہب اہل بیتؑ کو آگے بڑھنے سے روکنے اور اس کی ترویج کا سد باب تھا اس لئے کہ تحفہ کی تصنیف کے زمانے میں بقول خود محدث دہلوی کے تحفہ میں اور ثناء اللہ پانی پتی کے سیف المسلول میں، کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس میں شیعہ نہ ہو۔ جیسا کہ دہلوی نے تحفہ ہی کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ: اس کتاب کو لکھنے کی غرض اور ضرورت یہ ہے کہ ۔۔۔مذہب اثنا عشری اتنا عام ہوا اور اتنا پھیلا کہ بہت کم ہی گھر ایسے ہونگے جہاں ایک یا دو آدمی اس مذہب کا پیروکار یا اس کی طرف مائل نہ ہو( تحفہ، صفحہ۴)
یہ بات بھی واضح رہے کہ تحفہ سے پہلے شیعوں کی رد میں دو اہم کتابیں لکھی گئیں ایک صواقع موبقہ، ابو نصر الدین محمد جو خواجہ نصر اللہ کابلی کے نام سے مشہور ہیں جو عربی زبان میں تھی اور دوسرے سیف المسلول ( یا شمشیر برہنہ) ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی (۔۔۔۔ ۱۲۲۵ھ) جنکی آٹھ جلدوں میں تفسیر مظہری مشہور ہے۔لہذا یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اس کتاب میں مولوی عبد العزیزدہلوی نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے بلکہ اپنے سابقین مثلا ابن تیمیہ ، روز بہان، جوزی اور کابلی جیسے متعصب علمائے اہل سنت کی باتوںکو دہرایا ہے۔اور جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ در حقیقت یہ کتاب کئی سال پہلے لکھی گئی کتاب کا عربی سے فارسی میں ترجمہ اور سرقہ ہے۔ اس لئے کہ اس کتاب کی اصل و بنیاد خواجہ نصراللہ کابلی کی کتاب ’’صواقع موبقہ‘‘ ہے جسے عبد العزیز نے عربی سے فارسی میں ترجمہ کرکے اپنے نام سے چھپوا دیا ہے۔جیسا کہ صاحب نجوم السماء (جلد۱، صفحہ۳۵۲)اور صاحب عبقات الانوار (جلد حدیث غدیر و حدیث ثقلین) اور صاحب جوہر قرآن وغیرہ نے اس کی تصریح بھی کی ہے۔ انہوں نے کتاب کا پہلا ایڈیشن فرضی نام غلام حلیم ابن شیخ قطب الدین ابن شیخ ابوالفیض کے نام سے شائع کیا لیکن دوسرے ایڈیشن میں اصلی نام عبد العزیز دہلوی ظاہر کردیا۔(خلاصہ عبقات الانوار،علامہ سید علی میلانی،ج۱ ،ص۱۵۸؛ جوہر قرآن،علامہ سید علی حیدرؒ)اس سلسلے میں صاحب تذکرہ بے بہا رقم طراز ہیں: ’’جب شاہ صاحب نے صوائق خواجہ نصر اللہ کابلی کا ترجمہ فرمایا اورا س کا نام تحفہ اثنا عشریہ رکھا اور اس عہد میں نواب نجف علی خاں صاحب مرحوم کہ جو دلی میں رکن اعظم اور شیعہ کامل تھے ان کے خوف سے شاہ صاحب نے اپنا نام اس ترجمہ میں نہ لکھا بلکہ ایک فرضی نام غلام حلیم تراش کر ظاہر کیا‘‘( تذکرہ بے بہا،علامہ سید محمد حسین نوگانوی، ج۱ ،ص۳۳۴)۔
خدا گواہ ہے کہ جب انسان کتاب تحفہ اثنا عشریہ کو دیکھتا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچنے میں اسے کوئی دیر نہیں لگتی کہ یہ کتاب علمائے شیعہ کی انتہائی معلوماتی بحر بے کراں علمی، مدلل، اسلامی تہذیب و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے لکھی گئی کتابوں کے مقابلے کوئی اہمیت و وقعت نہیں رکھتی نیز اس کے مولف علمی و اخلاقی حوالے سے کتنے کمزور اور پست ہیں۔
تحفہ اثنا عشریہ ،اصل کتاب تو فارسی میں ہے لیکن متعصب و مغرض اور کج فکر افراد نے تحفہ اثنا عشریہ کی بہت زیادہ ترویج کی اور سقیفائی چہرہ پیش کرنے کی پوری کوشش کی۔۱۲۲۷ ھ کو غلام محمد بن محی الدین اسلمی (مولوی اسلم مدراسی)(متوفیٰ ۱۲۷۲)کے ہاتھوںیہ کتاب عربی میں ترجمہ ہوئی اور نواب علی محمد جان کے بیٹے نے اس ترجمہ کو عرب بھیجا(نور الانوار(حدیث نور)،ترجمہ مولانا شجاعت حسین رضوی،ص۱۶ )اس ترجمہ کی تلخیص محمود بن عبداللہ شکری آلوسی بغدادی (۱۲۷۳ھ۔۱۳۴۲ھ) نے ’’المنحۃالالٰھیۃ‘‘ کے نام سے کی جو مصر و ترکیہ وغیرہ میں شائع ہوئی اس خلاصہ کے جواب میں بھی علمائے شیعہ نے جوابات دئے۔اب تک تحفہ کا خلاصہ اور ترجمہ متعدد مرتبہ شائع ہوچکا ہے۔ایک اختصار مصر میں چھپا۔ 
سر سید احمد خان علیگڑھ نے تحفہ کے دسویں اور بارہویں باب کا اردو ترجمہ ’’تحفۂ حسن‘‘ کے نام سے کیا جسے ۱۲۶۰ھ میں شائع کیا۔(نور الانوار ،ص۱۶۔) .اردو میں کتاب کے متعدد ترجمے ہوئے غالبا پہلا ترجمہ ’’ہدیہ مجیدیہ‘‘ جو عبدالحمید خان پیلی بھیتی نے کیادوسرا ترجمہ سعد حسن خاں ٹونکی نے کیا(تحفہ اردو)، ظاہرا اس کے علاوہ بھی ترجمے ہوئے ایک ترجمہ ۱۴۰۲ھ میں خلیل الرحمٰن نعمانی(مظاہری) نےکیا ہے جو ۷۹۵ صفحات پر مشتمل ہے۔
 کتاب تحفہ اثنا عشریہ کو بارہ اماموں کی تعداد کے مطابق بارہ ابواب میں مرتب کیا گیا جو مندرجہ ذیل ہیں: 
باب اول: شیعہ مذہب کی ابتدا اور اس کے فرقے۔
باب دوم: شیعوں کے مکائد(یعنی بقول مصنف شیعہ حضرات مختلف بہانوں سے لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف مائل کرلیتے ہیں) اس باب میں ۱۰۷ مکائد و مغالطوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ 
باب سوم: سابقین و اسلاف شیعہ کے حالات( اس باب میں اسلاف شیعہ کو طبقات کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے سات طبقات کاتذکرہ کیا ہے)
باب چہارم: شیعہ روایات، ان کے اقسام و اسناد اور ان کے راوی۔ 
باب پنجم: الہیات(اس باب میں مصنف نے الٰہیات کے سلسلے میں شیعوں کے ۲۲ عقائد کو نقل کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ شیعہ ان عقائد میں بقیہ مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں)۔
باب ششم: نبوت(اس باب میں نبوت سے متعلق ۱۵ عقائد کا تذکرہ کیا ہے جنمیں شیعہ دوسرے مسلمانوں سے الگ ہیں)۔ 
باب ہفتم: امامت(در حقیقت اس کتاب کا سب سے اہم باب ہے اس باب میں امامت سے متعلق کلی مسائل بیان کرنے کے بعد امامت و خلافت بلافصل کے سلسلے میں بحث کی گئی ہے اور چونکہ شیعہ حضرات حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل امامت و جانشینی کو مسلم و قابل قبول عقلی و نقلی دلائل(قرآن و احادیث پیغمبرؐ) کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں لہذا عبدالعزیز دہلوی نے بزعم خود ان دلیلوں کو رد کرنے کی کوشش کی ہے ، اس سلسلے میں سات آیات کو ذکر کیا پھر ۱۲ حدیثوں کو ۔ اور علماء شیعہ نے سب سے زیادہ اسی باب کے جواب میں کتابیں لکھیں اور سب سےمشہور کتاب عبقات الانوار درحقیقت اسی باب کے جواب میں ہے۔)  
باب ہشتم: معاد( اس باب میں قیامت سے متعلق ۷ مسائل کو بیان کیا ہے)۔
باب نہم: فقہی مسائل ۔(بقول مصنف وہ مسائل جن میں شیعہ حضرات دوسروں سے اختلاف رکھتے ہیں)
باب دہم: خلفائے ثلاثہ، ام المومنین اور دیگر اصحاب کے مطاعن۔ (کتاب کا سب سے مفصل یہی باب ہے اس میں تقریبا ۵۶ مطاعن ذکر کیے ہیں)
باب یازدہم: شیعوں کے خصوصیات ،( جو تین فصلوںپر مشتمل ہے: ۲۵  توہمات و اوھام ، ۲۵  تعصبات ، ۲۳ ہفوات ۔)
باب دوازدہم: تولاو تبرا ،دس مقدمات پر مشتمل۔
تحفہ اثنا عشریہ کے جوابات: جب عبد العزیز دہلوی کے ذریعہ انتہائی بے بنیاد اور نامناسب کتاب تحفہ اثنا عشریہ سامنے آئی  تو شیعہ علما نے اپنے وظیفہ کو انجام دینے اور ولایت و امامت و رہبری کی حفاظت کے لئے اقدامات کئے اسی وجہ سے متعدد شیعہ علما نے تحفہ اثنا عشریہ کے جواب میںکتابیں لکھیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔ یقیناً تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن فی الحال جو معلوم ہوسکیں وہ پیش کی جارہی ہیں۔ ترتیب مصنفین کے سال وفات کے اعتبار سے رکھی گئی ہے۔ جن علماء کا سنہ وفات معلوم نہ ہوسکا انھیں آخر میں ذکر کیا گیا ہے: 
۱۔سیف اللہ المسلول علی مخربی دین الرسول(الصارم التبار لقدالفجار و قط الاشرار والکفار) ، ابو محمد میرزا محمد اخباری نیشاپوری بن عبد النبیؒ (۱۱۷۸ھ۔۱۲۳۲ ھ)،محمد اخباری اور فاضل اکبر آبادی کے نام سے مشہور ہیں۔یہ کتاب پوری تحفہ کا مکمل جواب ۔
۲۔النزھۃ الاثنی عشریہ ،(فارسی)شہید رابع حکیم میرزا محمد کامل بن احمد خان طبیب کشمیری دہلوی(۱۱۵۰ھ۔ ۱۲۳۵ھ)، تحفہ کی اشاعت کے دو سال کے اندر ہی اس کا مکمل جواب۔تحفہ کے تمام بارہ ابواب کے جواب میں بارہ جلدیں(ہر باب کے جواب میں ایک جلد،پہلی ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں، اور نویں جلدیں لکھنؤ ، دہلی اور لدھیانہ میں شائع ہوئیں باقی جلدوں کا پتہ نہیں چلا ۔ علامہ سعید اختر صاحب کے مطابق اس کی تیسری جلد کا قلمی نسخہ انڈیا آفس لائبریری کے دہلی پرشین کلکشن میں ہے اب انڈیا آفس برٹش لائبریری میں ضم ہوگئی ہے۔اور نویں جلد کا خطی نسخہ رضا لائبریری رام پور میں موجود ہے، علامہ مرتضی حسین فاضلؔ کے مطابق ایک نسخہ کتب خانۂ مکتبۃالعلوم کراچی میں اور خطی نسخہ مولانا محمد مصطفی جوہر صاحب کے کتاب خانے میں موجود ہے)
۳۔الصوارم الالہیہ(فارسی)،علامہ سید دلدار علی غفرانمآب ابن سید محمد معین نقوی لکھنویؒ(م ۱۲۳۵ھ)،باب پنجم کی رد میں۔مطبوعہ کلکتہ
۴۔حسام الاسلام و سہام الملام(فارسی)، علامہ غفرانمآبؒ، تحفہ کے باب ششم کے جواب میں۔ مطبوعہ کلکتہ
۵۔ تتمہ صوارم الہیات، غفرانمآبؒ، باب ھفتم کی رد میں، شائع شدہ ۱۲۹۵ھ۔ ۱۸۷۸ء ۔
۶۔  رسالہ غیبت(فارسی)، سید دلدار علی غفرانمآبؒ، باب ھفتم کے جواب میں۔ مطبوعہ کلکتہ، و سلطان المنابع ۱۲۶۹ھ۔
۷۔ احیا السنۃ و امام البدعۃ (فارسی)، غفرانمآبؒ، تحفہ کے باب ہشتم کے جواب میں۔ مطبوعہ لکھنؤ و لدھیانہ
۸۔ ذو لفقار(فارسی)، غفرانمآبؒ،باب دوازدہم کی رد میں۔مطبوعہ لدھیانہ
۹۔ کشف الشبہ عن حکم المتعہ،فارسی، ۶۶ صفحہ، علامہ احمد بن محمد علی بن استاد کل آقای بہبہانیؒ(۱۱۹۱ھ۔ ۱۲۳۵ھ)
۱۰۔ہدیۃ العزیز (فارسی)،خیر الدین محمد الہ آبادی (۱۲۵۰ھ)،باب چہارم کی رد ۔
۱۱۔سیف ناصری، (فارسی)مفتی سید محمد قلی نیشاپوریؒ(م ۱۲۶۰ھ) (علامہ میر حامد حسینؒ کے والد)، باب اول کی رد میں۔ اس کے دو قلمی نسخوں کا تذکرہ علامہ سعید اختر نے کیا ہے جس میں سے ایک ان کے ذاتی کتب خانہ میں ہے۔
۱۲۔تقلیب المکائد  (فارسی)،مفتی سید محمد قلیؒ،باب دوئم کی رد میں۔(مطبوعہ دہلی)
۱۳۔برھان السعادات، (فارسی) مفتی سید محمد قلیؒ ، تحفہ کے باب ہفتم کی رد میں ۔مخطوطہ رضا لائبریری
۱۴۔تشیید المطاعن (فارسی) مفتی سید محمد قلیؒ،باب ہشتم کی رد میں ۔ (دو ضخیم جلدوں میں)مطبوعہ لدھیانہ ، کچھ عرصہ پہلے قم میں شائع ہوئی ہے۔
۱۵۔مصارع الافہام لقلع الاوھام، مفتی سید محمد قلیؒ،باب یازدہم کے جواب میں ۔
۱۶۔نفاق الشیخین بحکم صحیحین، فارسی، سید محمد قلی،مطبوع(مولانا طاہر اعوان صاحب نے اس کتاب کو تحفہ کے جواب میں شمار کیا ہے لیکن بظاہر یہ تحفہ کے جواب میں نہیں ہے)
۱۷۔الوجیزۃ فی اصول الدین(فارسی)،سبحان علی خان لکھنوی ہندی(م ۱۲۶۴ھ)،دو جلدوں میں(مصنف نے اصول سے متعلق بحث کو پیش کیا پھر امیر المؤمنینؑ کی امامت پر دلالت کرنے والی احادیث کو بیان کیا اس کے بعدصاحب تحفہ کے اعتراضات کو نقل کر کے ان کا جواب دیا ہے)۔
۱۸۔تجھیز الجیش لکسر صنمی قریش، حسن بن امان دہلوی عظیم آبادی نزیل کربلا (۔۔۔۔ حدود ۱۲۶۰ھ)۔
۱۹ ۔ حدیقہ سلطانیہ در مسائل ایمانیہ (باب چہارم) سیدالعلماء سید حسن علیین مکان( ۱۲۱۱ھ۔ ۱۲۷۳ھ)باب ہفتم کی ردّ۔
۲۰۔الھدایۃ السنیۃ فی ردّ التحفۃ الاثناعشریۃ، عمدۃ العلماء محمد ھادی نقوی ابن سید مہدی نصیر آبادیؒ (۱۲۲۸ھ۔ ۱۲۷۵ھ).
۲۱۔تحفہ حنفیہ بہ جواب تحفہ اثنا عشریہ،زین العابدین خان ۱۲۷۵ھ۔
۲۲۔ برھان الصادقین، علامہ سید جعفر المعروف ابو علی خان موسوی بنارسی دہلوی(حدود ۱۲۸۰ھ)، باب ھفتم کی رد میں۔
۲۳۔ بہجۃ البرھان(فارسی)، سید جعفرابو علی ، باب نہم کی رد میں۔ مخطوطہ ناصریہ لائبریری
۲۴۔ تکسیر الصنمین (فارسی)،سید جعفرابو علی،باب دہم کی رد میں۔ناصریہ لائبریری.
۲۵۔ امامۃ(عربی)، سلطان العلماء سید محمد ابن غفرانمآبؒ(۱۱۹۹ھ۔ ۱۲۸۴ھ)، باب ھفتم کی رد میں۔کتاب مبسوط بحث امامت.
۲۶۔ بوارق موبقہ (فارسی)بحث امامت،سلطان العلماء سید محمد ؒ،باب ہفتم کی رد میں۔
۲۷۔ طرد المعاندین ، سلطان العلماء سید محمدؒ۔تحفہ کے باب ھفتم کے جواب میں.
۲۸۔ بارقہ ضیغمیہ در موضوع متعہ،سلطان العلماء سید محمد ؒ،باب دھم کی رد میں۔
۲۹۔ طعن الرماح، سلطان العلماء سید محمدؒ، باب دھم کی رد۔ مطبوعہ لکھنؤ۔
۳۰۔تحفہ کے بعض ابواب کی ردّ، سید احمد علی بن سید عنایت حیدر محمد آبادی، (۱۲۰۶ھ۔۱۲۹۵ھ).
۳۱۔عبقات الانوار فی مناقب الائمۃ الاطہار (تحفہ کے جواب میں سب سے مشہور اور سب سے اہم کتاب جس کی کل جلدوں کی تعدا د ۳۰ بیان کی گئی ہے اور ۱۶ جلدیں شائع ہو چکی ہیں) علامہ میر حامد حسین موسویؒ ۔ ( ۱۲۴۶ھ۔۱۳۰۶ھ)
۳۲۔ جواہر عبقریۃ در رد تحفہ اثنا عشریہ  (فارسی)،باب ہفتم، مفتی سید محمد عباس شوشتریؒ (م ۱۳۰۶ھ)۔مطبوعہ لکھنؤ
۳۳ ۔ حدیث ثقلین( رد بحث ثقلین در تحفہ )، حکیم امجد علی خان ابن حکیم ابو علی خان امروہوی (۱۳۱۸ھ، ۱۹۰۰ء)۔
 ۳۴۔ ’’بیان تصحیف المنحۃ الالہیۃ عن النفثۃ الشاطنیۃ‘‘(تین ضخیم جلد یں) شہید مسموم آیۃاللہ العظمیٰ شیخ مہدی بن حسن خالصی کاظمیؒ (۱۲۷۶ھ۔ ۱۳۴۳ھ) ،(عربی تلخیص کا جواب) 
۳۵۔ رسالہ نافعہ در جواب تحفہ اثنا عشریہ، علامہ سید مقرب علی زائر (۱۲۵۹ھ۔ ۱۳۴۵ھ)
۳۶۔ النار الحاطمہ لقاصۃ احراق بیت فاطمہ، سید مقرب علی ابن سید شیر علی نقوی (۱۲۵۹ھ۔ ۱۳۴۵ھ) جگرانوںلدھیانہ، انتشارات مجمع البحرین ترجمہ تشیید المطاعن۔
۳۷۔رد التحفہ ترجمہ نزہہ اثنا عشریہ، مولانا سید محمد حیدر نقوی ؒابن فخرالحکماء مولانا سید علی اظہر(م ۱۳۴۵ه، ۱۹۲۶ء)، مطبوعہ ادارہ اصلاح.
۳۸۔ تحفۃ السنۃ (اردو)،مرزا محمد ہادی رسوا بن میرزا محمد تقی لکھنویؒ(۱۲۷۵ھ۔ ۱۳۵۰ھ)،۱۵ جلدوںمیں۔( خطی نسخہ واعظین کے کتب خانہ میں موجود ہے).
۳۹۔ المرافعات، علامہ سید علی اظہر نقوی کھجوی، بانیٔ ادارۂ اصلاح(۱۳۵۲ھ)
۴۰۔آلوسی والتشیع، آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا فتح اللہ شیخ الشریعۃ اصفہانی اور آقای سید محمد کاظمی قزوینی (۱۳۳۵ھ۔ ۱۴۱۴ھ) ابن آیۃاللہ العظمیٰ سید مھدی قزوینی (۱۲۸۲ھ۔ ۱۳۵۹ھ) ،(عربی تلخیص کا جواب)
۴۱۔ جوہر قرآن(اردو)، علامہ سید علی حیدر نقویؒ ، مدیر اول ماہنامہ اصلاح(۱۳۰۳ھ۔ ۱۳۸۰ھ)،(میاں بیوی کے درمیان مناظرہ کی صورت میں لکھی گئی اس کتاب میں صاحب تحفہ کے اکثر اعتراضات نقل کر کے اس کے  جوابات دئیے ہیں)۔(متعدد مرتبہ ادارہ اصلاح سے شائع ہوچکی ہے اور عنقریب دوبارہ شائع ہونے جارہی ہے۔)
۴۲۔ثمرات، مولانا سید محسن نواب صاحبؒ (۱۳۲۹ھ۔ ۱۳۸۹ھ)۔باب ہفتم کی رد۔ سید محسن نواب صاحبؒ نے خلاصہ عبقات الانوار حدیث مدینۃ العلم بھی تحریر کی ہے۔
۴۳۔جواب تحفہ(باب اول، دوم، چہارم، پنجم، ششم اور باب دھم کا جواب)، افتخارالعلماء مولانا سعادت حسین خان صاحب (۱۳۲۵ھ۔ ۱۴۰۹ھ). یہ کتاب ’’نزہہ اثنا عشریہ ‘‘ کا خلاصہ ہے ، جو خطی ہے اور مرحوم کے نواسے مولانا ظہیر احمد افتخاری صاحب کے پاس موجود ہے۔
۴۴۔  ’’نقض المنحۃالآلوسیۃ‘‘ ،محمد بن طاہر سماوی فضلی نجفی (۱۲۹۲ھ۔ ۱۳۷۱ھ) (عربی تلخیص کا جواب)۔
۴۵۔ رد تحفہ اثنا عشریہ، شیخ الجامعہ علامہ اختر عباسؒ(۱۳۴۱ھ۔ ۱۴۲۰ھ)
۴۶۔جاگیر فدک(تحفہ اور دیگر کتب اہل سنت کے فدک سے متعلق جواب)، علامہ غلام حسین نجفی ؒ ۱۴۲۶ھ۔(اعوان)
۴۷۔ سھم مسموم فی جواب نکاح ام کلثوم(تحفہ اور دیگر کتب اہل سنت کا حضرت ام کلثوم ؑ کے عقد سے متعلق جواب)، غلام حسین نجفی ؒ ۱۴۲۶ھ۔
۴۸۔ھدیۃ السنیۃ( ۲ جلد)، ملک آفتاب حسین مدظلہ(مولف کے مطابق آمادہ چاپ ہے)
۴۹۔ادلہ نقلیہ در ثبوت تقیہ، سید حافظ علی نہٹوری بجنوری لدھیانہ(تقیہ سے متعلق تحفہ کا جواب).
۵۰۔تکمیل قرآن (قرآن و شیعہ سے متعلق تحفہ کا جواب)، سید محمد حسین دہلوی۔
۵۱۔ التمییز بین صواعق الکابلی و تحفہ عبدالعزیز، حکیم سید حسین گریاںؔ زیدی لکھنوی ۔مطبع تصویر عالم لکھنوی ۱۹۷۹۔
۵۲۔ھدیہ اثنا عشریہ ترجمہ نزھۃ اثنا عشریہ جلد نہم ، جناب سید حسین بریلوی(دہلی پریس).
۵۳۔تحفہ منقلبہ،فارسی، جناب سید رضاء الحسن ابن سید باقر علی نقوی، لکھنؤ مطبع احمدی ۱۳۱۳ھ۔
۵۴۔ تحفه سجادیه، مولانا سید سجاد المعروف سید محمد رضوی۔( تحفه كے طعن فدك كا جواب)
۵۵۔ تحفه اثنا عشریه كا معیار تهذیب، مولانا سید علی اختر رضوی گوپالپوری، (م ۲۶ ذی قعدہ ۱۴۲۲ھ)
۵۶۔نفحات الریاحین فی احوال سیدنا خاتم النبیین (اس کتاب کا آخری حصہ تحفہ کی فدک کی بحث کا جواب ہے).
۵۷۔ھدیہ حسینیہ بجواب تحفہ اثنا عشریہ، مولف نامعلوم، اردو ، مطبوع، ( یہ کتاب منشورات کتب خانہ اثنا عشریہ لکھنؤ کی فہرست ،۱۹۰۱ء میں کتاب ارغام المارکین کے آخری صفحہ پر متعارف کرائی گئی ہے۔).
۵۸۔بررسی تناقضات تحفہ اثنا عشریہ۔مولف :نا معلوم۔
آخر میں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ ایک پانچ سو صفحات کی کتاب کے جواب میں ہمارے علماء نے کتنی زیادہ کتابیں لکھیں؟ وہ بھی انتہائی سخت اور دشوار دور میں جس وقت کسی طرح کے وسائل و آسانیاں بھی فراہم نہیں تھیں۔ پہلا سوال یہ ہے، ان کتابوں کی تالیف و تحریر میں علماء کا کتنا وقت صرف ہوا؟ کیا اس کثرت سے جوابات کی ضرورت تھی؟ اور کیوں؟۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آخر یہ تمام کتابیں کہاں ہیں؟ افسوس تو یہی ہے کہ ان میں سے اکثر کتابوں کا اس وقت کوئی پتا نہیں ہے یا تو شائع ہی نہ ہوسکیں یا دوبارہ شائع ہونے کی نوبت نہ آئی۔ 
آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دفاع ولایت کے لئے آگے آئیں اور ان کتابوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کریں تاکہ مصنفیں کی زحمتیں صرف الماریوں کی زینت اور دیمک کی نذر نہ ہوں اور ہم بھی ثواب کے مستحق قرار پاسکیں۔
اور ایک تجویز و گزارش یہ بھی ہے کہ آج تحفہ کی طرح اس کا ایک مکمل و مختصر جواب کم از کم اردو زبان میں منظر عام پر آئے اور ہر جگہ دستیاب ہو۔
قارئین سے یہ بھی گزارش ہے کہ اس سلسلے میں اگر کوئی معلومات ان کے پاس ہوتو ضرور مطلع فرمائیں۔ فقط 
 rrrrr

حضرت زینب سلام اللہ علیہا

حضرت زینب سلام اللہ علیہا
سید محمد حسنین باقری

ثانیٔ زہرا حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے سلسلے میں کتابوں میں مختلف تاریخیں بیان ہوئی ہیںیکم شعبان المعظم،۵؍ جمادی الاولیٰ، ماہ رمضان اور ربیع الثانی کا آخری عشرہ۔ سنہ ولادت بھی ۵اور ۶ہجری بیان ہوا ہے ۔
پدر بزرگوار امیر المومنین حضرت علیؑ مادر گرامی صدیقۂ طاہرہؐ، نانا رسول اسلامؐ،بھائی حسنؑ و حسینؑ یعنی پنجتن کے عصمتی حصار میں پرورش پانے والی ذات گرامی حضرت زینبؑ ہیں۔ پھر یہ عظمت ہی ہے کہ دادا حضرت ابو طالبؑ ، دادی فاطمہ بنت اسدؑ، نانی حضرت خدیجۃ الکبریٰؑ تھیں اور شوہر نامدار جناب عبد اللہ ابن جعفر ابن ابو طالبؑ اولادوں میں علی، عون، عباس ، محمد اور ام کلثومؑ بیان کئے گئے جن میں سے عون اور محمد کربلا میں شہید ہوئے۔ 
القاب: عقیلۂ بنی ہاشم، عقیلۃ الطالبین، صدیقۂ صغریٰ ، عصمت صغریٰ، ولیۃ اللہ ، الراضیۃ بالقدر و القضاء ( قضاء و قدر الٰہی پرراضی رہنے والی )،صابرۃ البلوی من غیر جزعٍ ولا شکوی ( بغیر بے تابی ، اور شکایت کے عظیم مصائب پر صبر کرنے والی) امینۃ اللہ، عالمۂ غیر معلمہ ، فھمہ غیر مفھّمہ ، محبوبۃ المصطفیؐ ، ثانیٔ زہرا، (ریاحین الشریفہ ۳/۴۸)
رسول خدا ؐ نے ولادت کے بعد آپ کا نام زینب رکھا۔ (چودہ ستارے صفحہ ۲۶۶از امام مبین صفحہ ۱۶۴) بروایتے ’زینب‘ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ’بہت زیادہ گریہ کرنے والی‘ کے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ لفظ ’’زین‘‘ اور’’اب‘‘ سے مرکب ہے یعنی ’باپ کی زینت‘ پھر کثرت استعمال سے زینب ہوگیا۔ اس روایت کی روشنی میں اگر غور کیا جائے تو ثانیٔ زہراؑ کی عظمت و مرتبہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طرف مولائے کائناتؑ کی ذات والا صفات اور پھر جو اس ذات کے لئے زینت بنے!!؟
 ثانیٔ زہراؑ کا یہ کردار و عمل ہی تھا جس کی بنیاد پر علیؑ جیسے باپ کے لئے زینت قرار پائیں۔ اب ہر چاہنے والی کو سوچنا ہوگا کہ اس کا کردار اور اس کا عمل کیسا ہونا چاہئے۔ ضروری ہے کہ ہر چاہنے والی کا کردار و عمل ایساہی ہو کہ وہ اپنے دین کے لئے باعث زینت بنے باعث ذلت و رسوائی نہ بنے۔ 
حضرت زینب ؑکے سلسلے میں بعض کتابوں نے ایک جملہ لکھا ’’ان الحسینؑ کان اذا زارتہ زینب یقوم اجلالاً لھاوکان یجلسھا فی مکانہ ‘‘کہ جب شہزادی اپنے بھائی امام حسینؑ کی زیارت کے لئے تشریف لاتیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ 
شیخ جعفر نقدی نے اپنی کتاب ’’زینب الکبریٰ‘‘ میں یحییٰ مازنی سے نقل کیا ہے کہ میں ایک مدت تک مدینہ میں امیر المومنینؑ کا پڑوسی تھا۔ اسی گھر میں ان کی بیٹی جناب زینبؑ بھی تھیں لیکن خدا کی قسم میں نے کبھی نہ ان کے سائے کو دیکھا اور نہ کبھی ان کی آواز سنی۔ اور جب وہ اپنے نانا کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتیں تو رات کی تاریکی میں نکلتیں تھیں۔ امام حسنؑ داہنی طرف ، امام حسینؑ بائیں طرف اور امیر المومنین ؑ آگے آگے ہوتے تھے۔ اور جب قبر مبارک کے نزدیک پہنچتیں تو امیر المومنینؑ آگے بڑھ کر چراغ کو گل فرمادیتے تھے۔ ایک دفعہ امام حسنؑ نے وجہ دریافت کی تو فرمایا: اخشی ان ینظر احد الی شخص اختک زینب  تاکہ تمہاری بہن کے قدو قامت اور پرچھائی پر کسی کی نگاہ نہ پڑ جائے ۔ حضرت زینبؑ نے اپنی چاہنے والیوں کے لئے جہاں ایک طرف حجاب و پردے کا پیغام دیا۔ وہیں سخت مصائب و مشکلات پر صبر اور اپنے فرائض و ذمہ داریوں کی سخت حالات میں بھی ادائیگی کا درس دیا ہے۔ ایسے سخت حالات اور مصائب و مشکلات میں گھر کر بھی حتیٰ کہ نماز شب کو بھی فراموش نہ کرکے عبادت الٰہی بالخصوص نماز کی اہمیت بتائی۔ پھر امیر المومنینؑ کی ظاہر ی خلافت کے دور میں کوفہ میں خواتین کو درس قرآن و احکام دے کر اگر طرف اس کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا تو دوسری طرف یہ بھی ثابت کردیا کہ اولاً عورتوں کے لئے بھی تعلیم ضروری ہے ثانیاً مکمل اسلامی حجاب میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے۔ 
جناب زینبؑ نے کربلا اور اس کے بعد کے تمام مصائب وآلام کو برداشت کرنے کے بعد روز شنبہ اتوار کی رات ۱۴؍ رجب ۶۲ھ؁ کو شام کے ایک باغ میں سر پر ایک شقی کے بیلچہ مارنے کی وجہ سے انتقال کیا۔ آپ کا روضہ شام میں مرجع خلائق ہے۔ ٭٭٭٭٭