اتوار، 3 مئی، 2020

غِیبت gheebat

غِیبت
جن گناہوں کا کبیرہ ہونا عذاب کے اس وعدے سے سمجھا جاتا ہے جو ان کے لیے قرآن مجید اور بہت سی حدیثوں میں کیا گیا ہے ان میں سب سے پہلا ’’غیبت کرنا‘‘ ہے۔ جیسا کہ خدا سورۂ نور میں فرماتا ہے: "دُنیا اور آخرت میں ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے جو ایمان لانے والوں (مومنوں) کی بُری حرکتیں (مثلاً زنا اور دوسری قسم قسم کی بُرائیاں) فاش کرنا پسند کرتے ہیں۔" (سورہ نور آیت ۱۹)
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مومن کے بارے میں وہ سب کچھ کہہ دیتا ہے جو اس کی دونوں آنکھوں نے دیکھا اور دونوں کانوں نے سُنا ہے اس کا شمار ان لوگوں میں ہے جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے: "جو لوگ مومنوں کے متعلق بُری باتیں آشکار ہونا پسند کرتے ہیں ان کے لیے واقعی دردناک عذاب ہے۔"
چنانچہ صحیح کی اس روایت کے مطابق غیبت اس آیت کے حکم میں داخل ہے جس میں اس کے لیے عذاب کا صاف صاف وعدہ کیا گیا ہے۔ سورہ حجرات کی آیت ۱۲ میں کہا گیا ہے: "تم میں سے بعض لوگوں کو دوسروں کی غیبت نہیں کرنا چاہیئے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ تم اسے ضرور بُرا سمجھو گے۔"
اس آیت میں چند امکانات ہیں: ایک یہ کہ غیبت کرنے والے پر آخرت میں جو عذاب ہو گا اس کا بیان ہے اور وہ اس طرح کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے غیبت آخرت میں اس کا مردہ گوشت کھانے کی صورت میں مجسم ہو جائے گی اور اس امکان کی تائید بھی پیغمبر اکرم ﷺ کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ: میں نے معراج کی شب میں کچھ لوگوں کو جہنم میں دیکھا کہ وہ مردار کھا رہے تھے۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا: "یہ کون لوگ ہیں؟" تو انہوں نے جواب دیا:" یہ وہ لوگ ہیں جو دُنیا میں لوگوں کا گوشت کھاتے تھے ۔" (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۲) یعنی لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ اسی سے ایک حکم میں داخل ہونا مراد ہو یعنی شریعت کے حکم کے مطابق غیبت کرنا اس شخص کا مردار گوشت کھانے کے برابر ہو جس کی غیبت کی گئی ہے
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:"تمہارا اپنے مومن بھائی کی غیبت کرنا مردار کھانے سے بھی بڑا حرام ہے۔" (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۲) ان دونوں امکانات کے پیشِ نظر آیت سے ظاہر ہے کہ غیبت گناہِ کبیرہ ہے۔
سورہ ہمزہ میں کہا گیا ہے: "ویل لکل ھمزہ لمزة" تفسیر مجمع البیان میں لکھا ہے: یہ جملہ خدا کی طرف سے ہر غیبت کرنے والے اور اس چغل خور کے لیے عذاب کا وعدہ ہے جو دوستوں میں تفرقہ ڈالتا ہے۔
بعضوں نے کہا کہ ہمزہ طعنہ دینے والے اور لمزہ غیبت کرنے والا ہے اور بعضوں نے اس کے بالکل برعکس کہا ہے اور بعضوں نے کہا کہ ہمزہ اسے کہتے ہیں کہ جو سامنے بُرائی کرتا ہے اور لمزہ وہ ہے جو کسی کی پیٹھ پیچھے غیبت کرتا ہے۔
ویل بھی جہنم کا ایک درجہ ہے یا اس کا ایک کنواں ہے اور سخت عذاب کے معنوں میں بھی استعمال ہو اہے اس لیے غیبت وہ گناہ ہے جس کے لیے قرآن مجید میں کتنے ہی مقامات پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ گناہِ کبیرہ ہے۔
غیبت اور اہل بیت (علیھم السلام) کی روایات
جن روایتوں میں غیبت کرنے پر عذاب کے وعدے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہت ہیں بلکہ متواتر ہیں یہاں صرف وہ بیان کی جاتی ہیں جو شیخ انصاری علیہ الرحمہ نے مکاسب محر ّمہ میں لکھی ہیں۔
رسول خداﷺ سے روایت ہے کہ غیبت کا گناہ زنا سے بھی بدتر ہے کیونکہ زنا کرنے والا اگر توبہ کر لیتا ہے تو خدا اسے بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو نہیں بخشتا جب تک کہ وہ شخص جس کی اس نے غیبت کی ہے اسے معاف نہیں کر دیتا۔ (مکاسب)
ایک دن آنحضرت نے اپنے خطبے کے بیچ میں سود کے گناہ کی شدت بیان کی اور فرمایا کہ سود کے ایک درہم کا گناہ چھتیس بار زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ پھر فرمایا "بلاشبہ سود کھانے کا بدترین درجہ مسلمان کی آبروریزی اور اس کی بے عزتی ہے۔" ان دونوں حدیثوں کی رو سے غیبت کا گناہ کبیرہ ہونا اس اعتبار سے بھی ثابت ہے کہ وہ زنا اور سود سے بھی بدتر ہے ۔
آپؐ یہ بھی فرماتے ہیں "جو کسی مومن کی غیبت کرتا ہے اور وہی بُرائی بیان کرتا ہے جو اس میں موجود ہے پھر بھی خدا اس شخص کو اور اس مومن کو بہشت میں اکٹھا نہیں کرے گا اور جو شخص مومن کے پیٹھ پیچھے اس کی وہ بُرائی بیان کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے تو دونوں میں جو دین کی پاکیزگی ہے وہ پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ پھر غیبت کرنے والا اس مومن سے الگ ہو جائے گا اور ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جہنم بُری جگہ ہے۔" (مکاسب)
جو شخص لوگوں کی غیبت کر کے ان کا گوشت کھاتا ہے اگر اس نے یہ سوچا کہ وہ حلال زادہ ہے تو غلط سوچا۔ غیبت سے بچو کیونکہ یہ دوزخ کے کتوں کی غذا ہے۔ (مکاسب)
جو اپنے دینی بھائی کی غیبت کرنے کے لیے اور اس کا چھپا ہوا عیب فاش کرنے کے لیے سفر کرے گا وہ جو پہلا قدم اُٹھائے گا وہ اسے دوزخ میں پہنچا دے گا۔(مکاسب)
روایت ہے کہ غیبت کرنے والا اگر توبہ بھی کرے گا تو وہ آخری شخص ہو گا جو بہشت میں پہنچے گا اور جو توبہ کیے بغیر ہی مر جائے گا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو دوزخ میں جائے گا۔ (مکاسب)
شہیدِ ثانی حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) اور پیغمبر اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ کفر کے سب سے زیادہ قریب حالت یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے ایک لفظ سنتا ہے اور اسے اس لیے روک لیتا ہے کہ اس بات سے رسوا کرے ایسے شخص کو آخرت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ (کشف الربیہ، شہید ثانی)
اس سے ملتے جلتے مضمون کی چند روایتیں اصولِ کافی میں نقل کی گئی ہیں:
پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: "غیبت کرنا کوڑھ کی بیماری سے زیادہ تیزی کے ساتھ ایک شخص کے دین پر اثر کرتا اور اسے اس کے دل سے ختم کر دیتا ہے ۔"(اصول کافی )
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :"غیبت کرنا ہر مسلمان کے لیے حرام ہے اس میں شک نہیں ہے کہ غیبت نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے اور ختم کر ڈالتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا کر ختم کر دیتی ہے۔" (اصولِ کافی)
شیخؒ فرماتے ہیں :غیبت کے نیکیوں کو کھا جانے والے جملے سے مراد یہ ہے کہ غیبت ان تمام نیک کاموں کو جو کیے گئے ہیں باطل کر دیتی ہے یا یہ مراد ہے کہ اس کے پچھلے ثوابوں سے اس کی سزائیں زیادہ ہو جاتی ہیں یا یہ کہ غیبت کرنے والے کی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج ہو جاتی ہیں جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ چنانچہ یہ بات کئی حدیثوں میں آئی ہے۔ مثلاً رسول خدا سے روایت ہے کہ ایک بندے کو قیامت میں حساب کتاب کے مقام پر لائیں گے اور اس کا اعمال نامہ اسے دیں گے۔ جب وہ اس میں وہ نیک کام جو اس نے دُنیا میں کیے تھے نہیں پائے گا تو کہے گا: "اے خدا! یہ اعمال نامہ تو میرا نہیں ہے کیونکہ مجھے اس میں اپنی نیکیاں نہیں ملتیں؟" تب اس سے کہا جائے گا "تیرا خدا نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔ تیری نیکیاں لوگوں کی تیرے غیبت کرنے کی وجہ سے مٹ گئیں۔" پھر دوسرے بندے کو لائیں گے اور اس کا اعمال نامہ اسے دیں گے۔ وہ اس میں وہ نیکیاں بھی دیکھے گا جو اس نے نہیں کی ہیں تو وہ کہے گا: "اے خدا! یہ نامہ اعمال میرا نہیں ہے کیونکہ اس میں جو یہ سب نیکیاں درج ہیں میں نے انجام نہیں دی ہیں؟۔" اس سے کہا جائے گا: "یہ فلاں شخص کی نیکیاں ہیں جس نے تیری غیبت کی تھی۔ اس کے بدلے میں اس کی نیکیاں تجھے بخش دی گئی ہیں۔"
شیخؒ مذکورہ روایتیں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "ان حدیثوں سے ظاہر ہے کہ غیبت گناہِ کبیرہ ہے جیسا کہ بعض فقہاء نے فرمایا ہے بلکہ سخت ترین گناہِ کبیرہ (سود اور زنا سے بھی بڑھ کر) ہے جیسا کہ مذکورہ روایتوں میں صراحت کی گئی ہے۔"
خیانت بھی ان کبیرہ گناہوں میں شامل ہے جن کی صراحت نص میں کی گئی ہے۔ اور غیبت کو خیانت کی ایک قسم بھی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اپنے دینی بھائی کا گوشت کھانے سے بڑھ کر جب کہ وہ بے خبر اور غافل ہو اور کونسی خیانت ہو سکتی ہے اس سے بڑھ کر اور کونسی خیانت ہو سکتی ہے جو اس کا بھید کھولتی اور اس کا عیب ظاہر کر دیتی ہے۔
جاننا چاہیئے کہ غیبت کا حرام ہونا صرف مومن سے مخصوص ہے یعنی اس شخص سے جو صحیح عقیدہ رکھتا ہو جن میں آئمہ اثنا عشر (علیھم السلام) کی امامت کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ اس لحاظ سے اس عقیدے کے مخالفین کی غیبت حرام نہیں۔ پھر بھی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کے تمام فرقوں کی غیبت ترک کر دینا چاہیئے خصوصاً ان لوگوں کی جو حق کے دشمن نہ ہوں اور صحیح عقیدہ ترک نہ کر چکے ہوں۔
یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ غیبت کا حرام ہونا صرف بالغ مومن سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ نابالغ بچے سے غیبت کرنا بھی حرام ہے جو غیبت سن کر متاثر اور دُکھی ہوتا ہے اور بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ مومن بچّوں سے غیبت کرنا بالکل حرام ہے۔ چاہے وہ بالغ ہوں چاہے نابالغ۔
غیبت کے معنی اور اس کے مواقع
رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں: "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے دینی بھائی کی کسی بُری یا کریہہ بات کا ذکر کرو۔" (مکاسب) اور حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "غیبت یہ ہے کہ تُم اپنے دینی بھائی کا وہ عیب بیان کرو جسے خدا نے چھپا رکھا ہے۔" (مکاسب) اور حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو کوئی کسی غیر حاضر شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اس میں موجود ہے اور لوگ بھی اس سے واقف ہیں تو وہ غیبت نہیں ہے۔ البتہ اگر ایسی بات کہے جو اس میں موجود ہے لیکن لوگ نہیں جانتے تو گویا اس نے اس کی غیبت کی اور اگر کوئی ایسی بات کہے جو اس میں ہے ہی نہیں تو پھر اس نے اس پر بہتان باندھا ہے۔" (مکاسب)
ان دوسری دو روایتوں کے بموجب جب کوئی بات کسی مومن کے بارے میں کہی جاتی ہے اور وہ اس کا ایسا عیب ہے جو سُننے والے اور دوسرے لوگوں سے پوشیدہ نہیں ہے تو غیبت میں اس کا شمار نہیں ہوتا چاہے وہ مومن کی بُرائی، ملامت، تکلیف دہی اور توہین میں شمار نہیں ہوتا چاہے وہ مومن کی بُرائی، ملامت، تکلیف دہی اور توہین میں شمار ہو اور ان عنوانات کے تحت حرام ہو جیسا کہ ذکر کیا جاتا ہے۔
شیخؒ نے اہل لغت کے کلمات، غیبت کے معنی سے متعلق روایات اور معنی کی تحقیقات نقل کرنے کے بعد کچھ بیانات دئیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ غیبت کے اطلاق کی تین قسمیں ہیں: غیبت ہونا مسلّم ہو یا غیبت ہونا ظاہر ہو یا اس کا غیبت ہونا ظاہر نہ ہو۔
پہلی قسم وہ موقع جب کہ وہ قطعی غیبت ہوتی ہے ایک ایسی بات کا ذکر کرنا ہے جو کسی شخص سے منسوب اس کا کوئی شرعی یا مشہور عام نقص ہو اور وہ بھی سننے والے سے اس طرح چھپا ہو کہ جس کی غیبت کی جائے وہ اس کے کھل جانے پر رضامند نہ ہو اور غیبت کرنے والا بھی اسے ذلیل کرنے اور اس میں عیب نکالنے پر تلا ہوا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی کسی مومن کو گھٹانے کے لیے اس کی پوشیدہ بُرائی بیان کرے تو وہ بلاشبہ غیبت اور گناہِ کبیرہ ہے۔
دوسری قسم جو بظاہر غیبت کا مصداق ہے دوسرے کا چھپا ہوا عیب بیان کرنا ہے لیکن اس کی مذمت کرنے، اس میں عیب نکالنے اور اُسے گرانے کے لیے نہیں بلکہ کسی اور غرض سے مثلاً تفریح کے لیے یا دلیل اور ثبوت دینے کے لیے یا ہمدردی کی خاطر دوسرے کا چھپا ہوا عیب بیان کرے تو بھی اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور روایتیں بھی ظاہر کرتی ہیں کہ یہ بھی غیبت کا مصداق ہے اور اسی ذیل میں آتا ہے۔
تیسری قسم ایک شخص کا عیب کسی ایسے آدمی کے سامنے بیان کرنا ہے جو اسے جانتا ہے بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ غیبت کے دائرے سے خارج ہے اگرچہ کچھ روایتوں سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ یہ بھی غیبت ہے۔
ایسی صورت میں جب کہ کہنے والا دوسرے کو ملامت کرتا اور اس کی مذمت کرتا ہے قطعی حرام ہے چاہے اس کا غیبت میں شمار ہونا مشکوک ہو کیونکہ اس قسم کا بیان مومن کی دل آزاری اور توہین کا سبب ہوتا ہے اور اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
اگر مذمت اور توہین کی نیّت نہیں ہے اور مجبوراً مذمت ہو جاتی ہے مثلاً کسی شخص کی ماں بدکردار تھی تو یہ تذکرہ کرنا بھی حرام ہے۔ چنانچہ سورہ حجرات میں دوسروں کے بارے میں نام رکھنے سے صاف صاف منع کیا گیا ہے۔ (آیت ۱۰)
غیبت کی قسمیں
واضح روایتیں اور فقہاء کے اقوال یہ ہیں کہ کسی کا عیب یا نقص بیان کرنے میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ نقص جسم کا ہے یا خاندان کا یا عادتوں کا، گفتگو کا ہے یا عمل کا، دین کے متعلق ہے یا دُنیا کے متعلق یا خاص اس انسان سے متعلق ہے مثلاً لباس، گھر، سواری وغیرہ کا عیب ہے اور بعض نے ہر ایک کی مثالیں بھی بیان کر دی ہیں۔ مثلاً جسم سے متعلق غیبت یہ ہے کہ کوئی کہے کہ فلاں اعمش ہے (جس کی آنکھیں ہمیشہ ڈبڈبائی رہتی ہیں) یا احول (بھینگا) ہے یا اعور (ایک آنکھ کا یعنی کانا) ہے اقرع (گنجا) ہے یا بونا، لمبا، کالا یا پتلا وغیرہ ہے یعنی اس کی ایسی خصوصیات بیان کرے جن کو سن کر وہ ناخوش اور آزردہ ہو جائے۔
غیبت گالی بھی ہوتی ہے مثلاً کوئی کہے کہ فلاں کا باپ بدکار یا بدذات یا کنجوس تھا یا اوباش وغیرہ تھا اور اخلاق کی غیبت یہ ہوتی ہے جیسے کہے کہ فلاں بداخلاق، کنجوس، مغرور یا ڈرپوک یا کمزور اور منافق یا چور اور ظالم ہے۔
دین سے متعلق کاموں کی غیبت یہ ہوتی ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں شخص جھوٹا یا شرابی یا نماز میں سست ہے۔ دُنیاوی کاموں کی غیبت یہ ہے جیسے کوئی کہے فلاں بے ادب ہے، ناشکرا ہے، اپنی اوقات نہیں پہچانتا، بکواسی یا پیٹو یا بہت سونے والا ہے۔ لباس کے متعلق مثلاً کوئی کہے کہ اس کا لباس میلا، پھٹا، پرانا، ڈھیلا ڈھالا، اٹنگا ہے۔ ایسے ہی اس کے متعلق دوسری باتوں میں بھی اگر اسے بُرائی سے اس طرح یاد کیا جائے کہ اسے اچھا نہ لگے بلکہ اس کی دل آزاری ہو تو یہ غیبت ہو گی۔
جاننا چاہیئے کہ غیبت میں کوئی فرق نہیں ہے خواہ دوسرے کا عیب زبان سے کھولا جائے یا عمل سے یا اشارے سے صاف صاف کہا جائے یا ایسے کنائے سے جو سمجھ میں آجائے۔ کبھی کبھی کنائے سے غیبت اور بھی بُری ہوتی ہے جیسے یہ کہا جائے الحمد للہ کہ خدا نے ہمیں حکومت کی ہوس یا ظالموں کی ہم نشینی یا دولت کا لالچ نہیں دیا یا یہ کہا جائے حرص یا کنجوسی یا بے شرمی سے خدا کی پناہ، خدا ہمیں شیطان کی بُرائی سے بچائے اور ان باتوں سے کنایہ اس شخص کی طرف ہو جو ان کاموں کا مرتکب ہوا ہے۔
اکثر ہوتا ہے کہ بعض دھوکے باز جب کسی کی غیبت کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تعریف سے شروع کرتے ہیں کہ فلاں کتنا اچھا آدمی ہے لیکن افسوس ہے کہ شیطان کے چکر میں آ گیا اور اب یوں ہو گیا ہے۔ کبھی منافقت سے دوسرے کے لیے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں کہ افسوس مجھے کتنا صدمہ ہوا اور فلانے کے لیے میرا دل کتنا کڑھا جب اس سے یہ فعل سرزد ہوا۔ اگر سچ مچ کا دوست ہوتا اور اس کا غم کھاتا تو کبھی اس کا راز فاش نہ کرتا اور اس کی بُرائی نہ کرتا۔
ایک غیر معین شخص کی غیبت
غیبت اس صورت میں ہوتی ہے جبکہ کسی مخصوص شخص کی ہو اور اگر کسی ایسے شخص کی غیبت ہو جس کا نام ونشان نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے مثلاً کوئی کہے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ایسا تھا اور ایسا تھا۔ البتہ جب چند لوگوں میں سے ایک غیر معین شخص کی غیبت کرے کہ فلاں شخص کا ایک بیٹا ایسا ہے تو یہ حرام ہے کیونکہ اس طرح کہنے والے نے ان سب کو تکلیف دی اور آزار پہنچایا ہے اور اگر زیادہ لوگوں میں سے صرف ایک شخص کی غیبت کرے مثلاً کہے کہ ایک اصفہانی یا شیرازی ایسا اور ویسا تھا تو یہ جائز ہے اور اگر یہ بھی کہے کہ بعض اصفہانیوں یا شیرازیوں میں فلاں عیب ہوتا ہے تو بھی جائز ہے لیکن یہ کہے کہ تمام شیرازیوں یا اصفہانیوں میں فلاں عیب ہوتا ہے تو اس میں شک نہیں ہے کہ یہ حرام ہے کیونکہ اس صورت میں اس شہر کے تمام باسیوں کی توہین ہوتی ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں شہر کے اکثر لوگوں میں یہ عیب پایا جاتا ہے تو یہ بات اختیار کے خلاف یعنی غیر محتاج بلکہ اس کے حرام ہونے میں زیادہ قوت اور امکان ہے۔(جاری)
غیبت کا کفارہ اور توبہ
چونکہ غیبت کرنا گناہِ کبیرہ ہے اس لیے اگر کسی نے ایسا کیا تو اس پر واجب ہے کہ فوراً اپنے کہے پر شرمندہ ہو کیونکہ اس نے اپنے پروردگار کی مخالفت کی اور دل سے شرمندہ ہونے کے بعد زبان سے استغفار بھی کرے اور نیّت کرے کہ پھر ایسا گناہ نہیں کرے گا۔ چونکہ بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کا غیبت کرنے والے پر حق پیدا ہو جاتا ہے اس لیے ممکن ہو تو اس سے معافی مانگ لے اور اپنے آپ سے راضی کر لے اور جس طرح اس نے اس کی غیبت کی ہے اس کے مقابلے میں اسے نیکی سے یاد کرے تو بہتر ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے وہ مر چکا ہے یا اس کی پہنچ سے باہر ہے یا اس سے معافی مانگنے سے اس کے دُور ہو جانے کا اندیشہ ہو مثلاً وہ غیبت کی باتوں سے بے خبر ہے اور ان کے سُننے سے ناخوش ہو جائے گا اور معافی مانگنے کی غرض پوری نہیں ہو سکے گی تو ایسے موقع پر اس کی مغفرت کی دعا کرنا چاہیئے اور خدا سے عرض کرنا چاہیئے کہ اے پروردگار! اس شخص کو راضی اور خوش کر دے جیسا کہ صحیفہ سجادیہ کی دعا ۳۹ میں اور پیر کے دن کی دعا میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔
غیبت کے جائز ہونے کے مواقع
فقہاء نے بعض موقعوں پر غیبت کرنے کو جائز سمجھا ہے۔ یہاں شیخؒ نے جو کچھ مکاسب میں فرمایا ہے اسی پر اکتفا کی جاتی ہے:
( ۱) اس شخص کی غیبت کرنا جس کا گناہ پوشیدہ نہیں ظاہر ہو۔ مثلاً کوچہ وبازار میں ہاتھ میں شراب کا پیالہ لیے کھلم کھلا پیتا پھرے۔ چنانچہ روایت میں ہے :"جب کوئی گناہگار کھلم کھلا گناہ کرتا ہے اور کسی کا لحاظ نہیں کرتا تو اس کی غیبت حرام نہیں ہے۔" اسی طرح جس نے شرم اور لحاظ ختم کر دیا یعنی لوگوں کے سامنے جو گناہ کرنے میں نہیں شرمایا اس کی غیبت نہیں ہوتی یعنی اس کی غیبت کرنا حرام نہیں ہے۔ (مکاسب)
جاننا چاہیئے کہ غیبت اس گناہ کے سبب سے جائز ہو جاتی ہے جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ جو گناہ پردے میں کیے جاتے ہیں ان کے باعث بھی غیبت جائز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگرچہ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر کھلا ہوا گناہ چھپے ہوئے گناہ سے زیادہ سخت ہو تو اس کے ذکر میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن احتیاط اسے ترک کر دینے میں ہی ہے۔
یہ بھی معلوم ہو جانا چاہیئے کہ کھلم کھلا گناہ کرنے والے کی غیبت اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس نے خود اپنے گناہ کا اقرار کیا ہو لیکن اگر وہ اپنے عمل کا کوئی صحیح عذر پیش کرے تو اس کی غیبت جائز نہیں ہے۔ مثلاً شراب کو دَوا کے طور پر اور بیماری کے علاج کی غرض سے پینے کا عذر کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں ایسے شخص کی تقلید میں ہوں جو شراب کو اس صورت میں جائز جانتا ہے یا مثلاً رمضان کے مہینے میں کھانا کھانے کے لیے یہ عذر پیش کرتا ہے کہ میں مریض یا مسافر ہوں یا دوسرے قابلِ قبول عذر رکھتا ہے اور مثلاً ایسا شخص جو گناہ کرتا ہے تو اپنے عمل کے لیے کوئی عذر گھڑ لیتا ہے بشرطیکہ اس عذر میں بظاہر کوئی نقصان یا خرابی نہ ہو اور احتیاط اس شخص کی غیبت ترک کرنے میں بھی ہے جو کسی انجان شہر یا اجنبی محلے میں وہ گناہ کھلم کھلا کرتا ہے۔
( ۲) مظلوم اگر اپنے آپ پر کیے ہوئے ظالم کا ظلم بیان کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے یہ غیبت نہیں ہے جیسا کہ خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے :" جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد ظالم سے انتقام لیتا ہے اور جو ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں ان پر کوئی سختی یا ناخوشی نہیں ہے۔" (ظالموں سے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے )۔ دراصل گناہ اور عذاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور کسی سبب اور دلیل کے بغیر حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ انہیں لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔" (سورہ شوریٰ آیت ۳۹)
خداوند عالم سورہ نساء میں فرماتا ہے:" خدا مظلوم کے علاوہ اور کسی کا کھلم کھلا بُری باتیں کرنا پسند نہیں کرتا۔" (آیت ۱۴۸)
احتیاط اس میں ہے کہ مظلومیت کا اظہار اس شخص کے سامنے کرے جس سے اسے داد خواہی یعنی انصاف کی اُمید ہو اور اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس شخص سے انصاف نہیں ہو گا یا یہ انصاف نہیں کرے گا تو اس سے ظالم کی شکایت نہ کرے اور اس کے ظلم کا ذکر بھی نہ کرے۔
( ۳) مشورہ طلب کرنے والے کو نصیحت: جب کوئی مسلمان کسی ایسے معاملے میں جو کسی مخصوص شخص کے ساتھ کرنا چاہتا ہے کسی سے مشورہ کرتا ہے اور جس سے مشورہ کیا جاتا ہے اور وہ اس مخصوص شخص کا کوئی ایسا عیب جانتا ہے جو اگر بیان نہیں کرتا تو معاملہ مکمل ہو جاتا ہے اور وہ مسلمان پریشانی میں پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ درحقیقت اس کو یہ عیب نہ بتانا نقصان میں پھنسانے اور اس کے ساتھ خیانت کرنے کے مترادف ہے۔ تو اس صورت میں اس شخص کا عیب بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جاننا چاہیئے کہ اس مسئلے میں احتیاطاً دو باتوں کا لحاظ رکھنا ہے ایک یہ کہ ایسی صورت میں اس شخص کا عیب بیان کرے جب نہ کہنے سے نقصان زیادہ ہو اور اگر اس کے برعکس ہو یعنی مشورہ کرنے والے کا نقصان سے زیادہ اس شخص کی بے آبروئی اور بے عزّتی کا نقصان ہو جس کا عیب بیان کیا جاتا ہے تو لازم ہے کہ اس کا عیب بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس شخص کے عیب کا ذکر کرنا اس وقت جائز ہے جب اس معاملے سے پیدا ہونے والی خرابی روکنے کے لیے اس عیب کا ذکر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہ ہو۔ اگر اس عیب کا ذکر کیے بغیر ہی کام چل جائے مثلاً اتنا ہی کہے کہ اس معاملے میں مجھے اس کی صلاحیت کا علم نہیں ہے اور وہ (مشورہ کرنے والا) اسی کو مان لیتا ہے تو پھر اسی پر اکتفا کرنا چاہیئے۔
( ۴) نہی از منکر کی نیّت سے جب کہ اس کی تمام شرطیں پوری ہوتی ہوں غیبت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یعنی جب کسی مسلمان کا کوئی بُرا فعل دیکھے اور یہ سمجھے کہ اگر وہ اس کی غیبت کرتا ہے تو وہ اس کام کو ترک کر دے گا غیبت جائز ہے۔ لیکن اس صورت میں جب کہ اس کے بُرے فعل پر اس شخص کا اصرار جانتا ہے البتہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس نے ترک کر دیا ہے تو اس کا ذکر جائز نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلے قضیئے کے مانند غیبت کرنے کی خرابی اور اس بُرے فعل کی خرابی کا موازنہ کر لینا چاہیئے۔ اگر اس مسلمان کی بے عزتی کا نقصان اس بُرے فعل کے نقصان سے زیادہ ہے جس میں وہ مشغول ہے تو اس کی غیبت کرنا جائز نہیں ہے چاہے اسے اس بات کا یقین ہی ہو کہ غیبت کرنے سے وہ شخص اس گناہ کو ترک کر دے گا۔
اس بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کا گناہ دیکھو تو اس کے صحیح ہونے ہی کا گمان کرو اور اگر اس کا گناہ ہونا قطعی نظر آئے اور اسے صحیح سمجھا ہی نہ جا سکے تو ایسی صورت میں جبکہ اس مسلمان نے وہ گناہ ترک کر دیا ہو اور اسے نہ دُہرایا ہو اس کے اس گناہ کا ذِکر کرنا حرام ہے اور اسی طرح اسے منع کرنا یا ملامت کرنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ نہی از منکر کا مقصد ترکِ گناہ ہوتا ہے اور جب کسی نے خود ہی گناہ ترک کر دیا ہو تو پھر اسے منع کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور اگر اس نے گناہ ترک نہیں کیا بلکہ اس پر اصرار کرتا ہے تو اس صورت میں چھپے ہوئے گناہ کو دوسرے کے سامنے کھولنا اور بیان کرنا حرام ہے۔ اسے نہی از منکر کی تمام شرطوں کے ساتھ گناہ سے روکنا چاہیئے اور اگر نہ رُکے اور یہ سمجھ میں آئے کہ اس کا گناہ دوسروں سے بیان کرنے پر یہ اسے ترک کر دے گا تو اس صورت میں اس کا گناہ بیان کرنا جائز ہے لیکن شرط یہی ہے کہ گناہ کا ترک کرنا اس مسلمان کی آبرریزی اور رسوائی سے زیادہ اہم ہو۔
جو کچھ یہاں کہا گیا ہے اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ نہی از منکر کی خاطر مسلمان کی غیبت اسی صورت میں جائز ہے جب وہ مسلمان اس گناہ پر اصرار کرتا ہو اور صرف منع کرنے سے باز نہ آتا ہو اور اس گناہ کا نقصان اس کی آبروریزی اور رسوائی سے زیادہ ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اگر اس کی غبیت کی جائے گی تو وہ اس گناہ کو ترک کر دے گا۔ اگر ان چاروں شرطوں میں سے ایک بھی کم ہوئی تو اس کی غیبت کرنا حرام ہے
( ۵) ایسے شخص کا عیب کھولنا اور اس کی غیبت کرنا جو خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے اور خدا کے دین میں بدعت کو رواج دینے والا ہے تو اس خیال سے کہ لوگ اس سے دھوکا نہ کھائیں اور اس کے جال میں نہ پھنسیں۔
( ۶) جس گناہگار نے کوئی روایت بیان کی ہو یا کسی بات کی گواہی دی ہو اس نیت سے اس کی غیبت کرنا کہ لوگ اس کے گناہ سے واقف ہو جائیں او اس کی بات کا اثر قبول نہ کریں۔
( ۷) کسی کا ایسے عیب اور نقص سے ذکر کرنا جس سے وہ مشہور ومعروف ہو جیسے اعمش (جس کی بینائی کمزور ہو اور آنکھیں برابر ڈبڈبائی رہتی ہوں)، بھینگا، لنگڑا وغیرہ لیکن اس طرح کہ اس کا عیب بیان کرنا مقصود نہ ہو بلکہ اسے صرف پہچنوانا منظور ہو اور وہ شخص بھی ان القاب (ناموں) سے ناراض نہ ہو ورنہ ان سے پرہیز کر کے کسی دوسری طرح اسے صرف پہچنواناچاہیئے ۔
( ۸) کسی ایسے شخص کی تردید (کاٹ) کرنا جو کسی خاندان سے یا نسل سے اپنے تعلق کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہو کیونکہ نسلوں اور خاندانوں کی حفاظت کا خیال دعوے دار کی بے عزت کے نقصان پر مقدم ہے۔
( ۹) کتاب کشف الریبہ میں بعض فقہاء سے نقل کیا گیا ہے جب دو آدمی کسی شخص کا گناہ دیکھیں اور اس کی غیر حاضر میں ایک دوسرے سے بیان کریں تو یہ جائز ہے کیونکہ کہنے والا سُننے والے سے کوئی ایسی بات نہیں کہتا جو سُننے والے کی نظر سے چھپی ہوئی ہو بلکہ جو بات اس نے خود بھی دیکھی ہے وہی دُہراتا ہے اور شہید نے فرمایا ہے کہ ایسی بات چیت ترک کرنا خاص طور پر اس صورت میں بہتر ہے جب کہ یہ خیال ہو کہ سُننے والا اسے بھول چکا ہے یا یہ اندیشہ ہو کہ اصل واقعہ مشہور نہ ہو جائے۔
شیخ انصاری فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کا اس گناہ کا ایک دوسرے سے بیان کرنا اگر اس شخص کی ملامت اور عیب جوئی کی خاطر ہو تو حرام ہے ورنہ جائز ہے۔
( ۱۰) کلیہ یہ ہے کہ جس موقع پر کسی مومن کی غیبت کرنے میں اس کی رسوائی کے نقصان سے زیادہ فائدہ ہو جیسے اپنے معاملات میں گواہی دینا تو غیبت جائز ہے۔(جاری)
غیبت سُننا بھی حرام ہے
جس طرح غیبت کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اسی طرح غیبت سُننا بھی تمام فقہاء کے نزدیک یکسر حرام ہے اور پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: " غیبت سُننے والا غیبت کرنے والے کے برابر ہے اور غیبت پر کان دھرنے والا غیبت کرنے والوں میں سے ہے۔" (مستدرک الوسائل کتاب حج باب ۱۳۶) اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "کسی مسلمان کی غیبت کرنا کفر کے برابر ہے اور غیبت سننا اور اس سے خوش ہونا شرک کے برابر ہے۔"(کشف الریبہ)
ان روایتوں کو دیکھنے کے بعد جو مومن کی شان میں آئی ہیں، اس کے احترام کو کعبے سے بھی زیادہ اور اس کی آبروریزی کو اس کا خون بہانے کے برابر جانتی اور اس کا راز کھولنے کو دردناک عذاب کا سبب شمار کرتی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیبت کا سب سے بڑا رکن اور مومن کی توہین کا سبب سُننے والا شخص ہوتا ہے کیونکہ اگر سُننے والا نہ ہو یا نہ سُنے تو غیبت نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جب یہ دیکھے کہ کوئی شخص کسی مومن کا عیب بیان کر رہا ہے تو اسے نہ سنے بلکہ اس کی کاٹ کرے اور اس مومن کی حمایت کرے۔
رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیں: "جس کسی کے سامنے اس کے دینی بھائی کی غیبت ہو رہی ہو اور وہ حتی الامکان اس کی حمایت کرتا ہے تو خدا دُنیا اور آخرت میں اس کی، مدد فرمائے گا اور اگر اس نے امکان اور سکت کے باوجود اس کی حمایت نہیں کی تو خدا بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دے گا اور دُنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا۔" (المجالس)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جو کوئی اپنے دینی بھائی کے ساتھ اس کی اس غیبت کے سلسلے میں جو کسی صحبت میں ہوتی ہے اس طرح نیکی کرتا ہے کہ اس غیبت کی تردید کرتا ہے تو خدا دُنیا اور آخرت کی ہزاروں قسم کی بُرائیاں اس سے دُور کر دے گا اور اگر وہ شخص امکان اور سکت کے باوجود غیبت کی تردید نہیں کرے گا تو اس کے گناہ غیبت کرنے والے کے گناہ سے ستر گنا زیادہ ہو جائیں گے۔"
شیخ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس غیبت سُننے والے کے گناہ جس نے غیبت سن کر اس کی کاٹ نہیں کی خود غیبت کرنے والے سے بڑھ جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی یہ خاموشی یا پہلو تہی مومن اور دوسروں کی غیبت کرنے کی لوگوں کو جرأت دلاتی ہے۔
غیبت کی کاٹ نہ کرنا، غیبت سے نہ روکنا، اور غیبت سُن کر خاموش رہنا غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
پس اگر کوئی دُنیاوی عیب ہو تو کہے کہ یہ عیب نہیں ہے بلکہ عیب وہ باتیں ہیں جنہیں خدا نے عیب قرار دیا ہے اور جن سے منع فرمایا ہے یعنی گناہ اور اس میں اپنے بھائی سے ایسی بات منسوب کرنا بھی شامل ہے جس کو خدا نے عیب نہیں جانا ہے یعنی تیرا غیبت کرنا عیب ہے اور اگر وہ دینی عیب ہو مثلاً اگر کوئی مومن کا کوئی گناہ بیان کرتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی صحیح صحیح وجہ بیان کرے یعنی اس کی صحیح توجیہ کرے اور اگر صحیح توجیہ ممکن نہ ہو تو کہے کہ مومن معصوم نہیں ہوتا اس سے گناہ سرزد ہونا ممکن ہے اس لیے اس کی مغفرت کی دعا کرنا چاہیئے اسے ملامت یا رُسوا نہیں کرنا چاہیئے۔ ممکن ہے تیری ملامت اور تنبیہ اس مومن کے گناہ سے زیادہ ہو۔
غیبت کی کاٹ کے مستثنٰی موقعے
جاننا چاہیئے کہ اس صورت میں غیبت سُننا حرام اور اس کی کاٹ اور مومن کی حمایت واجب ہے جبکہ ان دس موقعوں میں سے کوئی موقع پیش نہ آئے جن پر غیبت کے جائز ہونے کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس لیے غیبت کی تین قسمیں ہو سکتی ہیں: اوّل وہ جسے وہ یہ جان لے کہ یہ دس استثنائی موقعوں کی غیبت ہے۔ ایسی صورت میں اس کا سُننا جائز اور اسے کاٹنا واجب نہیں ہے۔ دوم وہ جبکہ یہ یقین کر لے کہ یہ غیبت مذکورہ موقعوں کی نہیں ہے پھر اس کا سُننا قطعی حرام اور امکانی حد تک اس کی کاٹ واجب ہے۔ سوم جب یہ خیال ہو کہ یہ غیبت کے جائز موقعوں سے متعلق ہے۔ اس صورت میں موازنہ کرے اس غیبت کو نہ سُننے، رد کرنے بلکہ مومن کی حمایت کا غیبت کرنے والے کی عزت بچانے سے کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ موقع جائز ہو اور گناہ نہ ہو۔ مثلاً غیبت کرنے والا کہے کہ شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور اس عیب کی وہ کوئی صحیح وجہ بیان کرے۔
دوزخ اور دوزبانا
شیخ انصاریؒ مکاسب میں غیبت کی بحث کے آخر میں فرماتے ہیں: "اگر غیبت کرنے والا ایسا ہو جو اس شخص کے منہ پر جس کی غیبت کر رہا ہے تعریفوں کے پل باندھ دیتا ہے لیکن پیٹھ پیچھے اس کے عیب بیان کرتا ہے تو اس کا عذاب دُگنا ہوتا ہے اور شرع میں اسے ذواللسانین یعنی دو زبانوں والا کہا جاتا ہے اور اس صورت میں غیبت سخت حرام ہو جاتی ہے۔ روایتوں میں کہا گیا ہے کہ ایسا شخص جب قیامت میں آئے گا تو اس کے منہ سے آگ کی دو زبانیں لٹکتی ہوں گی۔ . ۔(مکاسب)
کتاب گناہان کبیرہ، شہید دستغیب شیرازیؒ


تاریخ فقاہت و مرجعیت

باسمہ تعالیٰ
تاریخ فقاہت و مرجعیت 
از زمانہ غیبت (۲۶۰ھ)تا ۱۴۱۵ ہجری
نواب اربعہ:
۱۔ عثمان بن سعید عمریؒ(متوفیٰ ۲۸۰ھ)
۲۔ محمد بن عثمان اسدی (متوفیٰ ۳۰۵ھ)
۳۔ حسین بن روح نوبختی (متوفیٰ ۳۲۶ھ)
۴۔ علی بن محمد سمری (متوفیٰ ۳۲۹ھ)
(۱) عیّاش سمرقندی ؒ:(متوفیٰ ۳۲۰ھ)
(۲) علی بن بابویہ قمیؒ:(متوفیٰ ۳۲۹ھ)
(۳)ثقۃ الاسلام کلینیؒ :(متوفی ٰ۳۲۹ھ)
(۴)ابن ماہیارؒ :(م۔۔۔)
(۵)ابن ابی عقیل عُمّانی ؒ:(متوفیٰ۳۴۰ھ)
(۶)ابن ولیدؒ: (متوفیٰ ۳۴۳ھ)
(۷)ابو غالب زراریؒ: (متوفیٰ ۳۶۸ھ)
(۸)ابن داوودؒ(م ۳۶۸ھ)
(۹)جعفر ابن قولویہؒ:(متوفیٰ۳۶۹ھ )
(۱۰) شیخ صدوقؒ :(متوفیٰ۳۸۱ھ)
(۱۱) ابن جنید اسکافیؒ:(متوفیٰ ۳۸۱ھ)
(۱۲)سید رضیؒ :(م ۴۰۶ھ)
(۱۳) شیخ مفیدؒ:(متوفیٰ ۴۱۳ھ)
(۱۴) سید مرتضیٰ علم الھدیٰؒ:(متوفیٰ ۴۳۶ھ)
(۱۵) شیخ ابو الصلاح حلبی ؒ:(متوفیٰ۴۴۷ھ)
(۱۶) سلّار  دیلمیؒ :(متوفیٰ ۴۴۸ھ یا)
(۱۷) نجاشیؒ:(متوفیٰ ۴۵۰ھ)
(۱۸) شیخ طوسی ؒ:(متوفیٰ ۴۶۰ھ)
(۱۹) شریف جعفری ؒ (متوفیٰ ۴۶۳ھ)
(۲۰) قاضی ابن برّاج:(متوفیٰ ۴۸۱ھ)
(۲۱) مفید ثانیؒ:(متوفیٰ ۵۱۵ھ)
(۲۲)علامہ طبرسیؒ (۵۴۸ھ) 
(۲۳) ابن حمزہ طوسیؒ:(متوفیٰ ۵۵۰ھ)
(۲۴)قطب الدین راوندی ؒ: (متوفیٰ۵۷۳ھ)
 (۲۵)ابن زُہرہ ؒ:(متوفیٰ ۵۸۵ھ)
(۲۶)ابن حمزہ  طوسیؒ: (متوفیٰ ۵۸۵ھ)
(۲۷)ابن شہر آشوبؒ (۵۸۸ھ)
(۲۸) ابن ادریس حلی  ؒ:(متوفیٰ۵۹۸ھ)
(۲۹)ابن یونسؒ(م ۶۳۹ھ)
(۳۰)سید ابن طاووسؒ (۶۶۴ھ)
(۳۱)خواجہ نصیر الدین طوسیؒ (۶۷۲ھ)
(۳۲)محقق حلّیؒ:(متوفی۶۷۶ھ)
(۳۳) علامہ حلیؒ:(متوفی۷۲۶ھ)
(۳۴) فخر المحققین ؒ :(متوفیٰ ۷۷۱ھ)
(۳۵) شھید اولؒ:(متوفیٰ۷۸۶ھ)
(۳۶) فاضل مقداد ؒ:(متوفیٰ ۸۲۶ھ)
(۳۷) ابن فہد حلی ؒ :(متوفیٰ ۸۴۱ھ)
(۳۸) شیخ علی بن ھلال جزائریؒ:(متوفی۹۳۷ھ)
(۳۹) محقق کرکیؒ:(متوفیٰ ۹۴۰ھ)
(۴۰)ملاطاہر شاہ دکنیؒ:(۹۵۲ھ؁)
(۴۱) شہید ثانیؒ:(متوفیٰ ۹۶۶ھ)
(۴۲)شیخ عز الدینؒ  (متوفیٰ ۹۸۴ھ):
(۴۳) مقدس اردبیلیؒ :(متوفیٰ ۹۹۳ھ):
(۴۴)صاحب مدارک ؒ (۱۰۰۹ھ):
(۴۵)صاحب معالمؒ (۱۰۱۱ھ):
(۴۶)شہید ثالثؒ:(متوفیٰ ۱۰۱۹ھ):
(۴۷) شیخ بہائیؒ :(متوفیٰ ۱۰۳۰ھ):
(۴۸)میر دامادؒ :(متوفی ۱۰۴۱ھ):
(۴۹)ملّا صدراؒ :(متوفیٰ ۱۰۵۰ھ) 
(۵۰)ملّا تقی مجلسیؒ :(م ۱۰۷۰ھ) :
(۵۱) محقق سبزاواری ؒ:(متوفیٰ ۱۰۹۰ھ) :
(۵۲)ملّا فیض کاشانیؒ : (متوفیٰ ۱۰۹۱ھ):
(۵۳) محقق خوانساری:(متوفیٰ ۱۰۹۸ھ):
(۵۴)شیخ حرّ عاملیؒ(متوفیٰ ۱۱۰۴ھ):
(۵۵)علامہ بحرانیؒ (۱۱۰۷ھ):
(۵۶)علامہ  مجلسیؒ (۱۱۱۱ھ):
(۵۷) جمال المحققین آقا جمال خوانساریؒ(متوفی ۱۱۲۲ھ):
(۵۸) فاضل ہندیؒ(متوفیٰ ۱۱۳۷ھ):
(۵۹)صاحب حدائقؒ : (متوفیٰ ۱۱۸۶ھ):
(۶۰) وحید بہبہانیؒ:(متوفیٰ ۱۲۰۵ھ):
(۶۱)ملّا مہدی نراقیؒ : (متوفیٰ ۱۲۰۹ھ):  
(۶۲)۔سید مہدی بحرالعلومؒ:(متوفیٰ ۱۲۱۲ھ):
(۶۳)سید جواد عاملیؒ : (م ۱۲۲۶ھ):
(۶۴)۔شیخ جعفرکاشف الغطاءؒ:(متوفیٰ ۱۲۲۸ھ):
(۶۵) میرزائے قمّیؒ : (م ۱۲۳۱ھ):
(۶۶) سید علی طباطبائیؒ :(م۱۲۳۱ھ):
(۶۷) سید عبد اللہ شبّرؒ : (م ۱۲۴۲ھ):
(۶۸)صاحب جواہر ؒ :(متوفیٰ ۱۲۶۶ھ):
(۳۳)۔شیخ مرتضیٰ انصاریؒ:(متوفیٰ ۱۲۸۱ھ)
(۷۰)صاحب قوامعؒ :(۱۳۰۶ھ)
(۷۱)۔میرزائے شیرازی ؒ :(متوفیٰ ۱۳۱۲ھ)
(۷۲)میرزا حبیب اللہ رشتیؒ :(م ۱۳۱۲ھ)
(۷۳)محدث نوریؒ (۱۳۲۰ھ):
(۷۴)۔آخوند خراسانی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۲۹ھ) :
(۷۵)۔محقق یزدی ؒ:(متوفیٰ۱۳۳۷ھ)
(۷۶)۔میرزا فتح اللہ نمازی شیرازی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۳۹ھ)
(۷۷)ملّا حبیب اللہ کاشانی ؒ (م ۱۳۴۰ھ)
(۷۰)ملا حبیب اللہ شریف کاشانیؒ :(۱۳۴۰ھ)
(۷۸)میرزا جواد آقا ملکیؒ (م۱۳۴۳ھ): 
(۷۹)شیخ محمد جواد بلاغی نجفیؒ (م۱۳۵۲ھ):
(۸۰)۔شیخ عبدالکریم حائری ؒ:(متوفیٰ ۱۳۵۵ھ):
(۸۱)۔ حاج میرزا حسین نائینی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۵۵ھ):
(۸۲)محدث قمیؒ:(متوفیٰ ۱۳۵۹ھ):
(۸۳)آقا ضیاء الدین عراقیؒ(م ۱۳۶۱ھ):
(۸۴)شیخ حسن علی اصفہانیؒ(م ۱۳۶۱ھ):
(۸۵)غروی اصفہانیؒ:(متوفیٰ ۱۳۶۱ھ):
(۸۶)۔سیدابوالحسن اصفہانیؒ :(متوفیٰ ۱۳۶۵ھ):
(۸۷)حسین طباطبائی قمیؒ: (متوفیٰ ۱۳۶۶ھ)
(۸۸)آیۃاللہ شاہ آبادیؒ: (متوفی۱۳۶۹ھ)
(۸۹)سید محسن امینؒ:  (متوفیٰ۱۳۷۱ھ)
(۹۰) سید محمد تقی خوانساری ؒ: (متوفیٰ ۱۳۷۱ھ)
(۹۱) شیخ محمد حسین کاشف الغطاءؒ: (متوفیٰ ۱۳۷۳ھ)
(۹۲) سید حسین طباطبائی بروجردیؒ:(متوفیٰ ۱۳۸۰ھ) 
(۹۳)شیخ محمد رضا مظفرؒ: (متوفیٰ ۱۳۸۳ھ):
(۹۴)۔سید محسن الحکیمؒ:(متوفیٰ ۱۳۹۰ھ):
(۹۵)شیخ آقا بزرگ تہرانی ؒ:(متوفیٰ ۱۳۹۰ھ):
(۹۶)سید باقر الصدرؒ:(متوفیٰ ۱۴۰۰ھ):
(۹۷)علامہ شعرانیؒ (م۱۳۹۳ھ)
(۹۸)سید محمد ہادی میلانیؒ (م۱۳۹۵ھ)
(۹۹)۔سید روح اللہ خمینیؒ: (متوفیٰ  ۱۴۰۹ھ):
(۱۰۰)سید شہاب الدین مرعشی نجفیؒ:(متوفیٰ ۱۴۱۱ھ)
(۱۰۱)۔سید ابوالقاسم خوئیؒ:(متوفیٰ ۱۴۱۳ھ)
(۱۰۲)محمد رضا گلپائگانیؒ:(متوفیٰ ۱۴۱۴ھ):
(۱۰۳)محمد علی اراکی ؒ:(متوفی ۱۴۱۵ھ)
مرتب: محمد حسنین باقری
(نوٹ:یقینا اس میں دیگر بہت سے نام بھی ہیں جو شامل نہیں ہوسکے۔ برصغیر کے فقہاء کی بھی طویل فہرست ہے ۔ جو الگ سے پیش کی جارہی ہے)

جمعہ، 1 مئی، 2020

تحفہ اثنا عشریہ اور اس کے جوابات

تحفہ اثنا عشریہ اور اس کے جوابات
سید محمد حسنین باقری، لکھنو

علمائے مذہب حقہ نے ہر دور میں مذہب اہلبیتؑ یعنی حقیقی اسلام کی حفاظت و پاسداری کا اہم و خطیر وظیفہ بحسن و خوبی انجام دیا، اس مذہب کو بچانے اور اس کی تبلیغ میں انتھک کوششیں کیں اور اس سلسلے میں ہر طرح کی قربانی بھی پیش کرنے میںقدم پیچھے نہیں ہٹائے۔چونکہ دین کا سب سے اہم و بنیادی رکن ’’ولایت‘‘ ہے اور یہی اسلام کا سیاسی فلسفہ بلکہ ترقی یافتہ فلسفہ ہے، بشریت کی نجات و سعادت اور عظمت و کامیابی اسی ولایت و امامت کی مرہون منت ہے،اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں اہل بیتؑ کے زمانے میں خود انھوں نے اس کی ہر طرح سے حفاظت و پاسداری کی اس کو بچانے میں ہر طرح کی قربانی دی یہاں تک کہ’’ ام ابیہا‘‘ کا لقب پانے والی جگر گوشۂ رسولؐ صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا علیہا  السلام نے اسی ولایت کے لئے ہر طرح کے مظالم برداشت کئے نتیجہ میں اپنے فرزند جناب محسنؑ کی شہادت کے بعد اپنی شہادت کا نذرانہ پیش کیا اور رہتی دنیا تک علی ؑ و ولایت علیؑ کی حقانیت اور اس کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کردیا۔اور جب غیبت کا زمانہ شروع ہوا تو اس ذمہ داری کو ہمارے علماء و مجتہدین اور فقہاء و مراجع نے انجام دیا اور آجتک اس ولایت کی صحیح معنوں میں حفاظت و پاسداری یہی علماء و مراجع انجام دے رہے ہیں اور آج بنام دین و ولایت جو کچھ بھی ہے وہ انہیں علماء و فقہاء کی زحمتوں کا نتیجہ ہے آج اگر ہم ’مولائی‘ ہیں تو انھیں علماء کی وجہ سے جنھوں نے ہم تک مولا کی ولایت پہنچائی ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اگر ان علماء نے زحمت و مشقت کرکے، اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کا وظیفہ انجام نہ دیا ہوتا تو ہم کو کون بتاتا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟۔کسی امامؑ نے خود آکر ہم سے نہیں کہا کہ ہم حق ہیں ، ہمارا مذہب حق ہے بلکہ یہ علماء اور انکی تحریر کردہ کتابیں ہی ہیں جن سے ہم کو حقائق کا علم ہوا۔ان بزرگوں نے دین کو پہنچانے اور اس کی حفاظت میں تمام سعی و تلاش کے ساتھ کتابیں لکھیں اسی طرح جب بھی مذہب اہلبیتؑ پر کبھی کوئی حملہ ہوا یا اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کا ہر ممکنہ طریقہ سے مقابلہ کیا اور اس راہ میں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر سامنے آئے اور جوابات دئے ۔اگر مخالفین اسلام کی طرف سے کوئی اعتراض ہوا تو اس کا دندان شکن جواب دیا ۔
 اسلام حقیقی یعنی مذہب اہلبیتؑ کے خلاف چلی جانے والی سازشوں کی ایک کڑی کتاب ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ تھی لیکن جیسے ہی یہ کتاب سامنے آئی علماء کمر بستہ ہوئے گرچہ سارے اعتراضات پرانے اور گھسے پٹے تھے اور یہ کتاب ’صواقع موبقہ‘ کا سرقہ تھی۔تب بھی علماء نے اپنے وظیفہ کو انجام دینے کے لئے ایک کتاب کے جواب میں دسیوں کتابیں لکھیں ۔اس دور میں کس طرح انھوں نے یہ کتابیں لکھیں یہ وہی جانتے ہیں لیکن ان جوابات کو دیکھ کر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے برّ صغیر ،بالخصوص ہندوستان کے علماء تالیف و تحقیق کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے ان جوابات میں سے اکثر کتابیں فارسی یا عربی میں لکھی گئیں جو ہمارے علماء کی علمی جلالت کا ایک اور نمونہ ہے۔لہذا آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ تحفہ اثنا عشریہ کیسی کتاب ہے؟ پھر یہ معلوم کریں گے کہ اس کے جواب میں کن علماء نے کون کون سی کتابیں تحریر کی ہیں۔
جہاں تک تحفہ اثنا عشریہ کے ذریعہ مذہبی منافرت کا بیج بونے کی بات ہے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بر صغیر میں تعصب و مذہبی منافرت کا بیج بونے والے بدرالدین احمد فاروقی ماتریدی نقشبندی سر ہندی المعروف مجدد الف ثانی (۹۷۱ھ۔ ۱۰۳۴ھ) ہیں۔شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی عُمَری (۱۱۵۹ھ۔۱۲۳۹ھ) ابن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عمری (شاہ صاحب کا سلسلہ نسب حضرت عمر ابن خطاب سے ملتا ہے،(تحفہ اثنا عشریہ اردو،صفحہ۴)نے اس تعصب کو نئی زندگی دی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینے میں بہت اہم رول ادا کیا، در حقیقت صاحب تحفہ نے دشمنان اسلام کے منشاء کو پورا کرنے اور مسلمانوں کی صفوں میں شگاف ڈالنے کے لئے تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں یہ کتاب لکھی جس کا اصلی نام ’’نصیحۃالمؤمنین و فضیحۃالشیاطین‘‘ ہے لیکن تحفہ اثنا عشریہ کے نام سے مشہور ہے اور تقریبا پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ پہلی مرتبہ یہ کتاب ۱۲۰۴ھ (۹۰۔۱۷۸۹ء) میں مطبع ثمر ہند میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے شیعوں کے عقائد و نظریات پر تہمت لگانے اور جھوٹ و افترا باندھنے اور الزام تراشی پر پورا زور لگادیا ۔نیز اس کتاب کا سب سے اہم مقصد مذہب اہل بیتؑ کو آگے بڑھنے سے روکنے اور اس کی ترویج کا سد باب تھا اس لئے کہ تحفہ کی تصنیف کے زمانے میں بقول خود محدث دہلوی کے تحفہ میں اور ثناء اللہ پانی پتی کے سیف المسلول میں، کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس میں شیعہ نہ ہو۔ جیسا کہ دہلوی نے تحفہ ہی کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ: اس کتاب کو لکھنے کی غرض اور ضرورت یہ ہے کہ ۔۔۔مذہب اثنا عشری اتنا عام ہوا اور اتنا پھیلا کہ بہت کم ہی گھر ایسے ہونگے جہاں ایک یا دو آدمی اس مذہب کا پیروکار یا اس کی طرف مائل نہ ہو( تحفہ، صفحہ۴)
یہ بات بھی واضح رہے کہ تحفہ سے پہلے شیعوں کی رد میں دو اہم کتابیں لکھی گئیں ایک صواقع موبقہ، ابو نصر الدین محمد جو خواجہ نصر اللہ کابلی کے نام سے مشہور ہیں جو عربی زبان میں تھی اور دوسرے سیف المسلول ( یا شمشیر برہنہ) ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی (۔۔۔۔ ۱۲۲۵ھ) جنکی آٹھ جلدوں میں تفسیر مظہری مشہور ہے۔لہذا یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اس کتاب میں مولوی عبد العزیزدہلوی نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے بلکہ اپنے سابقین مثلا ابن تیمیہ ، روز بہان، جوزی اور کابلی جیسے متعصب علمائے اہل سنت کی باتوںکو دہرایا ہے۔اور جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ در حقیقت یہ کتاب کئی سال پہلے لکھی گئی کتاب کا عربی سے فارسی میں ترجمہ اور سرقہ ہے۔ اس لئے کہ اس کتاب کی اصل و بنیاد خواجہ نصراللہ کابلی کی کتاب ’’صواقع موبقہ‘‘ ہے جسے عبد العزیز نے عربی سے فارسی میں ترجمہ کرکے اپنے نام سے چھپوا دیا ہے۔جیسا کہ صاحب نجوم السماء (جلد۱، صفحہ۳۵۲)اور صاحب عبقات الانوار (جلد حدیث غدیر و حدیث ثقلین) اور صاحب جوہر قرآن وغیرہ نے اس کی تصریح بھی کی ہے۔ انہوں نے کتاب کا پہلا ایڈیشن فرضی نام غلام حلیم ابن شیخ قطب الدین ابن شیخ ابوالفیض کے نام سے شائع کیا لیکن دوسرے ایڈیشن میں اصلی نام عبد العزیز دہلوی ظاہر کردیا۔(خلاصہ عبقات الانوار،علامہ سید علی میلانی،ج۱ ،ص۱۵۸؛ جوہر قرآن،علامہ سید علی حیدرؒ)اس سلسلے میں صاحب تذکرہ بے بہا رقم طراز ہیں: ’’جب شاہ صاحب نے صوائق خواجہ نصر اللہ کابلی کا ترجمہ فرمایا اورا س کا نام تحفہ اثنا عشریہ رکھا اور اس عہد میں نواب نجف علی خاں صاحب مرحوم کہ جو دلی میں رکن اعظم اور شیعہ کامل تھے ان کے خوف سے شاہ صاحب نے اپنا نام اس ترجمہ میں نہ لکھا بلکہ ایک فرضی نام غلام حلیم تراش کر ظاہر کیا‘‘( تذکرہ بے بہا،علامہ سید محمد حسین نوگانوی، ج۱ ،ص۳۳۴)۔
خدا گواہ ہے کہ جب انسان کتاب تحفہ اثنا عشریہ کو دیکھتا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچنے میں اسے کوئی دیر نہیں لگتی کہ یہ کتاب علمائے شیعہ کی انتہائی معلوماتی بحر بے کراں علمی، مدلل، اسلامی تہذیب و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے لکھی گئی کتابوں کے مقابلے کوئی اہمیت و وقعت نہیں رکھتی نیز اس کے مولف علمی و اخلاقی حوالے سے کتنے کمزور اور پست ہیں۔
تحفہ اثنا عشریہ ،اصل کتاب تو فارسی میں ہے لیکن متعصب و مغرض اور کج فکر افراد نے تحفہ اثنا عشریہ کی بہت زیادہ ترویج کی اور سقیفائی چہرہ پیش کرنے کی پوری کوشش کی۔۱۲۲۷ ھ کو غلام محمد بن محی الدین اسلمی (مولوی اسلم مدراسی)(متوفیٰ ۱۲۷۲)کے ہاتھوںیہ کتاب عربی میں ترجمہ ہوئی اور نواب علی محمد جان کے بیٹے نے اس ترجمہ کو عرب بھیجا(نور الانوار(حدیث نور)،ترجمہ مولانا شجاعت حسین رضوی،ص۱۶ )اس ترجمہ کی تلخیص محمود بن عبداللہ شکری آلوسی بغدادی (۱۲۷۳ھ۔۱۳۴۲ھ) نے ’’المنحۃالالٰھیۃ‘‘ کے نام سے کی جو مصر و ترکیہ وغیرہ میں شائع ہوئی اس خلاصہ کے جواب میں بھی علمائے شیعہ نے جوابات دئے۔اب تک تحفہ کا خلاصہ اور ترجمہ متعدد مرتبہ شائع ہوچکا ہے۔ایک اختصار مصر میں چھپا۔ 
سر سید احمد خان علیگڑھ نے تحفہ کے دسویں اور بارہویں باب کا اردو ترجمہ ’’تحفۂ حسن‘‘ کے نام سے کیا جسے ۱۲۶۰ھ میں شائع کیا۔(نور الانوار ،ص۱۶۔) .اردو میں کتاب کے متعدد ترجمے ہوئے غالبا پہلا ترجمہ ’’ہدیہ مجیدیہ‘‘ جو عبدالحمید خان پیلی بھیتی نے کیادوسرا ترجمہ سعد حسن خاں ٹونکی نے کیا(تحفہ اردو)، ظاہرا اس کے علاوہ بھی ترجمے ہوئے ایک ترجمہ ۱۴۰۲ھ میں خلیل الرحمٰن نعمانی(مظاہری) نےکیا ہے جو ۷۹۵ صفحات پر مشتمل ہے۔
 کتاب تحفہ اثنا عشریہ کو بارہ اماموں کی تعداد کے مطابق بارہ ابواب میں مرتب کیا گیا جو مندرجہ ذیل ہیں: 
باب اول: شیعہ مذہب کی ابتدا اور اس کے فرقے۔
باب دوم: شیعوں کے مکائد(یعنی بقول مصنف شیعہ حضرات مختلف بہانوں سے لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف مائل کرلیتے ہیں) اس باب میں ۱۰۷ مکائد و مغالطوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ 
باب سوم: سابقین و اسلاف شیعہ کے حالات( اس باب میں اسلاف شیعہ کو طبقات کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے سات طبقات کاتذکرہ کیا ہے)
باب چہارم: شیعہ روایات، ان کے اقسام و اسناد اور ان کے راوی۔ 
باب پنجم: الہیات(اس باب میں مصنف نے الٰہیات کے سلسلے میں شیعوں کے ۲۲ عقائد کو نقل کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ شیعہ ان عقائد میں بقیہ مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں)۔
باب ششم: نبوت(اس باب میں نبوت سے متعلق ۱۵ عقائد کا تذکرہ کیا ہے جنمیں شیعہ دوسرے مسلمانوں سے الگ ہیں)۔ 
باب ہفتم: امامت(در حقیقت اس کتاب کا سب سے اہم باب ہے اس باب میں امامت سے متعلق کلی مسائل بیان کرنے کے بعد امامت و خلافت بلافصل کے سلسلے میں بحث کی گئی ہے اور چونکہ شیعہ حضرات حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل امامت و جانشینی کو مسلم و قابل قبول عقلی و نقلی دلائل(قرآن و احادیث پیغمبرؐ) کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں لہذا عبدالعزیز دہلوی نے بزعم خود ان دلیلوں کو رد کرنے کی کوشش کی ہے ، اس سلسلے میں سات آیات کو ذکر کیا پھر ۱۲ حدیثوں کو ۔ اور علماء شیعہ نے سب سے زیادہ اسی باب کے جواب میں کتابیں لکھیں اور سب سےمشہور کتاب عبقات الانوار درحقیقت اسی باب کے جواب میں ہے۔)  
باب ہشتم: معاد( اس باب میں قیامت سے متعلق ۷ مسائل کو بیان کیا ہے)۔
باب نہم: فقہی مسائل ۔(بقول مصنف وہ مسائل جن میں شیعہ حضرات دوسروں سے اختلاف رکھتے ہیں)
باب دہم: خلفائے ثلاثہ، ام المومنین اور دیگر اصحاب کے مطاعن۔ (کتاب کا سب سے مفصل یہی باب ہے اس میں تقریبا ۵۶ مطاعن ذکر کیے ہیں)
باب یازدہم: شیعوں کے خصوصیات ،( جو تین فصلوںپر مشتمل ہے: ۲۵  توہمات و اوھام ، ۲۵  تعصبات ، ۲۳ ہفوات ۔)
باب دوازدہم: تولاو تبرا ،دس مقدمات پر مشتمل۔
تحفہ اثنا عشریہ کے جوابات: جب عبد العزیز دہلوی کے ذریعہ انتہائی بے بنیاد اور نامناسب کتاب تحفہ اثنا عشریہ سامنے آئی  تو شیعہ علما نے اپنے وظیفہ کو انجام دینے اور ولایت و امامت و رہبری کی حفاظت کے لئے اقدامات کئے اسی وجہ سے متعدد شیعہ علما نے تحفہ اثنا عشریہ کے جواب میںکتابیں لکھیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔ یقیناً تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن فی الحال جو معلوم ہوسکیں وہ پیش کی جارہی ہیں۔ ترتیب مصنفین کے سال وفات کے اعتبار سے رکھی گئی ہے۔ جن علماء کا سنہ وفات معلوم نہ ہوسکا انھیں آخر میں ذکر کیا گیا ہے: 
۱۔سیف اللہ المسلول علی مخربی دین الرسول(الصارم التبار لقدالفجار و قط الاشرار والکفار) ، ابو محمد میرزا محمد اخباری نیشاپوری بن عبد النبیؒ (۱۱۷۸ھ۔۱۲۳۲ ھ)،محمد اخباری اور فاضل اکبر آبادی کے نام سے مشہور ہیں۔یہ کتاب پوری تحفہ کا مکمل جواب ۔
۲۔النزھۃ الاثنی عشریہ ،(فارسی)شہید رابع حکیم میرزا محمد کامل بن احمد خان طبیب کشمیری دہلوی(۱۱۵۰ھ۔ ۱۲۳۵ھ)، تحفہ کی اشاعت کے دو سال کے اندر ہی اس کا مکمل جواب۔تحفہ کے تمام بارہ ابواب کے جواب میں بارہ جلدیں(ہر باب کے جواب میں ایک جلد،پہلی ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں، اور نویں جلدیں لکھنؤ ، دہلی اور لدھیانہ میں شائع ہوئیں باقی جلدوں کا پتہ نہیں چلا ۔ علامہ سعید اختر صاحب کے مطابق اس کی تیسری جلد کا قلمی نسخہ انڈیا آفس لائبریری کے دہلی پرشین کلکشن میں ہے اب انڈیا آفس برٹش لائبریری میں ضم ہوگئی ہے۔اور نویں جلد کا خطی نسخہ رضا لائبریری رام پور میں موجود ہے، علامہ مرتضی حسین فاضلؔ کے مطابق ایک نسخہ کتب خانۂ مکتبۃالعلوم کراچی میں اور خطی نسخہ مولانا محمد مصطفی جوہر صاحب کے کتاب خانے میں موجود ہے)
۳۔الصوارم الالہیہ(فارسی)،علامہ سید دلدار علی غفرانمآب ابن سید محمد معین نقوی لکھنویؒ(م ۱۲۳۵ھ)،باب پنجم کی رد میں۔مطبوعہ کلکتہ
۴۔حسام الاسلام و سہام الملام(فارسی)، علامہ غفرانمآبؒ، تحفہ کے باب ششم کے جواب میں۔ مطبوعہ کلکتہ
۵۔ تتمہ صوارم الہیات، غفرانمآبؒ، باب ھفتم کی رد میں، شائع شدہ ۱۲۹۵ھ۔ ۱۸۷۸ء ۔
۶۔  رسالہ غیبت(فارسی)، سید دلدار علی غفرانمآبؒ، باب ھفتم کے جواب میں۔ مطبوعہ کلکتہ، و سلطان المنابع ۱۲۶۹ھ۔
۷۔ احیا السنۃ و امام البدعۃ (فارسی)، غفرانمآبؒ، تحفہ کے باب ہشتم کے جواب میں۔ مطبوعہ لکھنؤ و لدھیانہ
۸۔ ذو لفقار(فارسی)، غفرانمآبؒ،باب دوازدہم کی رد میں۔مطبوعہ لدھیانہ
۹۔ کشف الشبہ عن حکم المتعہ،فارسی، ۶۶ صفحہ، علامہ احمد بن محمد علی بن استاد کل آقای بہبہانیؒ(۱۱۹۱ھ۔ ۱۲۳۵ھ)
۱۰۔ہدیۃ العزیز (فارسی)،خیر الدین محمد الہ آبادی (۱۲۵۰ھ)،باب چہارم کی رد ۔
۱۱۔سیف ناصری، (فارسی)مفتی سید محمد قلی نیشاپوریؒ(م ۱۲۶۰ھ) (علامہ میر حامد حسینؒ کے والد)، باب اول کی رد میں۔ اس کے دو قلمی نسخوں کا تذکرہ علامہ سعید اختر نے کیا ہے جس میں سے ایک ان کے ذاتی کتب خانہ میں ہے۔
۱۲۔تقلیب المکائد  (فارسی)،مفتی سید محمد قلیؒ،باب دوئم کی رد میں۔(مطبوعہ دہلی)
۱۳۔برھان السعادات، (فارسی) مفتی سید محمد قلیؒ ، تحفہ کے باب ہفتم کی رد میں ۔مخطوطہ رضا لائبریری
۱۴۔تشیید المطاعن (فارسی) مفتی سید محمد قلیؒ،باب ہشتم کی رد میں ۔ (دو ضخیم جلدوں میں)مطبوعہ لدھیانہ ، کچھ عرصہ پہلے قم میں شائع ہوئی ہے۔
۱۵۔مصارع الافہام لقلع الاوھام، مفتی سید محمد قلیؒ،باب یازدہم کے جواب میں ۔
۱۶۔نفاق الشیخین بحکم صحیحین، فارسی، سید محمد قلی،مطبوع(مولانا طاہر اعوان صاحب نے اس کتاب کو تحفہ کے جواب میں شمار کیا ہے لیکن بظاہر یہ تحفہ کے جواب میں نہیں ہے)
۱۷۔الوجیزۃ فی اصول الدین(فارسی)،سبحان علی خان لکھنوی ہندی(م ۱۲۶۴ھ)،دو جلدوں میں(مصنف نے اصول سے متعلق بحث کو پیش کیا پھر امیر المؤمنینؑ کی امامت پر دلالت کرنے والی احادیث کو بیان کیا اس کے بعدصاحب تحفہ کے اعتراضات کو نقل کر کے ان کا جواب دیا ہے)۔
۱۸۔تجھیز الجیش لکسر صنمی قریش، حسن بن امان دہلوی عظیم آبادی نزیل کربلا (۔۔۔۔ حدود ۱۲۶۰ھ)۔
۱۹ ۔ حدیقہ سلطانیہ در مسائل ایمانیہ (باب چہارم) سیدالعلماء سید حسن علیین مکان( ۱۲۱۱ھ۔ ۱۲۷۳ھ)باب ہفتم کی ردّ۔
۲۰۔الھدایۃ السنیۃ فی ردّ التحفۃ الاثناعشریۃ، عمدۃ العلماء محمد ھادی نقوی ابن سید مہدی نصیر آبادیؒ (۱۲۲۸ھ۔ ۱۲۷۵ھ).
۲۱۔تحفہ حنفیہ بہ جواب تحفہ اثنا عشریہ،زین العابدین خان ۱۲۷۵ھ۔
۲۲۔ برھان الصادقین، علامہ سید جعفر المعروف ابو علی خان موسوی بنارسی دہلوی(حدود ۱۲۸۰ھ)، باب ھفتم کی رد میں۔
۲۳۔ بہجۃ البرھان(فارسی)، سید جعفرابو علی ، باب نہم کی رد میں۔ مخطوطہ ناصریہ لائبریری
۲۴۔ تکسیر الصنمین (فارسی)،سید جعفرابو علی،باب دہم کی رد میں۔ناصریہ لائبریری.
۲۵۔ امامۃ(عربی)، سلطان العلماء سید محمد ابن غفرانمآبؒ(۱۱۹۹ھ۔ ۱۲۸۴ھ)، باب ھفتم کی رد میں۔کتاب مبسوط بحث امامت.
۲۶۔ بوارق موبقہ (فارسی)بحث امامت،سلطان العلماء سید محمد ؒ،باب ہفتم کی رد میں۔
۲۷۔ طرد المعاندین ، سلطان العلماء سید محمدؒ۔تحفہ کے باب ھفتم کے جواب میں.
۲۸۔ بارقہ ضیغمیہ در موضوع متعہ،سلطان العلماء سید محمد ؒ،باب دھم کی رد میں۔
۲۹۔ طعن الرماح، سلطان العلماء سید محمدؒ، باب دھم کی رد۔ مطبوعہ لکھنؤ۔
۳۰۔تحفہ کے بعض ابواب کی ردّ، سید احمد علی بن سید عنایت حیدر محمد آبادی، (۱۲۰۶ھ۔۱۲۹۵ھ).
۳۱۔عبقات الانوار فی مناقب الائمۃ الاطہار (تحفہ کے جواب میں سب سے مشہور اور سب سے اہم کتاب جس کی کل جلدوں کی تعدا د ۳۰ بیان کی گئی ہے اور ۱۶ جلدیں شائع ہو چکی ہیں) علامہ میر حامد حسین موسویؒ ۔ ( ۱۲۴۶ھ۔۱۳۰۶ھ)
۳۲۔ جواہر عبقریۃ در رد تحفہ اثنا عشریہ  (فارسی)،باب ہفتم، مفتی سید محمد عباس شوشتریؒ (م ۱۳۰۶ھ)۔مطبوعہ لکھنؤ
۳۳ ۔ حدیث ثقلین( رد بحث ثقلین در تحفہ )، حکیم امجد علی خان ابن حکیم ابو علی خان امروہوی (۱۳۱۸ھ، ۱۹۰۰ء)۔
 ۳۴۔ ’’بیان تصحیف المنحۃ الالہیۃ عن النفثۃ الشاطنیۃ‘‘(تین ضخیم جلد یں) شہید مسموم آیۃاللہ العظمیٰ شیخ مہدی بن حسن خالصی کاظمیؒ (۱۲۷۶ھ۔ ۱۳۴۳ھ) ،(عربی تلخیص کا جواب) 
۳۵۔ رسالہ نافعہ در جواب تحفہ اثنا عشریہ، علامہ سید مقرب علی زائر (۱۲۵۹ھ۔ ۱۳۴۵ھ)
۳۶۔ النار الحاطمہ لقاصۃ احراق بیت فاطمہ، سید مقرب علی ابن سید شیر علی نقوی (۱۲۵۹ھ۔ ۱۳۴۵ھ) جگرانوںلدھیانہ، انتشارات مجمع البحرین ترجمہ تشیید المطاعن۔
۳۷۔رد التحفہ ترجمہ نزہہ اثنا عشریہ، مولانا سید محمد حیدر نقوی ؒابن فخرالحکماء مولانا سید علی اظہر(م ۱۳۴۵ه، ۱۹۲۶ء)، مطبوعہ ادارہ اصلاح.
۳۸۔ تحفۃ السنۃ (اردو)،مرزا محمد ہادی رسوا بن میرزا محمد تقی لکھنویؒ(۱۲۷۵ھ۔ ۱۳۵۰ھ)،۱۵ جلدوںمیں۔( خطی نسخہ واعظین کے کتب خانہ میں موجود ہے).
۳۹۔ المرافعات، علامہ سید علی اظہر نقوی کھجوی، بانیٔ ادارۂ اصلاح(۱۳۵۲ھ)
۴۰۔آلوسی والتشیع، آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا فتح اللہ شیخ الشریعۃ اصفہانی اور آقای سید محمد کاظمی قزوینی (۱۳۳۵ھ۔ ۱۴۱۴ھ) ابن آیۃاللہ العظمیٰ سید مھدی قزوینی (۱۲۸۲ھ۔ ۱۳۵۹ھ) ،(عربی تلخیص کا جواب)
۴۱۔ جوہر قرآن(اردو)، علامہ سید علی حیدر نقویؒ ، مدیر اول ماہنامہ اصلاح(۱۳۰۳ھ۔ ۱۳۸۰ھ)،(میاں بیوی کے درمیان مناظرہ کی صورت میں لکھی گئی اس کتاب میں صاحب تحفہ کے اکثر اعتراضات نقل کر کے اس کے  جوابات دئیے ہیں)۔(متعدد مرتبہ ادارہ اصلاح سے شائع ہوچکی ہے اور عنقریب دوبارہ شائع ہونے جارہی ہے۔)
۴۲۔ثمرات، مولانا سید محسن نواب صاحبؒ (۱۳۲۹ھ۔ ۱۳۸۹ھ)۔باب ہفتم کی رد۔ سید محسن نواب صاحبؒ نے خلاصہ عبقات الانوار حدیث مدینۃ العلم بھی تحریر کی ہے۔
۴۳۔جواب تحفہ(باب اول، دوم، چہارم، پنجم، ششم اور باب دھم کا جواب)، افتخارالعلماء مولانا سعادت حسین خان صاحب (۱۳۲۵ھ۔ ۱۴۰۹ھ). یہ کتاب ’’نزہہ اثنا عشریہ ‘‘ کا خلاصہ ہے ، جو خطی ہے اور مرحوم کے نواسے مولانا ظہیر احمد افتخاری صاحب کے پاس موجود ہے۔
۴۴۔  ’’نقض المنحۃالآلوسیۃ‘‘ ،محمد بن طاہر سماوی فضلی نجفی (۱۲۹۲ھ۔ ۱۳۷۱ھ) (عربی تلخیص کا جواب)۔
۴۵۔ رد تحفہ اثنا عشریہ، شیخ الجامعہ علامہ اختر عباسؒ(۱۳۴۱ھ۔ ۱۴۲۰ھ)
۴۶۔جاگیر فدک(تحفہ اور دیگر کتب اہل سنت کے فدک سے متعلق جواب)، علامہ غلام حسین نجفی ؒ ۱۴۲۶ھ۔(اعوان)
۴۷۔ سھم مسموم فی جواب نکاح ام کلثوم(تحفہ اور دیگر کتب اہل سنت کا حضرت ام کلثوم ؑ کے عقد سے متعلق جواب)، غلام حسین نجفی ؒ ۱۴۲۶ھ۔
۴۸۔ھدیۃ السنیۃ( ۲ جلد)، ملک آفتاب حسین مدظلہ(مولف کے مطابق آمادہ چاپ ہے)
۴۹۔ادلہ نقلیہ در ثبوت تقیہ، سید حافظ علی نہٹوری بجنوری لدھیانہ(تقیہ سے متعلق تحفہ کا جواب).
۵۰۔تکمیل قرآن (قرآن و شیعہ سے متعلق تحفہ کا جواب)، سید محمد حسین دہلوی۔
۵۱۔ التمییز بین صواعق الکابلی و تحفہ عبدالعزیز، حکیم سید حسین گریاںؔ زیدی لکھنوی ۔مطبع تصویر عالم لکھنوی ۱۹۷۹۔
۵۲۔ھدیہ اثنا عشریہ ترجمہ نزھۃ اثنا عشریہ جلد نہم ، جناب سید حسین بریلوی(دہلی پریس).
۵۳۔تحفہ منقلبہ،فارسی، جناب سید رضاء الحسن ابن سید باقر علی نقوی، لکھنؤ مطبع احمدی ۱۳۱۳ھ۔
۵۴۔ تحفه سجادیه، مولانا سید سجاد المعروف سید محمد رضوی۔( تحفه كے طعن فدك كا جواب)
۵۵۔ تحفه اثنا عشریه كا معیار تهذیب، مولانا سید علی اختر رضوی گوپالپوری، (م ۲۶ ذی قعدہ ۱۴۲۲ھ)
۵۶۔نفحات الریاحین فی احوال سیدنا خاتم النبیین (اس کتاب کا آخری حصہ تحفہ کی فدک کی بحث کا جواب ہے).
۵۷۔ھدیہ حسینیہ بجواب تحفہ اثنا عشریہ، مولف نامعلوم، اردو ، مطبوع، ( یہ کتاب منشورات کتب خانہ اثنا عشریہ لکھنؤ کی فہرست ،۱۹۰۱ء میں کتاب ارغام المارکین کے آخری صفحہ پر متعارف کرائی گئی ہے۔).
۵۸۔بررسی تناقضات تحفہ اثنا عشریہ۔مولف :نا معلوم۔
آخر میں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ ایک پانچ سو صفحات کی کتاب کے جواب میں ہمارے علماء نے کتنی زیادہ کتابیں لکھیں؟ وہ بھی انتہائی سخت اور دشوار دور میں جس وقت کسی طرح کے وسائل و آسانیاں بھی فراہم نہیں تھیں۔ پہلا سوال یہ ہے، ان کتابوں کی تالیف و تحریر میں علماء کا کتنا وقت صرف ہوا؟ کیا اس کثرت سے جوابات کی ضرورت تھی؟ اور کیوں؟۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آخر یہ تمام کتابیں کہاں ہیں؟ افسوس تو یہی ہے کہ ان میں سے اکثر کتابوں کا اس وقت کوئی پتا نہیں ہے یا تو شائع ہی نہ ہوسکیں یا دوبارہ شائع ہونے کی نوبت نہ آئی۔ 
آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دفاع ولایت کے لئے آگے آئیں اور ان کتابوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کریں تاکہ مصنفیں کی زحمتیں صرف الماریوں کی زینت اور دیمک کی نذر نہ ہوں اور ہم بھی ثواب کے مستحق قرار پاسکیں۔
اور ایک تجویز و گزارش یہ بھی ہے کہ آج تحفہ کی طرح اس کا ایک مکمل و مختصر جواب کم از کم اردو زبان میں منظر عام پر آئے اور ہر جگہ دستیاب ہو۔
قارئین سے یہ بھی گزارش ہے کہ اس سلسلے میں اگر کوئی معلومات ان کے پاس ہوتو ضرور مطلع فرمائیں۔ فقط 
 rrrrr

حضرت زینب سلام اللہ علیہا

حضرت زینب سلام اللہ علیہا
سید محمد حسنین باقری

ثانیٔ زہرا حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے سلسلے میں کتابوں میں مختلف تاریخیں بیان ہوئی ہیںیکم شعبان المعظم،۵؍ جمادی الاولیٰ، ماہ رمضان اور ربیع الثانی کا آخری عشرہ۔ سنہ ولادت بھی ۵اور ۶ہجری بیان ہوا ہے ۔
پدر بزرگوار امیر المومنین حضرت علیؑ مادر گرامی صدیقۂ طاہرہؐ، نانا رسول اسلامؐ،بھائی حسنؑ و حسینؑ یعنی پنجتن کے عصمتی حصار میں پرورش پانے والی ذات گرامی حضرت زینبؑ ہیں۔ پھر یہ عظمت ہی ہے کہ دادا حضرت ابو طالبؑ ، دادی فاطمہ بنت اسدؑ، نانی حضرت خدیجۃ الکبریٰؑ تھیں اور شوہر نامدار جناب عبد اللہ ابن جعفر ابن ابو طالبؑ اولادوں میں علی، عون، عباس ، محمد اور ام کلثومؑ بیان کئے گئے جن میں سے عون اور محمد کربلا میں شہید ہوئے۔ 
القاب: عقیلۂ بنی ہاشم، عقیلۃ الطالبین، صدیقۂ صغریٰ ، عصمت صغریٰ، ولیۃ اللہ ، الراضیۃ بالقدر و القضاء ( قضاء و قدر الٰہی پرراضی رہنے والی )،صابرۃ البلوی من غیر جزعٍ ولا شکوی ( بغیر بے تابی ، اور شکایت کے عظیم مصائب پر صبر کرنے والی) امینۃ اللہ، عالمۂ غیر معلمہ ، فھمہ غیر مفھّمہ ، محبوبۃ المصطفیؐ ، ثانیٔ زہرا، (ریاحین الشریفہ ۳/۴۸)
رسول خدا ؐ نے ولادت کے بعد آپ کا نام زینب رکھا۔ (چودہ ستارے صفحہ ۲۶۶از امام مبین صفحہ ۱۶۴) بروایتے ’زینب‘ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ’بہت زیادہ گریہ کرنے والی‘ کے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ لفظ ’’زین‘‘ اور’’اب‘‘ سے مرکب ہے یعنی ’باپ کی زینت‘ پھر کثرت استعمال سے زینب ہوگیا۔ اس روایت کی روشنی میں اگر غور کیا جائے تو ثانیٔ زہراؑ کی عظمت و مرتبہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طرف مولائے کائناتؑ کی ذات والا صفات اور پھر جو اس ذات کے لئے زینت بنے!!؟
 ثانیٔ زہراؑ کا یہ کردار و عمل ہی تھا جس کی بنیاد پر علیؑ جیسے باپ کے لئے زینت قرار پائیں۔ اب ہر چاہنے والی کو سوچنا ہوگا کہ اس کا کردار اور اس کا عمل کیسا ہونا چاہئے۔ ضروری ہے کہ ہر چاہنے والی کا کردار و عمل ایساہی ہو کہ وہ اپنے دین کے لئے باعث زینت بنے باعث ذلت و رسوائی نہ بنے۔ 
حضرت زینب ؑکے سلسلے میں بعض کتابوں نے ایک جملہ لکھا ’’ان الحسینؑ کان اذا زارتہ زینب یقوم اجلالاً لھاوکان یجلسھا فی مکانہ ‘‘کہ جب شہزادی اپنے بھائی امام حسینؑ کی زیارت کے لئے تشریف لاتیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ 
شیخ جعفر نقدی نے اپنی کتاب ’’زینب الکبریٰ‘‘ میں یحییٰ مازنی سے نقل کیا ہے کہ میں ایک مدت تک مدینہ میں امیر المومنینؑ کا پڑوسی تھا۔ اسی گھر میں ان کی بیٹی جناب زینبؑ بھی تھیں لیکن خدا کی قسم میں نے کبھی نہ ان کے سائے کو دیکھا اور نہ کبھی ان کی آواز سنی۔ اور جب وہ اپنے نانا کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتیں تو رات کی تاریکی میں نکلتیں تھیں۔ امام حسنؑ داہنی طرف ، امام حسینؑ بائیں طرف اور امیر المومنین ؑ آگے آگے ہوتے تھے۔ اور جب قبر مبارک کے نزدیک پہنچتیں تو امیر المومنینؑ آگے بڑھ کر چراغ کو گل فرمادیتے تھے۔ ایک دفعہ امام حسنؑ نے وجہ دریافت کی تو فرمایا: اخشی ان ینظر احد الی شخص اختک زینب  تاکہ تمہاری بہن کے قدو قامت اور پرچھائی پر کسی کی نگاہ نہ پڑ جائے ۔ حضرت زینبؑ نے اپنی چاہنے والیوں کے لئے جہاں ایک طرف حجاب و پردے کا پیغام دیا۔ وہیں سخت مصائب و مشکلات پر صبر اور اپنے فرائض و ذمہ داریوں کی سخت حالات میں بھی ادائیگی کا درس دیا ہے۔ ایسے سخت حالات اور مصائب و مشکلات میں گھر کر بھی حتیٰ کہ نماز شب کو بھی فراموش نہ کرکے عبادت الٰہی بالخصوص نماز کی اہمیت بتائی۔ پھر امیر المومنینؑ کی ظاہر ی خلافت کے دور میں کوفہ میں خواتین کو درس قرآن و احکام دے کر اگر طرف اس کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا تو دوسری طرف یہ بھی ثابت کردیا کہ اولاً عورتوں کے لئے بھی تعلیم ضروری ہے ثانیاً مکمل اسلامی حجاب میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے۔ 
جناب زینبؑ نے کربلا اور اس کے بعد کے تمام مصائب وآلام کو برداشت کرنے کے بعد روز شنبہ اتوار کی رات ۱۴؍ رجب ۶۲ھ؁ کو شام کے ایک باغ میں سر پر ایک شقی کے بیلچہ مارنے کی وجہ سے انتقال کیا۔ آپ کا روضہ شام میں مرجع خلائق ہے۔ ٭٭٭٭٭

حضرت معصومہ قم ؑ

معصومہ قم
سید محمد حسنین باقری

یکم  ذی قعدۃ الحرام ۱۷۳ھ؁ وہ تاریخ ہے جس دن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بیٹی اور امام علی رضا ؑ کی بہن حضرت فاطمہ ٔ معصومہ کی مدینۂ منورہ میں ولادت ہوئی۔ آپ علم و عمل ،تقویٰ و پرہیزگاری اور فضائل و کمالات میں بے نظیر تھیں۔ ائمہ معصومینؑ کی جانب سے عطا ہونے والے القاب ہی آپ کی عظمت و منزلت ظاہر کرنے والے ہیں۔ مثلاً :معصومہ ، کریمہ، شفیعہ ، عالمہ ، محدّثہ، طاہرہ، تقیہ، عابدہ، سیدہ، رضیہ، حمیدہ، رشیدہ، نقیہ، مرضیہ اور صدیقہ وغیرہ ۔ 
انہیں القاب میں ایک لقب ’’معصومہ‘‘ بھی ہے جس سے آپ مشہور بھی ہوئیں۔ یعنی’’ فاطمہ ٔ معصومہ ‘‘یا ’’معصومہ ٔ قم ‘‘ان دو ناموں سے آپ زیادہ مشہور ہیں۔ خدا کی جانب سے عطا ہونے والی عصمت کاملہ جو صرف ۱۴؍ افراد سے مخصوص ہے۔ لیکن ۱۴؍ انوار کے علاوہ اسی گھرانے میں بعض افراد نے اپنے کو اس مرتبہ تک پہنچایا کہ انہیں بھی تہذیب و تزکیہ نفس اور تمام گناہوں و خطاؤں سے دوری کی وجہ سے معصوم کہا گیا۔ جن میں نمایاں شخصیتوں میں حضرت عباسؑ اور حضرت زینبؐ حضرت علی اکبرؑکے علاوہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلامؑ کی یہ بیٹی بھی ہیں اور اس خصوصیت کے ساتھ بھی کہ آپ ہی وہ ذات ہیں جو چہاردہ معصومینؑ کے بعد’’ معصومہ‘‘ کے لقب سے مشہور بھی ہوئیں۔ 
حضرت معصومۂ قم ؑکی ایک اور خصوصیت، آپ کا شفیعہ ٔ روز جزا ہونا ہے۔ اس سلسلے میں امام علی رضاؑ نے سعد اشعری سے زیارت معصومہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ قبر فاطمۂ معصومہؑ کے پاس جاؤ تو کہو: ’’…یافاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ فان لک عند اللہ شاناً من الشان‘‘ ( اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرمائے اس لئے کہ خدا وند عالم کے نزدیک آپ کو عظیم منزلت و مرتبہ حاصل ہے۔ ) (بحار الانوار جلد۱۰۲،ص۲۶۶)
یا اسی طرح سے امام جعفر صادق ؑ کا یہ ارشاد کہ: ’’تدخل بشفاعتھا شیعتنا الجنۃ باجمعھم‘‘ فاطمۂ معصومہ کی شفاعت سے میرے تمام شیعہ داخل بہشت ہوں گے۔ ان جملات سے ہم معصومۂ قم کی عظمت و رفعت اور مقام و مرتبے کو پہچانیں اور ساتھ ہی اندازہ لگائیں کہ جب آپ کو یہ مرتبہ حاصل ہے تو ائمہ معصومینؑ کارتبہ کیا ہوگا؟۔
مشہور قول کے مطابق ۱۰؍ ربیع الآخر ۲۰۱ھ؁ یعنی امام رضا علیہ السلام کی شہادت سے دو سال قبل عالم غربت میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ آپ اپنے بھائی امام رضا ؑ کی محبت میں مدینے سے خراسان کی جانب سفر کی صعوبتیں برداشت کرتی ہوئی اپنے بعض اعزاء واحباب کے ساتھ نکلیں۔ لیکن قم سے نزدیک مقام ساوہ میں دشمنان اہلبیتؑ کے حملے کی وجہ سے اپنے چند ساتھیوں کی شہادت کے بعد خود بھی بیمار ہوکر قم تشریف لائیںلیکن وہاں پر ۱۷؍ دن سے زیادہ زندہ نہ رہیںاور اپنے بھائی کی ملاقات کی تمنا لئے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ قم کی مقدس سرزمین آپ کا مدفن قرار پائی جس کے بارے میں امام جعفر صادق ؑ کا ارشاد ہے :خدا وند عالم کیلئے مکہ حرم ہے اور رسول اکرمؐ کا حرم مدینہ ہے اور امیر المومنینؑ کا حرم کوفہ ہے اور میرا و میری اولاد کا حرم قم ہے، اور یاد رکھو! کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے۔ اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میںسے تین دروازے قم کی جانب ہیں۔وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون فاطمہ بنت موسیٰ ابن جعفرؑ رحلت کریں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ داخل بہشت ہوںگے۔ (بحار الانوار جلد۶۰ ص ۲۲۸۔ جامع احادیث الشیعہ جلد۱۲ ص ۶۱۷)۔ آپ کی زیارت کے سلسلے میں بھی معصومینؑ کی جانب سے بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ جیسا کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا : من زارہا عارفاً بحقھا فلہ الجنۃ‘‘ جس نے بھی (فاطمہ بنت موسیٰ ابن جعفر) ؑ کی زیارت معرفت کے ساتھ کی اس پر جنت واجب ہے۔ (بحار الانوار جلد ۱۰۲،ص۱۵۶)۔
اور امام محمد تقیؑ کا یہ ارشاد ہے کہ من زارھا عمتی بقم فلہ الجنۃ جس نے بھی میری پھوپھی کی قم میں زیارت کی اس پر جنت واجب ہے۔ (کامل الزیارات ص۳۲۴)خدا وند عالم سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا میں معصومۂ قمؑ کے روضے کی زیارت اور قیامت میں آپ کی شفاعت عطا فرمائے۔ (آمین)
٭…٭…٭

اسرائیل کا ناپاک وجود

اسرائیل کا ناپاک وجود
سید محمد حسنین باقری

’’اسرائیل ایک سرطانی ٹیومر ہے ؛اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹنا چاہیے ‘‘۔
(امام خمینی ؒ)
کینسر کا ٹیومر جب تک بدن میں رہے گا رہ رہ کر اذیت کرتا رہے گا ابتدا میں تو یہ اپنی ہی جگہ پر نقصان پہنچائے گا لیکن آہستہ آہستہ پورے بدن کو اپنی لپیٹ میں لیتا رہیگا ،اس کا علاج صرف اور صرف یہ ہے کہ اسے نیست و نابود کردیا جائے اور صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے اسرائیل کا وجود بعینہ اسی طرح ہے جب تک یہ دنیا میں باقی رہے گا اپنے مہلک اثرات چھوڑتا رہے گا اور وجود انسانی کو نقصان پہنچاتا رہیگا۔یہ لوگوں کی بھول ہے کہ یہ لبنان یا فلسطین کا مسئلہ ہے ہم سے کیا مطلب!نہیں ،اگر گذشتہ کل لبنان کا نمبر تھا اور آج فلسطین کا تو آئندہ کل مصر اور سعودی عرب یا کسی اور دوسرے ملک کی نوبت بھی آسکتی ہے۔
 ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا کہ قبلۂ اول کی غاصب اسرائیل کی جارحیت روز بروز اپنے ناپاک وجود کے اثرات چھوڑتی جارہی ہے کل لبنان کے بعد آج فلسطین میں پھر اس نے ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا،غزہ کی مکمل ناکہ بندی کرنے کے بعد بجلی،پانی،غذائی اجناس اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ،بے بس فلسطینیوں پر برّی،بحری اور فضائی بمباری کی، ممنوعہ ہتھیاروں کا کھلے عام استعمال کیا۔تقریبا ڈیڑھ ہزار بے گناہ خاک و خون میں نہائے جس میں سے بی بی سی کے مطابق ۴۲ فی صد معصوم بچے اس درندگی کا نشانہ بنے،ہزاروں کی تعداد میں بچے ،عورتیں اور مرد زخمی ہوئے متعدد مسجدیں مسمار ہوئیں ،اسپتال ،اسکول کالج اور عمومی مراکز کثرت سے تباہ و برباد ہوئے ،ہزاروں گھر ملبے کا ڈھیر بنے اور مختلف کیمپوں میں پناہ گزیں عورتوں اور بچوں پر بھی بم برسائے گئے۔اسرائیل کی اس درندگی کے باوجود حزب اللہ کی طرح غزہ کے مظلوم عوام اور دلیر مجاہدوں کی فداکاری، شجاعت اور استقامت نے انسانیت کے دشمن کو ذلیل و رسوا کرتے ہوئے شکست سے دوچار کر دیا۔اور یہی ایمان اور ثابت قدمی اسرائیل کی غاصب حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی کامیابی کے دو ایسے اہم کلیدی عنصر ہیںجن کی وجہ سے آج صہیونی دشمن ذلیل و ناکام ہوا۔فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی نشیب و فراز سے بھری تاریخ میں بعض ایسے سازشی عناصر بھی موجود رہے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ صلح کے سیراب سے آس لگائے رہے اور صیہونیوں اور امریکہ کا کھلونا بنے رہے ۔ 
لیکن فلسطینی عوام نے ثابت قدمی کے ساتھ اپنے پامال شدہ حقوق کی بازیابی کے راستے کی درست تشخیص دی اور ظلم و طاقت کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے اور ایسی طاقت پیدا کر لی کہ ظالم و جابر حکومتیں اور ان کی فوجیں فلسطینی عوام کے سامنے ناکام اور ذلیل ہوئیں۔ غزہ کے لوگوں کی فدا کا ری اور حماس کی ثابت قدمی کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ۲۲ دنوں تک جارح صہیونی فوج کو غزہ کے دروازوں کے پیچھے ذلت و رسوائی سے دوچار کردیا۔ یہ وہی فوج ہے جس نے چھ دنوں کے اندر تین عرب ممالک کی وسیع سرزمینوں پر قبضہ کرلیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج نہ صرف مسلمان اقوام بلکہ امریکہ اور یورپ کی بہت سی اقوام نے غزہ کے باشندوں کی حقانیت کو قبول کرلیا ہے اور یہ بجائے خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔ 
امام خمینیؒ نے غیرت مسلم کو جھنجھوڑتے ہوئے سالوں قبل اس حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ اگر دنیا کے تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی بھی ڈال دیںتو اسرائیل کی مختصرسی حکومت سیلاب میں بہہ جائے۔مزیدیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایمانی طاقت کے آگے اسرائیل کیا دنیا کی ہر سپر پاور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگی ،جسکا ثبوت دو سال قبل حزب اللہ کے جوانوں نے اور آج فلسطین کے مجاہدوں نے نا برابرجنگ میں اسرائیل کو شکست فاش دیکر دیا ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج اگر اسرائیل اور امریکہ کے ظلم و ستم کا تذکرہ ہو رہا ہے اور اس کی مذمت کی جارہی ہے تو اسی صہیونی اور سامراجی سازش کے تحت وجود میں آنے والے اور ان کا آلہ ٔکار وہابی فرقے کا بھی تذکرہ ہونا چاہیے جو اپنے اسلاف کی روش پر چلتے ہوئے دنیا میں شیعوں کے قتل عام میں مشغول ہے،اگر ایک طرف اسرائیل بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہارہا ہے تو دوسری طرف یہ یزیدی ٹولہ عراق ،افغانستان اور بالخصوص پاکستان میں شیعوں کا قتل عام کر رہا ہے جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ رسولؐ اور آل رسول ؐ کے پیرو ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ ظلم کب تک؟فلسطینیوں کو ان کے سلب شدہ حقوق کیوں نہیں ملتے؟بیت المقدس پر ہنوز صہیونی قبضہ کیوں ہے؟مسلسل اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں ہزاروں فلسطینی خاک وخون میں کیوں لوٹ رہے ہیں؟عراق،پاکستان اور بعض دوسرے اسلامی ممالک میں روزانہ مسلمانوں کا خون کیوںبہایا جا رہا ہے؟مقامات مقدسہ کی مسلسل بے حرمتی کیوں ہو رہی ہے؟ اسلامی ممالک میں اسلام دشمن فوجیں قبضہ کیوں جمائے ہوئے ہیں؟مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر انھیں کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟اسلام اور پیغمبر اسلامؐ پر طرح طرح کے الزامات کیوں لگائے جارہے ہیں؟
اس سب کا جواب یہ ہے کہ مسلمان متحد نہیں ہیں ۔اور جب تک مسلمان متحد نہیں ہونگے اسی طرح نقصان اٹھاتے رہیں گے ۔آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمان اپنے مشترکہ دشمن کے مقابلہ متحد ہوں اور قرآن کی اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کہ’’ و اعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا ولاتفرقوا‘‘اپنے حقیقی مسلمان ہونے کا ثبوت دیں ،آپسی اختلاف سے بچیں،اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ہوشیار رہیں۔
ایسے موقع پر ہمارے وظائف :-مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی کوشش کریں اور اسلام کی نابودی کے درپے دشمن کے مقابلے ایک ہو کر اس کواس کے ناپاک عزائم میں ناکام کریں۔
 ۹ اپنے انسانی اور اسلامی وظیفہ کو پہچان کر اس پر عمل پیرا ہوں
 ۹ اسرائیل و امریکہ کی جارحیت، ان کے خطرناک عزائم اور حقیقت حال سے خود آگاہ ہوںپھرآگاہ کریں۔
 ۹اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرکے مظلوموں سے ہمدردی اور ظالم سے نفرت کا اعلان کریں۔
 ۹عالمی دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
 ۹فلسطین کے مظلوموں کی مالی امداد کا انتظام کریں۔
          ۹دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہے ،بارگاہ الہی میں دعا کریں کہ اپنی آخری حجتؑ کے ذریعہ ظلم کا خاتمہ اور دنیا کو عدل و انصاف سے  بھردے۔  

نوشتہ شدہ: فروری ۲۰۰۹

علم تفسیر پر ایک نظر


علم تفسیر پر ایک نظر
سید محمد حسنین باقری جوراسی 
تفسیر کے معنی:کلمۂ ’’تفسیر‘‘ کے لغت میں مختلف معانی بیان کیے گیے ہیں مثلا: ’’بیان‘‘ ، ’’کسی چیز کی وضاحت کرنا‘‘، ’’کسی پوشیدہ امر کو کشف و آشکار کرنا‘‘،’’ کسی معقول معنی کوکشف یا ظاہر کرنا ،’’ کسی کلام کے معنی بیان کرنا‘‘وغیرہ(۱) ۔ اکثر اہل لغات نے تفسیر کوالفاظ و عبارات کے معنی کی تشریح اوراس کو کشف کرنے کے معنی سے مخصوص کیا ہے۔
یہ لفظ قرآن کریم میں صرف ایک مرتبہ سورہ فرقان کی آیت نمبر ۳۳ میں استعمال ہوا ہے ۔اس آیت میں کلمۂ تفسیر قرآن کے تقریباً تمام کلمات کی طرح اپنے لغوی معنی یعنی کشف و بیان کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
مفسرین نے بھی اس لفظ کی مختلف تعریفیں پیش کی ہیں مثلا :’’خداوند عالم کے مراد کو اس کی کتاب عزیز سے واضح و روشن کرنے کو تفسیر کہتے ہیں‘‘(۲)؛’’قرآنی آیات کے معانی کو بیان کرنے اوراس کے مقصود و مراد کے کشف کرنے کو تفسیر کہتے ہیں‘‘(۳)؛عربی ادب کے قواعد اور عقلی محاوروں کے اصول کی بنیاد پر قرآنی آیات کے مفاد استعمالی ( لفظ کے استعمال سے مراد و مقصود) کے بیان کرنے اور اس سے خداوند عالم کے مراد اور اس کے مقصود کو کشف کرنے کو تفسیر کہتے ہیں(۴)۔
تفسیر کی ابتدا:آیۂ قرآنی کے مطابق علم تفسیر کی ابتدا وقت نزول ہی ہوئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مفسر قرآن کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے {۔۔۔وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمَْ}(۵)(اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ لوگوں کے لئے اس کو بیان کریں)
اس لیے کہ اس آیت میں ’’لتبیّن‘‘ کہا گیا ہے ’’لتقرأ‘‘  نہیں ،جس کا مطلب ہے کہ پیغمبر ؐ  کو قرآن کی تبیین و تفسیر کرنی ہے۔
علامہ طباطبائی اس سلسلے میں کہتے ہیں:’’قرآن مجید کے الفاظ و عبارات اور بیانات کی تفسیر اس کے نازل ہونے کے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی اور خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ،قرآن کریم کی تعلیم،معانی کے بیان اور آیات کریمہ کے مقاصد کی وضاحت کیا کرتے تھے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے:وانزلناالیک۔۔۔(۶)اور پھر فرماتا ہے:’’ ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ۔۔۔‘‘(۷)(وہی تو ہے جس نے جاہلوں میں ان ہی میں کا ایک رسول (محمدؐ) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور ان کو کتاب اور عقل کی باتیں سکھاتے ہیں۔)
آنحضرت ؐ کے زمانے میں آپؐ کے حکم سے بعض لوگ قرآن مجید کی قرائت ،حفظ اور اس کو محفوظ رکھنے میں مصروف تھے جن کو قرّاء کہا جاتا تھا۔آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد آپؐ کے اصحاب نے اور ان کے بعد تمام مسلمان قرآن مجید کی تفسیر میں مشغول اور مصروف رہے اور آج تک مصروف ہیں‘‘(۸)  
 علم تفسیر کی تدوین:یہ صحیح ہے کہ سب سے پہلے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیات کی تفسیر پیش کی لیکن یہ ایک مدوّن منسجم علم کے عنوان سے امام علی ؑ کے زمانے میں شروع ہوئی۔جیسا کہ اس علم کے ماہرین اپنے اسانید کا سلسلہ حضرت ؑ تک پہنچاتے ہیں(۹)یعنی واضع علم تفسیر امیر المومنینؑ ہیں ۔یہاں پر یہ کہنا کہ ابن عباس نے اس علم کو وضع کیا ہے(۱۰)،کسی بھی اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔اس لئے کہ خود ابن عباس فرماتے ہیں :’’میں نے تفسیر سے متعلق جو کچھ بھی سیکھا ہے،حضرت علیؑ سے سیکھا ہے‘‘(۱۱)اور اسی چشمہ سے استفادہ کرتے ہوئے سب سے پہلی مدوّن تفسیر ابن عباس کے موثق ترین  شاگرد مجاہد بن جَبر (متوفی ۱۰۴؁ھ)نے لکھی (۱۲)ان کے بعد سے تفسیر نویسی ایک اسلامی سنت میں تبدیل ہو گئی (۱۳)
روش تفسیر کے اقسام(۱۴) :تفسیری روش کے اقسام کے سلسلے میں بھی اگر کتابوں میں مراجعہ کیا جائے تو نظرآتا ہے کہ علماء و مفسرین نے روش کی مختلف قسمیںمختلف اعتبار سے اور مختلف عناوین کے ساتھ بیان کی ہیں یہ اقسام کبھی تو ایک دوسرے کی جگہ پر ذکر ہوئے ہیں او رکبھی روش و رجحان کے درمیان خلط ملط ہوا ہے ۔
ان اقسام کی تعداد میں بھی بہت زیادہ اختلاف ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ علماء نے مختلف عناوین سے مختلف قسموں کوذکر کیا ہے۔ اکثر کا نتیجہ ایک ہی ہے کچھ لوگوں نے زیادہ قسمیں بیان کی ہیں ا ن میں سے اکثر قسمیں کلی عناوین کے تحت جمع ہوسکتی ہیں جیسا کہ بعض علماء نے یہی کام کیا ہے ۔ بعض نے روش تفسیر کے اقسام کے ذیل میں سلسلہ وار تمام قسموں کو بیان کیا جبکہ بعض لوگوں نے پہلے کلی اقسام بیان کئے ہیں پھر ا ن کے ذیل میں جزئی قسمیں بیان کی ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ کبھی بعض تفسیری طریقے ایک اعتبار سے روش تفسیر کا جزء اور دوسرے اعتبار سے رجحان تفسیر کاجزء شمار ہوتے ہیں ۔ مثلا روش تفسیر علمی اس اعتبار سے کہ قرآن کے سمجھنے میں علوم کی ضرورت ہے ، تفسیری روش شمار ہوتی ہے اور اس ا عتبار سے کہ بعض مفسرین مثلا طنطاوی نے الجواہر میں علوم تجربی کے بہت سے مطالب تفسیر میں نقل کئے ہیں ،رجحان تفسیر شما رہوتی ہے۔ یہی بات روش تفسیر اشاری (عرفانی و باطنی) اور روش تفسیر روائی کی بنسبت بھی صادق آتی ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تفسیری روشیں او ر رجحانات ایک دوسرے کی نفی کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں اور ایک کے ماننے سے دوسری روش یا رجحان کانہ ماننا لازم نہیں آتا البتہ روش تفسیر بالرائے اور روش تفسیر علمی و اشاری کی بعض فرعی قسمیں اورا ن کی بنیاد پر تفسیر کرنا ممنوع ہے۔
 تفسیری روشیں:آیات کے معانی ومقاصد حاصل کرنے کی کیفیت کی بنیاد پر تفسیر میں استفادہ ہونے والے منابع و وسائل کو دیکھتے ہوئے قرآن کی تفسیر ی روش کی دو اہم قسمیں ہیں جن کے ذیل میں مزید چند قسمیں ہیں:
الف: ناقص تفسیری روشیں: ۱۔ روش تفسیر قرآن بالقرآن   ۲۔ روش تفسیر روائی (سنت کی بنیاد پر تفسیر)
۳۔روش تفسیر علمی (قرآن کوسمجھنے میں علوم تجربی کے ذریعہ تفسیر)  
۴۔ روش تفسیر اشاری (عرفانی، صوفی، باطنی، رمزی، شہودی) ۵۔ روش تفسیر عقلی واجتہادی
 ۶۔ روش تفسیر بالرائے (تفسیر قرآن میں ممنوع روش)
ب: کامل تفسیری روشیں:قرآن کی کامل تفسیری روش سے مراد ، وہ روش ہے جس میں تمام صحیح تفسیری روشوں (مندرجہ بالا ابتدائی پانچ روشوں) سے استفادہ کیا جائے تاکہ آیات کا مقصود و مراد مکمل طور پر حاصل ہو اور بیان ہو۔
 ممکن ہے کہ ان میں سے ہر روش معتبر ہو اور ہم کو آیات قرآنی کی تبیین تک پہنچائے ،جو تفسیر کا اصل مقصد ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی روش معتبر نہ ہو لہذا ہر مفسر کے لئے ضروری ہے کہ معتبر تفسیر کے معیار ات کی رعایت کرے تاکہ صحیح اورمعتبر تفسیر سامنے آئے۔
تفسیری رجحانات(اتجاہات):تفسیر قرآن کے رجحانات،مفسرین کے افکار ، نظریات ،میلان ،علمی مہارت اور ذوق کے اعتبار سے مندرجہ ذیل قسموں میں بیان ہوئے ہیں:
الف: تفسیری مذاہب: اسلامی مذہب کے ماننے والوں نے اپنے عقیدے کے مطابق تفسیر کی ہے اس طرح سے کہ کبھی ایک مذہب نے اپنی تفسیرمیںکوئی  خاص طریقہ اختیار کیا ہے ، مثلا شیعہ مفسرین نے اہل بیت % کی راہنمائیوں کی بنیاد پر قرآن کے ظاہر وباطن اوراہل بیت ؑ سے متعلق آیات کی طرف توجہ کی ہے، آیات کی تفسیر میںپیغمبر وں کی عصمت کا خیال رکھا ہے اسی وجہ سے تفسیر میں ا یک خاص طریقہ پیدا کیا ہے۔ اسماعیلیہ نے باطنی و رمزی طریقہ کے ذریعے اورخوارج نے اپنے خاص طریقے کے مطابق قرآن کی تفسیر کی ہے اورہر ایک اپنی تفسیر میں ایک خاص مذہب رکھتے ہیں شائد صوفی تفسیروں کو بھی تفسیری مذاہب سے ملحق کیاجاسکے۔
ب: تفسیری مکاتب (کلامی رجحان):معتزلہ،اشاعرہ اورشیعہ متکلمین کی طرح بعض کلامی مکتب کے ماننے والوں نے اپنے فکری رجحان کے مطابق قرآن کی تفسیر کی ہے ۔بطور مثال زمخشری کی تفسیر کشّاف، معتزلی رجحان کے ساتھ لکھی گئی ہے۔
ج: تفسیری اسلوب (الوان تفسیر):قرآنی مفسرین نے کسی خاص علم میں مہارت کی بنیاد پر یا کسی علم یاخاص موضوع پر اپنے ذوق وشوق کی بنیاد پر تفسیر لکھنے میں اسی موضوع یا علم کی طر ف زیادہ توجہ دی ہے اور انہیں مطالب کوا پنی تفسیر میں زیادہ پیش کیا ہے اس وجہ سے مختلف تفسیری اسلوب اور طریقے منجملہ ادبی ، فقہی، اجتماعی، عرفانی ، اخلاقی، تاریخی و۔۔۔ رجحانات اور اسالیب وجود میں آئے ہیں۔
د: تفسیر میں عصری رجحان(اتجاہات تفسیری):کبھی زمانے کی ضرورت ونیاز کو محسوس کرتے ہوئے مفسروں کا ذہن اپنے دور کے مسائل وشرائط کے مطابق ان میں سے کسی ایک طرف مائل ہوتا ہے اور ایک خاص رخ پیدا کرتا ہے۔ کبھی معنوی و تربیتی اوراخلاقی مسائل مفسر کواہم ترین جہت دیتے ہیں اسی وجہ سے وہ مفسر تفسیر قرآن لکھنے میں بھی معنوی اور اخلاقی آیات کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے (مثلا تفسیر فی ضلال القرآن و۔۔۔)
کبھی مفسر کی توجہ اور رجحان جہادی ، سیاسی اورحکومتوں یا صہیونیوں سے مقابلہ ہے اسی وجہ سے اس موضوع سے متعلق آیات پر زیادہ توجہ کرتا ہے ( مثلاً تفسیر مبین، محمد جواد مغنیہ) اور کبھی اسلامی مذاہب کے درمیان اتحاد اور بھائی چارگی پر توجہ دیتا ہے لہذا اپنی تفسیر میں اتحاد سے متعلق آیات پرزیادہ توجہ دیتا ہے ۔
تفسیر نویسی کے طریقے:مفسروں کی تفسیر نویسی کا طریقہ یکساں نہیں ہے اورذوق و سلیقہ کی بنیاد پر یا مخصوص مخاطبین کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھنے کے طریقے اور مطلب بیان کرنے کی روش میں فرق ہے ، کبھی تو تفسیر ،ترتیبی ہے یعنی قرآن کی شروع سے آخر تک ایک ایک آیت کی تفسیر ہوتی ہے (اکثر تفسیریں اسی طریقے پر لکھی گئی ہیں مثلا تفسیر المیزان، نمونہ، مجمع البیان،فصل الخطاب اور تفہیم القرآن وغیرہ) اور کبھی تفسیر موضوعی ہے یعنی ایک موضوع کو مختلف سوروںاورآیات میں تلاش کرتا ہے اور اس سے متعلق بحث کی جمع آوری اور نتیجہ گیری کرتا ہے (مثلاتفسیر پیام قرآن ، آیۃ ا ۔۔۔ مکارم شیرازی و منشور جاوید ، آیۃ ا۔۔۔ سبحانی وغیرہ)
مفسر کبھی توبہت ہی اختصار سے کا م لیتا ہے اور کبھی طولانی بحث کرتا ہے اور کبھی متوسط یعنی تفسیروں کا حجم اور کمیت متفاوت ہے، مثلا فیض کا شانی مرحوم نے تین تفسیریں، الاصفی ،مصفی وصافی اورسید شبر مرحوم نے تین تفسیریں: الوجیز، الجوہرالثمین اورصفوۃ التفاسیر اور علامہ طبرسی مرحوم نے تین تفسیریں جوامع الجامع ، مجمع البیان اور الکاف الشاف لکھیں جو بالترتیب مختصر ، متوسط اور مفصل ہیں۔
کبھی تفسیریں شرح ومتن کی صورت میں ہیں، یعنی آیت کو متن اور تفسیر کو اس کی شرح قرار دیا گیا ہے مثلاتفسیر المیزان ا ور تفسیر فصل الخطاب اورکبھی آیات مخلوط ومزجی صورت میں ہیں جیسے تفسیر شبر اور نہاوندی کی نفحات الرحمان، کبھی تمام آیتوں کی تفسیر کی گئی جیسے مجمع البیان اور نمونہ  او رکبھی ناقص یا کسی سورہ یا کچھ آیات یا سوروں کی تفسیر ہوتی ہیں مثلا احکام القرآن، راوندی جو قرآن کی فقہ سے متعلق آیات پر مشتمل ہے اور تفسیرآلاء الرحمن، بلاغی جوناقص ہے او رکبھی تفسیر جامع ہے یعنی علوم قرآن اور فنون قراء ات ، لغت ، ادب ،اقوال و روایات کو شامل ہے اورکبھی تخصصی (مثلا روائی یا ادبی تفسیریں)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔لسان العرب، ابن منظور؛مجمع البحرین ،فخر الدین طریحی؛ کتاب العین ،خلیل احمد فراہیدی ،مفردات راغب (مادہ فسر کے ذیل میں)۔
۲۔ البیان،آیۃاللہ خوئیؒ، ص۳۹۷ ۔ ۳۔ المیزان فی تفسیر القرآن، علامہ محمد حسین طباطبائیؒ، ج۱، ص۴۔
۴۔ روش تفسیر قرآن، حجۃالاسلام محمود رجبی، ص۱۲وروش شناسی تفسیر قرآن، ص۲۳۔
۵ و ۶۔ سورہ نحل:۴۴ ۷۔  سورہ جمعہ:۲
۸۔شیعہ در قرآن،علامہ سید محمد حسین طباطبائی،ص۴۸ ۹۔تفسیر نمونہ،ج۱،ص۱۹
۱۰۔تاریخ القرآن،ٹئوڈور نولڈکہ،ص۳۸۳ ۱۱۔تاریخ تفسیر و مفسرین،غلام احمد حریری،ص۸۹
۱۲۔تفسیر و مفسران،ڈاکٹر ذہبی،ج۲،ص۳۰۴ ۱۳۔تفسیر موضوعی قرآن کریم،مؤلفین،ص۵۷
۱۴۔با استفادہ از روشہای تفسیر قرآن ،ڈاکٹر محمد علی رضائی