جمعہ، 1 مئی، 2020

حضرت معصومہ قم ؑ

معصومہ قم
سید محمد حسنین باقری

یکم  ذی قعدۃ الحرام ۱۷۳ھ؁ وہ تاریخ ہے جس دن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بیٹی اور امام علی رضا ؑ کی بہن حضرت فاطمہ ٔ معصومہ کی مدینۂ منورہ میں ولادت ہوئی۔ آپ علم و عمل ،تقویٰ و پرہیزگاری اور فضائل و کمالات میں بے نظیر تھیں۔ ائمہ معصومینؑ کی جانب سے عطا ہونے والے القاب ہی آپ کی عظمت و منزلت ظاہر کرنے والے ہیں۔ مثلاً :معصومہ ، کریمہ، شفیعہ ، عالمہ ، محدّثہ، طاہرہ، تقیہ، عابدہ، سیدہ، رضیہ، حمیدہ، رشیدہ، نقیہ، مرضیہ اور صدیقہ وغیرہ ۔ 
انہیں القاب میں ایک لقب ’’معصومہ‘‘ بھی ہے جس سے آپ مشہور بھی ہوئیں۔ یعنی’’ فاطمہ ٔ معصومہ ‘‘یا ’’معصومہ ٔ قم ‘‘ان دو ناموں سے آپ زیادہ مشہور ہیں۔ خدا کی جانب سے عطا ہونے والی عصمت کاملہ جو صرف ۱۴؍ افراد سے مخصوص ہے۔ لیکن ۱۴؍ انوار کے علاوہ اسی گھرانے میں بعض افراد نے اپنے کو اس مرتبہ تک پہنچایا کہ انہیں بھی تہذیب و تزکیہ نفس اور تمام گناہوں و خطاؤں سے دوری کی وجہ سے معصوم کہا گیا۔ جن میں نمایاں شخصیتوں میں حضرت عباسؑ اور حضرت زینبؐ حضرت علی اکبرؑکے علاوہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلامؑ کی یہ بیٹی بھی ہیں اور اس خصوصیت کے ساتھ بھی کہ آپ ہی وہ ذات ہیں جو چہاردہ معصومینؑ کے بعد’’ معصومہ‘‘ کے لقب سے مشہور بھی ہوئیں۔ 
حضرت معصومۂ قم ؑکی ایک اور خصوصیت، آپ کا شفیعہ ٔ روز جزا ہونا ہے۔ اس سلسلے میں امام علی رضاؑ نے سعد اشعری سے زیارت معصومہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ قبر فاطمۂ معصومہؑ کے پاس جاؤ تو کہو: ’’…یافاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ فان لک عند اللہ شاناً من الشان‘‘ ( اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرمائے اس لئے کہ خدا وند عالم کے نزدیک آپ کو عظیم منزلت و مرتبہ حاصل ہے۔ ) (بحار الانوار جلد۱۰۲،ص۲۶۶)
یا اسی طرح سے امام جعفر صادق ؑ کا یہ ارشاد کہ: ’’تدخل بشفاعتھا شیعتنا الجنۃ باجمعھم‘‘ فاطمۂ معصومہ کی شفاعت سے میرے تمام شیعہ داخل بہشت ہوں گے۔ ان جملات سے ہم معصومۂ قم کی عظمت و رفعت اور مقام و مرتبے کو پہچانیں اور ساتھ ہی اندازہ لگائیں کہ جب آپ کو یہ مرتبہ حاصل ہے تو ائمہ معصومینؑ کارتبہ کیا ہوگا؟۔
مشہور قول کے مطابق ۱۰؍ ربیع الآخر ۲۰۱ھ؁ یعنی امام رضا علیہ السلام کی شہادت سے دو سال قبل عالم غربت میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ آپ اپنے بھائی امام رضا ؑ کی محبت میں مدینے سے خراسان کی جانب سفر کی صعوبتیں برداشت کرتی ہوئی اپنے بعض اعزاء واحباب کے ساتھ نکلیں۔ لیکن قم سے نزدیک مقام ساوہ میں دشمنان اہلبیتؑ کے حملے کی وجہ سے اپنے چند ساتھیوں کی شہادت کے بعد خود بھی بیمار ہوکر قم تشریف لائیںلیکن وہاں پر ۱۷؍ دن سے زیادہ زندہ نہ رہیںاور اپنے بھائی کی ملاقات کی تمنا لئے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ قم کی مقدس سرزمین آپ کا مدفن قرار پائی جس کے بارے میں امام جعفر صادق ؑ کا ارشاد ہے :خدا وند عالم کیلئے مکہ حرم ہے اور رسول اکرمؐ کا حرم مدینہ ہے اور امیر المومنینؑ کا حرم کوفہ ہے اور میرا و میری اولاد کا حرم قم ہے، اور یاد رکھو! کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے۔ اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میںسے تین دروازے قم کی جانب ہیں۔وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون فاطمہ بنت موسیٰ ابن جعفرؑ رحلت کریں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ داخل بہشت ہوںگے۔ (بحار الانوار جلد۶۰ ص ۲۲۸۔ جامع احادیث الشیعہ جلد۱۲ ص ۶۱۷)۔ آپ کی زیارت کے سلسلے میں بھی معصومینؑ کی جانب سے بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ جیسا کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا : من زارہا عارفاً بحقھا فلہ الجنۃ‘‘ جس نے بھی (فاطمہ بنت موسیٰ ابن جعفر) ؑ کی زیارت معرفت کے ساتھ کی اس پر جنت واجب ہے۔ (بحار الانوار جلد ۱۰۲،ص۱۵۶)۔
اور امام محمد تقیؑ کا یہ ارشاد ہے کہ من زارھا عمتی بقم فلہ الجنۃ جس نے بھی میری پھوپھی کی قم میں زیارت کی اس پر جنت واجب ہے۔ (کامل الزیارات ص۳۲۴)خدا وند عالم سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا میں معصومۂ قمؑ کے روضے کی زیارت اور قیامت میں آپ کی شفاعت عطا فرمائے۔ (آمین)
٭…٭…٭

اسرائیل کا ناپاک وجود

اسرائیل کا ناپاک وجود
سید محمد حسنین باقری

’’اسرائیل ایک سرطانی ٹیومر ہے ؛اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹنا چاہیے ‘‘۔
(امام خمینی ؒ)
کینسر کا ٹیومر جب تک بدن میں رہے گا رہ رہ کر اذیت کرتا رہے گا ابتدا میں تو یہ اپنی ہی جگہ پر نقصان پہنچائے گا لیکن آہستہ آہستہ پورے بدن کو اپنی لپیٹ میں لیتا رہیگا ،اس کا علاج صرف اور صرف یہ ہے کہ اسے نیست و نابود کردیا جائے اور صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے اسرائیل کا وجود بعینہ اسی طرح ہے جب تک یہ دنیا میں باقی رہے گا اپنے مہلک اثرات چھوڑتا رہے گا اور وجود انسانی کو نقصان پہنچاتا رہیگا۔یہ لوگوں کی بھول ہے کہ یہ لبنان یا فلسطین کا مسئلہ ہے ہم سے کیا مطلب!نہیں ،اگر گذشتہ کل لبنان کا نمبر تھا اور آج فلسطین کا تو آئندہ کل مصر اور سعودی عرب یا کسی اور دوسرے ملک کی نوبت بھی آسکتی ہے۔
 ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا کہ قبلۂ اول کی غاصب اسرائیل کی جارحیت روز بروز اپنے ناپاک وجود کے اثرات چھوڑتی جارہی ہے کل لبنان کے بعد آج فلسطین میں پھر اس نے ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا،غزہ کی مکمل ناکہ بندی کرنے کے بعد بجلی،پانی،غذائی اجناس اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ،بے بس فلسطینیوں پر برّی،بحری اور فضائی بمباری کی، ممنوعہ ہتھیاروں کا کھلے عام استعمال کیا۔تقریبا ڈیڑھ ہزار بے گناہ خاک و خون میں نہائے جس میں سے بی بی سی کے مطابق ۴۲ فی صد معصوم بچے اس درندگی کا نشانہ بنے،ہزاروں کی تعداد میں بچے ،عورتیں اور مرد زخمی ہوئے متعدد مسجدیں مسمار ہوئیں ،اسپتال ،اسکول کالج اور عمومی مراکز کثرت سے تباہ و برباد ہوئے ،ہزاروں گھر ملبے کا ڈھیر بنے اور مختلف کیمپوں میں پناہ گزیں عورتوں اور بچوں پر بھی بم برسائے گئے۔اسرائیل کی اس درندگی کے باوجود حزب اللہ کی طرح غزہ کے مظلوم عوام اور دلیر مجاہدوں کی فداکاری، شجاعت اور استقامت نے انسانیت کے دشمن کو ذلیل و رسوا کرتے ہوئے شکست سے دوچار کر دیا۔اور یہی ایمان اور ثابت قدمی اسرائیل کی غاصب حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی کامیابی کے دو ایسے اہم کلیدی عنصر ہیںجن کی وجہ سے آج صہیونی دشمن ذلیل و ناکام ہوا۔فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی نشیب و فراز سے بھری تاریخ میں بعض ایسے سازشی عناصر بھی موجود رہے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ صلح کے سیراب سے آس لگائے رہے اور صیہونیوں اور امریکہ کا کھلونا بنے رہے ۔ 
لیکن فلسطینی عوام نے ثابت قدمی کے ساتھ اپنے پامال شدہ حقوق کی بازیابی کے راستے کی درست تشخیص دی اور ظلم و طاقت کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے اور ایسی طاقت پیدا کر لی کہ ظالم و جابر حکومتیں اور ان کی فوجیں فلسطینی عوام کے سامنے ناکام اور ذلیل ہوئیں۔ غزہ کے لوگوں کی فدا کا ری اور حماس کی ثابت قدمی کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ۲۲ دنوں تک جارح صہیونی فوج کو غزہ کے دروازوں کے پیچھے ذلت و رسوائی سے دوچار کردیا۔ یہ وہی فوج ہے جس نے چھ دنوں کے اندر تین عرب ممالک کی وسیع سرزمینوں پر قبضہ کرلیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج نہ صرف مسلمان اقوام بلکہ امریکہ اور یورپ کی بہت سی اقوام نے غزہ کے باشندوں کی حقانیت کو قبول کرلیا ہے اور یہ بجائے خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔ 
امام خمینیؒ نے غیرت مسلم کو جھنجھوڑتے ہوئے سالوں قبل اس حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ اگر دنیا کے تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی بھی ڈال دیںتو اسرائیل کی مختصرسی حکومت سیلاب میں بہہ جائے۔مزیدیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایمانی طاقت کے آگے اسرائیل کیا دنیا کی ہر سپر پاور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگی ،جسکا ثبوت دو سال قبل حزب اللہ کے جوانوں نے اور آج فلسطین کے مجاہدوں نے نا برابرجنگ میں اسرائیل کو شکست فاش دیکر دیا ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج اگر اسرائیل اور امریکہ کے ظلم و ستم کا تذکرہ ہو رہا ہے اور اس کی مذمت کی جارہی ہے تو اسی صہیونی اور سامراجی سازش کے تحت وجود میں آنے والے اور ان کا آلہ ٔکار وہابی فرقے کا بھی تذکرہ ہونا چاہیے جو اپنے اسلاف کی روش پر چلتے ہوئے دنیا میں شیعوں کے قتل عام میں مشغول ہے،اگر ایک طرف اسرائیل بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہارہا ہے تو دوسری طرف یہ یزیدی ٹولہ عراق ،افغانستان اور بالخصوص پاکستان میں شیعوں کا قتل عام کر رہا ہے جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ رسولؐ اور آل رسول ؐ کے پیرو ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ ظلم کب تک؟فلسطینیوں کو ان کے سلب شدہ حقوق کیوں نہیں ملتے؟بیت المقدس پر ہنوز صہیونی قبضہ کیوں ہے؟مسلسل اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں ہزاروں فلسطینی خاک وخون میں کیوں لوٹ رہے ہیں؟عراق،پاکستان اور بعض دوسرے اسلامی ممالک میں روزانہ مسلمانوں کا خون کیوںبہایا جا رہا ہے؟مقامات مقدسہ کی مسلسل بے حرمتی کیوں ہو رہی ہے؟ اسلامی ممالک میں اسلام دشمن فوجیں قبضہ کیوں جمائے ہوئے ہیں؟مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر انھیں کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟اسلام اور پیغمبر اسلامؐ پر طرح طرح کے الزامات کیوں لگائے جارہے ہیں؟
اس سب کا جواب یہ ہے کہ مسلمان متحد نہیں ہیں ۔اور جب تک مسلمان متحد نہیں ہونگے اسی طرح نقصان اٹھاتے رہیں گے ۔آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمان اپنے مشترکہ دشمن کے مقابلہ متحد ہوں اور قرآن کی اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کہ’’ و اعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا ولاتفرقوا‘‘اپنے حقیقی مسلمان ہونے کا ثبوت دیں ،آپسی اختلاف سے بچیں،اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ہوشیار رہیں۔
ایسے موقع پر ہمارے وظائف :-مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی کوشش کریں اور اسلام کی نابودی کے درپے دشمن کے مقابلے ایک ہو کر اس کواس کے ناپاک عزائم میں ناکام کریں۔
 ۹ اپنے انسانی اور اسلامی وظیفہ کو پہچان کر اس پر عمل پیرا ہوں
 ۹ اسرائیل و امریکہ کی جارحیت، ان کے خطرناک عزائم اور حقیقت حال سے خود آگاہ ہوںپھرآگاہ کریں۔
 ۹اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرکے مظلوموں سے ہمدردی اور ظالم سے نفرت کا اعلان کریں۔
 ۹عالمی دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
 ۹فلسطین کے مظلوموں کی مالی امداد کا انتظام کریں۔
          ۹دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہے ،بارگاہ الہی میں دعا کریں کہ اپنی آخری حجتؑ کے ذریعہ ظلم کا خاتمہ اور دنیا کو عدل و انصاف سے  بھردے۔  

نوشتہ شدہ: فروری ۲۰۰۹

علم تفسیر پر ایک نظر


علم تفسیر پر ایک نظر
سید محمد حسنین باقری جوراسی 
تفسیر کے معنی:کلمۂ ’’تفسیر‘‘ کے لغت میں مختلف معانی بیان کیے گیے ہیں مثلا: ’’بیان‘‘ ، ’’کسی چیز کی وضاحت کرنا‘‘، ’’کسی پوشیدہ امر کو کشف و آشکار کرنا‘‘،’’ کسی معقول معنی کوکشف یا ظاہر کرنا ،’’ کسی کلام کے معنی بیان کرنا‘‘وغیرہ(۱) ۔ اکثر اہل لغات نے تفسیر کوالفاظ و عبارات کے معنی کی تشریح اوراس کو کشف کرنے کے معنی سے مخصوص کیا ہے۔
یہ لفظ قرآن کریم میں صرف ایک مرتبہ سورہ فرقان کی آیت نمبر ۳۳ میں استعمال ہوا ہے ۔اس آیت میں کلمۂ تفسیر قرآن کے تقریباً تمام کلمات کی طرح اپنے لغوی معنی یعنی کشف و بیان کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
مفسرین نے بھی اس لفظ کی مختلف تعریفیں پیش کی ہیں مثلا :’’خداوند عالم کے مراد کو اس کی کتاب عزیز سے واضح و روشن کرنے کو تفسیر کہتے ہیں‘‘(۲)؛’’قرآنی آیات کے معانی کو بیان کرنے اوراس کے مقصود و مراد کے کشف کرنے کو تفسیر کہتے ہیں‘‘(۳)؛عربی ادب کے قواعد اور عقلی محاوروں کے اصول کی بنیاد پر قرآنی آیات کے مفاد استعمالی ( لفظ کے استعمال سے مراد و مقصود) کے بیان کرنے اور اس سے خداوند عالم کے مراد اور اس کے مقصود کو کشف کرنے کو تفسیر کہتے ہیں(۴)۔
تفسیر کی ابتدا:آیۂ قرآنی کے مطابق علم تفسیر کی ابتدا وقت نزول ہی ہوئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مفسر قرآن کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے {۔۔۔وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمَْ}(۵)(اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ لوگوں کے لئے اس کو بیان کریں)
اس لیے کہ اس آیت میں ’’لتبیّن‘‘ کہا گیا ہے ’’لتقرأ‘‘  نہیں ،جس کا مطلب ہے کہ پیغمبر ؐ  کو قرآن کی تبیین و تفسیر کرنی ہے۔
علامہ طباطبائی اس سلسلے میں کہتے ہیں:’’قرآن مجید کے الفاظ و عبارات اور بیانات کی تفسیر اس کے نازل ہونے کے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی اور خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ،قرآن کریم کی تعلیم،معانی کے بیان اور آیات کریمہ کے مقاصد کی وضاحت کیا کرتے تھے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے:وانزلناالیک۔۔۔(۶)اور پھر فرماتا ہے:’’ ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ۔۔۔‘‘(۷)(وہی تو ہے جس نے جاہلوں میں ان ہی میں کا ایک رسول (محمدؐ) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور ان کو کتاب اور عقل کی باتیں سکھاتے ہیں۔)
آنحضرت ؐ کے زمانے میں آپؐ کے حکم سے بعض لوگ قرآن مجید کی قرائت ،حفظ اور اس کو محفوظ رکھنے میں مصروف تھے جن کو قرّاء کہا جاتا تھا۔آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد آپؐ کے اصحاب نے اور ان کے بعد تمام مسلمان قرآن مجید کی تفسیر میں مشغول اور مصروف رہے اور آج تک مصروف ہیں‘‘(۸)  
 علم تفسیر کی تدوین:یہ صحیح ہے کہ سب سے پہلے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیات کی تفسیر پیش کی لیکن یہ ایک مدوّن منسجم علم کے عنوان سے امام علی ؑ کے زمانے میں شروع ہوئی۔جیسا کہ اس علم کے ماہرین اپنے اسانید کا سلسلہ حضرت ؑ تک پہنچاتے ہیں(۹)یعنی واضع علم تفسیر امیر المومنینؑ ہیں ۔یہاں پر یہ کہنا کہ ابن عباس نے اس علم کو وضع کیا ہے(۱۰)،کسی بھی اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔اس لئے کہ خود ابن عباس فرماتے ہیں :’’میں نے تفسیر سے متعلق جو کچھ بھی سیکھا ہے،حضرت علیؑ سے سیکھا ہے‘‘(۱۱)اور اسی چشمہ سے استفادہ کرتے ہوئے سب سے پہلی مدوّن تفسیر ابن عباس کے موثق ترین  شاگرد مجاہد بن جَبر (متوفی ۱۰۴؁ھ)نے لکھی (۱۲)ان کے بعد سے تفسیر نویسی ایک اسلامی سنت میں تبدیل ہو گئی (۱۳)
روش تفسیر کے اقسام(۱۴) :تفسیری روش کے اقسام کے سلسلے میں بھی اگر کتابوں میں مراجعہ کیا جائے تو نظرآتا ہے کہ علماء و مفسرین نے روش کی مختلف قسمیںمختلف اعتبار سے اور مختلف عناوین کے ساتھ بیان کی ہیں یہ اقسام کبھی تو ایک دوسرے کی جگہ پر ذکر ہوئے ہیں او رکبھی روش و رجحان کے درمیان خلط ملط ہوا ہے ۔
ان اقسام کی تعداد میں بھی بہت زیادہ اختلاف ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ علماء نے مختلف عناوین سے مختلف قسموں کوذکر کیا ہے۔ اکثر کا نتیجہ ایک ہی ہے کچھ لوگوں نے زیادہ قسمیں بیان کی ہیں ا ن میں سے اکثر قسمیں کلی عناوین کے تحت جمع ہوسکتی ہیں جیسا کہ بعض علماء نے یہی کام کیا ہے ۔ بعض نے روش تفسیر کے اقسام کے ذیل میں سلسلہ وار تمام قسموں کو بیان کیا جبکہ بعض لوگوں نے پہلے کلی اقسام بیان کئے ہیں پھر ا ن کے ذیل میں جزئی قسمیں بیان کی ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ کبھی بعض تفسیری طریقے ایک اعتبار سے روش تفسیر کا جزء اور دوسرے اعتبار سے رجحان تفسیر کاجزء شمار ہوتے ہیں ۔ مثلا روش تفسیر علمی اس اعتبار سے کہ قرآن کے سمجھنے میں علوم کی ضرورت ہے ، تفسیری روش شمار ہوتی ہے اور اس ا عتبار سے کہ بعض مفسرین مثلا طنطاوی نے الجواہر میں علوم تجربی کے بہت سے مطالب تفسیر میں نقل کئے ہیں ،رجحان تفسیر شما رہوتی ہے۔ یہی بات روش تفسیر اشاری (عرفانی و باطنی) اور روش تفسیر روائی کی بنسبت بھی صادق آتی ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تفسیری روشیں او ر رجحانات ایک دوسرے کی نفی کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں اور ایک کے ماننے سے دوسری روش یا رجحان کانہ ماننا لازم نہیں آتا البتہ روش تفسیر بالرائے اور روش تفسیر علمی و اشاری کی بعض فرعی قسمیں اورا ن کی بنیاد پر تفسیر کرنا ممنوع ہے۔
 تفسیری روشیں:آیات کے معانی ومقاصد حاصل کرنے کی کیفیت کی بنیاد پر تفسیر میں استفادہ ہونے والے منابع و وسائل کو دیکھتے ہوئے قرآن کی تفسیر ی روش کی دو اہم قسمیں ہیں جن کے ذیل میں مزید چند قسمیں ہیں:
الف: ناقص تفسیری روشیں: ۱۔ روش تفسیر قرآن بالقرآن   ۲۔ روش تفسیر روائی (سنت کی بنیاد پر تفسیر)
۳۔روش تفسیر علمی (قرآن کوسمجھنے میں علوم تجربی کے ذریعہ تفسیر)  
۴۔ روش تفسیر اشاری (عرفانی، صوفی، باطنی، رمزی، شہودی) ۵۔ روش تفسیر عقلی واجتہادی
 ۶۔ روش تفسیر بالرائے (تفسیر قرآن میں ممنوع روش)
ب: کامل تفسیری روشیں:قرآن کی کامل تفسیری روش سے مراد ، وہ روش ہے جس میں تمام صحیح تفسیری روشوں (مندرجہ بالا ابتدائی پانچ روشوں) سے استفادہ کیا جائے تاکہ آیات کا مقصود و مراد مکمل طور پر حاصل ہو اور بیان ہو۔
 ممکن ہے کہ ان میں سے ہر روش معتبر ہو اور ہم کو آیات قرآنی کی تبیین تک پہنچائے ،جو تفسیر کا اصل مقصد ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی روش معتبر نہ ہو لہذا ہر مفسر کے لئے ضروری ہے کہ معتبر تفسیر کے معیار ات کی رعایت کرے تاکہ صحیح اورمعتبر تفسیر سامنے آئے۔
تفسیری رجحانات(اتجاہات):تفسیر قرآن کے رجحانات،مفسرین کے افکار ، نظریات ،میلان ،علمی مہارت اور ذوق کے اعتبار سے مندرجہ ذیل قسموں میں بیان ہوئے ہیں:
الف: تفسیری مذاہب: اسلامی مذہب کے ماننے والوں نے اپنے عقیدے کے مطابق تفسیر کی ہے اس طرح سے کہ کبھی ایک مذہب نے اپنی تفسیرمیںکوئی  خاص طریقہ اختیار کیا ہے ، مثلا شیعہ مفسرین نے اہل بیت % کی راہنمائیوں کی بنیاد پر قرآن کے ظاہر وباطن اوراہل بیت ؑ سے متعلق آیات کی طرف توجہ کی ہے، آیات کی تفسیر میںپیغمبر وں کی عصمت کا خیال رکھا ہے اسی وجہ سے تفسیر میں ا یک خاص طریقہ پیدا کیا ہے۔ اسماعیلیہ نے باطنی و رمزی طریقہ کے ذریعے اورخوارج نے اپنے خاص طریقے کے مطابق قرآن کی تفسیر کی ہے اورہر ایک اپنی تفسیر میں ایک خاص مذہب رکھتے ہیں شائد صوفی تفسیروں کو بھی تفسیری مذاہب سے ملحق کیاجاسکے۔
ب: تفسیری مکاتب (کلامی رجحان):معتزلہ،اشاعرہ اورشیعہ متکلمین کی طرح بعض کلامی مکتب کے ماننے والوں نے اپنے فکری رجحان کے مطابق قرآن کی تفسیر کی ہے ۔بطور مثال زمخشری کی تفسیر کشّاف، معتزلی رجحان کے ساتھ لکھی گئی ہے۔
ج: تفسیری اسلوب (الوان تفسیر):قرآنی مفسرین نے کسی خاص علم میں مہارت کی بنیاد پر یا کسی علم یاخاص موضوع پر اپنے ذوق وشوق کی بنیاد پر تفسیر لکھنے میں اسی موضوع یا علم کی طر ف زیادہ توجہ دی ہے اور انہیں مطالب کوا پنی تفسیر میں زیادہ پیش کیا ہے اس وجہ سے مختلف تفسیری اسلوب اور طریقے منجملہ ادبی ، فقہی، اجتماعی، عرفانی ، اخلاقی، تاریخی و۔۔۔ رجحانات اور اسالیب وجود میں آئے ہیں۔
د: تفسیر میں عصری رجحان(اتجاہات تفسیری):کبھی زمانے کی ضرورت ونیاز کو محسوس کرتے ہوئے مفسروں کا ذہن اپنے دور کے مسائل وشرائط کے مطابق ان میں سے کسی ایک طرف مائل ہوتا ہے اور ایک خاص رخ پیدا کرتا ہے۔ کبھی معنوی و تربیتی اوراخلاقی مسائل مفسر کواہم ترین جہت دیتے ہیں اسی وجہ سے وہ مفسر تفسیر قرآن لکھنے میں بھی معنوی اور اخلاقی آیات کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے (مثلا تفسیر فی ضلال القرآن و۔۔۔)
کبھی مفسر کی توجہ اور رجحان جہادی ، سیاسی اورحکومتوں یا صہیونیوں سے مقابلہ ہے اسی وجہ سے اس موضوع سے متعلق آیات پر زیادہ توجہ کرتا ہے ( مثلاً تفسیر مبین، محمد جواد مغنیہ) اور کبھی اسلامی مذاہب کے درمیان اتحاد اور بھائی چارگی پر توجہ دیتا ہے لہذا اپنی تفسیر میں اتحاد سے متعلق آیات پرزیادہ توجہ دیتا ہے ۔
تفسیر نویسی کے طریقے:مفسروں کی تفسیر نویسی کا طریقہ یکساں نہیں ہے اورذوق و سلیقہ کی بنیاد پر یا مخصوص مخاطبین کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھنے کے طریقے اور مطلب بیان کرنے کی روش میں فرق ہے ، کبھی تو تفسیر ،ترتیبی ہے یعنی قرآن کی شروع سے آخر تک ایک ایک آیت کی تفسیر ہوتی ہے (اکثر تفسیریں اسی طریقے پر لکھی گئی ہیں مثلا تفسیر المیزان، نمونہ، مجمع البیان،فصل الخطاب اور تفہیم القرآن وغیرہ) اور کبھی تفسیر موضوعی ہے یعنی ایک موضوع کو مختلف سوروںاورآیات میں تلاش کرتا ہے اور اس سے متعلق بحث کی جمع آوری اور نتیجہ گیری کرتا ہے (مثلاتفسیر پیام قرآن ، آیۃ ا ۔۔۔ مکارم شیرازی و منشور جاوید ، آیۃ ا۔۔۔ سبحانی وغیرہ)
مفسر کبھی توبہت ہی اختصار سے کا م لیتا ہے اور کبھی طولانی بحث کرتا ہے اور کبھی متوسط یعنی تفسیروں کا حجم اور کمیت متفاوت ہے، مثلا فیض کا شانی مرحوم نے تین تفسیریں، الاصفی ،مصفی وصافی اورسید شبر مرحوم نے تین تفسیریں: الوجیز، الجوہرالثمین اورصفوۃ التفاسیر اور علامہ طبرسی مرحوم نے تین تفسیریں جوامع الجامع ، مجمع البیان اور الکاف الشاف لکھیں جو بالترتیب مختصر ، متوسط اور مفصل ہیں۔
کبھی تفسیریں شرح ومتن کی صورت میں ہیں، یعنی آیت کو متن اور تفسیر کو اس کی شرح قرار دیا گیا ہے مثلاتفسیر المیزان ا ور تفسیر فصل الخطاب اورکبھی آیات مخلوط ومزجی صورت میں ہیں جیسے تفسیر شبر اور نہاوندی کی نفحات الرحمان، کبھی تمام آیتوں کی تفسیر کی گئی جیسے مجمع البیان اور نمونہ  او رکبھی ناقص یا کسی سورہ یا کچھ آیات یا سوروں کی تفسیر ہوتی ہیں مثلا احکام القرآن، راوندی جو قرآن کی فقہ سے متعلق آیات پر مشتمل ہے اور تفسیرآلاء الرحمن، بلاغی جوناقص ہے او رکبھی تفسیر جامع ہے یعنی علوم قرآن اور فنون قراء ات ، لغت ، ادب ،اقوال و روایات کو شامل ہے اورکبھی تخصصی (مثلا روائی یا ادبی تفسیریں)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔لسان العرب، ابن منظور؛مجمع البحرین ،فخر الدین طریحی؛ کتاب العین ،خلیل احمد فراہیدی ،مفردات راغب (مادہ فسر کے ذیل میں)۔
۲۔ البیان،آیۃاللہ خوئیؒ، ص۳۹۷ ۔ ۳۔ المیزان فی تفسیر القرآن، علامہ محمد حسین طباطبائیؒ، ج۱، ص۴۔
۴۔ روش تفسیر قرآن، حجۃالاسلام محمود رجبی، ص۱۲وروش شناسی تفسیر قرآن، ص۲۳۔
۵ و ۶۔ سورہ نحل:۴۴ ۷۔  سورہ جمعہ:۲
۸۔شیعہ در قرآن،علامہ سید محمد حسین طباطبائی،ص۴۸ ۹۔تفسیر نمونہ،ج۱،ص۱۹
۱۰۔تاریخ القرآن،ٹئوڈور نولڈکہ،ص۳۸۳ ۱۱۔تاریخ تفسیر و مفسرین،غلام احمد حریری،ص۸۹
۱۲۔تفسیر و مفسران،ڈاکٹر ذہبی،ج۲،ص۳۰۴ ۱۳۔تفسیر موضوعی قرآن کریم،مؤلفین،ص۵۷
۱۴۔با استفادہ از روشہای تفسیر قرآن ،ڈاکٹر محمد علی رضائی

جمعہ، 20 ستمبر، 2019

طالب علم کا مقام و مرتبہ

طالب علم کا مقام و مرتبہ
آیۃاللہ مجتہدی تہرانی
ترجمہ سید محمد حسانین باقری
احتضار کے وقت انسان سے قرآنی علوم کے علاوہ تمام علوم لے لئے جاتے ہیںلہذا اس علم کے پیچھے جائیے جو باقی رہنے والا ہے یعنی قرآن کو پڑھیے اور حفظ کیجئے اور یہ یادرکھئے کہ جنت کی لفٹ قرآن سے چلتی ہے ۔جتنا بھی پڑھیے گا اتنا ہی اوپر جائیے گا اور جہاں بھی نہیں پڑھا، لفٹ رک جائے گی اور اترنا پڑے گا ۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’حملۃ القرآن عرفاء اہل الجنۃ‘‘(کافی ج۲،ص۴۶) حاملین اور حافظین قرآن عرفاء اہل جنت ہیں۔ جب تک جوان ہیں قرآن حفظ کیجئے ، جوانی میں جو آیتیں میں نے حفظ کی تھیں ،وہ آج تک مجھے یاد ہیں، کوشش کیجئے روزانہ کچھ قرآن پڑھئے اور اس کے معنی میں غور و فکر کیجئے اور خداوند عالم سے چاہئے کہ وہ آپ کو عمل کی توفیق عطا کرے۔
امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے :’’ الا لاخیر فی قرائۃ لیس فیھا تدبر‘‘(کافی ج۱،ص۳۶)آگاہ ہوجاؤ کہ جس قرائت میں تدبر و غور وفکر نہ ہواس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔خداوند عالم قرآن میں بندوں سے شکایت کرتا ہے کہ قرآنی آیات میں غور وفکر اور تدبر کیوں نہیںکرتے؟ ’’ افلا یتدبرون القرآن ‘‘(نساء؍ ۸۲) امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: ’’ آیات القرآن خزائن فکلما فتحت خزانۃ ینبغی لک ان تنظر ما فیھا ‘‘ (کافی ۲،ص۹۰۶)۔قرآنی آیات خزانہ ہیں، لہذاجب بھی خزانہ کھلے تو تمہیں دیکھنا چاہئے کہ اس میں کیا ہے ؟
مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سید احمد خوانساری ، زخم معدہ کی وجہ سے ہاسپٹل میں بھرتی ہوئے ، اس وقت ان کی عمر ۸۹ سال تھی، ضعیفی اور کمزوری کی وجہ سے بیہوشی کے بغیر آپریشن ممکن نہ تھا ۔ دوسری طرف وہ بیہوش کرنے کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے اس لئے کہ ان کی نظر تھی کہ بیہوشی کے وقت مقلدین کی تقلید میں اشکال پیدا ہو جائے گا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ رپورٹوں کے مطابق آپ کا آپریشن ضروری ہے ۔ آیت اللہ خوانساری نے کہا: کوئی بات نہیں ہے ، جب بھی چاہو آپریشن کرو لیکن اس سے پہلے مجھے بتا دو تاکہ تلاوت قرآن اور اس میں توجہ کی وجہ سے بے ہوش کرنے کی تمہاری مشکل حل ہو جائے۔ ڈاکٹر نے کہا ٹھیک ہے اور آپریشن کی تیاری کرنے کے بعد کہا ہم آپریشن کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آیت اللہ خوانساری نے کہا : جب میں تلاوت کرناشروع کروں تو تم بھی اپنا کام شروع کر دینا۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ : جب انھوںنے سورۂ انعام کی تلاوت شروع کی تو میں نے پیٹ کا آپریشن شروع کیا ۔وہ اس طرح آرام سے لیٹے تھے جیسے مکمل بیہوشی میں یہ کام ہو رہا ہو۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ان سے کہا گیا جناب! ہمارا کا م ختم ہو گیا تو انھوںنے قرآن کوبند کیا اور کہا : صدق اللہ العلی العظیم ۔
میں نے کہا : جنابعالی آپ کے درد نہیں ہوا؟ جواب دیا : قرآن میں مشغول تھا۔ آپریشن کا پتہ بھی نہیں چلا۔
 عالم دین اور طالب علم، خدا و اہلبیت ؑ کے نزدیک بہت ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ طالب علم کو چاہئے کہ خدا کے لئے درس پڑھے ،اس کا رزق بھی پہنچ جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ ہمارے ائمہ  ؑ تو کام کرتے تھے مثلا ً حضرت علی ؑ کام کرتے تھے، تم کیوں نہیں کا م کرتے ؟ جواب دینا چاہئے کہ آنحضرت ؐ کا علم خدا کی جانب سے لدنی تھا، لیکن ہم کو چاہئے ک علم کسب کریں ۔اگر چوبیس گھنٹے بھی درس پڑھیں توکم ہے۔
امام جعفرصادق علیہ السلام نے طالب علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’طالب العلم یستغفر لہ کل شیٔ حتی الحیتان فی البحار و الطیر فی جو السماء( بحار الانوار ج۱ ،ص۱۷۳)
طالب علم کے لئے ہر شئے استغفار کرتی ہے حتی کہ سمندروں میں مجھلیاں اور آسمانوں میں پرندے ۔
ایک طالب علم نے اپنے استاد اخلاق سے کہا : عوام ہمارا اس طرح احترام کیوں نہیں کرتی جس طرح احادیث میں آیا ہے بلکہ بسا اوقات ایسابھی ہوتا ہے کہ لوگ ہماری توہین کرتے ہیں ؟ استاد نے بات سمجھانے کے لئے اس کو ایک سونے کا سکہ دیا اور کہا جاؤ سبزی خرید لاؤ ، وہ گیا لیکن سبزی فروش نے سکہ نہیں لیا اور کہا پیسہ لاؤ تب سبزی دوں گا۔ واپس آگیا ۔استاد نے دوبارہ اس کو چاول، شکر اور روٹی وغیرہ کے لئے بھیجا لیکن ان لوگوںنے بھی سکہ نہیں لیا۔ وہ واپس استاد کے پاس آیا ۔ استاد نے کہا ۔ا ب سونا بیچنے والے کے پاس جاؤ اور یہ سکہ بیچ دو۔طالب علم گیا اور سکہ بیچ کر استاد کے واپس آیا ۔استاد نے کہا : جس طرح اس سکہ کی قدر و قیمت کو جوہر ی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اورکسی نے تم سے معاملہ نہیں کیا اسی طرح سمجھ لو کہ تمہاری قدر وقیمت کو بھی خداو ائمہؑ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
ایک دن میںآیت اللہ العظمیٰ بروجردی ؒکے پاس تھا ۔وزراء اور قوم کے رؤسا ان کے پاس آئے لیکن وہ ان کے لئے کھڑے نہیں ہوئے صرف یا اللہ کہا، اسی درمیان ایک طالبعلم داخل ہوا۔ آقائے بروجردی ؒ اس کے لئے پورے قدسے کھڑے ہو گئے تاکہ علم اور طلاب کی اہمیت کو بتائیں۔اسی طرح کا قضیہ آیت اللہ کاشانی کے یہاں بھی پیش آیا ۔ جب پارلیمنٹ کے ممبران اور رؤسا انکے پاس آئے وہ ان کے سامنے کھڑے نہیں ہوئے ، اور صرف فرمایا: آؤ یہاں بیٹھو،جب وہ لوگ بیٹھ گئے ، تو اچانک ایک طالب علم داخل ہوا۔ آقائے کاشانی انتہائی زحمت کے ساتھ پورے قد سے اس کے لئے کھڑے ہو گئے۔ وہ طالب علم متحیر رہ گیا لیکن میں سمجھ گیا وہ اس کام سے ان لوگوں کو طالب علم اور علماء کی اہمیت بتانا چاہتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ آپ بھی بعض لوگوںکی باتوں سے ناراض نہ ہوں بلکہ یہ یاد رکھیں کہ اگرہم اچھے ہوں تو عوام بھی ہمارے ساتھ حسن سلوک رکھیں گے ۔ ہم کو شکر کرنا چاہئے کہ ہم ایسے لباس اور ایسے راستے میں ہیں جس سے گناہگار شرم کرتے ہیں۔

سجدے

سجدے
علامہ سید ذیشان حیدر جوادی
تعظیم اور تحقیر دو زندہ حقیقتیں ہیں جن سے دنیا کی کوئی قوم خالی نہیں ہے۔ قوموں کی نگاہ میں کچھ لوگ قابل تعظیم ہوتے ہیں اور کچھ لوگ قابل تحقیر قابل تعظیم افراد کی تعظیم کی جاتی ہے اور قابل تحقیر افراد کی تحقیرو تذلیل۔
طریقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ انداز جداگانہ ہوسکتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ کسی قوم میں ہر شخص قابل تعظیم ہوجائے یا ہر کردار کا انسان قابل تحقیر و تذلیل ہوجائے۔ قابل تعظیم کی تعظیم کرنا بھی فریضہ ہے اور قابل تحقیر کی تحقیر کرنا بھی انسانی ذمہ داری ہے۔
 ایک قوم کا قابل تعظیم دوسری قوم کا قابل تحقیر بھی ہوسکتا ہے اور ایک قوم کا انداز تحقیر دوسری قوم کا طریقۂ تعظیم بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن تعظیم و تحقیر کا سلسلہ روز اول سے قائم ہے تو آخر کائنات تک قائم رہے گا۔ جنت میںبھی جانے والے تعظیم کےساتھ ہی لے جائے جائیں گے اور جہنم میں بھی پھینکے جانے والے ذلت کے ساتھ ہی پھینکے جائیں گے۔ قرآن مجید نے مختلف اعمال کی جزائیں جنت کے ساتھ عظمت کا ذکر کیا ہے اور مختلف اعمال کی سزائیں جہنم کے ساتھ ذلت کا تذکرہ کیا ہے ۔ دعا نہ کرنےوالوں کے بارےمیں اعلان ہوتا ہے کہ ’’ جو لوگ ہماری عبادت سے استکبار و غرور رکھتے ہیں انہیں جہنم میں ذلت کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ تاکہ انہیں اندازہ ہوسکے کہ تکبر و غرور کا انجام کیسا ہوتا ہےا ور دنیا کا استکبار کس انجام تک پہنچاسکتا ہے۔
اسلام میں تحقیر و تذلیل کے متعدد ذرائع ہیں جن کا ذکر احکام کے ذیل میں کیا جاتا ہے یعنی قطع تعلق سے لیکر لعنت ابدی تک سب بدکردار افراد کی حیثیت واقعی کے اظہار کے ذرائع ہیں۔ اور اس طرح تعظیم کے بھی مختلف انداز ہیں۔ طالب علم کے لئے قیام کرنا ایک انداز تعظیم ہے بھرے مجمع میںعالم دین کو الگ سے سلام کرنا ایک انداز تعظیم ہے۔ نبیؐ اور امامؑ کی مکمل اطاعت کرنا اور ان کے اشاروں پر زندگی گزارنا ایک طریقہ تعظیم ہے اور ان سب سے عظیم ترتعظیم کا ذریعہ سجدہ ہے ۔ سجدہ کی طرح رکوع میں بھی انداز تعظیم ہے اور اسی لئے بندہ رکوع میں جانے کے بعد خدا کے عظیم ہونے کا اعلان کرتا ہے کہ وہ عظیم نہ ہوتا تو یہ تعظیم نہ ہوتی اس لئے کہ بے جہت اور بلا سبب تعظیم کرنا کار عقلاء نہیں ہے۔ تعظیم کے لئے عظمت کا ہونا ضروری ہے۔ بغیر عظمت کے تعظیم، ناشناسی ، خوشامد ، فریب اور حماقت ہوسکتی ہے تعظیم نہیںہوسکتی اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے غیر خدا کے لئے سجدہ حرام کردیا ہے کہ سجدہ انتہائے عظمت کی نشانی ہے اور انتہائی عظمت کا مالک پروردگار کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ جس کے پاس بھی عظمت و رفعت و بلندی ہے وہ اسی کے کرم کا نتیجہ ہے کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ صرف اس کی عظمت ہے جو اس کی ذات کا تقاضا ہے اس کے علاوہ سب اس کی رحمت کے زیر اثر ہیں اور یہی سبب ہے کہ غیر خدا کو جب بھی سجدہ ہوا ہے تو حکم خدا سے ہوا ہے۔ حکم خدا کے بغیر سجدہ خلاف قانون ہے ۔ سجدہ ٔآدمؑ کے بارے میں بھی قرآن مجید نے یہی بیان کیا ہے کہ انکار ابلیس کے بعد پروردگار نے یہی سوال کیا تھاکہ میرے حکم کے بعد تونے سجدہ کیوں نہیں کیا۔ یعنی سجدہ آدمؑ کا نہیں ہے کہ ان کے مادہ تخلیق پر نگاہ کی جائے۔ سجدہ میرے حکم کا ہے اور اس میں کسی چوں و چرا کی گنجائش نہیں ہے اور اسی لئے معصومین نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ سجدۂ آدمؑ حکم پر وردگار کا سجدہ تھا۔ آدمؑ کی عظمت کے لئے یہی کافی تھا کہ انہیں اس سجدہ کا قبلہ بنادیا گیا تھا ورنہ غیر خدا کے لئے سجدہ کی گنجائش نہیں ہے جناب یوسف کے سامنے برادران یوسف کا سجدہ بھی بقول روایات سجدہ ٔشکر تھا کہ اللہ نے یوسف کو اس مرتبہ تک پہنچادیا ہے ورنہ کسی اور سجدہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ( عروۃ الوثقیٰ)
اور شاید یہی وجہ ہےکہ کائنات کی عظیم ترین شخصیت جس کے بارےمیں مرسل اعظمؐ نے اعلان کیا ہے کہ ’’ انا من الحسینؑ‘‘ اور جس کی عظمت کے سامنے دنیا کی ہر قوم جبین نیاز خم کرتی ہے۔ اس کی بارگاہ میں بھی حاضری کے بعد جو نماز زیارت پڑھی جاتی ہے ، اس کے بعد دعا کا اہم ترین فقرہ ہے کہ ’’ پروردگار یہ نماز یہ سجدہ ، یہ رکوع سب تیرے لئے ہے اس لئے کہ تیرے علاوہ کسی کے لئے نماز یا رکوع یا سجدہ جائز نہیں ہے تو وہ وحدہ لا شریک ہے اور یہ اندازہ تعظیم صرف تیرے لئے ہے۔ اب یہ نماز ہدیہ ہے حسینؑ بن علی علیہ السلام  کے لئے۔ لہٰذا یہ میرا ہدیہ ان کی بارگاہ تک پہنچا دے اور مجھے اس کا اجر عنایت فرما۔
 ظاہر ہے کہ جب ذات امام حسینؑ ان عظمتوں کے بعد سجدہ کا مرکز نہ قرار پائی جس نے اپنے ایک سجدہ سے کل کائنات کو سجدہ کی طرف کھینچ لیا تھا تو دوسرا کون سجدہ کا حقدار ہوسکتا ہے۔ علماء اعلام نے اسی نکتہ کے پیش نظر فرمایا ہے کہ ائمہ معصومین ؑ کے روضوں میں چوکھٹ پر جو سجدہ کیا جائے اسے سجدۂ شکر پروردگار ہونا چاہئے کہ اس نے اس بارگاہ میں حاضری کے قابل بنایا ہے اور یہاں تک پہنچا دیا ہے سجدہ صاحب قبر کا نہیں ہونا چاہئے کہ اس سے خود صاحب قبر نے منع فرمایا ہے اور بعض علماء کرام نے تو مقام زیارت میں بھی بقدر رکوع جھکنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے کہ سجدہ کی طرح رکوع بھی عظمت پروردگار کی نشانی ہے اور بندوں کے لئے نہیں ہے جیسا کہ زیارت امام حسینؑ ہی کے ذیل میں نماز کے بارےمیں نقل کیا گیا ہے۔ دنیا کا فرشی سلام اور زمین بوس احترام ریاستوں کی پیداوار ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جب معصومینؑ نے اپنی بارگاہ میں یہ اعلان کردیا کہ رکوع اور سجدہ صرف خدائے وحدہ لا شریک کے لئے ہے تو نواب ، رئیس ، تعلقدار ، شیخ ، سلطان اور صدر جمہوریہ کی کیا حقیقت ہے اور وہ ان کے مقابلہ میں کس عظمت و حیثیت کے مالک ہیں۔
سجدہ کی ان عظمتوں کے بعد اسلام میں سجدوں کے اقسام پر بھی روشنی ڈال دی جائے تاکہ صاحبان ایمان مقام عمل میں مسائل شریعت کی طرف متوجہ رہیں اور کوئی سجدہ غلط نہ ہونے پائے:
سجدۂ نماز
یہ سجدہ ہر رکعت میںد و مرتبہ ہوتا ہے اور دونوں کا مجموعہ ایک رکن کی حیثیت رکھتا ہے اگر بھولے سے بھی دو کے چار ہوجائیں یا ایک سجدہ بھی نہ ہوسکے تو نماز باطل ہوجاتی ہے ایک یا تین پر نماز باطل نہیںہوتی بلکہ سجدہ سہو کرنا ہوتا ہے اس لئے کہ سجدہ آدھا رکن ہے اور آدھے رکن کی کمی یا زیادتی غفلت کی صورت میں نماز کو باطل نہیں کرسکتی قصداً ادنیٰ غلطی بھی نماز کو باطل کرسکتی ہے۔
سجدہ میں ساتوں اعضا کا زمین پر ٹکنا ضروری ہے ، پیشانی ، دونوں گھٹنے ، دونوں ہتھیلیاں ، اور دونوں پیر کے انگوٹھے  بعض حضرات سجدہ میں جاکر پیروں کے انگوٹھے اٹھالیتے ہیں۔ ان کا سجدہ باطل ہے۔ سجدہ میں ناک کا رکھنا مستحبات میں ہے واجبات میں نہیں ہے۔
 سجدہ کے لئے قابل سجدہ شے کا ہونا ضروری ہے اور وہ پہلی منزل میں زمین، پتھر، ریت ، سمینٹ، کچی پکی اینٹ ، اور لکڑی ، پتہ درخت کی چھال ، گھاس، ( بشرطیکہ یہ چیزیں کھانے اور پہننے میں استعمال نہ ہوتی ہوں)اور کاغذ ہے چاہے وہ سادہ ہو یا لکھا ہوا۔ سفید ہو یا رنگین ( بشرطیکہ رنگ رنگ ہو پینٹ نہ ہو)۔
اس کے بعد یہ چیزیں فراہم نہ ہوں اور وقت نماز بھی تنگ ہو تو اپنےد امن یا آستین پر سجدہ کرے اور اعضاء سجدہ کا زمین پر رکھنے کا بھی خیال رکھے ورنہ وقت میں گنجائش ہے تو نماز شروع نہ کرے یا شروع کرچکا ہے تو نماز کو توڑ کر مذکورہ بالا اشیاء کو تلا ش کرکے پھر سے نماز شروع کرے۔ دامن و آستین کی بھی گنجائش نہ ہو اور وقت نماز جارہا ہو تو بفتویٰ آیت اللہ الخوئی ؒاختیار ہے کہ چاہے پشت دست پر سجدہ کرے یا کسی بھی ناقابل سجدہ شے پر سجدہ کرلے وہ معدنیات ہوں یا فرش وغیرہ اور آیت اللہ الخمینیؒ کے فتوے کے مطابق پشت دست  پر سجدہ کرے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو معدنیات پر سجدہ کرے فرش وغیرہ کا ذکر نہیں ہے۔
 سجدۂ سہو
یہ سجدہ بھولے سے نمازمیں کلام کرنے یا بے موقع بھول کر واجب سلام پڑھ لینے یا تشہد کے بھول جانے یا ایک سجدہ کے بھول جانے یا قیام کی جگہ قعود اور قعود کی جگہ قیام کرلینے سے واجب ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ کسی زیادتی یا کمی کے لئے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا بلکہ آیت اللہ الخمینیؒ کے یہاں تو قیام و قعود بے جا میں بھی سجدہ واجب نہیں ہے  اور خود آیت اللہ الخوئیؒ کے یہاں بھی بطور احتیاط ہی واجب ہے ’’ السلام علیک ایھا البنی ‘‘ کی زیادتی سے سجدہ واجب نہیں ہوتا ( سجدہ اور تشہد کے بھولنے میں سجدہ کے علاوہ ان کی قضا بھی واجب ہوتی ہے)۔
اس  سجدہ کا طریقہ یہ ہے کہ نماز تمام کرنے کے فوراً بعد دو سجدہ سہو کی نیت کرکے سجدہ میں جائے اور کہے : بسم اللہ وباللہ السلام علیکم ایھاالنبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ اور پھر سر اٹھا کر دوبارہ ایسا ہی سجدہ کرے اور پھر سر اٹھا کر باقاعدہ مکمل تشہد پڑھ کر ایک سلام السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ پڑھ کر سلام کو تمام کردے۔
اس سجدہ میں ساتوں اعضاء سجدہ کا زمین پر ہونا اور سجدہ کا قابل سجدہ چیز پر ہونا واقعاً واجب ہے اور با وضو ہونا رو بقبلہ ہونا احتیاطاً واجب ہے۔ ذکر کا بھی مذکورہ بالا مخصوص الفاظ میں ہونا احتیاطاً ضروری ہے۔
لیکن آیت اللہ الخمینیؒ کی نظر میں نہ طہارت ضروری ہے نہ روبقبلہ ہونا نہ کوئی خاص ذکر صرف سجدہ کرنا ضروری ہے اور اس فتویٰ کی طرف احتیاط میں رجوع ممکن ہے۔
نوٹ: اگر کوئی شخص سجدہ سہو بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے سجدہ کرلے ، نماز پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔
سجدۂ تلاوت:
قرآن مجید کے چار سوروں کی چار آیتوں پر سجدۂ تلاوت واجب ہے۔ سورہ والنجم کی آخری آیت سورہ اقرا کی آخری آیت ، سور الم تنزیل میں لا لیتکبرون پر اور سورہ حم فصلت میں تعبدون پر۔
یہ سجدہ آیت پڑھنے والے پر بھی واجب ہے اور بغور سننے والے پر بھی ۔ اتفاقیہ سننے والے پر واجب نہیں ہے لکھنے والے یا سوچنے والے پر بھی وا جب نہیں ہے ۔ سننے میں واجب ہونے کےلئے پڑھنے کا قصد تلاوت کرنا ضروری ہے ورنہ ٹیپ ریکارڈر سے یا نادان بچے کی تلاوت سننے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا ۔ ریڈیو سے آیت سنی جارہی ہے تو وہاں بھی سجدہ واجب ہوگا لیکن اگر ریڈیو سےٹیپ بجایاجارہا ہے تو سجدہ واجب نہ ہوگا۔
اس سجدہ میں ساتوں اعضاء پر سجدہ کرنا اور پیشانی کا قابل سجدہ چیز پر ہونا احتیاط واجب ہے اس کے علاوہ طہارت، وضو، غسل، استقبال قبلہ وغیرہ ضروری نہیں ہے اورکوئی ذکر خاص یا تکبیر یا تشہد یا سلام بھی ضروری نہیں ہے ۔ آیت اللہ الخمینی کے یہاں ساتوں اعضاء پر سجدہ کرنا اور پیشانی کے قابل سجدہ شے پر ہونا بھی ضروری ہے صرف کھانے پہننے کی چیز پر سجدہ نہیں ہونا چاہئے ۔ ( یہ فتویٰ بھی احتیاط کے مقابلہ میں قابل عمل ہے )
سجدہ ٔ شکر
کسی بھی نعمت کے ملنے ، مصیبت کے دفع ہونے توفیق خیر کے حاصل ہونے پر سجدہ شکر مستحب ہے ۔ مولائے کائنات ؑنے شب ہجرت سلامتی پیغمبرؐ کی خبر سنکر سجدۂ شکر خدا کیا ہے جبکہ اپنی زندگی ہر طرف سے خطرہ میں پڑی ہوئی تھی اور دشمن مکمل طور پر گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے یہ تاریخ اسلام کا پہلا سجدہؐ شکر تھا۔
اس سجدہ میں صرف پیشانی کا رکھ دینا ہی کافی ہےچاہے کسی چیز پر ہو اگر چہ احتیاط مستحب یہی ہے کہ ساتوں اعضاء پر سجدہ ہو اور پیشانی بھی قابل سجدہ چیز پر ہو اور آیت اللہ الخمینیؒ کے یہاں یہ بھی واجب ہے کہ کھانے پہننےوالی چیز پر سجدہ نہ ہو۔
اس سجدہ میں کوئی خاص ذکر ضروری نہیں ہے صرف شکراً کہہ دینا بھی کافی ہے۔ اگر چہ بہتر یہی ہے کہ ایک کے بجائے دو سجدے کرے اور دونوں کے درمیان رخسار خاک پر رکھے اور کہنیاں زمین پر فرش کردے اور سینہ و شکم کو زمین سے متصل کردے۔ اور سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد سجدہ گاہ کو ہاتھ سے مس کرکے ہاتھ کو چہرہ اور بدن کے سامنے کے تمام حصوں پر پھیرلے کہ یہ باعث برکت و ثواب ہے۔
 زمین پر سجدۂ شکر کرنا ممکن نہ ہو تو اشاروں سے سجدہ کرلے اور اپنے رخساروں کو اپنی ہتھیلی پر رکھ لے اور سواری پر ہو تو زمین پر سجدہ کرے اور رخسار کو ہتھیلی پر رکھ لے۔ اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ سجدہ ٔشکر میں بعض حالات میں پیشانی کی بھی قید نہیں ہے صرف رخسار سے بھی ادا ہوجاتا ہے لیکن حتیٰ الامکان انسان پر نعمت حاصل ہونے کے بعد سجدہ شکر کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور ہر حال میں شکر پروردگار کرنا چاہئے،۔
سجدۂ تعظیم
سجدہ ایک بہترین عبادت، بہترین عمل اور بہترین بندگی ہے۔ یہی تعظیم پروردگار کا بہترین ذریعہ ہے اور اس سجدہ کے لئے نماز، سہو ، تلاوت اور شکر کی شرط نہیں ہے۔ انسان جس وقت بھی سجدہ کرلے گا عبادت گزاروں میں شمار ہوجائے گا۔ سجدوں میں بھی طولانی سجدوں کا شرف اور زیادہ ہے جیسا کہ روایات میں ہے کہ جناب آدمؑ نے ایک سجدہ میں تین شب و روز گزار دیئے، امام سجادؑ نے ایک ناہموار پتھرپر پیشانی رکھ کر ہزار مرتبہ دعائے سجدہ پڑھی ہے امام جعفر صادق علیہ السلام اتنا طولانی سجدہ کرتے تھے کہ دیکھنے والے کو احساس ہوتا تھا کہ شاید آرام فرما رہے ہیں۔ امام موسیٰ ابن جعفر روزانہ طلوع آفتا ب سے زوال تک سجدہ میں مصروف رہتے تھے مولائے کائناتؑ نے اتنے طویل سجدے کئے ہیںکہ دیکھنے والے کو شبہہ ہوگیا کہ شاید دنیا سے انتقال فرماگئے  ہیں اور امام حسین علیہ السلام نے تو خاک گرم کربلا پر ایسا سجدہ کیا کہ جس کی انتہا ہیمعین نہ ہوسکی کہ آپ نے خود سجدہ سے سر نہیں اٹھایا۔ اٹھا تو ظالم کے ہاتھوں سرکٹ کر اٹھا اور پھر نوک نیزہ پر نظر آیا جس کے بعد کائنات میں زلزلہ آگیا۔ آفتاب کو گہن لگ گیا سیاہ آندھیاں چلنے لگیں اور فضائے کربلا میں ایک آواز گونجی:الا قتل الحسین بکربلا الا ذبح الحسین بکربلا۔ظظظ
( پندرہ روزہ تنظیم المکاتب ۵ـ؍اکتوبر ۱۹۸۳ء؁)

توحید از نظر امام جعفر صادق علیہ السلام

توحید ان نظر امام جعفر صادق علیہ السلام
آیۃاللہ العظمیٰ شیخ وحید خراسانی
ترجمہ سید محمد حسنین باقری
تکوینی اسمائے حسنیٰ کی ایک فرد امام جعفر صادق علیہ السلام ہیںجن کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے ہی پیغمبر اکرم ﷺ نے ’’صادق‘‘ نام رکھا۔ یہ نام بہت ہی عمیق معنی رکھتا ہے۔ ’’یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین‘‘۔ ’اے صاحبان ایمان! تقویٰ اختیار کرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ‘۔یہ وہ ذات گرامی ہے جس کا نام اس کائناتِ ہستی کی پہلی ذات نے رکھا ہے اور آج جس کے نام سے مذہب پہچانا جاتا ہے یعنی مذہب جعفری۔
اس مذہب جعفری کی عظمت و اہمیت کا اندازہ تو اس وقت ہوگا جب تمام اسلامی مذاہب کو سامنے رکھا جائے اور آپس میں مقائسہ کیا جائے۔
مالکی مذہب کے امام مالک ابن انس وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں مذہب شافعیہ کے امام شافعی کی تعبیر یہ ہے کہ تمام علماء کے درمیان مالک بن انس ستارہ ہیں۔
عامہ کے امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک کے سامنے طفل مکتب کی طرح بیٹھتے تھے۔ حنبلی مذہب کے امام احمد بن حنبل نے عبداللہ بن نافع سے اور انھوں نے امام مالک بن انس سے نقل کیا ہے کہ مالک بن انس نے کہا: ’’اللہ فی السماء و علمہ فی کل مکان‘‘۔’یعنی خدا آسمان میں ہے اور خدا کا علم ہر جگہ ہے‘۔(مسائل أحمد من روايۃ أبی داود 263"، "السنۃ لعبد الله بن أحمد (1/280) "والشريعۃ للآجری 289"، "وشرح أصول اعتقاد أھل السنۃ للالکائی 673"وابن عبد البر فی"التمہيد"(7/138))
یہ جملہ احمد بن حنبل سے نقل ہوا ہے اور انھوں نے دو واسطوں سے اس جملہ کو مالک بن انس سے نقل کیا ہے اور مالک بن انس امام شافعی کے نزدیک تمام علمائے اہل سنت کے درمیان ستارہ ہیں اور امام ابو حنیفہ ان کے نزدیک طفل مکتب ہیں۔ ان امام مالک کا خدا کے بارے میں عقیدہ یہ ہے (گویا یہی عقیدہ ائمہ اربعہ اور تمام اہل سنت کا ہوا)
 اس جملہ کی تحلیل ضروری ہے:’’خداآسمان میں ہے‘‘۔ یعنی خدا اور آسمان کے درمیان ظرف اور مظروف کی نسبت ہوئی۔ ہر ظرف محیط (احاطہ کرنے والا و گھیرنے والا) ہے اور اور ہر مظروف مُحاط (جس کا احاطہ ہو) ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آسمان محیط ہے اور خدا محاط ہے، آسمان ظرف ہے اور خدا مظروف۔
اگر خدا آسمان میں ہے تو کسی مکان و جگہ میں ہونے والے کا لازمہ جسمیت ہے لہذا خدا کا جسم ہونا لازم ہوا۔ اگر جسم ہو تو مرکب ہوگا۔ اس لئے ہر جسم یا مادہ و صورت سے مرکب ہوتاہے یا اجزاءسے مرکب ہوتا ہے۔ بہر صورت جسم ہونا مساوی ہے مرکب ہونے کے۔ اور مرکب، اجزاء کا محتاج ہوتا ہے۔
مرکَّب (ترکیب پانے والے) اجزاء محتاج ہیں مرکِّب(ترکیب دینے والے) کے۔ لہذا امام مالک کا خدا دو جہت سے محتاج ہوا۔ یعنی مذاہب اربعہ کا خدا اجزاء کا محتاج ہوگیا نیزا جزاء کے جوڑنے والے کا محتاج ہوگیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ خالق بدل گیا مخلوق میں یعنی خالق مخلوق ہوگیا، واجب ممکن میں تبدیل ہوگیا۔
ہر مظروف محصور ہے ظرف میں اس میں کوئی شک نہیں۔ اگر خدا آسمان میں ہے تو لامحالہ آسمان میں محصور ہے۔اور جب محصور ہوا تو محدود ہوگیا۔ اور ہر محدود محتاج ہے اور ہر محدود متناہی ہےگویا اس طرح بھی خالق بدل گیا مخلوق میں، واجب ہوگیا ممکن۔
دوسرا جملہ ہے: علمہ فی کل مکان۔ خدا خود تو آسمان میں ہے لیکن اس کا علم ہر جگہ ہے۔
اس جملہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا کا علم اس کی ذات سے الگ ہے اگر خدا کا علم اس کا عین ہے تو خدا ہر جگہ ہے نہ کہ آسمان میں ۔ اگر خدا کا علم اس کا غیر ہے تو ذات علم سے جدا ہوگی۔ لہذا اس کی ذات کے مرتبہ میں علم نہیں ہے۔ جب مرتبۂ ذات میں عالم نہیں ہے تو جاہل ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عامہ کے ائمہ کے امام کا خدا جہل و نادانی والا ہے۔
علم خدا جدا ہے خدا سے۔ ائمہ اربعہ اور دیگر علمائے اہل سنت جواب دیں کہ اگر خدا کا علم خدا کے علاوہ ہے تو اس کا علم یا قدیم ہے یا حادث۔ یہ سب نفی و اثبات کے درمیان ہے۔ تیسرا فرض قابل تصور نہیں ہے۔ اور اگر قدیم ہو تو دو خدا لازم آئیں گے: ایک ذات اور ایک علم۔ اور یہ شرک ہے۔
اگر حادث ہے تو نتیجہ ہوگا کہ علم خدا قدیم نہیں ہے۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ خدا تھا لیکن علم نہیں تھا بعد میں علم پیدا ہوا۔ اب یہ علم کہاں سے پیدا ہوا؟ کیا خدا نے خود اپنا علم پیدا کیا؟ خود اپنے علم کو وجود دیا؟ جبکہ قانون ہے کہ’ فاقدِ شیٔ معطی شیٔ نہیں ہوتی‘(جس کے پاس علم نہ ہو وہ علم کو کیسے پیدا کرے گا)جب خود خدا اپنے علم کو وجود میں نہیں لاسکتا تو کیا غیر خدا علم خدا کو وجود میں لایا ہے؟ جس کا لازمہ یہ ہوگا کہ علم خدا، غیر خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔
اب آئیے ملاحظہ کیجئے کہ پیغمبر اکرم ﷺ کے چھٹے جانشین برحق، مذہب جعفری کے رئیس حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام خداوند عالم کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
سبحان من لا یعلم کیف ھو الا ھو۔ منزہ ہے وہ خدا کہ وہ کیسا ہے یہ کوئی بھی نہیں جانتا سوائے خدا کے۔
وہاں عامہ کا عقیدہ تھا کہ خدا آسمان میں ہے۔ اگر خدا آسمان میں ہے تو سورج بھی آسمان میں ہے۔ گویا سورج مثل خدا ہے اور خدا مثل سورج ہے۔ جبکہ ’لیس کمثلہ شیٔ‘۔ کوئی بھی خدا کے مثل نہیں ہے۔خدا کے مثل ہونا عقل کے بھی خلاف ہے اور وحی کے بھی خلاف ہے۔
اور امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:’’لیس کمثلہ شیٔ و ھو السمیع البصیر۔ لا یحدّ و لا یحس و لایمس و لاتدرکہ الحواس و لایحیط بہ شیٔ۔ انّ اللہ تبارک و تعالیٰ و لایشبہ شیئا و لایشبھہ شیٔ۔ و کل ماوقع فی الوھم فھو بخلافہ۔ لم یزل اللہ عزّ و جلّ۔ والعلم ذاتہ ولامعلوم۔(اصول کافی)
کوئی بھی خدا کے مثل نہیں ہے وہی سمیع و بصیر ہے۔ وہ محدود نہیں ہوسکتا، محسوس نہیں کیا جاسکتا، چھوا نہیں جاسکتا، حواس اس کو درک نہیں کرسکتے، کوئی بھی چیز اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ اس کا کوئی بھی مشابہ نہیں ہے اور نہ وہ کسی کے بھی مشابہ ہے۔اور جو بھی وہم و گمان میں سمائے وہ مخلوق ہوا خدا نہیں ہوسکتا۔ خدا ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہےگا۔ علم اس کا عین ذات ہے۔
جو کچھ بیان ہوا یہ چاروں مذاہب کا نچوڑ تھا اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے جو بیان ہوا وہ معارف الہیہ کے لامحدود سمندر کا ایک قطرہ تھا۔ یہاں سے سمجھیں کہ مذہب جعفری کیا ہے؟ دنیا بیدار ہو۔ اگر امام جعفر صادق علیہ السلام نہ ہوتے، اگر مذہب جعفری نہ ہوتا تو توحید کا نام و نشان نہ ہوتا، تسبیح و تہلیل و تحمید و تکبیر نہ ہوتی، ایک بہت بڑا احسان اہل بیت ؑ کا یہ بھی ہے کہ انھوں نے صحیح توحید کو دنیا میں پیش کیا۔ظظظ

منگل، 3 ستمبر، 2019

کربلا انسانیت کوپیغام دیتی ہے (1)

کربلا انسانیت کو پیغام دیتی ہے
سید محمد حسین باقری
 لکھنؤ ،
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
( جوشؔ)
نواسۂ نبی حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی یقیناً انتہائی عظیم مقصد کےلئے تھی جہاں ایک طرف قربانی کا مقصد بقائے لا الہ تھا، عظمت توحید کی حفاظت تھی ، دین الٰہی پر آنچ نہ آنے دینا تھا ، پیغمبر عظیم الشان صلعم کی زحمتوں کو بچانا تھا، کلمہ شہادتین کی لاج رکھنا تھی ، ولایت خدا اور ولی خدا سے لوگوں کو روشناس کرانا تھا، امت مسلمہ کی اصلاح تھی، فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی تھی، نبیؐ و جانشین نبی کی صحیح و حقیقی سیرت کو عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا، وہیں در حقیقت انسانیت کو بچانا اور انسانی اقدار کی پاسبانی تھی، امام حسینؑ نے اتنی بڑی قربانی کسی معمولی چیز کےلئے نہیں دی بلکہ انسانی اقدار کو بچایا ہے انسانی اصولوں کی حفاظت کی ہے کربلا میں قربانی دے کر بتایا ہے انسانیت کسے کہتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ یزید اور اس کا گروہ صرف حسینؑ ابن علیؑ ہی کا دشمن نہیں تھا بلکہ وہ انسانیت کا دشمن تھا انسانی اصولوں اور انسانی اقدار کو پامال کرنا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ تنہا کربلا وہ جگہ ہے، تنہا یاد حسینؑ و تذکرہ حسینؑ ایسی یاد و تذکرہ ہے کہ جسے ہر انسان مناتا ہے۔ دنیا میں تنہا کربلا و نام حسینؑ وہ چیز ہے جہاں کسی بھی طرح کی کوئی تفریق نہیں ہے بلکہ ہر انسان چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت اور فرقہ سے ہو، ذکر حسینؑ کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ (جہاں انسانیت ہی نہ ہو وہ تو  مخالفت کرےگا ہی )
کیا یہ قابل غور نہیں ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد تمام مخالفتوں کے باوجود آج سب سے زیادہ تذکرہ کربلا کا ہوتا ہے ۔ سب سے زیادہ  نام امام حسینؑ کا لیاجاتا ہے۔ دنیا کا کوئی خطہ کوئی علاقہ اس ذکر و یاد سے خالی نہیں ہے۔ دنیا کے ہر مذہب و مسلک سے تعلق رکھنے والا انسان نام حسینؑ لیتا ہے ۔ حسینؑ ابن علیؑ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دنیا کا ہر انسان واقعہ کربلا کے بارےمیں غور کرے۔ حسینؑ ابن علیؑ کی قربانی کو نگاہوں میں رکھے اور اس قربانی سے انسانیت کا درس حاصل کرے اس کربلا سے انسانی اقدار کو پہچانے اس عزاداری سے حق کی معرفت حاصل کرے۔
کربلا نے بہت سے پیغامات دیئے ہیں جن کی فہرست طویل ہے صرف بعض کو اجمالاً پیش کیا جارہا ہے :
 (۱) اپنے اندر علم و شعور و آگہی پیدا کرنا :
انسانیت کی پہچان علم و شعور ہے اس نعمت سے محروم انسان بظاہر تو انسان ہوتا ہے لیکن انسانی کمالات اس کے اندر نہیں آیا کرتے وہ خود اپنے فائدے و نقصان کو بھی پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو بھی چاہتا ہے اسے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرلیتا ہے۔ علم و شعور تو اسلام کے آفاقی پیغام کی بنیاد ہے اسلام نے حق کی طرف دعوت دینے میں مجبور نہیں کیا بلکہ عقل و فکر و شعور کو بیدار کرنا چاہا ہے۔ جب تک انسان کے اندر عقل و فکر اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو وہ اسلام کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے اسلام زور دیتا ہے کہ علم حاصل کرو جہالت کی تاریکیوں سے باہر نکلو اور علم کی روشنی میں اس عقل کو بروئے کار لاکر حقائق کو درک کرو۔ جہالت صرف فرد کی موت نہیں ہے بلکہ سماج و معاشرہ کی موت کا سبب بن جاتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ کربلا کے اس پیغام کو سامنے رکھا جائے کہ عقل و شعور و فکر نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ فرزند رسولؐ کے قتل کے درپے ہوئے اور جہالت کے نتیجے میں یزید جیسے فاسق و فاجر اور دشمن  خدا و رسول کے ہاتھوں استعمال ہوگئے۔ لشکر یزید کی جہالت و لاعلمی اور عدم شعور ہی کا نتیجہ تھا کہ بظاہر تو آل نبیؐ کا گھراجڑ گیا۔ فرزند نبی کو قتل کردیا لیکن ان کے ہاتھ نہ دنیا آئی اور نہ آخرت خسر الدنیا والآخرۃ کا مکمل نمونہ بن کر سامنے آئے۔ کربلا آج بھی تمام انسانوں کو پیغام دیتی ہے اپنے کو علم کی دولت سے مالا مال کرو اپنی عقل و فکر کو بروئے کار لاؤ اپنے شعور کو پختہ کرو تاکہ اولاً تم خود اپنے کو پہچان سکو اور حق و باطل میں تمیز دے سکو، ساتھ ہی ساتھ دوسرے کو موقع نہ دو کہ تم کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرسکے ۔ کم از کم تمہارے اندر اتنی صلاحیت ہو کہ تم پہچان سکو سامنے والا تم کو کدھر لے جانا چاہتا ہے تم سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمہارے ذریعہ اپنے کس مفاد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ دنیاوی مفاد کےلئے تم کو دوزخ کا ایندھن بنارہا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ انسانیت کا گلا گھوٹنے کے لئے تمہارا سہارا لے رہا ہے۔ کمزوروں کو دبانے لوگوں پرظلم کرنے کے لئے تم کو سپر بنایا ہے۔
لہٰذا آؤ کربلا سے یہ پیغام لو کہ اپنے اور سماج کے درمیان سے جہالت و لاعلمی کی لعنت کو ختم کرو علم کی شمع روشن کرو اور علم و آگہی کی روشنی میں اپنی عقل و فکر اور شعور کو پختہ کرو تاکہ تم بھی محفوظ رہو اور تمہارا سماج بھی محفوظ رہے اور باطل طاقتیں اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
(۲) عزت و سربلندی کے ساتھ زندگی گزارنا:
 انسانی کمالات میں سے ایک  کمال عزت نفس ہے، عزت و سربلندی انسانیت کی پہچان ہے کربلا میں سید الشہداء کا ایک اہم پیغام تھا ’’ ھیھات منا الذلۃ‘‘ ہم ہر گز ہرگز ذلت کو گوارا نہیں کرسکتے۔ اگر تم انسان ہو ، اپنے کو اشرف المخلوقات کہتے ہو تو اپنی عزت نفس کا پاس و لحاظ کرو۔ اپنی عزت کا سودا نہ کرو۔ خدا نے تم کو عزیز بنایا ہے لہٰذا ہر قدم پر اس عزت کی حفاظت کرو۔ چاہے گلا کٹ جائے بچے قربان ہوجائیں بھرا گھر اجڑ جائے۔ خواتین اسیر و قیدی بنالی جائیں لیکن عزت نفس اور عزت انسانی پر آنچ نہ آنے دو۔ کسی ظالم کے آگے گھٹنے ٹیکنا ذلت کو گوارا کرنا ہے، فاسق و فاجر کی منشاء و خوشنودی کا خیال کرنا عزت نفس کا سودا کرنا ہے، باطل سے مرعوب ہوجانا اپنے کو نہ پہچاننا ہے ، شرک و الحاد سے راضی رہنا ذلت گوارا کرنا ہے، دنیاوی مفاد کے لئے باطل کی خوشنودی حاصل کرنا اپنے کو ذلیل کرنا ہے، ظلم و نا انصافی ، فسق و فجور، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد ، بے دینی و بے حیائی کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا عزت انسانی کا سودا کرنا ہے۔ چند روزہ زندگی کے لئے باطل آقاؤں کی جی حضور ی کرنا عزت نفس کو پامال کرنا ہے، خدا کو چھوڑ کر باطل سے کسی طرح کی امید وابستہ کرنا ذلت کے آگے سرجھکانا ہے، جھوٹی شہرت کےلئے دینی اصولوں کو پامال کردینا عزت کا گلا گھونٹنا ہے۔
عزت نفس اور سر بلندی کے ساتھ زندگی گزارنے کا مطلب ہےکہ صرف خدا کی طاقت پر بھروسہ کرو، کسی باطل طاقت سے نہ ڈرو، کسی ظالم و جابر سے مرعوب نہ ہو، اپنی قلت پر کسی طرح کا خوف نہ ہو، عزت نفس اور سر بلندی کے لئے ہوسکتا ہے قربانی دینا پڑے ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار رہو۔ ہوسکتا ہے جان و مال سے گزرنا پڑے اپنی عزت و سربلندی کے لئے اپنی جان و مال سے گزرجاؤ، کربلا کا نمونہ سامنے ہے حسینؑ گلا کٹوا کر آج بھی عزیز ہیں اور یزید ظلم کرکے بھی ذلیل و رسوا ہے۔ کربلا کا یہ درس انتہائی اہم ہے کہ کسی بھی قدم پر کسی بھی مرحلے میں اپنی عزت نفس کو فراموش نہ کرو۔ ھیھات منا الذلہ کو عملی جامہ پہناؤ ، باطل کے آگے کسی بھی حالت میں سر نہ جھکاؤ چاہے سر کٹا نا ہی کیوں نہ پڑے۔
(۳) ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنا:
 فطرت انسانی والے دین اسلام کا پیغام ہے نہ ظلم کرو نہ ظلم سہو، دین اسلام کی اساس و بنیاد عدل و انصاف پر ہے اس دین میں ظلم کا تصور ہی نہیں ہے قیام حسینؑ کا کربلا میں مقصد نیز منتقم خون حسینؑ امام مہدی عج کے قیام  کا مقصد ظلم و ستم کا خاتمہ اور عدل و  انصاف و امن و امان کا قیام ہے۔ اسلام چاہتا ہی ہے کہ امن و امان اور عدل وانصاف قائم رہے ظلم و ستم کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔ حسین  ابن علی علیہما السلام نے اپنے قیام کے ذریعہ پیغام دیا کہ اگر ظلم آشکار ہورہا ہو، ظالم ، انسانیت کا خون چوس رہا ہو، لوگوں کے حقوق پامال ہورہے ہوں، کمزوروں کو دبایاجارہا ہو، زمام حکومت ایسے ہاتھوں میں ہو جہاں انسانیت پامال ہورہی ہو، اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے جو انسانیت کی خو بو بھی نہ رکھتے ہوں، کسی بھی انسان کی جان و مال ، عزت و آبرو محفوظ نہ ہو تو ایسی صورت میں ہرحق پسند انسان کا فریضہ ہے کہ ظلم کے خلاف اقدام کرے، ایسے مواقع پر خاموش رہ جانا اور کوئی بھی اقدام نہ کرنا ظالم کے ظلم میں شرکت کے مترادف ہے۔ لہٰذا حسین ابن علی علیہ السلام نے قیام کربلا کے ذریعہ یہ پیغام بھی دیا کہ ظلم کے خاتمے کے لئے جو کرسکتے ہو کرو ، ظلم پر خاموشی و سکوت اختیار کرکے ظالم کو سہارا نہ دو اس لئے کہ اگر ایک طرف ظلم کرنا برا ہے تو دوسری طرف ظلم ہوتے دیکھ کر کوئی اقدام نہ کرنا بھی برا ہے۔
چونکہ یزید ظالم تھا اپنے آباؤ اجداد کی روش پر چلتے ہوئے بلکہ ظلم و نا انصافی کے راستے میں ان سے قدم آگے بڑھاتے ہوئے کمزوروں کو دبانا چاہتا تھا حق کو مٹانے کے درپے تھا، ظلم کی بنیادوں کو مضبوط کرکے انسانیت کوشرمسار کررہا تھا، انسانوں کو علی الاعلان انسانی حقوق سے محروم کرنا چاہ رہا تھا۔ حتیٰ محترم رشتوں کے تقدس کو بھی تار تار کررہا تھا ایسے میں امام حسینؑ نے اس کے خلاف قیام کرکے آوازدی تمہاری انسانیت کا تقاضا ہے کہ نہ ظلم کرو نہ ظالم کو ظلم کرنے دو۔ جس حد تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرسکتے ہو آواز بلند کرو۔ ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز اٹھا کر اپنی حد تک کوششیں  کرکے اپنے انسان ہونے کا ثبوت دو۔
(۴) حریت و آزادی
انسان کو اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے حتیٰ کہ اسے مخلوق کی حاکمیت سے بھی آزاد رکھتے ہوئے نظام حکومت و حاکمیت اپنے ہاتھ میں رکھا ہے کہ حاکم بنانا اس کا کام ہے تاکہ انسانی عزت و وقار باقی رہے اور انسان کسی اپنے جیسے کا محکوم نہ بنے۔
 امام حسینؑ کےقیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عزت انسانی کا تقاضا حریت و آزادی ہے۔ یہ انسان کی انسانیت کے خلاف ہے کہ وہ غلامی والی زندگی گزارے اور باطل کا غلام رہے۔ شرافت انسانی کا تقاضا ہے کہ وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا نہ جائے۔ چاہے وہ جسمانی غلامی ہو یا فکری غلامی ہو، لہٰذا امام حسینؑ نے قیام کرکے تمام آزاد پسند انسانوں کو پیغام دیا کہ اپنی انسانی عزت و شرافت کا خیال کرتےہوئے اپنے کو غلامی سے آزاد رکھو۔ حریت و آزادی تو تمہارا سرمایہ ہے کسی باطل کی غلامی سے بہتر ہے جام شہادت نوش کرلینا۔ اگر اسی حریت و آزادی کےلئے سخت سے سخت امتحان سے بھی گزرنا پڑے تو گزر جاؤ تاکہ اپنی شناخت باقی رکھ سکو۔ اگر کربلا کے حریت و آزادی کے پیغام کے اثرات کا مشاہدہ کرنا ہے تو دور حاضر میں ہمارے سامنے دو واضح اور بہت ہی روشن نمونے موجود ہیں ایک طرف ایران کااسلامی انقلاب جہاں بقول بانی انقلاب ’’ ماہرچہ داریم از محرم و صفر است‘‘ آج ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ عزاداری اور پیغام کربلا کا نتیجہ ہے اسی پیغام کربلا کو سامنے رکھ کر ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کےلئے اسلامی انقلاب ایران کی شکل میں حریت و آزادی کا تحفہ پیش کیا ہے تو دوسری طرف وطن عزیز ہندوستان کی آزادی ہے جہاں بقول مہاتما گاندھی: ہم نے کربلا کو سامنے رکھ کر ہندوستان کو آزاد کرایا ہے۔ یعنی ہندوستان نے بھی اگر انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کی ہے تو یہ بھی کربلا سے درس لینے کا نتیجہ ہے۔ کربلا آج بھی ہر انسان کو آواز دے رہی ہے کہ کسی کے غلام نہ رہو۔ غلامی تمہاری انسانی شرافت کے خلاف ہے حتیٰ کہ تم کو کسی باطل کی فکری غلامی سے بھی اپنے کو نجات دلانا ہے، کلچر و ثقافت راہ و روش  طور طریقہ بھی ایسا ہی اپناؤ جو خدائی اور خدا والوں کا ہو اگر اس کو چھوڑ کر کوئی اور کلچر اور طریقہ  اختیار کرو تو یہ بھی غلامی ہے لہذا اس سے بچو۔
اور اگر زادی والی زندگی چاہتے ہو ، اگر غیر ت و شرافت والی زندگی چاہتے ہو، اگر غلامی والی زندگی سے بچنا چاہتے ہو تو کربلا کو سامنے رکھو۔ جہاں بہتر نے ہزاروں کے مقابلے گلے تو کٹادیئے لیکن اپنے کو غلامی سے آزاد رکھا۔ اور دنیا میں پیغام حریت دیکر زندہ جاوید بن گئے۔