پیر، 4 جون، 2018

تکفیریت کے خاتمے کے لئے قرآنی راہ حل


باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
تکفیرت کے خاتمے کے لئے قرآنی راہ حل
تحریر: حجۃالاسلام آقای وحیدخورشیدی(ایران)
ترجمہ: سید محمد حسنین باقری
خلاصہ:
قرآن کریم میں جن مسائل کے سلسلے میں تاکید ہوئی ہے ان میں سے ایک، مسلمانوں کی عدم تکفیر ہے۔ یعنی قرآن کریم نے سختی سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کو بغیر وجہ و سبب کے کافر قرار دیا جائے۔قرآن نے اس سلسلے میں مسلمانوں کے سامنے راستے اورطریقے بیان کئے ہیں جن کے ذ ریعہ مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کی جاسکے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ جو اظہار اسلام کررہا ہو اس کو کافر قرار دینے میں جلد بازی نہ کریں۔ دوسروں کے اسلام میں شک نہ کریں۔ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے دونوں گروہوں کو مسلمان کہہ کر پیش کرنا، نزاع و اختلاف کی صورت میں دو گروہوں کے درمیان اصلاح کا حکم دینا اور مسلمان کے خون کو با عظمت قرار دینا۔ یہ سب تکفیر کو ختم کرنے اور اس کے علاج کے راستے ہیں جنہیں قرآن نے پیش کیا ہے۔ اس مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ آیات الٰہی میں غور و فکر کے  ذریعہ تکفیریت کو ختم کرنے اور اس کے علاج کےلئے قرآنی راستہ بیان کیا جائے۔
مقدمہ:
تاریخ اسلام کے درمیان ایسے افراد اور گروہ پائے گئے ہیں جنہوں نے اپنے مخالفین کو کافر قرار دیا ہے اور معمولی سبب سے ان کو دین اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے ان کے واجب القتل ہونے کا حکم صادر کیا ہے۔ ہمیشہ ہی مسلمانوں کے ایک گروہ کی طرف سے دوسرے گروہ کو مبانی و بنیاد جدا ہونے کی وجہ سے یا ایک دوسرے کے مبانی سمجھ نہ پانے کی وجہ سے کافر قرار دینے کی وجہ سے امت اسلامی کو بہت سے ناقابل جبران نقصانات ہوئے ہیں۔ اسلام کی نظر میں ہر وہ شخص مسلمان ہے جو زبان پر شہادتین جاری کرے۔ چاہے باطن میں دوسرا عقیدہ رکھتا ہو۔ شریعت اسلامی کی بنیا دپر ہرگز صحیح نہیں ہے کہ اسلامی فرقہ یا امت اسلامی سے وابستہ کسی شخص کو بغیر دلیل کے کافر قرار دیا جائے جب تک کہ شہاد تین کا اعتراف کررہا ہے اور ضروریات دین میں سے کسی ضرورت کا انکار نہیں کررہا ہے۔ اسی وجہ سے اس مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ اس خطرناک اور مخرب دین وبا یعنی کسی مسلمان کو کافر قرار دیئے جانے کا علاج اور اس وبا کو ختم کرنے کا طریقہ قرآن کی روشنی میں بیان کیا جائے اور یہ بیان کیا جائے کہ قرآن اس وبا کا کس طرح مقابلہ کرتا ہے۔ اور چونکہ یہ تکفیری گروہ اپنے کو تو مسلمان سمجھتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں لہٰذا سب کے سامنے یہ و اضح ہوجائے کہ اس گروہ کا یہ طریقہ قرآن اور حقیقی اسلام کے برخلاف ہے خاص اس موضوع سے متعلق مختلف عناوین مثلاً تکفیر قرآن و سنت کی روشنی میں پیش تو کئے گئے ہیں لیکن زیادہ تر کلی گوئی سے کام لیا گیا ہے لیکن اس مقالہ میں آیات کو جزئی صورت میں البتہ مزید دقّت اور باریکی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ موضوع قابل استفادہ ہوجائے۔ اس مقالہ میں موضوع اس طرح آگے بڑھایا گیا ہے : تکفیر کے لغوی و اصطلاحی معنی۔ تکفیر کا علاج اور اس سے نجات پانے کا قرآنی راستہ۔ تکفیر کا حق کس کو ہے؟ اور آخر میں تکفیریوں بالخصوص وہابیوں کی قرآن کی مخالفت کو بیان کیا گیا ہے۔ 
لغت و اصطلاح میں تکفیر:
کلمۂ تکفیر مصدر ہے باب تفعیل کا، جو مادّہ کفّر یکفّر سے لیا گیا ہے۔ اس کا ثلاثی مجرد ’کفر‘ ہے جیسا کہ المفردات میں آیا ہے کہ کفر لغت میں کسی چیز کے چھپانے کے معنی میں ہے رات کو کافر کہتے ہیں اس لئے کہ لوگوں کو چھپاتی ہے۔کسان کو کافر کہتے ہیں اس لئے کہ وہ دانے کو زمین میں چھپاتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ : کفرِ نعمت یہ ہے کہ نعمت پر شکر ادا نہ کیا جائے یہ اس کو چھپانا ہے۔ سب سے بڑا کفر، خداوند عالم کی وحدانیت یا نبوت کا انکار ہے۔ 
( المفردات غریب القرآن راغب اصفہانی جلد ۱ ص ۴۳۳)
 زبیدی اور جوہری نے کفر کے معنی ایمان کی ضد کے بیان کئے ہیں اور تکفیر کا مطلب تواضع و فروتنی اور کسی چیز کو محو کرنا اور ختم کرنا بیان کیا ہے۔ 
(تاج العروس ، محمد مرتضیٰ زبیدی ، جلد ۱۴ ص ۵۰ الصحاح ، جوہری ۴۲۔ ص ۸۰۷)
زبیدی نے تکفیر کے ایک معنی ’’ دوسرے کو کافر سمجھنا‘‘ بیان کیا ہے۔ : وکفرہ تکفیراً : نسبہ الی الکفر
 (ص ۴۵۶) 
کتاب معجم اللغۃ العربیہ المعاصر کے الفاظ یہ ہیں: ’’ کفّر الشخص : کفّرہ : حملہ علی الکفر و نسبہ الیہ و قال لہ کفرت ‘‘ 
(معجم اللغۃ العربیہ المعاصر ، احمد عبد الحمید عمر ، جلد ۳ ص۱۹۴۳) 
کسی شخص کی تفکیر یعنی اس کو کافر سمجھنا یا اس کی طرف کفر کی نسبت دینا یا اس سے کہنا کہ تم کافر ہوگئے ہو۔ 
وہ آگے لکھتے ہیں: جن لوگوں کو تکفیر ی جماعت کہا جاتا ہے یہ اس لئے ہے کہ یہ لوگ شدت پسند افراد ہیں جو اہل معصیت و گنہ گار شخص کو کفر سے متہم کرتے اور بہت سے لوگوں کو تکفیر اور قتل کرتے ہیں۔
 (سابق، ص ۱۹۴۴)۔
عبد المنعم نے بھی مادہ تکفیر کے ذیل میں لکھا ہے : تکفیر کا مطلب ہے کسی اہل قبیلہ کی طرف کفر کی نسبت دینا 
(معجم المصطلحات والالفاظ الفقہیہ ، محمود عبد المنعم ، جلد ۱ ص ۴۸۷) 
کفر کے جو معانی بیان کئے گئے ہیں ان میں سے جب بطور مطلق استعمال کیا جائے تو اکثر ایمان کی ضد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیساکہ ملا علی قاری نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 
(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ، بدر الدین عینی ک جلد ۱ ص ۲۱۶)
جیسا کہ ایجی نے بیان کیا ہے کہ اصطلاح میں کفر کا مطلب ہے ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار اور پیغمبر ﷺ کی عدم تصدیق ہے۔ 
( المواقف، عضد الدین ایجی ، جلد ۳ ص ۵۴۴)
 ابن جزم نے بھی لکھا ہے: دین میں کفر کا مطلب خدا نے جس چیز پر ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے اتمام حجت کے بعد اس کا انکار کرے۔
 (الاحکام فی اصول الاحکام ، علی بن الحزم جلد ۱ ص ۴۹)
ابن تیمیہ بھی اسی عقیدہ کے قائل ہیں کہ کفر سے مراد خدا و رسول پر عدم ایمان ہے۔
 (کتب و رسائل و فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، ابن تیمیہ جلد ۱۲ و ۳۳۵)
 انہوں نے دوسری جگہ پر کفر کا مطلب ضروریات دین اور احکام متواتر کا انکار بیان کیا ہے۔
 (سابق، جلد ۱ ص ۱۰۶)
 اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں کہ : کفر سے مراد یہ ہے کہ رسو ل خداﷺ نے جس بات کی خبر دی ہے اس کو جھٹلانا اور صداقت پیغمبرﷺکے یقین کے ساتھ ۔۔۔۔۔  یہود و غیرہ کی طرح آنحضرتﷺ کی پیروی نہ کرنا۔
 (درء تعارض العقل والنقل ابن تیمیہ، جلد ۱ ص ۲۴۲) 
فخر رازی کہتے ہیں: 
کفر کا مطلب عدم ایمان ہے یعنی جن ضروریات کو پیغمبر ﷺ لائیں ان کی تصدیق نہ کرنا  ہے۔ 
(شرح المقاصد فی علم الکلام ، سعد تفتازانی ، جلد ۲ ص ۲۶۷)
 ابن الوزیر نے اس سلسلے میں لکھا ہے : اصل کفر یہ ہے کہ کتاب خدا میں سے کسی بات یا کسی پیغمبر ﷺ کی تکذیب کرنا یا جو چیزیں انبیاء لائے ہیں ان کی تکذیب کرنا البتہ اس وقت کہ جب وہ چیز بطور معین ضروریات دین میں سے ہو
 (ایثار الحق علی الخلق فی رد الخلافات الی المذہب الحق من اصول التوحید محمد بن وزیر ، جلد ۱ ص ۳۷۶) 
لہٰذا اصطلاح میں کفر کا مطلب ہوا خدا ورسول پر ایمان نہ لانا ضروریات دین کا انکار کرنا ہے۔ علمائے اہل سنت کی اس تعریف کی روشنی میں جو شخص منکر خدا و نبوت نہ ہو اور ضروریات دین کا انکار نہ کررہا ہو وہ کفر کے دائرہ سے خارج ہے۔ تکفیر کا مطلب بھی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی مسلمان کو کافر سمجھے۔ 
پہلا حصہ:
دوسروں کے اسلام میں تامّل اور عدم شک:
(الف) دوسر وں کے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کرنا۔ 
تکفیر کی بیماری کو ختم کرنے کےلئے قرآن کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ دوسروں کے اسلام کے بارے میں حکم لگانے میں جلد بازی نہ کریں اور یہ حکم جنگ کے موقع پر نازل ہوا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّـهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿٩٤﴾۔
(سورہ نساء،آیت ۹۴)
 ترجمہ :ایمان والو جب تم راہِ خدا میں جہاد کے لئے سفر کرو تو پہلے تحقیق کرلو اور خبردار جو اسلام کی پیش کش کرے اس سے یہ نہ کہنا کہ تو مومن نہیں ہے کہ اس طرح تم زندگانی دنیا کا چند روزہ سرمایہ چاہتے ہو اور خدا کے پاس بکثرت فوائد پائے جاتے ہیں- آخر تم بھی تو پہلے ایسے ہی کافر تھے- خدا نے تم پر احسان کیا کہ تمہارے اسلام کو قبول کرلیا(اور دل چیرنے کی شرط نہیں لگائی) تو اب تم بھی اقدام سے پہلے تحقیق کرو کہ خدا تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔
  روایات و تفاسیر میں اس آیت کے سلسلے میں متعدد شان نزول ذکر ہوئے ہیں جو آپس میں شباہت رکھتے ہیں۔ جس میں سے ایک یہ ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ نے جنگ خیبر سے واپسی پر اسامہ بن زید کو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ان یہودیوں کی طرف بھیجا جو فدک کے ایک گاؤں میں رہتے تھے تاکہ ان یہودیوں کو اسلام یا شرائط ذمی قبول کرنے کی دعوت دیں ۔ ایک یہودی جس کا نام مرداس تھا، جب وہ لشکر اسلام کے آنے سے مطلع ہوا تو اس نے اپنے مال و اولاد کو ایک پہاڑ کے پاس چھپا دیا اور خدا کی وحدانیت اور پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کی گواہی دیتے ہوئے مسلمانوں کے استقبال کے لئے آگے بڑھا۔ اسامہ بن زید نے سوچا کہ یہ یہودی جان و مال کے خوف سے اظہار اسلام کررہا ہے اور باطن میں مسلمان نہیں ہے یہ خیال کرکے اس پر حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا اور اس کی بھیڑیں غنیمت کے طور پر لے لیں۔ جب پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ 
(تفسیر البغوی ، حسین البغوی جلد ۱ ص ۴۶۶۔ تفسیر القرطبی، محمد قرطبی جلد ۵ ص ۳۳۶) 
اس آیت میں غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی کو کافر کہنے کے سلسلے میں چاہے وہ پہلے کافر ہی رہا ہو یا یہ کہ باطن میں کافر ہو اور بظاہر اسلام کا دعویٰ کرتے ہوئے زبان پر شہادتین جاری کررہا ہو ، جلد بازی نہ کرے بلکہ اس کی بات کو مانا جائے۔ 
اہل سنت کے مشہور مفسر طبری نے اس آیت کو جنگ کے زمانے سے مخصوص جانا ہے اور اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ دوسروں کو کافر قرار دینے میں جلد بازی نہ کرنا چاہئے۔ 
[(اذا ضربتم فی الارض )یقول اذا سرتم مسیر اللہ فی جہاد اعدائکم ( فتبینوا) بقول فتانوا فی قتل من اشکل علیکم امرہ فلم تعلموا حقیقۃ اسلامہ ولا کفرہ ولا تعجلوا فتقتلوا من التبس علیکم امرہ ولا تتقدموا علی قتل احد الا علی قتل من علمتموہ یقیناً حربا لکم وللہ و لرسولہ ]
(تفسیر الطبری ، محمد طبری جلد ۵ ص ۲۲۱)
جس وقت تم راہ خدا میں قدم اٹھا رہے ہو یعنی جس وقت تم خدا کے لئے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے  راستے میں ہو تو  تحقیق و جستجو کرو۔ یعنی جس شخص کے بارے میں حقیقت تمہارے لئے واضح نہ ہو اور تم کو معلوم نہ ہو  کہ آیا اس نے واقعاً اسلام قبول کیا ہے یا کافر ہے تو اس کے قتل میں جلد ی نہ کرو اسی کو قتل کرنے کا حق ہے جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ تمہارے ساتھ رسول اور خدا کے ساتھ جنگ کا ارادہ رکھتا ہے۔ 
البتہ انہوں نے مطلب کی وضاحت کےلئے ’’ فتبینوا‘‘ کے لفظی معنیٰ کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کا مطلب تانّی یعنی تامل و درنگ اور جلد بازی نہ کرنا بیان کئے ہیں۔ 
(سابق، صفحہ ۲۲۵)
بیضاوی نے بھی یہی تفسیر کی ہے اور ان کا نظریہ ہے کہ فتبینوا سے مراد اس شخص کے سلسلے میں حکم لگانے و فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا ہےجو جنگ میں اظہار اسلام کرے 
(تفسیر البیضاوی ، ناصر الدین بیضاوی ، جلد ۲ ص۲۳۷)۔
 اور آگے لکھتے ہیں:
ولاتبادروا الی قتلھم ظنابانھم دخلوا فیہ اتقاء و خوفاً فان ابقاء الف کافر اھون عند اللہ من قتل امریٔ مسلم و تکریرہ تاکید لتعظیم الامر۔
(سابق)
اس خیال سے کہ وہ خوف و تقیہ کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے ہیں تم ان کے قتل میں جلد بازی نہ کرو اس لئے کہ خداوند عالم کے نزدیک کسی ایک مسلمان کے قتل ہونے سے ہزار کافروں کا باقی رہنا آسان تر ہے اور جملہ ’’ فتبینوا‘‘ کی تکرار اس بات کی عظمت کو بیان کررہی ہے۔ 
غزالی نے بھی مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی نہ کرنے کے سلسلے میں کہا ہے :
 سزا وار ہے کہ تکفیر سے اجتناب کیا جائے اس لئے کہ اس مسلمان کے خون کو مباح سمجھنا جو توحید کا اقرار کرتا ہو، اشتباہ و غلطی ہے اور ہزار کافروں کے باقی رہنے کا اشتباہ ایک مسلمان کے خون بہائے جانے سے آسان تر ہے۔
(نیل الاوطار من احادیث سید الاخبار ش رح منتقی الاخبار، محمد شوکانی جلد ۷ ص۳۵۳)۔
 ایک مسلمان کی جان  بچ جائے بہتر ہے چاہے ہزار کافروں کی جان بخشی کی نتیجے میں ہو۔)
 وہابیوں کے قابل اعتماد مفسر ناصر سعدی بھی جملہ ’’ فتبینوا‘‘ کی تفسیر میں کہتے ہیں : جب کوئی شخص دشمنان خدا کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو او ران سے مقابلے کے لئے نکلے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس شخص کے بارے میں تحقیق و جستجو کرے جو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور اس بات پر قرینہ بھی موجود ہو۔ جو جنگ کے موقع پر اپنی جان بچانے کے لئے اسلام ظاہر کرے تو آیت کہتی ہے کہ اس کے بارے میں جستجو کی جائے تاکہ حقیقت واضح ہوجائے اور اشتباہ نہ ہو۔
  (تفسیر السعدی ، عبد الرحمان ، سعدی ، جلد ۱ ص۱۹۵)
اسی طرح وہ دوسری جگہ اس آیت کے ذیل میں دوسروں کے سلسلے میں کفر کا حکم لگانے میں جلدی نہ کرنے کے فائدے بیان کرتے ہوئے معتقد ہیں کہ اس سلسلے میں تامل کرنا بہت سے فائدوں کا سبب اور بڑے شر کے دفع ہونے کا سبب ہے۔ اس کام سے اس شخص کا دین معلوم ہوجائے گا یہ برخلاف اس کے کہ اس بارے میں حکم لگانے میں جلدی کرو اس لئے کہ جلد بازی میں نوبت یہاں تک آتی ہے جو نامناسب ہے۔ 
(سابق، صفحہ۱۹۴)
 فخر رازی بھی آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں : 
اس آیت کا مقصود مومنوں کے قتل کے حرام ہونے میں مبالغہ و شدت حرمت اور ان کے قتل کو ترک میں بھی مبالغہ اور سخت مناہی ہے تاکہ ناحق خون ضعیف تاویل کی وجہ سے نہ بہایا جائے۔
(التفسیر الکبیر او مفاتیح الغیب فخر الدین رازی، جلد ۱۱ ۔ ص۳)
 آیت میں غور و فکر اور اس کے سلسلے میں مفسرین کے آراء و نظریات کو سامنے رکھنے کے بعد بخوبی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کس طرح خداوند عالم نے دوسروں کی تکفیر اور ان پر بے جا کافر ہونے کا حکم لگانے میں تامّل کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ بھی بدترین موقع پر یعنی جنگ کے موقع پر جہاں جھوٹ و فریب کا امکان پایا جاتا ہے لیکن خداوند عالم ایسے موقع پر بھی حکم دیتاہے کہ جو شخص اسلام ظاہر کررہا ہو اس کے بارے میں جلد بازی نہ کرو۔ اور اس کو کافر نہ گردانو۔ جیسا کہ قرطبی نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے کہ فقہ میں ظاہر پر حکم لگانا معیار و ملاک قرار پاتا ہے نہ کہ باطن پر
(الجامع الاحکام القرآن ، محمد قرطبی ، جلد ۵ ص۳۳۹)
 ۔ اس بات کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ آیت کے آخر میں جلدی نہ کرنے کی تکرار ہوئی ہے!!! فتبینوا ان اللہ بما تعملون خبیرا ‘‘
 گویا خداوند عالم کا اس جانب اشارہ ہے کہ تکفیر کا حکم کتنا خطرناک ہے۔ کسی شخص کے اسلام کا انکار جائز نہیں ہے جب تک کہ اس کے کافر ہونے پر کوئی قطعی دلیل نہ ہو۔ روایات بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ مثلاً اسامہ بن زید کہتے ہیں : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم کو قبیلۂ حُرقات کی جانب روانہ کیا۔ صبح ہم نے ان پر حملہ کیا اور ان کو شکست دی۔ میں اور ایک انصاری ایک شخص کے پاس پہنچے جب ہم اس پر مسلط ہوگئے تو اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا۔ انصاری نے تو ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اس پر اتنے نیزے مارے کہ وہ مرگیا جب ہم مدینہ واپس آئے اور آنحضرتؐ تک بات پہنچی ۔ آپؐ نے فرمایا : 
اے اسامہ جب اس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا تھا  اس کے بعد بھی تم نے اسے قتل کردیا؟
میں نے کہا :
 اس نے جان بچانے کے لئے گواہی دی تھی۔ پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس جملہ کی اتنی تکرار فرمائی کہ میں نے آرزو کیا کہ کا ش اس سے قبل میں مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
 (صحیح البخاری ، محمد بخاری ، جلد ۴، ص۱۵۵۵)
 (ب) دوسر وں کے اسلام میں عدم شک :
 تکفیر کے علاج کا ایک راستہ قرآن کی نظر میں یہ ہے کہ دوسروں کےاسلام میں شک نہ کیا جائے اور حتیٰ جنگ کے موقع پر بھی ان کے کفر کا حکم نہ لگایا جائے۔ 
قرآن اس سلسلے میں بیان کرتا ہے :
 وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا۔
(سورہ نساء، آیت۹۴)۔
جو شخص اسلام و صلح کا اظہار کرے اس سے  یہ نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ 
اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب کوئی اظہار اسلام کرے تو واجب ہے کہ اس کی بات قبول کی جائے اور اس کو کافر نہ سمجھا جائے۔ اور اس آیت کے اطلاق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو اسلام کا دعوی کررہا ہے اس کےدعوے کو تقیہ یا خوف پر بھی حمل نہ کیا جائے بلکہ اس کے اس قول کو کہ میں مسلمان ہوں، بغیر قید و شرط کے قبول کیا جائے ۔ 
فخر رازی نے بھی اسلام کے معنی بیان کرنے کےذیل میں بیضاوی ہی کی بات کو پیش کیا ہے۔ 
اسلام کےد ومعنی ہیں: 
پہلے یہ کہ اسلام کا مطلب مسلمانوں پر تحیت ہے یعنی جب کوئی تم کو سلام کرکے سلام تحیت کہے تو یہ نہ کہو کہ اس نے پناہ حاصل کرنے کے لئے یہ جملہ کہا ہے اور ایسا نہ ہو کہ اس کی بات قبول نہ کرتے ہوئے اس پر تلوار اٹھالو اور اس کے مال پر قبضہ کرلو۔ بلکہ اس سلسلے میں اس سے دست بردار ہوتے ہوئے جو اس نے ظاہر کیا ہے اس میں اس کی بات قبول کرو۔ اور اسلام کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ جوجنگ میں تم سے کنارے ہٹ جائے تو اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ 
(التفسیر الکبیر ، فخر الدین رازی، جلد ۱ص۳)
طبری نے سورہ نساء  کی آیت کے اس حصے کے ذیل میں جو شخص اظہار اسلام کرے اس کے ساتھ جنگ نہ کرنے کو بیان کیا ہے:
 ولاتقولوا لمن استسلم لکم فلم یقاتلکم مظہراً لکم انہ من اھل ملتکم و دعوتکم لست مومناً 
(التفسیر الکبیر ، فخر الدین رازی، جلد ۱ص۳)۔
جو تمہارے سامنے تسلیم ہوجائے اور تم سے جنگ نہ کرے اور یہ ظاہر کرے کہ میں تمہارا دین رکھتا ہوں تو اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ 
 شوکانی نے آیت کے اس حصے کی بہت اچھی تفسیر کی ہے :
’’ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اس آیت میں نہی سے مرادکافر اپنے اسلام کے بارے میں جس چیز سے استدلال کرے اس میں مسلمانوں کو مسامحہ سے روکنا ہے نیز مسلمانوں کو اس بات سے روکنا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ کافر کا اسلام ظاہر کرنا پناہ حاصل کرنے اور  تقیہ کے لئے تھا۔
(فتح القدیر الجامع بین فنی الروایۃ والدرایۃ من علم التفسیر محمد شوکافی جلد ۱ ،ص۵۰۱)
لہٰذا اس آیت کے مطابق دو سروں کے بارے میں اسلام کا حکم لگانے میں اصل ظاہر ہے نہ کہ باطن یعنی کسی شخص کے کفر سے نکلنے کےلئے تظاہر بہ اسلام یعنی اپنے کو مسلمان ظاہر کرنا کافی ہے۔ 
جیسا کہ علمائے اہل سنت اسی اصل کو قبول کرتے ہیں اور اس پر تاکید کرتے ہیں۔ شاطبی نے کتاب الموفقیات میں اس مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے : احکام میں اصل و بنیاد ظاہر پر حکم ہے جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ باوجودیکہ وحی کے ذریعہ منافق و غیر منافق کو جانتے پھر بھی ظاہر کے مطابق عمل کرتے تھے۔ 
(الموافقات فی اصول الفقہ ابراہیم شاطبی ، جلد ۲، ص ۲۷۱)
دوسرا حصہ : ایمان کی توصیف اور ایمانی بھائی چارگی کی تاکید 
الف:افراد اور سماج و معاشرہ کو منحرف ہونے سے محفوظ رکھنے اور اس انحراف کے علاج کےلئے قرآن کا ایک طریقہ اصلی و حقیقی ایمان کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ خداوند عالم نے مسلمانوں کے ان گروہوں کو اہل ایمان کہا ہے جو آپس میں جنگ کی حالت میں ہیں:
وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿٩﴾ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿١٠﴾ 
(سورہ حجرات ، آیت ۹و۱۰) 
ترجمہ: اور اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کراؤ اس کے بعد اگر ایک دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے پھر اگر پلٹ آئے تو عدل کے ساتھ اصلاح کردو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے۔
ان آیات کا شان نزول مدینہ کے دومشہور قبیلوں یعنی اوس و خزرج کے درمیان نزاع و اختلاف ہے۔ 
جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس آیت میں مسلمانوں کا آپس میں لڑنا جو کہ گناہان کبیرہ میں سے ہے ان کے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا سبب نہیں ہے۔
(شرح لاعقیدہ الطحاویہ ، سفر بن عبد الرحمن موالی ، ص۴۲) 
بخاری بھی اس آیت و دوسری آیات کی روشنی میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک شخص گناہ کرنے کی وجہ سے اگر چہ وہ گناہ بڑا ہو پھر بھی دائرہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا ہے۔
(تفسیر القرآن العظیم، اسماعیل ابن کثیر جلد ۴ ص ۲۱۲)
 تعلبس بھی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ آیات دلات کرتی ہیں کہ ’’ بغی‘‘(ظلم و زیادتی کرنا) ایمان کو ختم نہیں کرتا ہے اس لئے کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کو گرچہ اہل بغی ہیں، ایمانی بھائی کہا ہے۔
(الکشف والبیان ( تفسیر الثعلبی ) ، ابو اسحاق احمد ثعلبی ، جلد ۹، ص۷۹)
ابن قدامہ نے بھی ان آیات کے ذیل میں پانچ فائدے ذکر کئے ہیں پہلا فائدہ یہ ہے کہ قرآن کریم ان مسلمانوں کو جو آپس میں ایک دوسرے سے جنگ کی حالت میں ہیں اور اہل بغی ہیں، ایمان سے خارج نہیں کیا ہے اور ان کو مومن کہا ہے۔
( المغنی فی فقہ الامام احمد بن حنبل الشیبانی ، ابن قدامہ مقدسی ، جلد ۹، ص ۳)
عینی نے بھی اس آیت کے ذیل میں اشارہ کیا ہے کہ خداوند عالم نے اہل قتال کو مومن قرار دیا ہے اور دائرۂ ایمان سے خارج نہیں کیا ہے۔ 
 (عمدۃ القاری شرح البخاری ، بدر الدین عینی ، جلد ۱ ص۲۰۹)
البانی بھی اس آیت کے ذیل میں اہل بغی کے کافر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
 خداوند عالم نے اس آیت میں تجاوز و زیادتی کرنے والے گروہ کو جو مومن اور صاحبان حق کے ساتھ جنگ کرے، اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا ہے۔ 
( فتنۃ التکفیر ، ناصر الدین البانی ، ص۲۷)
ابن باز نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مومنین کا آپس میں جنگ و جدال کرنا ان کو ایمان کے دائرہ سے باہر نہیں کرتا ہے اگر چہ ان کے ایمان کے کمزور و ضعیف ہونے کا سبب ہوتا ہے۔
 (مجموع فتاویٰ العلامۃ عبد العزیز بن باز، عبد العزیز بن باز، جلد ۲، ص ۱۹۴)
البتہ اہل سنت کی روایات میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہ جو آپس میں جنگ کی حالت میں ہوں ان دونوں گروہوں کو مسلمان کہا گیا ہے اور ان پر مسلمان ہونے کا اطلاق ہوا ہے مثلاً یہ روایت جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ ولیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
ابنی ھذا سید و لعل اللہ ا ن یصلح بہ بین فئتین من المسلمین ۔
 (صحیح البخاری ، محمد بخاری، جلد ۳، ص ۱۳۲۸)
میرا یہ بیٹا ( حسن مجتبیٰؑ) سید و سردار ہے، امید ہے کہ خداوند عالم اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں ( لشکر امام حسنؑ و لشکر معاویہ) کے درمیان صلح برقرار کرے۔ گویا خداوند عالم نے ان دوگروہوں کے جو جنگ و جدال کی حالت میں ہیں، ایمان کی نفی نہیں کی ہے اور کسی کو کافر قرار نہیں دیا ہے بلکہ ذکر کیا ہے کہ وہ اہل ایمان ہیں اور یہ ایمان ہے جو ان کے درمیان صلح کا سبب قرار پائے گا۔ اس لئے کہ ایک گروہ کافر ہوتا تو صلح کے کیا معنی تھے۔ لہٰذا اس قرآنی منطق اور قرآنی روش و طریقےکی روشنی میں مسلمانوں کو چاہئے کہ کسی دوسرے مسلمان کی تکفیر نہ کریں اور کسی مسلمان کو کافر قرار نہ دیں اس لئے کہ خداو ند عالم نے جنگ کرنے والے مسلمانوں کو بھی اہل ایمان میں شمار کیا ہے۔ 
ایک اعتراض کا جواب:
 ہوسکتا ہے کہ یہاں پر یہ اعتراض کیا جائے کہ بعض صحیح روایات میں مسلمانوں کے آپس میں جنگ و قتال کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے لہٰذا ایسی صورت میں ان روایات کو ان آیات کے ساتھ جو اہل قتال کو مومن قرار دیتی ہیں کس طرح جمع کیا جائے؟ مثلاً پیغمبر اسلا م صلی اللہ ولیہ و آلہ و سلم کی حدیث شریف میں ذکر ہوا ہے کہ سباب المسلم فسوقٌ و قتالہ کفر
 (سابق،جلد ۱، ص۲۷) 
مسلمان کو برا بھلا کہنا گالی دینا فسق ہے اور اس کے ساتھ جنگ و قتال کفر ہے۔ 
 اسی طرح دوسری روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ ولیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : 
لاترجعوا بعدی کفاراً یضرب بعضکم رقاب بعض (جلد ۴، ص۱۵۹۹) میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔
اس شبہہ کا جواب یہ ہےکہ:
 اولاً ان روایات میں اور اس طرح کی روایات میں کفر سے مراد، کفر اصغر ہے جو دین سے خارج ہونے کا سبب نہیں ہوتا ہے۔ برخلاف کفر اکبر کے جو دین سے خارج ہونے کا  سبب ہوتا ہے۔ کفر اصغر وہی کفر عملی ہے اس طرح کا کفر انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا۔ قرآن و سنت میں جن گناہوں کو کفر سے تعبیر کیا گیا  ہے  اور ان پر کفر کا اطلاق ہوا ہے جو کفر اکبر کی حدتک نہیں پہنچتے ان میں سے کفران نعمت ہے۔ لیکن کفر اکبر انسان کو دائرہ اسلام سے خار ج کرکے اعمال کو برباد کردیتا ہے۔ البتہ یہ تقسیم اہل سنت نے پیش کی ہے۔ 
ابن قیم جوزیہ نے اپنی کتاب مدارج السائلین میں کفر کی دو قسمیں اکبر و اصغر کرنے کے بعد لکھا ہے : کفر اکبر جہنم میں خلود کا سبب ہوتا ہے برخلاف کفر اصغر کے جو صرف مستحق عذاب ہے نہ کہ خلود جہنم کا سبب۔
 (مدارج السالکین، محمد بن قیم جلد ۱، ص ۳۳۶) 
سلسلۂ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے یہ روایت ’’سباب المسلم فسوقٌ و قتالہ کفر‘‘ اور اس طرح کی دیگر روایات کے سلسلے میں راہ حل پیش کرتے ہوئے ان کو کفر اصغر پر حمل کیا ہے اور اسی طرح (’’اومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولٰئک ھم الکافرون‘‘ )
(سورہ مائدہ آیت ۴۴) ،
’’اور وہ لوگ جو خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہیں لگاتے وہ کافرہیں ‘‘ ، 
اس آیت کے سلسلے میں ابن عباس کےجواب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آیت میں کفر سے مراد ملت و دین سے خارج نہیں ہونا نہیں ہے اور یہ کافر اس کافر کی طرح نہیں ہے جو خداوند عالم ، فرشتوں ، کتابوں اور پیغمبروں کا انکار کرنے والا ہے۔ ابن تیمیہ نے بھی اسی طرح کی توجیہ پیش کی ہے۔ 
(کتب و رسائل و فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، ابن تیمیہ جلد ۲ ص ۲۵۴)
 ثانیاً : ان جگہوں پر لفظ کفر کا اطلاق ، شدت تغلیظ اور انتہائی مذمت کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ جیسا کہ ابن حجر اس آیت کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں فدل علی ان بعض الاعمال یطلق علیہ الکفر تغلیظاً 
(فتح الباری ، شرح صحیح البخاری ، ابن حجر عسقلانی ، جلد ۱ ص۱۱۳) 
یہ آیات دلالت کرتی ہیں کہ بعض اعمال پر کفر کا اطلاق تغلیظ کے سبب ہے حقیقی معنی یعنی دین سے خارج ہونے کے معنی میں نہیں ہے۔ 
 لہٰذا یہ روایات دین سے خارج ہونے کے معنی والے کفر سے کوئی ربط نہیں رکھتی ہیں۔ یعنی یہ روایات اس کفر کو بیان نہیں کررہی ہے جو دین سے خارج ہونے کے معنی میں ہے۔ 
 پس ان روایات میں وہ کفر مراد نہیں جو دین سے خارج ہونے کے معنی میں ہے کہ جس کی بنا پر یہ کہا جائے کہ روایات مذکورہ آیات سے تعارض رکھتی ہیں بلکہ ان روایات میں کفر سے مراد کفر اصغر ہے جو ممکن ہے مسلمان بھی بعض گناہوں کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اس کا مصداق قرار پائیں۔ اگر دینی متون اور روایات وغیرہ میں کسی فعل و عمل یا عقیدہ کے سلسلے میں کفر کا لفظ استعمال ہو ا ہو تو ضروری نہیں کہ ہمیشہ کفر اکبر کو بیان کررہا ہو یعنی ایسے کفر کو جو انسان کو دین سے خارج کردیتا ہے۔ لہٰذا تکفیر اور کسی کو کافر قرار دینے میں توجہ رکھنا چاہئے کہ ہم آیات و روایات کے صرف ظاہر سے سہارا لینے کی کوشش نہ  کریں اور ہر کفر کو کفر اکبر پر حمل نہ کریں۔ مسلمانوں کے آپس میں جنگ و جدال کو کفر کہا گیا ہے لیکن قطعاً یہ کفر ، کفر اکبر نہیں ہے بلکہ کفر اصغر ہے۔
(ب) اہل نزاع کے درمیان صلح و صفائی کا حکم:
  جنگ میں مصروف دوگرہوں کے درمیان اختلاف کو دور کرنے کا سب سے پہلا راستہ جسے قرآن نے بھی پیش کیا ہے یہ ہے کہ دونوں کے درمیان صلح و آشتی کرائی جائے ارشاد خداوندی ہے: فاصلحوا بینھما 
( سورہ حجرات، آیت ۹)
 یہ حکم خداوند عالم کی طرف سے مومنین کے لئے تاکید ہے کہ جنگ کررہے دو گروہوں کے درمیان صلح قائم کریں اور ان کو کتاب خدا کی طرف دعوت دیں۔ جیسا کہ مفسرین نے اس جانب اشارہ کیا ہے : مثلاً جصاص کا کہنا ہے : یہ حالت جنگ میں مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان اصلاح و بھائی چارہ قائم کرنے کا حکم ہے اور کتاب و سنت اور بغی سے پلٹنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 
(احکام القرآن ، احمد خصاص جلد ۳۵ ص۲۸۲)
اس آیت میں صلح و آشتی کا حکم ایک عمومی حکم ہے جو اختلاف و جھگڑا کررہے دو گروہوں کے درمیان انجام پائے ۔ اس میں کسی ایک طرف میلان و رجحان نہ ہو یا کسی کو کافر قرار نہ دیا جائے۔ ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان عدالت و انصاف کے ساتھ صلح کرائی جائے۔ صرف اس وقت کہ جب ایک گروہ دوسرے پر بغی اورظلم و زیادتی کرے اور حکم خدا نہ مانے تو اس سے جنگ کی جائے تاکہ حکم خدا کے آگے سر جھکادے۔ جیسا کہ مفسرین  نے بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 
(تفسیر الطبری  ، محمد طبری جلد ۲۶ ص۱۲۷)
 اس صلح کی تو اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ ایک ہی آیت میں دو مرتبہ تکرار ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ آغاز جنگ میں ان کے درمیان صلح کی کوشش کرو دوسرے یہ کہ اگر تجاوز و زیاد تی کرنے والاگروہ جنگ کے بعد اصلاح کا امکان رکھتا ہو۔تو ان کے درمیان عدالت و انصاف کے ساتھ صلح کراؤ۔ اس آیت میں اہم نکتہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے ان کے کفر کا حکم نہیں لگایا ہے بلکہ ان کے ساتھ اہل ایمان والا برتاؤ کیا ہے۔ اس صلح کی تکراربعد والی آیت میں بھی ہوئی ہے۔ فاصلحوا بین اخویکم، (اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ): تاکہ مسلمانوں کو باور کرائے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و اختلاف سے صلح و آشتی بہتر ہے لہٰذا ان آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ افراد یا گروہوں کے درمیان نزاع و اختلاف کی صورت میں صلح کرانے میں کسی پر کفر کا حکم نہ لگایا جائے بلکہ ان کے ساتھ اہل ایمان والا رویہ اپنا یا جائے۔ 
ج) ایمانی بھائی چارگی کی تاکید:
ایک دو سرے کی تکفیر سے روکنے اور اس کو ختم کرنے کا ایک قرآنی راستہ مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان ایمانی بھائی چارگی کی تاکید ہے۔ خداوند عالم نے صریحی طور پر مومنین کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے: 
انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم واتقوا للہ لعلکم ترحمون
 (سورہ حجرات، آیت ۱۰)
مومنین آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور خدا سے ڈرو شائد تم پر رحم کیا جائے۔ 
عقیدہ و دین میں بھائی ہونا ، نسب میں بھائی ہونے سے کہیں مضبوط تر و پائیدار تر ہے اس لئے کہ نسب میں بھائی ہونا دین کی مخالفت کی صورت میں ختم ہوجاتا ہے لیکن دین میں بھائی ہونا نسب کے قطع ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔
 ( الجامع الاحکام القرآن ، محمد قرطبی ، جلد ۱۶، ص۳۲۲) 
اسی وجہ سے خداوند عالم آپس میں جنگ میں مصروف مومنین کو تاکید کررہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں تاکہ ان کے درمیان اصلاح کرے۔ گویا خداوند عالم اس بات کی تاکید کررہا ہے کہ مومنین جو آپس میں جنگ کی حالت میں ہیں وہ نسب و ولادت میں ایک دوسرے کے بھائی کی طرح ہیں۔ 
ابن تیمیہ نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے:
باوجودیکہ مسلمان آپس میں جنگ کی حالت میں ہیں پھر بھی ان کو ایک دو سرے کا بھائی قرار دیا جبکہ خود خداوند عالم نے اہل بغی و اہل تجاوز کے ساتھ قتال کا حکم دیا ہے لیکن ہر بغی و ہر ظلم عموم افراد کو ایمان کےد ائرہ سے خارج نہیں کرتا ہے۔
 (الفتاویٰ الکبریٰ الشیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن تیمیہ ، جلد ۴ ص۲۶۵) 
ذھبی نے بھی لکھا ہے : یہ آیت آپس میں جنگ کررہے مومنین کو اہل ایمان قرار دے رہی ہے اور خبر دی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
 ( المنتقی من منہاج الاعتدال فی نقض کلام اھل الرفض والاعتدال محمد ذہبی جلد ۱ ص ۵۵۹) 
کتاب اعلام السند مومنین میں بھی ذکر ہوا ہے کہ خداوند عالم نے اس آیت کے ذریعہ مومنین کو ایمان سے متصف کیا ہے اور ان کو برادر ایمانی خطاب کیا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے ایمان کی ذرہ برابر نفی نہیں کی 
(اعلام السنۃ المنشورۃ ، حافظ حکمی، جلد ۱ ص ۲۳۲)۔
 سعدی نے  آیت کے اس حصے کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے کہ یہ خداوند عالم کے عہد و پیمان میں سے ہے جو مومنین کے درمیان اس بات پر ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا کے کسی کو نے میں خدا ، ملائکہ ، کتب ، پیغمبران خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مومنین کا دینی بھائی ہے اور اخوت سبب بنتی ہے کہ مومنین جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہ اپنے دینی بھائی کے لئے بھی پسند کریں اور جو بات اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں وہ ان کے لئے بھی ناپسند کریں۔ انہوں نے ا س اخوت  و بھائی چارگی کو مومنین کے درمیان جنگ و اختلاف سے بچنے کا راستہ بیان کیا ہے اس طریقہ سے کہ مومنین کو چاہئے اپنےد رمیان اصلاح کریں۔
 (تفسیر السعدی، عبد الرحمن سعدی ، جلد ۱، ص ۸۰۰۔ ۸۰۱۰)
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ان آیات کا شان نزول اور سیاق و سباق مومنین کے دوگروہوں کےد رمیان جنگ و اختلاف کے سلسلے میں ہے لیکن خداوند عالم نے دونوں گروہوں کو مومن کہہ کر خطاب کیا ہے اور ان کو ایک دوسرے کا بھائی کہا ہے جبکہ وہ لوگ گنہ گار اور اہل بغی تھے اسی طرح اہل سنت کی حدیثی، تفسیری ، تاریخی اور اعتقادی کتابوں میں کثرت سے روایات موجود ہیں جن میں حضرت علیؑ نے جمل ، صفین اور نہروان والوں کو جو حضرت کے خلاف برسر پیکار تھے کافر نہیں قرار دیا بلکہ ان کو اپنا بھائی کہہ کر خطاب کیا ہے ان کو صرف اہل بغی اور نافرمان بتایا ہے۔ تفیسر بغوی میں آیا ہے کہ : 
ان علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سئل وھو القدوۃ فی قتال ، اھل ابغی عن اھل الجمل و صفین امشرکون ھم؟ فقال لا من الشرک فروا ، فقیل، امنافقون ھم؟ فقال: لا ان المنافقین لا یذکرون اللہ الا قلیلاً قیل: فما حالھم قال: اخواننا بغوا علینا ۔ 
( تفسیر بغوی ، بغوی ، جلد ۴ ص ۲۱۳)
 حضرت علیؑ جو اہل بغی کے ساتھ جنگ میں پیشوا و سردار تھے آپ سے اہل جمل و صفین کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ مشرک ہیں؟ حضرت نے فرمایا: انہوں نے شرک سے فرار اختیار کی ہے، پوچھا گیا ،کیا وہ منافق ہیں؟ حضرت نےفرمایا: منافق ذکر خدا نہیں کرتا مگر بہت معمولی، سوال کیا گیا: 
پس ان کی حالت کیا ہے ؟ فرمایا: وہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت و نافرمانی کی ہے۔ اسی طرح کی روایت نہروان والوں کے بارے میں بھی نقل ہوئی ہے ۔
 (البدایۃ ولانہایہ ، اسماعیل ابن کثیر جلد ۷ ص ۲۹)
 واضح رہے کہ حضرت علی ؑ کی ان گروہوں کے خلاف جنگ پیغمبر اسلامؐ کے صریحی حکم کے مطابق تھی۔ جیسا کہ حضرت علیؑ نے فرمایا: 
عہد الی رسول اللہ فی قتال الناکثین والقاسطین والمارقین (  البحر الزخار ،
 ( مسند البزار ابو بکر بزاز ، جلد ۲ ص ۲۶۔۲۷۔جلد ۷۷۴)
پیغمبر اسلامﷺ نے مجھ سے ناکثین و قاسطین و مارقین کے خلاف جنگ کے لئے عہد لیا۔ 
 یہ روایت اہل سنت کی دسیوں کتابوں میں متعدداسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ 
 ان روایات کے مطابق حضرت نے جمل ، صفین اور نہروان والوں کے ساتھ اسلام والا معاملہ کیا ہے اور ان کے ظاہری ایمان پر حکم لگاتے ہوئے ان کو اپنا بھائی خطاب کیا ہے ورنہ معاویہ جیسے افراد یقیناً باطنی طور پر کافر تھے جیسا کہ حضرت علیؑ نے خود اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے ْ آپ نہج البلاغہ میں اپنے مکتوب نمبر ۱۶میں ارشاد فرماتے ہیں:
۔۔۔وَ اَعْطُوا السُّيُوفَ حَقُوقَها. وَ وَطِّئُوا لِلْجُنُوبِ مَصارِعَها، وَ اذْمُرُوا ۔اَنْفُسَكُمْ عَلَى الطَّعْنِ الدَّعْسِىِّ، وَ الضَّرْبِ الطِّلَحْفِى ِ، وَ اَميتُوا ،الاَْصْواتَ فَاِنَّهُ اَطْرَدُ لِلْفَشَلِ. فَوَ الَّذى فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَاَ النَّسَمَةَ، ما اَسْلَمُوا وَلكِنِ اسْتَسْلَمُوا وَ اَسَرُّوا الْكُفْرَ، فَلَمّا وَجَدُوا اَعْواناً عَلَيْهِ اَظْهَرُوهُ.
  (نہج البلاغہ( صبحی صالح)، شریف رضی ، ص ۳۷۴)
 ترجمہ:۔۔۔ تلواروں کو ان کا حق دے دو اور پہلو کے بھل گرنے والے دشمنوں کےلئے مقتل تیار رکھو۔ اپنے نفس کو شدید نیزہ بازی اور سخت ترین شمشیر زنی کےلئے آمادہ رکھو اور آوازوں کو مردہ بنا دو کہ اس سے کمزوری دور ہوجاتی ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے، اور جاندار چیزوں کو پیدا کیا ہے کہ یہ لوگ اسلام نہیں لائے ہیں بلکہ حالات کے سامنے سپر انداختہ ہوگئے ہیں اور اپنے کفر کو چھپائے ہوئے ہیں اور جیسے ہی مددگار مل گئے ویسے ہی اظہار کر دیا۔
حضرت علیؑ نے جو لوگ آپ سے لڑ رہے تھے باطن میں ا ن کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے لیکن ظاہر میں چونکہ اظہار اسلام کیا تھا اس لئے ان کے ساتھ اسلامی سلوک کیا اور ان کو اپنا بھائی خطاب کیا اور ظاہر میں ان پر کفر کا حکم نہیں لگایا۔ 
 قرآن کریم نے مومنین کو بھائی قرار دے کر بالخصوص جنگ و نزاع کی صورت میں، مومن کی تکفیر سے روکا ہے اور جو لوگ اہل بغی ہیں ان کو ایمان سے خارج نہیں سمجھا ہے بلکہ ان کو بھائی خطاب کرکے چاہا ہے کہ اختلاف و تفرقہ کو روکے اور اس کام میں ان کے لئے صلح کو پیش کرے۔ جیسا کہ دوسری آیات میں قاتل اور ولی دم کو ایک دوسرے کا بھائی کہا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٧٨﴾
(سورہ بقرہ ، آیت ۱۷۸) 
ترجمہ:ایمان والو! تمہارے اوپر مقتولین کے بارے میں قصاص لکھ دیا گیا ہے آزادکے بدلے آزاد اورغلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت. اب اگرکسی کو مقتول کے وارث کی طرف سے معافی مل جائے تو نیکی کا اتباع کرے اور احسان کے ساتھ اس کے حق کو ادا کردے. یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے حق میں تخفیف اور رحمت ہے لیکن اب جو شخص زیادتی کرے گا اس کے لئے دردناک عذاب بھی ہے
تیسرا حصہ: مسلمان کے خون کی عظمت و اہمیت اور اس کی حفاظت کی تاکید 
(الف) مومن کا قتل تمام لوگوں کے قتل کے برابر ہے۔ 
 سب سے اہم چیز جو کسی مسلمان کے خون کے حلال ہونے کا سبب بنتی ہے وہ تکفیر ہے اور تکفیر کامطلب ہے اہل قبلہ کی طرف کفر کی نسبت دینا۔ قرآن کریم میں قتل و غارت گری کی اتنی زیادہ مذمت ہوئی ہے کہ ناحق ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے اور ایک شخص کے حیات دینے کو پوری بشریت کو حیات دینے کے برابر قرار دیا ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ناحق کسی مسلمان کے خون بہائے جانے سے روکنے کےلئے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل جانا ہے:
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ۔ 
(سورہ مائدہ آیت ۳۲)
ترجمہ:اسی بنا پر ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی اور بنی اسرائیل کے پاس ہمارے رسول کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے مگر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہی رہے۔
 مقصد یہ ہے کہ ایک شخص کا قتل ، تمام لوگوں کے قتل کے برابر ہے۔ اور شک نہیں کہ یہاں عمدی قتل کی مذمت اور اس کی سزا کی سختی کو بیان کرتا اور اس کام کو بہت بڑا پیش کرنا مقصود ہے جیسا کہ تمام مخلوق کا قتل ہر ایک کے لئے  بہت بڑی بات ہے اسی طرح ایک شخص کا بھی قتل ہے۔ فخر رازی نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 
( التفسیر الکبیر ، فخر الدین رازی، جلد ۱۱۔ ص ۱۶۸)
 قرطبی نے بھی ابن عباس سے اس طرح نقل کیا ہے:
 اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ایک انسان کو قتل کرے اور حرمت کا خیال نہ رکھے گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا ہے۔ اور اگر کوئی ایک انسان کے قتل سے اپنے کو روکے اور اس کے خون کوخوف خدا کی وجہ سے محفوظ رکھے گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی عطا کی ہے۔
 (الجامع الاحکام القرآن ، محمد قرطبی ، جلد ۶ ص ۱۴۶)
سعدی نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے :
 اگر کوئی ایسے شخص کو قتل کرنے کے لئے اقدام کرے جو قتل کا مستحق نہیں ہے ، یہ آیت اعلان کررہی ہے اس مقتول اور دوسرے افراد میں کوئی فرق نہیں ہے یہ نفس امارہ ہے جو قاتل کو وسوسہ کرتا ہے قتل کرنے کےلئے۔ اگر قاتل یہ کام انجام دے گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص خون خدا کی وجہ سے ایسے شخص کو قتل کرنے سے اپنے کو روک لے جس کے قتل کرنے کے لئے نفس امارہ وسوسہ کررہا ہے تو گویا اس نے تمام انسانیت کو زندہ کیا ہے۔
 ( تفسیر الکریم الرحمان فی تفسیر کلام المنان، عبدا لرحمان سعدی، جلد ۱۲ ص ۲۲۹)
 البتہ بعض مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ : وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ۔میں احیا او رزندہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی شخص کی بقا و نجات کا سبب بنے یا تو اس شخص کے قاتل کو روک کر یا خطرات سے نجارت دے کر۔
 ( روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی ،، سید محمود آلوسی جلد ۶ ص۱۱۸)
بہت زیادہ روایات اسی آیت کی تائید میں پیغمبر اکرمﷺ سے نقل ہوئی ہیں جس میں آنحضرتﷺ نے ناحق خون بہانے سے منع فرمایا ہے دو روایات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے  :
 لا یزال المومن فی نفسہ من دینہ مالم یصیب دما حراما
( صحیح بخاری ، محمد بخاری، جلد ۶ ص ۲۵۱۷)
مومن اپنے دین اسلام کی جانب سے ہمیشہ فائدہ حاصل کرتا ہے جب تک کہ ناحق خون نہ بہائے۔ 
دوسری روایت یہ ہے کہ : من قتل معاھداً لم یرح رائحۃ الجنۃ 
(صحیح بخاری ، محمد بخاری ، جلد ۳ ص ۱۱۵۵)
جو بھی ایسے شخص کوناحق قتل کردے جو اسلام کی پناہ میں ہے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا۔ 
ب:دوزخ، قاتل مومن کے انتظار میں: 
خداوند عالم نے ایک دو سری آیت میں قتل و خونریزی سے روکنے کے لئے قاتل کے لئے بہت سخت  عذاب کو بیان کیا ہے تاکہ اس ذریعہ بھی مومن کی جان محفوظ رہنے کی اہمیت کو پیش کیا جائے:
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا 
(سورہ انسا آیت ۹۳)
ترجمہ : اور جو بھی کسی مومن کو قصدا قتل کردے گا اس کی جزا جہّنم ہے- اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اور اس پر خدا کا غضب بھی ہے اور خدا لعنت بھی کرتا ہے اور اس نے اس کے لئے عذابِ عظیم بھی مہیاّ کررکھا ہے۔
قرآن کریم نے اس آیت میں اس شخص کے لئے سزاؤں کا تذکرہ کیا ہے جو کسی مومن کو عمداً قتل کردے:
 (۱) جہنم کی سزا (۲) دوزخ میں ہمیشہ رہنا۔ (۳) غضب خدا (۴) لعنت خدا ۔ (۵) عذاب عظیم۔ 
گویا جرم کے بہت سخت اور بہت بڑے ہونے کی جانب اشارہ ہے جیسا کہ وہابی مفتی ابن عثیمین نے بھی اسی آیت کے ذیل میں اس بات کو بیان کیا ہے:
 ان العمد اعظم جرماً من ان تدخلہ الکفارۃ و لیس فیہ الا ھٰذا الوعید الشدید و ھٰذا القول اصح 
(الشرح الممتع علی زد المستقنع ، محمد بن عثیمین، جلد ۱۴ ص ۱۹۱)
بیشک عمدی قتل کا جرم اتنا سخت اور بڑا ہے کہ اس پر کفارہ بھی نہیں ہوسکتا اور اس قتل کا کوئی بھی چیزجبران نہیں کرسکتی سوائے وعدۂ عذاب کے ۔ یہ صحیح ترین قول ہے۔ 
جیسا کہ مذکورہ دو آیات میں ملاحظہ ہوا کہ خداوند عالم نے کسی مسلمان کے قتل کو بہت بڑا جرم دکھا کر ، نفس کی حفاظت کی جانب خصوصی توجہ کرتے ہوئے اور مومن کے قاتل کے لئے سخت عذاب و سزا معین کرکے مومنین کے حقوق کے سلسلے میں تجاوز و زیادتی کو روکنا چاہاہے اور بالخصوص ان کے نفوس کی اہمیت اور ان کی حفاظت کا پیغام دیا ہے ۔ لیکن تکفیری گرو ہوں نے دوسروں کو کافر قرار دے کر اور ان آیات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں، جن میں بچے بڑے ، زن و مرد سب شامل ہیں کے ناحق  خون کو بہایا جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔ 
 (چوتھا حصہ ) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم
 ریسمان الٰہی کو پکڑنے اور تفرقہ و اختلاف سے دوری کا حکم 
تکفیر کے علاج اور اس وبا سے نجات پانے  کے لئے قرآن کا ایک بتایا ہوا راستہ  یہ ہے کہ تمام مسلمان کتاب خداو  سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے وابستہ ہوں اور اختلاف و تفرقہ سے دوری اختیار کریں:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔ 
(سورہ آل عمران ، آیت ۱۰۳)
ترجمہ:’’اور اللہ کی ر سّی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم جہّنم کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں نکال لیا اور اللہ اسی طرح اپنی آیتیں بیان کرتا ہے کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ‘‘۔
طبری نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ : 
اپنے کو ریسمان خدا سے لٹکا لو دین الٰہی اور عہد و پیمان ( یعنی الفت و محبت ، حق پر مجتمع ہونا ، امر الٰہی کے آگے تسلیم ہونا کہ ان چیزوں کے بارے میں کتاب خدا میں عہد لیا گیا ہے ) سے تمسک کرو۔ 
( تفسیر الطبری ، محمد طبری جلد ۴ ص ۳۰) 
خداوند عالم نے ا تحاد کا حکم دینے کے بعد تفرقہ و اختلاف سے بھی منع کیا ہے ارشاد ہے: 
وَلَا تَفَرَّقُوا
یعنی خدا کے دین اور اس کے ساتھ کئے گئے عہد ( خدا و رسول کی اطاعت و پیروی میں متحد رہنا) سے جدا نہ ہو۔
 ( تفسیر الطبری ، محمد طبری جلد  ۴ ص ۳۲)
  قرطبی نے بھی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : فان اللہ تعالیٰ یامر بالالفۃ و ینھی عن الفرقۃ فان الفرقۃ ہلکۃ والجماعۃ نجاۃ
 (الجامع الاحکام القرآن، محمد قرطبی  جلد ۴ ص ۱۵۹)
خداوند عالم نے الفت و بھائی چارگی کا حکم دیا ہے اور اختلاف و تفرقہ سے منع فرمایا ہے اس لئے کہ تفرقہ میں ہلاکت اور جماعت و اتحاد میں نجات ہے۔ 
 ایک دوسری آیت میں خدا و اس کے رسول کی اطاعت و پیروی کا حکم دینے کے بعد اختلاف و تفرقہ کے نتیجے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ کہ تنیجہ قدرت و شوکت کا ختم ہوجانا بیان ہوا ہے:
وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ۔
 ( سورہ انفال آیت ۴۶)۔
 ترجمہ:اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جاؤ اور تمہاری ہوا بگڑ جائے اور صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
 اختلاف و تفرقہ سب سے بڑا سبب ہے ضعف و کمزوری کا ۔ تفرقہ کا سبب ہونے والی چیزوں میں سے ایک مسلمانوں کی تکفیر ہے ۔ لیکن کتاب خدا و سنت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تمسک مسلمانوں کے درمیان وحدت و ہمدلی کے اسباب میں سے ہے اور مسلمانوں کے ایک دوسرے سے جدائی کے راستہ کو بند کردیتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی اس موضوع کی جانب اشارہ کیا ہے اور خدا و رسول کی طرف رجوع و بازگشت کو اختلاف کے دور ہونے کا راستہ بیان کیا ہے: 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا۔ 
(سورہ نساء آیت ۵۹) 
ترجمہ:ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو- یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔
 لہٰذا قرآنی دستورات و احکامات میں سے ایک یہ ہے کہ تمام امت مسلمہ آپس میں متحد رہے ۔ اس قرآنی تعلیم کے مقابلے استعمار کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالا جائے آمادہ کیا جائے کہ ایک دوسرے کو تکفیر و لعن کریں ۔
 تکفیر ، خدا و رسولﷺ کا حق ہے
(کسی کو کافر قرار دینے کا حق صرف خدا و رسول کو ہے) :
تکفیری وبا کو روکنے کے لئے قرآنی تعلیمات اور قرآنی علاج کو پیش کرنے کے بعد ضروری ہے کہ یہ بیان کیا جائے کہ کون لوگ تکفیر کا حق رکھتے ہیں؟
 کیا ہر ایک کو حق حاصل ہے کہ دوسرے کو کفار کے گروہ میں داخل کرے؟ 
تکفیر کس وقت جائز ہے ؟
  جیسا کہ علماء نے کہا ہے کہ تکفیر کا مسئلہ شرعی ہے جو خدا و رسول کے اختیار میں ہے۔ شہرستانی نے اس سلسلے میں لکھا ہے :
 لان التکفیر حکم شرعی 
( الملل والنحل ، محمد شہرستانی ، جلد ۱ ص ۲۰۲)
 اس لئے کہ تکفیر حکم شرعی ہے۔ امام قرانی بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ تکفیر شرعی مسئلہ ہے عقلی نہیں۔
 (الفروق او انوار البروق فی انواء الفروق ( مع الھوامش) احمد قرانی ۴/۲۹۸)
 ابن حجر ہیشمی نے لکھا ہے :
 التکفیر حکم شرعی سببہ جحد
 (الصواعق المحرقہ علی اھل الرفض الضلال الزندقر ، احمد ابن حجر ۱/۱۳۲)
 تکفیر حکم شرعی ہے جس کا سبب جحد اور انکار ہے۔ 
ابن تیمیہ جو وہابیت کے فکری و عقیدتی رہبر کے عنوان سے مشہور ہیں انہوں نے بھی تکفیر کو فقہی مسئلہ قرار دیا ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ تکفیر ، خدا کا حق ہے ، کسی کو حق حاصل نہیں کہ کسی دوسرے کو کافر قرار دے اور اس خدائی حق میں تجاوز کرے اور تکفیر کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جس میں خدا و ر سول ہی اظہار نظر کرسکتے ہیں۔ 
 انہوں نے اپنی کتاب الاستغاثہ میں لکھا ہے :
علم و سنت والے اپنے مخالفین کی تکفیر نہیں کرتے ولو وہ مخالف اس علم و سنت والے کی تکفیر کرے۔ اس لئے کہ کفر ایک شرعی حکم ہے لہٰذا انسان کو حق حاصل نہیں ہے کہ اس بارے میں مقابلہ بہ مثل کرے اور اس کی تکفیر کرے۔ جیسا کہ اگر کوئی تمہاری تکذیب کرے یا تمہارے اہل کے ساتھ تجاوز کرے تو تم کو حق نہیں ہے کہ اس کی تکذیب کرو یا اس کے اہل کے ساتھ تجاوز کرو۔ اس لئے کہ جھوٹ اور زنا حق اللہ ہے۔ اسی طرح تکفیر بھی حق اللہ ہے اور کسی کو تکفیر کا  حق حاصل نہیں ہے۔ صرف خدا و اس کے رسول تکفیر کرسکتے ہیں اس طرح کسی بھی شخص کی تکفیر اور اس کے قتل کا جواز، اس بات پر موقوف ہے کہ رسول خداﷺ کی طرف سے دلیل موجود ہو کہ اس کے مخالف کی تکفیر جائز ہے۔ ورنہ جو بھی دین سے جاہل ہو اس کی تکفیر نہیں ہوتی ۔
 (الاستغاثہ فی الرد علی البکری ، ابن تیمیہ ، جلد ۱ ص ۳۸۱) 
انہوں نے دوسری جگہ لکھا ہے کہ یہ وجوب و تحریم، ثواب و عقاب، تکفیر تفسیق خدا و رسول کا کام ہے۔ اور کوئی بھی اس سلسلے میں دخالت نہیں کرسکتا۔
 ( کتب و رسائل و فتاویٰ شیخ الاسلام بن تیمیہ ، جلد ۵ ص ۵۵۴)
 اسی طرح دوری جگہ لکھا ہے کہ کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر کرے چاہے اس نے غلطی ہی کی ہو مگر یہ کہ اس تکفیر پر دلیل موجود ہو۔
 (کتب و رسائل و فتاویٰ شیخ الاسلام بن تیمیہ ، جلد۱۲، ص ۵۰۱)
ابن تیمیہ کے مشہور شاگرد ابن قیم کہتے ہیں:
 الکفر حق اللہ ثم رسولہ بالشرع یثبت لا بقول فلاں 
(توضیح المقاصد و تصحیح القواعد فی شرح قصیدۃ الامام ابن القیم ، احمد بن قیم جلد ۲، ص ۴۱۲)
 کفر حق خدا ہے پھر خدا کے رسول کا حق ہے جو شریعت سے ثابت ہوتا ہے کسی کے کہنے سے نہیں۔ 
وہابیوں کے بزرگ عالم ابن عثیمین بھی تکفیر کو خدا و رسول کا حق قرار دیتے ہوئے معتقد ہیں کہ جو کسی کی تکفیر کرے در حقیقت خود وہ کافر ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
 خدا کی پناہ ،جو لوگ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں وہ امت اسلامی سے خارج ہیں اور اس میں شک نہیں کہ وہ کفار میں سے ہیں اس لئے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خبر دی ہے کہ اگر کوئی اپنے بھائی سے کہے۔ :
 اے کافر! دو ہی صورتیں ہیں :
  جس کی تکفیر کی گئی ہے اگر وہ واقعی طور پر کافر ہو تو وہ کافر ہے لیکن تکفیر ہونے والاکافر نہ ہو تو کافر کہنے والاکافر ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ اپنی زبان و قلب کو مسلمانوں کی تکفیر سے محفوظ رکھے  اور یہ تکفیر خدا و اس کے رسول کا حق ہے وہ جس کی   تکفیر کریں وہ کافر ہے چاہے ہمارے نزدیک مسلمان ہو اور وہ جس کی تکفیر نہ کریں وہ مسلمان ہے چاہے کوئی کہے کہ وہ شخص کا فر ہے۔
 (شرح ریاض  الصالحین، محمد بن عثیمین ، جلد ۶ ص ۴۷۹) 
 ولید بن راشد بن عبد العزیز السعید ان نے کتاب الاجماع العقدمی میں ۶۱۹ ایسے مسائل جمع کئے ہیں جو اہل سنت کے درمیان متفق علیہ ہیں۔ 
انہوں نے تکفیر کو بھی ان مسائل میں سے قرار دیا ہے جس پر اہل سنت کا اتفاق ہے کہ یہ شارع کا حق ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
 واجمعوا علی ان التکفیر حق للشارع فلا نکفر الا من کفرہ اللہ تعالیٰ و رسولہ 
 ( الاجماع العقدی، ولید سعیدان ، شمارہ ۵۶۸۔ ص ۵۲) ۔ 
اہل سنت کا اجماع ہے کہ تکفیر شارع کا حق ہے ( یعنی کسی کو کافر قرار دینے کا حق صرف شارع کو ہے ) ۔ ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے، کسی کو کافر قرار نہیں دیتے صرف اس کو جس کو خدا و رسول نے کافر قرار دیا ہو۔ 
 حمد محمد بوقرینی بھی تکفیر کو ایک شرعی مسئلہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں : تکفیر و کافر قرار دینے میں کسی کی ذاتی و شخصی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لئے کہ یہ مسئلہ شرعی ہے نہ کہ عقلی اور کافر وہی ہے جس کو خدا و رسول کافر سمجھیں نہ کہ کوئی اور۔
(التکفیر ، مفہو مہ و خطارہ و ضوابطہ ، حمد محمد بوقر ین ، ص ۵۰)
 لہٰذا  جب معلوم ہوگیا کہ تکفیر حق ہے خدا و رسول کا تو اب کسی کو حق نہیں ہے اس سلسلے میں حدود الٰہی سے تجاوز کرے صرف اسی وقت کسی کو کافر قرار دے سکتا ہے کہ جب شرع کی جانب سے اس کے پاس کوئی قطعی دلیل ہو۔ جیسا کہ علمائے سنت نے اس بات کا قرار کیا ہے ۔ 
 ذہبی بھی تکفیر کو صرف اسی وقت جائز سمجھتے ہیں کہ جب دلیل قطعی ہو۔ 
وہ علماء کو خطاب کرکے کہتے ہیں :
 فما ینبغی لک یا فقیہ ان تبادر الی تکفیر المسلم الا ببرھان قطعی ۔
 (سیر اعلام النبلاء ، محمد ذہبی جلد ۱۴، ص ۳۴۳) 
اے فقیہ ! تمہارے لئے ہر گز سزاوار نہیں ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر کرو مگر اسی وقت کہ جب تمہارے پاس قطعی دلیل موجود ہو۔ 
 اہل سنت کے بزرگ عالم شوکانی بھی واضح و روشن دلیل کے ساتھ تکفیر کو جائز قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: میرا کہنا ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں یہ حکم لگانا صحیح نہیں ہے کہ وہ دین سے خارج ہوگیا ہے اور کفر میں داخل ہوگیا ہے۔ ایسے شخص کی طرف سے جو خدا و روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے جب تک کہ بالکل واضح و روشن دلیل نہ ہو۔ 
(السیل الجرار، المتدفق علی حدائق الازہار جلد ۴ ص ۵۷۸)
عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نے بھی اس بارے میں لکھا ہے : 
’’تکفیر کے مسئلہ میں واجب ہے کہ کوئی اپنی زبان پر کوئی حرف بھی نہ لائے جب تک کہ خدا کی طرف سے علم و برہان نہ ہو۔ اور کسی کو  اپنی سمجھ اور استحسان عقلی کے ذریعہ دین اسلام سے خارج کرنے سے اجتناب کرے۔ اسلئے کہ دین اسلام سے کسی کو خارج کرنا یا کسی کو دین اسلام میں داخل کرنا بہت بڑا دینی امر ہے ۔‘‘  اور تاکید کی ہے کہ تکفیر کے مسئلے میں معصوم یعنی پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے نص موجود ہو۔ ممکن ہے شیطان نے بہت سے افراد کو اس  سلسلے میں فریب دیا ہو کہ انہوں نے اس شخص کو مسلمان سمجھا جس کے بارے میں کتاب و سنت و اجماع نے کافر ہونے کا حکم لگایا تھا اور اس کو کافر قرار دیا جسے کتاب و سنت و اجماع نے مسلمان قرار دیا تھا۔ 
(الدر السنیۃ فی الاجویۃ النجدیہ، علماء نجد ، جلد ۱۰۔ ۳۸۴، نواقض الایمان القولیۃ العملیۃ عبد العزیز بن محمد بن علی العبد اللطیف ۱/۷) 
 اسی طرح ابن الوزیر جو یمن کے عظیم علماء میں سے ہیں ۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی کے کافر ہونے پر دلیل بھی موجود ہو پھر بھی تکفیر کے سلسلے میں احتیاط کرنا چاہئے وہ لکھتے ہیں :
جمہور علماء جب اس شخص کی تکفیر میں احتیاط کا حکم لگاتے ہیں جس کے بارے میں کفر پر دلیل موجود ہو تو ایسے شخص کے بارے میں جس کے کفر پر نص و دلیل نہ ہو بدرجہ اولیٰ احتیاط و تقویٰ کا خیال کرنا چاہئے۔ 
آگے وہ اس بات کا بھی جواب دیتے ہیں کو نص کے موجود ہونے کی صورت میں بھی تکفیر سے اجتناب کرنا چاہئے۔ عدم تکفیر کی سب سے اہم دلیل حضرت علیؑ کے ذریعہ خوارج کی تکفیر نہ کرنا ہے۔ 
 پھر وہ لکھتے ہیں: باوجودیکہ خوارج حضرت علیؑ سے بغض و کینہ رکھتے تھے اور یہ دشمنی ان کے نفاق کی دلیل تھی اور باوجود یکہ وہ لوگ حضرت علیؑ کی تکفیر کررہے تھے لیکن حضرت نے ان کی تکفیر نہیں کی  ان کو کافر نہیں کہا۔
 (ایثار الحق علی الخلق فی رد الخلافات الی المذہب الحق من اصول التوحید، محمد ابن الوزیر جلد ۱ ص ۳۸۸)
اب تک جو باتیں میں نے اہل سنت وہابیوں کے بزرگ علماء سے نقل کی ہیں ان سے واضح ہوگیا کہ تکفیر ، خداکا حق ہے اور خدا و رسولﷺ کے علاوہ کوئی کسی کو کافر قرار نہیں دے سکتا صرف اسی صورت میں کافر قرار دے سکتا ہے کہ شرعی و قطعی (نہ کہ ظنی) دلیل موجود ہو۔ اور دلیل قطعی کے ہونے کے باوجود بھی احتیاط ہی کرنا چاہئے اور اگر بغیر دلیل کسی مسلمان کی تکفیر کرے تو خود وہ کافر ہے جیسا کہ ابن عثیمین نے اشارہ کیا ہے :
 تکفیریوں کا طریقہ اور مسلمانوں کی تکفیر میں قرآن کی مخالفت اسلامی تاریخ میں تکفیر کا ماضی ہے لیکن وہابی فرقہ کا وجود میں آنا اسلامی مذاہب کے درمیان تکفیر کی بحث کا وجود میں آنے کا آغاز ہے جب سے وہابی فرقہ وجود میں آیا ہے اس وقت سے اسلامی مذاہب کے درمیان مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس لئے وہابیت کے وجود میں آنے سے پہلے کسی بھی اسلامی فرقہ کا مذہبی و بنیادی عقیدہ تکفیر نہیں تھا صرف وہابیوں ہی کی یہ منطق و طریقہ ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دینے اور تکفیر کو اہمیت دیتے ہیں۔ 
وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ صرف وہی مسلمان ہیں بقیہ جو بھی ان کے عقائد و نظریات کے خلاف ہے وہ مشرک ہے اسی وجہ سے وہ اہل سنت اور علمائے اسلام کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔
 (عقائد علماء اھل انسۃ الدیوبندیہ ( المہند علی المفند) مولانا خلیل احمد سہارنپوری ، ص ۵۸)
مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے اپنی کتاب میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور آلوسی نے بھی اپنی کتاب تاریخ نجد میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہابیوں نے مسلمانوں کو حج سے روکا اور ان کو کافر قرار دینے میں زیادہ روی کی۔ 
(تاریخ نجد ، سید محمود آلوسی، ص ۹۴) 
کتاب السحب والوائلہ میں بھی ذکر ہوا ہے کہ جو بھی محمد بن عبد الوہاب کی مخالفت کرتا اس کی تکفیر کرتے اور اس کے خون کو مباح قرار دیتے ۔
 (السحب الوائلہ علی ضرایح الحنابلہ ، محمد ابن حمید ، ص ۲۷۶)
 البتہ محمد بن عبد الوہاب کے بھائی نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کا بھائی ہر اس شخص کو کافر سمجھتا تھا جو ان کا مخالف ہو۔
 (الصواعق الاھیۃ فی الرد علی الوہابیۃ سلیمان بند عبد الوہاب ۱ ص۴)
وہابی مورخ ابن غنام نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ : بارہویں صدی کے آغاز میں یعنی محمد بن عبد الوہاب کے قیام سے پہلے اکثر مسلمان مشرک تھے اور ارتداد جاہلیت کی طرف پلٹ چکے تھے۔ 
(تاریخ نجد ، حسین بن غنام ، ص ۱۳) 
مولف نے اس کتاب میں محمد بن عبد الوہاب کی بہت زیادہ تعریف و تمجید اور حمایت کی ہے۔ 
 وہابی علماء آل شیخ کے راستے کی پیروی کو تنہا نجات کا راستہ سمجھتے ہیں اور اپنے مخالفین کو گمراہ و اہل جہنم قرار دیتے ہیں۔
 (الدررالسنیۃ فی الاجویۃ النجدیہ ، علماء نجد ، جلد ۱۴ ص ۳۷۵)
اسی تکفیر اور دوسرو ں کو کافر قرار دینے ہی کا نتیجہ تھا انہوں نے مردوں عورتوں اور بچوں کے خون کو اپنے اوپر حلال سمجھا جیسا کہ جبرتی نے اپنی تاریخی کتاب میں اس بربریت کی طرف اشارہ کیا ہے: مردوں کو قتل کیا اور عورتوں و بچوں کو قیدی بنایا، کہ وہابیوں کا یہی طریقہ ہے۔
 (عجائب الآثار عبد الرحمان جیرتی ، ص ۳۷۳)
ابن بشیر نے بھی یہ اعتراف کیا ہے وہابیوں نے اسلامی ممالک میں ہزاروں بے گناہ افراد کا خون بہایا ہے۔
 (عنوان الجد فی تا ریخ نجد، عثمان بن بشر، ص ۲۵۷۔ ۲۵۸)
وہابیوں نے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر قرآن کے اس حکم کی مخالفت کی جس میں مومنین کے درمیان بھائی چارے کا حکم دیا گیا اور مسلمانوں کی تکفیر سے منع کیا گیا۔ وہ مومنین کے ناحق خون کو زمین پر بہا رہے ہیں جس سے قرآن نے شدت سے روکا ہے۔ یہ تو قرآن و منطق کی عین مخالفت ہے۔ 
اہل سنت بھی طول تاریخ میں وہابیوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہے جبکہ طول تاریخ میں شیعہ حضرات سب سے زیادہ اس تکفیر کی قربانی کی نذر  ہوئے ۔ یہاں تک کہ محمد بن عبد الوہاب نے نہ صرف شیعوں کو بے وجہ کافر قرار دیا، بلکہ ان کے کافر ہونے میں شک کرنے والوں کو بھی کافر جانا ہے وہ لکھتا ہے : 
ومن شک فی کفرھم بعد قیام الحجۃ علیہم فھو کافر 
( الدرر السنیۃ الاجویۃ النجدیۃ ، علما نجد جلد ۱۰ ص ۴۴۰) 
’’جو بھی شیعوں کے سلسلے میں حجت تمام ہونے کے بعد ان کے کافر ہونے میں شک کرے و ہ کافر ہے‘‘۔ 
افندی ان تکفیری افراد میں سے ہے جس نے طول تاریخ میں شیعوں کی تکفیر کے بارے میں سب سے خطرناک فتاویٰ دیئے ہیں۔ مشہور حنفی فقہا میں سے محمد امین جو ابن عبادین کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے اپنی کتاب تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ میں شیعوں کی تکفیر اور ان کے قتل کے جواز کے بارے میں عبد اللہ افندی کے مشہور فتاویٰ کو بیان کیا ہے اور افندی کی اس بات کو بھی نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شیعوں کے کفر یا ان کے قتل کے جائز ہونے میں شک یا توقف کرے وہ بھی کافر ہے ابن عابدین نے افندی کے فتاویٰ کے واقعہ کو اس انداز سے بیان کیا ہے:
شیخ الاسلام عبد اللہ افندی کے ۱۱۴۶ھ؁ میں مدینہ منورہ سے واپسی کے بعد میں نے ان کے بعض رسالوں میں دیکھا کہ سوال کیا گیا تھا: شیعوں کےقتل کئے جانے کے سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ایسی صورت میں کہ جب وہ حاکم اسلامی پر خروج کریں ان کے کفر کی وجہ سے؟ اگر کفر کی وجہ سے ہو تو ان کے کفر کی وجہ کیا ہے؟ اور کفر ثابت ہونے کی صورت میں اگر توبہ کرلیں تو کیا ان کی توبہ اور ان کا اسلام مرتد کی طرح قابل قبول ہوگا۔ یا اس شخص کی طرح جو پیغمبر ﷺ کو گالیاں دے، قبول نہیں ہوگی اور قتل کئے جائیں گے۔ اور اگر کافر ہیں تو کیا حد قتل جاری ہوگی یا کفر؟
 اور کیا جائز ہے کہ ان کا جزیہ لیا جائے اور وہ قتل نہ کئے جائیں اور ان کی عورتیں کنیز کے طور پر لی جائیں؟
افندی نے جواب میں لکھا : ان ھولاء الکفرۃ والبغاۃ الفجرۃ جمعوا بین اصناف الکفر والبغی والعناد و انواع الفسق والزندقۃ والالحاد ومن توقف فی کفرھم والحادھم و وجوب قتالھم و جواز قتلھم فھو کافر مثلھم ۔ 
یہ کفار و ستم گرا ور باغی و خطاکار (مراد شیعہ ) نے ہر طرح کفر ، ظلم ، فسق اور بے دینی کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے۔ جو بھی ان کے کفر، شرک ، بے دینی اور قتل میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔۔۔۔۔۔ کافر گروہ ( شیعہ ) چاہے توبہ کرے یا نہ کرے ان کا قتل واجب ہے ۔ اس لئے کہ اگر توبہ کریں اور مسلمان ہوجائیں تو ان پر حد جاری ہوگی اور ایسے شخص کی حد اس کا قتل کیا جانا ہے۔ اور اگر توبہ نہ کریں تو قتل کئے جائیں گے اور ان پر کافروں کے احکام جاری ہوں گے اسی وجہ سے ان کا چھوڑ دینا اور جزیہ لینا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ قتل کئے جائیں ۔ اور ان کی عورتوں و بچوں کو کنیزی کے طور پر لیا جائے اس لئے کہ بچہ ، ماں کے حکم میں ہے۔ 
(العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ ، محمد امین بن عابدین، جلد ۱ ص۱۰)
اس کے بر خلاف قاضی ایجی کا کہنا ہے کہ : اہل سنت کے جمہور فقہا و متکلین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جاسکتی کسی اہل قبلہ کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔۔۔
 (المواقف ، عضد الدین ایجی ، جلد ۳ ، ص ۵۶۰) 
قاضی سبکی کا بھی کہنا ہے کہ مومنین کی تکفیر اور ان کو کافر قرار دینا بہت سخت ہے او رجس کے دل میں بھی ایمان ہے وہ اہل ہو اور اہل بدعت کی تکفیرکو بھی بہت سخت سمجھتا ہے اس صورت میں کہ وہ شہادتین کا اقرار کررہا ہو اس لئے کہ تکفیر سخت و خطرناک امر ہے۔
 (الیواقف والجواہر ، سبکی ، ص ۵۸)
نتیجہ: 
قرآن کریم، مسلمانوں کے سب سے پہلے منبع و ماخذ ہونے کے ساتھ سب سے پہلی کتاب ہے جس نے مسلمانوں کی تکفیر اور ان کو بے وجہ کافر قرار دیئے جانے کی مذمت کی ہے۔ قرآن کریم نے تکفیر سے روکنے کے لئے اور اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے بہت سے راستے بتائے ہیں ان میں سے ایک راستہ ، دوسروں کی تکفیر میں جلد بازی سے پرہیز اورظاہری طور پر اسلام کا دعویٰ کرنے والے کے اسلام میں شک نہ کرنا ہے۔ دوسرا راستہ ہے جو مسلمان آپس میں جنگ کی حالت میں ہیں ان کو مومن کہنا اور ان کے درمیان ایمانی بھائی چارے کی تاکید ہے۔ اسی طرح نزاع و اختلاف کرنے والوں کے درمیان اصلاح، صلح و صفائی کا حکم دیکر تکفیر اور اختلاف کے راستے کو بند کیا ہے۔ قرآن کریم نے مومن کے خون کو بہت زیادہ اہمیت دے کر اس کی حفاظت کی کوشش کی ہے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ کوئی تکفیر کے ذریعہ یعنی بے وجہ کسی کو کافر قرار دے کر اس کے حقوق پائمال کرے۔ تکفیر جیسے خطرناک مرض کو ختم کرنے کے لئے اولی الامر کی طرف رجوع بھی ایک قرآنی راستہ ہے۔ آخر میں اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ تکفیر ایک شرعی مسئلہ ہے۔ جو خداو رسول کا حق سے صرف خدا و رسول کسی کو کافر قرار دے سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ بغیر قطعی دلیل کے دوسرے کو کافر سمجھے۔ اسی طرح تکفیریوں کے غلط اور غیر قرآنی طریقے کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے مخالفین کو باوجودیکہ وہ مسلمان تھے ان کی تکفیر کی اور ان کے خون کو اپنے اوپر مباح سمجھا۔ 
منابع:
(۱) قرآن
(۲) ابن وزی ر، محمد بن نصر المرتضیٰ ، ایثا الحق علی الخلق کی رد الخلافات الی المذہب الحق من اصول التوحید ، چاپ دوئم دار ا الکتب العلمیہ ، بیروت ۱۹۸۷م ، 
(۳) ابن باز، عبد العزیز ،

خدا ایک ہے


باسمہ تعالیٰ
خدا ایک ہے
محمد حسنین باقری
بچو! اِس دنیا کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا خالق، خداوند عالم ہے۔ جس طرح کوئی چیز بغیر بنانے والے کے نہیں بَن سکتی ، کوئی بھی چھوٹی سی چھوٹی اور معمولی چیز بھی اسی وقت بنتی ہے جب کوئی بناتا ہے۔ خود بخود کوئی چیز نہیں بن جاتی۔ کتاب کو بھی کسی نے بنایا ہے تب ہی بنی ہے، قلم کا کوئی بنانے والا ہے، گھر اور مکان کو بھی کسی نے بنایا ہے، کرسی میز بھی خود سے نہیں بن گئے؛ جب معمولی چیز بغیر بنانے والے کے نہیں بن سکتی تو اتنی بڑی دنیا، چاند، سورج، ستارے، زمین، پیڑ، پودے غرض ہر چیز کو کسی نہ کسی نے ضرور بنایا ہے۔ وہی سب کے بنانے والے اور پیدا کرنے والے کو خدا کہتے ہیں۔ خدا ہے، موجود ہے، پایا جاتا ہے۔یہ بھی معلوم رہے کہ خدا کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جیسے اللہ، رب، پروردگار، معبود وغیرہ اس طرح ہندی میں بھگوان اور انگلش میں گاڈ اسی کام نام ہے۔ ساتھ ہی وہ ایک ہے اکیلا ہے، اس کا کوئی ساتھی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ اگر دو خدا ہوتے تو آپس میں اختلاف ہوتا جھگڑا ہوتا اور دنیا ختم ہوجاتی اور اگر دونوں ملکر کام کرتے تو کچھ کاموں میں ایک دوسرے کے محتاج ہوجاتے اور محتاج خدا نہیں ہوتا۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جتنے نبی و رسول اور امام آئے سب نے کہا خدا ایک ہے اکیلا ہے اگر دوسرا کوئی خدا ہوتا تو وہ بھی تو اپنے رسول و نبی اور امام بھیجتا۔ اور کسی وہاں سے آنے والے نے دوسرے خدا کے لئے نہیں کہا اس کا مطلب ہے کہ خدا بس ایک ہی ہے ، وحدہ لاشریک ہے جیسا کہ ہم لوگ سورہ قل ہو اللہ میں پڑھتے بھی ہیں کہ: ’’ اے رسول کہہ دیجئے وہ خدا ایک ہی ہے، اور وہ بے نیاز ہے کسی کا محتاج نہیں اس نے کسی کو نہیں جَنا یعنی وہ کسی کا بیٹا و اولاد نہیں اور نہ اس کو کسی نے جَنا یعنی اس کا کوئی ماں باپ نہیں ہے، اس کا کوئی بھی ہمسر اور شریک نہیں ہے۔

امام سجاد کی روایات میں قرآن


باسمہ تعالیٰ
امام سجاد علیہ السلام کی روایات میں قرآن 
(مندرجہ ذیل مضمون محترم آزادہ عباسی کی فارسی تحریر ’’مبانی قرآنی گفتارھای امام سجاد علیہ السلام‘‘  کا ترجمہ ہے)
امام زین العابدین علیہ السلام، عترت رسول اکرم ﷺ کی ایک فرد اور واضح مصداق ہیں۔آپؑ عِدل قرآن اور عالم قرآن ہیں، اس بات کی تائید مشہور و متفق علیہ حدیث ثقلین بھی کر رہی ہے۔امام کاکلام ہمیشہ قرآن کے ہمراہ ہے اور آپ کی قرآن کے ساتھ معیت قیامت تک باقی رہے گی ۔ احادیث کے مطابق امام سجاد علیہ السلام ان افراد میں سے ہیں جو تبیین و توضیح قرآن کے عہدہ دار ہیں۔ اس سے قطع نظر آپ کاکلام قرآنی مبانی پر مشتمل ہے آپ کی گفتگو قرآن کے محور پر ہے لہذا ذیل میں امامؑ کےکلام و اقوال کے قرآنی مبانی کو پیش کیا جارہا ہے:
ابتدا ہی میں اس جانب توجہ بھی ضروری ہے کہ کلی طور پر امام سجاد علیہ السلام کےکلمات و بیانات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: وہ کلمات جو صحیفہ سجادیہ میں ذکر ہوئے اور وہ کلمات جو صحیفہ سجادیہ کے علاوہ دیگر حدیثی کتابوں میں معتبر اسناد کے ساتھ موجود ہیں۔جس کا ایک نمونہ علامہ عزیز اللہ عطاردی کی کتاب ’’مسند امام سجاد علیہ السلام‘‘ ہے۔ اس کتاب میں امام زین العابدین علیہ السلام کی روایات کو مختلف عناوین کے تحت ذکرکیا گیا ہے مثلاً: علم ، توحید، نبوت، امامت، مناقب اہل بیتؑ، قرآن، شیعہ، اصحاب، فضائل شیعہ، ایمان و کفر، دعاوغیرہ۔۔۔
صحیفہ سجادیہ کے سلسلے میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اس عظیم الشان کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ مکمل طور پر ہماہنگ ہے۔ صحیفہ سجادیہ کے مطالب نہ صرف قرآن کے ساتھ ظاہری طور پر موافق و مطابق ہیں بلکہ صحیفہ کی ہر دعا کے فقرہ کے لئے قرآنی شاہد بھی پیش کیا جاسکتا ہے اور اس کی شرح و توضیح کے لئے قرآن کریم سے استناد کیا جاسکتا ہے۔علماء و محققین اس بات پر متفق ہیں کہ معنی و مطالب کے اعتبار سے صحیفہ سجادیہ اور قرآن کے درمیان عمیق رابطہ پایا جاتا ہےاور یہ رابطہ اتنا عمیق اور گہرا ہے کہ صحیفہ سجادیہ کو ’اخت القرآن‘‘ کہا گیا ہے۔توجہ رہے کہ اس رابطہ و ہماہنگی کا راز علوم آل محمد ؑ کا منبع فیض الٰہی سے وابستہ ہونا اور علوم کا وہاں سے حاصل کرنا ہے ۔ اور چونکہ قرآن اور صحیفہ سجادیہ کا منبع و سرچشمہ ایک ہی ہے لہذا دونوں کی تعلیمات و مطالب ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ البتہ یہ ہماہنگی امام سجاد کے تمام کلمات میں پائی جاتی ہے۔ مثلا امام سجاد ؑ کے ارشادات پر مشتمل رسالہ حقوق میں امام نے فرمایا:  وَأَمَّا حَقُّ بَصَرِكَ فَغَضُّهُ عَمَّا لا يَحِلُّ لَكَ وتَرْكُ ابْتِذَالِهِ إلاّ لِمَوضِعِ عِبْرَة تَسْتَقْبلُ بهَا بَصَرًا أَو تَسْتَفِيدُ بهَا عِلْمًا، فَإنَّ الْبَصَرَ بَابُ الِاعْتِبَارِ‘‘ (۱) [تمہاری آنکھ کا حق تمہارے اوپر یہ ہے کہ اسے ناجائز و حرام چیزوں سے بند رکھو اور اس کی حفاظت کرو اس کو صرف عبرت حاصل کرنے کےلئے استعمال کرو جس سے صاحب بصیر ت ہوجاؤ یا اس سے علم حاصل کرو، اس کو ذریعۂ علم بناؤ اس لئے کہ آنکھ عبرت کا وسیلہ ہے۔]
جیسا کہ اس نورانی کلام میں ظاہر ہے کہ امام نے آنکھ کے سلسلے میں سورہ نور کی آیت ۳۱ کے مفہوم سے استفادہ فرمایا ہے ۔ اسی طرح امام سجاد علیہ السلام نے اپنی تمام گفتگو اور تمام کلمات میں قرآن کریم کی آیات سے استفادہ کیا ہے اور قرآنی آیات کو اپنے کلام کے مبانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ صحیفہ کی دعا نمبر ۵۲ میں آپؑ نے قرآن کو خداوند عالم کی جانب سے نازل شدہ کتاب تسلیم کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’قبلتُ کتابَکَ‘‘(۲) [میں نے تیری کتاب کو قبول کیا]اور ایک دوسری دعا میں قرآن کریم کے ہادی ہونے کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن نور ہے: ’’وَ جعلتَہ نوراً نَھتدی مِن ظُلَمِ الضَّلالۃ‘‘ (۳) [اور ایسا نور بنا دیا ہے جس کا اتباع کرکے ہم گمراہی کی تاریکیوں اور جہالت کے اندھیروں میں ہدایت پاسکیں]
قابل ذکر ہے کہ امام سجاد ؑ اپنی دعاؤںمیں مسلسل خدا سے یہ طلب فرماتے ہیں کہ کلام الٰہی کے مقابلہ توفیق حاصل ہو تاکہ قرآن کا حق ادا کریں اور اس کے اوامر کے مقابلے تسلیم رہیں۔ آپؑ اس سلسلے میں فرماتے ہیں: ’’ فَاجْعَلنا ممّن یَرعاہ حقَّ رعایتہ و یَدینُ لک باعتقاد التّسلیم لمحکم آیاتہ‘‘ (۴) [ہم کو ان لوگوں میں قرار دے دینا جو اس کی مکمل حفاظت کرتے ہیں اور اس کی محکم آیات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے ہی کو اپنا دین قرار دیتے ہیں۔ ]
امام زین العابدین علیہ السلام کے نورانی کلمات و ارشادات چاہے صحیفہ سجادیہ میں ہوں یا دوسری احادیث میں ان میں توجہ کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام سجاد ؑ کی نگاہوں میں دوسرے ائمہ ؑ کی طرح قرآن خاص اہمیت کا حامل ہے۔لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآنی آیات امام معصوم کے بیانات و ارشادات کا ایک مضبوط مبنا ہے۔ اور اس کی دلیل بعض شواہد ہیں جو ذیل میں ذکر کئے جارہے ہیں۔ ان شواہد کو چار کلی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
۱۔ امام سجاد علیہ السلام کے بیانات میں قرآنی آیات کی طرف استناد
امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنےتمام بیانات و کلمات کو قرآنی آیات کی روشنی میں بیان فرمایا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات ، تقریباً ۴۷ بار صحیفہ کی دعاؤ ں میں ذکر ہوئی ہیں۔ جبکہ صحیفہ کے علاوہ حضرت کے دوسرے ارشادات میں یہ تعداد زیادہ ہے۔
مثلاً صحیفہ میں بیان فرمایا ہے:
 حَتّى‏ اِذا بَلَغَ أقْصى‏ اَثَرِهِ، وَ اسْتَوْعَبَ حِسابَ عُمُرِهِ، قَبَضَهُ اِلى‏ ما نَدَبَهُ اِلَيْهِ مِنْ مَوْفُورِ ثَوابِهِ، اَوْ مَحْذُورِ عِقابِهِ، لِيَجْزِىَ الَّذينَ اَسآؤُا بِما عَمِلُوا، وَ يَجْزِىَ الَّذينَ اَحْسَنُوا بِالْحُسْنى‏ عَدْلاً مِنْهُ  تَقَدَّسَتْ اَسْمآؤُهُ، وَ تَظاهَرَتْ الآؤُهُ، لايُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْئَلُونَ. (۵)
صحیفہ سجادیہ کی پہلی دعا کے اس حصے میں دو عبارتیں استعمال ہوئی ہیں جو قرآن کریم کی دو آیتیں ہیں:
سورہ نجم میں ہے:وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى ﴿٣١﴾
(اوراللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کے کل اختیارات ہیں تاکہ وہ بدعمل افراد کو ان کے اعمال کی سزادے سکے اور نیک عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے سکے)
  کہ اس آیت کا ایک حصہ مکمل طور پر امام کی دعا میں بیان ہوا ہے اور حضرتؑ نے اس کی جانب استناد فرمایا ہے۔
دوسری آیت سورہ انبیاء کی ۲۳ ویں آیت ہے:لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ﴿٢٣﴾
(اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ ہر ایک کا حساب لینے والا ہے)
یہ آیہ کریمہ بھی امامؑ کی پہلی دعا کے اس حصے میں نظر آرہی ہےاور حضرت نے اپنے مطلب کو بیان کرنے کے لئے اس آیت کی طرف استناد فرمایا ہے۔
صحیفہ کے علاوہ دوسری جگہ حضرت کا ارشاد گرامی ہے:
قال علی بن الحسین ؑ : ان اللہ عزوجل علم انہ یکون فی آخرالزمان اقوام متعمقون فأنزل اللہ تعالیٰ: ’’قل ھو اللہ احد‘‘ و الآیات من سورۃ الحدید الیٰ قولہ : ’’علیم بذات الصدور‘‘ فمن رام وراء ذلک ھلک۔(۶)
قابل توجہ ہے کہ بعض آیات کی تفسیر کے سلسلے میں حضرت سے جو سوالات ہوئے اور امامؑ نے جوابات ارشاد فرمائے ان کی تعداد تقریباً ۱۲۲ ہے۔(۷) چونکہ ان جگہوں پر آیات کے بعینہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں لہذا اس حصہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ امام سجادؑ کے بہت سے کلمات و بیانات قرآنی آیات کی تفسیر و توضیح ہیں۔
البتہ بعض جگہوں پر امامؑ نے اپنی گفتگو کے ضمن میں اس جانب اشارہ فرمایا کہ یہ عبارت قرآنی آیت ہے۔ مثلا حضرت فرماتے ہیں:(۸)
فقلت و قولک الحق الا صدق و اقسمت و قسمک الا بر الاوفی ’’و فی السماء رزقکم و ما توعدون‘‘ ثم قلت: ’’فو ربّ السماء و الارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون‘‘۔
یہ کلمات جو حضرتؑ نے پروردگار کی بارگاہ میں بیان فرمائے ہیں یہ سورہ ذاریات کی آیات ۲۲ و ۲۳ ہیں۔
۲۔امام سجاد علیہ السلام کے بیانات کی تطبیق قرآنی آیات کے ساتھ
دوسرا حصہ امام کے بیانات کا وہ ہے جس میں امامؑ کے کلمات میں قرآنی آیات بعینہ تو بیان نہیں ہوئے ہیں لیکن قرآنی آیات کے مطابق ہیں اور وہی مضمون و مطلب ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوجاتا کہ امام علیہ السلام قرآن پر مکمل تسلط اور احاطہ رکھتے ہیں اور شائد امام نے اپنی گفتگو کو آیات کے مطابق ہی پیش فرمایا ہے جس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کی گفتگو اور کلمات قرآنی مبانی پر مشتمل ہیں مثلا: 
الف) صحیفہ سجادیہ میں: 
’’حمدا تقر بہ عیوننا اذا برقت الابصار و تبیض بہ وجوھنا اذا اسودت الابشار‘‘
صحیفہ سجادیہ کے ان کلمات پر غور کرنے سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ یہ الفاظ قرآن کی آیات کے مطابق ہیں۔ جیسے: ’’حمدا‘‘ مطابق ہے آیت ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘[ساری حمد خدا کے لئے ہے جو عالمین کا رب ہے] (سورہ حمد آیت ۱) کے ۔
’’تقر بہ عیوننا اذا برقت الابصار‘‘ یہ جملہ مطابق ہے اس آیت کے: ’’فاذا برق البصر‘‘ (سورہ قیامت ۷)
نیز اس آیت کے : ’’لیوم تشخص فیہ الابصار‘‘ (سورہ ابراہیم،۴۲)
’’ و تبیض بہ وجوھنا‘‘ یہ جملہ مطابق ہے اس آیت کے: ’’یوم تبیض وجوہ‘‘ (سورہ آل عمران، ۱۰۶)
’’اذا اسودت الابشار‘‘ جملہ مطابق ہے اس آیت کے:’’ ضاحکۃ مستبشرۃ‘‘ (سورہ  عبس ،۳۹)
ب) دوسرے بیانات میں:
کان من دعاء السجادؑ اذا ذکر الشیطان فاستعاذتہ۔۔۔اللھم ۔۔۔اجعل بیننا و بینہ سترا لا یھتکہ و ردما مصمتا لا یفتقہ‘‘ (۹)
امامؑ کے یہ جملات کہ بعض نقل کے مطابق صحیفہ سجادیہ میں بھی ذکر ہوئے ہیں، اس آیت کے مطابق ہیں: ’’وَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا‘‘ [اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان حجاب قائم کردیتے ہیں](سورہ اسراء، آیت ۴۵)
اس قسم کے لئے دوسری مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے: ’’قال علی بن الحسینؑ من قال اذا أوی الی فراشہ:
’’اللھم انت الاول فلاشی ء قبلک و انت الظاھر لاشیٔ بعدک و انت الباطن فلا شیٔ دونک و انت الآخر لا شیٔ بعدک‘‘ (۱۰)
اگر غور کیا جائے تو امامؑ کے یہ الفاظ سورہ حدید کی ابتدائی آیات کے مطابق ہیں: ’’هُوَ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْـَٔاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ ‘‘ [وہی اوّل ہے وہی آخر وہی ظاہر ہے وہی باطن اور وہی ہر شے کا جاننے والا ہے] (سورہ حدید، آیت ۳)
۳۔ قرآنی الفاظ
امام سجاد علیہ السلام کے ارشادات و کلمات کے قرآنی مبانی پر مشتمل ہونے کا تیسرا حصہ وہ قرآنی تعبیریں اور عبارتیں ہیں جنہیں امامؑ نے استعمال کیا ہے البتہ نہ تو بعینہ الفاظ قرآن کو اعراب و ضمائر کے ساتھ استعمال کیا اور نہ اس کے مطالب کو بلکہ اپنے مطلب کو بیان کرنے کے لئے قرآنی الفاظ کا سہارا لیا۔ مثلاً : 
الف) صحیفہ سجادیہ میں:
’’حمداً یرتفع منا الی اعلی علیین فی کتاب مرقوم یشھدہ المقربون‘‘ [] (۱۱) 
جیسا کہ اس عبارت میں لفظ ’’ کتاب مرقوم‘‘ جو امامؑ نے اپنی دعا میں استعمال فرمایا ہے یہ قرآنی لفظ ہے  اس فرق کے ساتھ کہ قرآن کریم میں یہ لفظ رفعی حالت میں پیش کے ساتھ ہے یعنی ’’کتاب مرقوم‘‘ [ایک لکھا ہوا دفتر ہے](سورہ مطففین آیت ۲۰)  یہاں مجرور ہے۔
اسی طرح اس کے بعد کی عبارت یعنی ’’یشھدہ المقربون‘‘[جس کے گواہ ملائکہ مقربین ہیں] (مطففین، ۲۱)یہ قرآن کی آیت ہے اور عیناً آنحضرتؑ کے کلام میں ذکر ہوئی ہے۔
ب) دیگر ارشادات میں:
ما بال اقوام اذا ذکر عندھم آل ابراہیم فرحوا و استبشروا و اذا ذکر عند آل محمد (ص) اشمأزت قلوبھم و ۔۔۔(۱۲)
عبارت ’’ اشمأزت قلوبھم ‘‘ ایک قرآنی آیت سے متعلق ہے جو امام ےن استعمال فرمایا ہے۔ 
قرآن میں اس طرح جملہ ہے:ـ وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّـهُ وَحْدَهُ ٱشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ[اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہوجاتے ہیں](سورہ زمر، آیت۴۵)
جیسا کہ ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ حضرتؑ نے اپنے کلام میں قرآنی عبارت سے استفادہ فرمایا ہے البتہ عینا قرآنی الفاظ نہیں ہیں۔
۴۔ قرآن کی اہمیت کا بیان:
امام سجاد علیہ السلام کے کلمات و ارشادات میں قرآنی مبنا کے شواہد کا آخری حصہ ان کلمات و بیانات سے متعلق ہے جنمیں آپؑ نے بہت سے مقامات پر قرآن کی منزلت و اہمیت کو بیان فرمایا ہے اور قرآن کی تعریف و توصیف فرمائی ہے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرتؑ کتنا زیادہ قرآن سے عمیق اور گہرا رابطہ رکھتے ہیں۔ مثلاً:
الف: صحیفہ سجادیہ میں:
امامؑ کی خوبصورت تعبیر دعائے ختم قرآن یعنی صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر ۴۲ میں بیان ہوئی ہے۔ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دعا قرآن شناسی کا ایک ذریعہ اور امام علیہ السلام اس زمانے میں جب کہ حاکم وقت کی جانب سے ظلم و زیادتی اور لوگوں کی توجہ دنیا کی طرف اور مادیات کی طرف تھی ایسے وقت میں امامن نے لوگوں کی قرآن کریم میں پوشیدہ عظمت کی جانب توجہ دلائی ۔ اس دعا کا ایک حصہ یہ ہے:
’’و فرقانات فرقت بہ بین حلالک و حرامک‘‘ (۱۳)
امامؑ اپنے کلام میں بیان فرماتے ہیں کہ قرآن کریم حرام و حلال کومعین و واضح کرنا اور حلال و حرام کے درمیان فاصل ہے۔
ب) دیگر بیانات میں
امام زین العابدین علیہ السلام نے صحیفہ سجادیہ کے علاوہ اپنے دوسرے کلمات و بیانات میں قرآن کریم کی عظمت و جلالت کو بیان فرمایا ہے۔ مثلاً:
’’علی بن الحسین ؑ یقول: آیات القرآن خزائن فکلما فتحت خزانہ ینبغی لک أن تنظر ما فیھا‘‘ (۱۴)
قال علی بن الحسین ؑ : لو متّ من بین المشرق و المغرب لما استوحشت بعد أن یکون القرآن معی‘‘ (۱۵)
امام علیہ السلام کے بہت سے ارشادات و بیانات قرآن سے متعلق ہیں۔ آپ نے مختلف مواقع پر قرآن کی عظمت و اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ جو قرآن کی اہمیت کو اس انداز سے بیان کر رہا ہو خود اس کے کلام کا محور اور گفتگو کا مبنی قرآن ہی ہونا چاہئے۔
نتیجہ:امام زین العابدین علیہ السلام حدیث ثقلین کے مطابق قرآن کے ہمراہ ہیں۔ مندرجہ بالا گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام کے کلمات فصاحت و بلاغت کے انتہائی درجہ پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ قرآنی رنگ لئے ہوئے اور قرآن سے ہماہنگ ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام سجاد علیہ السلام کے ارشادات و بیانات مکمل طور پر قرآنی اور قرآنی تعلیم پر مشتمل ہیں۔
۱۔ تحف العقول، صفحہ۲۵۵؛امالی ، شیخ صدوقؒ، ص۲۲۱ ۲۔ صحیفہ سجادیہ، دعا نمبر ۵۲، بند۶
۳۔صحیفہ سجادیہ، دعا نمبر۴۲ ۴۔ سابق
۵۔ صحیفہ سجادیہ، پہلی دعا  ۶۔ اصول کافی،ج۱،ص۹۱
۷۔ مسند امام سجادؑ، ج۱، ص۴۳۴۔۳۷۶ ۸۔ صحیفہ سجادیہ، دعا نمبر ۲۹
۹۔ مصباح کفعمی،ص۲۳۱ ۱۰۔ بحارالانوار، ج۱۶، ص۲۱۴
۱۱۔ صحیفہ سجادیہ، پہلی دعا ۱۲۔ امالی، شیخ طوسیؒ ،ج۱، ص۱۳۹
۱۳۔ صحیفہ سجادیہ، دعا نمبر ۴۲ ۱۴۔ اصول کافی،ج۲،ص۶۰۹
۱۵۔ اصول کافی،ج۲، ص۶۰۲  

اخباریت


اخباریت

اخباری شیعہ امامیہ فقہائ کا ایک ایسا گروہ ہے جو فقط احادیث و روایات کو فقہ اور استبناط و استخراج احکام شرعی کا منبع و ماخذ مانتا ہے۔ یہ گروہ جو گیارہویں صدی ہجری کے بعد وجود میں آیا ہے وہ اجتہاد کے لئے استعمال ہونے والی راہ و روش اور علم اصول کو صحیح نہیں سمجھتا ہے۔ جبکہ ان کے برخلاف اصولی فقہائ احکام فقہی کے استنباط و استخراج کے لئے اجتہاد کی راہ و روش اور اصول فقہ کو لازم و ضروری سمجھتے ہیں۔

شیعہ امامیہ اخباری و اصولی علمائ میں یہ اختلاف نظر گیارہوں صدی ہجری سے پہلے بھی غیر واضح اور مخفی طور پر موجود تھا۔ لیکن اس صدی میں اس اختلاف نظر نے شدت اختیار کر لی اور یہ دو اصطلاح اخباری و اصولی رواج پا گئی اور یہ دونوں گروہ آشکار اور باقاعدہ طور ایک دوسرے کے مقابلہ میں آ گئے۔

محمد امین استر آبادی، عبد اللہ بن صالح بن جمعہ سماہیجی بحرانی اور میرزا محمد اخباری کا شمار تندرو اخباریوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ شیخ یوسف بحرانی، سید نعمت اللہ جزائری، ملا محسن فیض کاشانی، محمد تقی مجلسی، محمد طاہر قمی اور شیخ حر عاملی اس مسلک کے اعتدال پسند اور میانہ رو افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں شیخ وحید بھبھانی، شیخ اںصاری اور شیخ جعفر کاشف الغطائ جیسے اصولی علمائ مد مقابل کے طور پر قرار پاتے ہیں۔

اخباریوں اور اصولیوں کے اہم ترین اختلافات حرمت و جواز اجتہاد، انحصار ادلہ بہ کتاب و سنت، منع از تحصیل ظن، تقسیم بندی روایات کی روش، جواز تقلید غیر معصوم (ع)، اخذ ظواہر کتاب، حسن و قبح عقلی، بعض موارد میں اصالۃ البرائۃ جاری کرنا، قیاس کی بعض اقسام کے استعمال کی حرمت، کتب اربعہ و ۔۔۔ کی تمام احادیث کا صحیح ماننا، جیسے مسائل ہیں۔

 اخباریت کی تشکیل کے تاریخی وسائل

شیعہ امامیہ فقہ سے متعلق اخباری و اصولی نظریات کے تقابل کی بازگشت صدر اسلام تک ہوتی ہے۔ صدر اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں امامیہ کے فقہی مکاتب و مذاہب کے مطالعہ سے ایسے گروہ کو پہچانا جا سکتا ہے جو متون روایات کی پیروی کرنے والوں کے برخلاف مختلف طریقوں سے اجتہاد و استنباط کا سہارا لیتے تھے۔

حدیث کی طرف میلان کا عروج

چوتھی صدی ہجری بمطابق دسویں صدی عیسوی کو قم کے حدیثی مکتب کے تسلط کے دور کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ ابن ابی عقیل عمانی و ابن جنید اسکافی جیسے اہل اجتہاد و استنباط فقہائ اقلیت میں شمار ہوتے تھے۔ اس دور کے برجستہ حدیثی فقہائ میں محمد بن یعقوب کلینی (۳۲۸ یا ۳۲۹ ق۔ ۹۴۰ یا ۹۴۱ ع)، علی بن بابویہ قمی (۳۲۸ ق)، ابن قولویہ (۳۶۸ یا ۳۶۹ ق۔ ۹۷۹ ع) و محمد بن بابویہ قمی (۳۸۱ ق۔ ۹۹۱ ع) جیسے افراد کا شمار کیا جا سکتا ہے۔ جنہوں نے قدیمی ترین فقہی۔حدیثی کتابوں کی تالیف میں نہایت اہم کردار ادا کئے ہیں۔[1]
فقہ استدلالی کی طرف رجحان

شیخ مفید (۴۱۳ ق۔ ۱۰۲۲ ع) کے دور اور ان کے بعد سید مرتضی (۴۳۶ ق۔ ۱۰۴۴ ع) اور شیخ طوسی (۴۶۰ ق۔ ۱۰۶۸ ع) اور اس کے بعد شیعہ امامیہ کی علم اصول فقہ کی اولین کتاب کی تالیف کے ساتھ ہی فقہ امامیہ میں جدید باب کا آغاز ہو جاتا ہے جس نے صدیوں تک حدیثی میلان رکھنے والے فقہائ کے اوپر اجتہاد و استنباط کرنے والے فقہائ کو برتری بخشی۔ ان دونوں رجحانات کے تقابل کا سلسلہ مذکورہ علمائ کی تالیفات میں جگہ جگہ مشاہدہ میں آتا ہے۔ شیخ مفید، جن کا شمار اہل استنباط فقہائ میں ہوتا ہے، اپنی تالیف اوائل المقالات میں فقہائ کو مطلق طور پر اور حدیثی علمائ کو بارہا اہل النقل اور اصحاب الآثار جیسی تعبیرات کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔[2] سید مرتضی کی ایک تالیف میں فقہائ اصحاب حدیث سے ان فقہائ کو تعبیر کیا گیا ہے جو اصولی روش کے حامل نہیں ہیں، اور اصولی روش کے فقہائ کو مورد حمایت قرار دیا گیا ہے۔[3]

چھٹی صدی میں اخباری اصطلاح کا ظہور

اخباری اصطلاح کا استعمال پہلی بار سن چھٹی صدی ہجری بمطابق بارہویں صدی عیسوی کے نصف اول میں کتاب ملل و نحل میں جس کے مولف شہرستانی ہیں، دیکھنے میں آتا ہے۔[4] اور اس کے بعد چھٹی صدی ہجری کے شیعہ امامی عالم عبد الجلیل قزوینی رازی نے اپنی کتاب نقض میں ان دو اصطلاحوں اصولی و اخباری کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں قرار دیا ہے۔[5]

اہل حدیث فقہائ کا مکتب جسے چوتھی صدی ہجری کے اواخر اور پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں اصولی فقہائ کی کوششوں نے کمزور کر دیا تھا۔ اس نے اپنے محدود وجود کو امامیہ کے فقہی مجامع و محافل میں محفوظ کر لیا، یہاں تک کہ گیارہویں صدی ہجری کی ابتدائ میں اسے ایک بار پھر محمد امین استر آبادی (۱۰۳۳ یا ۱۰۳۶ ق۔ ۱۶۲۴ یا ۱۶۲۷ ع) کے ذریعہ ایک نئے قالب میں پیش کیا گیا۔[6] اور اس نے اپنے تیز و تند حملوں کا رخ اصولیوں کی طرف کر دیا۔ بعض کا ماننا ہے کہ ابن ابی جمہور احسایی (با قید حیات ۹۰۴ ق۔ ۱۴۹۹ ع) کا شمار ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے اخباریوں کے لئے راہ کو ہموار کیا۔ انہوں نے ایک رسالہ میں جس کا عنوان العمل باخبار اصحابنا تھا، اس سلسلہ میں اپنے دلائل پیش کئے۔[7]

اخباریت کی تاریخی قدمت کے مد نظر، اخباری عنوان کا رواج اور اطلاق اس خاص گروہ اور آج کے موجودہ معنی و اصطلاح کے مطابق جو گیارہویں صدی ہجری میں اور اخباریت کی جدید تحریک کے ظہور کے ساتھ اس کے بانی محمد امین استر آبادی سے ہوتا ہے جسے بعض افراد نے (اخباری صلب) کی صفت کے ساتھ متصف کیا ہے۔[8]

اخباریت کا زوال

گیارہویں صدی ہجری میں اخباریوں اور اصولیوں کے درمیان آشکارا طور پر تقابل کے آغاز اور بعد کی صدیوں میں اس کے جاری رہنے اور آیت اللہ وحید بہبہانی (متوفی 1205 ق) جیسے بزرگ اصولی عالم کے ظہور کے ساتھ ہی شیعہ حوزہ ھای علمیہ سے اخباریوں کا اثر و رسوخ رفتہ رفتہ کم ہونے لگا۔ اخباریوں کی اس شکست میں آیت اللہ وحید بہبہانی موثر ترین اصولی علمائ میں سے ہیں۔ انہوں نے اصولیوں سے اس مقابلہ کے رخ کو نظری دائرہ سے عملی سلسلہ کی طرف موڑ دیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے اخباریوں کے پیشوا شیخ یوسف بحرانی کی امامت میں نماز جماعت کی اقتدائ کو حرام قرار دیا[9] اور ان کے بعد شیخ مرتضی انصاری (1281 ق)[10] اور شیخ جعفر نجفی کاشف الغطائ (1227 یا 1228 ق)[11] وغیرہ جیسے اصولی علمائ نے اصولی نظریات کی تبلیغ و ترویج اور علم اصول کی تدوین و تدریس کے ساتھ، اخباریوں کو مکمل طور پر میدان سے باہر کر دیا اور آج شیعہ حوزات علمیہ میں اصولی افکار و نظریات حاکم ہیں اور اخباری نظریات پراکندہ صورت اور حالت کے علاوہ دیکھنے میں نہیں آتے ہیں۔

تندرو اخباری

کہا جاتا ہے کہ محمد امین استر آبادی جو متاخرین شیعوں میں اخباری مسلک کے رئیس کے عنوان سے معروف ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے علم اصول اور مجتہدین پر تنقید کی ابتدائ کی اور انہوں نے شیعہ امامیہ کو دو حصوں اخباری و مجتہدین (اصولی) میں تقسیم کیا[12] اور وہ خود ابتدائ میں مجتہدین میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے بڑے بڑے مجتہدین سے اجازات کسب کئے تھے لیکن بعد میں ان ہی کی روش پر حملہ کرنے لگے۔[13] گویا وہ نہایت شدت کے ساتھ اپنے استاد میرزا محمد استر آبادی کے افکار کے تحت تاثیر تھے،[14] محمد امین نے اپنے نظریات اور تعلیمات کو الفوائد المدنیۃ نامی کتاب میں تدوین کیا جس کا شمار اخباریوں کے مہم ترین منبع میں ہوتا ہے۔

گیارہویں صدی ہجری میں اخباری مسلک کے ایک تند اور متعصب پیرو میں عبد اللہ بن صالح جمعہ سماھیجی بحرانی کا نام بھی آتا ہے وہ منیۃ الممارسین نامی کتاب کے مولف ہیں۔[15] شیخ یوسف بحرانی تحریر کرتے ہیں کہ وہ اہل اجہتاد کو بیحد برا کہتے تھے۔ جبکہ ان کے والد ملا صالح خود اہل اجتہاد تھے۔[16]

ابو احمد جمال الدین محمد بن عبد النبی، محدث نیشاپوری استر آبادی (متوفی 1232 ق۔ 1817 ع) جو میرزا محمد اخباری کے نام سے معروف ہیں۔ وہ بڑے نامدار اصولی علمائ جیسے میرزا ابو القاسم قمی، شیخ جعفر نجفی کاشف الغطائ، میر سید علی طباطبایی، سید محمد باقر حجۃ الاسلام اصفہانی اور محمد ابراہیم کلباسی کا ذکر برائی کے ساتھ کرتے تھے [17]اور ان کے ساتھ آشکارا دشمنی رکھتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے قتل کے حکم پر اس زمانہ کے نامور علمائ جن میں سید محمد مجاہد، میر سید علی طباطبایی کے بیٹے، شیخ موسی، کاشف الغطائ کے بیٹے، سید عبد اللہ شبر اور شیخ اسد اللہ کاظمینی شامل ہیں، نے دستخط کئے تھے۔

معتدل اخباری

شیخ یوسف بحرانی (ولادت 1186 ق۔ 1772 ع) نے اخباریوں اور اصولیوں کے درمیان معتدل روش کا انتخاب کیا۔[18] ان کا کہنا تھا کہ وہ فقہ میں محمد تقی مجلسی کی روش اور ان کے مسلک پر ہیں، جو اخباریوں و اصولیوں کی اعتدال پسندی پر مبنی ہے۔[19] آیت اللہ وحید بہبہانی کو شیخ یوسف بحرانی کی مخالفت سے پرہیز نہیں تھا اور وہ لوگوں کو ان کی امامت میں نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے۔[20] شیخ یوسف بحرانی، اخباری مسلک کے رئیس ہونے کے عنوان سے جہاں بھی وہ مناسب سمجھتے تھے انہیں ایسے تند و تیز انتقادات سے جو شیعوں اور اخباری و اصولی علمائ کے درمیان شگاف اور اختلاف کا باعث ہوں، منع کرتے تھے۔

سید نعمت اللہ جزائری شوشتری (متوفی 1112 ق۔ 1700 ع) حالانکہ اخباری مسلک تھے اس کے باوجود وہ مجتہدین اور ان کے مقلدین کی تائید میں اور ان کی نظریات کے احترام کی بیحد سعی کرتے تھے۔[21]

بعض نے ملا محسن فیض کاشانی (1091 ق۔ 1680 ع) کا شمار بھی اخباریوں میں کیا ہے۔[22] فیض کاشانی کہتے ہیں: میں قرآن و حدیث کا مقلد ہوں اور ان کے علاوہ سے اجنبی ہوں۔[23] اگر چہ ظاہری طور پر ان کی مراد یہاں تصوف سے تقابل ہے نہ کہ اجتہاد اور علم اصول سے؛ البتہ فیض کاشانی معتقد ہیں کہ عام لوگوں (غیر معصوم) کی عقلیں ناقص اور غیر قابل اعتبار ہیں اور حجت نہیں ہیں۔[24] فیض کاشانی نے اپنی بعض تالیفات جیسے الکلمات الکمنونہ میں آشکارا طور پر مجتہدین پر حملہ کیا ہے اور ان کی اسولی روش پر تنقید کی ہے ۔ ان کی بعض کتابوں منجملہ مذکورہ کتاب میں موجود ان کی نظریات کی تحقیق اور مطالعہ سے ان کے اخباری مسلک ہونے میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اصولی حضرات نے اجتہاد اصولی کا باب وا کرکے مکلفین کے لئے تکلیف شرعی کو سخت کر دیا ہے اور ان چیزوں کے بارے میں بات کی ہے جس بارے میں اللہ (عز و جل) نے کوئی قول پیش نہیں کیا ہے جبکہ حکمت اس بات میں تھی کہ وہ چیزیں ایسے ہی مسکوت رہ جاتیں۔[25]

محمد تقی مجلسی (متوفی 1070 ق۔ 1660 ع) کا شمار بھی اخباری مسلک کے معتدل افراد میں ہوتا ہے اور جیسا کہ بیان کیا گیا وہ محمد امین استر آبادی کے افکار و نظریات کی واضح اور صریح انداز میں تائید کرتے تھے۔[26]

ملا خلیل بن غازی قزوینی (متوفی 1089 ق۔ 1678 ع) شیخ حر عاملی، محمد باقر مجلسی، ملا محسن فیض کاشانی کے معاصرین میں اور شیخ بہایی اور میر داماد کے شاگردوں میں ہیں۔ وہ اجتہاد کی مکمل طور پر مخالفت کرتے تھے اور اس کا انکار کرتے تھے۔[27]

محمد طاہر قمی (1098 ق۔ 1687 ع) کا شمار بھی اخباری مسلک کے اعتدال پسند افراد میں ہوتا ہے۔[28]

شیخ حر عاملی (متوفی 1104 ق۔ 1693 ع) نے اپنی مشہور کتاب وسائل الشیعہ کے خاتمہ میں اپنے اخباری ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[29]

اخباریت سے مقابلہ
وحید بھبھانی

اصولیوں اور اخباریوں کا مقابلہ جس کا آغاز گیارہویں صدی ہجری میں ہوا اور جس میں اخباریوں کی تند روی سے اضافہ ہوتا گیا۔ آخر میں مجتہدین کی طرف سے خاص طور پر شیخ وحید بہبہانی (متوفی 1205 ق۔ 1791 ع) کی طرف سے اخباریت کے خلاف ایک سنجیدہ اور منظم مقابلہ میں تبدیل ہو گیا۔[30] وحید بھبھانی کے زمانہ میں عراق کے شہر خاص طور پر کربلا اور نجف اخباریوں کا مرکز تھے اور اس زمانہ میں ان کی زعامت شیخ یوسف بحرانی کے ہاتھوں میں تھی۔ اس زمانہ میں اہل اصول و اجتہاد شدید طور پر گوشہ نشینی کا شکار ہو گئے تھے، یہاں تک کہ شیخ وحید بھبھانی نے کربلا کی طرف ہجرت کی[31] اور اخباریت کے خلاف سنجیدہ اور شدید مقابلہ کا محاذ کھول دیا۔

وہ اپنی علمی بحثوں اور استدلال کے ساتھ جو انہوں نے اخباریت کے بطلان پر قائم کی تھیں، اجتہادی روشوں کے اثبات اور اخباریت کی رد میں عملی اقدامات کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے اور جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ انہوں نے شیخ یوسف بحرانی جو اس زمانہ میں اخباری مسلک کے رئیس تھے، کی اقتدائ میں نماز پڑھنے کو حرام قرار دے دیا تھا۔[32] شیخ وحید بہبہانی اور اس زمانہ کے دیگر برجستہ اصولی علمائ کے اقدامات کے سبب اصولی مسلک افراد گوشہ نشینی کی حالت سے باہر نکل کر اخباریت کے مقابلہ میں قدرت حاصل کر لی۔

شیخ وحید بھبھانی کی منجملہ تالیفات میں سے جو انہوں نے اخباریت کے رد اور مجتہدین کے دفاع کی راہ میں تحریر کی ہیں، ایک رسالۃ الاجتہاد والاخبار ہے۔ وحید بہبہانی کو ان کے اخباریوں کے ساتھ شدید و طولانی عملی و نظری مقابلہ کے سبب انہیں تیرہویں صدی ہجری کا مروج مذہب، رکن طایفہ شیعہ، پایہ استوار شریعت اور نیز مجدد مذہب اور مروج طریقہ اجتہاد کہا گیا ہے۔[33]

شیخ انصاری

شیخ وحید بھبھانی کے بعد شیخ مرتضی انصاری (۱۲۸۱ ق۔ ۱۸۶۴ ع) کو علم اصول فقہ کا بانی سمجھا جا سکتا ہے۔ ان سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے: اگر امین استر آبادی زندہ ہوتے تو اس اصول کو قبول کر لیتے۔[34]

کاشف الغطائ

اخباریوں سے مقابلہ کرنے والے دیگر علمائ میں سے ایک شیخ جعفر نجفی کاشف الغطائ (۱۲۲۷ یا ۱۲۲۸ ق۔ ۱۸۱۲ یا ۱۸۱۳ ع) ہیں۔ وہ میرزا محمد اخباری کے مخالفین میں سے تھے۔ اور اسی سلسلہ میں انہوں نے ایک رسالہ کشف الغطائ عن معایب میرزا محمد عدو العلمائ کے عنوان سے تالیف کیا تھا۔ انہوں نے اپنے اس رسالہ کو فتح علی شاہ قاجار کو بھی بھیجا تھا تا کہ وہ میرزا محمد اخباری کی حمایت سے دست بردار ہو جائیں۔[35]

اخباریوں کا جغرافیائی انتشار

گیارہویں سے تیرہویں صدی ہجری تک اخباریت کا رواج ایران و عراق اور بحرین و ھندوستان کے زیادہ تر مذہبی شہروں میں ہو چکا تھا۔[36] اخباریت کے فروغ کے زمانہ میں اس کا زیادہ تر اثر قزوین کے مغربی علاقے میں تھا جو ایسے اخباریوں کا مرکز تھا جو ملا خلیل قزوینی (۱۰۸۹ ق) کے شاگردوں اور مریدوں میں سے تھے۔[37] لہذا اس شہر کا شمار اس مسلک کے مہم ترین شہروں میں کیا جاتا تھا۔ لیکن اصولیوں کے اخباریوں سے مقابلہ اور ان کے دن بہ دن کمزور ہو جانے کے بعد سے اس مکتب کا دائرہ نہایت محدود ہوتا چلا گیا۔
اخباریوں اور اصولیوں کے بنیادی اختلافات

سید نعمت اللہ جزائری نے کتاب منبع الحیات اور ملا رضی قزوینی نے لسان الخواص میں اصولیوں اور اخباریوں کے درمیان پائے جانے والے عمدہ اختلافات کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سے عبد اللہ بن صالح سماھیجی بحرانی نے کتاب منیۃ الممارسین میں اخباریوں اور اصولیوں کے درمیان پائے جانے والے چالیس فرق کو بیان کیا ہے۔ شیخ جعفر کاشف الغطائ نے بھی کتاب الحق المبین میں اخباریوں اور اصولیوں کے درمیان موجود فرقوں کی تحقیق و تجزیہ پیش کیا ہے۔ اور اسی طرح سے میرزا محمد اخباری نے کتاب الطھر الفاصل میں ۵۹ فرق کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سید محمد دزفولی نے کتاب فاروق الحق میں ان اختلافات کی تعداد ۸۶ تک ذکر کی ہے۔ اور شیخ حر عاملی نے بھی الفواید الطوسیۃ کے فائدہ نمبر ۹۲ میں ان دو گروہوں کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا ہے۔

اجتہاد کا حرام ہونا

اخباری، اجتہاد کو حرام جانتے ہیں۔ جبکہ اصولی اسے واجب کفایی مانتے ہیں اور حتی بعض علمائ نے واجب عینی بھی کہا ہے۔ ملا محمد امین استر آبادی نے کتاب الفوائد المدنیۃ میں اجتہاد کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ علمائ ما سبق کی روش اجتہاد پر مبنی نہیں تھی۔[38]

انحصار ادلہ بہ کتاب و سنت

اخباری، ادلہ فقہی کو کتاب و سنت تک منحصر جانتے ہیں۔ اور اصولیوں کے بر خلاف اجماع اور عقل کو حجت نہیں مانتے ہیں۔

دوسرے اختلافات

۱۔ منع از تحصیل ظن؛ اخباری ظن و گمان یا ادلہ ظنی کے ذریعہ حاصل ہونے والے احکام کو نہیں مانتے ہیں اور مجتہدین کے بر خلاف فقط علم کو حجت جانتے ہیں۔

۲۔ تقسیم بندی روایات؛ اخباریوں کے نزدیک احادیث دو قسم کی ہوتی ہیں: ۱۔ صحیح ۲۔ ضعیف جبکہ مجتہدین کی تالیفات میں روایات کی چار اقسام بیان صحیح، حسن، موثق اور ضعیف بیان ہوئی ہیں۔

۳۔ غیر معصوم کی تقلید؛ اصولی لوگوں کو دو گروہ مجتہد اور مقلد میں تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن اخباری غیر معصوم کی تقلید کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔

۴۔ اخذ ظواہر کتاب؛ اصولی ظاہر قرآن کو حجت سمجھتے ہیں اور اسے ظاہر روایات پر ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ اخباری ظاہر قرآن کو فقط اس صورت میں جائز سمجھتے ہیں جب معصومین (ع) سے کوئی تفسیر موجود ہو۔

۵۔ کتب اربعہ کی تمام احادیث کا صحیح ہونا؛ اخباری، اصولیوں کے برخلاف کبت اربعہ کی تمام روایات کو صحیح اور قطعی الصدور مانتے ہیں۔

۶۔ حسن و قبح عقلی؛ اخباری حسن و قبح عقلی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اصولیوں کے بر خلاف احکام مستقلات عقلی کو حجت شرعی نہیں مانتے ہیں۔

۷۔ قیاس کی بعض اقسام پر عمل کو حرام قرار دینا؛ اخباری قیاس کی بعض قسموں جیسے قیاس اولویت، قیاس منصوص العلۃ اور حتی تنقیح مناط کو جنہیں اصولی معتبر مانتے ہیں، کو احادیث میں نہی شدہ قیاس سمجھتے اور انہیں باطل مانتے ہیں۔[39]

۸۔ اصالۃ البرائۃ؛ اصولی شبہہ حکمیہ تحریمیہ میں بھی اور شبہہ حکمیہ وجوبیہ میں بھی دونوں میں اصالۃ البرائۃ جاری کرتے ہیں۔ جبکہ اخباری صرف شبہہ حکمیہ وجوبیہ میں ان کے ساتھ موافقت رکھتے ہیں۔

۹۔ روایات کے تعارض کی صورت میں اصالۃ البرائۃ؛ اخباری اصولیوں کے برخلاف روایات میں تعارض کے وقت برائت اصلیہ سے تمسک کرتے ہوئے ترجیح کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ استر آبادی کتاب فوائد المدنیۃ میں تحریر کرتے ہیں:

میرا ماننا ہے کہ برائت اصلیہ سے تمسک کرنا بطور کلی اکمال دین سے پہلے تک صحیح تھا لیکن اس کے بعد جب دین اپنے کمال تک پہچ گیا تو برائت کے کوئی محل باقئ نہیں رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ ائمہ علیہم السلام سے منقول متواتر روایات تمام ان مواقع کے لئے جن کی عوام کو ضرورت ہوتی ہے، ہم تک پہچ چکی ہیں اور روز قیامت تک موضوعات کے حقایق ثابت ہو چکے ہیں اور اسی طرح سے دو افراد کے ہر طرح کے اختلافات کی صورت میں حکم بیان کیا جا چکا ہے۔[40]

شیخیہ و اخباریت کا رابطہ

شیخیہ سے اخباریوں کے رابطہ کے سلسلہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ اگر بزرگان شیخیہ بذات خود اخباریوں سے کسی بھی طرح کے رابطہ کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن ان کے مخالفین شیخیہ و اخباریوں کے درمیان بعض بنیادی رابطہ کے قائل ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ شیخیہ مسلک کی پیدائش اخباری مکتب کے افکار سے متاثر رہی ہے۔[41] اسی طرح سے بعض کا ماننا ہے کہ شیخیہ فرقہ کے افراد نہ پوری طرح سے اصولیوں کے پیرو ہیں اور نہ ہی اخباریوں کے بلکہ ان کا مسلک ان دونوں اصولی و اخباری کے درمیان کا راستہ ہے۔

یوروپی محققین کی توجہ

بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف میں اخباریت کے سلسلہ میں یوروپی محققین کی تحقیقات میں اضافہ ہو گیا۔ ۱۹۵۸ عیسوی میں اسکارچہ نے ایک مقالہ میں جس کا عنوان: ایران کے شیعہ امامیہ اخباری اور اصولی کے درمیان مباحثات کے سلسلہ میں تھا۔ اس میں اس نے تفصیل کے ساتھ ان کے آرائ و نظریات پر تنقید و تحلیل پیش کی ہے اور ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے بعض اختلافات کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد ۱۹۸۰ ع میں مادلونگ نے ایک مقالہ دائرۃ المعارف اسلام تحریر کیا، جس میں اس نے موضوع کے ضمن میں اخباریت کا تعارف پیش کیا ہے۔[42] کولبرگ نے بھی ۱۹۸۵ عیسوی میں ایک مقالہ اخباریان کے عنوان سے تالیف کیا ہے۔[43]

حوالہ جات

مدرسی طباطبایی، مقدمه‌ای بر فقه شیعه، ص۳۴ کے بعد
مفید، اوائل المقالات، ص۱۹، ۲۳، جم
سید مرتضی، «‌رساله فی الرد علی اصحاب العدد »، ص۱۸
1/147
شهرستانی، الملل و النحل، ص۲۵۶، ۳۰۰-۳۰۱
مدرسی طباطبایی، مقدمه‌ای بر فقه شیعه، ص۵۷
حر عاملی، امل الآمل، ج۲، ص۲۵۳؛ خوانساری، روضات الجنات، ج۷، ص۳۳
بحرانی، لؤلؤه البحرین، ص۱۱۷
خوانساری، ج۲، ص۹۴.
اعتماد السلطنه، ص۱۳۷؛ مدرس، ج۱، ص۱۹۱ و ۱۹۲، مدرسی طباطبایی، ص۶۱.
خوانساری، ج۲، ص۲۰۲.
کشمیری، نجوم السماء، ص۴۱؛ تنکابنی، قصص العلماء، ص۳۲۱؛ بحرانی، لؤلؤه البحرین، ص۱۱۷
استرابادی، الفوائد المدنیه، ص۲؛ نیز خوانساری، روضات الجنات، ج۱، ص۱۲۰
خوانساری، روضات الجنات، ج۱، ص۱۲۰؛ نیز نک: استرابادی، الفوائد المدنیه، ص۱۱، جم
خوانساری، روضات الجنات، ج۲، ص۲۴۷؛ تنکابنی، قصص العلماء، ص۳۱۰
بحرانی، لؤلؤه البحرین، ص۹۸
خوانساری، روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۷ کے بعد؛ نفیسی، تاریخ اجتماعی و سیاسی ایران در دوره معاصر، ص۲۵۰
کشمیری، نجوم السماء، ص۲۷۹؛ تنکابنی، قصص العلماء، ص۲۷۱؛ مدرس، ریحانه الادب، ج۳، ص۳۶۰
کشمیری، نجوم السماء، ص۲۸۳
مامقانی، نقیح المقال، ج۲، ص۸۵
مدرس، ریحانة الادب ج۳، ص۱۱۳
برای نمونه: خوانساری، روضات الجنات، ج۶، ص۸۵
فیض کاشانی، ده رساله، ص۱۹۶
فیض کاشانی، ده رساله، ص۱۶۹-۱۷۰
فیض کاشانی، الکلمات الکمنونه، ص۲۰۹ و ۲۱۵.
57 S, ,.EI
خوانساری، روضات الجنات، ج۳، ص۲۷۰؛ تنکابنی، قصص العلماء، ص۲۶۳
مدرس، ریحانه الادب، ج۴، ص۴۸۹
حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۲۰، ص۱۰۵- ۱۱۲.
صالحی، مقدمه بر غنیمة المعاد فی شرح الارشاد (موسوعه) برغانی، ج۱، ص۲۵؛ مدرسی طباطبایی، مقدمه‌ای بر فقه شیعه، ص۶۰
خوانساری، روضات الجنات، ج۲، صص۹۴، ۹۵
مامقانی، تنقیح المقال، ج۲، ص۸۵
خوانساری، روضات الجنات، ج۲، ص۹۴
اعتمادالسلطنه، المآثر و الاثار، ص۱۳۷؛ مدرس، ریحانة الادبف ج۱، ص۱۹۱- ۱۹۲؛ مدرسی طباطبایی، مقدمه‌ای بر فقه شیعه، ص۶۱
خوانساری، روضات الجنات، ج۲، ص۲۰۲
حائری، تشیع و مشروطیت ایران، ص۸۶
صالحی، مقدمه بر غنیمة المعاد فی شرح الارشاد (موسوعه) برغانی، ج۱، ص۲۶
استرآبادی، الفوائد المدنیه، ص۴۰
دزفولی، «‌فاروق الحق »، ص۳ به بعد؛ خوانساری، روضات الجنات، ج۱، صص۱۲۷-۱۳۰؛ : امین، اعیان الشیعه، ج۳، ص۲۲۳
استرآبادی، الفوائد المدنیه، ص۱۰۶
رازی، آثار الحجه، ج ۱، ص ۱۶۸
: S , 2.EI
رجوع کریں: ایرانیکا

منابع

    استرابادی، محمد امین، الفوائد المدنیه، چ سنگی.
    امین، محسن، اعیان الشیعه، به کوشش محسن امین، بیروت، ۱۴۰۳ق.
    اعتماد السلطنه، محمد حسن، المآثر و الاثار، چ سنگی، کتابخانه سنائی.
    بحرانی، یوسف، لؤلؤه البحرین، به کوشش محمد صادق بحرالعلوم، قم، مؤسسه آل البیت.
    تنکابنی، محمد، قصص العلماء، تهران، ۱۳۶۹ق.
    حائری، عبدالهادی، تشیع و مشروطیت ایران، تهران، ۱۳۶۰ش.
    حر عاملی، محمد، امل الامل، به کوشش احمد حسینی، نجف، ۱۳۸۵ق.
    وہی، وسائل الشیعه، بیروت، ۱۳۸۹ق.
    خوانساری، محمد باقر، روضات الجنات، قم، ۱۳۹۱ق.
    دزفولی، فرج الله، «‌فاروق الحق »، در حاشیه حق المبین.
    رازی، محمد، آثار الحجه، قم، ۱۳۳۲ق.
    سید مرتضی، علی، «‌رساله فی الرد علی اصحاب العدد »، رسائل الشریف المرتضی، قم، ۱۴۰۵ق، ج۲.
    شهرستانی، محمد، الملل و النحل، به کوشش محمد بن فتح الله بدرانی، قاهره، ۱۳۵۷ق /۱۹۳۶م.
    صالحی، عبدالحسین، مقدمه بر غنیمة المعاد فی شرح الارشاد (موسوعه) برغانی، تهران، مطبعه احمدی.
    فیض کاشانی، محسن، ده رساله، به کوشش رسول جعفریان، اصفهان، ۱۳۷۱ش.
    فیض کاشانی، محسن، الکلمات المکنونه، تصحیح و مقدمه ابراهیم احمدیان، پایان نامه کارشناسی ارشد دانشگاه تهران، ۱۳۷۷ش.
    قزوینی رازی، عبدالجلیل، نقض، به کوشش جلال الدین محدث ارموی، تهران، ۱۳۳۱ق.
    کشمیری، محمدعلی، نجوم السماء، چاپخانه جعفری، ۱۳۰۳ق.
    مامقانی، عبدالله، تنقیح المقال، نجف، ۱۳۵۰ق.
    مدرس، محمد علی، ریحانه الادب، تبریز، ۱۳۴۶ق.
    مدرسی طباطبایی، حسین، مقدمه‌ای بر فقه شیعه، ترجمه محمدآصف فکرت، مشهد، ۱۳۶۸ش.
    مفید، محمد، اوائل المقالات، قم، ۱۴۱۳ق.
    نفیسی، سعید، تاریخ اجتماعی و سیاسی ایران در دوره معاصر، تهران، ۱۳۳۵ش.

انگریزی منبع
EI2,S,Iranica.

تالیف:  محققین کی ایک جماعت
ترجمہ: سید اعجاز موسوی (قم المقدسہ)