پیر، 4 جون، 2018

داڑھی منڈوانا


🔵 ڈاڑھی منڈوانا 🔵

منجملہ غیر اسلامی رسموں کے ایک مردوں کا ڈاڑھی منڈوانا اور مونچھیں بڑھانا بھی ھے. فقہ جعفریہ میں ڈاڑھی منڈانے کی حرمت اور مونچھیں بڑھانے کی کراھت شدیدہ میں کوئی اختلاف نہیں ھے اور یہ کہ ڈاڑھی منڈوانا مجوسیوں کا طریقہ ھے.
اسلام کے اندر اس فعل شنیع کی کوئی گنجائش نہیں ھے.

 ■پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

●مجوسی داڑھی مونڈتے ہیں اور مونچھیں بڑی رکھتے ہیں. اور ہم اس کے برعکس.
(وسائل الشیعہ: ج 1 ص421)
●مونچھیں چھوٹی رکھو اور داڑھی بڑی رکھو.
(وسائل الشیعہ ج1 ص423)
●داڑھی مونڈنا ایک مثلہ کی قسم (جسم و روح کو اذیت دینا) ہے. اور جو بھی اس طرح کرے اس پر خدا کی لعنت ہو. 
(مستدرک الوسائل ج1 ص406)
●داڑھی مونڈنا عمل قوم لوط میں سے ہے. 
(مستدرک الوسائل ج1,ص407)

■کسریٰ (شاہ ایران) نے چند داڑھی چٹ اور مونچھیں دراز قسم کے نمائندے دربار رسالت میں بھیجےـ مگر خلق عظیم کے مالک نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور دریافت فرمایا:
"تمہیں یہ ہیئت و شکل اختیار کرنے کا کس نے حکم دیا ھے؟"
انہوں نے کہا:
ھمارے بادشاہ (کسریٰ) نے.
یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ و علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:
لیکن میرے بادشاہ (خدا تعالیٰ) نے مجھے ڈاڑھی رکھوانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم دیا ھےـ
(من لا یحضرہ الفقیہ)

●امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
خداوند متعال نے مَردوں کو داڑھی کے ذریعے زینت بخشی ہے اور ان کے لئے باعث فضیلت ہے اور داڑھی کے ذریعے مرد پہچانے جاتے ہیں.
(سفینۃ البحار، ج2، ص:508)

●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
گذشتہ زمانے میں کچھ گروہ داڑھی مونڈتے تھے اور مونچھیں رکھتے تھے خداوند متعال نے ان کو مسخ (جانوروں کی شکل میں تبدیل) کردیا.
(حلیۃ المتقین، ص:187)

●عالم ربانی حضرت علامہ شیخ یوسف بحرانی نے لکھا ھے کہ دوسری دلیلوں سے قطع نظر کرتے ھوئے صرف یہی چیز اس کی حرمت مغلظہ ثابت کرنے کے لیے کافی و وافی ھے کہ زنا جیسے سنگین جرم کی وجہ سے کوئی قوم مسخ نہیں ھوئی مگر ڈاڑھی منڈوانے کی وجہ سے ایک قوم مسخ ھو چکی ھے.
چنانچہ اصول کافی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ درج ھے کہ 
■جناب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ظاھری دور خلافت میں کوفہ کے بازار میں بے چھلکا مچھلی (جسے ملی مچھلی کہا جاتا ھے) بیچنے والوں کو کوڑے لگائے اور یہ کہہ کر بازار سے نکال دیا کہ
"یا بیاعی مسوخ بنی اسرائیل و جند بنی مروان."
اے بنی اسرائیل کی مسخ شدہ مخلوق اور لشکر بنی مروان کے بیچنے والو!

حاظرین میں سے بعض نے عرض کیا کہ بنی اسرائیل کی مسخ شدہ مخلوق سے آپ کی مراد کیا ھے؟ 
فرمایا: "یہ ایک قوم تھی جس کا جرم یہ تھا کہ ڈاڑھیاں منڈواتے تھے اور مونچھیں بڑھا کر ان کو تاؤ دیتے تھے جنہیں خداۓ قہار نے اس شکل میں مسخ کر دیا."

■بعض اخبار سے واضح و آشکار ہوتا ھے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص نے ڈاڑھی ترشوائی وہ امیر شام تھا،
(تنبیہ الغافلین) 
اور جس نے سب سے پہلے مونچھیں بڑھائیں وہ حضرت ثانی تھے.
(الفاروق شبلی) 
اور جس نے پہلے پہل ڈاڑھی منڈوائی وہ یزید پلید تھا. 
ان حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ھے کہ جو لوگ باریک ڈاڑھی کتراتے ھیں وہ امیر شام کی سنت پر، 
جو منڈواتے ھیں وہ یزید عنید کے طریقہ پر،
اور جو مو نچھیں بڑھاتے ھیں وہ حضرت ثانی کے نقش قدم پر چل رھے ھیں.
کیا زبان و کلام سے محبت اھلبیت علیہم السلام کا دعویٰ کرنا اور عمل و کردار سے دشمنان اھلبیت علیہم السلام کی پیروی کرنا ایک شرمناک بات نہیں ھے؟ 

■مسلمانوں کا قطعی رویہ: 
رسول اللہ (ص) کے دور سے اب تک دیندار لوگ داڑھی رکھنے کے پابند ہیں اور جو داڑھی مونڈھتا ہے اس کی مذمت کرتے آئے ہیں اور اس کو فاسق سمجھتے ہیں اور اسلامی عدالت میں بھی گواہی دینے کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے کیونکہ داڑھی مونڈھنے والے شخص کو فاسق سمجھا جاتا ہے اور اس کی گواہی قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ یعنی عادل ہونے کی ایک شرط داڑھی رکھنا ہے اور گواہی کے لئے عدالت شرط ہے.
(آيت اللَّه العظمی سید ابوالقاسم خوئى، مصباح الفقاهة، ج 1، ص 264)

■مراجع تقلید اور علمائے کرام: 
مراجع تقلید اور علمائے کرام نے بھی داڑھی مونڈھنا حرام قرار دیا ہے یا کم ازکم فرمایا ہے کہ "احتیاط واجب" یہ ہے کہ داڑھی رکھی جائے اور احتیاط واجب ترک نہیں کی جاسکتی.

■ڈاڑھی کی مقدار: 
چہرے پر اتنی مقدار میں ڈاڑھی رکھنا واجب ہے کہ عرف عام میں اسے ڈاڑھی کہا جا سکے یعنی جب لوگ اس کے چہرے کو دیکھیں تو ان کو خود بخود معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص کے ڈاڑھی ہے. نہ کہ ایسا معلوم ہو کہ شیو بڑھی ہوئی ہے یا خود بتانا پڑے کہ میں نے ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے. 
یہ بھی یاد رہے کہ ایک ہاتھ یعنی مٹھی بھر سے زیادہ لمبی ڈاڑھی بھی نہ ہو یعنی سکھوں کی طرح بلکہ جتنی مقدار میں مراجعین عظام کی ہے اتنی مقدار رکھنا زیادہ ثواب رکھتی ہے.

ولایت امیر المومنین

ولایت امیرالمومنین علیہ السلام
آیۃاللہ جوادی آملی مد ظلہ
ترجمہ محمد حسنین باقری
’’ انسان کامل‘‘ ایک ایسا آئینہ ہے جو خداوند عالم کے جمال و کمال و جلال کے علاوہ کچھ بھی نہیں دکھاتااور جو کچھ و جتنا بھی جمال و کمال و جلالِ حق اس میں روشن ہو اسی کو پیش کرتا ہے۔ صاف و شفاف آئینہ کی خصوصیت یہ ہوتی ہےکہ خود کچھ نہیں رکھتا بلکہ جو صورت بھی اس کے مقابل آئے اسی کو دکھاتا ہے اسی طرح انسان کامل کا قول و فعل، رفتار و گفتار، سکوت و تقریر، اس کی زندگی کے تمام شعبے بلکہ اس کی زندگی کا ہر رخ خدا ئی جلوہ ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی تمام چیزیں تمام امور خداوند عالم کے لئے ہیں۔ اسی وجہ سے خداوند عالم نے اس کے قول و فعل و تقریر کو حجت قرار دیا ہے۔ 
انسان کامل کی سب سے واضح و روشن فرد حضرت امیر المومنینؑ ہیں وہ ایسی ممتاز شخصیت ہیں جن کی نظیر نہ گزشتہ میں ممکن تھی نہ آئندہ ممکن ہے۔ اس لئے کہ وہ ایسے خدا کا مظہر ہیں جس کی مثل و نظیر نہیںہے ’’لیس کمثلہ شیٔ‘‘ (سورہ شوریٰ۱۱)[اس کے جیسا کوئی نہیں ہے] اور ’’ولم یکن لہ کفواً احد ( سورہ توحید ۴)[اور نہ اس کا کوئی کفو اور ہمسر ہے] ۔
اور حضرت امیر ؑ کا نور مقام بالا و مقام صعود اور عالم غیب میں رسول اکرمﷺ کے نور کے ساتھ متحد تھا۔ 
امیر المومنینؑ خدا کے ’’ اسم اعظم‘‘ کا مظہر ہیں۔ اور اسم اعظم جو سب سے بڑا درجہ ہے وہ نہ لفظ ہے جس کے تلفظ کے ذریعہ کائنات میں تصرف کیا جاسکے اور نہ مفہوم وجود ذہنی  و علم حصولی ہے کہ جس کے تصور سے کوئی مسئلہ حل ہوسکے۔ بلکہ اسم اعظم ایک مقام و منزل ہے کہ جو بھی اس مقام تک پہنچ جائے وہ کائنات میں تصرف کرسکتا ہے اور خلاف عادت و خارق العادۃکاموں کو انجام دے سکتا ہے۔ 
 اس میں کوئی شک نہیں کہ امام علیؑ کا اسم اعظم کے مقام تک پہنچنے کا راز آپؑ کا قلب سلیم ہے جس میں حق سبحانہ کی مہر و محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس طرح کے قلوب خدا کے ارادۂ فعلی کے نازل ہونے کا مرکز ہیں۔ جیسا کہ امام حسن عسکری علی السلام فرماتے ہیں : 
 ’’ قلوبنا او عیۃ لمشیۃ اللہ‘‘  ( بحار الانوار ۲۵/۳۳۷) ’ہمارے قلوب خداوند عالم کے ارادے و مشیت کا ظرف ہیں‘۔ 
نیز امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
 ’’ ان الامام  وکر لارادۃ اللہ عزوجل لایشاء الا من یشاء اللہ ۔ ( بحار ۲۵/۳۸۵)
’امام کا دل خداوند عالم کے ارادے کا آشیانہ ہے وہ خدا کے ارادہ کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہیںکرتا‘۔ لہٰذا امام علیؑ کا نفس حق سبحانہ کے ارادۂ فعلی کا مظہر ہے وہ اپنے ارادہ سے اپنی مراد کو اپنے نفس کے خارج میں وجود میں لاتے ہیں۔ یعنی جس طرح خداوند عالم کے تکوینی ارادہ اور صرف ’’کُن‘‘ (ہوجا) کہنے سے ہر امر وقوع پذیر ہوجاتا ہے اسی طرح حضرت علیؑ کے ’’بسم اللہ‘‘ کہنے سے بھی ہر چیز وقوع پذیر ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ حضرت علیؑ کی ’بسم اللہ‘ خدا کے ’کُنْ‘ کی طرح ہے اور خداوند عالم کا فعل اپنے ولی یعنی امیرالمومنینؑ کے قلب کے موطن میں ظہور کرتاہے۔
ولایت خدا کا مظہر:
 ’’ ولی‘‘ خدا وند عالم کے اسمائے فعلی میںسے ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے : وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ (شوریٰ ۲۸)[وہی وہ ہے جو ان کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش کو نازل کرتاہے اور اپنی رحمت کو منتشر کرتا ہے اور وہی قابل تعریف مالک اور سرپرست ہے]اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے : إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّـهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ  (اعراف ۱۹۶)[بیشک میرا مالک و مختار وہ خداہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک بندوں کا والی و وارث ہے]’ ولایت‘ چاہے تکوینی ہو یا تشریعی ، خداوند عالم کے تمام اوصاف فعلی کی طرح صرف اسی سے مخصوص ہے اس میںکوئی اس کا شریک نہیںہے۔ اس لئے کہ تکوین و تشریع کا نظام تمام کا تمام خدا کے اختیار میں ہے۔ لیکن چونکہ ولی خداوند عالم کے اسمائے فعلی میں سے ہے اس لئے وہ مظہر چاہتا ہے لہٰذا قرآن کریم نے باوجودیکہ ولایت صرف اور صرف خداوند عالم سے مخصوص ہے، دوسرے افراد کی ولایت کا بھی تذکرہ کیا ہے یعنی بعض اس مقام تک پہنچتے ہیں کہ خداوند عالم کی ولایت کا مظہر بن جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ ولایت کے مظاہر مختلف مراتب رکھتےہیں اور اس اسم شریف کامظہرِ تام و کامل صاحبِ ولایت کلیہ بھی حضرت امیر المومنینؑ ہیں۔ حضرت امیرؑ تکوین و تشریع میں خدائے سبحان کی ولایت کا مظہر کامل ہیں اسی وجہ سے کائنات میں تصرف کرتے ہیں۔ اور زمینی و آسمانی قوتوں کو اپنے زیر تسلط اور اپنے اختیار میں رکھتے ہیں۔ 
قرآن کریم نے آیت : إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ  (مائدہ ۵۵)[ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں]میں امیر المومنینؑ کی ولایت تکوینی و تشریعی کی تصریح کی ہے اس لئے کہ اولاً علمائے شیعہ و سنی اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت حضرت علیؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے ثانیاً اس آیت میں ولایت سے مراد دونوں ولایتیں ( تشریعی و تکوینی) ہیں ۔
ولایت علیؑ کی برتری:
قرآن کریم حضرت سلیمان سلام اللہ علیہ کے وزیر آصف بن برخیا کی ولایت تکوینی کے سلسلے میں فرماتا ہے :  قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ   أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَـٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي۔۔۔(نمل ۴۰)[اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے] اس آیت نے طیّ الارض سے بڑی کرامت کو غیر پیغمبر کےلئے بیان کیا ہے جس کا منشا و سبب ان کی کتاب کی بنسبت معرفت ہے۔ اس میں شک نہیںکہ اس طرح کی ولایت سے برتر و عظیم تر ولایت حضرت علیؑ کےلئے ثابت ہے۔ اس لئے کہ آصف ابن برخیا کے پاس کتاب کا تھوڑا سا علم تھا لیکن حضرت امیرؑ پوری کتاب سے آشنا تھا مکمل کتاب کا علم رکھتے تھے اسی لئے آپ کی ولایت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ 
حضرت علیؑ کے مکمل کتاب کے عالم ہونے کی دلیل یہ آیت ہے : وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ  (رعد ۴۳)(اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے)چونکہ اس آیت میں پیغمبرؐ کی رسالت کا انکار کرنے والوں کے سامنے دو گواہ بیان کئے گئے  ہیں۔ خداوند عالم کی گواہی سب سے برتر گواہی ہے اور دوسرے اس ذات کی گواہی جس کے پاس مکمل کتاب کا علم ہے جو روایات کے مطابق امیر المومنینؑ کی ذات والا صفات ہے۔ جیسا کہ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: ’’ الذی عندہ علم الکتاب ھو امیر المومنین ‘‘ جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ امیر المومنینؑ ہیں۔ پھر حضرت سے پوچھا گیا کہ جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا وہ اعلم ہے یا جس کے پاس پوری کتاب کا علم تھا؟ حضرتؑ نے جواب دیا : ماکان علم الذی عندہ علم من الکتاب عند الذی عندہ علم الکتاب الا بقدر ماتاخذا لبعوضۃ بجناحھا من ماء البحر (تفسیر قمی جلد ۱ ص ۴۶۷)جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا وہ امیر المومنینؑ کے علم کی بنسبت اسی طرح ہے جس طرح مکھی کے پر کا پانی سمندر کی بنسبت۔ واضح ہے کہ حضرت علیؑ اس عظیم منزلت پر فائز ہونے کے بعد نہ صرف مُلک پر تصرف رکھتے اور اس کا قطب و مرکز ہیں ’’ انّ محلی منھا محل القطب من الرحی (نہج البلاغہ خطبہ ۳)بلکہ ملکوت بھی حضرت کے ارد گرد گھومتے ہیں اس پر استوار ہیں اور اسی کے ذریعہ باقی ہیں۔ 

اکمال دین ولایت کے ذریعہ


اکمال دین ولایت کے ذریعہ

آیۃاللہ العظمیٰ شیخ وحید خراسانی مد ظلہ
ترجمہ سید محمد حسنین باقری 
نائب مدیر ماہنامہ اصلاح لکھنؤ
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ( مائدہ ۳) 

[آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے] 

۳۱۰ھ؁ سے طبری جسے اہل سنت کے برجستہ علماء نے اس آیت کے سلسلہ میں بحث کی ہے ۔ طبری کے بعد سے جن اہم مصادر و منابع نے اس آیت کی شان نزول کو عید غدیر قرار دیا ہے ان کی تعداد ۱۶؍ ہے۔ ( ان منابع کی تفصیل کےلئے دیکھیں : الغدیر علامہ امینیؒ جلد ۱ صفحہ ۲۳۰)

مندرجہ بالا آیت میں بہت سے نکات پوشیدہ ہیں سنی و شیعہ علماء نے اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں گفتگو کی ہے لیکن اس آیت کو سمجھنے اور اس کے پوشیدہ اسرار کو درک کرنے کےلئے غور و فکر ضروری ہے ۔ آیت کا آغاز کلمہ ’’ الیوم‘‘ سے ہے اور یہ خود ایک اہم عنوان ہے۔ یہاں پر لفظ یوم پر الف لام داخل ہوا ہے ۔ جو اس دن کی عظمت کو بیان کررہا ہے۔ اس دن کی عظمت کس لحاظ سے ہے؟ اس پر توجہ ضروری ہے۔ 

امیرالمومنین ؈ کی عظمت:

علم لغت و ادب کے امام ،عظیم عالم خلیل بن احمد فراہیدی سے کہاگیا : امیر المومنین علیؑ کے بارےمیںکچھ بیان کرو۔ جواب دیا کہ انسان کے فضائل و کمالات کو یا دوستوں کے ذریعہ پہچاناجاتا ہے یا دشمنوں کے ذریعہ لیکن میں ایسی ذات کے بارےمیں کیا کہوں جس کے فضائل کو دشمنوں نے حسد کی وجہ سے چھپایا اور دوستوں نے خوف کی وجہ سے۔ اس کے باوجود علی ابن ابی طالبؑ کے فضائل سے پوری دنیا پُر ہے:

 ما اقول فی حق امریٔ کتمت مناقبہ اولیاؤہ خوفاً و اعداؤہ حسداً ۔ ثم ظہر من بین الکتمین ما ملأ الخافقین۔

 ( تنقیح المقال ترجمۃ الخلیل ابن حمد جلد ۱ صفحہ ۴۰۳، رقم ۳۷۶۹۔ الرواشیخ السماویہ ص ۲۸۹)

حنبلیوں کے امام احمد ابن حنبل نے تصریح کی ہےکہ : ما جاء لاحد من الصحابۃ من الفضائل ماجاء لعلی ابن ابی طالب۔ جتنے فضائل و کمالات علی ابن ابی طالبؑ کے نقل ہوئے اتنے کسی بھی صحابی کے لئے نقل نہیں ہوئے۔ 

( المستدرک علی الصحیحین حاکم نیشاپوری جلد ۳ ص۱۰۷۔ بحار الانوار جلد ۴ ص ۱۲۴)

واقعہ غدیر خم کا مخالفین کے ذریعہ اعتراف:

 قابل غور ہے کہ ابو ہریرہ نے نقل کیا ہےکہ پیغمبرؐ نے فرمایا : جو بھی غدیر کے دن روزہ رکھے اس کا ثواب ساٹھ مہینے روزے کا ہے۔یہ دن وہ ہے کہ جب پیغمبرؐ نے علیؑ کو پہچنواتےہوئے فرمایا : الست اولیٰ بکم من انفسکم ، قالوا : بلیٰ ۔ قال: من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ جب حضرتؐ نے یہ جملات ارشاد فرمائے حضرت عمر کھڑے ہوئے اور کہا بخٍ بخٍ لک یا بن ابی طالب اصبحت مولای و مولیٰ کل مسلم(او مومن )۔ مبارک ہو مبارک ہو۔ اے ابو طالب کے بیٹے کہ آپ میرے اور ہر مسلمان (مومن)کے مولیٰ ہوگئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی الیوم اکملت لکم ۔۔۔۔ (امالی شیخ صدوقؒ، صفحہ۵۰۔تاریخ بغداد،ج۸،ص۲۸۴)

’’الیوم‘‘ اس دن کی اہمیت کو بیان کررہا ہے جس دن کا روزہ ساٹھ روزوںکے برابر ہے۔ یہ کون سا دن ہے ؟ اس دن کو ن سا و اقعہ رونما ہوا؟

 اکمال دین اور اتمام نعمت کا دن

 آیت الیوم اکملت میں اعلان ہوا کہ ’’اس دن میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا‘‘۔ دوسرا جملہ ہے کہ ’’اس دن میں نے تم پر اپنی نعمت تمام کردی‘‘۔ پہلے جملہ میں ’’اکمال‘‘ ہے دوسرے جملے میں ’’اتمام‘‘ ہے۔ یہ دونوں کلمے خدا کے فعل(عمل) سے متعلق ہیں۔ تیسرے مرحلےمیں خداوند عالم نے اپنے فعل اور اپنی صفت کو ایک صفت ساتھ بیان کیا ہے۔ ورضیت لکم الاسلام دینا۔ ابتدا میں فعل ہے اس کے بعد صفت ہے۔ آیت کے آغاز میں دین ہے اور آخر میں دین۔ پہلا جملہ ہے : الیوم اکملت لکم دینکم۔ دوسرا جملہ ہے : اتممت علیکم نعمتی ۔ تیسرا جملہ ہے : ورضیت لکم الاسلام دینا۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ 

 آخری کلمہ یہ ہےکہ اسلام کو پہچانیں تاکہ معلوم ہو کہ کیوں خداوند عالم نے یہ فرمایا ہے :ـ ورضیت لکم الاسلام دینا۔ آج میں نے اسلام کو بعنوان دین پسند کیا۔ اسلام یہ ہے  : إِنَّ  الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ (سورہ آل عمران،آیت۱۹)  [دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے]اور ’’وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ‘‘(سورہ آل عمران،آیت ۸۵)[اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ قیامت کے دن خسارہ والوں میں ہوگا] اسلام یہ ہے۔ ’ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (بقرہ، ۱۲۷) [اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم علیہ السّلام اور اسماعیل علیہ السّلام خانہ کعبہ کی دیواروں کو بلند کر رہے تھے اوردل میں یہ دعا تھی کہ پروردگار ہماری محنت کو قبول فرمالے کہ تو بہترین سننے والا اورجاننے والا ہے] جناب ابراہیم مامور ہوئے کہ گھر کی بنیادوں کو بلند کریں اور دنیا میں قبلۂ حق کے معمار قرار پائیں۔ جب اس عمل سے فارغ ہوئے تو اس معماری کا بدلہ صرف یہ چاہا کہ کہا : میں تیرے گھر کا معمار تھا۔میرا بیٹا بھی اس میں شریک تھا۔ یہ مجھ سے قبول کرلے اور اس معماری کی جزامجھے دے اور اس طرح دعا فرمائی : رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (سورہ بقرہ،آیت۱۲۸)[پروردگار ہم دونوںکو اپنا مسلمان او ر فرمانبردار قرار دے دے اور ہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کر. ہمیں ہمارے مناسک دکھلا دے اورہماری توبہ قبول فرما کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے] یہ ہے اسلام۔ 

اسلام جس کی عظمت و اہمیت یہ ہے ۔ یہ پیغمبر ؐ کی عمر کے آخری سال ۱۸؍ ذی الحجہ تک ناقص اور خدا کا ناپسندیدہ تھا۔غدیر کے دن یہ اسلام کا مل اور خدا کا پسندیدہ ہوا۔ اب یہاں پر ہمیں کچھ کہنے کی طاقت نہیںہے اس جگہ جہاں انسان زبان نہیں کھول سکتا۔ خدا نے اس دن کیا سمجھانا چاہا؟۔ لیکن بشریت نہیںسمجھی اور آج بھی نہیںسمجھ رہی ہے۔ خدایا تو نے اس دن کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ فرمایا :يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ(سورہ مائدہ،۶۷)[اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے] ۔

غدیر سے غفلت رسالت کا  بطلان ہے 

قرآن میں غور کریں پیغمبرؐ سے خدا کے گفتگو کے انداز کو دیکھیں ۔ یہ قرآن کے اشار ات ہیں ۔ علماء کو چاہئے کہ اس نکتہ کو سمجھیں ۔ خدا نے پیغمبرؐ سے اس طرح نرم اور محبت آمیز لہجہ میں بات کی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ (سورہ انبیاء،آیت۱۰۷) [اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے] خدا کا پیغمبرؐ سے گفتگو کا انداز یہ ہے : ’’لعمرک ‘‘ (حجر،۷۲) ’’تمہاری جان کی قسم‘‘ ۔ اتنے عظیم پیغمبر ہیں لیکن جب غدیر کا موقع آتا ہے تو انداز بدل جاتا ہے، لہجہ میں فرق آجاتا ہے:يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ۔۔۔ اگر غدیر کے دن سے غفلت ہوجائے تو تمام ر سالت باطل ہوجائے۔ رحمت کا انداز اس شدید لہجہ میں بدل جاتا ہے گویا یہ واقعہ انسان کے سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس سے اہمیت سمجھیں۔ 

مبلغین و خطباء کی ذمہ داریاں


مبلغین و خطباء کی ذمہ داریاں
آیۃ اللہ العظمیٰ وحید خراسانی
ترجمہ محمد حسنین باقری
فرصت کو غنیمت جانئے، دن رات غور و فکر کیجئے کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب نے کیوں قربانی پیش کی؟
(امام حسین علیہ السلام کا جملہ:) انما خرجت لطب الاصلاح فی امۃ جدی(میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں)
یہ لوگ امت کی حفاظت کے لئے گئے آپ اسی کام کو کرنا چاہ رہے ہیں۔(غور کیجئے آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا کرنا ہے؟ ذیل میں چند وظائف و ذمہ داریوں کو پیش کیا جارہا ہے:)
(۱)احکام خدا کی تعلیم: (جہاں آپ مجلس پڑھنے جارہے ہیں )کوشش کیجئے جتنے دن آپ وہاں ہیں مومنین واجبات و محرمات سیکھ لیں، احکام خدا کی تعلیم دیجئے۔لوگوں کو احکام الہی سکھائیے۔
(۲) زیارت آل یس کے ذریعہ امام زمانہ عج سے رابطہ: روزانہ مجلس سے پہلے زیارت آل یس آپ خود پڑھئیے یا کوئی دوسرا پڑھے۔ زیارت کے بعد والی دعا ضروری نہیں ہے کہ لوگ تھک نہ جائیں۔امام نے فرمایا ہے اس زیارت کے ذریعہ ہماری طرف توجہ کرو۔
(۳) اصول عقائد کا بیان: کوشش کیجئے آپ کی مجلسوں میں اصول عقائد بیان ہوں۔
(۴) دلوں میں محبت خدا پیدا کرنا: لوگوں کو خدا کی نعمتیں یاد دلائیے، جب فطرت بیدار ہوگی تو آگے بڑھے گی’’ذکّر ھم آلائی و نعمائی‘‘ (ان کو ہماری نعمتیں یاد دلاؤ)۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے۔
(۵) شبہات و اعتراضات کے جوابات: شبہات مطرح نہ کیجئے بلکہ رفع شبہات کیجئے اور کوئی شبہات میں مبتلا ہے تو اس کا علاج کیجئے۔ دفع شبہات کا راستہ بھی یہ ہے۔ وہاں صرف اثباتی پہلو پیش کیجئے،( مثبت رویہ اختیار کیجئے)یعنی دین کے مبانی اور فضائل اہل بیتؑ بیان کیجئے۔ باطل مذاہب کے شبہات مطرح نہ کیجئے۔ یہ غلط راستہ ہے ۔ 
(۶) استعداد و صلاحیتوں کی شناسائی اور ان کی تربیت: صرف مجلس و خطابت پر اکتفا نہ کیجئے بلکہ با استعداد و با صلاحیت جوانوں کا پتہ لگا کر ان کے ساتھ نشست رکھئیے، ان کی تربیت کیجئے، ان کو تیار کیجئے۔ اس مذہب کی عظمت انہیں بتائیے، ان لوگوں کی اس طرح تربیت کیجئے کہ وہ احکام سے آشنا ہوجائیں تاکہ آپ کی عدم موجودگی میں یہ خلا پُر ہوجائے۔ اگر اس طرح کا سفر کیجئے گا تو یقین رکھئے کہ آپ کا نام بھی جناب حبیب کے ساتھ لکھا جائے گا۔
(۷) اخلاق: لوگوں کے سامنے اخلاقی باتیں بیان کیجئے۔
(۸) فضائل اہل بیت علیہم السلام: مجالس میں آپ کا ایک وظیفہ فضائل اہل بیت ؑ کا بیان کرنا ہے۔
(۹) بیان روایت: روایات سے آگے نہ بڑھئے اِدھر اُدھر کی باتیں نہ پڑھئے، اس کے لئے بہت سے لوگ ہیں، آپ صرف دین کو پیش کیجئے۔
(۱۰) خدا و اہل بیت کی طرف دعوت: کسی کی ترویج نہ کیجئے آپ کو حق نہیں ہے کہ میرا نام لیجئے یا میرے رسالہ عملیہ کی ترویج کیجئے، جو بھی جس کی تقلید کرتا ہے کرتا رہے۔ آپ صرف اور صرف احیائے مذہب کے لئے جائیے، دین و احکام دین کی صرف وہی باتیں پڑھیے جو مسلمات اور متفق علیہ ہیں اختلافی باتوں کو نہ چھیڑیے۔ظ ظ ظ

شادی میں تاخیر کیوں؟


شادی میں تاخیر کیوں؟
سید محمد حسنین باقری
اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی و سماجی ضرورت نیز مرد و عورت کی تکمیل کا ذریعہ گردانتے ہوئے، جلدی و وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے خصوصاً لڑکیوں کی شادی کےلئے بہت زیادہ تاکید کی ہے۔یقیناً وقت پر شادی کرنے کے بہت زیادہ فائدے اور اس عمل میں تاخیر کے بہت سے نقصانات ہیں۔چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اگر شادی وقت پر نہ ہو تو اس کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس کا احساس بعد میں ہوتا ہے۔آج جوانوں کے درمیان غلط دوستیاں و تعلقات، وقت و ٹائم کی بربادی، گناہوں میں ملوث ہونا، خودارضاعی جیسے تباہ کن گناہوں کا شکار ہونا، پڑھائی وکام میں دل نہ لگنا، صحت کا خراب ہونا، شادی کے بعد تعلقات کا سازگار نہ ہوپانا، طلاق تک کی نوبت پہنچ جانا و غیرہ، یہ سب شادی میں تاخیر کے بعض نقصانات ہیں جن کا مشاہدہ ہم بآسانی کرسکتے ہیں۔
 جب خدا ہمارا خالق ہے اور نبیؐ و آل نبیؑ خدا کی جانب سے ہادی و رہبر بناکر بھیجے گئے تو یقیناً وہ ہماری مصلحتوں کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ اگر ان کی طرف سے جلدی شادی کرنے اور وقت پر شادی کرنے کی تاکید کی گئی ہے تو اس کا مطلب ہے اسی میں ہمارا فائدہ ہے اور اس پر عمل نہ کرنے یا ٹالنے میں ہمارا نقصان ہے۔ ہم لاکھ ترقی کرجائیں، معاشرہ جتنا بھی ہمارے اعتبار سے آگے بڑھ جائے، ہم اپنی مصلحتوں کو خدا سے بہتر نہیں سمجھ سکتے۔ 
پہلے کسی حد تک شادیاں وقت پر ہوتی تھیں لیکن آہستہ آہستہ اس میں کمی آتی جارہی ہے۔ کبھی تو ہمارے اپنے تصورات حائل ہوتے ہیں، کبھی ہماری بے جا خواہشات رکاوٹ بنتی ہیں، کبھی ہمارے رسم و رواج آڑے آتے ہیں، کبھی ہمارے بے جا توقعات ہم کو آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں، کبھی اپنے کو نظر انداز کرکے سامنے والے میں ساری خوبیاں ،سارے کمالات کی توقع کرنا مانع ہوتا ہے، کبھی یہ غلط تصور کہ جلدی شادی تعلیم میں اور آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہے ہم کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔
ایک پہلو یہ بھی قابل توجہ ہے کہ ایک طرف شادی میں تاخیر دوسری طرف ہر طرح کی آزادی، مخلوط تعلیم، بے پردگی و بے حجابی، تعلقات و روابط میں کوئی رکاوٹ نہ ہونا، بڑھتی ہوئی عریانیت، ٹیلی ویژن،سیریل و فلموں میں کوئی اخلاقی پہلو کا تصور نہ ہونا، ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل جس پر کسی طرح کا کنٹرول نہیں، سوشل میڈیا کا بغیر کسی اخلاقی ضابطہ کے استعمال۔ جس کا سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض جوان گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے خدا نے خواہشات مرد و عورت دونوں کے وجود میں رکھے ہیں اور ان خواہشات کے لئے صحیح و جائز راستہ شادی(دائمی و موقت) کی شکل میں رکھا ہے، اور وہ بھی بہت آسان اور انتہائی سستا۔ جب اس پر عمل نہ ہوگا یا اس کو سخت بنادیا جائے گا تو ہم پریشان بھی ہونگے، زندگیاں بھی برباد ہونگی، معاشرہ تباہی کا شکار بھی ہوگا،اولاد بے راہ روی کا شکار بھی ہوگی، غلط راستہ بھی اختیار کرے گی گناہوں میں مبتلا بھی ہوگی، دوسرے مذہب والے ہمارےداماد و بہو بھی بنیں گے۔ 
یہ رشتہ میں تاخیر کا رجحان ہمارے معاشرے میں ایسی خاموش دراڑیں ڈال رہا ہے جو معاشرتی ڈھانچے کے زمین بوس ہونے کا پیش خیمہ ہیں۔لیکن حیف کہ اس کاعملی ادراک ہم میں سے بہت سے افراد کو نہیں ہے۔
آئیے!اس تاخیر کے بعض اسباب و وجوہات اور ان کے راہ حل کی جانب اشارہ کرتے ہیں:
(۱): بعض لوگ سوچتے ہیں کہ جبتک سارے رسم و رواج، ساری تمناؤں اور آرزؤں کو پورا کرنے کا پیسہ نہ ہو ہم شادی نہیں کریں گےجبکہ واقعی اسلامی شادی میں سوائے مہر کے کوئی خرچ واجب نہیں ہے اور اس کی کوئی مقدار بھی معین نہیں ہے۔ یعنی اسلام نے شادی کو بہت سستا و آسان پیش کیا ہے ہم اپنی رسم و رواج کی وجہ سے اسے مہنگا بناکر اپنے لئے سخت بنا لیتے ہیں، نتیجہ میں خود بھی پریشان ہوتے نقصانات بھی اٹھاتے ہیں اور نوجوانوں کی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔
(۲):بعض جگہوں پر لڑکی کے والدین لڑکے میں وہ تمام کامیابیاں دیکھنا چاہتے ہیں جو پچاس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہیں۔مکان اپنا ہو،گاڑی پاس ہو،تنخواہ کم از کم اتنی ہو، تعلیم اتنی ہو وغیرہ وغیرہ۔گویا خدا کے رازق ہونے پر بھروسہ نہیں ہے لڑکے کی جاب کو رازق سمجھتے ہیں اگر لڑکے یا لڑکے والوں میں بھی یہ فکر ہوکہ لڑکا کچھ کرنے لگے تب شادی کریں گے تو یہ بھی غلط ہے یعنی ہم کو خدا پر بھروسہ نہیں یا معصومؑ کی تعلیمات پر بھروسہ نہیں ہے۔ اسی طرح لڑکی والوں میں یہ فکر زیادہ پائی جاتی ہے کہ لڑکا کرتا کیا ہے؟ کتنی سیلری ہے؟ گویا رازق لڑکا ہی ہے اور اس کی جاب ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں خصوصی طور پر احادیث و تعلیمات معصومینؑ میں زور دیا گیا ہے، صریحی طور پر معصومینؑ نے شادی کو بھی رزق کا ذریعہ بتایا ہے، شادی کے ذریعہ بھی خدا رزق عطا کرتا ہے۔ شرط ہے کہ ہم کو خدا پر بھروسہ ہو۔ 
(۳):بعض جگہوں پر چاہے لڑکی والے ہوں یا لڑکے والے، اپنے مقابل میں ہر طرح کی خوبیاں چاہتے ہیں، کسی طرح کی کمی ناقابل قبول ہوتی ہے جبکہ کبھی اپنا جائزہ نہیں لیتے۔ اگر ہمارے اندر کچھ کمیاں ہیں تو سامنے والے میں بھی اگر سارے کمالات نہ ہوں تو وہ بھی شریک زندگی بن سکتا ہے۔
(۴):کہیں کہیں پر لڑکوں کا تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانا اور لڑکیوں کا اس میدان میں آگے نکل جانا ہے بھی ایک سبب ہے گزشتہ کئی برسوں کے بورڈ امتحانات کے نتائج اس بات کے شاہد ہیں،اس کی وجہ سے تعلیم کے لحاظ سے کبھی ہم پلہ رشتہ ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔کچھ عرصہ سے لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے مزید اعلیٰ تعلیم کے رجحان نے اس کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔یقیناً تعلیم بہت ضروری ہے، ترقی کرنا آگے بڑھنا بہت اچھا ہے لیکن اگر یہ تعلیم آئندہ کی زندگی کو دشوار بنا رہی ہو، اس تعلیم کے نتیجے میں عائلی زندگی متاثر ہورہی ہو تو یقیناً غور کرنے کی ضرورت ہے۔ راستہ وہ اختیار کرنا چاہیے جس سے تعلیم بھی ہو اور زندگی بھی چلے، ترقی بھی ہو گھر بھی بسا رہے۔
(۵): اچھی تعلیم کی وجہ سے لڑکیوں کو روزگار کے مواقع نسبتاً آسانی سے مل جاتے ہیں۔جس کا بعض مقامات پر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ والدین ان لڑکیوں پر مالی انحصار کرنا شروع کردیتے ہیںاور دوسرا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ نوکریوں کے لحاظ سے ہم پلہ رشتے ملنا مشکل ہوجاتے ہیں۔ اس میں بھی ضرورت ہے کہ والدین اولاد کی آئندہ کی زندگی کو دیکھیں اور نوکریوں میں بھی مقصد صرف نوکری نہ ہو بلکہ گھر بسانا بھی ہو اور ہم اس سلسلے میں ہم پلہ رشتہ دیکھنے کے بجائے، دین و ایمان، کردار و کیرکٹر کو معیار قرار دیں۔
(۶): کچھ والدین کا اس معاملہ میں بالکل توجہ نہ دینا ہے۔لڑکیوں کی عمریں اٹھائیس تیس سال ہوجاتی ہیں لیکن انھیں کم عمر ہی تصور کیا جاتا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اٹھارہ بیس کی عمر میں مائیں رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہوجایا کرتی تھیں۔شادی وقت پر ہی مناسب ہوتی ہے۔ لڑکے لڑکی دونوں کے مستقبل کو بھی نگاہ میں رکھ کر اور ان کی جوانی کو تباہی و بربادی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ والدین توجہ دیں۔ وقت پر شادی کے لئے اقدام کریں تاکہ اولاد کی زندگی محفوظ رہ سکے اور آئندہ وہ سکون و آرام کی زندگی بسر کرسکے۔
(۷):جس لڑکی کی عمر تیس سال سے اوپر ہوجاتی ہے اس کے لئے عمر کے لحاظ سے رشتے مشکل ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر لڑکے والے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اس کے لئے دونوں طرف سے ضروری ہے کہ اپنی عمر کو بھی مد نظر رکھیں۔ اپنی عمر کے لحاظ سے رشتہ کریں۔ اور جب وقت پر شادی کریں گے تو رشتے بھی اچھے و مناسب ملیں گے۔
(۸):گھر والوں کے حد درجہ نخرے بھی کبھی رکاوٹ بنتے ہیں۔اول تو جلدی کوئی لڑکی، لڑکے کی ماں بہن کوبھاتی نہیں،ہزار طرح کے عیب نظر آتے ہیں۔ اور اگر کوئی لڑکی پسند آبھی جائے تو پھر فرمائشوں اور رسم و رواج کے نام پر لڑکی والوں کا مکمل استحصال کیا جاتا ہے۔ ادھر لڑکی والے بھی لڑکے میں ساری کامیابیاں ایک ساتھ ڈھوڈھتے ہیں؛ لڑکے کے گھر والے کتنے ہیں؟ لڑکا کرتا کیا ہے؟ سیلری کتنی ہے؟ پرائیویٹ جاب ہے یا سرکاری؟ ہائٹ کتنی ہے؟ تعلیم کتنی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ شائد یہ ساری چیزیں ٹھیک ہوں لیکن ان کی بنیاد پر شادی میں دیر ہورہی ہو، جوان کی زندگی متاثر ہورہی ہو، بہکنے کے احتمالات بڑھ رہے ہوں تو اولاد کی خاطر اس کی آئندہ زندگی کی خاطر اگر تمام مطلوبہ چیزوں میں کمی ہو تو اس کو بہانہ بناکر شادی میں دیر نہ کرنا چاہئے۔
(۹): ایک وجہ حد سے زیادہ آزادی ہے۔ جب دین و شریعت کو بالائے طاق رکھ کر بے پردگی، حرام تعلقات قائم کرنے، نامحرم سے دوستی کرنے کی آزادی دی جائے گی تواس کا لازمی نتیجہ یا تو شادی میں دشواری و رکاوٹ کی شکل میں سامنے آئے گا یا شادی کے سلسلے میں اختلاف نظر ہوگا۔ اولاد اپنے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے چاہے گی ماں باپ کہیں اور سے۔ 
اس آزادی کے نتیجے میں کبھی کبھی مزید افسوسناک صورت حال یہ آتی ہے کہ دین ومذہب کا بھی پاس و لحاظ نہیں رہ جاتا،خاندان کی ذلت و رسوائی کی فکر بھی نہیں ہوتی۔جوان غیر مومن و غیر مسلم کو زندگی کا ساتھی بناتے ہیں جس سے دنیا بھی برباد ہوتی اور آخرت بھی۔ لہذا ضروری ہے کہ اس بیجا آزادی پر بھی کنٹرول کیا جائے، ہر طرح کی دوستی پر نظر رکھی جائے، حجاب و پردہ کی رعایت کی جائے۔ تاکہ بعد میں کف افسوس ملنا نہ پڑے۔
(۱۰): ایک سبب یہ بھی ہے کہ سیریل و فلموں کے ذریعہ مصنوعی خوبصورتی اور عشق و معاشقہ پر مشتمل مواد دیکھ کر بعض جوان اسی طرح کا خیالی ساتھی چاہتے ہیں، فلموں و سیریلوں میں دیکھے ہیرو ہیروئن کو اپنا آئیڈیل بناکر ویسا ہی ساتھی تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ وہ یہ فراموش کردیتے ہیں کہ یہ خوبصورتی بناوٹی و مصنوعی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ اس وقتی و کچھ دیر کی خوبصورتی پر کتنا خرچ ہوتا ہے اس کا ہر ایک کو اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ ( البتہ یہی معاملہ بعض شادی شدہ افراد کا بھی ہوتا جس کی وجہ سے آپسی رشتے میں درار پڑ جاتی ہے)۔ لہذا خیالی پلاؤ کے بجائے حقیقت کو بھی نگاہوں میں رکھنا چاہیے اور پھر اپنی جانب بھی توجہ دینا چاہیے۔
(۱۱): بعض جگہ پر ممکن ہے ایک سبب ناکامی کا احساس اور اس حوالے سے دل میں خوف کا پایا جانا ہو۔ بہت ممکن ہے یہ صرف وہم و خیال ہی ہو لہذا اس طرح کے خیالات کو اہمیت نہ دینا چاہیے۔ ثانیاً اگر ایسا کوئی معاملہ ہو تو اس کا راہ حل علاج و معالجہ ہے۔ 
(۱۲): ایک سبب واقعی مناسب رشتہ نہ ملنا ، سماج میں اپنی عزت و آبرو بچانے کے لئے اتنی رقم نہ ہونا، ماں باپ کا راضی نہ ہونا، سامنے والوں کے معیار و شرائط پر پورا نہ اترنا وغیرہ وغیرہ بھی ہیں۔ اس کے لئے بلکہ ہر رکاوٹ کے لئے گذشتہ باتوں کے علاوہ سب سے اہم و ضروری خدا پر بھروسہ، اس کی بارگاہ میں دعا اور اہل بیت علیہم السلام سے توسل ہے۔ جب خدا نے شادی کے لئے کہا ہے تو وہی راستہ بھی نکالتا ہے، جب اہلبیتؑ نے شادی پر زور دیا ہے تو وہ خدا کی جانب سے ہمارے لئے اسباب بھی مہیا کرتے ہیں اور ہر طرح کی مشکلات اور رکاوٹوں کو دور بھی کرتے ہیںبشرطیکہ ان پر بھروسہ ہو اپنی جانب سے تلاش و کوشش کے ساتھ ان سے بھی کہیں۔ انشاءاللہ ساری رکاوٹیں دور ہونگی۔
اس کے علاوہ مزید وجوہات بھی ہیں۔وجوہات جو بھی ہوں لیکن یاد رہے کہ اس سے ہمارا معاشرتی نظام درہم برہم ہورہا ہے اورہماری نوجوان نسل بروقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا کی پھیلائی ہوئی بے حیائی کا بآسانی شکار ہورہی ہے۔اور جو محفوظ ہے وہ اپنے ساتھ ایک خاموش نفسیاتی جنگ کا شکار ہے۔
مغرب تو اس طرز سے اپنے آپ کوبرباد کرچکا اور ان کی آبادی اب ریورس گیئر میں چل رہی ہے لیکن ہم جانتے بوجھتے بخوشی خود اس گڑھے میں گر رہے ہیں ۔شائد ہم سب اس اجتماعی خرابی اور زوال کے ذمہ دار ہیں۔
دعا ہے کہ خداوند عالم ہم سب کو شادیوں کے سلسلے میں سنجیدہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے، اپنی فکر، اپنی سوچ اور اپنے رسم و رواج میں جکڑ کر اس مقدس عمل کو سخت بنانے سے محفوظ رکھے، وقت پر شادی کے لئے اقدام کرنے کی توفیق عنایت کرے، جو نوجوان شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ان کی شادی کے اسباب مہیا فرمائے، اس سلسلے میں ہر طرح کی رکاوٹوں کو دور فرمائے۔ آمین۔rrr

ولایت رکن توحید


ولایت رکن توحید
آیۃاللہ مصباح یزدی 
ترجمہ سید محمد حسنین باقری
حدیث سلسلۃالذھب :لاالہ الااللہ حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی۔لکن بشرطھا و شروطھا و انا من شروطھا(بحارالانوار، جلد۴۹،صفحہ ۱۲۱)
حدیث قدسی میں ارشاد پروردگار ہے: لاالہ اللہ میرا قلعہ ہے جو بھی میرے قلعہ میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔
امام علی رضا علیہ السلام نے اس حدیث کو اپنے آباء و اجداد طاہرین کے ذریعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا:لیکن چند شرطوں کے ساتھ اور میں ان میں سے ایک ہوں۔
ولایۃ علی بن ابی طالب حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی (عیون اخبار الرضا، جلد۲، صفحہ ۱۳۶)
حدیث قدسی میں قول خداوند عالم ہے:علی ابن ابی طالبؑ کی ولایت میرا قلعہ ہے جو بھی اس قلعہ میں داخل ہوا وہ عذاب سے محفوظ ہوگیا۔ 
دونوں میں کون سی نسبت ہے؟  خدا کا حصن (قلعہ)، توحید ہے یا ولایت علیؑ ؟ یا خدا کے دو حصن ہیں ایک توحید اور ایک ولایت؟
دونوں حدیثوں کو کیسے جمع کریں؟
پہلی حدیث کے تتمہ سے نتیجہ واضح ہے۔ بشروطھا و انا من شروطھا۔توحید حصن خدا ہے لیکن اس کی شرط ولایت ائمہؑ ہے۔
توحید کا قلعہ اسی وقت مضبوط و مستحکم ہوگا جب ولایت کے ساتھ ہو۔دوسری حدیث ذیل ہے پہلی حدیث کا۔ کس طرح؟
خلقت انسانی کا سبب و مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے خدا شناس و خدا پرست ہو اور اس سے نزدیک ہوجائے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (سورہ ذاریات، آیت۵۶)(اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے)۔ اور عبادت کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قرب خدا کا وسیلہ ہے۔
تمام انسانوں کا اصلی و نہائی ہدف قرب خدا ہے اور قرب خدا کا وسیلہ عبادت ہے، آخری ہدف یہ ہے کہ اُس مقام تک پہنچ جائے کہ جس کو پہلوئے خدا سے تعبیر کیا گیا ہے:  فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ (سورہ قمر، آیت۵۵)(اس پاکیزہ مقام پر جو صاحبِ اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے).
جیسا کہ فرعون کی زوجہ کی زبانی نقل ہوا :وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (سورہ تحریم، آیت ۱۱)۔(اور خدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے جنّت میں ایک گھر بنادے)
خدا نے نمونہ بنایا ان کی اس دعا میں۔ جو معرفت و ہمت پیدا کی اور خدا سے درخواست کی خدا کے قرب کی یعنی میرے لئے خدا کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔
انسانی خلقت کا ہدف خدا کی بندگی ہے۔ یعنی لاالہ الااللہ۔ اپنے ہدف تک پہنچنا یعنی عذاب سے محفوظ ہونا۔
جو چیز ہماری خلقت و پیدائش کا سبب ہے اگر ہم نے اسے انجام دیا گویا اپنے ہدف تک پہنچ گئے اور ہم نے حفاظت و مصونیت حاصل کرلی۔ جب ہدف خدا کی بندگی ہے تو اس ہدف تک پہنچنے کے بعد پھر کیا نقص باقی رہ جاتا ہے؟
اس ہدف تک پہنچنے سے انسان ایک حصن و قلعہ میں داخل ہوجاتا ہے۔
پس کلمہ توحید کا مطلب ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی بھی قابل پرستش نہیں ہے یعنی صرف او رصرف اسی کی پرستش ہونا چاہئیے۔ عمل میں ہمارا راستہ پرستش خدا ہونا چاہیئے۔یعنی ہم ’وما خلقت الجنّ و الانس الا لیعبدون‘ کا مصداق بن جائیںاس صورت میں پھر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب راستہ سے منحرف ہوجائے لیکن جب راستہ کو صحیح طے کرے اور مقصد تک پہنچ جائے پھر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لہذا کلمہ لاالہ الااللہ ایک ایسا قلعہ ہے جس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جو بھی اس قلعہ میں داخل ہوگیا وہ محفوظ ہے پھر تو شیاطین اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
توحید کا کلمہ، کلمۂ نجات، کلمۂ اخلاص و کلمۂ سعادت ہے۔ کیا اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ زبان سے لاالہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟۔ 
اگر صرف زبان سے کہنا کافی ہوتا تو بہت سے افراد اس قلعہ میں داخل ہوجاتے، تمام منافقین بھی لاالہ الا اللہ کہتے تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے، معاویہ جیسے افراد بھی یہ کلمہ کہتے تھے۔ اگر صرف کہنا کافی ہو تو مسئلہ بہت آسان ہے۔ اس صورت میں اس دنیا کو پیدا کرنا کہ ایک کلمہ سے جس کے تمام مسائل حل ہوجائیں ، پیدا کرنا عبث و بیکار ہوتا۔
واضح ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کلمہ کا محتوی اور اس کے لوازم عملی مراد ہیں۔ لازم ہے کہ ایسا عقیدہ ہو جو عمل میں مجسم ہو۔ لیکن کیسا عقیدہ منظور ہے؟
توحید یعنی ’’خالقیت‘‘ و ’’ربوبیت تکوینی‘‘ اور ’’ربوبیت تشریعی‘‘ میں توحید
توحید کے کئی مفہوم ہیںجیسے نوع کی جب تحلیل کریں تو اس سے جنس و فصل حاصل ہوتے ہیں۔ جنس و فصل کو نوع پر حمل کریں تو حمل اولی ذاتی ہے جیسا کہ خود مفہوم نوع کی تحلیل سے دو یا تین مفہوم حاصل ہوتے ہیںاسی طرح جب مفہوم توحید اور لاالہ الااللہ کو تحلیل کیا جائے تو اس سے چند مفاہیم حاصل ہوتے ہیں(یعنی اس کے اندر چند مفاہیم موجود ہیں)۔ پہلا مفہوم یہ حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں اس لئے الوہیت و پرستش اس کی شان ہے جو پیدا کرنے والا ہو۔ ثانیا بہت سے لوگ خالقیت کے تو قائل ہیں لیکن بت کو پوجتے ہیں ، مکہ کے بت پرست بھی خالقیت خدا کے قائل تھے جبکہ بتوں کو پوجتے تھے۔ کہتے تھے: مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ(سورہ زمر، آیت۳)( ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے).
دوسرا مسئلہ جو توحید کی تحلیل سے حاصل ہوتا ہے ، اللہ کی ربوبیت ہے یعنی خداوند عالم دنیا کو پیدا کرنے کے علاوہ اس کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اس کے ارادے پر کوئی حاکم نہیں ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے ارادے کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی، دنیا جہان کا صاحب اختیار وہ ہے۔ یہ نظریہ بعض یہودیوں کے غلط نظریہ کے برخلاف ہے ۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا نے پیدا کرکے چھوڑ دیا ہے۔ اب دنیا کی تدبیر و انتظام خدا کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ مفوّضہ نامی فرقہ کا بھی یہی عقیدہ تھا ؛ ان کا کہنا تھا کہ: خداوند عالم نے دنیا کا اختیار انسان کو تفویض (سپرد) کردیا ہے۔
پس دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہم ربوبیت میں توحید کے قائل ہوں۔ ربوبیت تکوینی یعنی خداوندعالم دنیا کو تکوینی طور پر چلارہا ہے۔ إِنَّ اللَّـهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ (سورہ آل عمران، آیت۳۷)(وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے) وَاللَّـهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ(سورہ آل عمران، آیت۱۵۶) ۔ اور دنیا کے تمام تربیتی اور مدیریتی امور خدا کے ہی ذریعہ ہیں دنیا میں ہر عمل کرنے والا خدا کے اذن سے عمل کرتا ہے۔
 ابلیس کے پاس بھی اس مرحلہ تک توحید تھی(یعنی اس حد تک وہ بھی موحد تھا) وہ خدا کی خالقیت کا بھی قائل تھا اور خدا کی ربوبیت کا بھی قائل تھا۔ ابلیس نے کہا: خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ(سورہ اعراف، آیت۱۲)۔(-تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے)۔ یعنی خدا کی خالقیت کو تسلیم کرتا تھا۔ اور کہا: قَالَ أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (سورہ اعراف، آیت۱۴)(اس نے کہا کہ پھر مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے)۔ یعنی خدا کی تکوینی ربوبیت کو بھی مانتا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ تو میرا ربّ ہے اور خدا سے مہلت مانگی اور مہلت دینا خدا ہی کا کام ہے یہ بھی مانتا تھا۔ اس نے کہا ’’تم مجھے مہلت دو‘‘ یعنی مانتا تھا کہ دنیا کی مدیریت و انتظام خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں تک ابلیس موحد تھا۔ توحید در خالقیت بھی رکھتا تھا اور توحید در ربوبیت کا بھی قائل تھا۔لہذا سوال اٹھتا ہے کہ ابلیس میں کہاں پر کمی تھی؟۔ کمی یہ تھی کہ وہ یہ نہیں مانتا تھا کہ جو بات بھی خدا کہے اس کی اطاعت و پیروی کرنا چاہئیے۔ اس نے کہا: میں انھیں باتوں کو مانوں گا جو میری سمجھ میں آئیں اور میری عقل وہاں تک پہنچ جائے لیکن تیرا کہنا ہے کہ جو مجھ سے کم تر ہے اس کو سجدہ کروں ’’قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ (سورہ اعراف، آیت۱۲) میں اس حکم کو نہیں مانوں گا۔ قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ (سورہ حجر، آیت۳۳)۔(اس نے کہا کہ میں ایسے بشر کو سجدہ نہیں کرسکتا جسے تو نے سیاہی مائل خشک مٹی سے پیدا کیا ہے)
ابلیس کی خطا و غلطی ربوبیت تشریعی میں تھی۔ ربوبیت تشریعی کا مطلب ہے کہ چونکہ خداوندعالم دنیا کا صاحب اختیار اور مالک ہے لہذا جو بھی حکم وہ دے اس کی اطاعت ضروری ہے اور جو قانون بھی وہ وضع کرے وہ معتبر ہے ۔ استقلالی طور پر کوئی دوسرا قانون وضع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کہتے تھے۔۔۔احی الموتی (سورہ آل عمران، آیت۴۹) اس کے آگے فرماتے : باذن اللہ (خدا کے اذن سے)۔ خدا وند عالم نے بھی فرمایا: وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي۔۔۔(سورہ مائدہ، آیت۱۱۰) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ذاتی طور پر با اختیار نہیں تھے۔ پیغمبر اکرمﷺ اور ائمہ معصومین علیہم السلام بھی جن احکام کا تشریعی طور پر ہم کو حکم دیتے ہیں وہ اس اعتبار سے کہ یہ حکم باذن اللہ ہے لہذا ہم پر ان کی اطاعت واجب ہے۔ یہ حضرات بغیر اذن خدا کے کوئی کام نہیں کرتے۔ اگر کوئی بغیر خدا کے اذن کے کوئی قانون وضع کرے اس کے لئے اعلان پروردگار ہے:  قُلْ آللَّـهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّـهِ تَفْتَرُونَ (سورہ یونس، آیت۵۹)(کیا خدا نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم خدا پر افترا کررہے ہو).
لہذا جب ہم ان سب کو قبول کریں تبھی موحّد ہیں۔ توحید کا مطلب یہ تمام مفاہیم ہیں ۔ خدا ایک ہے یعنی :
۔تنہا وہ خالق ہے۔
۔تنہا وہی رب تکوینی اور رب العالمین ہے۔ لاربّ سواہ (بحار الانوار،ج۴۷،ص۳۰۹)
۔ تنہا وہی ربّ تشریعی ہے یعنی قانون گزاری کا حق صرف اسی کو ہے۔
ولایت، ربوبیت تشریعی میں سے ہے
اگر ان مفاہیم اور ان باتوں کو ہم تسلیم کرتے ہیںتو یہ بھی معلوم رہنا چاہئیے کہ خداوند عالم کا ارادہ اس بات سے متعلق ہے کہ عالم اسلام میں قانون بیان کرنے والے اور قانون کا اجرا کرنے والے سب سے پہلے پیغمبر اکرم ﷺ ہیں اور اس کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام ہیں۔ اگر بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ : و من جحدکم کافر (من لایحضرہ الفقیہ، ج۲،ص۶۱۳) یہ یوں ہی نہیں کہا گیاہے۔ اگر کسی کے لئے ثابت ہوجائے کہ خدا نے کہا ہے ’’علیؑ کی اطاعت کرو‘‘ اس کے باوجود وہ کہے کہ ’’ نہیں میں نہیں کروں گا‘‘، تو یہ عمل عین عمل ابلیس ہے۔ ممکن ہے کسی کے لئے ثابت نہ ہوا ہو، یا نہ سمجھا ہو، یا سمجھ نہ سکا ہو ایسا شخص مستضعف ہے اور جس حد تک نہیں سمجھا یا سمجھ نہیں سکا تو وہ معذور ہے۔ لیکن جو سمجھ گیا اور جس نے خود پیغمبر ؐ سے سنا : من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘  اگر ایسا شخص انکار کرے تو وہ قلبا کافر ہے، اگرچہ ظاہرا مسلمان ہو۔ یعنی خدا کے حکم کو نہیں مان رہا ہے۔ جب معلوم ہوجائے سمجھ جائے کہ خدا نے ان کو معین کیا ہے پھر بھی انکار کرے تو فقہی اصطلاح میں کہتے ہیں کہ منافق ہے۔لیکن منافق کے معنی یہ ہیں کہ باطنی طور پر کافر ہے اور ظاہر میں مسلمان ہے؛ ظاہراً پاک ہے اس کے ساتھ شادی جائز ہے ، اس کا ذبیحہ حلال ہے۔ منافقین قلبی طور پر خدا کے حکم کو قبول نہیں کرتے اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ ’’ خدا نے بیجا کہا ، علی کو پیغمبر کا جانشین نہیں ہونا چاہئے، علی جوان تھے ان میں اس کام کی صلاحیت نہیں تھی‘‘۔
لہذا توحید اسی وقت مکمل ہوگی جب ’’توحید در خالقیت‘‘ ، ’’ربوبیت تکوینی‘‘ اور ’’ربوبیت تشریعی‘‘ سب ایک ساتھ جمع ہوجائیں اور انسان تینوں کا ایک ساتھ قائل ہوجائے، اس  لئے کہ باوجودیکہ ابلیس خدا کی خالقیت اور ربوبیت تکوینی کو مانتاتھا پھر بھی خداوند عالم نے فرمایا:’’ کان من الکافرین‘‘ (سورہ بقرہ، آیت۳۴) یہ نسبت اس لئے ہے کہ شیطان ربوبیت تشریعی کو نہیں مانتا تھا۔ ہم اگر توحید کو قبول کرتے ہوں اور کلمہ ’’لاالہ الااللہ‘‘ کو صحیح کہنا چاہیں تو ضروری ہے کہ خدا کو خالقیت میں وحدانیت ، ربوبیت تکوینی اور ربوبیت تشریعی میں بھی مانیں۔ خدا کی ربوبیت تشریعی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے احکام و دستورات کو بھی مانیں، اس لئے کہ خدا وند عالم کا قول ہے :’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ‘‘(سورہ نساء، آیت۵۹)(ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں).
لہذا اگر ہم ان افراد کے احکام و دستورات کو نہ مانیں تو ہم نے خدا کے احکام کو تسلیم نہیں کیا ہے؛ یعنی ہم نے خدا کی ربوبیت تشریعی کو قبول نہیں کیا ہے اور ایسی صورت میں توحید مکمل نہیں ہے۔ پس کلمہ لاالہ الااللہ‘‘ علی علیہ السلام کی ولایت کو بھی شامل ہوگا۔امام رضا علیہ السلام کا قول ’’انا من شروطھا‘‘ باہری شرط نہیں ہے باین معنی کہ ایک دفعہ کہیں ’’لاالہ الا اللہ‘‘ خدا کا قلعہ ہے پھر کہیں ایک اور چیز کا اس میں اضافہ ہو، بلکہ وہ خود اسی کلمہ کے اندر سے نکلے ۔ ولایت علی علیہ السلام کو تسلیم کرنا اس کے بعد ولایت امام رضا اور دیگر تمام ائمہ کی ولایت کو قبول کرنا خود توحید کے لوازم میں سے ہے۔اس لئے کہ خدا نے کہا ہے۔ اور اگر ان کو نہ مانیں اور قبول نہ کریں تو ربوبیت میں از جہت توحید کمی ہے یعنی توحید مکمل نہیں ہے۔ چونکہ خدا وند عالم اپنے بندوں کی بنسبت ربوبیت تشریعی رکھتا ہے اور وہ کوئی بھی قانون وضع کرے اس کو ماننا اور اس کی پیروی کرنا ضروری ہے لہذا ولایت کو نہ ماننے کا مطلب ہے ہم نے اس کی ربوبیت تشریعی کو نہیں مانا تو ہماری توحید بھی ناقص ہے مکمل نہیں ہوئی۔(ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں)
توحید کے کسی مرحلہ کا انکار توحید کا انکار ہے
ممکن ہے کوئی کہے کہ ابلیس کا مرتبہ بہت سے کفار سے بلند ہے اس لئے کہ کافر کہتے ہیں خدا ہی نہیں یعنی نہ تو توحید در خالقیت کو مانتے ہیں نہ توحید در ربوبیت تکوینی کو اور نہ توحید در ربوبیت تشریعی کو لیکن ابلیس تو توحید کے دو مرحلہ کو تو مانتا ہے گویا دو بٹا تین اس کے پاس توحید تھی لہذا کیسے رجیم ہوگیا اور تمام برے لوگ اس کی پیروی میں دوزخ میں جائیں گے اور وہ ان سب کا سردار ہے؟ دوزخیوں کا سردار تو ان کفار کو ہونا چاہئیے جو بالکل ہی خدا کو نہیں مانتے؟۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ تین مراحل و مراتب صورت میں تو تین ہیں لیکن تینوں کی حقیت ایک ہے۔ توحید یعنی تینوں مراحل ، اور موحد یعنی جو تینوں مراحل کو مانتا ہواگر کسی ایک مرحلہ کو نہ مانے تو اس نے ہرگز توحید کو نہیں مانا۔اگر کوئی کہے کہ میں مکمل اسلام کو تو مانتا ہوں لیکن نماز کو نہیں مانتا ؛ یہ مومن ہے یا کافر ؟ مسلمان وہی ہے جو اس مجموعہ کو مانتا ہو اگر ایک ذرہ بھی کم ہوجائے تو کوئی فائدہ نہیں۔ اگر کوئی بہترین کھانا تیار کرے ، بہت ہی معیاری ڈش پکائے اور اس میں تھوڑا سا زہر گرجائے تو کیا ہوگا؟ یہ بہترین ڈش ، بہت ہی اچھا کھانا اگر اس میں تھوڑا سا زہر پڑ جائے تو پورا کھانا خراب ہوجائے گا۔ لہذا اگرمجموعہ سالم ہو توحید کے تینوں مراحل کو مانے تب ہی موحد ہوگا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ شیطان خالقیت کو تسلیم کرتا تھا لہذا بہت سوں سے بہتر ہے۔ایسا کیوں ہے؟ کتنے ہی افراد ایسے ہیں جو وجود خدا ہی کے منکر ہیں یا نبوت ہی کو نہیں مانتے ، کچھ بھی تسلیم نہیں کرتے کیوں ایسے افراد شیطان کے برابر یا شیطان سے بہتر ہوں؟ جواب یہ ہے کہ شیطان ایسے رکن کا منکر ہوا جو اعتقادات کی بنیاد ہی کو ختم کردیتا ہے، اس انکار سے یہ مجموعہ ہی ختم ہوگیا اور خراب ہوگیا۔ ایسی صورت میں انکار جتنا شدید تر و سخت ہوگا اتنا ہی کفر کا مرتبہ بھی بلند ہے۔ شیطان اتنا عناد و دشمنی رکھتا ہے کہ خدا کے مقابل کھڑا ہوکر کہتا ہے : قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ(سورہ ص، آیت۸۲)(اس نے کہا تو پھر تیری عزّت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا) اس طرح کی دشمنی سے کفر کا مرتبہ بھی آگے بڑھے گا۔
یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت ولایت توحید کے اندر ہی ہے، توحید میں داخل ہے اس لئے کہ توحید منحل ہوتی ہے توحید در خالقیت، ربوبیت تکوینی اور ربوبیت تشریعی میں(یعنی توحید کے اندر یہ تینوں داخل ہیں)۔ اور ولایت، ربوبیت تشریعی میں سے ہے یعنی خدا کہتا ہے لازم ہے کہ حاکم کو میں ہی معین کروں، قانون کو میں ہی وضع کروں اور اگر اس میں کوئی دخل دے تو یہ شرک ہے۔
آج جامع الشرائط فقیہ و مجتہد کی ولایت  حصن الٰہی ہے
یہاںتک کی ہماری گفتگو سے یہ ثابت ہوا کہ ائمہ علیہم السلام کی ولایت توحید ہی میں شامل ہے اب ہم چاہتے ہیں کہ ایک قدم اور آگے بڑھائیں۔
حدیث مقبولۂ عمر ابن حنظلہ کو سبھی نے سنا ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ سوال ہوا کہ جب حکومتی امور میں ہماری رسائی آپ تک نہ ہو تو کیا کریں؟ اگر میراث کے مسئلہ یا کسی اور مسئلہ میں اختلاف پیش آجائے اور قاضی کے فیصلہ کی ضرورت ہو اور آپ تک رسائی نہ ہو تو کیا کریں؟ امام نے فرمایا: جامع الشرائط فقہا کی طرف رجوع کروپھر فرمایا: ۔۔۔فانّی قد جعلتہ علیکم حاکما فاذا حکم بحکم و لم یقبلہ منہ فانما بحکم اللہ استخف و علینا ردّ و الراد علینا کافر رادّ علی اللہ و ھو علی حد من الشرک باللہ۔۔۔‘‘ (بحارالانوار، ج۲،ص۲۲۱) امام کے اس کلام کا مطلب کیا ہے؟یہ جو امام نے فرمایا کہ جامع الشرائط فقیہ کے حکم کو رد کرنا شرک کا حکم رکھتا ہے ، اس کا مطلب کیا ہے؟ جو شخص جامع الشرائط فقیہ کو رد و انکار کرتا ہے وہ یہ نہیں کہتا ہے کہ دو خدا ہیں بلکہ کہتا ہے کہ : میں اس فقیہ کے حکم کو نہیں مانتا ہوں ۔ یہ فقیہ نہ خدا ہے نہ پیغمبر ہے نہ امام معصوم ہے۔ بلکہ ایک فقیہ ہے۔ کیوں اس کے حکم کا انکار شرک کا باعث ہے؟ 
اگر میرا سابق کا بیان آپ کے ذہن مبارک میں ہو اور اس کی تھوڑی تحلیل کیجئے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ مطلب بھی اسی سے حاصل ہورہا ہے؛ اس لئے کہ جب امام معصوم علیہ السلام کی اطاعت واجب ہے اور انھوں نے فرمایا : کہ میں نے فلاں کو اپنا وکیل یا حاکم یا نائب بنایا ہے اور لازم ہے کہ اس کی اطاعت کرو ، اس کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟ جب امیرالمومنین علیہ السلام ایک شخص مثلا مالک اشتر کو معین کریں اور فرمائیں: میں نے ان کو عامل قرار دیا ان کی اطاعت تم پر لازم ہے، تو کیا کرنا چاہئے؟ ایسی صورت میں مالک اشتر کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ امام معصوم کی اطاعت ہے۔ کیوں امام معصوم کی اطاعت ہے؟اس لئے کہ خدا کی اطاعت ہے۔ یہ حکم ، خدا کی تشریعی ربوبیت کا مصداق ہے۔ اور جب امام فرمائیں: بعد کے مرحلہ میں تمہارا حاکم (مجتہد و )ولی فقیہ ہے ۔ تو اس کی اطاعت بھی خدا کی تشریعی ربوبیت کا مصداق ہوگی۔ ایسی صورت میں یہ مطلب واضح ہوجائے گا کہ اس کے حکم کا انکار خدا کے شرک کے جیسا ہے، ھو علی حد من الشرک باللہ۔
ابلیس کیوں ایک الہی قانون کو انکار کرنے اور حضرت آدم کا سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے مشرک ہوگیا؟شیطان تشریع الہی کا انکار کرنے کی وجہ سے مشرک ہوگیا۔امام معصوم کی رد اور ان کا انکار بھی شرک کا سبب ہوتا ہے۔ البتہ یہ شرک باطنی شرک ہے۔ یہ ایسا شرک نہیں ہے جو گردن زدنی کا سبب ہو بلکہ یہ شرک ایمان کے مقابلے میں ہے۔ یہ اس شرک کے علاوہ ہے جو اسلام کے مقابلے میں ہے۔ یہ باطنی کفر و شرک ہے اس کے ظاہری احکام محفوظ ہیں یعنی پاک ہے، اس کا ذبیحہ حلال ہے اور اس کے ساتھ شادی کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ صدر اسلام کے منافقین اسی طرح تھے۔ ظاہری شرک اسلام کے مقابلے میں ہے اور باطنی شرک ایمان کے مقابلے میں۔ ھو علی حد من الشرک باللہ۔ یعنی جب میں یہ کہوں کہ : تم محمد ابن مسلم کی طرف رجوع کرو جو وہ کہیں اطاعت کرو۔ اگر اطاعت نہ کی اور میری بات کا نکار کیا تو گویا خدا کی بات کا انکار کیا ہے اور یہ شرک تشریعی ہے۔ اگر خلیفہ اموی یا خلیفہ عباسی کے معین کئے ہوئے قاضی کی اطاعت کی گویا اس کے حکم کو خدا کے حکم کے ساتھ شریک قرار دیا ہے۔ پس مشرک ہوگئے۔ اس رخ سے جب توحید کی تحلیل کریں اور اس کے مراتب و مراحل کو سامنے رکھیں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ توحید ، امیرالمومنینؑ کی ولایت کو، امام رضاؑ کی ولایت کو اور تمام ائمہؑ کی ولایت کو بھی شامل ہے اور اس کے بعد کے مرحلے میں فقیہ کی ولایت کو بھی اپنے اندرسمیٹے ہوئے ہے۔لہذا اگر کوئی کہے کہ آج فقیہ (و مجتہد جامع الشرائط) کی ولایت خدا کا قلعہ ہے اور من دخلہ امن من عذاب اللہ؛ تو اس نے کوئی غلط بات نہیں کہی ہے۔ اُسی دلیل کی بنیاد پر کہ لاالہ الااللہ خدا کا قلعہ ہے ۔اُسی دلیل کی بنیاد پر کہ ولایت علی ابن ابی طالب خدا کا قلعہ ہے، اور اُسی دلیل کی بنیاد پر کہ امام رضا کی ولایت توحید کی شرطوں میں سے ہے؛ اُسی دلیل کی بنیاد پر فقیہ کی ولایت بھی جو امام زمانہؑ کی مرضی ہے ، حصن الٰہی کا جزء ہے۔(ماہنامہ اصلاح، لکھنؤ)
٭…٭…٭

دعائے ابو حمزہ ثمالی


(عظیم الشان دعائے سحر)
دعائے ابوحمزہ ثمالی ؒ 
سید محمد حسنین باقری،لکھنؤ
 رمضان المبارک میں سحر کے وقت پڑھی جانے والی بلند معنی و مفہوم سے لبریز عظیم الشان دعا امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا ہے چونکہ یہ دعا ابو حمزۂ ثمالی کے ذریعہ بیان ہوئی ہے اس لئے ’’دعائے ابو حمزۂ ثمالی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔(آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ إلی تصانیف الشیعہ، ج 8، ص 186، قم، اسماعیلیان، 1408ق.)۔
محدث شیخ عباس قمی ؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’مفاتیح الجنان‘‘ میں نقل کیا ہے کہ: ’’مصباح شیخؒ میں ابوحمزہؒ کی روایت ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام ماہ رمضان میں رات کے بیشتر حصہ میں نمازیں ادا فرماتے تھے اور جب وقتِ سحر ہوجاتا تھا تو یہ پڑھتے تھے۔
یہ دعا آل محمد ؑ کے ذریعہ عظمت پروردگار کو بھی بیان کررہی ہے نیز بہت ہی اہم اور ضروری و مفید مطالب پر مشتمل ہے اگر ایک طرف اس میں دعا کا سلیقہ اور طریقہ اور عبد و معبود کے درمیان رابطہ کو بتایا گیا ہے تو دوسری طرف ہمارے لئے بہت سی ضروری و مفید باتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ’’دعا معصوم نے غیر معصوموں کوتعلیم دی ہے لہٰذا اس میں معبود کےمقابل بندہ کے کمال تذلل کا مظاہرہ ہے ۔معصومین علیہم السلام کی تعلیم کردہ بعض دعاؤں کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ تعلیم کرنے والے تو معصومینؑ ہوتے ہیں لیکن در اصل ان دعاؤں میں ترجمانی غیر معصوموں کی جانب سے ہوتی ہے‘‘۔(ماہنامہ اصلاح ’امام سجادؑ نمبر‘)۔
یقینا یہ دعائیں عظمت و حقانیت اہلبیتؑ کی دلیل بھی ہیں اوردنیا کےلئے صحیح اسلام کی ترجمانی بھی کرتی ہیں۔
 لہذا کوشش ہونا چاہیے کہ اس مبارک مہینہ و قبولیت دعا کے مہینے میں اس اہم دعا سے بھی غافل نہ رہیں ۔ تلاوت و قرائت دعا کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ ضرور دیکھیں۔خدا سے دعا ہے ہم سب کو اس مہینہ میں تعلیمات آل محمدؐ پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ قارئین کے استفادہ کے لئے اس دعا کے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں: 
اس دعا کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:
إلھِی لاَ تُؤَدِّبْنِی بِعُقُوبَتِکَ، وَلاَ تَمْکُرْ بِی فِی حِیلَتِکَ، مِنْ ٲَیْنَ لِیَ الْخَیْرُ یَارَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِیارَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِی ٲَحْسَنَ اسْتَغْنی عَنْ عَوْ نِکَ وَرَحْمَتِکَ، وَلاَ الَّذِی ٲَسائَ وَاجْتَرَٲَ عَلَیْکَ وَلَمْ یُرْضِکَ خَرَجَ عَنْ قُدْرَتِکَ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پروردگار !مجھے اپنے عذاب میں گرفتار نہ کرنا، اور مجھے اپنی قدرت کے ساتھ نہ آزمانا، مجھے کہاں سے بھلائی حاصل ہوسکتی ہے اے پالنے والے جب کہ وہ تیرے سوا کہیں موجود نہیں۔ مجھے کیسے نجات مل سکے گی جبکہ اس پر تیرے سوا کسی کو قدرت نہیں، نہ ہی کوئی نیکی کرنے میں تیری مدد اور رحمت سے بے نیاز ہے اور نہ ہی کوئی برائی کرنے والا تیرے سامنے جرأت کرنیوالا اور تیری رضا جوئی نہ کرنیوالاتیرے قابو سے باہر ہے اے پالنے والے اے پروردگار والے اے معبود۔
ہم نے تجھے تیرے ہی ذریعہ سے پہچانا ہے اور تونے ہی ہماری رہبری کی ہے ورنہ تو نہ ہوتا تو ہم کیا جانتے کہ تو کون ہے۔ تعریف ہے بس اس خدا کی جس کو پکارتاہوں تو سن لیتا ہے۔ اگر چہ میں اس کے بلانے پر دیر کرتا ہوں اور تعریف ہے اس خدا کی جس سے عرض حاجت کرتا ہوں اور بلا سفارش راز دل کہتا ہوں تو حاجت روائی کردیتا ہے۔ اگر چہ میں اس کا اہل نہیںہوں۔ 
 میں اس کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتا کہ سب رد کردیتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے آس نہیں لگاتا کہ سب مایوس کردینے والےہیں۔ 
شکر ہے کہ اس نے اپنے حوالے رکھ کر عزت دی ہے ورنہ لوگوں کے حوالے کردیتا تو لوگ ذلیل کردیتے۔ وہ بے نیاز ہو کر بھی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم کو یوں برداشت کرتا ہے جیسے ہم نےکوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ وہ سب سے زیادہ قابل تعریف اور لائق شکر ہے۔ ۔۔۔
پروردگار!تیرا ہی فرمان ہے اور تو ہی صادق الوعد ہے اور تیرا ہی یہ قول برحق ہے کہ ’’فضل خدا کا سوال کرو ، وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے ‘‘۔ اور معبود یہ تیری صفت نہیں کہ سوال کا حکم دے اور پھر عطا نہ کرے جب کہ تو تمام اہل مملکت کو بار بار بلا طلب عطا کرنےوالا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 پروردگار! میری اس دعامیں خوف بھی ہے اور رغبت بھی گناہوں کو دیکھتاہوں تو ڈر جاتا ہوں اور کرم کو دیکھتا ہوں تو پر امید ہوجاتا ہوں۔ 
 معبود ، تو معاف کردے گا تو بہترین رحم کرنےوالا ہے اور عذاب کرے گا تو ظالم نہیںہے بلکہ انصاف کرنےوالا ہے۔ 
میں اپنے برے اعمال کے باوجود تیرے جو د و کرم کے واسطے سے مانگنے کی جرأت کررہا ہوں اور میری بے حیائی کے باوجود میرا سہارا تیری رحمت اور تیری مہربانی ہے۔ ۔۔۔
پروردگار! میں تیرے فضل و کرم کی پناہ لینے کے لئے تیری طرف بھاگ کر آیا ہوں ۔ اب تو اس حسن ظن کی لاج رکھ لے اور اپنے وعدہ ٔمغفرت کو پورا کردے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 
پروردگار ! اپنی پردہ پوشی سے مجھے عزت دے اور اپنے کرم سے میری تنبیہ کو نظر انداز فرما دے کہ تیرے علاوہ کسی اور کو ان گناہوں کا علم ہوتا تو میں کبھی گناہ نہ کرتا اور تیرے عذاب میں بھی عجلت کا خیال ہوتا تو میں گناہوں سے پرہیز کرتا۔ نہ اس لئے کہ تیری ہستی معمولی اور تیری ذات ناقابل توجہ ہے ( معاذ اللہ ) بلکہ اس لئے کہ تو بہترین پردہ پوش ، کریم، مہربان ، عیوب کا چھپانے والا، گناہوں کا بخشنے والا اور غیب کا جاننے والا ہے۔ تو اپنے کرم سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اپنے حلم سے عذاب کو ٹال دیتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
 اے محسن و منعم ! میرا اعتماد نجات کے بارےمیںاپنے اعمال پر نہیںہے بلکہ تیرے فضل و کرم پرہے۔ تو اہل تقویٰ اور اہل مغفرت ہے، بلا مانگے نعمتیں عطا کرتا ہے اور گناہ بھی بخش دیتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتاکہ میں کس کس چیز کا شکریہ ادا کروں ۔ نیکیوں کےمشہور کردینے کا یا برائیوں پر پردہ ڈال دینے کا ؟ بہترین عطیوں کا یا مصیبتوں سے نجات دلانےکا؟ اے محبت کرنےوالوں کے دوست اورپناہ گزینوں کی خنکی چشم۔ تو ہمارا محسن ہے اور ہم تیرے گناہ گار ۔ اب ہماری برائیوں کو اپنے رحم و کرم کے ذریعہ در گزر فرما۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار ! جب بھی یہ کہتا ہوں کہ اب میں آمادہ ہوگیا اور تیار ہوکر نماز کےلئے کھڑا ہوگیا اور تجھ سے مناجات شروع کردی تو مجھے نماز میں نیند آنے لگتی ہے اور مناجات میں بےکیفی محسوس ہونےلگتی ہے اور جب بھی یہ سوچتا ہوںکہ اب میرا باطن درست ہوگیا ہے اور میری منزل توابین سے قریب تر ہوگئی ہے تو کوئی نہ کوئی مصیبت آڑے آجاتی ہے اور میرے قدموں میں لغزش پیدا کردیتی ہے اور تیری خدمت کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے۔ 
 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تونے مجھے اپنے دروازے سے ہٹادیا ہے اور اپنی خدمت سے  دور کردیا ہے یا اپنے حق کا خیال نہ کرنےوالا دیکھ کر دربار سے الگ کردیا ہے یا اپنی جانب سے کنارہ کش پاکر مجھے چھوڑ دیا ہے یا جھوٹوں کی صف میں دیکھ کر نظر اندازکردیا ہے یا نعمتوں کا شکر گذار نہ پاکر محروم کردیا ہے۔ یا مجلس علماء سے الگ دیکھ کر ترک کردیا ہے یا غافلوں میںدیکھ کر رحمتوں سے مایوس کردیا ہے یا اہل باطل کا ہم نشیں پاکر انہیں کے حوالےکردیا ہے یا میری آواز کوناگوار قرار دے کر اپنی بارگاہ سے دور کردیا ہے یا میرے جرائم و معاصی کا بدلہ دے دیا ہے، یا میری بے حیائی کی سزا دی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار! میں وہی بچہ ہوں جسے تونے پالا ہے۔ میں وہی جاہل ہوں جسے تونے علم دیا ہے۔ میںوہی گمراہ ہوں جسے تونے ہدایت دی ہے۔ میں وہی پست ہوں جسے تونے بلند کیا ہے۔ میں وہی پیاسا ہوں جسے تونے سیراب کیا ہے۔ میںوہی برہنہ ہوں جسے تونے لباس پہنایا ہے۔ میں وہی فقیر ہوں جسے تونے غنی بنایا ہے۔ میں وہی ضعیف ہوں جسے تونے قوت دی ہے۔ میں وہی ذلیل ہوں جسے تونے عزت دی ہے۔ میں وہی مریض ہوں جسے تونے شفا دی ہے۔ میں وہی سائل ہوں جسے تونےعطا کیاہے۔ میں وہی گنہ گار ہوں جس کی تونے پردہ پوشی کی ہے۔ میں وہی خطاکار ہوں جسے تونے سنبھالا ہے ۔ میں وہی نادار ہوں جسے تونے بکثرت عطا کیا ہے۔ میں وہی کمزور ہوں جس کی تونے مدد کی ہے اور میں وہی نکالا ہوا ہوں جسے تونے پناہ دی ہے ۔میں وہی ہوں جس نے تنہائی میں تجھ سے حیا نہیں کی اور مجمع میں تیرا خیال نہیں کیا میرے مصائب عظیم ہیں۔ میں نے اپنےمولا کی شان میںگستاخی کی ہے۔ میں نے آسمان و زمین کے خدائے جبار کی مخالفت کی ہے۔ میں نے گناہ کےلئے رشوت دی ہے۔ میں نے نگاہ کے نام پر تیزی سے سبقت کی ہے۔ 
 میں وہی ہوں جسے تونے مہلت دی ہے تو میں سنبھلا نہیں۔ پردہ پوشی کی ہے تو میں نے حیا نہیں کی ۔ گناہ کئے ہیں تو بڑھتا ہی چلا گیا ، اور تونے نظروں سے گرادیا تو کوئی پرواہ نہیں کی ۔ پھر بھی تونے اپنے حلم سے مہلت دی اور اپنے پردہ سے عیب پوشی کی جیسے کہ تجھے خبر ہی نہیںہے کہ میں کیا ہوں اور مجھے گناہوں کےعذاب سے اس طرح بچایا ہے جیسے کہ تجھے خود شرم آگئی ہے۔ پروردگار ! میں نے جب بھی گناہ کیا ہے۔ تو میں تیری خدائی کا منکر یا تیرے حکم کا معمولی سمجھنےو الا یاتیرے عذاب کےلئے آمادہ یا تیرے وعدہ عتاب کی توہین کرنےوالا نہیں تھا۔ بلکہ صورت حال صرف یہ تھی کہ گناہ سامنےآیا اور نفس نے اسے آراستہ کردیا ۔ خواہشات نے غلبہ پالیا اوربدبختی نے ساتھ دے دیا ۔ تیری عیب پوشی نے سہارا دے دیا اور میں گناہ کر بیٹھا۔  اب توہی بتا کہ میں گناہ کر بیٹھا تو تیرے عذاب سے کون بچاسکتا ہے ؟ اور کل کون چھٹکارا دلاسکتاہےاور اگر تونے نا امید کردیا تو کس سے امید وابستہ کروں گا؟۔ میرےسارے اعمال تیرے نامہ اعمال میں محفوظ ہیں اور اگر تیرے کرم و وسعت رحمت کی امید نہ ہوتی تو میں انہیں یاد کرکے مایوس ہوچکا ہوتا لیکن تو سننے والا اور امیدوں کا بر لانے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
 میرے مالک! بندہ مالک کو چھوڑ کر کدھر جائے اور مخلوق خالق کےماسوا کس کی پناہ لے ۔ پروردگار! تو زنجیروں میں جکڑ بھی دےگا اور مجمع عام میں عطا سے انکار بھی کردے گا اور لوگوں کو ہمارے عیوب سے آگاہ بھی کردے گا اور ہمیں جہنم کا حکم بھی دے دے گا اور اپنے نیک بندوں سے الگ بھی کردے گا تو بھی میں تجھ سے امید کو منقطع نہیںکروں گا اورتیری معافی سے آس نہ توڑوں گا اور تیری محبت کو دل سے نہ نکالوں گا اس لئے کہ میںتیری نعمتوں اور پردہ پوشی کو فراموش نہیں کرسکتا۔پروردگار! میرے دل سےمحبت دنیا کو نکال دے اور مجھے اپنے منتخب بندے حضرت خاتم النبیینؐ کے ساتھ قرار دے۔ مجھے منزل توبہ تک پہنچا دے اور توفیق دے کہ میں اپنے نفس کے حالات پر گریہ کر سکوں۔ میں نے اپنی عمر کو خواہشات اور بے جا امیدوں میں برباد کردیا ہے اور اب نیکیوں سےمایوس لوگوں کی منزل میںآگیا ہوں کہ اگر اس عالم میں دنیا سے چلا گیا اور اس قبر میں پہنچ گیا جسے اپنے آرام کےلئے ہموار نہیں کیا اور اس میں عمل صالح کا فرش نہیں بچھا یا تو مجھ سے بدتر حالت والاکون ہوگا۔  میں کیسے نہ روؤں جب کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرا انجام کیاہوگا۔ مجھے نفس برابر دھوکہ دے رہا ہے اور روزگار برا بر مبتلائے فریب کئے ہوئے ہے۔ موت کے پر میرے بالائے سر جنبش کررہےہیں۔ میں کیسے نہ روؤں ؟ میں جاں کنی کا تصور کرکے رو رہا ہوں میں قبر کی تاریکی اور لحد کی تنگی کےلئے رو رہا ہوں۔ میں منکر و نکیر کے سوال کےلئے رو رہا ہوں میں اپنی قبر سے برہنہ ، ذلیل اور گناہوںکابوجھ لاد کے نکلنےکے تصور سے رو رہا ہوں۔ جب داہنے بائیں دیکھوں گا اور کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا۔ سب اپنے اپنے حال میںپریشان ہوں گے ۔ کچھ نیک بندے ہوں گے جن کے چہرے روشن اورہشاش بشاش ہوں گے تو ( انہیں میری کیا پرواہ) اور کچھ چہرے خود ہی ذلیل اور گر دآلود ہوں گے ( تووہ کیاکریں گے)۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار! اگر موت قریب آگئی اور اعمال نے تجھ سے قریب نہیں کیا ہے تو اب گناہوں کے اعتراف کو وسیلہ قرار دیتا ہوں کہ تو اگر معاف کردے گا تو تجھ سے زیادہ منصفانہ فیصلہ کرنے والا کون ہے اس دنیا میں میری غربت اور وقت موت میرےکرب قبر میں میری تنہائی اورلحد میں میری وحشت اور وقت حساب میری ذلت پر رحم کرنا اور میرے ان تمام گناہوں کو معاف کردینا جن کی لوگوں کو اطلاع بھی نہیں ہے اورپھر اس پردہ داری کو بر قرار رکھنا۔ 
 پروردگار! اُس وقت میرے حال پر رحم کرنا جب میںبستر مرگ پر ہوں اور احباب کروٹیں بدلوا رہےہوں۔ اس وقت رحم کرنا جب میں تختۂ غسل پر ہوںاور ہمسایہ کے نیک افراد غسل دے رہےہوں۔ اُس وقت کرم کرنا جب تابوت میں اقرباء کےکاندھوں پر سوار ہوں۔ اس وقت مہربانی کرنا جب تنہا قبر میںوارد ہوں اور پھر اس نئے گھرمیںمیری غربت پررحم کرنا تاکہ تیرے علاوہ کسی سے مانوس نہ ہوں۔ 
میرے مالک! تو اگر مجھے میرے حوالےکردے گا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا  اور تو سنبھالا نہ دے گا تو میں کس سے فریاد کروںگا۔ تیری عنایت شامل حال نہ ہوگی تو میں کس کےسامنے درد دل کا اظہار کروں گا اور تو مشکلات میںسکون نہ دے گا تو میں کس سے پناہ مانگوں گا۔ پروردگار! تو رحم نہ کرے گا تو میرا دوسرا کون ہے۔ اور تیرا فضل نہ ہوگا تو میں کس سے امید رکھوں گا ۔ وقت نکل جانے پرگناہ سے بھاگ کر کس کی طرف جاؤں گا۔ پروردگار ! میں تیرا امید وار کرم ہوں ۔مجھ پرعذاب نہ کرنا۔ میری امیدوںکو پورا کرنا ۔میرے خو ف کو تمام کردینا کہ اتنے گناہوں میںتیری مغفرت کے علاوہ کسی کی امید نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
 خدایا ! پروردگار ! تیری عزت و جلال کی قسم کہ اگر تونےمجھ سے میرے گناہوں کامحاسبہ کیا تو میں تجھ سے تیری معافی کا مطالبہ کروںگا۔ اور اگر تونے مجھ سے میری ذلت کے بارےمیں پوچھا تو میں تجھ سے تیرے کرم کے بارےمیںسوال کروںگا اور اگر تونے مجھے جہنم میںڈال دیا تو میں سب کو بتادوںگا کہ میں تیرا چاہنے والا تھا۔  پروردگار! اگر تو صرف اولیاء کرام اور اہل اطاعت ہی کو بخشےگا تو گناہگار کدھر جائیںگےا ور اگر صرف اہل وفا ہی پر نگاہ کرم کرے گا تو بد عمل کس سے فریاد کریںگے۔ پروردگار! تجھے معلوم ہے کہ اگر تو مجھے جہنم میں ڈال دے گا تو تیرے دشمن خوش ہوں گے اور جنت عطا کردے گا تو تیرا رسولؐ خوش ہوگا اورظاہر ہے کہ تو اپنے رسولؐ کی خوشی کو دشمن کی خوشی پر مقدم رکھے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار! میں اپنے نفس، دین ، مال اور تمام نعتوں کےبارےمیں شیطان رجیم سے پناہ مانگتا ہوں۔ توبہترین سننےوالا اور جاننے والا ہے۔  معبود! تیرے غضب سےپناہ دینے والا کوئی نہیں ہے اور تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے۔لہٰذا مجھے عذاب میںمبتلا نہ کرنا ، ہلاکت میں واپس نہ کردینا اور عذاب الیم میں پلٹا نہ دینا۔ پروردگار! میرے اعمال کو قبول فرما۔میرے ذکر کو بلند فرما۔میرے درجات کو اعلیٰ قرار دے۔ میرے بوجھ کو ختم کردے۔ میری خطاؤں کو نظر انداز کردے۔ میری منزل ، میری گفتگو ،میری دعا سب کا ثواب جنت اور اپنی رضا کو قرار دیدے۔ میرے تمام مطالب کو پورا فرما اور مجھے اپنے فضل و کرم سےمزید عطا فرما کہ میںتیری ہی طرف متوجہ ہوں۔ 
 پروردگار! تونے اپنی کتاب میں ہم سے فرمایا ہے کہ ہم اپنے ظالموں کو معاف کردیں تو ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے تو اسے معاف کردے اس لئے کہ تو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہے اور تونے حکم دیا ہےکہ ہم اپنے دروازے سے سائل کو واپس نہ کریں تو ہم تیرے دروازے پر آئے ہیں۔ اب ہمیں بھی بغیر حاجتوں کو پورا کئے ہوئے واپس نہ کرنا۔ تونے حکم دیا ہے کہ ہم اپنے غلاموں سےنیک برتاؤ کریں ہم بھی تو تیرے بندے ہیں ۔ اب تو بھی ہمیں جہنم سے آزاد کردے۔ 
اے رنج و غم کی پناہ گاہ اور سختیوں کے فریاد رس! ہم تیری بارگاہ اور تیری پناہ میں حاضر ہوئے ہیں۔ تیرے علاوہ کسی کی پناہ درکار نہیںہے اور نہ کسی سے کشائش احوال کی التماس ہے۔ تو فریاد رسی کر۔ رنج و غم کو دور فرما، کہ تو اسیروںکا رہا کرنےوالا اور کثیر گناہوں کا معاف کرنے والا ہے ۔ میرے مختصر اعمال کو قبول فرما اور میرے کثیر گناہوں کو بخش دے ۔ تو بہترین مہربان اور بخشنےوالا ہے۔
 پروردگار! میں تجھ سے وہ ایمان مانگتا ہوں جو دل میں پیوست ہوجائے۔ اور اس یقین صادق کا طلب گار ہوںجس کے بعد یہ اطمینان رہے کہ جو میرے حق میں لکھ دیاگیا ہے وہ ضرور پہنچے گا۔ اب اپنی تقسیم سےمیری زندگانی کو خوش حال بنادے کہ تو ارحم الراحمین ہے۔
ابو حمزہ ثمالی کی شخصیت :
یہ دعا چونکہ امام زین العابدین علیہ السلام نے ابوحمزہ ثمالی کو تعلیم فرمائی تھی اس لئے آج یہ ’’دعائے ابوحمزہ ثمالی‘‘ ہی کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں پر مناسب ہے کہ اس عظیم الشان شخصیت کے بارے میں بھی ہمیں معلوم ہو: یہ عظیم عالم، متقی و پرہیزگار، آداب اہلبیتؑ سے آراستہ اور ان کے علوم و معارف کے حامل، کوفہ کے باشندےنام ثابت بن ابی صفیہ تھا ، ’ابو حمزہ ثمالی‘ کے نام سے مشہور تھے ۔[ثابت کے والد] ابی صفیہ کا نام دینار ہے اور وہی ابو حمزہ ثمالی ہیں(نجاشی، احمد بن علی، فہرست أسماء مصنفی الشیعہ(رجال نجاشی)، ص 115، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع ششم، 1365ش)۔قبیلہ ثمالی کی طرف منسوب ہیں جو بنی ازد کی ایک شاخ ہے اس قبیلہ کو ثُمالہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ثمالہ کے معنی بقیہ یا باقی چیز کے ہیں اور اس قبیلہ نے ایک جنگ میں شرکت کی جسمیں پورا قبیلہ کام آگیا صرف چند افراد باقی رہ گئے جنھیں ثُمالہ کہا جاتا تھا(نقوش عصمت، ص ۲۹۵)۔
ابو حمزہ ثمالی،امام زین العابدین علیہ السلام کے خاص صحابی تھے اور آپ سے خصوصی انس رکھتے تھے اس کے علاوہ امام محمد باقر علیہ السلام،امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے بھی صحابی تھے اور ان چاروں اماموں سے احادیث نقل کی ہیں(رجال نجاشی، ص 115؛ کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃ الرجال، ص 124، نشر دانشگاہ مشہد، 1348ش.) ابو حمزہ ثمالی ائمہ اطہار علیہم السلام کے صحابی،ثقہ اور قابل اعتماد شخص ہیں،یہاں تک کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ : "ابو حمزہ ثمالی اپنے زمانہ کے سلمان ہیں "۔(رجال نجاشی، ص 115.)۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ : "ابو حمزہ ثمالی اپنے زمانہ کے لقمان تھے،انھوں نے ہم معصومینؑ میں سے چار افراد، یعنی امام علی بن حسینؑ ،امام محمد باقرؑ،امام جعفر صادقؑ کے علاوہ امام موسی کاظمؑ کا ایک مختصر زمانہ درک کیا ہے" ۔۔(ایضا، ص 203.).کوفہ کے رہنے والے تھے اور وہاں کے زاہدوں میں شمار ہوتے تھے۔ابو حمزہ ثمالی اس قدر مشہور تھے کہ اہل سنت مثلاً ابن ماجہ (تہذیب التہذیب ۲؍۸) وغیرہ نے بھی ان سے روایت نقل کی ہے(ملاحظہ ہو: سبحانی، جعفر، موسوعۃ طبقات الفقہاء، ج 1، ص 304، قم، مؤسسہ امام صادقؑ، 1418ق.)۔یہ ان کی وثاقت و عظمت اور ایمان کی دلیل ہی ہے کہ ابن معین نے شیعہ و محب اہلبیتؑ ہونے کی وجہ سے ان پر تنقید کی ہے۔ (میزان الاعتدال ۱؍۳۶۳۔ تہذیب التہذیب ۲؍۷) 
ابو حمزہ ثمالی کے پانچ نیک اور صالح بیٹے تھے جن میں تین یعنی نوح،حمزہ اورمنصور نے کوفہ میں زید بن علیؑ بن الحسینؑ کے قیام میں شرکت کی ہے اور ان کے ہمراہ امویوں کا مقابلہ کیا (ایضا، ص 115.)
 ابو حمزہ کے یہ تینوں بیٹے قیام زید کے برجستہ ترین اور اہم افراد میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کے بیٹے کے ہمراہ ظلم کے خلاف قیام کیا۔جب جنگ اپنے شباب پر تھی، جناب زید بن علیؑ کے ساتھیوں نے کمزوری و شکست کا احساس کیا تو بہت سے افراد نے بیعت کو توڑ کر راہ فرار اختیار کی، صرف تھوڑے سے لوگ جناب زید کے ہمراہ باقی بچے جنمیں سے ابو حمزہ کے بیٹے نوح، حمزہ اور منصور تھے۔ ان لوگوں نے آخری وقت تک استقامت و ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور امام سجاد علیہ السلام کے بیٹے کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
ابو حمزہ کے دوسرے دو بیٹے علی اور حسین، امام موسی کاظم علیہ السلام کے زمانے میں زندہ تھے۔ یہ دونوں محدثین و فقہائے شیعہ میں شمار ہوتے ہیں اور امام موسی کاظم علیہ السلام و دیگر ائمہؑ سے روایات نقل کی ہیں۔(اعیان الشیعہ، ج۴ ،ص۱۰ و نامہ دانشوران، ج۱ ،ص۵۰)
ابو حمزہ ثمالی کے علاوہ ان کے خاندان کے افراد بھی سارے کے سارے عظیم شخصیتیں اورثقات تھے(رجال کشی، ص 406.)
تالیفات :
ابو حمزہ ثمالی کی تالیفات میں سے "تفسیر قرآن"(ابن ندیم نے اپنی کتاب ’فہرست‘ میں اس کو بیان کیا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل یہ کتاب ایران میں شائع ہوئی ہے)،"کتاب النوادر"(اس کتاب کا موضوع حدیث ہے اور اس کو حسن بن محبوب نے ابوحمزہ ثمالی سے نقل کیا ہے)،اور"کتاب الزہد۔(شیخ طوسی، الفہرست، محقق و مصحح: آل بحر العلوم، سید محمد صادق، ص 105، نجف، المکتبۃ المرتضویہ، طبع اول، )باقی بچی ہیں اور "رسالہ حقوق امام سجادؑ" جو اپنی نوعیت کا بے مثال رسالہ ہے، کو بھی ابو حمزہ ثمالی نے امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کیاہے۔(رجال نجاشی، ص 116. و من لایحضرہ الفقیہ)۔اور مورد بحث دعا جسے امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کیا۔
اس کے علاوہ ابو حمزہ ثمالی کے زرین آثار شیعہ و سنی کی اہم کتابوں میں مختلف موضوعات پر نظر آتے ہیں(من لایحضرہ الفقیہ۔ ج۲، ص۴۵۹ و قاموس الرجال، ج۲ ، ص۴۴۴)۔
وفات:
بعض مشہور روایتوں کے مطابق ابو حمزہ ثمالی نے سنہ۱۵۰ ھ میں وفات پائی ہے۔(شیخ طوسی، محمد بن حسن، الابواب (رجال طوسی)، محقق و مصحح: قیومی اصفہانی، جواد، ص 110، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع سوم، 1427ق.)۔ لیکن ابن سعد ان کی وفات کو منصور کی خلافت کے زمانہ میں جانتے ہیں۔(ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: عطا، محمد عبد القادر، ج 6، ص 345، بیروت، دار الکتب العلمیہ، طبع اول، 1410ق.)اور منصور کی خلافت ۱۳۶ سے ۱۵۸ ھ تک تھی۔ شیعوں کی احادیث کی شہرت یہ ہے کہ حسن بن محبوب، ابو حمزہ ثمالی سے حدیث نقل کرتے تھے، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ابن محبوب سنہ۲۲۴ھ میں فوت ہوئے ہیں اور اس وقت ان کی عمر ۷۵ سال تھی(لہذا حسن بن محبوب کا سنہ ولادت 149 ہجری ہےدیکھئے: امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعہ، ج 4، ص 9، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406ق.)۔ یعنی ابو حمزہ ثمالی کی وفات کے زمانہ [سنہ۱۵۰ھ]میں حسن بن محبوب دو سال سے کم تر عمر کے تھے ۔ پس جو تاریخ وفات ابن محبوب نے نقل کی ہے صحیح تر لگتی ہے،کیونکہ اگر ابو حمزہ ثمالی کی وفات کو ہم سنہ ۱۵۸ ھ مان لیں،تو اس زمانہ میں ابن محبوب کی عمر ۸ سال تھی اور اس قسم کی چیز کو ان کے ابو حمزہ ثمالی سے نقل کرنا  مناسب لگتا ہے(اعیان الشیعہ، ج 4، ص 10.)۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو بصیر سے فرمایا کہ ابو حمزہ سے ملاقات کرنا تو میرا سلام کہہ دینا اور کہنا کہ تم فلاں مہینہ میں فلاں دن انتقال کرجاؤ گے۔ ابو بصیر نے عرض کی کہ وہ آپ کے واقعی شیعوں میں ہیں؟ فرمایا: بیشک میرے پاس جو کچھ بھی ہے تم لوگوں کے لئے خیر ہے۔ ابو بصیر نے عرض کی کیا آپ کے شیعہ آپ کے ساتھ رہیں گے؟ فرمایا: بے شک اگر ان کے دل میں خوف خدا و رسولؐ ہے اور گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں تو یقیناً۔
مآخذ:
مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمیؒ
نقوش عصمت، علامہ ذیشان حیدر جوادیؒ
تحلیلی از زندگانی امام سجاد علیہ السلام، علامہ باقر شریف قرشی
ویب سائٹس
 ٭…٭…٭