پیر، 4 جون، 2018

ولایت رکن توحید


ولایت رکن توحید
آیۃاللہ مصباح یزدی 
ترجمہ سید محمد حسنین باقری
حدیث سلسلۃالذھب :لاالہ الااللہ حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی۔لکن بشرطھا و شروطھا و انا من شروطھا(بحارالانوار، جلد۴۹،صفحہ ۱۲۱)
حدیث قدسی میں ارشاد پروردگار ہے: لاالہ اللہ میرا قلعہ ہے جو بھی میرے قلعہ میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔
امام علی رضا علیہ السلام نے اس حدیث کو اپنے آباء و اجداد طاہرین کے ذریعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا:لیکن چند شرطوں کے ساتھ اور میں ان میں سے ایک ہوں۔
ولایۃ علی بن ابی طالب حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی (عیون اخبار الرضا، جلد۲، صفحہ ۱۳۶)
حدیث قدسی میں قول خداوند عالم ہے:علی ابن ابی طالبؑ کی ولایت میرا قلعہ ہے جو بھی اس قلعہ میں داخل ہوا وہ عذاب سے محفوظ ہوگیا۔ 
دونوں میں کون سی نسبت ہے؟  خدا کا حصن (قلعہ)، توحید ہے یا ولایت علیؑ ؟ یا خدا کے دو حصن ہیں ایک توحید اور ایک ولایت؟
دونوں حدیثوں کو کیسے جمع کریں؟
پہلی حدیث کے تتمہ سے نتیجہ واضح ہے۔ بشروطھا و انا من شروطھا۔توحید حصن خدا ہے لیکن اس کی شرط ولایت ائمہؑ ہے۔
توحید کا قلعہ اسی وقت مضبوط و مستحکم ہوگا جب ولایت کے ساتھ ہو۔دوسری حدیث ذیل ہے پہلی حدیث کا۔ کس طرح؟
خلقت انسانی کا سبب و مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے خدا شناس و خدا پرست ہو اور اس سے نزدیک ہوجائے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (سورہ ذاریات، آیت۵۶)(اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے)۔ اور عبادت کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قرب خدا کا وسیلہ ہے۔
تمام انسانوں کا اصلی و نہائی ہدف قرب خدا ہے اور قرب خدا کا وسیلہ عبادت ہے، آخری ہدف یہ ہے کہ اُس مقام تک پہنچ جائے کہ جس کو پہلوئے خدا سے تعبیر کیا گیا ہے:  فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ (سورہ قمر، آیت۵۵)(اس پاکیزہ مقام پر جو صاحبِ اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے).
جیسا کہ فرعون کی زوجہ کی زبانی نقل ہوا :وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (سورہ تحریم، آیت ۱۱)۔(اور خدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے جنّت میں ایک گھر بنادے)
خدا نے نمونہ بنایا ان کی اس دعا میں۔ جو معرفت و ہمت پیدا کی اور خدا سے درخواست کی خدا کے قرب کی یعنی میرے لئے خدا کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔
انسانی خلقت کا ہدف خدا کی بندگی ہے۔ یعنی لاالہ الااللہ۔ اپنے ہدف تک پہنچنا یعنی عذاب سے محفوظ ہونا۔
جو چیز ہماری خلقت و پیدائش کا سبب ہے اگر ہم نے اسے انجام دیا گویا اپنے ہدف تک پہنچ گئے اور ہم نے حفاظت و مصونیت حاصل کرلی۔ جب ہدف خدا کی بندگی ہے تو اس ہدف تک پہنچنے کے بعد پھر کیا نقص باقی رہ جاتا ہے؟
اس ہدف تک پہنچنے سے انسان ایک حصن و قلعہ میں داخل ہوجاتا ہے۔
پس کلمہ توحید کا مطلب ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی بھی قابل پرستش نہیں ہے یعنی صرف او رصرف اسی کی پرستش ہونا چاہئیے۔ عمل میں ہمارا راستہ پرستش خدا ہونا چاہیئے۔یعنی ہم ’وما خلقت الجنّ و الانس الا لیعبدون‘ کا مصداق بن جائیںاس صورت میں پھر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب راستہ سے منحرف ہوجائے لیکن جب راستہ کو صحیح طے کرے اور مقصد تک پہنچ جائے پھر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لہذا کلمہ لاالہ الااللہ ایک ایسا قلعہ ہے جس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جو بھی اس قلعہ میں داخل ہوگیا وہ محفوظ ہے پھر تو شیاطین اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
توحید کا کلمہ، کلمۂ نجات، کلمۂ اخلاص و کلمۂ سعادت ہے۔ کیا اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ زبان سے لاالہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟۔ 
اگر صرف زبان سے کہنا کافی ہوتا تو بہت سے افراد اس قلعہ میں داخل ہوجاتے، تمام منافقین بھی لاالہ الا اللہ کہتے تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے، معاویہ جیسے افراد بھی یہ کلمہ کہتے تھے۔ اگر صرف کہنا کافی ہو تو مسئلہ بہت آسان ہے۔ اس صورت میں اس دنیا کو پیدا کرنا کہ ایک کلمہ سے جس کے تمام مسائل حل ہوجائیں ، پیدا کرنا عبث و بیکار ہوتا۔
واضح ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کلمہ کا محتوی اور اس کے لوازم عملی مراد ہیں۔ لازم ہے کہ ایسا عقیدہ ہو جو عمل میں مجسم ہو۔ لیکن کیسا عقیدہ منظور ہے؟
توحید یعنی ’’خالقیت‘‘ و ’’ربوبیت تکوینی‘‘ اور ’’ربوبیت تشریعی‘‘ میں توحید
توحید کے کئی مفہوم ہیںجیسے نوع کی جب تحلیل کریں تو اس سے جنس و فصل حاصل ہوتے ہیں۔ جنس و فصل کو نوع پر حمل کریں تو حمل اولی ذاتی ہے جیسا کہ خود مفہوم نوع کی تحلیل سے دو یا تین مفہوم حاصل ہوتے ہیںاسی طرح جب مفہوم توحید اور لاالہ الااللہ کو تحلیل کیا جائے تو اس سے چند مفاہیم حاصل ہوتے ہیں(یعنی اس کے اندر چند مفاہیم موجود ہیں)۔ پہلا مفہوم یہ حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں اس لئے الوہیت و پرستش اس کی شان ہے جو پیدا کرنے والا ہو۔ ثانیا بہت سے لوگ خالقیت کے تو قائل ہیں لیکن بت کو پوجتے ہیں ، مکہ کے بت پرست بھی خالقیت خدا کے قائل تھے جبکہ بتوں کو پوجتے تھے۔ کہتے تھے: مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ(سورہ زمر، آیت۳)( ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے).
دوسرا مسئلہ جو توحید کی تحلیل سے حاصل ہوتا ہے ، اللہ کی ربوبیت ہے یعنی خداوند عالم دنیا کو پیدا کرنے کے علاوہ اس کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اس کے ارادے پر کوئی حاکم نہیں ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے ارادے کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی، دنیا جہان کا صاحب اختیار وہ ہے۔ یہ نظریہ بعض یہودیوں کے غلط نظریہ کے برخلاف ہے ۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا نے پیدا کرکے چھوڑ دیا ہے۔ اب دنیا کی تدبیر و انتظام خدا کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ مفوّضہ نامی فرقہ کا بھی یہی عقیدہ تھا ؛ ان کا کہنا تھا کہ: خداوند عالم نے دنیا کا اختیار انسان کو تفویض (سپرد) کردیا ہے۔
پس دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہم ربوبیت میں توحید کے قائل ہوں۔ ربوبیت تکوینی یعنی خداوندعالم دنیا کو تکوینی طور پر چلارہا ہے۔ إِنَّ اللَّـهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ (سورہ آل عمران، آیت۳۷)(وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے) وَاللَّـهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ(سورہ آل عمران، آیت۱۵۶) ۔ اور دنیا کے تمام تربیتی اور مدیریتی امور خدا کے ہی ذریعہ ہیں دنیا میں ہر عمل کرنے والا خدا کے اذن سے عمل کرتا ہے۔
 ابلیس کے پاس بھی اس مرحلہ تک توحید تھی(یعنی اس حد تک وہ بھی موحد تھا) وہ خدا کی خالقیت کا بھی قائل تھا اور خدا کی ربوبیت کا بھی قائل تھا۔ ابلیس نے کہا: خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ(سورہ اعراف، آیت۱۲)۔(-تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے)۔ یعنی خدا کی خالقیت کو تسلیم کرتا تھا۔ اور کہا: قَالَ أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (سورہ اعراف، آیت۱۴)(اس نے کہا کہ پھر مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے)۔ یعنی خدا کی تکوینی ربوبیت کو بھی مانتا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ تو میرا ربّ ہے اور خدا سے مہلت مانگی اور مہلت دینا خدا ہی کا کام ہے یہ بھی مانتا تھا۔ اس نے کہا ’’تم مجھے مہلت دو‘‘ یعنی مانتا تھا کہ دنیا کی مدیریت و انتظام خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں تک ابلیس موحد تھا۔ توحید در خالقیت بھی رکھتا تھا اور توحید در ربوبیت کا بھی قائل تھا۔لہذا سوال اٹھتا ہے کہ ابلیس میں کہاں پر کمی تھی؟۔ کمی یہ تھی کہ وہ یہ نہیں مانتا تھا کہ جو بات بھی خدا کہے اس کی اطاعت و پیروی کرنا چاہئیے۔ اس نے کہا: میں انھیں باتوں کو مانوں گا جو میری سمجھ میں آئیں اور میری عقل وہاں تک پہنچ جائے لیکن تیرا کہنا ہے کہ جو مجھ سے کم تر ہے اس کو سجدہ کروں ’’قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ (سورہ اعراف، آیت۱۲) میں اس حکم کو نہیں مانوں گا۔ قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ (سورہ حجر، آیت۳۳)۔(اس نے کہا کہ میں ایسے بشر کو سجدہ نہیں کرسکتا جسے تو نے سیاہی مائل خشک مٹی سے پیدا کیا ہے)
ابلیس کی خطا و غلطی ربوبیت تشریعی میں تھی۔ ربوبیت تشریعی کا مطلب ہے کہ چونکہ خداوندعالم دنیا کا صاحب اختیار اور مالک ہے لہذا جو بھی حکم وہ دے اس کی اطاعت ضروری ہے اور جو قانون بھی وہ وضع کرے وہ معتبر ہے ۔ استقلالی طور پر کوئی دوسرا قانون وضع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کہتے تھے۔۔۔احی الموتی (سورہ آل عمران، آیت۴۹) اس کے آگے فرماتے : باذن اللہ (خدا کے اذن سے)۔ خدا وند عالم نے بھی فرمایا: وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي۔۔۔(سورہ مائدہ، آیت۱۱۰) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ذاتی طور پر با اختیار نہیں تھے۔ پیغمبر اکرمﷺ اور ائمہ معصومین علیہم السلام بھی جن احکام کا تشریعی طور پر ہم کو حکم دیتے ہیں وہ اس اعتبار سے کہ یہ حکم باذن اللہ ہے لہذا ہم پر ان کی اطاعت واجب ہے۔ یہ حضرات بغیر اذن خدا کے کوئی کام نہیں کرتے۔ اگر کوئی بغیر خدا کے اذن کے کوئی قانون وضع کرے اس کے لئے اعلان پروردگار ہے:  قُلْ آللَّـهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّـهِ تَفْتَرُونَ (سورہ یونس، آیت۵۹)(کیا خدا نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم خدا پر افترا کررہے ہو).
لہذا جب ہم ان سب کو قبول کریں تبھی موحّد ہیں۔ توحید کا مطلب یہ تمام مفاہیم ہیں ۔ خدا ایک ہے یعنی :
۔تنہا وہ خالق ہے۔
۔تنہا وہی رب تکوینی اور رب العالمین ہے۔ لاربّ سواہ (بحار الانوار،ج۴۷،ص۳۰۹)
۔ تنہا وہی ربّ تشریعی ہے یعنی قانون گزاری کا حق صرف اسی کو ہے۔
ولایت، ربوبیت تشریعی میں سے ہے
اگر ان مفاہیم اور ان باتوں کو ہم تسلیم کرتے ہیںتو یہ بھی معلوم رہنا چاہئیے کہ خداوند عالم کا ارادہ اس بات سے متعلق ہے کہ عالم اسلام میں قانون بیان کرنے والے اور قانون کا اجرا کرنے والے سب سے پہلے پیغمبر اکرم ﷺ ہیں اور اس کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام ہیں۔ اگر بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ : و من جحدکم کافر (من لایحضرہ الفقیہ، ج۲،ص۶۱۳) یہ یوں ہی نہیں کہا گیاہے۔ اگر کسی کے لئے ثابت ہوجائے کہ خدا نے کہا ہے ’’علیؑ کی اطاعت کرو‘‘ اس کے باوجود وہ کہے کہ ’’ نہیں میں نہیں کروں گا‘‘، تو یہ عمل عین عمل ابلیس ہے۔ ممکن ہے کسی کے لئے ثابت نہ ہوا ہو، یا نہ سمجھا ہو، یا سمجھ نہ سکا ہو ایسا شخص مستضعف ہے اور جس حد تک نہیں سمجھا یا سمجھ نہیں سکا تو وہ معذور ہے۔ لیکن جو سمجھ گیا اور جس نے خود پیغمبر ؐ سے سنا : من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘  اگر ایسا شخص انکار کرے تو وہ قلبا کافر ہے، اگرچہ ظاہرا مسلمان ہو۔ یعنی خدا کے حکم کو نہیں مان رہا ہے۔ جب معلوم ہوجائے سمجھ جائے کہ خدا نے ان کو معین کیا ہے پھر بھی انکار کرے تو فقہی اصطلاح میں کہتے ہیں کہ منافق ہے۔لیکن منافق کے معنی یہ ہیں کہ باطنی طور پر کافر ہے اور ظاہر میں مسلمان ہے؛ ظاہراً پاک ہے اس کے ساتھ شادی جائز ہے ، اس کا ذبیحہ حلال ہے۔ منافقین قلبی طور پر خدا کے حکم کو قبول نہیں کرتے اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ ’’ خدا نے بیجا کہا ، علی کو پیغمبر کا جانشین نہیں ہونا چاہئے، علی جوان تھے ان میں اس کام کی صلاحیت نہیں تھی‘‘۔
لہذا توحید اسی وقت مکمل ہوگی جب ’’توحید در خالقیت‘‘ ، ’’ربوبیت تکوینی‘‘ اور ’’ربوبیت تشریعی‘‘ سب ایک ساتھ جمع ہوجائیں اور انسان تینوں کا ایک ساتھ قائل ہوجائے، اس  لئے کہ باوجودیکہ ابلیس خدا کی خالقیت اور ربوبیت تکوینی کو مانتاتھا پھر بھی خداوند عالم نے فرمایا:’’ کان من الکافرین‘‘ (سورہ بقرہ، آیت۳۴) یہ نسبت اس لئے ہے کہ شیطان ربوبیت تشریعی کو نہیں مانتا تھا۔ ہم اگر توحید کو قبول کرتے ہوں اور کلمہ ’’لاالہ الااللہ‘‘ کو صحیح کہنا چاہیں تو ضروری ہے کہ خدا کو خالقیت میں وحدانیت ، ربوبیت تکوینی اور ربوبیت تشریعی میں بھی مانیں۔ خدا کی ربوبیت تشریعی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے احکام و دستورات کو بھی مانیں، اس لئے کہ خدا وند عالم کا قول ہے :’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ‘‘(سورہ نساء، آیت۵۹)(ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں).
لہذا اگر ہم ان افراد کے احکام و دستورات کو نہ مانیں تو ہم نے خدا کے احکام کو تسلیم نہیں کیا ہے؛ یعنی ہم نے خدا کی ربوبیت تشریعی کو قبول نہیں کیا ہے اور ایسی صورت میں توحید مکمل نہیں ہے۔ پس کلمہ لاالہ الااللہ‘‘ علی علیہ السلام کی ولایت کو بھی شامل ہوگا۔امام رضا علیہ السلام کا قول ’’انا من شروطھا‘‘ باہری شرط نہیں ہے باین معنی کہ ایک دفعہ کہیں ’’لاالہ الا اللہ‘‘ خدا کا قلعہ ہے پھر کہیں ایک اور چیز کا اس میں اضافہ ہو، بلکہ وہ خود اسی کلمہ کے اندر سے نکلے ۔ ولایت علی علیہ السلام کو تسلیم کرنا اس کے بعد ولایت امام رضا اور دیگر تمام ائمہ کی ولایت کو قبول کرنا خود توحید کے لوازم میں سے ہے۔اس لئے کہ خدا نے کہا ہے۔ اور اگر ان کو نہ مانیں اور قبول نہ کریں تو ربوبیت میں از جہت توحید کمی ہے یعنی توحید مکمل نہیں ہے۔ چونکہ خدا وند عالم اپنے بندوں کی بنسبت ربوبیت تشریعی رکھتا ہے اور وہ کوئی بھی قانون وضع کرے اس کو ماننا اور اس کی پیروی کرنا ضروری ہے لہذا ولایت کو نہ ماننے کا مطلب ہے ہم نے اس کی ربوبیت تشریعی کو نہیں مانا تو ہماری توحید بھی ناقص ہے مکمل نہیں ہوئی۔(ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں)
توحید کے کسی مرحلہ کا انکار توحید کا انکار ہے
ممکن ہے کوئی کہے کہ ابلیس کا مرتبہ بہت سے کفار سے بلند ہے اس لئے کہ کافر کہتے ہیں خدا ہی نہیں یعنی نہ تو توحید در خالقیت کو مانتے ہیں نہ توحید در ربوبیت تکوینی کو اور نہ توحید در ربوبیت تشریعی کو لیکن ابلیس تو توحید کے دو مرحلہ کو تو مانتا ہے گویا دو بٹا تین اس کے پاس توحید تھی لہذا کیسے رجیم ہوگیا اور تمام برے لوگ اس کی پیروی میں دوزخ میں جائیں گے اور وہ ان سب کا سردار ہے؟ دوزخیوں کا سردار تو ان کفار کو ہونا چاہئیے جو بالکل ہی خدا کو نہیں مانتے؟۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ تین مراحل و مراتب صورت میں تو تین ہیں لیکن تینوں کی حقیت ایک ہے۔ توحید یعنی تینوں مراحل ، اور موحد یعنی جو تینوں مراحل کو مانتا ہواگر کسی ایک مرحلہ کو نہ مانے تو اس نے ہرگز توحید کو نہیں مانا۔اگر کوئی کہے کہ میں مکمل اسلام کو تو مانتا ہوں لیکن نماز کو نہیں مانتا ؛ یہ مومن ہے یا کافر ؟ مسلمان وہی ہے جو اس مجموعہ کو مانتا ہو اگر ایک ذرہ بھی کم ہوجائے تو کوئی فائدہ نہیں۔ اگر کوئی بہترین کھانا تیار کرے ، بہت ہی معیاری ڈش پکائے اور اس میں تھوڑا سا زہر گرجائے تو کیا ہوگا؟ یہ بہترین ڈش ، بہت ہی اچھا کھانا اگر اس میں تھوڑا سا زہر پڑ جائے تو پورا کھانا خراب ہوجائے گا۔ لہذا اگرمجموعہ سالم ہو توحید کے تینوں مراحل کو مانے تب ہی موحد ہوگا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ شیطان خالقیت کو تسلیم کرتا تھا لہذا بہت سوں سے بہتر ہے۔ایسا کیوں ہے؟ کتنے ہی افراد ایسے ہیں جو وجود خدا ہی کے منکر ہیں یا نبوت ہی کو نہیں مانتے ، کچھ بھی تسلیم نہیں کرتے کیوں ایسے افراد شیطان کے برابر یا شیطان سے بہتر ہوں؟ جواب یہ ہے کہ شیطان ایسے رکن کا منکر ہوا جو اعتقادات کی بنیاد ہی کو ختم کردیتا ہے، اس انکار سے یہ مجموعہ ہی ختم ہوگیا اور خراب ہوگیا۔ ایسی صورت میں انکار جتنا شدید تر و سخت ہوگا اتنا ہی کفر کا مرتبہ بھی بلند ہے۔ شیطان اتنا عناد و دشمنی رکھتا ہے کہ خدا کے مقابل کھڑا ہوکر کہتا ہے : قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ(سورہ ص، آیت۸۲)(اس نے کہا تو پھر تیری عزّت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا) اس طرح کی دشمنی سے کفر کا مرتبہ بھی آگے بڑھے گا۔
یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت ولایت توحید کے اندر ہی ہے، توحید میں داخل ہے اس لئے کہ توحید منحل ہوتی ہے توحید در خالقیت، ربوبیت تکوینی اور ربوبیت تشریعی میں(یعنی توحید کے اندر یہ تینوں داخل ہیں)۔ اور ولایت، ربوبیت تشریعی میں سے ہے یعنی خدا کہتا ہے لازم ہے کہ حاکم کو میں ہی معین کروں، قانون کو میں ہی وضع کروں اور اگر اس میں کوئی دخل دے تو یہ شرک ہے۔
آج جامع الشرائط فقیہ و مجتہد کی ولایت  حصن الٰہی ہے
یہاںتک کی ہماری گفتگو سے یہ ثابت ہوا کہ ائمہ علیہم السلام کی ولایت توحید ہی میں شامل ہے اب ہم چاہتے ہیں کہ ایک قدم اور آگے بڑھائیں۔
حدیث مقبولۂ عمر ابن حنظلہ کو سبھی نے سنا ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ سوال ہوا کہ جب حکومتی امور میں ہماری رسائی آپ تک نہ ہو تو کیا کریں؟ اگر میراث کے مسئلہ یا کسی اور مسئلہ میں اختلاف پیش آجائے اور قاضی کے فیصلہ کی ضرورت ہو اور آپ تک رسائی نہ ہو تو کیا کریں؟ امام نے فرمایا: جامع الشرائط فقہا کی طرف رجوع کروپھر فرمایا: ۔۔۔فانّی قد جعلتہ علیکم حاکما فاذا حکم بحکم و لم یقبلہ منہ فانما بحکم اللہ استخف و علینا ردّ و الراد علینا کافر رادّ علی اللہ و ھو علی حد من الشرک باللہ۔۔۔‘‘ (بحارالانوار، ج۲،ص۲۲۱) امام کے اس کلام کا مطلب کیا ہے؟یہ جو امام نے فرمایا کہ جامع الشرائط فقیہ کے حکم کو رد کرنا شرک کا حکم رکھتا ہے ، اس کا مطلب کیا ہے؟ جو شخص جامع الشرائط فقیہ کو رد و انکار کرتا ہے وہ یہ نہیں کہتا ہے کہ دو خدا ہیں بلکہ کہتا ہے کہ : میں اس فقیہ کے حکم کو نہیں مانتا ہوں ۔ یہ فقیہ نہ خدا ہے نہ پیغمبر ہے نہ امام معصوم ہے۔ بلکہ ایک فقیہ ہے۔ کیوں اس کے حکم کا انکار شرک کا باعث ہے؟ 
اگر میرا سابق کا بیان آپ کے ذہن مبارک میں ہو اور اس کی تھوڑی تحلیل کیجئے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ مطلب بھی اسی سے حاصل ہورہا ہے؛ اس لئے کہ جب امام معصوم علیہ السلام کی اطاعت واجب ہے اور انھوں نے فرمایا : کہ میں نے فلاں کو اپنا وکیل یا حاکم یا نائب بنایا ہے اور لازم ہے کہ اس کی اطاعت کرو ، اس کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟ جب امیرالمومنین علیہ السلام ایک شخص مثلا مالک اشتر کو معین کریں اور فرمائیں: میں نے ان کو عامل قرار دیا ان کی اطاعت تم پر لازم ہے، تو کیا کرنا چاہئے؟ ایسی صورت میں مالک اشتر کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ امام معصوم کی اطاعت ہے۔ کیوں امام معصوم کی اطاعت ہے؟اس لئے کہ خدا کی اطاعت ہے۔ یہ حکم ، خدا کی تشریعی ربوبیت کا مصداق ہے۔ اور جب امام فرمائیں: بعد کے مرحلہ میں تمہارا حاکم (مجتہد و )ولی فقیہ ہے ۔ تو اس کی اطاعت بھی خدا کی تشریعی ربوبیت کا مصداق ہوگی۔ ایسی صورت میں یہ مطلب واضح ہوجائے گا کہ اس کے حکم کا انکار خدا کے شرک کے جیسا ہے، ھو علی حد من الشرک باللہ۔
ابلیس کیوں ایک الہی قانون کو انکار کرنے اور حضرت آدم کا سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے مشرک ہوگیا؟شیطان تشریع الہی کا انکار کرنے کی وجہ سے مشرک ہوگیا۔امام معصوم کی رد اور ان کا انکار بھی شرک کا سبب ہوتا ہے۔ البتہ یہ شرک باطنی شرک ہے۔ یہ ایسا شرک نہیں ہے جو گردن زدنی کا سبب ہو بلکہ یہ شرک ایمان کے مقابلے میں ہے۔ یہ اس شرک کے علاوہ ہے جو اسلام کے مقابلے میں ہے۔ یہ باطنی کفر و شرک ہے اس کے ظاہری احکام محفوظ ہیں یعنی پاک ہے، اس کا ذبیحہ حلال ہے اور اس کے ساتھ شادی کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ صدر اسلام کے منافقین اسی طرح تھے۔ ظاہری شرک اسلام کے مقابلے میں ہے اور باطنی شرک ایمان کے مقابلے میں۔ ھو علی حد من الشرک باللہ۔ یعنی جب میں یہ کہوں کہ : تم محمد ابن مسلم کی طرف رجوع کرو جو وہ کہیں اطاعت کرو۔ اگر اطاعت نہ کی اور میری بات کا نکار کیا تو گویا خدا کی بات کا انکار کیا ہے اور یہ شرک تشریعی ہے۔ اگر خلیفہ اموی یا خلیفہ عباسی کے معین کئے ہوئے قاضی کی اطاعت کی گویا اس کے حکم کو خدا کے حکم کے ساتھ شریک قرار دیا ہے۔ پس مشرک ہوگئے۔ اس رخ سے جب توحید کی تحلیل کریں اور اس کے مراتب و مراحل کو سامنے رکھیں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ توحید ، امیرالمومنینؑ کی ولایت کو، امام رضاؑ کی ولایت کو اور تمام ائمہؑ کی ولایت کو بھی شامل ہے اور اس کے بعد کے مرحلے میں فقیہ کی ولایت کو بھی اپنے اندرسمیٹے ہوئے ہے۔لہذا اگر کوئی کہے کہ آج فقیہ (و مجتہد جامع الشرائط) کی ولایت خدا کا قلعہ ہے اور من دخلہ امن من عذاب اللہ؛ تو اس نے کوئی غلط بات نہیں کہی ہے۔ اُسی دلیل کی بنیاد پر کہ لاالہ الااللہ خدا کا قلعہ ہے ۔اُسی دلیل کی بنیاد پر کہ ولایت علی ابن ابی طالب خدا کا قلعہ ہے، اور اُسی دلیل کی بنیاد پر کہ امام رضا کی ولایت توحید کی شرطوں میں سے ہے؛ اُسی دلیل کی بنیاد پر فقیہ کی ولایت بھی جو امام زمانہؑ کی مرضی ہے ، حصن الٰہی کا جزء ہے۔(ماہنامہ اصلاح، لکھنؤ)
٭…٭…٭

دعائے ابو حمزہ ثمالی


(عظیم الشان دعائے سحر)
دعائے ابوحمزہ ثمالی ؒ 
سید محمد حسنین باقری،لکھنؤ
 رمضان المبارک میں سحر کے وقت پڑھی جانے والی بلند معنی و مفہوم سے لبریز عظیم الشان دعا امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا ہے چونکہ یہ دعا ابو حمزۂ ثمالی کے ذریعہ بیان ہوئی ہے اس لئے ’’دعائے ابو حمزۂ ثمالی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔(آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ إلی تصانیف الشیعہ، ج 8، ص 186، قم، اسماعیلیان، 1408ق.)۔
محدث شیخ عباس قمی ؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’مفاتیح الجنان‘‘ میں نقل کیا ہے کہ: ’’مصباح شیخؒ میں ابوحمزہؒ کی روایت ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام ماہ رمضان میں رات کے بیشتر حصہ میں نمازیں ادا فرماتے تھے اور جب وقتِ سحر ہوجاتا تھا تو یہ پڑھتے تھے۔
یہ دعا آل محمد ؑ کے ذریعہ عظمت پروردگار کو بھی بیان کررہی ہے نیز بہت ہی اہم اور ضروری و مفید مطالب پر مشتمل ہے اگر ایک طرف اس میں دعا کا سلیقہ اور طریقہ اور عبد و معبود کے درمیان رابطہ کو بتایا گیا ہے تو دوسری طرف ہمارے لئے بہت سی ضروری و مفید باتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ’’دعا معصوم نے غیر معصوموں کوتعلیم دی ہے لہٰذا اس میں معبود کےمقابل بندہ کے کمال تذلل کا مظاہرہ ہے ۔معصومین علیہم السلام کی تعلیم کردہ بعض دعاؤں کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ تعلیم کرنے والے تو معصومینؑ ہوتے ہیں لیکن در اصل ان دعاؤں میں ترجمانی غیر معصوموں کی جانب سے ہوتی ہے‘‘۔(ماہنامہ اصلاح ’امام سجادؑ نمبر‘)۔
یقینا یہ دعائیں عظمت و حقانیت اہلبیتؑ کی دلیل بھی ہیں اوردنیا کےلئے صحیح اسلام کی ترجمانی بھی کرتی ہیں۔
 لہذا کوشش ہونا چاہیے کہ اس مبارک مہینہ و قبولیت دعا کے مہینے میں اس اہم دعا سے بھی غافل نہ رہیں ۔ تلاوت و قرائت دعا کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ ضرور دیکھیں۔خدا سے دعا ہے ہم سب کو اس مہینہ میں تعلیمات آل محمدؐ پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ قارئین کے استفادہ کے لئے اس دعا کے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں: 
اس دعا کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:
إلھِی لاَ تُؤَدِّبْنِی بِعُقُوبَتِکَ، وَلاَ تَمْکُرْ بِی فِی حِیلَتِکَ، مِنْ ٲَیْنَ لِیَ الْخَیْرُ یَارَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِیارَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِی ٲَحْسَنَ اسْتَغْنی عَنْ عَوْ نِکَ وَرَحْمَتِکَ، وَلاَ الَّذِی ٲَسائَ وَاجْتَرَٲَ عَلَیْکَ وَلَمْ یُرْضِکَ خَرَجَ عَنْ قُدْرَتِکَ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پروردگار !مجھے اپنے عذاب میں گرفتار نہ کرنا، اور مجھے اپنی قدرت کے ساتھ نہ آزمانا، مجھے کہاں سے بھلائی حاصل ہوسکتی ہے اے پالنے والے جب کہ وہ تیرے سوا کہیں موجود نہیں۔ مجھے کیسے نجات مل سکے گی جبکہ اس پر تیرے سوا کسی کو قدرت نہیں، نہ ہی کوئی نیکی کرنے میں تیری مدد اور رحمت سے بے نیاز ہے اور نہ ہی کوئی برائی کرنے والا تیرے سامنے جرأت کرنیوالا اور تیری رضا جوئی نہ کرنیوالاتیرے قابو سے باہر ہے اے پالنے والے اے پروردگار والے اے معبود۔
ہم نے تجھے تیرے ہی ذریعہ سے پہچانا ہے اور تونے ہی ہماری رہبری کی ہے ورنہ تو نہ ہوتا تو ہم کیا جانتے کہ تو کون ہے۔ تعریف ہے بس اس خدا کی جس کو پکارتاہوں تو سن لیتا ہے۔ اگر چہ میں اس کے بلانے پر دیر کرتا ہوں اور تعریف ہے اس خدا کی جس سے عرض حاجت کرتا ہوں اور بلا سفارش راز دل کہتا ہوں تو حاجت روائی کردیتا ہے۔ اگر چہ میں اس کا اہل نہیںہوں۔ 
 میں اس کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتا کہ سب رد کردیتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے آس نہیں لگاتا کہ سب مایوس کردینے والےہیں۔ 
شکر ہے کہ اس نے اپنے حوالے رکھ کر عزت دی ہے ورنہ لوگوں کے حوالے کردیتا تو لوگ ذلیل کردیتے۔ وہ بے نیاز ہو کر بھی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم کو یوں برداشت کرتا ہے جیسے ہم نےکوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ وہ سب سے زیادہ قابل تعریف اور لائق شکر ہے۔ ۔۔۔
پروردگار!تیرا ہی فرمان ہے اور تو ہی صادق الوعد ہے اور تیرا ہی یہ قول برحق ہے کہ ’’فضل خدا کا سوال کرو ، وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے ‘‘۔ اور معبود یہ تیری صفت نہیں کہ سوال کا حکم دے اور پھر عطا نہ کرے جب کہ تو تمام اہل مملکت کو بار بار بلا طلب عطا کرنےوالا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 پروردگار! میری اس دعامیں خوف بھی ہے اور رغبت بھی گناہوں کو دیکھتاہوں تو ڈر جاتا ہوں اور کرم کو دیکھتا ہوں تو پر امید ہوجاتا ہوں۔ 
 معبود ، تو معاف کردے گا تو بہترین رحم کرنےوالا ہے اور عذاب کرے گا تو ظالم نہیںہے بلکہ انصاف کرنےوالا ہے۔ 
میں اپنے برے اعمال کے باوجود تیرے جو د و کرم کے واسطے سے مانگنے کی جرأت کررہا ہوں اور میری بے حیائی کے باوجود میرا سہارا تیری رحمت اور تیری مہربانی ہے۔ ۔۔۔
پروردگار! میں تیرے فضل و کرم کی پناہ لینے کے لئے تیری طرف بھاگ کر آیا ہوں ۔ اب تو اس حسن ظن کی لاج رکھ لے اور اپنے وعدہ ٔمغفرت کو پورا کردے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 
پروردگار ! اپنی پردہ پوشی سے مجھے عزت دے اور اپنے کرم سے میری تنبیہ کو نظر انداز فرما دے کہ تیرے علاوہ کسی اور کو ان گناہوں کا علم ہوتا تو میں کبھی گناہ نہ کرتا اور تیرے عذاب میں بھی عجلت کا خیال ہوتا تو میں گناہوں سے پرہیز کرتا۔ نہ اس لئے کہ تیری ہستی معمولی اور تیری ذات ناقابل توجہ ہے ( معاذ اللہ ) بلکہ اس لئے کہ تو بہترین پردہ پوش ، کریم، مہربان ، عیوب کا چھپانے والا، گناہوں کا بخشنے والا اور غیب کا جاننے والا ہے۔ تو اپنے کرم سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اپنے حلم سے عذاب کو ٹال دیتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
 اے محسن و منعم ! میرا اعتماد نجات کے بارےمیںاپنے اعمال پر نہیںہے بلکہ تیرے فضل و کرم پرہے۔ تو اہل تقویٰ اور اہل مغفرت ہے، بلا مانگے نعمتیں عطا کرتا ہے اور گناہ بھی بخش دیتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتاکہ میں کس کس چیز کا شکریہ ادا کروں ۔ نیکیوں کےمشہور کردینے کا یا برائیوں پر پردہ ڈال دینے کا ؟ بہترین عطیوں کا یا مصیبتوں سے نجات دلانےکا؟ اے محبت کرنےوالوں کے دوست اورپناہ گزینوں کی خنکی چشم۔ تو ہمارا محسن ہے اور ہم تیرے گناہ گار ۔ اب ہماری برائیوں کو اپنے رحم و کرم کے ذریعہ در گزر فرما۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار ! جب بھی یہ کہتا ہوں کہ اب میں آمادہ ہوگیا اور تیار ہوکر نماز کےلئے کھڑا ہوگیا اور تجھ سے مناجات شروع کردی تو مجھے نماز میں نیند آنے لگتی ہے اور مناجات میں بےکیفی محسوس ہونےلگتی ہے اور جب بھی یہ سوچتا ہوںکہ اب میرا باطن درست ہوگیا ہے اور میری منزل توابین سے قریب تر ہوگئی ہے تو کوئی نہ کوئی مصیبت آڑے آجاتی ہے اور میرے قدموں میں لغزش پیدا کردیتی ہے اور تیری خدمت کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے۔ 
 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تونے مجھے اپنے دروازے سے ہٹادیا ہے اور اپنی خدمت سے  دور کردیا ہے یا اپنے حق کا خیال نہ کرنےوالا دیکھ کر دربار سے الگ کردیا ہے یا اپنی جانب سے کنارہ کش پاکر مجھے چھوڑ دیا ہے یا جھوٹوں کی صف میں دیکھ کر نظر اندازکردیا ہے یا نعمتوں کا شکر گذار نہ پاکر محروم کردیا ہے۔ یا مجلس علماء سے الگ دیکھ کر ترک کردیا ہے یا غافلوں میںدیکھ کر رحمتوں سے مایوس کردیا ہے یا اہل باطل کا ہم نشیں پاکر انہیں کے حوالےکردیا ہے یا میری آواز کوناگوار قرار دے کر اپنی بارگاہ سے دور کردیا ہے یا میرے جرائم و معاصی کا بدلہ دے دیا ہے، یا میری بے حیائی کی سزا دی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار! میں وہی بچہ ہوں جسے تونے پالا ہے۔ میں وہی جاہل ہوں جسے تونے علم دیا ہے۔ میںوہی گمراہ ہوں جسے تونے ہدایت دی ہے۔ میں وہی پست ہوں جسے تونے بلند کیا ہے۔ میں وہی پیاسا ہوں جسے تونے سیراب کیا ہے۔ میںوہی برہنہ ہوں جسے تونے لباس پہنایا ہے۔ میں وہی فقیر ہوں جسے تونے غنی بنایا ہے۔ میں وہی ضعیف ہوں جسے تونے قوت دی ہے۔ میں وہی ذلیل ہوں جسے تونے عزت دی ہے۔ میں وہی مریض ہوں جسے تونے شفا دی ہے۔ میں وہی سائل ہوں جسے تونےعطا کیاہے۔ میں وہی گنہ گار ہوں جس کی تونے پردہ پوشی کی ہے۔ میں وہی خطاکار ہوں جسے تونے سنبھالا ہے ۔ میں وہی نادار ہوں جسے تونے بکثرت عطا کیا ہے۔ میں وہی کمزور ہوں جس کی تونے مدد کی ہے اور میں وہی نکالا ہوا ہوں جسے تونے پناہ دی ہے ۔میں وہی ہوں جس نے تنہائی میں تجھ سے حیا نہیں کی اور مجمع میں تیرا خیال نہیں کیا میرے مصائب عظیم ہیں۔ میں نے اپنےمولا کی شان میںگستاخی کی ہے۔ میں نے آسمان و زمین کے خدائے جبار کی مخالفت کی ہے۔ میں نے گناہ کےلئے رشوت دی ہے۔ میں نے نگاہ کے نام پر تیزی سے سبقت کی ہے۔ 
 میں وہی ہوں جسے تونے مہلت دی ہے تو میں سنبھلا نہیں۔ پردہ پوشی کی ہے تو میں نے حیا نہیں کی ۔ گناہ کئے ہیں تو بڑھتا ہی چلا گیا ، اور تونے نظروں سے گرادیا تو کوئی پرواہ نہیں کی ۔ پھر بھی تونے اپنے حلم سے مہلت دی اور اپنے پردہ سے عیب پوشی کی جیسے کہ تجھے خبر ہی نہیںہے کہ میں کیا ہوں اور مجھے گناہوں کےعذاب سے اس طرح بچایا ہے جیسے کہ تجھے خود شرم آگئی ہے۔ پروردگار ! میں نے جب بھی گناہ کیا ہے۔ تو میں تیری خدائی کا منکر یا تیرے حکم کا معمولی سمجھنےو الا یاتیرے عذاب کےلئے آمادہ یا تیرے وعدہ عتاب کی توہین کرنےوالا نہیں تھا۔ بلکہ صورت حال صرف یہ تھی کہ گناہ سامنےآیا اور نفس نے اسے آراستہ کردیا ۔ خواہشات نے غلبہ پالیا اوربدبختی نے ساتھ دے دیا ۔ تیری عیب پوشی نے سہارا دے دیا اور میں گناہ کر بیٹھا۔  اب توہی بتا کہ میں گناہ کر بیٹھا تو تیرے عذاب سے کون بچاسکتا ہے ؟ اور کل کون چھٹکارا دلاسکتاہےاور اگر تونے نا امید کردیا تو کس سے امید وابستہ کروں گا؟۔ میرےسارے اعمال تیرے نامہ اعمال میں محفوظ ہیں اور اگر تیرے کرم و وسعت رحمت کی امید نہ ہوتی تو میں انہیں یاد کرکے مایوس ہوچکا ہوتا لیکن تو سننے والا اور امیدوں کا بر لانے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
 میرے مالک! بندہ مالک کو چھوڑ کر کدھر جائے اور مخلوق خالق کےماسوا کس کی پناہ لے ۔ پروردگار! تو زنجیروں میں جکڑ بھی دےگا اور مجمع عام میں عطا سے انکار بھی کردے گا اور لوگوں کو ہمارے عیوب سے آگاہ بھی کردے گا اور ہمیں جہنم کا حکم بھی دے دے گا اور اپنے نیک بندوں سے الگ بھی کردے گا تو بھی میں تجھ سے امید کو منقطع نہیںکروں گا اورتیری معافی سے آس نہ توڑوں گا اور تیری محبت کو دل سے نہ نکالوں گا اس لئے کہ میںتیری نعمتوں اور پردہ پوشی کو فراموش نہیں کرسکتا۔پروردگار! میرے دل سےمحبت دنیا کو نکال دے اور مجھے اپنے منتخب بندے حضرت خاتم النبیینؐ کے ساتھ قرار دے۔ مجھے منزل توبہ تک پہنچا دے اور توفیق دے کہ میں اپنے نفس کے حالات پر گریہ کر سکوں۔ میں نے اپنی عمر کو خواہشات اور بے جا امیدوں میں برباد کردیا ہے اور اب نیکیوں سےمایوس لوگوں کی منزل میںآگیا ہوں کہ اگر اس عالم میں دنیا سے چلا گیا اور اس قبر میں پہنچ گیا جسے اپنے آرام کےلئے ہموار نہیں کیا اور اس میں عمل صالح کا فرش نہیں بچھا یا تو مجھ سے بدتر حالت والاکون ہوگا۔  میں کیسے نہ روؤں جب کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرا انجام کیاہوگا۔ مجھے نفس برابر دھوکہ دے رہا ہے اور روزگار برا بر مبتلائے فریب کئے ہوئے ہے۔ موت کے پر میرے بالائے سر جنبش کررہےہیں۔ میں کیسے نہ روؤں ؟ میں جاں کنی کا تصور کرکے رو رہا ہوں میں قبر کی تاریکی اور لحد کی تنگی کےلئے رو رہا ہوں۔ میں منکر و نکیر کے سوال کےلئے رو رہا ہوں میں اپنی قبر سے برہنہ ، ذلیل اور گناہوںکابوجھ لاد کے نکلنےکے تصور سے رو رہا ہوں۔ جب داہنے بائیں دیکھوں گا اور کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا۔ سب اپنے اپنے حال میںپریشان ہوں گے ۔ کچھ نیک بندے ہوں گے جن کے چہرے روشن اورہشاش بشاش ہوں گے تو ( انہیں میری کیا پرواہ) اور کچھ چہرے خود ہی ذلیل اور گر دآلود ہوں گے ( تووہ کیاکریں گے)۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار! اگر موت قریب آگئی اور اعمال نے تجھ سے قریب نہیں کیا ہے تو اب گناہوں کے اعتراف کو وسیلہ قرار دیتا ہوں کہ تو اگر معاف کردے گا تو تجھ سے زیادہ منصفانہ فیصلہ کرنے والا کون ہے اس دنیا میں میری غربت اور وقت موت میرےکرب قبر میں میری تنہائی اورلحد میں میری وحشت اور وقت حساب میری ذلت پر رحم کرنا اور میرے ان تمام گناہوں کو معاف کردینا جن کی لوگوں کو اطلاع بھی نہیں ہے اورپھر اس پردہ داری کو بر قرار رکھنا۔ 
 پروردگار! اُس وقت میرے حال پر رحم کرنا جب میںبستر مرگ پر ہوں اور احباب کروٹیں بدلوا رہےہوں۔ اس وقت رحم کرنا جب میں تختۂ غسل پر ہوںاور ہمسایہ کے نیک افراد غسل دے رہےہوں۔ اُس وقت کرم کرنا جب تابوت میں اقرباء کےکاندھوں پر سوار ہوں۔ اس وقت مہربانی کرنا جب تنہا قبر میںوارد ہوں اور پھر اس نئے گھرمیںمیری غربت پررحم کرنا تاکہ تیرے علاوہ کسی سے مانوس نہ ہوں۔ 
میرے مالک! تو اگر مجھے میرے حوالےکردے گا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا  اور تو سنبھالا نہ دے گا تو میں کس سے فریاد کروںگا۔ تیری عنایت شامل حال نہ ہوگی تو میں کس کےسامنے درد دل کا اظہار کروں گا اور تو مشکلات میںسکون نہ دے گا تو میں کس سے پناہ مانگوں گا۔ پروردگار! تو رحم نہ کرے گا تو میرا دوسرا کون ہے۔ اور تیرا فضل نہ ہوگا تو میں کس سے امید رکھوں گا ۔ وقت نکل جانے پرگناہ سے بھاگ کر کس کی طرف جاؤں گا۔ پروردگار ! میں تیرا امید وار کرم ہوں ۔مجھ پرعذاب نہ کرنا۔ میری امیدوںکو پورا کرنا ۔میرے خو ف کو تمام کردینا کہ اتنے گناہوں میںتیری مغفرت کے علاوہ کسی کی امید نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
 خدایا ! پروردگار ! تیری عزت و جلال کی قسم کہ اگر تونےمجھ سے میرے گناہوں کامحاسبہ کیا تو میں تجھ سے تیری معافی کا مطالبہ کروںگا۔ اور اگر تونے مجھ سے میری ذلت کے بارےمیں پوچھا تو میں تجھ سے تیرے کرم کے بارےمیںسوال کروںگا اور اگر تونے مجھے جہنم میںڈال دیا تو میں سب کو بتادوںگا کہ میں تیرا چاہنے والا تھا۔  پروردگار! اگر تو صرف اولیاء کرام اور اہل اطاعت ہی کو بخشےگا تو گناہگار کدھر جائیںگےا ور اگر صرف اہل وفا ہی پر نگاہ کرم کرے گا تو بد عمل کس سے فریاد کریںگے۔ پروردگار! تجھے معلوم ہے کہ اگر تو مجھے جہنم میں ڈال دے گا تو تیرے دشمن خوش ہوں گے اور جنت عطا کردے گا تو تیرا رسولؐ خوش ہوگا اورظاہر ہے کہ تو اپنے رسولؐ کی خوشی کو دشمن کی خوشی پر مقدم رکھے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروردگار! میں اپنے نفس، دین ، مال اور تمام نعتوں کےبارےمیں شیطان رجیم سے پناہ مانگتا ہوں۔ توبہترین سننےوالا اور جاننے والا ہے۔  معبود! تیرے غضب سےپناہ دینے والا کوئی نہیں ہے اور تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے۔لہٰذا مجھے عذاب میںمبتلا نہ کرنا ، ہلاکت میں واپس نہ کردینا اور عذاب الیم میں پلٹا نہ دینا۔ پروردگار! میرے اعمال کو قبول فرما۔میرے ذکر کو بلند فرما۔میرے درجات کو اعلیٰ قرار دے۔ میرے بوجھ کو ختم کردے۔ میری خطاؤں کو نظر انداز کردے۔ میری منزل ، میری گفتگو ،میری دعا سب کا ثواب جنت اور اپنی رضا کو قرار دیدے۔ میرے تمام مطالب کو پورا فرما اور مجھے اپنے فضل و کرم سےمزید عطا فرما کہ میںتیری ہی طرف متوجہ ہوں۔ 
 پروردگار! تونے اپنی کتاب میں ہم سے فرمایا ہے کہ ہم اپنے ظالموں کو معاف کردیں تو ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے تو اسے معاف کردے اس لئے کہ تو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہے اور تونے حکم دیا ہےکہ ہم اپنے دروازے سے سائل کو واپس نہ کریں تو ہم تیرے دروازے پر آئے ہیں۔ اب ہمیں بھی بغیر حاجتوں کو پورا کئے ہوئے واپس نہ کرنا۔ تونے حکم دیا ہے کہ ہم اپنے غلاموں سےنیک برتاؤ کریں ہم بھی تو تیرے بندے ہیں ۔ اب تو بھی ہمیں جہنم سے آزاد کردے۔ 
اے رنج و غم کی پناہ گاہ اور سختیوں کے فریاد رس! ہم تیری بارگاہ اور تیری پناہ میں حاضر ہوئے ہیں۔ تیرے علاوہ کسی کی پناہ درکار نہیںہے اور نہ کسی سے کشائش احوال کی التماس ہے۔ تو فریاد رسی کر۔ رنج و غم کو دور فرما، کہ تو اسیروںکا رہا کرنےوالا اور کثیر گناہوں کا معاف کرنے والا ہے ۔ میرے مختصر اعمال کو قبول فرما اور میرے کثیر گناہوں کو بخش دے ۔ تو بہترین مہربان اور بخشنےوالا ہے۔
 پروردگار! میں تجھ سے وہ ایمان مانگتا ہوں جو دل میں پیوست ہوجائے۔ اور اس یقین صادق کا طلب گار ہوںجس کے بعد یہ اطمینان رہے کہ جو میرے حق میں لکھ دیاگیا ہے وہ ضرور پہنچے گا۔ اب اپنی تقسیم سےمیری زندگانی کو خوش حال بنادے کہ تو ارحم الراحمین ہے۔
ابو حمزہ ثمالی کی شخصیت :
یہ دعا چونکہ امام زین العابدین علیہ السلام نے ابوحمزہ ثمالی کو تعلیم فرمائی تھی اس لئے آج یہ ’’دعائے ابوحمزہ ثمالی‘‘ ہی کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں پر مناسب ہے کہ اس عظیم الشان شخصیت کے بارے میں بھی ہمیں معلوم ہو: یہ عظیم عالم، متقی و پرہیزگار، آداب اہلبیتؑ سے آراستہ اور ان کے علوم و معارف کے حامل، کوفہ کے باشندےنام ثابت بن ابی صفیہ تھا ، ’ابو حمزہ ثمالی‘ کے نام سے مشہور تھے ۔[ثابت کے والد] ابی صفیہ کا نام دینار ہے اور وہی ابو حمزہ ثمالی ہیں(نجاشی، احمد بن علی، فہرست أسماء مصنفی الشیعہ(رجال نجاشی)، ص 115، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع ششم، 1365ش)۔قبیلہ ثمالی کی طرف منسوب ہیں جو بنی ازد کی ایک شاخ ہے اس قبیلہ کو ثُمالہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ثمالہ کے معنی بقیہ یا باقی چیز کے ہیں اور اس قبیلہ نے ایک جنگ میں شرکت کی جسمیں پورا قبیلہ کام آگیا صرف چند افراد باقی رہ گئے جنھیں ثُمالہ کہا جاتا تھا(نقوش عصمت، ص ۲۹۵)۔
ابو حمزہ ثمالی،امام زین العابدین علیہ السلام کے خاص صحابی تھے اور آپ سے خصوصی انس رکھتے تھے اس کے علاوہ امام محمد باقر علیہ السلام،امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے بھی صحابی تھے اور ان چاروں اماموں سے احادیث نقل کی ہیں(رجال نجاشی، ص 115؛ کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃ الرجال، ص 124، نشر دانشگاہ مشہد، 1348ش.) ابو حمزہ ثمالی ائمہ اطہار علیہم السلام کے صحابی،ثقہ اور قابل اعتماد شخص ہیں،یہاں تک کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ : "ابو حمزہ ثمالی اپنے زمانہ کے سلمان ہیں "۔(رجال نجاشی، ص 115.)۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ : "ابو حمزہ ثمالی اپنے زمانہ کے لقمان تھے،انھوں نے ہم معصومینؑ میں سے چار افراد، یعنی امام علی بن حسینؑ ،امام محمد باقرؑ،امام جعفر صادقؑ کے علاوہ امام موسی کاظمؑ کا ایک مختصر زمانہ درک کیا ہے" ۔۔(ایضا، ص 203.).کوفہ کے رہنے والے تھے اور وہاں کے زاہدوں میں شمار ہوتے تھے۔ابو حمزہ ثمالی اس قدر مشہور تھے کہ اہل سنت مثلاً ابن ماجہ (تہذیب التہذیب ۲؍۸) وغیرہ نے بھی ان سے روایت نقل کی ہے(ملاحظہ ہو: سبحانی، جعفر، موسوعۃ طبقات الفقہاء، ج 1، ص 304، قم، مؤسسہ امام صادقؑ، 1418ق.)۔یہ ان کی وثاقت و عظمت اور ایمان کی دلیل ہی ہے کہ ابن معین نے شیعہ و محب اہلبیتؑ ہونے کی وجہ سے ان پر تنقید کی ہے۔ (میزان الاعتدال ۱؍۳۶۳۔ تہذیب التہذیب ۲؍۷) 
ابو حمزہ ثمالی کے پانچ نیک اور صالح بیٹے تھے جن میں تین یعنی نوح،حمزہ اورمنصور نے کوفہ میں زید بن علیؑ بن الحسینؑ کے قیام میں شرکت کی ہے اور ان کے ہمراہ امویوں کا مقابلہ کیا (ایضا، ص 115.)
 ابو حمزہ کے یہ تینوں بیٹے قیام زید کے برجستہ ترین اور اہم افراد میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کے بیٹے کے ہمراہ ظلم کے خلاف قیام کیا۔جب جنگ اپنے شباب پر تھی، جناب زید بن علیؑ کے ساتھیوں نے کمزوری و شکست کا احساس کیا تو بہت سے افراد نے بیعت کو توڑ کر راہ فرار اختیار کی، صرف تھوڑے سے لوگ جناب زید کے ہمراہ باقی بچے جنمیں سے ابو حمزہ کے بیٹے نوح، حمزہ اور منصور تھے۔ ان لوگوں نے آخری وقت تک استقامت و ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور امام سجاد علیہ السلام کے بیٹے کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
ابو حمزہ کے دوسرے دو بیٹے علی اور حسین، امام موسی کاظم علیہ السلام کے زمانے میں زندہ تھے۔ یہ دونوں محدثین و فقہائے شیعہ میں شمار ہوتے ہیں اور امام موسی کاظم علیہ السلام و دیگر ائمہؑ سے روایات نقل کی ہیں۔(اعیان الشیعہ، ج۴ ،ص۱۰ و نامہ دانشوران، ج۱ ،ص۵۰)
ابو حمزہ ثمالی کے علاوہ ان کے خاندان کے افراد بھی سارے کے سارے عظیم شخصیتیں اورثقات تھے(رجال کشی، ص 406.)
تالیفات :
ابو حمزہ ثمالی کی تالیفات میں سے "تفسیر قرآن"(ابن ندیم نے اپنی کتاب ’فہرست‘ میں اس کو بیان کیا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل یہ کتاب ایران میں شائع ہوئی ہے)،"کتاب النوادر"(اس کتاب کا موضوع حدیث ہے اور اس کو حسن بن محبوب نے ابوحمزہ ثمالی سے نقل کیا ہے)،اور"کتاب الزہد۔(شیخ طوسی، الفہرست، محقق و مصحح: آل بحر العلوم، سید محمد صادق، ص 105، نجف، المکتبۃ المرتضویہ، طبع اول، )باقی بچی ہیں اور "رسالہ حقوق امام سجادؑ" جو اپنی نوعیت کا بے مثال رسالہ ہے، کو بھی ابو حمزہ ثمالی نے امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کیاہے۔(رجال نجاشی، ص 116. و من لایحضرہ الفقیہ)۔اور مورد بحث دعا جسے امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کیا۔
اس کے علاوہ ابو حمزہ ثمالی کے زرین آثار شیعہ و سنی کی اہم کتابوں میں مختلف موضوعات پر نظر آتے ہیں(من لایحضرہ الفقیہ۔ ج۲، ص۴۵۹ و قاموس الرجال، ج۲ ، ص۴۴۴)۔
وفات:
بعض مشہور روایتوں کے مطابق ابو حمزہ ثمالی نے سنہ۱۵۰ ھ میں وفات پائی ہے۔(شیخ طوسی، محمد بن حسن، الابواب (رجال طوسی)، محقق و مصحح: قیومی اصفہانی، جواد، ص 110، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع سوم، 1427ق.)۔ لیکن ابن سعد ان کی وفات کو منصور کی خلافت کے زمانہ میں جانتے ہیں۔(ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: عطا، محمد عبد القادر، ج 6، ص 345، بیروت، دار الکتب العلمیہ، طبع اول، 1410ق.)اور منصور کی خلافت ۱۳۶ سے ۱۵۸ ھ تک تھی۔ شیعوں کی احادیث کی شہرت یہ ہے کہ حسن بن محبوب، ابو حمزہ ثمالی سے حدیث نقل کرتے تھے، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ابن محبوب سنہ۲۲۴ھ میں فوت ہوئے ہیں اور اس وقت ان کی عمر ۷۵ سال تھی(لہذا حسن بن محبوب کا سنہ ولادت 149 ہجری ہےدیکھئے: امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعہ، ج 4، ص 9، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406ق.)۔ یعنی ابو حمزہ ثمالی کی وفات کے زمانہ [سنہ۱۵۰ھ]میں حسن بن محبوب دو سال سے کم تر عمر کے تھے ۔ پس جو تاریخ وفات ابن محبوب نے نقل کی ہے صحیح تر لگتی ہے،کیونکہ اگر ابو حمزہ ثمالی کی وفات کو ہم سنہ ۱۵۸ ھ مان لیں،تو اس زمانہ میں ابن محبوب کی عمر ۸ سال تھی اور اس قسم کی چیز کو ان کے ابو حمزہ ثمالی سے نقل کرنا  مناسب لگتا ہے(اعیان الشیعہ، ج 4، ص 10.)۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو بصیر سے فرمایا کہ ابو حمزہ سے ملاقات کرنا تو میرا سلام کہہ دینا اور کہنا کہ تم فلاں مہینہ میں فلاں دن انتقال کرجاؤ گے۔ ابو بصیر نے عرض کی کہ وہ آپ کے واقعی شیعوں میں ہیں؟ فرمایا: بیشک میرے پاس جو کچھ بھی ہے تم لوگوں کے لئے خیر ہے۔ ابو بصیر نے عرض کی کیا آپ کے شیعہ آپ کے ساتھ رہیں گے؟ فرمایا: بے شک اگر ان کے دل میں خوف خدا و رسولؐ ہے اور گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں تو یقیناً۔
مآخذ:
مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمیؒ
نقوش عصمت، علامہ ذیشان حیدر جوادیؒ
تحلیلی از زندگانی امام سجاد علیہ السلام، علامہ باقر شریف قرشی
ویب سائٹس
 ٭…٭…٭

پیر، 19 ستمبر، 2016

درس اخلاق

باسمہ تعالیٰ
جونوں کو نصیحت
جوادتبریزی
شیطان ہمیشہ تاک میں رہتا ہے اس لئے انسان اس حد تک تہذیب نفس رکھتا ہو کہ شیطان کو دھوکہ دینے اور غلبہ حاصل کرنے کی اجازت نہ دے لہذا قبل اس کے کہ پشیمان ہوئیے ،شیطان کو اپنے پاس سے بھگائیے ۔اس لئے کہ خدا نخواستہ اگر وقت پر اپنی فکر نہ کی تو ممکن ہے کہ آئندہ شیطانی وسوسوں سے اپنے کو بچا نہ پائیے۔جب تک آپ جوان ہیں موقع ہے کہ اپنے کو آزاد کیجئے۔آپ کے لئے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ایک دیندار شخص کو اپنا رہنما بنائیے۔جو خود صاحب کمال ہے اس کی مدد سے آگے بڑھیے اور اپنا کچھ وقت اس کے ساتھ گزاریے۔
کوشش کیجیے کہ متدین افراد کے ساتھ ہی معاشرت اور نشست و برخاست کیجیے اور جن لوگوں کے افکار اور طور طریقہ آپ کو گناہ کی طرف کھینچیں ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے بچیے۔شیطانی افکار کو اپنے ذہن سے دور کیجیے۔معنویات کی طرف متوجہ ہوئیے اور وعظ و نصیحت کی مجلسوں میں شرکت کیجیے۔ذکر الہی زیادہ کیجیے اور اپنے ہر کام میں خدا سے مدد طلب کیجیے ۔تنہائی میں زیادہ نہ رہیے۔اگر کسی طرح کا گناہ آپ کے ذہن میں آئے تو اپنی جگہ سے نکل کر ٹہلنا شروع کیجیے اور اپنے کو کسی کام میں مشغول کردیجئے تاکہ بری اور غلط فکر آپ کے ذہن سے نکل جائے۔
اس بات پر غور کیجئے کہ آپ کے شہوانی جذبات بھڑکنے کا اصل سبب کیا تھا؟ تاکہ بعد میں اس کا علاج کیجیے اور اس سے دوری اختیار کیجیے اس کام سے انشاء اللہ آہستہ آہستہ گناہ کے مسئلہ کو بھول جائیے گا۔اگر آپ یہ کام کرسکیں کہ جس وقت شیطان آپ پر غالب آتا ہے اس وقت وضو کرکے نماز پڑھنا شروع کردیں تو یہ کام بہت ہی زیادہ اثر انداز ہے۔اس میں ایسی برکتیں ہیں جو آپ کی اس مشکل سے نجات پانے میں معاون ثابت ہوںگی۔ 
کوشش کریں کہ ایسے کام انجام دیں جس سے حضرت امام زمانہ (عج) آپ سے راضی ہوں اگر جدّیت اور توجہ کے ساتھ درس پڑھیں اور احکام الٰہی کو تہذیب نفس کے ساتھ انجام دیں تو انشاء اللہ امام زمانہ ( عج) کے دل کو خوشنود کریں گے اور تحصیل علم کے راستہ میں خداوند عالم پر توکل اور ائمہ معصومین ؑسے توسل کرتے ہوئے سعی و تلاش کریں تاکہ اچھی طرح درس پڑھیں اور تحصیل علم میں جلد بازی نہ کریں جب تک ایک کتاب ختم نہ کرلیں اور اچھی طرح سمجھ نہ لیں ،دوسری کتاب شروع نہ کریں ، کوشش کریں کہ ایک کتاب ختم کرنے کے بعد اسے پڑھائیں ، جوانی اور عمر کے سرمایہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے بہت زیادہ مراقب رہیں اس لئے کہ جوانی زود گذر ہے اور فرصت بہت تیزی سے ہاتھ سے نکل جاتی ہے ، فرصت کو غنیمت سمجھیں اور خداوند عالم سے توفیق طلب کریں جو لوگ عمر کو برباد کرتے ہیں ان کے ساتھ دوستی سے بچیں ، شب نشینی اور لاحاصل وقت گزار نے سے پرہیز کریں ، کوشش کریں کہ دیندار ، مومن اور درس خوان افراد کے ساتھ نشست و برخاست کریں ، جوانی کے سرما یہ کو غنیمت جانیں اور ا س خدائی نعمت کو آسانی سے ہاتھ سے جانے نہ دیں۔
ہنسی مذاق ، کھانے میں نمک کی طرح ہے انسان کو چاہئے کہ بہت زیادہ ہنسی مذاق سے بچے ، بالخصوص جوان طلاب جو سازندگی کا دور گزار رہے ہیں ، خدا نخواستہ بہت زیادہ ہنسی مذاق دل کے مردہ ہونے کا سبب نہ بن جائے اس لئے کہ اگر ایسا ہوگیا تو اس حالت سے نکلنا بہت سخت ہے جوکام بھی کریں معقول ہونا چاہئے تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ کیسا طالب علم ہے جو اپنا وقت ہنسی مذاق میں گزارتا ہے یہ کیوں طالب علم بنا ہے ؟!
بہت زیادہ ہنسنا آپ کی شخصیت کو دیندار افراد کے سامنے کمرنگ کردیتا ہے ، اپنے دیندار اور مومن دوستوں کے ساتھ معقول و مناسب بحث وگفتگو کریں لیکن خیال رکھیں کہ اس میں جھوٹ، تہمت ، افتراء و بہتان اور کسی کو اذیت شامل نہ ہو، بات کرنے اور معقول مذاق میں ، شرعی و اخلاقی تمام جوانب کو مدنظر رکھیں ، طلاب کا وظیفہ درس پڑھنا اور خداوند منان پر توکل ہے ، ایسا کام کیجئے جس میں امام زمانہ (عج) کی مرضی شامل ہو، آپ کی ظاہری شکل وصورت اور آپ کی رفتار و گفتار ایسی ہونا چاہئے کہ اگر کوئی آپ کو دیکھے توخوش ہو اور آپ بھی ’’ کونوا لنا زینا‘‘ کا مصداق ہوں ، خدا آپ کو توفیق عطا کرے ۔
{وابتغوا الیہ الوسیلۃ} کا ایک مصداق دعا ہے جس میں حدیث کساء بھی شامل  ہے ، یہ بابرکت حدیث اہل بیت علیہم السلام سے توسل کا ایک واضح مصداق ہے ، اسے پڑھیں اس لئے کہ اس کے مضامین بہت ہی بلند ہیں بہت سے لوگوں نے مشکلات حل کرنے کے لئے اس کا تجربہ کیا اور نتیجہ حاصل کیا ہے ، انشاء اللہ امام زمانہ ( عج) کے لطف سے آپ کی مشکل بھی حل ہوگی ، خداوند عالم سے عبادت کی لذت طلب کریں۔(افق حوزہ)۔

انسان کاسب سے اہم لباس
مشکینیؒ
قرآن کریم و احادیث معصومین علیہم السلام سے استفادہ ہوتا ہے کہ خدا وند عالم نے انسان کے پانچ طرح کے لباس مہیاکئے اور بیان کئے ہیں جن میں سے چار قسمیں تو جسم کے لباس ہیں اور ایک روح کا لباس ہے البتہ ان میں سے ہر ایک کی اپنی جگہ پر اہمیت ہے۔ 
 آیۂ کریمہ، ’’ يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۔۔۔‘‘ (’اے اولادِ آدم! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جس سے اپنی شرمگاہوں کا پردہ کرو اور زینت کا لباس بھی دیا ہے‘ ۔سورہ اعراف آیت ۲۶)میںدو لباس کی طرف اشارہ ہوا ہے ایک کام و روز مرّہ کا لباس اور دوسرے تجمل و زینت والا لباس ۔ تیسرا لباس تمہارا قیامت کا لباس ہے جسے اسی دن میں مہیا کرکے اپنے ساتھ لے جاؤ اور وہ کفن ہے۔ لہٰذا جس کا بھی کفن جتنا حلال ہوگا اتنا ہی اس کا آخرت کا لباس بہتر ہوگا۔
 ایک روایت میںامام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ : انّا اھل بیت مھور نسائنا و حجّ صرورتنا و اکفان موتانا من طہرۃ اموالنا ( مستدرک ۸/۲۵) یعنی ہم اہل بیت اپنے مالوںمیںسے تین چیزوںکو بہترین اموال سے مہیا کرتے ہیں: عورتوں کا مہر ، حج اور کفن۔
 لہٰذا آ پ شیعیان اہل بیتؑ بھی کفن کو اہمیت دیجئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میںایک بزرگوار کے تجہیز وتکفین میںشریک ہوا تو دیکھا کہ انہوں نے اپنے کفن کے اوپر سرخ قلم سے پورا قرآن لکھ رکھا ہے۔ 
دوسرا لباس وہ ہے جو انسان کو حساب و کتاب کے بعد پہنایا جائے گا اور وہ جنت والوں کےلئے خالص ریشم نرم و نازک لباس ہوگا : وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ ۔ ( اور یہ باریک اور دبیز ریشم کے سبز لباس میں ملبوس ہونگے۔کہف آیت۳۱)
لیکن دوزخ والوںکے لباس کو قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے :  فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ ۔( پھر جو لوگ کافر ہیں ان کے واسطے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے۔حج آیت ۱۹) سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ  (ان کے لباس قطران کے ہوں گے۔ابراہیم آیت ۵۰)
پانچواں لباس، تقویٰ کا لباس ہےیہی سب سے اچھا اور سب سے بہترین لباس ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے :وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ(لیکن تقوٰی کا لباس سب سے بہتر ہے)۔آپ کوشش کیجئے گناہ نہ کیجئے خیال کیجئے اور کوشش کیجئے کہ مہینے اور سال گزر جائیں اور آپ کے نامۂ اعمال میںکوئی گناہ نہ لکھا جائے۔ اگر اس طرح کی قدرت و طاقت آپ کے اندر ہے تو بہت ہی اچھا ہے (نعم المطلوب) اور متقین میں سے ہیں اور اگر نفس ے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو خدا سے دعا کیجئے کہ آپ کو وہ نفس سے مقابلہ کرنےکی طاقت اور نفسانی خواہشات پر غالب آنے میںکامیابی عطا فرمائے۔ متقی انسان یعنی جس کے اختیار میںسب کچھ ہو ۔ اور جس کے پاس تقویٰ نہ ہو اس کا مطلب ہے اس کے پاس کچھ بھی نہیںہے۔ 
خدایا! جسے تونے تقویٰ عطا کردیا اسےکیا نہیں دیا اور جسے تقویٰ عطا نہیں کیا اسےکیا دیا ہے ؟!
 حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’کن مع الناس لا تکن معھم‘‘ یہ بات بظاہر متناقض ہے لیکن اس کے باطن میںسب کے لئے نکتہ اور اہم مطلب پوشیدہ ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جو بھی نیک کام انجام دیں تم اس میں ان کےساتھ شریک رہو ۔ مثلاً اگر لوگ نماز جماعت میں حاضر ہوں تو تم بھی حاضر ہو اور اسی طرح کسی بھی غلط کام میں لوگوں کےساتھ شرکت نہ کرو۔ امیرالمومنینؑ کا یہ کلام در حقیقت ایک آئینہ ہے جو حضرتؑ نے ہمارے اختیار میںدیا ہے۔ گناہ کا مطلب ہے کلام خدا کو رد کرنا۔ اس نے حکم دیا ۔ اپنی کتاب میںلکھا لیکن پھر بھی تم نے انجام دیا۔ یہی بے تقوائی ہے۔ گناہ کا اثر صحراؤں دریاؤں پر بھی ہوتا ہے۔ 
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ (روم آیت ۴۱)پیغمبر اسلامﷺ نے گناہ کے سلسلےمیں ایک جملہ فرمایا ہے : ’’تین گناہ ایسے ہیں جن کا اثر دوسرے گناہوں کےمقابلے بہت جلدی ظاہر ہوتا ہے :پہلے عاق والدین ہونا اور ماں باپ کو تکلیف پہنچانا ، لہٰذا اگر ماںباپ موجود ہوں تو ان کو راضی رکھئے عاق والدین کا اثر انسان پر بہت جلد ظاہر ہوتا ہے۔ بالخصوص اس کی عمر کو کم کرتا اور رزق و روزی کوکم کرتا ہے۔ 
دوسرا گناہ ظلم ہے ۔ کوشش کیجئے کسی پر بھی ظلم نہ کیجئے کسی کے حق کو ضائع نہ کیجئے۔ حضرت عیسیٰ بن مریمؑ سے نقل ہے :’’ سب سے سخت غضب خدا ہے ۔ پوچھا گیا تو کیا کریں کہ غضب خدا کاشکارنہ ہوں ؟ فرمایا : کوشش کرو کسی پر بھی ظلم نہ کرو۔ 
تیسرے کفران نعمت ہے ۔ اپنے وجود کی نعمت کا کفران نہ کیجئے ۔ اپنی آنکھوں کو حرام کاموںمیںاستعمال نہ کیجئے کہ یہ کفران نعمت ہے اپنی زبان اپنے اعضا و جوارح، اپنی دولت و پیسہ کو حرام کاموں میںمصرف نہ کیجئے کہ یہ کفران نعمت ہے۔ ہر ایک گناہ سے انسان کے تقویٰ کے لباس پر ایک دھبہ لگ  جاتا ہے گناہگار انسان کی ذمہ داری ہےکہ اس دھبہ کو دھوئے و صاف کرے۔ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے : ہمارے اس شیعہ کےلئے خوش نصیبی ہے کہ قیامت کے دن اس کے ہر گناہ کے ساتھ ایک توبہ ہو۔ توبہ سے گناہ کا دھبہ مٹ جاتا ہے لہٰذا خیال رکھئے کہ آپ کے تقوے کا لباس ہمیشہ پاک وپاکیزہ رہے ۔ خدایا ہم کو بخش دے ، ہماری مغفرت فرما۔ آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔خخخ
 اصلاح نفس
بہجتؒ
ظاہری و باطنی طور پر ہم جن چیزوں کا شکار ہوجاتے ہیں اس کے لئے کیا کریں؟ اندرونی و بیرونی اعتبار سے مبتلا ہونے میں ہم کیا کریں؟ ہم نے کیا کیا کہ ان چیزوں کا شکار ہوجاتے ہیں؟ اس کی بھی فکر کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں بھی توجہ دینا چاہئے۔ آخر ہم نے ایسا کیا کیا کہ جس کی وجہ سے ہم بغیر سرپرست کے رہ گئے؟
اصلی بات یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح نہیں کرتے اور نہ کیا ہے اور نہ کریں گے ۔ اہم اپنی اصلاح کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اگر ہم نے اپنی اصلاح کی ہوتی تو ان بلاؤںمیں مبتلا نہ ہوتے۔ 
پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ الااخبرکم بدائکم و دوائکم ، داؤکم الذنوب و دواؤکم الاستغفار‘‘۔ ( کیا نہیں چاہتے کہ میں تمہیں تمہاری بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں بتاؤں ۔ تمہاری بیماریاں و پریشانیاں تمہارے گناہ ہیں اور ان کا علاج استغفار و توبہ ہے )۔
 ہم چاہتے ہیں کہ جو ہمارا دل چاہتا ہے وہی کریں لیکن دوسروں کو حق نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ برائی کرے۔ہم اپنے ساتھ، اپنے اعزہ و رشتہ داروں کے ساتھ اور دوستوں کے ساتھ تو جو چاہیں کریں لیکن دوستوں کو اور دشمنوں کو حق نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ غلط طریقہ اپنائیں اور ہمارے ساتھ برائی کریں۔ اگر ہم اپنے کو صحیح کرلیں تو خدا ہی ہمارے لئے کافی ہے۔ خدا ہی ہادی ہےلیکن ہم خود کو صحیح کرنا نہیں چاہتے۔ اور کسی دوسرے سے تکلیف برداشت کرنا بھی نہیں چاہتے۔ جن کی فطرت میں اذیت و آزار ہے وہ اپنا کام کرتے ہیں مگر یہ کہ ایک کفالت کرنے والا اور حفاظت کرنے والا بچالے۔ اگر ہم خود صحیح راستہ پر ہوتے، صحیح راستہ طے کرتے تو کون امیر المومنینؑ کو قتل کرتا۔ کون امام حسینؑ کو شہید کرتا۔ کون امام زمانہ ؑ کو جو ہزار سال سے زیادہ سے ہیں مغلول الیدین کرتا؟
ہم اپنی اصلاح اور تہذیب نفس پر تیار نہیں ہیں۔ اگر ہم اپنی اصلاح کرلیں تو تمام افراد کی بتدریج اصلاح ہوجائے سبھی آہستہ آہستہ راہ راست پر آجائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہمارا دل چاہے تو جھوٹ بولیں لیکن کوئی دوسرا ہمارے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ ہم اپنوں کو، اپنے دوستوں کو اور اچھے لوگوں کو تو تکلیف پہنچائیں لیکن برے لوگوں کو حق نہ ہو کہ ہم کو اذیت دیں ۔دوستو! خدا کے ساتھ صلح و آشتی کرو وہ سارے کام حل کردے گا۔ کیوں خلوت و جلوت میں تنہائی و علی الاعلان جو بھی دل چاہتا ہے کرتے ہو؟ کیا خدا کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ:
۔۔۔وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ﴿٢﴾ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّـهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ﴿٣﴾ (سورہ طلاق، ۲و۳)
 ’’اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے۔اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال بھی نہیں ہوتا ہے اور جو خدا پر بھروسہ کرے گا خدا اس کے لئے کافی ہے بیشک خدا اپنے حکم کا پہنچانے والا ہے اس نے ہر شے کے لئے ایک مقدار معین کردی ہے‘‘۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ہم خدا کے ساتھ نہ ہوں اور خدا ہر چھوٹی بڑی چیز میں، ظاہری و باطنی امور میں ہمارا ساتھ دے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ لہٰذا دنیوی اور اخروی بلاؤں سے بچنے، داخلی و خارجی پریشانیوں سے نجات پانے کے لئے صرف یہی راستہ ہے کہ ہم خدائی ہوجائیں۔ خدا کےساتھ ہوں اور خدا والوں کی ہمراہی و پیروی کریں۔ اگر ہم انبیا و اوصیا سے دور ہوئے تو بلا فاصلہ ظاہر و باطن کے بھیڑیے ہم کو کھاجائیں گے۔ 
 اگر ہم خدا ترس ہوتے تو دوسرے ہم سے ڈرتے۔ جو لوگ نہیں پہچانتے کہ ہم کون ہیں؟ کیا ہیں؟ وہ کوئی ایسا کام کرنے سے ڈرتے ہیں جس سے ہم ان پر غضبناک ہوجائیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اب ہمارا غضب خدا کا غضب ہے، اگر ہم خدا کے ساتھ ہیں۔ 
 سید الشہداءؑ سے جناتوں نے کہا : اگر آپ اجازت دیں تو ہم بغیر کچھ کئے دشمنوں کو ہلاک کردیں۔ حضرت نے فرمایا: خدا کی قسم میری طاقت تم سے زیادہ ہے ( یہ وہی ہیں جن کو اسم اعظم معلوم ہے ) لیکن اگر مارا نہ جاؤں تو یہ لوگ جو اس طرح کے ہیں کیسے ان کا امتحان ہوگا۔ 
یہاں امتحان گاہ ہے اپنی اصلاح کی فکر کیجئے۔ اپنے اور خدا کے درمیان کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دیجئے۔ اگر آپ نے اصلاح و تہذیب نفس کرلیا اور اپنے و خدا کے درمیان اور اپنے و انبیاء اور اوصیا کے درمیان رکاوٹوں و موانع کو برطرف کرلیا تو خداوند عالم بھی آپ اور تمام مخلوقات کے درمیان اصلاح کردے گا۔ نوبت یہاں تک آئی کہ سقیفہ سے بلکہ اس سے قبل حجرہ سے آپس میں دشمنی پیدا ہوئی ان تمام کاموں کو ہم نے دیکھا ہے یہ ہمارا ہی کام ہے ورنہ کیوں مسلمان دشمن ہیں ایسا کیوں ہے؟۔ 
 یہ سب ہم دیکھ رہے یہ ہمارا ہی کام ہے۔ ان کا موں سے ہمیں توبہ کرنا چاہئے یا نہیں؟
 ہم تو بہ کریں، گریہ و زاری کریں، گڑگڑائیں، اس خدا کی بارگا ہ میں اسی کی طرف توجہ کریں تاکہ وہ ہمیں نجات عطا کرے پہلے ہم کو خود ہمارے شر سےاور ہمارے باطن سے پھر خارجی و ظاہری شر سے۔ اس لئے کہ ’’اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک ‘‘(تمہارا سب سے بڑا دشمن تو وہ تمہارا نفس ہے جو تمہارے دونوں پہلوؤں میں پایا جاتا ہے )
 یہ بے جا شہوتیں ، بے جا غضب سب شیطانوں کے لشکر ہیں۔ یہ کفار کے لشکر ہیں یہ سب تو خود انسان کے اندر ہی ہیں۔ جب نوبت یہاں تک پہنچا دی تو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا علاج استغفار و توبہ ہے۔ کیا استغفار کرتے ہیں؟ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ خدا کی طرف پلٹیں۔ اگر خدا کی طرف نہ جائیں اور موانع و رکاوٹیں بھی برطرف ہوجائیں تو وہ وقتی ہیں دائمی رکاوٹیں دور نہیں ہوتی ہیں۔ 
 ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا علاج تمام مراحل میں اپنے نفس کی اصلاح ہے۔ اس سے ہم بے نیاز نہیں ہوسکتے اور اس کے بغیر ہمارا کام پورا نہیں ہوسکتا۔ اس اعتراف کے ساتھ کہ جو بھی مصیبت آتی ہے جو بھی ہوتا ہے، اپنی ہی وجہ سے ہے تو جب تک ہم اپنی اصلاح نہ کرلیں خدا سے رابطہ بر قرار نہ کرلیں، خدا کے نمائندوں سے رابطہ برقرار نہ کرلیں اس وقت تک ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ ہم امام زمانہؑ سے اپنا رابطہ صحیح کریں۔ اپنی اصلاح کریں اپنے اوپر توجہ دیں اور یہ مسلّم ہے کہ جب تک ہم اپنی اصلاح نہ کریں اصلاح نفس نہ کرلیں اس وقت تک سماج و معاشرہ کی اصلاح بھی نہیں ہوسکتی۔ ززز
امام زمانہ ہمارے اعمال پر ناظر ہیں
امام خمینیؒ
آپ اس وقت خدا وند عالم اور امام زمانہ سلام اللہ علیہ و عجل اللہ فرجہ کی نگاہوں کے سامنے ہیںان کے زیر نظر ہیں، ملائکہ آپ کی نگرانی کررہے ہیں اور آپ کے نامۂ اعمال کو امام زمانہ عج تک پہنچاتے ہیں۔
اب غور کیجئے کہ آپ زیر نظر ہیں، آپ پر نگاہیں ہیں، روایت کے مطابق ہمارے نامۂ اعمال امام زمانہ عج کی خدمت میں ہفتہ میں دو دفعہ پیش ہوتے ہیں ۔ مجھے خوف ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک طرف ہمارا یہ دعوی کہ امام کے پیروکار ہیں، ان کے شیعہ ہیں، دوسری طرف اگر وہ ہمارے نامۂ اعمال کو دیکھیں اور دیکھیں کہ خدا کی نگاہوں کے سامنے ہوا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ امامؑ شرمندہ ہوجائیں۔ اگر آپ کا بیٹا غلط کام کرے تو آپ شرمندہ ہوتے ہیں ، اگر آپ کا نوکر غلط کرے تو آپ شرمندہ ہوتے ہیں ، سماج میں تو آدمی شرمندہ ہوتا ہے کہ بیٹے نے ایسا کام کردیا یا نوکر نے ایسا کام کردیا یا پیروکار نے ایسا کام کردیا ۔مجھے خطرہ ہے کہیں ایسا کام نہ ہو کہ امام زمانہؑ خدا کے سامنے شرمندہ ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ ہم سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجائے کہ جب لکھا ہوا پیش کیاجائے، وہ لکھا ہوا جس کیلئے ملائکۂ الہی ہمارے اوپر نگراں ہیں،ہمارے رقیب ہیں۔ ہر انسان کا رقیب ہے اور اس کی نگرانی ہوتی ہے، جو بات بھی دل میں آئے وہ زیر نظر ہے، ہماری آنکھوں کی نگرانی ہوتی ہے، کان زیر نظر ہیں، زبان کا رقیب ہے، ہمارے دل کی مراقبت و نگرانی ہوتی ہے۔ خدا نخواستہ ہم سے ، آپ سے اور امام کے چاہنے والوں سے کوئی ایسی بات سرزد ہوجائے جو امام زمانہؑ کی رنجیدگی و ناراضگی کا سبب ہو۔ اپنا خیال کیجئے، اپنی طرف توجہ دیجئے، اپنی مراقبت کیجئے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی یہ پاسداری و مراقبت اس دفتر میں ثبت ہوجائے جس میں صدر اسلام میں پاسداری کرنے والوں کی پاسداری و مراقبت ثبت ہے تو اسی طرح خیال کیجئے، اسی طرح مراقبت کیجئے جس طرح وہ لوگ اپنی پاسداری و مراقبت اور اپنا خیال کرتے تھے ۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ جب آپ کا نامہ عمل اور آپ کا کارنامہ امام زمانہؑ کی خدمت میں پیش کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ یہ آپ کے چاہنے والے اور آپ کے سپاہی کا اعمال نامہ ہے تو امامؑ دیکھ کر رنجیدہ ہوجائیں۔ دوستو! معاملہ اہم ہے۔ قتل و غارت گری کا معاملہ نہیں ہے۔ ہمارا قیام اور ہمارا نقلاب ، یک طاغوتی انقلاب نہیں ہے۔بلکہ ہمارا قیام و انقلاب ایک انسانی انقلاب ہے، ہم کتاب و سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیںآپ بھی کتاب و سنت پر عمل کیجئے۔
جب ہمارا اعمال نامہ امام زمانہ ؑ  کی خدمت میں پیش کیا جائے تو ہمارے اعمال ایسے ہوں جو ظاہر کررہے ہوں کہ ہم امام کے پیروکار اور ان کے تابع ہیں۔
خداوند عالم سے دعا کرتا ہوں کہ حضرت ولی ٔ عصر عج کے ظہور کو نزدیک فرمائے اور ہماری آنکھوں کو ان کے روئے مبارک کے ذریعہ روشن فرمائے۔ہم سب فرج کے منتظر ہیں ہم کو چاہئیے کہ اس انتظار میں خدمت کریں۔ انتظار فرج ، انتظار قدرت اسلام ہے ۔ ہم کو کوشش کرنا چاہئیے کہ دنیا میں اسلام کی قدرت عملی ہو اور انشاء اللہ ظہور کے مقدمات فراہم ہوں۔
خخخخ
طالب علم کا مقام و مرتبہ
مجتہدیؒ
احتضار کے وقت انسان سے قرآنی علوم کے علاوہ تمام علوم لے لئے جاتے ہیںلہذا اس علم کے پیچھے جائیے جو باقی رہنے والا ہے یعنی قرآن کو پڑھیے اور حفظ کیجئے اور یہ یادرکھئے کہ جنت کی لفٹ قرآن سے چلتی ہے ۔جتنا بھی پڑھیے گا اتنا ہی اوپر جائیے گا اور جہاں بھی نہیں پڑھا، لفٹ رک جائے گی اور اترنا پڑے گا ۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’حملۃ القرآن عرفاء اہل الجنۃ‘‘(کافی ج۲،ص۴۶) حاملین اور حافظین قرآن عرفاء اہل جنت ہیں۔ جب تک جوان ہیں قرآن حفظ کیجئے ، جوانی میں جو آیتیں میں نے حفظ کی تھیں ،وہ آج تک مجھے یاد ہیں، کوشش کیجئے روزانہ کچھ قرآن پڑھئے اور اس کے معنی میں غور و فکر کیجئے اور خداوند عالم سے چاہئے کہ وہ آپ کو عمل کی توفیق عطا کرے۔
امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے :’’ الا لاخیر فی قرائۃ لیس فیھا تدبر‘‘(کافی ج۱،ص۳۶)آگاہ ہوجاؤ کہ جس قرائت میں تدبر و غور وفکر نہ ہواس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔خداوند عالم قرآن میں بندوں سے شکایت کرتا ہے کہ قرآنی آیات میں غور وفکر اور تدبر کیوں نہیںکرتے؟ ’’ افلا یتدبرون القرآن ‘‘(نساء؍ ۸۲) امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: ’’ آیات القرآن خزائن فکلما فتحت خزانۃ ینبغی لک ان تنظر ما فیھا ‘‘ (کافی ۲،ص۹۰۶)۔قرآنی آیات خزانہ ہیں، لہذاجب بھی خزانہ کھلے تو تمہیں دیکھنا چاہئے کہ اس میں کیا ہے ؟
مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سید احمد خوانساری ، زخم معدہ کی وجہ سے ہاسپٹل میں بھرتی ہوئے ، اس وقت ان کی عمر ۸۹ سال تھی، ضعیفی اور کمزوری کی وجہ سے بیہوشی کے بغیر آپریشن ممکن نہ تھا ۔ دوسری طرف وہ بیہوش کرنے کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے اس لئے کہ ان کی نظر تھی کہ بیہوشی کے وقت مقلدین کی تقلید میں اشکال پیدا ہو جائے گا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ رپورٹوں کے مطابق آپ کا آپریشن ضروری ہے ۔ آیت اللہ خوانساری نے کہا: کوئی بات نہیں ہے ، جب بھی چاہو آپریشن کرو لیکن اس سے پہلے مجھے بتا دو تاکہ تلاوت قرآن اور اس میں توجہ کی وجہ سے بے ہوش کرنے کی تمہاری مشکل حل ہو جائے۔ ڈاکٹر نے کہا ٹھیک ہے اور آپریشن کی تیاری کرنے کے بعد کہا ہم آپریشن کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آیت اللہ خوانساری نے کہا : جب میں تلاوت کرناشروع کروں تو تم بھی اپنا کام شروع کر دینا۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ : جب انھوںنے سورۂ انعام کی تلاوت شروع کی تو میں نے پیٹ کا آپریشن شروع کیا ۔وہ اس طرح آرام سے لیٹے تھے جیسے مکمل بیہوشی میں یہ کام ہو رہا ہو۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ان سے کہا گیا جناب! ہمارا کا م ختم ہو گیا تو انھوںنے قرآن کوبند کیا اور کہا : صدق اللہ العلی العظیم ۔ 
میں نے کہا : جنابعالی آپ کے درد نہیں ہوا؟ جواب دیا : قرآن میں مشغول تھا۔ آپریشن کا پتہ بھی نہیں چلا۔ 
 عالم دین اور طالب علم، خدا و اہلبیت ؑ کے نزدیک بہت ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ طالب علم کو چاہئے کہ خدا کے لئے درس پڑھے ،اس کا رزق بھی پہنچ جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ ہمارے ائمہ  ؑ تو کام کرتے تھے مثلا ً حضرت علی ؑ کام کرتے تھے، تم کیوں نہیں کا م کرتے ؟ جواب دینا چاہئے کہ آنحضرت ؐ کا علم خدا کی جانب سے لدنی تھا، لیکن ہم کو چاہئے ک علم کسب کریں ۔اگر چوبیس گھنٹے بھی درس پڑھیں توکم ہے۔ 
امام جعفرصادق علیہ السلام نے طالب علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’طالب العلم یستغفر لہ کل شیٔ حتی الحیتان فی البحار و الطیر فی جو السماء( بحار الانوار ج۱ ،ص۱۷۳) 
طالب علم کے لئے ہر شئے استغفار کرتی ہے حتی کہ سمندروں میں مجھلیاں اور آسمانوں میں پرندے ۔ 
ایک طالب علم نے اپنے استاد اخلاق سے کہا : عوام ہمارا اس طرح احترام کیوں نہیں کرتی جس طرح احادیث میں آیا ہے بلکہ بسا اوقات ایسابھی ہوتا ہے کہ لوگ ہماری توہین کرتے ہیں ؟ استاد نے بات سمجھانے کے لئے اس کو ایک سونے کا سکہ دیا اور کہا جاؤ سبزی خرید لاؤ ، وہ گیا لیکن سبزی فروش نے سکہ نہیں لیا اور کہا پیسہ لاؤ تب سبزی دوں گا۔ واپس آگیا ۔استاد نے دوبارہ اس کو چاول، شکر اور روٹی وغیرہ کے لئے بھیجا لیکن ان لوگوںنے بھی سکہ نہیں لیا۔ وہ واپس استاد کے پاس آیا ۔ استاد نے کہا ۔ا ب سونا بیچنے والے کے پاس جاؤ اور یہ سکہ بیچ دو۔طالب علم گیا اور سکہ بیچ کر استاد کے واپس آیا ۔استاد نے کہا : جس طرح اس سکہ کی قدر و قیمت کو جوہر ی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اورکسی نے تم سے معاملہ نہیں کیا اسی طرح سمجھ لو کہ تمہاری قدر وقیمت کو بھی خداو ائمہؑ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
ایک دن میںآیت اللہ العظمیٰ بروجردی ؒکے پاس تھا ۔وزراء اور قوم کے رؤسا ان کے پاس آئے لیکن وہ ان کے لئے کھڑے نہیں ہوئے صرف یا اللہ کہا، اسی درمیان ایک طالبعلم داخل ہوا۔ آقائے بروجردی ؒ اس کے لئے پورے قدسے کھڑے ہو گئے تاکہ علم اور طلاب کی اہمیت کو بتائیں۔اسی طرح کا قضیہ آیت اللہ کاشانی کے یہاں بھی پیش آیا ۔ جب پارلیمنٹ کے ممبران اور رؤسا انکے پاس آئے وہ ان کے سامنے کھڑے نہیں ہوئے ، اور صرف فرمایا: آؤ یہاں بیٹھو،جب وہ لوگ بیٹھ گئے ، تو اچانک ایک طالب علم داخل ہوا۔ آقائے کاشانی انتہائی زحمت کے ساتھ پورے قد سے اس کے لئے کھڑے ہو گئے۔ وہ طالب علم متحیر رہ گیا لیکن میں سمجھ گیا وہ اس کام سے ان لوگوں کو طالب علم اور علماء کی اہمیت بتانا چاہتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ آپ بھی بعض لوگوںکی باتوں سے ناراض نہ ہوں بلکہ یہ یاد رکھیں کہ اگرہم اچھے ہوں تو عوام بھی ہمارے ساتھ حسن سلوک رکھیں گے ۔ ہم کو شکر کرنا چاہئے کہ ہم ایسے لباس اور ایسے راستے میں ہیں جس سے گناہگار شرم کرتے ہیں۔ظظظ
درس اخلاق
اشتہاردیؒ
رفتار و گفتار میں تامل:مراقبت و مواظبت کے معنی یہ ہیں کہ انسان جو بات بھی کرے اس میں تأمّل کرے ،غور و فکر کرے، ہر شخص خود اپنا حساب و کتاب جانتا ہے ، ’’ بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ‘‘ ماہ مبارک رمضان کے آثار میں سے ایک یہ ہے کہ دیکھے اس مہینے کے بعد بہتر ہوا یا نہیں؟ اگر وہ بری صفات جو ماہ رمضان سے پہلے تھیں اب وہ صفتیں اس مہینے کی برکت کی وجہ سے نہیں ہیں تو خدا کا شکر ہے کہ ماہ رمضان نے اس میں اثر کیا ہے ، امام خمینیؒ نے فرمایا ہے : بعض لوگ ائمہؑ یا امام زادوں کے حرم میں جاتے ہیں اور گریہ کرتے ہیں اگر حرم سے باہر آنے کے بعد اس میں بہتری پیدا ہوتو وہ گریہ کا اثر ہے یعنی گریہ اس لئے ہو کہ میں نے ایک عمر ترقی نہیں کی اگر ایسا نہ ہوتو یہ رونا دروغ و جھوٹ ہے۔
دنیاوی زندگی کی اہمیت: تمام نیکیوںاور برکتوں کا محور زندگی ہے اور اس صورت میں انسان اپنے کو کامل کرسکتاہے اور کمالات حاصل کرسکتا ہے لہذ زندہ رہنے کی توفیق کی وجہ سے ذات الہی کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اگرچہ زندگی میں بہت سے خطرات ہیں اور سب سے بڑا خطرہ گذشتہ اعمال کا محو ہوجانا ہے ، یہ ایک اہم مطلب ہے کہ انسان خیال رکھے کہ کہیں گذشتہ میں انجام دیئے ہوئے نیک اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔
عمل میں اخلاص: انسان کو متوجہ رہنا چاہئے اور اپنے اعمال و عبادات کو دوسروں کے لئے انجام نہ دے قصد قربت کا مسئلہ بہت ہی مشکل ہے اور اس کو باقی رکھنا مشکل تر ہے ، جن لوگوں نے تبلیغ دین کی ہے اگر کسی کی ہدایت کی ہے ، کوئی نیک کام انجام دیاہے ، مسجد و امام باڑہ بنایا ہے یا کچھ لوگوں کو دیندار اور نماز خوان بنایا ہے اور ۔۔۔ تو ضروری نہیں کہ ان باتوں کو دوسروں کے سامنے پیش کریں ، خد اکے تمام احکام و فرامین کو خلوص نیت کے ساتھ انجام دینا چاہئے اور درس پڑھنا و تبلیغ کرنا بھی اسی میں سے ہے ۔
طہارت کا استمرار:ابتدائے جوانی میں خدا کی طرف توجہ بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے کہ نہ کسی سے دشمنی ہوتی ہے ، نہ غرور و گھمنڈ ہوتا ہے اور نہ زیادہ آرزوئیں ، پاک و صاف ہوتا ہے لیکن جب لوگوں کے درمیان آتا ہے اس وقت بخل، کینہ ، حسد ، غیبت اور بہتان وغیرہ  پیدا ہوتا ہے ، یہ تمام کا م شیطانی کام ہیں ،خودسازی کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے تعلیم کے وقت بھی اور دوسرے اوقات بھی، شیطان مولویوں اور علماء سے زیادہ سر وکار رکھتا ہے ، ناجائز راستوں کو جائز پیش کرتاہے ، خداوند عالم بھی ا ہل علم کو ہر اعتبار سے زیادہ مورد امتحان قرار دیتا ہے اور علماء زیادہ معرض امتحان الہی میں ہوتے ہیں امام خمینیؒ کہا کرتے تھے : بعض مولوی حضرات منبر پر جاتے ہیں اچھی تقریر کرتے ہیں لیکن قیامت میں ان کوکوئی بدلہ نہیں ملے گا ، تم لوگوں کے لئے منبر پر گئے ،تم نے لوگوں کے لئے مجلسیں پڑھیں ، انہوںنے تمہاری تعریف کی ، واہ واہ کی اب ہم سے کیا چاہتے ہو؟!لہذا توجہ رکھئے ایسا نہیں ہے کہ جو بھی دینی تعلیم کی طرف آتا ہے وہ خدا کے لئے درس پڑھتا ہے ۔
زندگی میں حضور :اس بات کی طرف توجہ رکھئے کہ کبھی بھی اپنے کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھئے ، اگر تبلیغ کے لئے کسی گاؤں یا کسی بستی میں گئے تو اپنے کو تمام لوگوں سے نیچا تصور نہ کیجئے ، خدا وند عالم نے جناب موسیٰ سے خطاب کیا: اے موسیٰ! میری سب سے بری مخلوق کو میرے پاس لاؤ، جناب موسیٰ نے بہت زیادہ تلاش و جستجو کے بعد حتیٰ ایک مرا ہو ا کتا لانے سے بھی اجتناب کیا اور آخر میں خدا وند عالم کے سامنے عرض کیا : خدایا! میں نے اپنے سے برا کسی کو نہ پایا، میرزای شیرازی ؒ سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا کام کیا جس کی وجہ سے اس عظیم درجہ پر فائز ہوئے اور ایک دستخط کے ذریعہ استعمار کو شکست دیدی ؟ انہوںنے جواب دیا: میں نے کبھی بھی اپنے کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھا۔
درس آموز نکات:پیغمبر اکرم  ﷺ نے فرمایا: کوے سے تین چیزیںسیکھو، ایک پوشیدگی جو کنایہ ہے غیرت و عفت کا ، دوسرے یہ کہ کوے طلوع آفتاب سے پہلے جگتے ہیں ، بہتر ہے کہ انسان جو کام بھی انجام دینا چاہئے صبح تڑکے شروع کرے ، نیند چھوڑ کردرس میں حاضر ہو ، پیغمبر نے تیسری چیز بیان کی جسے کوے سے سیکھنا چاہئے وہ حذرہ ہے یعنی کوا جیسے ہی دیکھتا ہے کہ کوئی جھکا وہ فورا ًفرار کرتا ہے کہ مبادا وہ پتھر اٹھائے اور ماردے ، حذر کرتا ہے یعنی احتیاط کرتاہے ضروری نہیں کہ انسان سو فیصدی یقین کرے کہ فلاں چیز حرام ہے ، دیندار وہ شخص ہے کہ جب بات کرنا چاہئے تو اگر خوف ہو کہ غیبت ہوگی ، نہ کہے اور کچھ اپنے نفس کو مہار کرے ۔
توبہ سے بہتر ہے گناہ نہ کرنا:اگر انسان گناہان کبیرہ کو ترک نہ کرے تو گناہان صغیرہ بھی لکھ لئے جاتے ہیں لیکن اگر کبائر کو ترک کرے تو صغائر کو بھی خداوند بخش دیتا ہے جس طرح سے سر پر ہتھوڑا مارناجائز نہیں ہے اسی طرح جھوٹ بولنا بھی جائز نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بدتر ہے ، اس لئے کہ یہ علاج کے ذریعہ صحیح ہوجاتا ہے لیکن جھوٹ کے لئے توبہ کی ضرورت ہے اور توبہ کے بعد بھی عقب ماندگی ہے ، امام خمینیؒ اس سلسلے میں مثال دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : دو نئے لباس تصور کیجئے ، ایک کو پہن کر دھو چکے ہیں اور دوسرا پہنا نہیں گیا ہے ، کوئی بھی گندا نہیں ہے پھر بھی آپس میںفرق ہے ، توبہ بھی دھونے کی طرح ہے انسان ممکن ہے کہ کام کرے کہ اس کا لباس زیادہ گندا نہ ہو، اگر زیادہ گندا ہوجائے تو اس کا دھونا اور صاف کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔ 
 درس اخلاق
بہجتؒ
اول وقت نماز کی اہمیت:(آقائے قاضی مرحوم فرمایا کرتے تھے:)’’اگر کوئی شخص اول وقت نماز کا پابند ہو اور مقامات عالیہ تک نہ پہنچے تو مجھ پر لعنت کرے‘‘۔اول وقت میں ایک خاص راز ہے ’’حافظوا علی الصلوات‘‘یعنی نماز کی بجاآوری میں کوشاں رہیے،اس جملہ میں خود ایک نکتہ ہے جو ’’اقیموا الصلوۃ‘‘نماز پڑھیے ،کے علاوہ ہے۔اور اگر نمازی خیال رکھتا ہو اور پابند ہوکہ نماز کو اول وقت پڑھے تو یہ خود بہت زیادہ آثار رکھتا ہے اگرچہ حضور قلب بھی نہ رکھتا ہو۔
تفکر ایک سال کی عبادت سے بہتر!:نجف کے ایک بزگ عالم نے سحر کے وقت نماز شب کے لیے اپنے بیٹے کو پکارا اور کہا:اٹھو اور چند رکعت نماز شب پڑھ لو۔لڑکے نے جواب دیا:اچھا،وہ عالم نماز میں مشغول ہوگئے کچھ دیر کے بعد پھر دیکھا تو دیکھا کہ بیٹا نہیں اٹھا ہے۔دوبارہ پکارا کہ اٹھو اور چند رکعت نماز پڑھ لو،لڑکے نے پھر جوابدیا کہ:اچھا۔وہ عالم دوبارہ نماز میں مشغول ہوگئے لیکن دیکھا کہ بیٹا بستر سے نہیں اٹھ رہا ہے۔تیسری مرتبہ پھر پکارا ،تو بیٹے نے جواب دیا کہ :بابا جان میں تفکر کررہا ہوں ، جس کے بارے میں امام صادقؑ نے فرمایا ہے کہ:تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ سنۃ‘‘ وہ عالم سخت ناراض ہوئے اور کہا۔۔۔(آقای بہجتؒ نے وہ کلمات زبان پر جاری نہیں کیے لیکن ان کے شاگرد کے بقول کہ ہم لوگ سمجھ گئے کہ اس عالم نے کہا :)عبادت سے وہ تفکر ایک سال یا ساٹھ سال بہتر ہے جو انسان کو نماز شب پڑھنے کے لیے آمادہ کرے ،نہ یہ کہ نماز شب کے وقت انسان بستر پر پڑا رہے اور تفکر کرے اور اس بہانے نماز نہ پڑھے!؟۔
عمل صالح کی اہمیت:ایک دن نجف میں ایک عالم نے راستہ میں ایک فقیر کو ایک درہم صدقہ دیا۔رات میں خواب میں دیکھا کہ ان کو آراستہ باغ میں ایک عالیشان محل میں دعوت دی گئی ہے۔انھوں نے پوچھا کہ یہ باغ اور محل کس کا ہے؟ جواب ملا کہ تمہارا ہے۔انتہائی تعجب سے پوچھا کہ میں نے تو ایسا کوئی عمل انجام نہیں دیا کہ اس عظیم نعمت کا مستحق قرار پاؤں۔ کہا گیا:تعجب ہورہا ہے؟ کہا:ہاں!جواب ملا کہ تعجب نہ کرو، یہ تمہارے اس ایک درہم کی جزا ہے جسے تم نے خلوص نیت کے ساتھ فقیر کو دیا تھا!۔
نصائح: خ محبت اہل بیت علیہم السلام سے ہر گز دست بردار نہ ہوں اس لئے کہ اسی محبت میں تمام چیزیں ہیں ،اگر ہمارے پاس کوئی چیز ہے تو اسی محبت کی وجہ سے ہے۔
خشب عید غدیر اور اسی طرح کی دوسری راتوں میں ان راتوں اور ان دنوں کی فضیلت ،ان سے متعلق شخصیات کی عظمت و فضیلت،ان کے دشمنوں کے مطاعن،اور ولایت کے سلسلے میں وارد روایات کو دلیل و برہان کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے تاکہ سامعین کے مذہبی عقائد کی تقویت کا سبب بنیں ۔نہ کہ اس طرح کی مجالس ہنسی مذاق اور لہو ولعب میں گزار دی جائیں۔
خ خدا ہی جانتا ہے کہ اہل بیت رسالت علیہم السلام کی رحمت کتنی وسیع ہے!ان کی رحمت ،خداوند عالم کی رحمت واسعہ کے تابع ہے۔
خ ائمہ اطہار علیہم السلام خوف جہنم بھی رکھتے تھے اور شوق جنت بھی لیکن عبادت کو خوف و شوق میں نہیں انجام دیتے تھے۔
خ اگر امام کی معرفت آگے بڑھے گی تو خدا کی معرفت میں بھی اضافہ ہوگا اس لئے کہ امام ؑ سے بڑھ کر کون آیت ہے۔
خ ائمہ علیہم السلام ہم سے غافل نہیں ہیں گرچہ ہم ان سے غافل ہوجائیں۔خزیارت کی توفیق کا پیسہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خ جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ اہل بیت علیہم السلام اور ان سے مروی احادیث سے دوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔
خ نجات اس شخص کے لئے ہے جو اہل بیت علیہم السلام کو ہر جگہ اپنا مخاطب اور حاضر و ناظر سمجھے۔
خ ائمہ علیہم السلام کے نقش قدم پر چلیے نہ کہ دوسروں کے ،ہمیشہ علمائے دین سے رابطہ رکھیے ۔  
خجوانوں کو چاہیے کہ اپنے عقائد و اعمال کو مستحکم کریں اس لئے کہ ایسی صورت میں دنیا کی کوئی بھی بری ثقافت (یا کوئی بھی نقصان پہنچانے والی چیز )اثر نہیں کرے گی اور ان کو چاہیے کہ خدا پر توکل کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کریں اور عمل کریں۔
خیہ بات واضح ہے کہ اگر انسان عقیدہ و عمل دونوں اعتبار سے گناہ اور معصیت کو ترک کرے یعنی تمام گناہوں کو چھوڑنے کا دل سے قصد کرے اور ا س پر عقیدہ بھی رکھے اور عملی طور سے تمام گناہوں کو ترک بھی کرے اور کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو تو وہ دوسروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔دوسرے اس کے محتاج ہوتے ہیں لیکن وہ کسی کا محتاج نہیںہوتا۔اور اسکے ساتھ ہی ساتھ گناہوںسے بچنا ـــــ،حسنات ونیکیوں کے وجود میں آنے کاسبب بنتا ہے اور برائیاںوسیئات اس سے دور ہوتی ہیںیعنی اس کو توفیق حاصل ہوتی ہے کہ اچھائیوں کو انجام دے اور برائیوں سے بچے(وَماخلقتُ الجنّ والانس الالیعبدون)۔بندگی و عبادت یہ ہے کہ عقیدہ و عمل کے اعتبارسے بھی گناہوںکوترک کرے۔
خ  بعض افرادیہ خیال کرتے ہیںکہ ہم ترک معصیت کی منزل سے گزرچکے ہیںہم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا جبکہ اس بات سے غافل ہیںکہ گناہ صرف چندکبائرسے مخصوص نہیںہے یعنی ایسانہیںہے کہ صرف گناہانِ کبیرہ ہی گناہ ومعصیت ہوںاوران سے بچنے سے ترک معصیت انجام پارہاہے؛۔ایسانہیںبلکہ گناہان صغیرہ پراصراربھی گناہ کبیرہ ہے۔کوئی چھوٹایامعمولی گناہ ہے اگرہم اس کومستقل انجام دیںاوراس کی تکرارکریںتووہ بھی گناہ کبیرہ ہوجائے گا مثلااپنے نوکرکوڈرانے کے لئے اس کی طرف غضبناک نگاہوںسے دیکھنا بھی اذیت اورحرام ہے اسی طرح گنہ گارکی طرف مسکراکردیکھنابھی اس کی تشویق اورمعصیت میں مدد ہے لہذا اس طرح کے بظاہرچھوٹے اورمعمولی کام بھی معصیت اورگناہ ہیں۔
خ  علماء وصلحاء سے دوری بھی انسان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔جب انسان ایسے افرادسے دوررہتاہے توبسااوقات اس کاایمان ودین بھی بہت جلداس سے رخصت ہوجاتاہے۔
خ  خداکرے ہم صرف زبانی دعوے کرنے والے نہ ہوں،ہمارے پاس فقط لقلقۂ لسانی نہ ہوبلکہ عملی میدان میںہم آگے ہوں،جوکچھ کہیںاس پرعمل پیرا بھی ہوںاورعمل بھی بغیرعلم کے نہ کریںبلکہ علم کے ساتھ کریںاورعلم کے ساتھ ثابت قدم رہیں،جتنی باتیںجانتے ہیںاس پرعمل کریں اورجس کے بارے میںنہیںجانتے اسمیںسکوت اختیار کریںاوراحتیاط سے کام لیںتاکہ یقین حاصل کرلیںکہ قطعًا یہ راستہ پشیمانی والانہیںہے۔دوسروںکے اعمال پرنظرنہ رہے بلکہ شریعت کودیکھیںکہ وہ ہم سے کیاچاہتی ہے،کن چیزوںکاہمیں حکم دے رہی ہے اورکن چیزوںسے ہمیں روک رہی ہے؛اسی کے مطابق عمل کریں۔
خاحکام الہی کی انجام دہی ،خاصکرنمازمیںخضوع وخشوع پیداکرنے کے لئے نمازکے شروع میںامام زمانہؑ سے واقعی توسل کریں۔
خغصے کے علاج کے لئے پورے اعتقادکے ساتھ زیادہ سے زیادہ صلواۃپڑھیں(اللھم صلِّ علی محمدوآل محمد)
خاہلبیت علیہم السلام؛خصوصًاامام زمانہؑ کی محبت اپنے دل میں پیداکرنے کے لئے اللہ کی معرفت حاصل کریںپھراس کی اطاعت کریںاوراس کی محبت اپنے دل میںپیداکریں،اس لئے کہ خداسے محبت کرنامحمدوآل محمدؐ کی محبت کاسبب بنتا ہے۔
خقرب الہی حاصل کرنے کے لئے اپنااستاداپنے علم کوبنایئے؛جتنی باتیںجانتے ہیںسب پرعمل کیجئے،اپنی معلومات کوپیروںتلے نہ روندئیے۔
خاگرانسان اپنی تمام عبادات،خاصکرنمازجوسرفہرست ہے، اسکی اصلاح کرلے تووہ کامیاب ہوگا۔  
خہم شیعہ حضرات ہر روز امیر المومنین علیہ السلام،ائمہ معصومین علیہم السلام اور رسول اکرم ﷺکے سامنے زانوئے ادب کیوں نہیں تہہ کرتے اور ان کی حدیثوںمیں پوشیدہ بے شمار آداب و معارف اور حکمت پر کیوں نہیں توجہ دیتے۔
ختوسلات بہت ہی مفید ہے ،ان امام زادوں کی زیارت کے لئے زیادہ جائیے ،جس طرح ہر پھل ایک خاص وٹامن رکھتا ہے اسی طرح ان میں سے ہر شخصیت ایک خاص اثر اور خصوصیت رکھتی ہے۔
خشیعوں کا ایک امتیاز امام زادوں کی قبریں اور مزارات ہیں لہذا ان کی زیارت سے ہرگز غافل نہ ہوں اور اپنے کو اپنے ہی ہاتھوں محروم نہ کریں۔
خحقیرکی نظرمیںسب سے بہترین ذکر،ذکرعملی ہے؛عقیدہ وعمل میںمعصیت کوترک کرنا۔خ خ خ 

حضرت زینب علیہاالسلام

حضرت  زینب علیہاالسلام 
سید محمد حسنین ابقری
۱۵؍ رجب المرجب کی شب یعنی ۱۴ و ۱۵ کی درمیانی شب ۶۲ یا  ۶۵ ہجری میں ثانیٔ زہرا  حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی تاریخ ہے البتہ بعض دوسری تاریخیں بھی بیان ہوئی ہیں۔ آپؑ کی ولادت با سعادت مدینہ منورہ میں ہوئی ،تاریخ ولادت کے سلسلے میں بھی کتابوں میں مختلف تاریخیں بیان ہوئی ہیں۔مثلاً۵؍ جمادی الاولیٰ۶ھ؁ولادت کی تاریخ بھی بیان کی گئی ہے اس کے علاوہ یکم شعبان المعظم۶ھ؁، ماہ رمضان ۶ھ؁اور ربیع الثانی کا آخری عشرہ۵ یا ۶ یا ۷ ہجری۔(عقیلہ بنی ہاشمؑ، ص۵؛زینب الکبریٰؑ،ص۱۷؛منتخب التواریخ،ص۹۴ و ۹۵؛ریاحین الشریعہ،ج۳،ص۳۳ )
پدر بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام، مادر گرامی صدیقۂ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، نانا رسول اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،بھائی حسن و حسین علیھما السلام یعنی پنجتن پاک کے عصمتی حصار میں پرورش پانے والی ذات گرامی حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہیں۔ پھر یہ عظمت ہی ہے کہ دادا حضرت ابو طالبؑ ، دادی فاطمہ بنت اسدؑ، نانی حضرت خدیجۃ الکبریٰؑ تھیں اور شوہر نامدار جناب عبد اللہ ابن جعفر ابن ابو طالبؑ اور اولادوں میں علی، عون، عباس ، محمد اور ام کلثومؑ بیان کئے گئے جن میں سے عون اور محمد کربلا میں شہید ہوئے۔ 
کنیت:ام عبد اللہ ،ام کلثوم، ام الحسن ہے لیکن آپ کی خاص کنیتیں:ام المصائب،ام الرزایا اور ام النوائب ہیں۔
القاب: عقیلۂ بنی ہاشم، عقیلۃ الطالبین، صدیقۂ صغریٰ(اشارہ ہے ماں کی طرف کہ صدیقہ کبریٰ ہیں اور باپ صدیق اکبر ہیں) ، عصمت صغریٰ، ولیۃ اللہ ، الراضیۃ بالقدر و القضاء ( قضاء و قدر الٰہی پرراضی رہنے والی )،صابرۃ البلوی من غیر جزعٍ ولا شکوی ( بغیر بے تابی ، اور شکایت کے عظیم مصائب پر صبر کرنے والی) امینۃ اللہ، عالمۂ غیر معلمہ ، فھمہ غیر مفھّمہ ، محبوبۃ المصطفیؐ ، ثانیٔ زہرا، (ریاحین الشریفہ ۳/۴۸)
حضرت علیؑ کی نسل سے جناب زینبؑ کی اولادیں زینبی کے نام سے مشہور ہیں۔
رسول خداﷺ نے ولادت کے بعد آپ کا نام زینب رکھا۔ (چودہ ستارے صفحہ ۲۶۶از امام مبین صفحہ ۱۶۴) بروایتے ’زینب‘ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ’بہت زیادہ گریہ کرنے والی‘ کے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ لفظ ’’زین‘‘ اور’’اب‘‘ سے مرکب ہے یعنی ’باپ کی زینت‘ پھر کثرت استعمال سے زینب ہوگیا۔ اس روایت کی روشنی میں اگر غور کیا جائے تو ثانیٔ زہراؑ کی عظمت و مرتبہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طرف مولائے کائناتؑ کی ذات والا صفات جو تمام صفات و کمالات کا نمونہ اور مصداق کامل اور پھر جو ایسی ذات کے لئے زینت بنے !!؟
 ثانیٔ زہراؑ کا یہ کردار و عمل ہی تھا جس کی بنیاد پر علی علیہ السلام جیسے باپ کے لئے زینت قرار پائیں۔ اب ہر چاہنے والی کو سوچنا ہوگا کہ اس کا کردار اور اس کا عمل کیسا ہونا چاہئے!۔ ضروری ہے کہ ہر چاہنے والی کا کردار و عمل ایساہی ہو کہ وہ اپنے دین ، اپنے مذہب، اپنے خاندان، اپنے گھرانے کے لئے باعث زینت بنے باعث ذلت و رسوائی نہ بنے۔ 
حضرت زینب ؑکے سلسلے میں بعض کتابوں نے ایک جملہ لکھا ’’ان الحسینؑ کان اذا زارتہ زینب یقوم اجلالاً لھاوکان یجلسھا فی مکانہ ‘‘کہ جب شہزادی اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے تشریف لاتیں تو آپؑ ان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ جس طرح پیغمبراکرم ﷺ حضرت زہرا علیہا السلام کی عظمت کو بیان کرنے کے یہی عمل انجام دیتے تھے جیسا کہ سنن ابوداوود، حدیث ۵۲۱۲ و صحیح ترمذی حدیث ۳۸۷۲ میں ہے کہ جب بھی حضرت فاطمہؑ ،رسول کریمؐ کے پاس تشریف لاتی تھیں تو آنحضرتؐ کھڑے ہوجایاکرتے تھے اور اپنی جگہ پربٹھاتے تھے۔
شیخ جعفر نقدی نے اپنی کتاب ’’زینب الکبریٰ‘‘ میں یحییٰ مازنی سے نقل کیا ہے کہ میں ایک مدت تک مدینہ میں امیر المومنینؑ کا پڑوسی تھا۔ اسی گھر میں ان کی بیٹی جناب زینبؑ بھی تھیں لیکن خدا کی قسم میں نے کبھی نہ ان کے سائے کو دیکھا اور نہ کبھی ان کی آواز سنی۔ اور جب وہ اپنے نانا کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتیں تو رات کی تاریکی میں نکلتی تھیں۔ امام حسنؑ داہنی طرف ، امام حسینؑ بائیں طرف اور امیر المومنین ؑ آگے آگے ہوتے تھے۔ اور جب قبر مبارک کے نزدیک پہنچتیں تو امیر المومنینؑ آگے بڑھ کر چراغ کو گل فرمادیتے تھے۔ ایک دفعہ امام حسنؑ نے وجہ دریافت کی تو فرمایا: اخشی ان ینظر احد الی شخص اختک زینب  تاکہ تمہاری بہن کے قدو قامت اور پرچھائی پر کسی کی نگاہ نہ پڑ جائے ۔ حضرت زینبؑ نے اپنی چاہنے والیوں کے لئے جہاں ایک طرف حجاب و پردے کا پیغام دیا، وہیں سخت مصائب و مشکلات پر صبر اور اپنے فرائض و ذمہ داریوں کی سخت حالات میں بھی ادائیگی کا درس دیا ہے۔ ایسے سخت حالات اور مصائب و مشکلات میں گھر کر بھی حتیٰ کہ نماز شب کو بھی فراموش نہ کرکے عبادت الٰہی بالخصوص نماز کی اہمیت بتائی۔ پھر امیر المومنینؑ کی ظاہر ی خلافت کے دور میں کوفہ میں خواتین کو درس قرآن و احکام دے کر اگر طرف اس کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا تو دوسری طرف یہ بھی ثابت کردیا کہ اولاً عورتوں کے لئے بھی تعلیم ضروری ہے ثانیاً مکمل اسلامی حجاب میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے۔ 
جناب زینبؑ نے کربلا اور اس کے بعد کے تمام مصائب وآلام کو برداشت کرنے کے بعد ۱۴؍ رجب کو شام کے ایک باغ میں سر پر ایک شقی کے بیلچہ مارنے کی وجہ سے انتقال کیا۔
کارواں شام کی سرحد میں جو پہنچا سرِ شام
متصل شہر سے تھا باغ، کیا اس میں قیام
دیکھ کر باغ کو رونے لگی ہمشیر امامؑ
واقعہ پہلی اسیری کا جو یاد آیا تمام
حال تغییر ہوا فاطمہؑ کی جائی کا
شام میں لٹکا ہوا دیکھا تھا سر بھائی کا
بنت حیدرؑ گئیں روتی ہوئی نزدیک شجر
ہاتھ اٹھا کر یہ کہا: اے شجرِ بارآور
تیرا احسان ہے یہ بنتِ علیؑ کے سر پر
تیری شاخوں سے بندھا تھا مِرے مانجائے کا سر
اے شجر تجھ کو خبر ہے کہ وہ سر کس کا تھا؟
مالکِ باغِ جناں تاجِ سرِ طوبیٰ تھا
رو رہی تھی یہ بیاں کرکے جو وہ دکھ پائی
باغباں باغ میں تھا ایک شقیٔ ازلی
بیلچہ لے کے چلا دشمنِ اولادِ نبیؐ
سر پہ اس زور سے مارا کہ زمیں کانپ گئی
سر کے ٹکڑے ہوئے، روئیں نہ پکاریں زینبؑ
خاک پر گر کے سوئے خلد سدھاریں زینبؑ
شہزادی زینب کبریٰ ؑ کا روضہ آج شام(دمشق) میں مرجع خلائق ہے،جوکچھ عرصہ سے دشمنان اہل بیت کے حملے کی زد پر ہے،ضروری ہے کہ ہم اس سلسلے میں بارگاہ الٰہی میں دعا کے علاوہ ہر طرح کی کوشش کو بروئے کارلائیں اور دنیا سے ظلم و ستم اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے ایک ہوں اور مکمل طور پر ظلم و ناانصافی کے خاتمے اور دنیا میں واقعی طور عدل و انصاف قائم ہونے کے لئے نبیٔ رحمتؐ کے آخری جانشین کے ظہور میں تعجیل کیلئے دعا کریں۔
 ٭٭٭٭٭

اخباری کے سوالات اور شیعہ علی علیہ السلام کے جوابات

اخباری کے سوالات اور شیعہ علی علیہ السلام کے جوابات
سوال: 
i: میرے پیارے پیارے تقلیدی بھائیو ۔۔ !! 
کچھ سوال ھیں ۔۔۔ اگر ھوسکے تو جواب تو دو ؟
1 - رسول اللہ ﷺ کے دنیاوی خلفاء کو کیوں نہیں مانتے ؟؟ جبکہ امام کا نائب ایک غیر معصُوم کو مان کر " ولی الامر المسلمین بھی مانتے ھو ؟؟ یہ کیا تضاد ھے ؟ رسول کا نائب غیر معصُوم نہیں ھوسکتا تو امام کا نائب غیر معصُوم کیسے ھوسکتا ھے ؟؟ " 
جواب:
باسمہ تعالیٰ
سلام مسنون
میرے نادان اخباری بھائیو۔۔!!
تمہارے جوابات حاضر ہیں :
(1)رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نائب وہی ہوسکتا ہے جس کو خدا معین کرے لہذا ہم رسولؐ کے بعد انکو مانتے ہیں جن کو خدا نے معین کیا اور جن کا اعلان رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا۔ امامؑ آج بھی ہیں ، لیکن اس غیبت کے دور میں دین اور امام کے احکام تک رسائی ضروری ہے اس کے دوہی راستے ہیں: یا اتنا علم و صلاحیت ہو کہ مرضیٔ خدا و رسولؐ و امامؑتک خود پہنچ جائیں (جس کو اصطلاح میں کہتے ہیں کہ خود مجتہد ہوں)ورنہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ جامع الشرائط عالم کو ذریعہ بنائیں جسے اصطلاح میں تقلید کہتے ہیں(یعنی اپنی نادانی و لاعلمی کی وجہ سے امامؑ کی مرضی تک پہنچنے کے لئے عالم کو ذریعہ بنانا)۔ اولاً عقل کہتی ہے کوئی ذریعہ ہو پھر امامؑ کی نص موجود ہے ۔ رسولؐ کی نیابت قیامت تک ہے وہ صرف خدا کی طرف سے ہوگی لیکن غیبت کے زمانہ میں لوگ حقیقی دین سے جڑے رہیں اور ان تک امام ہی کا پیغام پہنچے وہ صحیح دین پر ہی عمل پیرا ہوں دشمن ان کو بہکانے نہ پائیں، حقیقی دین سے دور نہ کرنے پائیں؛ اس کے لئے ائمہ علیہم السلام نے ایک ذریعہ بتایا جسے مرجعیت کہتے ہیں ، امامؑ کی عدم موجودگی میں یہ امامؑ کے نائب ہونگے۔ انھیں امام نے خود نائب بنایا ہے اپنی زندگی میں بھی نائب بنایا مسجدوں میں بٹھایا یہ کہہ کر جاؤ مسجد میں بیٹھو فتویٰ دو، مختلف جگہوں پر نائب بناکر بھیجا ، امام زمانہؑ نے غیبت صغریٰ میں اپنے چار خاص نائب معین کئے اور غیبت کبریٰ کے لئے ائمہ علیہم السلام ہی نے نیابت کا سلسلہ قائم فرمایا۔ یہ نیابت حکم امام سے ہے اور اس میں تائید امام شامل ہے جس کے گواہ احادیث و واقعات ہیں۔ اگر اس نیابت پر اعتراض ہے پہلے امام پر اعتراض ہوگا جو نہیں ہوسکتا۔
سوال:
2 - جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو " اپنے جیسا " کہتے ھیں انکو بُرا کیوں سمجھتے اور کہتے ھو ؟ جبکہ تمہارے مجتہد بھی خود کو " آئیت اللہ ، حجّت الاسلام ، ولی الامر ، اھل الذکر ، انبیاء کے وارث کہتے ھیں ؟؟ یعنی یہ کہتے ھیں کہ " ھم ان جیسے ھیں ؟ " تو پھر انکو اچھا اور انکو برا کیوں ؟؟ یہ کیا تضاد ھے ؟؟ 
جواب:
(2)۔ کوئی بھی اپنے کو امامؑ جیسا نہ کہتا ہے اور نہ کہہ سکتا ہے ۔ الفاظ مشترک ہوتے ہیں ایک ہی لفظ کسی دوسرے کے لئے ساتھ استعمال ہونے سے وہ اس جیسا نہیں ہوجاتا۔ امام انسان بھی تھے، تو کیا اپنے کو انسان کہنے سے ہم امام جیسے ہوجائیں گے؟۔ امام مومن بھی تھے، کیا ہم اپنے کو مومن کہیں تو امام جیسے ہوجائیں گے؟ ہرگز نہیں۔تو کسی کو آیۃ اللہ یا حجۃالاسلام کہنے سے وہ امام جیسا ہرگز نہیں ہوجائے گا۔
سوال:
3 - اغیّار کہتے ھیں " سب صحابی ستارے ھیں کسی کی بھی پیروی کرو فلاح پاؤ گے " تو نہیں مانتے لیکن اپنے مجتہدوں کے اختلاف کے باوجود انکے فتوؤں پر یہ سوچ کر عمل کرتے ھو کہ " کسی بھی مجتہد کی پیروی کرو گے تو فلاح پاؤ گے ؟؟ کیا فرق ھے ان میں اور تم میں ؟؟ 
جواب:
()۳۔ پہلے مجتہد ہونا ثابت ہو (جس کے راستے و شرائط ہیں)، پھر غلطی کا یقین نہ ہو۔ اگر مجتہد ہونا ثابت نہ ہو اور شرائط نہ پائے جاتے ہوں تو تقلید نہیں کرسکتے اسی طرح اگر غلطی کا علم ہو تب بھی تقلید نہیں کرسکتے۔ وہاں حدیث میں ہے ہر صحابی کی پیروی سے نجات پاؤ گے یہ غلط ہے ۔اس لئے کہ اصحاب ظالم، منافق، گنہ گار، زناکار(مثلا خالد بن ولید) اور قاتل وغیرہ بھی تھے اس لئے ہر صحابی کی پیروی نہیں ہوسکتی۔  دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔یہاں قید لگائی گئی ہے :در اہل بیتؑ کا فقیہ ہونا ثابت ہو،نفس کی حفاظت کرنےوالا ہو، دین کا محافظ ہو،اپنے مولیٰ کے احکام کا پابند و پیروکار ہو،نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتا ہو(حدیث)۔   
سوال:
4 - وہ کہتے ھیں " رسول اللہ ﷺ نہیں رھے اس لیئے اب ھماری ذمّہ داری ھے تبلیغ کرنا اور امت کو لیکر چلنا " تمہارے مجتہد کہتے ھیں " امام غیبت میں ھیں اس لیئے ھماری ذمّہ داری ھے امّت کو لیکر چلنا ؟؟ " فرق کیا ھے ؟؟ 
جواب:
۴۔ پہلے جواب میں فرق بیان ہوچکا ، وہاں حکم رسول و خدا سے عدولی ہے یہاں حکم رسول و خدا و امام پر عمل ہے۔
سوال:
5 - جب نماز پڑھنا اور اوّل وقت مین پڑھنا اتنا ھی ضروری ھے اور ثواب بھی بہت زیادہ ھے تو دن میں پانچ اذانیں دے کر پانچ نمازیں کیوں نہیں پڑھتے ؟؟ 
جواب:
۵۔ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور پڑھنا بھی چاہئیے لیکن جب وقت آجاتا ہے اور رسولؐ نے بھی مختلف مواقع پر ساتھ پڑھی ہے جیسا کہ صحاح ستہ وغیرہ میں موجود ہے اور آج بھی تمام مسلمان حج میں ایک دن ظہر عصر کی ایک ساتھ اور ایک دن مغرب عشا کی ایک ساتھ پڑھتے ہیں جس سے ثابت ہے کہ وقت آجاتا ہے پھر کیا حرج ہے، بہت زیادہ یہ ہے زیادہ بہتر کا ترک ہے جیسے جماعت سے نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے تو کیا فرادیٰ غلط ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر شریعت میں آسانی ہے اور یہ شریعت سہلہ ہے اور آج آسانی ایک ساتھ میں ہے لہذا کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال:
6 - اذان و اقامت میں بقول تمہارے " علیُُ ولی اللہ " پڑھنا صرف " مُستحب " ھے تو پھر اسکو اپنی اذان سے ھٹا کر باقی مسلمانوں سے کیوں نہیں مل جاتے ؟؟ آخر اتحاد بین المسلمین کیلیئے اتنا بھی نہیں کرسکتے ؟؟
جواب:
۶۔اتحاد کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے اپنے عقائد و مسلمات کو چھوڑ دیا جائے ورنہ اگر تمام اہل سنت حضرت علیؑ کو جانشین بلافصل مان لیں تو سارا اختلاف ختم ہوجائے گا اور اتحاد قائم ہوجائے گا۔ ہم شریعت میں حکم خدا و رسول کے پابند ہیں جو امام یا رسول ہی بتائیں گے ، اذان میں ’علی ولی اللہ‘ کی اجازت امام کی طرف سے لہذا ہم کہتے ہیں۔
سوال:
7 - تقلید بقول تمہارے واجب ھے تو پھر مردے کو دفن کرتے وقت جس بیچارے نے زندگی بھر جس مجتہد کی توضیح المسائل پر عمل کیا اسکای یاد دھانی " تلقین میں کیوں نہیں کرواتے کہ آخر کو وہ ذمّہ دار ھے اسکے اعمال کا جو مرنے والے نے اسکے فتوؤں کے مطابق سرانجام دیئے ؟؟ " 
جواب:
۷۔جہالت اور لاعلمی میں زندگی گزارنا غلط ہے ۔ شریعت الہی پر عمل ضروری ہے۔ یا اتنا علم ہو کہ خدا کے احکام کو جان سکو اگر اتنا علم نہ ہو تو عالم کو ذریعہ بناؤ۔ تلقین میں کیا کہنا ہے یہ ہم اور تم طے نہیں کریں گے بلکہ امام بتائیں گے جس بات کے اقرار کے لئے امامؑ نے فرمایا ہے اس کا اقرار کیا جاتا ہے ۔ اگر امام نے فرمایا ہوتا کہ تلقین میں اپنے مجتہد کا نام لو ہم ضرور لیتے۔
سوال:
8 - کیا تمہارا مجتہد تم کو جانتا اور پہچانتا ھے کیونکہ جب محشر میں اسکی ضرورت پڑے گی تو " اگر اس نے قسم کھا لی کہ تمہیں اس نے زندگی میں کبھی دیکھا ھی نہیں تو کیا کرو گے ؟؟ " 
جواب:
۸ ۔ وہ صرف ذریعہ ہے جاننا پہچاننا ضروری نہیں ۔ اصل ہے دین خدا پر عمل ۔ ہرگز اس سے پوچھا نہیں جائے گا۔ اور یہ تقلید حکم امام سے ہم نے کی ہے۔پھر مجتہد سے پہلے تو باپ کا مرحلہ ہے کیا تم نے اپنے باپ سے لکھوا لیا ہے کہ تم اسی کی اولاد ہو ، اگر اس نے انکار کردیا تو!!!!
سوال:
9 - اپنے مجتہد سے کوئ پروانہ لکھوایا ھے کہ جس پر تحریر ھو کہ ۔۔ 
 میں فلاں مجتہد تصدیق کرتا ھوں کہ یہ شخص میرا مقلّد ھے اور جو یہ اعمال میرے فتوے کے مطابق کرے گا اسکا ذمّہ دار ھوں ؟؟ " نہیں لکھوایا تو کیوں ؟؟ آخر زمانہ خراب ھے بھئ ۔۔ لکھ پڑھ اچھی چیز ھوتی ھے نا ؟ 
جواب:
۹۔ یہ اعتراض پہلے امام پر کرو۔ ثانیا کیا تم نے اپنے بنائے ہوئے خلیفہ سے لکھوالیا ہے کہ رسولؐ کے بعد تم اس کو مانتے ہیں؟اپنے پیر صاحب سے لکھوا لیا ہے کہ تم اس کے چیلے ہو؟؟اس لئے کہ ہم کو اپنے ائمہؑ پر پورا بھروسہ ہے ۔ خلیفہ و پیر کا کوئی بھروسہ نہیں ہے لہذا اپنی فکر کرو۔
سوال:
10 - تقلید واجب ھے تو بتاؤ قبر یا حشر میں کسی معصُوم علیہ السّلام نے بتایا کہ " قبر یا حشر میں ایک سوال یہ بھی ھوگا کہ " من مُجتہدوک ؟؟ " تمہارا مجتہد کون ھے ؟؟ 
جواب:
۱۰۔ اس کا جواب پہلے جوابات سے واضح ہے۔ وہاں کیا پوچھا جائے گا یہ تم نہیں معین کروگے امامؑ نے معین فرمایا ہے۔ شریعت میں واجبات کی تعداد تو تم بھی نہیں بتاسکتے اور قبر میں ہر واجب کا نام نہیں پوچھاجائے گا۔
سوال:
11 - اپنے مجتہد سے کوئ ثبوت مانگا کہ وہ واقعی " نائب امام ھے بھی یا نہیں ؟ " اگر مانگا تو کیا ملا ثبوت ؟؟ اور اگر نہیں مانگا تو کیوں نہیں مانگا ؟؟ 
جواب:
۱۱۔ ہم نے امام علیہ السلام سے ثبوت مانگا ۔ امامؑ کا ثبوت ہمارے لئے کافی ہے۔ ہمارے یہاں شخص نہیں شخصیت ہے ۔ یہ چونکہ تمہارے یہاں ہے کہ خود معین کرتے ہو لہذا تم کو ثبوت کی ضرورت ہے ۔ ہم اُدھر کے معین کئے ہوئے مانتے ہیں اس لئے ہم کو ثبوت کی ضرورت نہیں۔ امامؑ نے معیار بیان فرمایا ہے ہم اس معیار پر پرکھتے ہیں پھر مانتے ہیں۔ 
سوال:
12 - جب تم یہ کہتے ھو کہ تقلید واجب ھے اپنے سے " اعلم " کی کیونکہ اسکا علم زیادہ ھے تو پھر تمہارے چھوٹے مجتہد اس بڑے " ولی الامر المسلمین " کی تقلید کیوں نہیں کرتے ؟؟ یہ کیا بات ھوئ کہ اگر آپ خود علم حاصل کرسکتے ھیں تو آپ پر تقلید واجب نہیں ؟؟ جبکہ جو زیادہ علم والا ھے وہ " ولی الامر المسلمین " سب نے مان لیا ؟؟ 
یہ کیسا " ولی الامر " ھے کہ جسکی اطاعت باقی مولویوں پر واجب نہیں ھے ؟؟ 
جواب:
۱۲۔ دین خدا اور مرضی خدا تک پہنچنے کے دو راستے ہیں ۔ خود اتنا جانتا ہو تو اس پر تقلید نہیں ہے، تقلید اس پر ہے جو مرضیٔ خدا و رسول تک نہ پہنچ سکتا ہے۔ اور تقلید کے صحیح ہونے کی یہ بہت ہی اہم دلیل ہے کہ تقلید واجب نہیں بلکہ دین سے بے بہرہ اور جاہل رہنا غلط ہے۔ یا عالم بنو تب تم پر تقلید نہیں ہے ورنہ عالم کے ذریعہ دین کو حاصل کرو۔ تاکہ غلط اور خود ساختہ ادیان سے محفوظ رہو۔
سوال:
13 - قرآن میں آیۃ اولی الامر کی تفسیر اغیّار نے کرتے ھوۓ کہا " جو صاحب حکومت ھو وہ اولی الامر ھوتا ھے " ۔۔ تمہارے مجتہدوں میں سے جسکے پاس حکومت ھے وہ باقی سب کا " ولی الامر المسلمین " ھوگیا ؟؟ کیا فرق ھے تم میں اور ان میں ؟؟ وہ غلط اور تم صحیح کیسے ؟؟ 
جواب:
۱۳۔ ہمارے یہاں اس آیت میں اولی الامر ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں جن کی اطاعت واجب ہے ۔ آج مجتہد طول میں ولی ہے نہ عرض میں یعنی امام کے برابر نہیں ہے بلکہ امام کے بعد ہے اور امام کی عدم موجودگی میں ۔ جس طرح امام کی ولایت خدا کی ولایت کے طول میں ہے عرض میں نہیں یعنی خدا کے برابر نہیں بلکہ خدا کے بعد اور خدا کے حکم سے ہے ۔ اسی طرح خدا کی طرف سے معین کئے ہوئے اولی الامر کی اطاعت مطلقا اور ہر حال میں واجب ہے اور یہ ان اولی الامر کی اطاعت ہی ہے کہ غیبت کے زمانے میں مجتہد کی پیروی کریں۔
سوال:
14 - جو تقلیدی ھیں وہ اپنے بچے کی پیدائش کے وقت اپنے مجتہد کی گواھی کیوں نہیں دیتے اسکے کان میں ؟؟ آخر کو اس نے بڑا ھوکر مقلّد تو بننا ھی ھے نا ؟؟ اور جسکی تقلید تم نے کی ھے اسے سب سے پہتر سمجھ کر ھی کی ھوگی ؟؟ 
چودہ پاک و پاکیزہ ، طاھر و مطاھر ، معصُوم و منصُوص من اللہ ، ھادیان برحق ، اصلی آیات اللہ و حجّۃ الاسلام محمّد و آل محمّد علیہ السّلام کے صدقے میں یہ چودہ سوال ھیں ۔۔ 
کوئ پیارا پیارا تقلیدی بھائ جواب دے گا ؟؟ 
میں منتظر ھوں ۔۔ !! :) 
بندہؑ علی ابن ابیطالب علیہم السّلام
جواب:
۱۴۔ اس سوال تک آتے آتے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ اعتراضات کسی وہابی کے ہیں جسے کسی اخباری نے اپنے مزاج کے مطابق پاکر اِدھر گھمادیا۔ ہم اُس معنی میں تقلیدی نہیں ہیں جو اہل سنت کے یہاں ہے ، گزشتہ کے جوابات سے ہمارے یہاں تقلید کا مطلب واضح ہوچکا ہے۔ پیدائش کے وقت جن چیزوں کی گواہی کے لئے امامؑ نے فرمایا ہے ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ کیا کوئی پیدائش کے بعد بچے سے یہ گواہی دلواتا ہے کہ تمہارا باپ فلاں ہے؟؟!!
خداوند عالم کی توفیق اور چودہ طیب و طاہر ، عالم علم لدنّی ،معصُوم، منصُوص من اللہ ، ہادیان برحق ،مظہر صفات خداوندعالم یعنی محمّد و آل محمّد علیہم السّلام کے صدقے میں یہ چودہ سوالوں کے جوابات اپنے نادان اخباری بھائیوں کی خدمت میں حاضر ہیں، مزید جتنے سوالات ہوں جب بھی چاہو کرسکتے ہو ،باب العلم کے صدقے میں جوابات دئے جائیں گے اس لئے کہ ہم تو چودہ سوسال سے زیادہ تر اعتراضات کے جوابات ہی دے رہے ہیں کاش لوگ حق کو پہچان لیں اور در اہل بیتؑ سے وابستہ ہوجائیں تاکہ ان کی دنیا و آخرت سنور جائے۔ 
الحمد للہ الذی جعلنا من المتمسکین بولایۃ علی ابن ابی طالب والائمۃ علیھم السلام و ذریتھم 
 ہم کو آج ناز ہے کہ شیعہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔ ہم نے رسول و آل رسول علیہم السلام ہی کے ذریعہ خدا کو پہچانااور انھیں کے ذریعہ خدا کے دین و احکام اور شریعت کو لیا۔ غیبت کے زمانے میں اسی الہی دین و شریعت کو علی علیہ السلام اور ان کی معصوم اولاد کے بتائے ہوئے افراد سے لیا ہے ۔ خدا کا شکر اور محمد و آل محمد علیہم السلام کا احسان و کرم ہے کہ ہم نے اپنی مرضی والے دین کو نہیں مانا ہے ،اور نہ دین میں اپنی مرضی کو داخل کرنے کی کوشش کی۔ خدایا ہم کو علی و اولاد علی علیہم السلام کی ولایت پر آخری دم تک باقی رکھنا اور اس سلسلے سے جوڑے رکھنا جس نے غیبت کے زمانے میں ہم کو دین علیؑ سے ہٹنے نہ دیا ہم کو علیؑ کی مرضی پر باقی رکھا اور وہ ہمارے مجتہدین ہیں۔ خدایا علی علیہ السلام کی صدقے میں ان علمائے حقہ و مجتہدین کرام کو ان کی زحمتوں و قربانیوں کا اجر عطا فرما۔آمین۔خدایا! ہم کو آپس میں اختلاف و انتشار سے بچنے کی توفیق عطا فرماجس سے دشمنان اہل بیتؑ خوش ہوتے ہیں،اتحاد و بھائی چارگی کی توفیق عطا فرما جس سے اہل بیتؑ خوش ہوتے ہیں۔آمین ۔   فقط: بندۂ خدائے علی علیہ السلام