پیر، 19 ستمبر، 2016

شب براءت

شب براءت
علامہ سید علی حیدر نقوی طاب ثراہ(متوفی ۱۳۸۰ہجری)
مدیر اول:ماہنامہ اصلاح،کجھوہ
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سیدنا محمدو آلہ الطیبین الطاہرین۔
خداوندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
’’ یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اﷲِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاﷲُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ‘‘
یعنی (یہ لوگ )چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے پھونک مار کر بجھادیں اور اللہ تو اپنے نور کو (کامل طورپر) پھیلاکر رہے گا۔ گوکافروں کو (براہی کیوں نہ) لگے۔ (پ؍۲۸، ع؍۹، ترجمہ ڈپٹی نذیر احمد صاحب دہلوی)
اسی مضمون کو خدا دوسری جگہ اس طرح بھی فرماتا ہے:
’’ یُرِیدُونَ أَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اﷲِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَی اﷲُ إِلاَّ أَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ‘‘یعنی چاہتے ہیں کہ خدا کے نور (اسلام) کو منھ سے (پھونک مار کر) بجھادیں اور خدا کو منظور ہے کہ ہر طرح پر اپنے نور کی روشنی کو پورا کرکے رہے اگرچہ کافروں کو برا(ہی کیوں نہ لگے)( پارہ۔۱۰، رکوع؍۱۱، ترجمہ ڈپٹی نذیر احمد صاحب دہلوی)
دونوں آیتوں میں خدا دوباتوں کا اعلان فرماتا ہے: ایک یہ کہ لوگ خد اکے نور کو بجھانے کی کوشش کریںگے۔ دوسرے یہ کہ خدا اپنے نور کو پھیلاکررہے گا اور اس کے بجھانے والوں کی کوشش بے کار جائے گی۔ اب ان دونوں آیتوں میں تین باتیں خاص طور پر دیکھنے کی ہیں۔ اول یہ کہ یریدون سے کن لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے یہ کہ نور سے کیا چیز مراد ہے۔ تیسرے یہ کہ خدا اپنے نور کو کس طرح پھیلا کررہتا ہے:
یریدون سے کون مراد ہیں؟:
پہلی بات یہ کہ یریدون سے کون لوگ مراد ہیں؟۔ کوئی شک نہیں کہ دونوں مقاموں میں ان آیتوں سے قبل یہود ونصاریٰ کا ذکر ہے مگر دونوں جگہ خدا نے یریدون فعل کا استعمال کیا اور فاعل کو حذف کیا ہے جس سے ہم عام مخالفین حق کو بھی مراد لے سکتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو خدا کے مقابلہ میں دین حق کے خلاف کوششیں اور ارادہ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے دونوں آیتوں کے آخر میں ’’ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ‘‘  لکھا ہے جو یقینا یہودونصاریٰ سے عام ہے۔ اور اس میں وہ کفار بھی داخل ہیں جو یہودونصاریٰ نہیں ہیں۔ پس جب خدا نے آخر میں لفظ کافروں سے ہرکافر کا ذکر کیا اور یہودو نصاریٰ کی خصوصیت باقی نہیں رکھی اور سیاق وسباق کی حیثیت اٹھادی تو یریدون میں بھی ماننا پڑے گا کہ خدا نے کسی خاص جماعت یا امت کو مراد نہیں لیا ہے بلکہ ہر اس فرقہ کی طرف اشارہ کیا ہے جو خدا کے مقابلہ میں اس کے کسی امر کو دبانے، مٹانے اور کمزور کرنے کی کوشش یا تمنا کرتے یا ارادہ رکھتے ہیں خواہ وہ فرقہ کفار کو ہو (مثلاً یہود ونصاریٰ یا بت پرست) خواہ اسلام ہی کے گمراہ فرقوں سے کوئی جماعت ہو۔ اس لئے کہ خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ھٰوُلآءِ یُرِیدُونَ‘‘یعنی یہ لوگ ارادہ کرتے ہیں یا ’’ان الکفار یُرِیدُونَ‘‘یعنی کافر ارادہ کرتے ہیں بلکہ عام لفظ یریدون استعمال کیا ہے جس سے صرف یہی معلوم ہوا کہ لوگ ارادہ کرتے ہیں جو جس جس فرقہ کو ہم خدا کے مقابلہ میں ارادہ یا کوشش کرتے پائیں ہم اس کو یریدون کے فاعلوں کی فہرست میں درج کرسکتے ہیں۔
لفظ ’نورہ‘ سے کیا مراد ہے؟
اب یہ امر قابل غور ہے کہ نورہ   (خدا کے نور) سے کیا مراد ہے۔ جب اس آیۃ کے لفظ الکافرون کو ہم نے یہودونصاریٰ سے بھی عام مانا اور یریدون کی ضمیر فاعل کو الکافرون سے بھی عام تسلیم کیا جس میں کفار کی ہر جماعت داخل ہے اور وہ جماعت بھی داخل ہے جو اسلام میں رہ کر گمراہ ہو، تو ماننا پڑے گا کہ خدا کے نور سے بھی مراد صرف اسلام نہیں ہے کیونکہ اس میں بھی بہت سے لوگ خدا کے خلاف ارادہ کرنے والے ہیں بلکہ اس سے مراد ہر امر حق اور صراط مستقیم ہے خواہ وہ یہود ونصاریٰ وبت پرست کے مقابلہ میں اسلام ہو یا اسلام ہی کے ۷۲ گمراہ فرقوں کے مقابلہ میں (ایمان ) ہو۔ ورنہ قول خدا مہمل قرار پائے گا کہ اس نے ارادہ کرنے والوں کو توعام رکھا اور نورہ سے مقصود خاص اسلام کو قرار دیا اور خدا کا کوئی قول یا قرآن مجید کی کوئی آیت مہمل یا کسی طرح قابل اعتراض نہیں ہوسکتی۔
قرآن مجید کی دوسری آیت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ خدا نے نور سے خاص ایمان کو مراد لیا ہے جیسے فرمایا:
’’ اﷲُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُہُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَوْلِیَاؤُہُمْ الطَّاغُوتُ یُخْرِجُونَہُمْ مِنْ النُّورِ إِلَی الظُّلُمَات‘‘  یعنی اللہ ایمان والوں کا حامی ومددگار ہے کہ ان کو (گمراہی کی) تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لاتا ہے اور جو دین حق سے منکر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں کہ ان کو ایمان کی روشنی سے نکال کر (گمراہی کی) تاریکیوں میں لاتا ہے۔ (پارہ ۳ رکوع۲)
یا دوسرے مقام پر فرمایا: ’’ھوالذی یصلی علیکم وملائکتہ لیخرجکم من الظلمات الی النور و کان بالمومنین رحیما‘‘ یعنی وہی خدا ہے جو تم پردرود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ خدا تم کو (گمراہی کی) تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لے جائے اور خدا ایمان والوں کے حال پر مہربان ہے۔ (پارہ ۲۲، رکوع؍۳) معلوم ہوا کہ نور سے مراد ایمان ہے نہ اسلام۔ ورنہ خدا بجائے کان بالمومنین رحیما کے کان بالمسلمین رحیما فرماتا۔
ایک اور مقام پر فرماتا ہے: یھدی اللہ لنورہ من یشاء یعنی اللہ اپنے نور کی طرف جس کو چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے۔ (پارہ ۱۸ رکوع ۱۱) اس سے بھی ایمان ہی کی طرف اشارہ ہے نہ عام اسلام کی طرف کیونکہ اسلام میں بھی تو گمراہ فرقے ہیں اور معلوم ہے کہ خدا جس چیز کی طرف ہدایت کرے گا اس میں گمراہی نہیں ہوسکتی ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا ہے ماکنت تدری ماالکتاب ولا الایمان ولکن جعلنہ نور انھدی بہ من نشاء من عبادنا۔ یعنی تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کس کو کہتے ہیں مگر ہم نے اس کو ایک نور بنادیا ہے کہ اپنے بندوں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ (پارہ ۲۵؍ر کوع ) یہاں بھی نور سے مراد اسلام نہیں ہے کیونکہ خدا نے اس کا نام تک نہیں لیا بلکہ ایمان کا ذکر کیا ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا یوم یقول المنافقون والمنافقات للذین آمنوا انظرونا نقتبس من نورکم۔ یعنی قیامت کے منافق مرد اور عورتیں ایمان والوں سے کہیںگی کہ تم ہمارا انتظار کرو کہ تمہاری اس روشنی (ایمان) سے ہم بھی فائدہ اٹھالیں۔ (پارہ ۲۷، رکوع ۱۸) یہاں بھی اسلام کا کوئی ذکر نہیں۔ لہٰذا خاص ایمان ماننا پڑے گا۔
خدا اپنا نور کس طرح پھیلاتا ہے؟
تیسری بات یہ دیکھنے کی ہے کہ خدا اپنا نور کس طرح پھیلاتا ہے وہ اس طرح ہوتا ہے کہ جو لوگ اس پر ایمان لانے والے اور اس کے (احکام کے پیرو ہوتے ہیں وہ تو اس کا پھیلنا پسند کرتے ہی ہیں مگر خدا ایسا انتظام کرتا ہے کہ جو لوگ اس کو بجھانا چاہتے ہیں ان کے ہاتھوں سے بھی اس نور کو پھیلاتا ہے اور ان کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کس طرح ان کی دلی خواہش اور پوری کوشش کے بالکل خلاف وہ امر حق پھیلتا جارہا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا واقعہ ہوا کہ جب فرعون کو معلوم ہوا کہ اسی کی رعایا سے ایک پیغمبر مبعوث ہوکر اس کو تباہ وبرباد کرے گا اور اس نے اس نور خدا کے بجھانے (یعنی اس پیغمبر کے روکنے) کی یہ تدبیر کی کہ بنی اسرائیل میں جو فرزند نرینہ پیدا ہوتا تھا اس کو قتل کرادیتا تھا تو خدا نے اسی فرعون کے ذریعہ سے اپنے نور (حضرت موسیٰ کی پیغمبری) کو پھیلایا اس طرح کہ جب حضرت موسیٰ پیدا ہوئے تو ان کی ماں نے ایک صندوق میں بند کرکے ان کو دریائے نیل میں بہادیا وہ صندوق بہتا ہوا محل فرعون میں پہنچا۔ فرعون کی زوجہ آسیہ نے اس صندوق کو نکلوا کر کھولا تو اس میں ایک بچے کو دیکھا (جو حضرت موسیٰ تھے) اس بچہ کی محبت آسیہ کے دل میں پیدا ہوگئی۔ اس نے فرعون کی بہت کچھ خوشامد کرکے اس صاحبزادے کی پرورش کی اجازت حاصل کرلی اور اس طرح حضرت موسیٰ نے فرعون ہی کے محل میں پرورش پائی جس سے خدا نے دکھایا کہ فرعون جس نور خدا کو بجھانا چاہتا تھا اس کو اس نے اسی کے ذریعہ سے دنیامیں پھیلادیا۔
حضرات اہلسنت کے ذریعہ سے شیعہ مذہب کی اشاعت:
بالکل اسی طرح خدا نے یہ انتظام فرمایا کہ حضرات اہلسنت جو مذہب شیعہ کا دنیامیں باقی رہنا کسی طرح پسند نہیں کرتے اور اس نور خدا کے بجھادینے کی ہرممکن کوشش شروع سے کرتے آرہے ہیں۔ مذہب حق شیعہ اثنا عشری کو اس طرح پھیلاتے رہتے ہیں کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ کس طرح خدا ان ہی کے ذریعہ سے اس دین حق کی اشاعت فرمارہا ہے جس سے خدا کی قدرت کو ماننا پڑتا ہے کہ واقعاً وہ جو چاہتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے اور دنیا بھر مل کر بھی اس کے کسی ارادہ کو روک نہیں سکتی۔
مثلاً عزاداری حضرت سید الشہداء علیہ السلام جو مذہب حق شیعہ کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہے خدا اس کو زیادہ تر حضرات اہلسنت ہی کے ذریعہ سے پھیلاتا رہا ہے جس قدر عزادار حضرت امام حسین علیہ السلام آج تک دنیا میں گزرے ان کا دسواں حصہ بھی شیعہ نہیں ہوںگے۔بلکہ زیادہ حضرات اہل سنت ہی تھے جنہوںنے تعزیہ بنایا بھی۔ اٹھایا بھی، گشت بھی کیا پھر سپر، اکھاڑے وغیرہ کل اسباب ولوازم عزاداری کی آبادی بھی زیادہ تر وہی حضرات کرتے رہے۔ اس وقت بھی دنیا میں جس قدر عزادار ہیں ان میں غالب حصہ حضرات اہلسنت ہی کا ہے بلکہ شیعہ ان کے مقابلہ میں پانچواں حصہ بھی نہیں نکلیںگے۔ کیا قدرت خدا ہے کہ اس کے روکنے کے لئے ان کے علماء فتویٰ دیتے ہیں۔ اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ وعظ بیان کیے جاتے ہیں مگر خدا اپنا نور ان حضرات سے پھیلاتا جارہا ہے۔ حضرات ہنود سے جنگ ہوتی ہے مقدمہ بازی کی نوبت آتی ہے مگر یہ حضرات اس کو اسلام کی عظیم الشان خدمت سمجھ کر پورے استقلال سے انجام دیتے جاتے ہیں۔
شب براءت:
منجملہ ان امور کے جو مذہب شیعہ کی حقیقت کے ادلہ ہیں اور جنکو خدا نے حضرات اہلسنت کے ذریعہ سے پھیلادیا ہے اس ماہ کی شب برأت بھی ہے جو ایسی تقریب ہے جس کو کل مسلمان پورے دھوم دھام سے انجام دیتے ہیں۔ اس میں ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ بوڑھے، جوان، عورت مرد اور بچے تک کو حد درجہ کی خوشی ہوتی ہے۔ سب اس میں عمدہ لباسوں کا بنوانا اور اس روز پہننا اپنا ضروری فعل سمجھتے ہیں گھر گھر حلوے بننا لوازم اسلام سے خیال کیاجاتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس رات اس قدر خوشی اور جشن کا سامان ہوتا ہے اور سنی وشیعہ، جاہل، عالم، عورت، مرد، بوڑھے، جوان سب ہی اس میں حصہ لیتے ہیں اور سب ہی اس کو اپنی مذہبی شادمانی کی رات تسلیم کرتے ہیں جو احترام اس رات کا کیاجاتا ہے اس کا دسواں حصہ بھی شب قدر کا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس میں کچھ لوگ عبادت کرتے ہیں اس کے علاوہ نہ کوئی خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ نہ فرحت کا اہتمام۔ نہ کسی تقریب کا عنوان قرارپاتا ہے۔ نہ کسی جشن کا سامان۔ نہ اس کے لئے جدید لباس بنوائے جاتے ہیں نہ کسی گھر میں کوئی چہل پہل کی جاتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے لئے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی رات اور معراج کی رات بھی خوشی کی راتیں ہیں مگر کوئی سامان کہیں نہیں ہوتا اور جو ہوتا بھی ہے وہ گویا عدم کے برابر ہے لیکن شب برأت کی عظمت اسلام میں کسی طرح عید بقر عید سے کم نہیں ہوتی ۔توکیا یہ اہتمام خود بخود پھیل گیا؟ یا کسی غیبی طاقت نے اس کو پھیلا رکھا ہے؟ کیا اس رات کے جشن وشادمانی کا سامان کسی انسانی قوت کا نتیجہ کہا جاسکتا ہے؟ یا کسی بالائی قدرت کا کرشمہ ہے؟
شب براءت کی لفظی تحقیق:
عام طور پر یہ لفظ شب برأت بولا جاتا ہے تو اس کی تحقیق کیجئے کہ یہ ہے کیا؟۔ شب فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے رات۔ اب برأت کیا ہے؟ اس میں تین احتمال ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اصل میں بارات ہو اور کثرت استعمال سے برات ہوگیا۔ یا برات ہی ہو یا برأت ہو اور بہت زیادہ مستعمل ہونے سے اب برات رہ گیا ہو۔
پہلا احتمال کہ بارات ہوتو ہونہیں سکتا کہ یہ لفظ نہ عربی زبان کا ہے نہ فارسی زبان کا اور شب یقینا فارسی زبان کا لفظ ہے اور فارسی کے علم نحوکا قاعدہ ہے کہ اس زبان کا لفظ یا فارسی زبان کے کسی لفظ کی طرف مضاف ہوگا۔ یا عربی زبان کے کسی لفظ کی طرف۔ جیسے شب جشن، شب شادمانی۔ شب پنجشنبہ، شب یکشنبہ وغیرہ جس میں کل مضاف الیہ فارسی ہی زبان کے الفاظ ہیں۔
یا جیسے شب جمعہ، شب عید، شب معراج، شب عافیت وغیرہ جس میں سب مضاف الیہ عربی زبان کے الفاظ ہیں۔ برخلاف اس کے ہندی یا سنسکرت لفظ کی طرف فارسی کا کوئی لفظ مضاف نہیں ہوتا۔ جیسے شنبہ کو ہندی زبان میں سنیچر کہتے ہیں۔ اس شب کو سنیچر کی طرف مضاف کریںگے تو غلط ہوگا اور کوئی باخبر شخص شب سنیچر نہیں بولے گا۔ اسی طرح بیاہ ہندی زبان کا لفظ ہے۔ کوئی شخص اس کی طرف شب کا مضاف شب بیاہ بولے گا تو جاہل سمجھاجائے گا۔ اس وجہ سے ماننا پڑے گا کہ شب برات میں برات در اصل بارات نہیں تھا نہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ ترکیب صحیح ہی نہیں ہے۔ اب دوسرے احتمال کو ملاحظہ فرمائیے کہ یہ لفظ برات ہی ہو اور اس میں کوئی تغیر نہ ہوا ہو تو برات کا لفظ فارسی زبان میں موجود ہے اس کا معنی یہ لکھا ہے ’’برات فارسی میں حصہ اور وہ کاغذ جس کے ذریعہ سے کسی کا روزینہ خزانہ سے ملتا ہو۔ (مولف۔)
سب کو پہنچاتا ہے وہ روزی رساں
تازہ روزی روز اور تازہ برات
(جامع الغات مطبوعہ لکھنؤ جلد اول ص؍۱۷۶)  اور دوسری کتاب میں یہ ہے ’’برات لفظ فارسی است کاغذ نوشتہ کہ بموجب آں از خزانہ زردبدست آید‘‘ یعنی برات فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی وہ کاغذ ہے جس کی وجہ سے خزانہ سے روپیہ ملتا ہو۔ (غیاث اللغات ص؍۷۰)
اس اعتبار سے یہ مرکب نام ’’شب برات‘‘ مہمل قرار پاتا ہے کیونکہ اب اس کا معنی ہوگا کاغذکی رات۔ یا اس کاغذ کی رات جس کی وجہ سے خزانہ سے روپیہ ملتا ہو۔ تو اس کاکیا مطلب ہوگا؟ اور رات کو اس سے کیا تعلق ہوا جس کی وجہ سے برات اس کا مضاف الیہ ہوا۔ خزانہ کے کاروبار زیادہ تر دن کو ہوتے ہیں رات کو نہیں اور خزانہ سے روپیہ بھی عموماً دن ہی کو برآمد ہوتا ہے۔ پس اگر یہ لفظ واقعاً فارسی زبان کا برات ہی ہوتا تو شب برات نہیں بولا جاتا۔ نہ اس طرح ہرشخص کے زبان زد ہی ہوتا بلکہ ’’روز برات‘‘ مشہور ہوتا۔ اور پھر سال بھر کا صرف ایک ہی دن یا ایک ہی رات ’’روز برات‘‘ یا شب برات کیوں ہوگی۔ کیا خزانہ سے روپیہ برآمد کرنے کا کاغذ سال بھر میں صرف ایک ہی دن یا ایک ہی رات کو ملتا ہے کسی ملک کا یہ قاعدہ نہ سنا گیا ہے کہ اس کے خزانے سے روپیہ ایک ہی دن یا ایک ہی رات کو ملتا ہے۔ ان دنوں میں بھی جب تک اور چک جاری ہیں۔ کیا کسی بینک کے متعلق یہ سناگیا کہ اس سے روپیہ سال بھر میں ایک ہی دفعہ اور کسی خاص روز یا رات ہی میں برآمد کیاجاتا ہے غرض یقینا ماننا پڑے گاکہ شب برات اصلی صور ت میں نہیں ہے اور نہ اس کے لفظ برات کا معنی وہ ہے جو فارسی زبان میں مستعمل ہے۔
البتہ فارسی زبان کی لغت کی کتابوں میں ’’شب برات‘‘ کا معنی ایسا لکھا ہوا ہے جس سے قرینہ قائم ہوتا ہے کہ اس میں برات فارسی ہی زبان کا لفظ ہے ایک کتاب میں ہے ’’شب برات‘‘ شعبان مہینہ کی پندرہویں رات کو جس میں ملائکہ حکم ربانی سے انسان کی عمر حساب اور رزق کے تقسیم کی فرد ایک سال کے واسطے لوح محفوظ سے نقل کرلیتے ہیں اور اسی کے مطابق تمام سال ملتا رہتا ہے۔ رباعی از مولف۔
شب برات اے دوستوکیا رات پیاری رات ہے
سربسر عشرت کا دن فرحت کی ساری رات ہے
وصل کی حاصل اگر اس ماہ روسے ہو برات
عید کے دن سے مبارک یہ ہماری رات ہے
( جامع الغات مطبوعہ لکھنؤ ج؍۶، ص؍۸۹)
اور دوسری کتاب میں ہے ’’شب برات‘‘ باضافت،شب پانزدھم ماہ شعبان کہ درایں شب ملائکہ بحکم الٰہی حساب عمر وتقسیم رزق می کنند۔
یعنی شب برات میں لفظ برات مضاف الیہ ہے لفظ شب کا اور یہ ماہ شعبان کی پندرہویں رات ہے جس میں فرشتے خدا کے حکم سے زندگی کا حساب اور روزی کی تقسیم کرتے ہیں۔ ‘‘(غیاث اللغات ص؍۲۷۳) مگر احادیث اہلسنت سے اس امر کی تائید نہیں ہوتی کہ اس شب کو زندگی کے حساب اور روزی کی تقسیم سے کچھ خصوصیت ہے۔ اس وجہ سے مذکورہ بالابیان نہیں مانا جاسکتا ہے۔
شب ۱۵ شعبان کے فضائل:
چنانچہ حضرات اہل سنت کے احادیث کی جامع کتاب میں ہے:
(۱) ان اللہ تعالیٰ لیطلع فی لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ الاالمشرک اومشاعن۔ یعنی شب ۱۵؍شعبان کو خدا طلوع کرتا ہے تو اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے سوا اس کے جو مشرک ہو یا لوگوں سے دشمنی کرتا ہو۔
(۲) فی لیلۃ النصف من شعبان یوحی اللہ الی ملک الموت یقبض کل نفس یرید قبضھا فی تلک السنۃ ۔ یعنی شب ۱۵؍شعبان میں اللہ ملک الموت کو ہر اس روح کو قبض کرنے کی وحی کردیتا ہے جس کو وہ اس سال بھر میں قبض کرنا چاہتا ہے۔
(۳) (ترجمہ) یعنی جب ۱۵؍شعبان آئے تو تم لوگ اس میں رات بھر عبادت کرو اور اس کے دن کو روزہ رکھو کیونکہ اس رات میں اللہ آفتاب غروب ہوتے ہی دنیا کے آسمان پر اترآتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ کوئی مغفرت چاہنے والا ہے تاکہ میں اس کو بخش دوں؟ کوئی روزی چاہنے والا ہے تاکہ میں اس کو رزق دوں؟ کوئی مصیبت زدہ ہے تاکہ میں اس کو آرام دوں؟ کوئی سوال کرنے والا ہے تاکہ میں اس کو عطا کروں؟ ایسی ہی باتیں صبح تک کرتارہتا ہے۔
(۴) اذاکان لیلۃ النصف من شعبان نادی مناد ھل من مستغفر فاغفر لہ ھل من سائل فاعطیہ فلایسائل احد شیئا الا اعطاہ الا زانیۃ بفرجھا اور مشرک۔
یعنی جب ۱۵؍شعبان کی رات آتی ہے تو ایک منادی پکارتا ہے کہ کوئی مغفرت چاہنے والا ہے تاکہ میں اس کو بخش دوں؟ کوئی سوال کرنے والا ہے تاکہ میں اس کو عطا کروں؟ تو جو شخص جس بات کی دعا مانگتا ہے خدا اسے وہ دیدیتا ہے سوائے زنا کرنے والی عورت اور مشرک کے کہ ان دونوں کی دعائیں مقبول نہیں ہوتی ہیں۔
(۵) ولوکان لیلۃ النصف من شعبان یغفر اللہ من الذنوب اکثر من عدد شعر غنم۔ یعنی جب ۱۵؍شعبان کی رات آتی ہے تو جس قدر بھیڑ اور بکری کے بدن پر بال ہوتے ہیں اس سے بھی زیادہ گناہوں کو خدا بخش دیتا ہے۔
(۶) ان اللہ تعالیٰ یغفر لیلۃ النصف من شعبان للمسلمین ویملی للکافرین ویرع اھل الحقد بحقدھم۔یعنی ۱۵؍شعبان کی رات کو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بخش دیتا اور کافروں کو مہلت دیدیتا اور کینہ والوں کو ان کے کینوں کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے۔
یہ کل حدیثیں کنزالعمال میں موجود ہیں۔ (مطبوعہ حیدر آباد دکن ج؍۶، ص؍۲۶۷) 
اس میں کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس سے حساب عمر یا تقسیم رزق کی خصوصیت ظاہر ہو۔ بلکہ زیادہ تر فضائل گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے برأت ہی کے ملتے ہیں اور لفظ استغفار کی بار بار تاکید بھی بتاتی ہے کہ اس رات کو زیادہ خصوصیت گناہوں کے بار سے نکلنے اور عذاب جہنم سے بچنے ہی سے متعلق ہے اور فارسی زبان کے لفظ برات کو گناہوں کی مغفرت یا حاجات کے برآنے سے کوئی ربط نہیں ہے اور نہ کسی تاویل بعید سے یہ معنی اس سے نکل سکتا۔
اس لئے کہ برات کا معنی خاص وہ کاغذ ہے جس کے بموجب خزانہ سے روپیہ ملتا ہے۔ تو ان احادیث میں کون سی حدیث ایسی ہے جس کا کوئی اشارہ بھی ایسے کاغذ یا ایسے خزانہ کی طرف ہو۔
ان وجوہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شب برات میں مضاف الیہ فارسی لفظ برات نہیں ہے بلکہ عربی لفظ براءت ہے جس کا معنی بچنا۔ محفوظ رہنا، بخشاجانا۔ معاف کیاجانا ہے اور کنزالعمال کی مذکورہ بالا احادیث سب کی سب اسی تحقیق کی تائید وتصدیق کرتی ہیں۔ دوسری کتابوں کی حدیثیں بھی اس کی مؤید ہیں۔ چنانچہ شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں:
(ترجمہ) یعنی نوفل بکالی سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک دفعہ پندرہویں شعبان کی رات کو گھر سے نکلے اور کثرت سے اس رات حضرت باہر نکلتے رہے۔ دنیا کے آسمان کی طرف حضرت نظر فرماتے اور ارشاد کرتے تھے کہ حضرت دائود علیہ السلام ایک رات کو ایسے ہی وقت میں نکلے تھے اور آسمان کی طرف نظر کی تو کہا یقینا یہ وہ ساعت ہے جس میں جو شخص خدا سے جو دعا مانگے گا وہ ضرور قبول کی جائے گی اور اس ساعت میں جو شخص خدا سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے گا اس کے گناہ ضرور بخش دیئے جائیںگے بشرطیکہ وہ لوگوں کے مال کا دسواں حصہ لینے والا اور ساحر اور کاہن اور نجومی اور ظالم بادشاہوں کا سپاہی اور تحصیلدار اور طبلہ والا نہ ہو۔ اے اللہ اے حضرت دائود کے پروردگار جو شخص آج کی رات تجھ سے دعا کرے یا تجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے اس کو بخش دے۔(ماثبت بالسنۃ مطبوعہ لاہور ص؍۸۱)
اس روایت سے معلوم ہواکہ پندرہویں شعبان کی رات ایسی جلیل القدر ہے کہ حضرت دائود پیغمبر علیہ السلام کے زمانہ میں بھی بافیوض وبرکات سمجھی جاتی اور حضرت بھی اس رات کو گھر سے باہر نکلتے اور خدا سے دعا فرماتے تھے بلکہ حضرت رسول خداؐ بھی اس رات کو نکلتے اور دعا فرماتے تھے۔ چنانچہ علامہ ممدوح تحریر فرماتے ہیں:
(ترجمہ) یعنی حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات کو میں نے حضرت رسول خداؐ کو اپنے فرش پر سے غائب پایا تو آپ کو ڈھونڈھنے کے لئے اپنے گھر سے نکلی تلاش کرتے کرتے جنۃ البقیع تک پہنچ گئی۔ دیکھا کہ حضرت وہیں تشریف رکھتے ہیں اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کررہے ہیں۔ حضرت نے مجھے دیکھ کر فرمایا کیوں عائشہ کیا تو ڈری کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریںگے۔؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ تو میں نے نہیں خیال کیا بلکہ مجھے گمان ہوا کہ آپ کسی دوسری بیوی کے پاس چل دئیے(حاشیہ:جناب عائشہ کو حضرت رسول خداؐ کے متعلق یہ شبہ اکثر ہوتا تھا کہ حضرت ان کی باری میں ان کو چھوڑ کر کسی دوسری بیوی کے پاس پہنچ گئے اور آپ فوراً اٹھ کر حضرت کو تلاش کرنے لگتی تھیں۔ بلکہ جب حضرت مرض سے نڈھال ہوگئے اور کل قوتیں ختم ہورہی تھیں اور وفات کا وقت قریب آگیا جب بھی حضرت عائشہ کو آنحضرت کے متعلق وہ شک اسی قوۃ شباب کے ساتھ باقی رہا۔ چنانچہ ۲؍ربیع الاول ۱۱ہجری؁ کو آنحضرتؐ نے انتقال فرمایا اور اس سے دو تین روز پہلے ہی کا واقعہ جناب شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں: ’’اسی سال (۱۱ہجری؁) کے ماہ صفر کی آخری تاریخ میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا کا حکم ہوا کہ قبرستان جنت البقیع کے مردوں کے لئے حضرت استغفار فرمائیں۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے کہ ایک رات آنحضرت میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔اور میں سورہی تھی۔ جب جاگی تو میں نے آنحضرتؐ کو خواب کے کپڑوں (فرش پر چادر کے نیچے) نہیں پایا تو حضرت کے پیچھے میں بھی نکل پڑی کیا دیکھتی ہوں کہ حضرت جنت البقیع میں تشریف لے گئے ہیں اور فرمارہے السلام علیکم اے قوم مومنین۔ جس بات کا تم لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا وہ تم لوگوں تک آگئی اور میں بھی انشاء اللہ تم لوگوں سے ملا ہی چاہتا ہوں۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت نے فرمایا تم لوگ میرے پیش رو ہو اور میں تم لوگوں سے اب ملنے والا ہوں۔ اے اللہ توہم لوگوں کو ان لوگوں کے اجر سے محروم نہ رکھنا اور ان کے بعد ہم لوگوں کو نہ چھوڑنا اے اللہ بقیع غرقد والوں کو بخش دینا اور دوسری روایت میں بھی حضرت عائشہ سے یہ مضمون آیا ہے کہ انہوںنے بیان کیا کہ حضرت رسول خداؐ میرے گھر سے کہیں باہر تشریف لے گئے تو میں بھی آنحضرت کے پیچھے نکلی اس غیرت سے کہ کہیں حضرت کسی اور بیوی کے گھر نہ چلے جائیں۔ یہاں تک کہ حضرت جنت البقیع میں پہنچے اور وہاں بہت دیر تک کھڑے رہے اور تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھایا اور دعا کی۔ پھر پلٹ آئے تو میں بھی پلٹی اور اس سے پہلے کہ آنحضرت گھر میں پہنچیں میں پہنچ گئی اور سونے کے لئے لیٹ گئی۔ میرے پیچھے ہی آنحضرت بھی پہنچ گئے۔ جب حضرت نے میرے اضطراب کا اثر اور سانس پھولنے کی کیفیت ملاحظہ فرمائی تو ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ تیرا کیا حال ہورہا ہے۔ اور تجھ کو کیا ہوگیا ہے جو اس قدر گھبرائی ہوئی نظر آتی ہے؟۔ تب میں نے اصلی بات حضرت سے عرض کردی۔ حضرت نے فرمایا کہ وہ سیاہی جس کو میںنے اپنے آگے دیکھا تھا تو ہی تھی؟ میں نے کہا ہاں یا حضرت۔ تب حضرت نے میرے سینے پر ایک مکا مارا اور فرمایا تجھ کو یہ گمان ہوا کہ خدا اور اس کا رسول تیرے حق میں ظلم کریںگے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ خدا سے تو کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی واقعاً ایسا ہی ہے جیسا آپ نے ارشاد فرمایا ہے (کہ مجھے آپ کے بارے میں اس ظلم کا گمان ہوا) لیکن یا حضرت مجھے معذور سمجھیں، کیاکروں یہ میری بشری جبلت ہے جس نے مجھے آپ کے متعلق اس بدگمانی پر آمادہ کررکھا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ آنحضرتؐ نے عائشہ سے فرمایا کہ تیرے شیطان نے تجھ کو اس بات پر برانگیختہ کیا تھا۔ (مدارج النبوۃ ج؍۲، ص؍۴۹۲) ہم نے یہاں صرف ایک ہی روایت کتاب مذکورہ سے نقل کی۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم۔ کنز العمال، درمنثور، مسند احمد بن حنبل میں اس قسم کی بہت سی روایتیں موجود ہیں اور ایک ہی وقت کی نہیں بلکہ مختلف زمانوں کی ہیں)
تب حضرت نے فرمایا کہ اللہ پندرہویں شعبان کی رات میں دنیا کے آسمان کی طرف اترتا ہے تو قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ آدمیوں کو بخش دیتا ہے۔(ماثبت بالسنۃ ص؍۸۱)
شب ۱۵؍شعبان شب براءت کیوں قرار پائی؟
جب یہ ثابت ہوگیا کہ شب برات حقیقت میں شب براءت ہے جو کثرت استعمال سے اب شب برات بولی جاتی ہے اور یہ کہ اس رات میں خدا کثرت سے گناہوں کو بخشتا اور لوگوں کی دعاقبول کرتا ہے۔ تو قابل غور امر یہ ہے کہ اس رات کو یہ خصوصیت کیوں حاصل ہوئی۔ اسلام میں جس قدر دن یا راتیں قابل احترام قرار پائیں سب کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے جیسے روز عید کہ خدا کے تیس دن کے عظیم الشان عبادت صوم (روزہ) انجام پانے کی خوشی میں باعث سرور قرار پایا۔ مفتی غلام سرور صاحب لاہوری لکھتے ہیں ’’عید خوشی کا دن جو مسلمانوں میں تمام سال میں دو عیدیں ہوتی ہیں۔ ایک یکم شوال کو بعد گزرنے ماہ صیام کے۔ دوسری دسویں ذی الحجہ کو بعد حج کے کہ نویں ذی الحجہ کو ہوتا ہے۔ شیعہ امامیہ کے ہاں عید خم غدیر ونوروز کی بھی ہوتی ہے۔
شدشام وندیدم رخ او آہ نہ دیدم
فردا نہ کنم عید کہ شب ماہ نہ دیدم
(جامع اللغات مطبوعہ لکھنو ج؍۲، ص؍۱۸۸)
یا لیلۃ القدر جس میں خدا نے قرآن مجید کو اتارا۔اس وجہ سے یہ رات بھی خاص عظمت واحترام کی قرار پائی۔ تو اب ۱۵؍شعبان کی رات کیوں اس درجہ عزت والی سمجھ لی گئی۔ اس کی وجہ بھی کوئی ایسی ہی عظیم الشان ہونی چاہیے۔ آپ کتنی ہی تحقیق کریں مگر ا سکے سوا کوئی وجہ نکل ہی نہیں سکتی کہ اس تاریخ کو حضرت رسول خداؐ کے وہ خلیفہ پیدا ہونے والے تھے جو قیامت تک باقی رہیںگے جن کی وجہ سے دنیا ٹھہری رہے گی۔ حجۃ خدا ہوںگے۔ اور جو دنیا کو عدل وانصاف سے بھردیںگے۔ اسی سبب سے خدا نے اس رات کو اتنی برکت والا بنایا اور حضرت رسول خداؐ کے زمانے سے بھی پہلے سے اس کو محترم قرار دیا۔ چنانچہ حضرت دائود کے زمانہ میں بھی یہ برکت والی رات تھی جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا۔(جاری)
شب براءت۔۔۔(۲)
پیغمبر اکرم   (ص)کے بارہ خلفاء
علامہ سید علی حیدر نقوی طاب ثراہ(متوفی ۱۳۸۰ہجری)
مدیر اول ماہنامہ اصلاح،کجھوہ
بارہ خلفاء کی حدیثیں:
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت رسول خداؐ نے متعدد مرتبہ فرمایا تھا کہ دین اسلام اس وقت تک قائم اور باقی رہے گا جب تک اس میں بارہ خلیفہ یا بارہ امیر نہ ہوجائیںگے۔ 
حضرات اہل سنت کے امام بخاری لکھتے ہیں:
جابر بن سمرۃ قال سمعت النبی یقول یکون اثنا عشر اامیرا فقال کلمتہ لم سمعھا فقال ابی قال کلھم من قریش۔ 
یعنی حضرت رسول خداؐ نے ارشاد فرمایا کہ (میرے بعد اسلام کے) بارہ سردار اور حاکم ہوںگے اور وہ سب قریش ہی سے ہوںگے۔ (صحیح بخاری کتاب الفتن باب استخلاف پارہ ۲۹، مطبوعہ دہلی ص؍۶۲۸)
اور علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
لایزال امرالناس ماضیاماولیھم اثنا عشر رجلا ۔ یعنی جب تک ان مسلمانوں کے مولا اور پیشوا بارہ رہیںگے اس وقت تک ان لوگوں کا ایمان قائم رہے گا۔ لایزال ھٰذا الدین عزیز الی اثنا عشر خلیفۃ۔ یعنی جب تک اس میں بارہ خلیفہ رہیںگے اس وقت تک یہ مذہب معزز اور غالب ہی رہے گا۔
ان ھٰذا الامر لاینقضی حتی یمضی فیھم اثنا عشر خلیفۃ۔ یعنی جب تک اس دین اسلام میں بارہ بارہ خلیفہ رہیںگے اس وقت تک یہ مذہب اسلام مٹ نہیں سکتا۔
لایزال الاسلام عزیز الیٰ اثنا عشر خلیفۃ۔ یعنی جب تک اسلام میں بارہ خلیفہ رہیںگے اس وقت تک اسلام غالب ہی رہے گا۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری پارہ ۲۹، ص؍۶۲۹) مذکورہ بالا حدیثیں ارشاد الساری مطبوعہ لکھنو ج؍۱۰، ص؍۲۲۲، اور عمدۃ القاری مطبوعہ مصر ج؍۱۱، ص؍۴۳۴ میں بھی ہیں۔
پھر یہ حدیث بھی ہے:
(ترجمہ) مسلمانوں کے امام بارہ شخص ہوںگے جو سب کے سب ہدایت یافتہ ہوںگے۔ اسی وقت روح اللہ نازل ہوںگے تو دجال قتل کیاجائے گا۔ اور بعض محدثین نے کہا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی پوری مدت میں قیامت تک بارہ خلیفہ ہوںگے جو حق کے مطابق عمل کریںگے۔ اگرچہ ان کے زمانے یکے بعد دیگرے آتے رہیںگے۔ اور اس مطلب کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کو مسدد نے اپنی مسند کبیر میں ابوبحر کے طریقے سے درج کی ہے وہ یہ ہے کہ ابوالجلد نے ان سے حدیث بیان کی کہ جب تک اس امت اسلام میں بارہ خلیفہ رہیںگے جو سب ہدایت اور دین حق کے مطابق عمل کریںگے اس وقت تک یہ امت ہلاک نہیں ہوسکتی ہے۔ (عمدۃ القاری مطبوعہ مصر ج؍۱۱، ص؍۴۳۵) 
اور امام مسلم نے لکھا ہے:
’’عن جابر بن سمرہ قال دخلت مع ابی علی النبی فسمعتہ یقول ان ھٰذا الامر لا ینقضی حتی یمضی فیھم اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش۔‘‘ یعنی جابر بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو سنا کہ حضرت فرمارہے ہیں کہ اس دین اسلام میں جب تک بارہ خلیفہ رہیںگے یہ مٹ نہیں سکتا ہے۔ وہ سب کے سب قریش ہی سے ہوںگے۔ (صحیح مسلم مطبوعہ دہلی ج؍۲، ص؍۱۱۹) اس کتاب میں بھی اس مضمون کی سات حدیثیں لکھتی ہوئی ہیں۔
اور امام ترمذی نے لکھا ہے :’’قال رسول اللہ یکون من بعدی اثنا عشرامیرا کلھم من قریش‘‘ یعنی حضرت رسول خداؐ نے فرمایا کہ میرے بعد بارہ سردار اور پیشوا ہوںگے وہ سب قریش ہی سے ہوںگے۔ (جامع ترمذی مطبوعہ لکھنو ص؍۲۶۹)
صحاح ستہ کی چوتھی کتاب سنن ابودائو میں ہے:
رسول اللہ یقول لایزال ھٰذا الدین قائما حتی یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ۔ یعنی حضرت رسول خداؐ فرماتے تھے کہ جب تک تم لوگوں کے بارہ خلیفہ رہیںگے اس وقت تک یہ دین قائم ہی رہے گا۔ (سنن ابودائو دمطبوعہ کانپور ص؍۵۸۸) 
اور مشکوٰۃ شریف میں ہے: ’’عن جابربن سمرہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول لایزال الاسلام عزیزا الی اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش وفی روایۃ لایزال الدین قائما حتی یقوم الساعۃ اویکون علیھم اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش متفق علیہ۔‘‘ یعنی جابر بن سمرہ بیان کرتے تھے کہ حضرت رسول خداؐ ارشاد فرماتے تھے کہ جب تک اس دین اسلام میں بارہ خلیفہ رہیںگے اس وقت تک یہ عزیز اور غالب ہی رہے گا۔ وہ بارہ خلیفہ سب کے سب قریش ہی سے ہوںگے اور ایک روایت میں ہے کہ ہمیشہ لوگوں کا یہ امر (دین اسلام) چلتا رہے گا جب تک ان کے پیشوا اور سردار بارہ شخص ہوتے رہیںگے جوسب کے سب قریش سے ہوںگے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہمیشہ یہ دین قائم رہے گا۔ جب تک قیامت نہ آجائے یا جب تک اس میں بارہ خلیفہ نہ گزر جائیں جو سب کے سب قریش ہی سے ہوںگے۔ اس حدیث پر سب محدثین کا اتفاق ہے۔ (مشکوٰۃ شریف مطبوعہ لاہور۔ مناقب قریش ج؍۸، ص؍۹۳)
کتاب کنزالعمال میں ہے۔ لایزال ھٰذا الدین عزیزا منیعا الی اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش۔ یعنی آنحضرت نے فرمایا کہ جب تک اس دین اسلام میں بارہ خلیفہ رہیںگے یہ دین غالب اور مستحکم رہے گا اور وہ سب قریش سے ہوںگے۔ لایزال الاسلام عزیزا الی اثنا عشر خلیفۃ۔ یعنی جب تک بارہ خلیفہ رہیںگے اس وقت تک اسلام غالب ہی رہے گا۔ یملک وھٰذا الامۃ اثناعشر خلیفہ کعدۃ من نقباء بنی اسرائیل۔ امت کے سردار بارہ خلیفہ ہوںگے جس طرح بنی اسرائیل کے نقیب بھی بارہ ہوئے تھے۔ یکون لھٰذا الامۃ اثنا عشر خلیفۃ قیمالایضرھم من خذلھم کلھم من قریش۔ یعنی آنحضرتؐ نے فرمایا کہ اس امت کے بارہ خلیفہ سردار اور رہبر ہوںگے جو شخص ان کا ساتھ چھوڑے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ہے۔ وہ بارہ خلیفہ سب کے سب قریش ہی سے ہوں۔ یکون بعد من الخلفاء عدۃ نقباء موسیٰؑ۔ میرے بعد میرے خلفاء اسی عدد کے مطابق ۱۲ ہوںگے جو حضرت موسیٰ کے نقیبوں کا عدد ہے۔ لن یزال ھٰذا الدین قائما الیٰ اثنا عشر خلیفۃ من قریش فاذاھلکوا ماحیت الارض باھلھا۔ یعنی ہمیشہ دین اسلام قائم ہی رہے گا جب تک اس میں بارہ خلیفہ ہوتے رہیںگے جو سب قریش ہی سے ہوں۔ پھر جب سب ہلاک ہوجائیںگے تو زمین میں زلزلہ پیدا ہوجائے گا۔ یعنی قیامت آجائے گی۔ (کنزالعمال م؍حیدرآباد دکن ج؍۶، ص؍۱۹۸)
بارہ خلیفہ کی خصوصیت کیوں ہے؟
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرتؐ نے جن کے بارے میں خدا کا ارشاد ہے کہ ماینطق عن الھویٰ ان ھوالا وحی یوحیٰ یعنی یہ رسول اپنے دل سے کوئی بات کرتے ہی نہیں بلکہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ خدا کی وحی ہوتی ہے جو آپ پر پہلے نازل کردی جاتی ہے۔ (پارہ ۲۷، رکوع؍۵)
پیغمبرؐ نے اپنے خلفاء کی تعداد بارہ کیوں فرمائی؟ اور کیا وجہ ہوئی کہ ان کے عدد کو اس میں منحصر فرمادیا۔ یہ نہ فرمایا کہ میرے خلیفہ کم ہوںگے نہ یہ کہ میرے خلیفہ زیادہ ہوںگے پس اگر خدا سچا ہے اور اس کے بیان میں کوئی خطا نہیں ہوسکتی اگر وہ عالم الغیب ہے اور اس کی خبر واقعہ کے مخالف نہیں ہوسکتی۔ اگر اس کے ارشاد میں اختلاف کا ہونا محال ہے اور اگر اس کی بات کو کوئی شخص یا گروہ بدل نہیں سکتا ہے اور اگر حضرت رسول خداؐ صحیح بات بولتے تھے۔ اگر حضرت کا ارشاد غلط نہیں ہوتا تھا۔ا گر حضرت جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ اگر حضرت پر باطل وحی نازل نہیں ہوتی تھی تو ہر مسلمان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت کے خلفاء کی تعداد پوری بارہ ہوگی۔ اس سے نہ ایک کم ہوگا نہ ایک زیادہ۔ نہ چار ہوںگے نہ آٹھ نہ دس۔ نہ بیس نہ پچاس۔ بلکہ قیامت تک حضرت کے خلفاء بارہ ہی ہوسکتے ہیں اور جو لوگ حضرت کے بعد بارہ خلفاء کو مانتے ہیں وہی خدا کے قول کے سچے پیرو اور حضرت رسول خداؐ کی اصلی امت ہیں اور جو حضرات حضرت کے بعد بارہ سے کم یا زیادہ خلفاء کو مانتے ہیں وہ خدا ورسول کو جھوٹا جانتے ہیں ان کا ایمان خدا ورسولؐ پر نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔
بارہ خلفاء کون ہیں؟
اب بارہ خلفاء کون ہیں حضرت نے کسی حدیث میں یہ نہیں فرمایا کہ ان میں سے کچھ راشدین ہوںگے اور کچھ غیر راشدین۔ کچھ بنی امیہ سے ہوںگے اور کچھ بنی عباس سے اور کچھ غیر قریش سے۔ تو اسلام میں جو لوگ ان حضرات کو جن کی تعداد کسی طرح بارہ نہیں ہوتی خلفاء رسول مانتے ہیں وہ حقیقت میں خلفاء حق کے ماننے والے نہیں ہیں۔ جس آیت سے ہم نے اس مقالہ کو شروع کیا ہے اس کو پھر یاد فرمائیے کہ لوگ خدا کے نور کو بجھادینے کی کوشش کریںگے مگر خدا اپنا نور پھیلا کررہے گا تو لوگوں نے حضرت رسول خداؐ کی خلافت کے نور کو بجھادینے کی کوشش کی مگر خدا نے خلفاء کی تعداد کو بارہ ہی پر منحصر کرکے ان لوگوں کی کوشش کو بیکار کردیا اور انصاف پسند طبقہ کے لئے آسان کردیا کہ وہ انہیں حضرات کو جو پورے ہوئے خلفاء رسول مان کر صراط مستقیم اور سندنجاۃ حاصل کرلیں اور باطل خلفاء سے اپنے کو بچالیں۔ اسی سبب سے خدا نے یہ غیبی انتظام کیا کہ جو لوگ اس کے نور کو بجھادینا چاہتے ہیں ان کے خلفاء کے کسی سلسلہ میں بارہ خلیفہ نہیں ہونے دئیے ان کے خلفاء کا پہلا سلسلہ خلفاء راشدین کا مانا جاتا ہے۔ جس میں کچھ لوگ حضرت ابوبکر۔ حضرت عمر۔ حضرت عثمان اور حضرت علیؑ کو اور بہت سے لوگ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور معاویہ کو خلیفہ مانتے ہیں۔ اس کو چار سے بڑھنے نہیں دیا۔ جس سے حق پسند لوگ سمجھ جائیں کہ یہ حقیقت میں خلفاء رسولؐ نہیں ہیں ورنہ ان کی تعداد بارہ سے کسی طرح کم نہیں ہوتی۔
دوسرا سلسلہ خلفاء بنی امیہ کا سمجھاجاتا ہے اس کو خدا نے بارہ سے زیادہ کردیا تاکہ دل سے ایمان تلاش کرنے والے سمجھ لیں کہ یہ سبھی درحقیقت خلفاء رسول نہیں ہیں۔ ور نہ ان کی تعداد بارہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔حالانکہ تاریخ پکار پکار کرکہہ رہی ہے کہ وہ بارہ سے زیادہ ہوئے یعنی (۱) معاویہ (۲) یزید بن معاویہ۔(۳) معاویہ بن یزید۔ (۴) مروان بن حکم۔ (۵) عبدالملک بن مروان۔ (۶) ولید بن عبدالملک۔ (۷) سلیمان بن عبدالملک ۔ (۸) عمر بن عبدالعزیز بن مروان۔ (۹) یزید بن عبدالملک۔ (۱۰) ہشام بن عبدالملک۔ (۱۱) ولید بن یزید بن عبدالملک۔(۱۲) یزید بن ولید بن عبدالملک۔ (۱۳) ابراہیم بن ولید بن عبدالملک۔ (۱۴) مروان بن محمد بن مروان) اگر خلفاء راشدین اور خلفاء بنی امیہ کو جوڑ لیاجائے تو ان کی تعداد مل کر بھی ۱۲ نہیں ہوسکتی بلکہ ۱۸؍ہوجاتی ہے اور شام کے خلفاء بنی امیہ کے ساتھ اندلس کے خلفاء بنی امیہ جوڑ لئے جائیں جن کی تعداد بھی ۱۲ سے زیادہ ۱۶ تھی تو کل خلفاء بنی امیہ کی تعداد ۲۸ ہوجاتی ہے۔
تیسرا سلسلہ خلفاء بنی عباس کا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تعداد بھی خدا نے ۱۲ نہیں ہونے دی۔ بلکہ وہ ۳۷ ہوئے۔ 
اس طرح: (۱) سفاح۔(۲) منصور۔(۳) مہدی۔(۴) ہادی۔ (۵) ہارون۔ (۶) امین۔ (۷)مامون۔(۸) معتصم۔ (۹) واثق۔ (۱۰) متوکل۔(۱۱) منتصر۔(۱۲) مستعین۔ (۱۳) معتز۔(۱۴) مہتدی۔ (۱۵) معتمد۔ (۱۶) معتضد۔ (۱۷) مکتفی۔(۱۸) مقتدر۔(۱۹) قاہر۔ (۲۰) راضی۔ (۲۱) متقی۔ (۲۲) مستکفی۔ (۲۳) مطیع۔ (۲۴) طارئع۔ (۲۵) قادر۔ (۲۶) قائم۔ (۲۷) مقتدی۔ (۲۸) مستظہر۔ (۲۹) مسترشد۔ (۳۰) راشد۔ (۳۱) مقتفی۔ (۳۲) مستنجد۔ (۳۳) مستضی۔ (۳۴) ناصر۔(۳۵) ظاہر۔( ۳۶) مستنصر۔ (۳۷) مستعصم۔
لہٰذا یہ بھی آنحضرت کے حقیقی خلفاء نہیں مانے جاسکتے ہیں اور تینوں سلسلوں کو ملا دیاجائے تو خلفاء راشدین وبنی امیہ وبنی عباس ۵۵ ہوجاتے ہیں۔
چوتھا سلسلہ مصر کے خلفاء بنی عباس کا ہوا یعنی جب ہلاکو خان نے بغداد کے خلفاء بنی عباس کا خاتمہ کردیا تو مصر کے بادشاہوں نے خاندان بنی عباس کے ایک شہزادے کو خلیفہ بنالیا۔ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ اٹھارہ ہوئی۔ لہٰذا وہ بھی آنحضرت کے حقیقی خلفاء نہیں ہوسکتے۔ پھر ۹۲۲؁ ہجری مطابق ۱۵۱۷ء؁ میں سلطان سلیم بادشاہ روم نے مصر کو فتح کرکے خاندان مملوک کا خاتمہ کیا تو بنی عباس کے آخری خلیفہ نے لقب خلافت اور تبرکات رسول خداؐ جو اس کے قبضے میں چلے آئے تھے سلطان روم کے حوالے کردیے جس سے اب سلطان روم خلیفہ ہونے لگے جو پانچواں سلسلہ تھا۔ اس کے بھی تیس سے زیادہ خلفاء ہوئے لہٰذا یہ بھی حقیقی خلفاء رسول نہیں مانے جاسکتے۔
غرض یہ خدائی قدرت ہدایت وارشاد کا عجب کرشمہ ہے کہ حقیقی خلفاء رسولؐ کے مقابلہ میں جس قدر خلفاء بنائے گئے ان کا کوئی سلسلہ بارہ کی تعیین کے مطابق نہیں ہے۔ کوئی کم ہے تو کوئی زیادہ۔ جو اہل بصیرت کے لئے فرمان الٰہی ہے کہ مسلمانو میرے رسول نے بار بار تم لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ اس کے خلفاء بارہ ہوںگے اس سے نہ کم نہ زیادہ تو جس طرف تم کو وہ خلفاء ملیں جو بارہ نہ ہوں ان کو تسلیم نہ کرنا بلکہ اس فرقہ حقہ کی تلاش کرنا جس کے خلفاء رسول حضرت رسول خداؐ کی وفات سے قیامت تک پورے پورے بارہ ہوںگے۔ خدا نے اپنے نور کو تمام کرنے کے لئے اعلیٰ انتظام کیا ہے کہ ایک طرف خلفاء کے پانچ سلسلے ہوئے مگر حضرت رسول خداؐ نے کسی حدیث میں کسی سلسلہ کے خلفاء کی تعداد نہیں بیان فرمائی۔ نہ یہ کسی حدیث میں بیان فرمایا کہ میرے خلفاء چار ہوںگے جن سے خلفاء راشدین کی طرف اشارہ ہوسکتا۔ نہ کسی حدیث میں یہ فرمایا کہ میرے خلفاء چودہ ہوںگے جن سے شام کے خلفاء بنی امیہ مراد ہوسکتے۔ نہ کسی حدیث میں یہ فرمایاکہ میرے خلفاء ۳۷ ہوں گے جن سے بغداد کے خلفاء بنی عباس مقصود ہوسکتے۔ نہ کسی حدیث میں یہ فرمایا کہ میرے خلفاء ۱۸؍ ہوںگے جن کے مصداق مصر کے خلفاء بنی عباس ہوسکتے اور دوسری طرف خلفاء رسول کا صرف ایک سلسلہ ہوا جس میں بارہ خلفاء ہوئے۔ اس بارہ کے لئے حضرت رسول خداؐ کی اس کثرت سے حدیثیں خود حضرات اہلسنت کے یہاں موجود ہیں کہ ان کی صحاح ستہ میں بھی ہیں اور کنزالعمال، مشکوٰۃ شریف، تفسیر درمنثور وغیرہ میں بھی بھری ہیں تو کیا اب بھی خدا کے اس قول میں کسی کو شک باقی رہ سکتا ہے کہ یریدون لیطفئوا نوراللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے پھونک مار کر بجھادیں مگر اللہ تو اپنانور پھیلا کررہے گا اگرچہ کافروں کو براہی کیوں نہ لگے۔
وہ خلیفہ کس طرح مقرر ہوںگے؟
جب خدا کے حکم سے آنحضرت نے بار بار یہ ارشاد فرمایا کہ میرے خلیفہ ۱۲ ہوںگے (نہ کم نہ زیادہ) تو یہ بھی قابل غور امر ہے کہ ان کو کون مقررکرے گا؟۔ خود امت رسول معین کرے گی؟۔ یا خدا ورسول کی نص سے تیار ہوںگے؟ اس کے لئے ضرورت ہے کہ دیکھا جائے کہ پہلے خلفاء وائمہ کو اس وقت کی امت نے خلیفہ اور امام بنایا یا خدا ورسول نے؟۔  پہلے قرآن میں تلاش فرمائیے: 
خدا حضرت آدمؑ کے بارے میں فرماتا ہے۔ ’’انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔‘‘ یعنی یہ یقینی بات ہے کہ زمین میں خلیفہ مقرر کرنے والا میں ہوں۔ (پارہ ۱، رکوع ۴) یادائود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض۔یعنی اے دائود یہ یقینی بات ہے کہ تم کو زمین میں خلیفہ میںنے بنایا ہے۔ (پارہ ۲۳، رکوع ۱۱) انی جاعلک للناس اماما۔ یعنی اے ابراہیم یقینا تم کو آدمیوں کا امام بنانے والا میں ہوں۔ (پارہ ۱، رکوع ۱۵) واجعلنا للمتقین اماما۔ یعنی اے خدا تو ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔(پارہ ۱۹۔ رکوع ۴) وجعلنا ھم ائمۃ یھدون بامرنا ۔یعنی ہم نے ان لوگوں کو امام بنایاکہ وہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے (پارہ ۱۷، رکوع ۵) ونجعلھم ائمۃ۔ یعنی ہم ان لوگوں کو امام بنائیںگے۔ (پارہ ۲۰، رکوع؍۴،) وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا۔ یعنی ہم نے ان (بنی اسرائیل) میں سے (دین کے) امام بنائے تھے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کو اس وجہ سے امام بنایا کہ انہوںنے صبر کیا تھا۔ (پارہ ۲۱، رکوع ۱۶)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ خلیفہ یا امام بنانا خدا ہی کا کام ہے امت کا نہیں۔
سابق انبیاء کے خلفاء کس طرح مقرر ہوتے رہے؟
اور تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ ہر نبی کے خلیفہ اور وصی خدا کے حکم کے مطابق اسی نبی کے مقرر کرنے سے ہوتے رہے کسی نبی کی امت نے خود کسی شخص کو خلیفہ اور امام نہیں بنایا۔ مثلاً:
(۱) جب حضرت آدم کی وفات کا وقت پہنچا تو اپنے فرزند شیث کو اپنا وصی اور خلیفہ خود مقرر کردیا۔ (تاریخ  طبری مطبوعہ مصر ج؍۱، ص؍۷۶)
(۲) جب حضرت شیث بیمار ہوئے تو اپنے فرزند انوش کو اپنا خلیفہ خود مقرر کرکے مرے۔(تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۱)
(۳) انوش نے اپنے فرزند قینان کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۲)
(۴) قینان نے اپنے فرزند مہلائیل کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۳)
(۵) مہلائیل کے ہاں یردیارد۔ اور دوسرے لڑکے پیداہوئے تو مہلائیل نے یردیارد کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۲)
(۶) یزد نے اپنے فرزند خنوخ عرف حضرت ادریس کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۲)
(۷) حضرت ادریس نے اپنے فرزند متوشلخ کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۲)
(۸) مہلائیل کے فرزند یزد ان کے وصی اور خلیفہ ہوئے ان امور میں جنہیں مہلائیل کے والد نے ان کو وصی مقرر کیا تھا اور ان کو اپنی وفات کے بعد خلیفہ بنایا۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۵)
(۹) حضرت ادریس کے فرزند متوشلخ ہوئے ان کو حضرت ادریس نے احکام خدا پر اپنا خلیفہ خود مقرر کیا۔ اور وصی بنایا۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۶)
(۱۰) جب متوشلخ کی وفات قریب ہوئی تو اپنے دین پر لمک کو اپنا خلیفہ خود بنایا اور انہیں کو وصی کیا جس طرح آپ کے آبائو اجداد وصی مقررکرتے رہے تھے۔ (تاریخ طبری ج؍۱، ص؍۸۷)
(۱۱) جب حضرت نوح کی وفات کا وقت قریب پہنچا تو اپنے فرزند سام کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (تاریخ کامل ج؍۱، ص؍۲۶)
(۱۲) حضرت ابراہیم نے حضرت اسحاق کو اپنا ولیعہد اور خلیفہ خود مقرر کیا۔ (تاریخ روضۃ الصفا مطبوعہ لکھنو ج؍۱، ص؍۴۲)
(۱۳) حضرت اسماعیل کی وفات کا وقت قریب پہنچا تو اپنے بھائی، حضرت اسحاق کو اپنا وصی اور خلیفہ خود مقرر کیا۔(روضۃ الصفاج؍۱، ص؍۴۵)
(۱۴) حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کو اپنا وصی اور خلیفہ خود مقرر کیا۔ (روضۃ الصفاج؍۱، ص؍۴۵)
(۱۵) حضرت یوسف نے اپنے بھائی یہودا کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (طبری ج؍۱، ص؍۱۷۲)
(۱۶) حضرت ایوب نے اپنے مرتے وقت اپنے فرزند حومل کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (طبری ج؍۱، ص؍۱۶۷)
(۱۷) حضر ت موسیٰ خدا کی طرف گئے تو حضرت ہارون کو اپنا خلیفہ خود مقرر کرگئے تھے۔(طبری ج؍۱، ص؍۲۱۸)
(۱۸) اور چونکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کی زندگی ہی میں دنیا سے انتقال فرماگئے تھے لہٰذا حضرت موسیٰ نے ان کے بعد یوشع بن نون کو بھی اپنا وصی اور ولیعہد خود مقرر کیا۔ (روضۃ الصفا ج؍۱، ص؍۹۳)
(۱۹) پھر کالب بن یوقنا نے اپنے فرزند بوساموس کو اپنا خلیفہ خود مقرر کیا ۔(روضۃ الصفا ج؍۱، ص؍۹۷)
(۲۰) اور حضرت الیاس نے الیسع کو اپنا وصی اور خلیفہ خود مقرر کیا۔ (روضۃ الصفا ج؍۱، ص؍۱۰۰)
(۲۱) اور الیسع نے ذوالکفل کو اپنا خلیفہ اور وصی خود مقرر کیا۔ (روضۃ الصفا ج؍۱، ص؍۱۰۱)
(۲۲) اور حضرت دائود نے اپنے فرزند سلیمان کو اپنا وصی خود مقرر کیا۔ (طبری ج؍۱، ص؍۲۵۲)
(۲۳) اور خدا کے حکم سے سعیا نے بھی اپنا خلیفہ اور وصی خود مقرر کیا۔ (طبری ج؍۱، ص؍۲۷۸)
(۲۴) اور حضرت عیسیٰ نے شمعون کو اپنا خلیفہ اور ولیعہد خود مقرر کیا۔ (روضۃ الصفا ج؍۱، ص؍۱۳۶)
آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ حضرات اہل سنت ہی کی معتمد ترین کتب تاریخ سے ثابت ہوگیا کہ حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک جس قدر نبی اور رسول گزرے سب خدا کے حکم سے اپنا وصی، خلیفہ اور ولیعہد خود مقرر کرتے رہے۔ اور ایک لاکھ تئیس ہزار نوسو ننانوے انبیاء ومرسلین سے کسی ایک نبی کے خلیفہ یا وصی کو بھی کسی امت نے مقر ر نہیں کیا۔ پھر حضرت رسول خداؐ آخری نبی ورسول کے بارے میں یہ قاعدہ کیوں توڑدیا جاتا ہے؟ کوئی بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے اور کسی عقل میں بھی یہ بات آسکتی ہے کہ آنحضرتؐ کے متعلق خدا اپنا یہ قانون بھول گیا اور اس نے اس امت کو گمراہی میں چھوڑ دیا!؟۔
خدا کا اصول بدلتا نہیں ہے:
خدا نے یہ بھی کئی جگہ فرمادیا ہے کہ اس کا کوئی اصول بدلانہیں کرتا ہے۔ اور اس کے کسی دستور میں تغیر نہیں ہوتا ہے۔ 
چنانچہ ارشاد فرمایا ہے:
الف۔ سنۃ اللہ فی الدین خلومن قبل ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔ یعنی خدا کا یہی طریقہ ان لوگوں کے بارے میں بھی رہا ہے جو تم سے پہلے گزرگئے ہیں اور تم کو خدا کے کسی طریقے میں کسی قسم کا تغیر وتبدل نہیں مل سکتا۔ (پارہ ۲۲، رکوع ۸)
ب۔ فھل ینظرون الاسنۃ الاولین فلن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ولن تجد لسنۃ اللہ تحویلا۔ یعنی یہ لوگ کیا اگلوں کے دستور اور طریقہ کا انتظار کررہے ہیں؟ تو تمہیں خدا کے دستور اورطریقہ میں کبھی کوئی تغیر نہیں مل سکتا اور نہ اس کے دستور اور طریقہ کو تم کبھی ٹلتا ہو اپائوگے۔ (پارہ ۲۲، سورہ فاطر، رکوع ۵)
ج۔ سنۃ اللہ التی قدخلت من قبل ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔ یعنی یہ خدا کا وہ طریقہ اور دستور ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے اور تم خدا کے دستور وطریقہ میں کبھی کوئی تغیر وبدیلی نہیں پاسکتے۔ (پارہ ۲۶، سورہ الفتح رکوع ۳)
جب ان آیات سے ہم پر اچھی طرح واضح ہوگیا کہ خدا کے اصول میں اختلاف نہیں ہوتا۔ اور خدا کے انتظام میں فرق نہیں پڑتا اور پہلے بیانات سے یہ معلوم ہوگیا کہ خدا نے اپنے انبیاء ومرسلین سے خود ہی ان کے اوصیاء اور خلفاء کو بھی مقرر کرایا تو حضرت خاتم الانبیاء والمرسلینؐ سے خود ہی ان کے اوصیاء اور خلفاء کو مقرر کرانا بھی خدا ہی کا کام تھا یا اس دفعہ خدا نے اپنے طریقہ کو بدل دیا؟ کسی انصاف پسند اور قرآن وحدیث سے باخبر شخص سے اس کی امید نہیں ہوسکتی ہے کہ وہ کہے کہ خدا نے حضرت رسول خداؐ کے خلفاء کو خود نہیں مقرر کرایا بلکہ امت کے ہاتھ چھوڑ کر اپنے ہزاروں برس کے دستور کو بدل دیا اور قدیم قاعدہ کو توڑ دیا اور امت اسلام کی پریشانی کا سامان خود مہیا فرمایا۔
آنحضرتؐ کے خلفاء کس طرح مقرر ہوئے؟
خدا نے آنحضرتؐ کے خلفاء کے بارے میں بھی فرمایا کہ ان کو میں ہی خلیفہ بنائوںگا(امت پر نہیں چھوڑوںگا) اور ویسا ہی کربھی دیا۔ اب امت کو جو کرنا ہو کرے خدا کے اس قول وفعل کو مانے یا نہ مانے مگر اس نے اپنا کام ختم کردیا اور ہدایت کی راہ واضح کرکے حجت تمام کردی۔ چنانچہ فرمایا تو یہ وعدہ اللہ الذین آمنو منکم وعملوا لصالحات لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم۔
یعنی اے مسلمانو! تم میں سے جن لوگوںنے ایمان قبول کیا اور کل نیک عمل کرتے رہے ان کے بارے میں خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ان کو اسی طرح (حضرت رسول خداؐ کا )خلیفہ بنائے گا جیسے ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔(قرآن کریم)
اور کیا یہ کہ جب حضرت کو مبعوث ہوئے چار سال گزرگئے تو خدا نے حضرت رسول خداؐ پر آیۂ وانذرعشیرتک الاقربین نازل فرمائی جس سلسلہ میں حضرت کو یہ بھی حکم دیا کہ تم اپنا خلیفہ اور وصی بھی اس موقع پر خود مقرر کردو۔ چنانچہ حضرت نے ان لوگوں کی دعوت کی۔ سب کو جمع کیا۔ دین اسلام بھی پیش کیا اور فرمایا تم میں سے کون ایسا ہے جو پہلے میری بیعت کرے اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ میں اسی کو اپنا وصی۔ وزیر اور خلیفہ بنائوں۔یہ سن کر سب چپ رہے۔ کسی نے جواب نہ دیا البتہ حضرت علیؑ آمادہ ہوگئے اور فرمایا کہ میں ان خدمات کے لئے حاضرہوں۔ حضرت نے فرمایا ابھی بیٹھو پھر لوگوں سے پوچھا۔ اب بھی سب خاموش رہے اور حضرت علیؑ ہی بولے۔ حضرتؐ نے پھر آپ کو بٹھادیا ۔اور تیسری مرتبہ بھی سب سے دریافت کرلیا۔سب اسی طرح خاموش رہے اور حضرت علیؑ ہی اس دفعہ بھی بولے۔ تب آنحضرتؐ نے حضرت علیؑ کو اپنے پاس بلایا۔ بیعت لی، گلے سے لگایا اور حاضرین سے فرمایا کہ دیکھو یہ میرے بھائی ہی میرے وزیر، میرے وصی اور میرے خلیفہ ہیں۔ تم سب ان کے حکم کو ماننا اور ان کی اطاعت کرتے رہنا۔ (تاریخ طبری مطبوعہ مصر ج؍۲، ص؍۲۱۷، وتاریخ کامل ج؍۲، ص؍۲۲، ابوالفداء ج؍۱، ص؍۱۱۶، وکنزالعمال ج؍۶، ص؍۳۹۷ وغیرہ)
پھر آخر وقت تک حضرت نے اپنے اس حکم کو منسوخ نہیں فرمایا یعنی یہ نہ کہا کہ اب علیؑ میرے خلیفہ نہیں ہیں۔ نہ یہ فرمایا کہ اب میرا خلیفہ فلاں شخص ہوگا۔ نہ یہ ارشاد کیا کہ اے مسلمانو! تم کو اختیار ہے میرے بعد جس کو چاہنا خلیفہ بنالینا۔ غرض کوئی ایسی بات نہیں کہ جس سے پتہ چلتا کہ وہ حکم بدل گیا تو ماننا پڑے گا کہ حضرت علیؑ آنحضرتؐ ہی کے مقرر کرنے سے آنحضرتؐ کے بعد آپ کے خلیفہ اول بلافصل ہوئے اور رہے۔
بارہ خلفاء کے ناموں کی تصریح:
حضرت رسول خداؐ نے اپنے بارہ خلفاء کے نام بھی صاف صاف مختلف طریقہ سے بتادئیے تھے جیسے:
(۱) علامہ سید علی ہمدانی نے لکھا ہے:
عن سلمان قال دخلت علی النبی فاذا الحسین علی فخذیہ وھویقبل علیہ ویقبل فاہ ویقول انت السید ابن السید وانت امام ابن الامام وانت حجۃ بن حجۃ ابوحجج تسعۃ تاسعھم قائمھم۔
یعنی جناب سلمان فارسی حضرت رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ امام حسینؑ آنحضرت کی گود میں ہیں۔ حضرت ان کی طرف بڑھ بڑھ کر ان کا منھ چومتے ہیں اور ان سے فرماتے ہیں کہ تم سردار ہو۔ تمہارے باپ بھی سردار ہیں اور تم امام ہو تمہارے باپ بھی امام ہیں۔ تم حجت خدا ہو، اور تمہارے باپ بھی حجۃ خدا ہیں اور تمہاری اولاد سے بھی نوحجۃ خدا ہوںگے جن کے نویں بزرگ قائم ہوںگے۔(مودۃ القربیٰ مطبوعہ بمبئی ص؍۳۴، ارجح المطالب مطبوعہ لاہور ص؍۴۰۳)
(۲) علامہ شیخ سلیمان قندوزی نے لکھا ہے:
قال رسول اللہ انا سید النبیین وعلی سید الوصیین وان اوصیائی بعدی اثناعشر اولھم علی  وآخرھم القائم المھدی۔
یعنی حضرت رسول خداؐ نے فرمایا کہ میں کل نبیوں کا سردار ہوں اور علیؑ کل وصیوں کے سردار ہیں اور میرے کل وصی میرے بعد بارہ ہوںگے جن کے پہلے حضرت علیؑ اور جن کے آخری قائم مہدی ہوںگے۔ (ینابیع المودۃ مطبوعہ اسلامبول ص؍۴۴۵)
(۳) اور علامہ محدث جمال الدین لکھتے ہیں:
’’وازجابر بن یزید الجعفی مروی است کہ گفت شنیدم از جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ می گفت چون ایزد تعالیٰ نازل گردانید بر پیغمبر خود ایں آیہ راکہ یا ایھا الذین آمنوا اطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامر منکم۔گفتم یا رسول اللہ من شناسم خدا ورسول اورا پس۔ کیستند اصحاب امر کہ خدائے تعالیٰ اطاعت ایشان رافرض ساختہ است بطاعۃ تو پس گفت رسول اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے جابر این اسرار مکنونہ الٰہی است پس پنہاں دار آنرا مگراز کسیکہ اہل نہ باشد۔
(ترجمہ) پس کہا پیغمبر نے وہ اولوالامر خلفاء میرے ہیں۔ بعد میرے پہلے خلیفہ ان میں سے علی بن ابی طالبؑ ہیں۔ پھر حسنؑ ہیں پھر حسینؑ ہیں، پھر علی بن الحسینؑ ہیں، پھر محمد بن علیؑ ہیں، جو توریت میں مشہور ساتھ باقر کے ہیں۔ قریب ہے کہ تم ان کو پائوگے اے جابر پس جس وقت ان سے ملاقات کرنا تو میراسلام ان سے کہنا۔ پھر صادق جعفر بیٹے محمد کے ہیں۔ پھر موسیٰ بن جعفرؑ ہیں۔ پھر علی بن موسیٰ ہیں۔ پھر محمد بن علیؑ ہیں۔ پھر علی بن محمدؑ ہیں۔ پھر حسنؑ بن علیؑ ہیں۔ پھر حجۃ خدا کے اس کی زمین پر اور بقیہ حجۃ اس کے بندوں میں محمد بن حسنؑ بن علیؑ ہیں۔ یہ محمدؑ وہ ہیں کہ فتح کرے گا۔، اللہ غالب اور بزرگ ان کے ہاتھوں پر مشارق اور مغارب زمین کو، اور یہ محمد وہ ہیں کہ غائب ہوںگے اپنے شیعوں سے اور دوستوں سے ایسی غیبت سے کہ قائم رہے گا ان کی غیبت میں اوپر اقرار امامت کے ان کی مگر وہ شخص کہ جس کے قلب کی آزمائش کی ہے۔ اللہ نے ساتھ ایمان کے جابر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ غیبت میں امام کی شیعہ فائدہ پائیںگے؟ پس فرمایا یہ پیغمبر ؐ نے ہاں۔ قسم ہے اس کی جس نے مجھ کو مبعوث نبوت پر کیا ہے۔ بتحقیق شیعہ نور حاصل کریںگے نور سے امام غائب کے اور نفع حاصل کریںگے۔ ساتھ ولایت امام غائب کے۔ جیسے لوگ آفتاب سے نفع پاتے ہیں۔ اگرچہ آفتاب پر بدلی آجائے۔ (تاریخ روضۃ الاحباب ج؍۳، ص؍۲۷، نسخۂ قلمیہ)
 علامہ شیخ سلیمان قندوزی نے جو قسطنطنیہ کے شیخ الاسلام تھے جناب ابن عباس ایسے جلیل القدر صحابی کی روایت سے لکھا ہے کہ ’’ایک یہودی حضرت رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ مجھے چند باتیں بتائیے تو میں اسلام قبول کروں۔ حضرت جواب دینے لگے۔آخر میں اس نے کہا:
(ترجمہ) یا حضرت آپ نے سب باتوں کا جواب ٹھیک ٹھیک دیا۔ اب یہ ارشاد فرمائیں کہ آپ کا وصی کون ہے۔ کیونکہ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنا وصی کسی کو مقررنہ کیاہو۔ ہمارے پیغمبر حضرت موسیٰ بن عمران نے بھی اپنا وصی جناب یوشع بن نون کو مقررکیا تھا۔ حضرتؐ نے فرمایامیرے وصی علی بن ابی طالبؑ اور ان کے بعد میرے دونوں نواسے حسنؑ وحسینؑ اور ان کے بعد نو امام حسینؑ کی نسل سے ہوںگے۔ اس یہودی نے کہا اے محمد ؐ آپ مجھے ان سب کے نام بھی بتادیں تو حضرت نے فرمایا کہ جب حسینؑ گزرجائیںگے تو ان کے بیٹے علیؑ ہوںگے ان کے بعد ان کے فرزند محمدؑ ہوںگے۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے جعفر ہوںگے۔ جب ان کا زمانہ ختم ہوجائے گا تو ان کے بیٹے موسیٰ ہوںگے۔ ان کے بعد ان کے فرزند علیؑ ہوںگے۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے محمدؑہوںگے جب وہ اٹھ جائیںگے تو ان کے فرزند علیؑ ہوںگے۔ جب وہ گزر جائیںگے تو ان کے فرزن حسنؑ ہوںگے۔ اور ان کے بعد ان کے فرزند محمدؑ مہدی ہوںگے جو حجۃ خدا رہیںگے۔ پس یہی بارہ امام میرے اوصیاء ہیں۔ اس یہودی نے کہا یہ بھی فرمائیے کہ علیؑ اور حسنؑ وحسینؑ کس طرح مریںگے؟ حضرتؐ نے فرمایا علیؑ کے سر پر تو تلوار کا ایک وارپڑے گا جس سے وہ قتل ہوجائیںگے اور حسنؑ زہر دے کر قتل کئے جائیںگے اور حسینؑ ذبح کئے جائیںگے۔ اس یہودی نے پوچھا یہ لوگ مرکر کہاں رہیںگے؟ حضرتؑ نے فرمایا بہشت میں۔ اور وہاں بھی خاص میرے درجہ میں۔ تب اس یہودی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ سوا اللہ کے کوئی خدا نہیں ہے اور یہ کہ یقینا آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی کہ یہی حضرات جن کے آپ نے نام بتائے آپ کے بعد آپ کے اوصیاء ہوںگے۔ ہم نے سابق کی کتابوں میں اور جن باتوں کا عہد ہم سے حضرت موسیٰ نے لیا تھا یہ انہیں لکھا ہوا پایا ہے کہ جب آخر زمانہ ہوگا تو ایک نبی مبعوث ہوںگے جن کا نام احمدؐ اور محمدؐ ہوگا۔ وہ خاتم الانبیاء ہوںگے کہ ان کے بعد پھر کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ان پیغمبر کے اوصیاء ان کے بعد بارہ ہوںگے۔ ان کے اول تو اس نبی کے چچازاد بھائی اور داماد ہوںگے اور دوسرے اور تیسرے وصی انہیں امام اول کے فرزند ہوںگے جو دونوں آپس میں بھائی ہوںگے اور اس نبی کی امت ہی اس پہلے وصی کو تلوار سے اور دوسرے کو زہر سے اور تیسرے کو ان کے اہلبیت کے ساتھ تلوار اور پیاس کی مصیبت سے عالم غربت میں قتل کرے گی۔ وہ اس طرح ذبح کئے جائیںگے جس طرح بھیڑ بکری کے بچے ذبح کئے جاتے ہیں اور وہ بزرگ اور مصیبت قتل پر صبر کریںگے جس سے ان کے اور ان کے اہلبیت او ران کی ذریت کے درجے بلند ہوںگے اور اس ذریعہ سے وہ اپنے دوستوں اور پیرئوں کو جہنم سے بچالیںگے اور اس نبی کے باقی نواوصیاء اسی تیسرے وصی کی اولاد سے ہوںگے تو یہ بارہ وصی بھی اسباط کی طرح ہوںگے جو بارہ تھے۔ (ینابیع المودۃ ص؍۳۶۹)
علامہ ممدوح پھر لکھتے ہیں:
(ترجمہ) یعنی بعض محققین کی تحقیق ہے کہ یہ حدیثیں جوبتاتی ہیں کہ آنحضرتؐ کے بعد آپ کے خلفاء بارہ ہوںگے بہت سے طریقوں سے مشہور ہیں اور زمانے کے سمجھانے اور عالم کے بتانے سے معلوم ہوگیا کہ حضرت رسول خداؐ کا مقصود ان حدیثوں سے وہی بارہ امام ہیں جو حضرت کے اہلبیت اور ذریت سے ہوئے۔ اس لئے کہ یہ ممکن نہیں کہ ان حدیثوں سے وہ خلفاء (حضرات ابوبکر وعمر وعثمان) سمجھے جائیںجو حضرت کے صحابہ سے آپ کے بعد ہوئے کیونکہ ان کی تعداد بارہ سے کم تھی اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ان حدیثوں سے خلفاء بنی امیہ مراد ہوںگے اس لئے کہ وہ بارہ سے زیادہ ہوئے اور سوائے عمر بن عبدالعزیز کے وہ سب حددرجہ ظالم بھی تھے اور پھر وہ بنی ہاشم سے بھی نہ تھے۔ حالانکہ آنحضرتؐ نے فرمادیا ہے کہ وہ خلفاء سب کے سب بنی ہاشم ہی سے ہوںگے اور یہ قول کو جو آنحضرتؐ نے آہستہ سے فرمایا اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نے یہی فرمایا تھا کہ وہ سب بنی ہاشم سے ہوںگے اور آنحضرتؐ نے اس کو آہستہ اس وجہ سے فرمایا کہ اس وقت کے مسلمان بنی ہاشم کی خلافت کو پسند نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ ان حدیثوں سے خلفاء بنی عباس مراد ہوںکیونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے بہت زیادہ تھی۔ ان لوگوںنے حکم خدا ’’قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربیٰ۔ اے رسول ان مسلمانوں سے کہہ دو کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر اس کے سواکوئی اجر نہیں چاہتا کہ تم لوگ میرے اہلبیتؑ سے محبت اختیار کرو) اور حدیث کساء کا بہت کم خیال کیا تو اب اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس حدیث کے مقصود وہی بارہ امام ہوں جو حضرت کے اہلبیت اور عترت سے تھے اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہی حضرات اپنے زمانوں میں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ علم، جلالت قدر، ورع، تقویٰ، اعلیٰ نسب، افضل حسب اور شرف وکرم والے تھے اور ان حضرات کو ان کے علوم وکمالات ان کے جد بزرگوار حضرت رسول خدا سے وراثۃ اور لدنیہ کے ذریعہ سے پہنچے تھے۔ اسی طرح صاحبان علم وتحقیق اور ارباب کشف وتوفیق نے ان حضرات کی تعریف کی ہے۔ (ینابیع المودۃ ص۳۷۳)
بارہویں امام پیدا ہوچکے ہیں:
 معلوم رہے کہ بارہویں امام پیدا ہوکر نظروں سے غائب ہوگئے۔ اس لئے کہ اس زمانہ میں ظاہر بہ ظاہر کوئی حجۃ خدا نظر نہیں آتا۔ حالانکہ زمین کبھی حجۃ خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔ حضرات اہلسنت کی مشہور کتاب میں ہے ’’لاتخلوا الارض من قائم اللہ بحجۃ اما ھومشہور واما خائف معمور لئلا تبطل حجج اللہ وبیناتہ۔‘‘
یعنی زمین کبھی خدا کی حجۃ سے خالی نہیں ہوسکتی۔ وہ حجۃ خدا خواہ مشہور ومعروف ہوکہ لوگ اس کو پہچانتے ہو، خواہ خوفزدہ اور لوگوں کی نظروں سے چھپا ہو۔ غرض اس کا وجود ہر زمانہ کے لئے ضروری ہے تاکہ اللہ کی حجتیں اور اس کی نشانیاں مٹنے نہ پائیں۔ (منتخب کنزالعمال مطبوعہ مصر ج؍۴، ص؍۴۰)
اب وہ کب پیداہوئے؟
 علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں:
’’ابی القاسم محمد الحجۃ وعمرہ عند وفاۃ ابیہ خمس سنین لکن اتاہ اللہ فیھا الحکمۃ ویسمی القائم المنتظر۔یعنی حضرت ابوالقاسم محمدؑ حجۃ العصر کی عمر آپ کے پدر بزرگوار کی وفات کے وقت پانچ سال کی تھی مگر خدا نے اسی عمر میں آپ کو حکمت عطا فرمائی تھی اور آپ کو لوگ قائم منتظر کہتے ہیں۔ (صواعق محرقہ مطبوعہ مصر ص؍۱۲۴)
اور علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:
محمد بن الحسن العسکری کانت ولادتہ یوم الجمعۃ منتصف شعبان سنۃ خمس وخمسین وماتین۔
یعنی امام مہدیؑابن امام حسن عسکریؑ کی ولادت روزجمعہ ۱۵؍شعبان ۲۵۵ھ؁ کو ہوئی۔ (وفات الاعیان ج؍۲، ص؍۲۴)
اور علامہ ابوالفداء نے لکھا ہے:
’’یقال لنا القائم والمہدی والحجۃ وولد المنتظر المذکور فی سنۃ خمس وخمسین وماتین۔
یعنی حضرت قائم اور مہدی اور حجۃ کہتے ہیں۔ یہ امام منتظر ۲۵۵ھ؁ میں پیدا ہوئے (تاریخ ابوالفداء ج؍۲، ص؍۴۵)
اور علامہ شیخ عبدالوہاب شعرانی نے لکھا ہے:
یترقب خروج المھدیؑ وھومن اولاد الامام الحسن العسکریؑ ومولدہ لیلۃ النصف من شعبان ۲۵۵ ہجری وھوباق الی ان یجتمع بعیسی بن مریم فیکون عمرہ الیٰ وقتنا ھٰذا وھو ۹۵۸ سبعماۃ سنۃ وست سنین۔۔۔۔۔۔لابد من خروج المھدیؑ۔۔۔۔وھومن عترۃ رسول اللہؐ من ولد فاطمۃ جدہ الحسین بن علی ووالدہ حسن العسکری ابن الامام علی النقی بن محمد التقی بن الامام علی الرضاالباقربن الامام زین العابدین علی بن الامام حسین بن الامام علی۔ یعنی حضرت مہدی کے ظہور کا برابر انتظار رہتا ہے۔ آپ شب ۱۵؍شعبان ۲۵۵؁ ہجری میں پیدا ہوئے اور اس وقت تک باقی رہیںگے کہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ جمع ہوں۔ اس حساب سے آپ کی عمر اس وقت ۹۵۸ھ؁ میں ۷۰۶ سال کی ہوئی۔ آپ ظاہر ہوکر رہیںگے۔ آپ حضرت رسول خداؐ کی عترت اور جناب فاطمہ زہراؑ کی اولاد سے ہیں۔ آپ کے والد امام حسن عسکریؑ فرزند امام علی نقیؑ، فرزند امام محمد تقی، فرزند امام علی رضاؑ، فرزند امام موسیٰ کاظمؑ، فرزند امام جعفر صادقؑ، فرزند امام محمدؑ باقر، فرزند امام زین العابدینؑ فرزند امام حسینؑ، فرزندحضرت علیؑ تھے۔ (الیواقیت والجواہر ، مطبوعہ مصر ج؍۲، ص؍۲۸۸)
شب برأت کی آتش بازی:
بھی دنیا کی عجیب وغریب باتوں سے ہے۔ کسی طرح پتہ نہیں چلتا کہ اس کو کس نے کب اور کیوں ایجاد کیا؟۔
دوسرے اسلامی ممالک میں بھی مختلف صورتوں سے اس کا رواج ہے اور باوجودیکہ علمائے اہل سنت اس کے روکنے کی شدید ترین کوشش کرتے رہتے ہیں حد ہوگئی کہ جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے چند سال قبل اس کا جنازہ نکال کراس کو ختم کردینے کا اعلان کیا۔
مگر حضرات اہل سنت اب بھی اسی اسلامی جوش سے اس کو مناتے اور اس میں لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں تو باوجود ان حضرات کی اس سخت کوشش کے یہ نور خدا کیوں نہیں بجھتا؟ اسی لئے تو کہ خدا اس کو قائم رکھنا چاہتا ہے اور غالباً اسی غیبی طاقت نے اس کو پھیلا رکھا ہے۔تاکہ دنیا سمجھے کہ آج چونکہ وہ حجت خدا پیدا ہوگیا ہے جو قیامت تک قائم رہے گا اور اس کے وجود مسعود کی وجہ سے دنیا قائم ہے۔
اور جب دنیا ظلم وجور سے بھر جائے گی تو بھی حجۃ خدا ظاہر ہوکر اس کو عدل وانصاف سے بھردے گا۔ لہٰذا ہر مسلمان میں غیب سے برآمادگی پیدا ہوجاتی ہے کہ اس رات میں آتش بازی کے ذریعہ سے خوشی کا ڈھنڈورا پیٹے۔
اللھم صل علی محمد وآل محمد و عجل فرجھم 

ارشادات پیغمبر اکرمﷺ ،دربارہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام از منابع اہل سنت



ارشادات پیغمبر اکرمﷺ ،دربارہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام از منابع اہل سنت 
(۱) اے علیؑ! اگر بندہ اتنے سال تک خدا کی عبادت کرے جتنے سال جناب نوحؑ نے اپنی قوم میں پیغمبری کی ہےاور کوہ احد کے برابر سونا خدا کی راہ میں انفاق کرے اور اتنی عمر پائے کہ ہزار پاپیادہ حج کرے پھر مظلومیت کے ساتھ صفا و مروہ کے درمیان قتل کردیا جائے ان سب کے باوجود اگر تم سے دوستی نہ رکھتا ہو اور تمہاری ولایت کا معتقد نہ ہو تو جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا۔ (مناقب خوارزمی ص۲۸)
(۲) اے علیؑ!تم خدا کی حجت ہو، تم باب اللہ ہو، تم خدا کی طرف لے جانے والا راستہ ہو۔ تم نبا عظیم (بڑی خبر) ہو، تم سچائی اور حق کا راستہ ہو ،تم خدا کی مثل اعلیٰ ہو۔ تم مسلمانوں کے پیشوا، مومنوں کے امیر، بہترین وصی اور سچے و نیک لوگوں کے سید و آقا و مولا ہو۔  تم ہی فاروق اعظم ہو ( یعنی حق و باطل کے درمیان بہترین فرق کرنے والے اور اس کا معیار ہو) تم ہی صدیق اکبر ہو ( یعنی سب سے پہلے تم ہی نے میری تصدیق کی اور قول و فعل میں تم سب سے سچے ہو) تمہارا گروہ میرا گروہ ہے اور میرا گروہ خدا کا گروہ ہے۔ تمہارے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے۔ ( ینابیع المودۃ ، ۹ب۹۵۔ص۴۹۶)
(۳) اے علیؑ! جو بھی مجھ سے جدا ہوا وہ خدا سے جدا ہوا اور جو تم سے جدا ہو وہ مجھ سے جدا ہوا۔ ( فرائدالسمطین ۱/۳۰۰)
(۴) اے علیؑ! تم ہی میرے بعد تمام مومنین کے درمیان میرے خلیفہ و جانشین ہو۔(کتاب السنۃ ابن عاصم،۵۵۱)
(۵) اے علیؑ! سزاوار نہیں ہے کہ میں لوگوں کے درمیان سے چلاجاؤں مگر یہ کہ تم میرے خلیفہ و جانشین ہو۔(المستدرک حاکم، ۱۳۳)
(۶) اے  عمار!علیؑ کی پیروی میری پیروی ہے اور میری پیروی خدا کی اطاعت ہے ۔ (فرائد السمطین ۱/۱۷۸)
(۷) خداوند عالم نے علیؑ اور ان کی شریک حیات اور ان کے بیٹوں کو اپنی مخلوق پر اپنی حجت قرار دیا ہے۔ یہ سب میری امت کے درمیان علم و دانش کا دروازہ ہیں جو بھی ان تک پہنچ گیا اس نے ہدایت کو حاصل کرلیا۔ ( شواہد التنزیل ۱ ص۵۸)
(۸) جو بھی چاہتا ہے کہ پل صراط سے بادِ تند کی طرح گزر جائے اور بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ میرے ولی ، میرے وصی ، میرے ساتھی اور میرے جانشین یعنی علی ابن ابی طالبؑ سے محبت کرے۔ اور جو بھی دوزخ میں جانا چاہتا ہے وہ علیؑ کی ولایت سے دوری اختیار کرے۔ اپنے پروردگار کی عزت و جلال کی قسم علیؑ ہی وہ دروازہ ہیں جس دروازے کے بغیر خدا تک رسائی نا ممکن ہے۔ وہی علیؑ راہ حق ہیں۔ علیؑہی کی ولایت کے بارے میں خدا سوال کرے گا۔ ( شواہد التنزیل ۱/۵۹)
(۹) جب میں شب معراج سدرۃالمنتہیٰ پر پہنچا تو خداوند عالم نے علیؑ کے بارے میں تین باتوں کی وحی کی: یقینا علیؑ ہی متقین کے امام ہیں، مسلمانوں کے سید و سردار اور جنت کی جانب روسفید لوگوں کے جلودار ہیں۔(معرفۃالصحابۃ، ابونعیم اصفہانی۳؍۱۵۸۷، المستدرک۳؍۱۳۸)
(۱۰) علی ابن ابی طالبؑ ہی دین کا دروازہ ہیں جو بھی ان سے وابستہ ہوگا وہی مومن ہے اور جو ان سے دور ہوا وہ کافر ہے۔ ( ینابیع المودۃ ۲/۶۱)
(۱۱) یقیناً علیؑ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، میرے بعد وہی مومنین کے مولیٰ و سرپرست ہیں۔(المستدرک حاکم۳؍۱۱۰؛ السلسۃ الصحیحۃ،۵؍۲۲۲)

غدیر روایات کی روشنی میں

غدیر روایات کی روشنی میں
غدیر عظیم الشان دن
حضرت امیر المو منین علیہ السلام :غدیر کا دن عظیم الشان دن ہے۔ (عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۰۹ )
 غدیر کے دن خوشی کا اظہار 
حضرت امیر المو منین علیہ السلام :اس دن ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کرتے وقت خوشی کا اظھار کریں .(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۱۵ )
 غدیر کے دن احسان کرنے سے برکت ہوگی
 حضرت امیر المو منین علیہ السلام :اس دن احسان کرنے سے مال میں برکت ہوتی اور اضافہ ہوتا ھے ۔(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۰۹)
ہر نبیؐ نے عید غدیر منائی 
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: خدا وند عالم نے کو ئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس پیغمبر نے غدیر کے دن عید منا ئی اور اس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا ۔(عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۴ )
 عید غید سب سے بڑی عید 
امام جعفر صادق علیہ السلام:عید غدیر عید اللہ اکبر یعنی خدا وند عالم کی سب سے بڑی عید ہے۔ (عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۱۱ )
غدیر کا دن سب سے افضل 
  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: عید غدیر خم؛عید فطر ،عید قربان ،روز جمعہ اور عرفہ کے دن سے افضل ہے اور خدا وند عالم کے نزدیک اس کا بہت بڑا مقام ہے ۔(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۱۲،۲۱۱،۲۱۰)
 غدیر سرور و خوشی کا دن  
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: غدیر کا دن بزرگ اور عظیم دن ہے یہ دن عید اور خوشی و سرور کا دن ہے۔(عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۳۔الیقین صفحہ۳۷۲ باب۱۳۲ )
 غدیر محبوں کی عید 
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:  روز غدیر وہ دن ہے جس کو خداوند عالم نے ہمارے شیعوں اور محبوں کیلئے عید قرار دیا ہے ۔(عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۳)
غدیر سب سے محترم دن 
 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: شاید تم یہ گمان کرو کہ خدا وند عالم نے روز غدیر سے زیادہ کسی دن کو محترم قرار دیا ہے !نہیں خدا کی قسم نہیں ،خدا کی قسم نہیں ،خدا کی قسم نہیں! ( عوالم جلد ۳/۱۵صفحہ۲۱۵)
 غدیر کے دن کثرت سے صلوات پڑھو
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:اس دن محمد و آل محمد پر بہت زیادہ صلوات بھیجو اور ان پر ظلم کرنے والوں سے برائت کرو ۔(بحا ر الانوار جلد۳۷  صفحہ۱۷۱ )
 غدیر شکر اور حمد و ثنا کا دن
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام :یہ دن خدا وند عالم کے شکر اور اس کی حمد وثنا کرنے کا دن ہے کہ اس نے تمہارے لئے امر ولایت کو نازل فرمایا ہے ۔(بحا ر الانوار جلد ۳۷صفحہ۱۷۰)
غدیر اہل بیتؑ کی عید
حضرت امام رضا علیہ السلام:یہ دن اہل بیت محمد علیھم السلام کی عید کا دن ہے ۔(عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۲۳)
عید غدیر منانے سے مال میں برکت
حضرت امام رضا علیہ السلام:جو شخص اس دن عید منائے خداوند عالم اس کے مال میں برکت کرتا ہے۔ (عوالم جلد۳ /۱۵صفحہ۲۲۳ )٭٭٭٭

غدیر چہاردہ معصومین علیہم السلام کی نظر میں
رسول خداؐﷺ: اے علیؑ! خداوند عالم نے آیت "یا ایھا الرسول بلغ ۔۔۔"کو تمہاری ولایت کے بارے میں نازل کیا ہے۔ اگر اس ولایت کو کہ جسے پہنچانے کا خدا نے مجھے حکم دیا نہ پہنچاتا تو میری رسالت باطل ہو جاتی۔ اور جو شخص خدا سے تمہاری ولایت کے بغیر ملاقات کرے اس کا کردار باطل ہے۔ اے علیؑ میں وحی خدا کے سوا بات نہیں کرتا۔( امالی شيخ صدوق، مجلس، 74، ص .400)
امام علیؑ: اے مسلمانو! اور اے مہاجرین و انصار! کیا تم لوگوں نے نہیں سنا کہ رسول خدا ؐنے غدیر کے دن کیا فرمایا؟۔کیا میرے علاوہ کوئی اور تمہارے درمیان ہے جس کے بارے میں پیغمبر خدا ؐنے فرمایا ہو: من کنت مولاہ ۔۔۔( اثبات الہداۃ، ۲؍۱۱۲؍۴۷۳؛مناقب ابن شہر آشوب،۳؍۲۵)
حضرت زہرا علیہا  السلام:بہت تعجب ہے!  کیا تم لوگوں نے غدیر خم کو فراموش کر دیا ہے؟
امام حسن مجتبیؑ : پیغمبر اسلام ؐنے میرے بابا کے بارے میں فرمایا: " انہ منی بمنزلۃ ھارون من موسی" اسی طرح پیغمبرؐ  نے بابا کو غدیر خم میں امام کے عنوان سے منصوب کیا ہے۔(امالی شيخ صدوق، ج 2، ص .171)
امام حسینؑ:( بنی ہاشم سے فرمایا:) کیا تم سب جانتے ہو کہ پیغمبر اسلامؐ نے امیر المومنین علی ؑ کو غدیر خم کے دن مقام امامت پر منصوب کیا؟ سب نے کہا: ہاں ، [اے فرزند رسول]۔(سليم بن قيس، ص .168)
امام زین العابدینؑ:(من کنت مولاہ۔۔۔کے ذریعہ)پیغمبر اسلامؐ نے لوگوں کو یہ خبر دی کہ ان کے بعد علیؑامت کے امام ہیں۔
(معانی الاخبار،۶۵؛ بحارالانوار،۳۷؍۲۲۳)
امام باقر ؑ: پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا: امیر المومنین لوگوں کے درمیان میرے جانشین ہوں گے.(معانی الاخبار، ص .66)
امام صادق ؑ:ہر وہ چیز جس  کی انسان کو ضرورت ہے اس کا حکم خدا اور اس کے پیغمبر کی سنت میں موجود ہے۔ اگر سنت نہ ہوتی خداوند عالم کبھی بھی اپنے بندوں پر حجت تمام نہ کرتا۔خدا نے آیہ اکمال کے ذریعہ ولایت کو مکمل کیا اس سنت کے ذریعے اس نے حجت کو تمام کیا ہے۔ (تفسير برہان، ج 1، ص .446)
امام موسی کاظمؑ:( غدیر خم کی مسجد میں نماز کے بارے میں فرمایا:)اس میں نماز پڑھو اس لیے کہ اس میں نماز پڑھنے کی بہت فضیلت ہے اور بتحقیق میرے بابا نے اس امر کے لیے حکم کیا ہے۔(اصول كکافی، ج 4، ص .566)
امام رضاؑ: روز غدیر آسمان والوں کے یہاں زمین والوں سے زیادہ مشہور اور مقبول ہے۔ یقینا اس دن خداوند عالم مسلمان مرد و زن کے ساٹھ سال کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور دوبرابر زیادہ لوگوں کو ماہ رمضان کی نسبت ،جہنم کی آگ سے نجات دلاتا ہے۔ اگر لوگ اس دن کی قدر و قیمت کو جان لیتے تو بغیر شک کے ہر روز دس بار فرشتے ان سے مصافحہ کرتے۔(تہذيب الاحکام، شيخ طوسی، ج 6، ص 24، ح 52؛ مناقب ابن شہرآشوب، ج 3، ص .41)
امام محمد جوادؑ: پیغمبر اسلامؐ نے دس مقامات پر اپنے جانشین کی طرف اشارہ کیا اس کے بعد آیت "یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود" نازل ہوئی۔(تفسيرقمی، ج 1، ص .160)
امام ہادیؑ:  خداوند عالم نے حکم دیا: «يا ايهاالرسول بلغ ۔۔۔، پیغمبر اسلامؐ نے لوگوں کو خطاب کیا اور ان سے پوچھا: کیا میں نے جو کچھ میرے ذمہ تھا تم لوگوں تک نہیں پہنچایا؟سب نے کہا: پہنچا دیا یا رسول اللہؐ۔اس کے بعد فرمایا: خدایا گواہ رہنا۔ اس بعد فرمایا: کیا میں مومنین پر ان کے نفوس سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں؟ سب نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ آپ رکھتےہیں۔ اس کے بعد علیؑکا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جس کا میں مولاہوں اس کے علی مولا ہیں۔۔۔(بحارالانوار، ج 100، ص .363)
امام حسن عسکریؑ:  اگر محمد اور آل محمد نہ ہوتے تم لوگ حیوانوں کی طرح سرگرداں گھومتے رہتے۔ اور کسی بھی فریضہ کی ادائیگی نہ کر پاتے۔ مگر گھر میں دروازے کے علاوہ انسان داخل ہو سکتا ہے؟ جب خداوند عالم نے پیغمبرؐ کے اولیاء کو معین کر کے اپنی حجت تمہارے اوپر تمام کر دی تو فرمایا: «اليوم اكملت لكم ۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے اپنے اولیاء کے کچھ حقوق تمہاری گردنوں پر رکھے اور تمہیں حکم دیا کہ ان  کے حقوق کو ادا کرو تاکہ تمہاری عورتیں، تمہارا مال و دولت، خوراک و پوشاک تمہارے اوپر حلال ہو۔(علل الشرائع، ج 1، ص 249، باب 182، ح .66)
امام زمانہؑ:جب محمد رسول اللہؐ کا وقت پورا ہو گیا تو ان کی جگہ علی بن ابی طالبؑ نے لے لی ان دونوں پر اور ان کی آل پر تیری رحمتیں ہوں ، علیؑ رہبر ہیں جبکہ محمدؐ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے رہبر ہے پس آپؐ نے جماعت صحابہ سے فرمایا: من کنتُ مولاہ فعلی مولاہ۔(دعائے ندبہ میں )

عید سعید غدیر

باسمہ تعالیٰ
عید سعید غدیر 
اہمیت  و فضیلت، آداب و اعمال
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِیْنَ بِوِلَایَۃِ اَمِیْرِ المُؤْمِنِیْنَ وَ الاَئِمَّۃِ عَلَیْھِمُ السَّلام
(اس خدا کی حمد ہے جس نے ہم کو امیر المومنین علیہ السلام اور ائمہ علیہم السلام کی ولایت سے تمسک کرنے والوں میں قرار دیا)
’عید غدیر‘، اللہ کی عظیم ترین عید ہے اسے ’عید اللہ الاکبر‘ کہاگیا ہے،آل محمد ؑ کے لئے عظیم ترین عیدوں میں اور ’عید ولایت‘ ہے،خدا وند عالم نے ہر پیغمبر کے لئے اس دن کو عید قرار دیا اور محترم بنایا ہے،اس کا نام آسمان میں روز ’’عید موعود‘‘ اور زمین میں روز ’’میثاق ماخوذ‘‘ اور ’’جمع مشہود‘‘ قرار پایا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کی کہ غدیر کے دن کو عید سمجھیں اور ہر پیغمبر نے اپنے وصی کو وصیت کی کہ اس دن کو عید قرار دیں۔ یہ بے حد مبارک و مسعود دن اور شیعوں کے اعمال قبول ہونے کا دن ہے اور ان کے غموں کے دور ہونے کا دن ہے۔
اس دن یعنی ۱۸؍ ذی الحجہ ۱۰ ہجری کو پیغمبر اکرمؐ نے اپنے آخری حج سے واپسی میں آیۂ بلّغ( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ﴿سورہ مائدہ آیت:۶۷﴾)۔ ’’اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے‘‘ )، نازل ہونے پر حکم خدا کی بجاآوری کرتے هہوئے ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھَذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ‘‘  کے ذریعہ اپنے بعد کے لئے حضرت علی علیہ السلام كکو اپنا جانشین و خلیفۂ بلا فصل معین فرمایا۔ جس کے بعد آیۂ اکمال (۔۔۔اَلْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۔(سورہ مائدہ، آیت۳)’۔ ۔۔۔آج کے دن کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں لہذا تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو -آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے۔۔۔‘) نے نازل هہوکر غدیر کے دن دین کے مکمل اور جاودانی ہونے اور کفار و منافقین کی مایوسی کا اعلان کیا۔
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:جہاں کہیں بھی رہو کوشش کرو کہ روز غدیر حضرت علیؑ کی قبر مطہر کے پاس حاضر ہو ،خداوند عالم اس دن ہر مومن اور مومنہ کے ساٹھ سال کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور اس دن آتش جہنم سے اُس کے دوگنا لوگوں کو آزاد کرتا ہے جتنے ماہ رمضان اور شب قدر اور شب عید فطر میں آزاد کرتا ہے اور اس دن برادر مومن کو ایک درہم دینا ہزار درہم دینے کے برابر ہے اور اس دن برادران ایمانی کے ساتھ احسان کرو اور مومنین اور مومنات کوخوش کروبخدا اگر لوگوں کو اس دن کی فضیلت معلوم ہوجائے تو اس روز دس مرتبہ ملائکہ ان سے مصافحہ کریں گے۔
اس دن جناب موسیٰ ؑ نے جادوگروں پر غلبہ حاصل کیا، خدا نے جناب ابراہیم ؑ کے لئے آتش نمرود کو گلزار کیا، حضرت موسیؑ نے یوشع بن نون کو اپنا وصی بنایا، حضرت عیسیؑ نے شمعون الصّفا کو اپنا وصی بنایا،حضرت سلیمانؑ نے اپنی رعایا کو آصف بن برخیا کے خلیفہ ہونے پر گواہ بنایا ، رسول خداؐ نے اصحاب کے درمیان رشتۂ اخوت قائم کیا۔
اس دن کے بعض اعمال و آداب:
روزہ رکھنا(یہ روزہ دنیا کی عمر کے روزہ کے برابر ،سو مقبول حج اور سو مقبول عمرہ کے برابر اور ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے )،غسل کرنا، زیارت امیرالمومنین ؑ پڑھنا،نماز عید پڑھنا،غسل کرنا،دعائے ندبہ پڑھنا۔
اس دن کثرت سے عبادت کرنا، محمد و آل محمد ؑ کو یاد کرنا چاہیے اور ان پر بہت زیادہ درود بھیجنا چاہیے اور ان پر ظلم کرنے والوں سے برائت کرنا چاہیے،قبر حضرت علیؑ کی زیارت،مومنین کو عیدی دینا،مومن بھائیوں کے ساتھ احسان کرنا،مومنین کو خوش کرنا،اچھے لباس پہننا، زینت کرنا، خوشبو استعمال کرنا، خوش ہونا شیعوں کو خوش کرنا ،ان کی تقصیروں اور خطاؤں کو معاف کرنا، حاجتوں کو پورا کرنا ، صلۂ رحم کرنا، بیوی بچوں کو خوش کرنا اور ان کے لئے وسعت پیدا کرنا،مومنین کو کھانا کھلانا، روزہ رکھنے والوں کو روزہ کھلانا، مومنین سے مصافحہ کرنا، مومنین سے ملاقات کے لئے جانا، مومنین کو دیکھ کر مسکرانا، مومنین کے لئے تحفہ تحائف بھیجنا، ولایت کی عظیم نعمت کے لئے شکر بجا لانا، زیادہ صلوات پڑھنا، کثرت سے عبادت و اطاعت کرنا اسمیںسے ہر ایک عمل عظیم ترین فضیلت کا حامل ہے۔
اور اس دن جو ایک روپیہ برادر مومن کو دیتا ہے وہ اس ایک لاکھ روپیہ کے برابر ہوتا ہے جوا س کے علاوہ کسی اور دن دیا ہو۔
 اور اس دن مومن کو کھانا کھلانا تمام پیغمبروں اور صدیقین کو کھانا کھلانے کے برابر ہے۔ اور امیرالمومنین علیہ السلام کے خطبہ میں ہے کہ غدیر کے دن جو شخص مومن روزہ دار کو افطار کرائے افطار کے وقت تو گویا اس نے دس ’فئام‘ کو افطار کرایا ہے۔ کسی نے اٹھ کر پوچھا: یا امیرالمومنینؑ یہ فئام کیا ہے؟ فرمایا : ایک لاکھ پیغمبر، صدیق اور شہید۔ تو اب سوچو اس شخص کا حال کیا ہوگا جو تمام مومنین و مومنات کی کفالت کرے! میں اس کے لئے خدا کی بارگاہ میں ضامن ہوں کفر فقر وغیرہ سے محفوظ رہنے کا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس دن یہ جملات بہت زیادہ کہو:
 اللّٰھُمَّ الْعَنِ الْجَاحِدِینَ والنَّاکِثِینَ والمُغَیِّرِینَ والمُبَدِّلِینَ والمُکذِّبِینَ الَّذِینَ یُکَذِّبُونَ بِیَومِ الدِّینِ مِنَ الَاوَّلِینَ والآخِرِینَ۔ 
(اے خدا! قیامت کے دن انکار کرنے والے عہد توڑنے والے ،تغیر وتبدل کرنے والے ،بدلنے(بدعت ایجاد کرنے والے) اور جھٹلانے والے چاہے وہ اولین میں سے ہوں یا آخرین میں سے سب پر لعنت کر۔)
نماز عید:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں :زوال سے آدھا گھنٹہ پہلے(خدا وند عالم کے شکرانہ کے عنوان سے)دور کعت نماز پڑھو ۔ہر رکعت میں سورہ حمد دس مرتبہ ، سورہ توحید دس مر تبہ ، آیۃ الکر سی دس مرتبہ اور سورہ قدر دس مر تبہ پڑھو ۔اس نماز کے پڑھنے والے کو خدا وند عالم ایک لاکھ حج اور ایک لاکھ عمرے کا ثواب عطا کرتاہے اور وہ خدا وند عالم سے جو بھی دنیا اور آخرت کی حاجت طلب کرے گا وہ بہت ہی آسانی کے ساتھ بر آ ئیگی۔
عقد اخوت و برادری:
 عید غدیر کے لئے جو رسم رسومات بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک عقد اخوت ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ مومنین ایک اسلامی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آپس میں اپنی برادری کو مستحکم کرتے ہیں ،اور ایک دوسرے سے یہ عھد کرتے ہیں کہ قیامت میں بھی ایک دوسرے کو یاد رکھیں گے ضمنی طور پر اسلامی بھائی چارے کے حقوق چونکہ بہت زیادہ ہیں لہذا ان کی رعایت کیلئے خاص توجہ کی ضرورت ہے لہذا ان کے ادا نہ کرسکنے کی حلیت طلب کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کوحقوق کی ادا ئیگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔
 صیغۂ اخوت پڑھنے کا طریقہ یہ ہے : 
اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے مو من بھا ئی کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر کہو :
وآخَیتُکَ فِی اللہِ وصَافَیتُکَ فِی اللہِ وصَافَحْتُکَ فِی اللہِ وعَاھَدْتُ االلہَ وملا ئِکتَہ و کُتُبَہٗ وَ رُسُلَہٗ وَ اَنْبِیَائَہٗ والا ئِمۃَ الْمَعصُومِینَ علیھِمُ السَّلامِ عَلٰی اَنِّی اِنْ کُنْتُ مِنْ اَھْلِ الجَنَّۃِ وَالشَّفَاعَۃِ وَاُذِنَ لِیْ بِاَنْ اَدخُلَ الْجَنَّۃَ لا اَدْخُلُھَا اِلّا وَاَنْتَ مَعِیْ۔ 
(میں راہِ خدا میں تیرا بھائی ہوں ،اور راہِ خدا میں میں نے تجھ سے صفائی کی،اور راہِ خدا میں میں نے تجھ سے مصافحہ کیا،اور میں نے خدا سے اور اس کے ملائکہ، کتابوں، رسولوں، انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے عہد کیا ہے کہ میں اگر جنت والوں میں اور شفاعت والوں میں ہوا اور مجھ کو اجازت دی گئی کہ میں جنت میں داخل ہوجاؤں تو میں جنت میں تمہارے بغیر داخل نہ ہوں گا۔ )
پھر برادر مومن کہے :’’قبِلتُ ‘‘(میں نے قبول کیا)۔ اس کے بعد کہے : اَسْقَطْتُ عَنْکَ جَمِیْعَ حُقُوْقِ الْاُخُوَّۃِ مَاخَلا الشَّفَاعَۃَ وَالدُّعَاءَ وَالزِّیَارَۃَ ۔( میں نے بھائی چارگی کے اپنے تمام حقوق تجھ سے اٹھا لئے(تجھ کو بخش دئے )سوائے شفاعت ،دعا اور زیارت کے۔ )

تعزیہ اور تعزیہ داری کا جواز

تعزیہ اور تعزیہ داری کا جواز
علامہ سید علی حیدر نقوی طاب ثراہ

تعزیہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟مَن جدّد قبراً کا مطلب:
مولوی صاحب:رافضی ایک بت بناکر اس کو تمام گھماتے اور اس کے ساتھ نوحہ و ماتم کو چیخ چیخ کر پڑھتے ہیں اور لوگوں کو سناتے ہیں اس کو تو ہر شخص بت پرستی اور شرک کہے گا!
حسینی بیگم:رافضی بت کیسا اور کب بناتے ہیں؟
مولوی صاحب:کیا تم نہیں جانتیں!یہ جو محرم میں کاغذ اور بانس کی تیلیوں سے بناتے ہیں،کیا ہے؟
حسینی بیگم:وہ تو تعزیہ ہوتا ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارکہ کی شبیہ!
مولوی صاحب: یہی تو بت ہے،قبر کی شبیہ بنانا اور گھمانا بت پرستی نہیں تو اور کیا ہے؟اور لطف یہ کہ خود ان کی کتابوں میں اس کو منع کیا ہے ان کی بڑی معتبر کتاب ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘میں خود سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ :’’من جدّد قبرا او مثالا فقد خرج عن الاسلام‘‘ !
حسینی بیگم: تو اس سے تعزیہ بت کیسے ہوجائے گا؟دیکھو ہمارے اور تمہارے  پیشوائے اعظم مولانا وحید الزماں خان صاحب حیدر آبادی نے تحریر فرمایا ہے: ’’من جدّد قبراً ومثالاً فقد خرج عن الاسلام ‘‘جس نے قبر کو نیا کیا اس کی مرمت کی، اس پر گلا وہ یا چونہ کاری کی یا قبر کھود کر اس میں سے لاش نکالی یا مورت جاندار کی بنائی یا بدعت نکالی وہ اسلام سے باہر ہوگیا۔ (انوار اللغۃ پارہ ۵ ص۱۸) 
اس حدیث کا مطلب واضح ہے کہ: (۱) جوشخص تجدید قبر کرے یعنی قبر کھود کر اس میں کسی اور کو دفن کرے۔ (۲) جو شخص کوئی مورت بنائے وہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ اور اس پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ قبر کی تجدید کرنی یعنی ایک پرانی قبر میں دوسرے مردے کودفن کرکے اس کو نئی قبر بنانا حرام ہے نہ یہ کہ کسی قبر پر مٹی ڈالنا یا اس کی مرمت کرنا حرام ہو۔ چنانچہ مولانا نے بھی یہی لکھا ہے کہ’’ قبر کو کھود کر اس میں سے لاش نکالے‘‘ پس یہی تجدید قبر کا معنی ہے۔ اور اگر کوئی مطلب ہوتا تو من جدد قبراً نہیں فرماتے بلکہ من اصلح قبراً جو شخص کسی قبر کو درست کرے یا مرمت کرے) فرماتے، رہا دوسرا جملہ تو وہ بھی ٹھیک ہے کہ کسی جاندار کی تصویر بنانا منع کیا گیا ہے۔ لیکن بے جان چیزوں کی تصویر بنانا تو ممنوع نہیں ہوا  ۔ اگر بے جان چیزوں کی تصویر منع ہوتی تو ایک مسجد کی نقل دوسری مسجد بنائی جاتی ہے وہ بھی منع ہوتی ۔ ایک قرآن کی مثال دوسرا قرآن لکھا اور چھاپا جاتا ہے وہ بھی منع ہوتا تم نے ایک اچھی انگوٹھی کسی کے ہاتھ میں دیکھی ویسی ہی خود بھی بنوائی جو اس کی مثال کہی جائے گی۔ تویہ کیا حرام ہوجائے گی؟ ایک عمدہ مکان نظر آیا۔ اس کی نقل میں نے بھی ایک مکان بنوایا۔ تو کیا اس مکان کے ایسا دوسرا مکان بنوانے سے کوئی اسلام سے خارج ہوجائے گا پس تعزیہ بھی کسی جاندار چیز کی مثال نہیں ہے بلکہ بے جان چیز روضۂ حضرت امام حسینؑ کی مثال ہے۔ اس کا بنانا اسی طرح جائز ہے جس طرح ایک مسجد کی مثال دوسری مسجد بنوانی یا ایک قرآن کے مثل دوسرا قرآن لکھنایا چھاپنا۔ 
مولانا ممدوح نے اس کو بھی صاف صاف لکھ دیا ہے: فرماتے ہیں ’’ من مثل مثالا خرج عن الاسلام ‘‘ جو شخص جاندار کی مورت بنائے وہ اسلام سے نکل گیا۔ مجسم مورت جاندار کی بنانا تو بالاتفاق حرام ہے اس کو توڑ ڈالنا شیوہ اسلام ہے لیکن نقشی تصویر میں فوٹو گراف کی تصویر میں اختلاف ہے۔ غیر جاندار کی تو بالاتفاق درست ہے ۔ اور جاندار کی بعضوں نے جائز رکھی ہے۔ ‘ دیکھو (انوار الغۃ پ ۴۴ص ۱۶) اس عبارت پر غور کرنے کے بعد بتاؤ کہ قبر امام حسینؑ تو غیر جاندار ہی چیز ہے۔ پھر اس کی تصویر یا مثال بھی (جو تعزیہ ہوتا ہے) بالاتفاق درست ہوئی اب صحیح بخاری شریف کی اس عبارت کو بھی دیکھو : قال النووی قال اصحابنا و غیر ھم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم لان فیہ مضاھاۃ لخلق اللہ تعالی… واما تصویر صورۃ الشجر و رحال الابل و غیر ذالک مما لیس فیہ صورۃ حیوان فلیس بحرام ھکذاحکم نفس التصویر یعنی علامہ نووی بیان کرتے تھے کہ ہمارے اصحاب اور نیز دیگر علماء کا قول ہے کہ حیوان کی تصویر بنانا شدید حرام ہے کیوں کہ اس میں خلق خدا سے مشابہت ہوتی ہے لیکن درخت پالان شتر یا کسی غیر ذی روح چیز کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے یہی حکم بنی ہوئی تصویر کا ہے یعنی تصویر ذی روح خواہ کسی چیز پر بنی ہوئی ہو اس کا رکھنا حرام اور ناجائز ہے لیکن غیر ذی روح کی تصویر کا بنانا جس طرح جائز ہے اس کا رکھنا بھی جائز ہے (حاشیہ بخاری شریف جلد ۲ پارہ ۲۸ ص ۸۸۰ مطبوعہ نظامی کانپور) 
اب تو صاف ہوگیا کہ تعزیہ کا بنانا اور رکھنا جائز ہے کیوں کہ یہ ایک غیر ذی روح چیز ( روضہ امام حسینؑ) کی تصویر ہے۔اگر چہ بعض روایت صحاح سے ثابت ہوتا ہے کہ ذی روح کی تصویر بنانا اور رکھنا بھی جائز ہے چنانچہ ترمذی شریف میں ہے : عن عائشہ ان جبرئیل جاء بصورتھا فی خرقۃ حریر خضراء الی النبیؐ فقال ھذہ زوجتک فی الدنیا والآخرۃ ۔ یعنی حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ جناب جبرئیل میری تصویر ایک ریشمی کپڑے کے ٹکڑے پر حضرت رسول ؐ کے پاس لائے اور کہا دنیا و آخرت میں یہ آپ کی بیوی ہیں (جامع ترمذی جلد ۲ ص ۲۲۸) 
اس سے معلوم ہوا کہ خود خدا نے حضرت عائشہ کی تصویر بنوائی اور سنو عن عائشہ قالت کنت العب بالبنات عند رسول اللہ وکان لی صواحب یلعبن معی وکان رسول اللہ اذا دخل  ینقمعن منہ فیسربھن الی فیلعبن معی یعنی حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ میں حضرت رسول خدا صلعم کے پاس ہی گڑیاں کھیلا کرتی تھی اور میری ہمجولیاں بھی میرے ساتھ گڑیاں کھیلا کرتیں اور حضرت رسول خدا صلعم جب میرے پاس آتے تو میری ہمجولیاں سرک جایا کرتی تھیں مگر حضرت رسول خدا صلعم ان سب کو میرے پاس بھیج دیتے تھے تو وہ میرے پاس آکر کھیلنے لگتی تھیں۔( صحیح بخاری جلد ۲ پارہ ۲۵ ص ۹۰۵)
 یہ حدیث صحیح مسلم جلد ۲ ص ۲۸۵ وغیرہ میں بھی  ہے: عن عائشہ قالت کنت العب بالبنات وانا عند رسول اللہ ؐ فکان یسرب الی صواحباتی یلاعبنی  یعنی حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ حضرت رسول خدا صلعم کے پاس میںگڑیاں کھیلا کرتی تھی اور حضرت میری ہمجولیوں کو بھی میرے پاس بلا بھیجتے تھے جو آکر میرے پاس کھیلنے لگتی تھیں(سنن ابن ماجہ جلد ۱ ص ۱۴۳) عن عائشہ قالت کنت العب بالبنات فربما دخل علی رسول اللہ و عندی الجواری فاذا دخل خرجن واذاخرج دخلنی یعنی حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ میں برابر گڑیاں کھیلا کرتی تھی اسی حالت میں اکثر حضرت رسول خدا صلعم میرے پاس پہنچ جاتے تھے اور وہ ہمجولیاں بیٹھی رہتی تھی۔ پس جب حضرت میرے پاس آجاتے تو وہ سب ہٹ جاتیں اور جب حضرت چلے جاتے تو پھر چلی آتی تھیں( سنن ابو داؤد جلد۴ص ۳۱۹) 
یہ روایت بھی سن رکھو: عن عائشہ قالت قدم رسول اللہ ؐ من غزوۃ تبوک او خیبر و فی سہوتھا سترفھبت الریح فکشفت نامیۃ الستر عن بنات العائشۃ لعب فقال ما ھذا یا عائشۃ ؟۔ قالت بناتی ورای بینھن فرسالۃ جناحان من رقاع فقال ما ھذا الذی اری وسطھن؟ قالت فرس ، قال وما ھذا الذی علیہ؟  قلت جناحان ۔ قال فرس لہ جناحان؟۔ قالت اما سمعت ان لسلیمان خیلا لہ اجنحۃ قالت فضحک رسول اللہ ؐ حتیٰ رایت نواجذہ یعنی حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں کہ حضرت رسول خدا صلعم غزوہ تبوک یا غزوہ خیبر سے واپس تشریف لائے تو میرے گھر میں طاقچہ پر پردہ پڑا ہو اتھا  اتنے میں ہوا چلی جس نے اس پردے کو ہٹا دیا جو میری گڑیوں پر پڑا ہوا تھا۔ آنحضرتؐ نے فوراً پوچھا :عائشہ یہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا میرے کھیلنے کی گڑیاں ہیں۔ ان گڑیوں کے درمیان ایک گھوڑا بھی تھا جس کے دونوں طرف پر لگائے ہوئے تھے۔ حضرت ؐ نے اس کی طرف اشارہ کرکے پوچھا اور یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ گھوڑا۔حضرت نے پوچھا اور یہ (دونوں طرف) کیا ہے؟۔ میں نے کہا گھوڑے کے پر ہیں۔ آنحضرتؐ نے پوچھا کیا گھوڑے کے بھی دونوں طرف پر ہوتے ہیں؟ میں نے کہا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان پیغمبر کے گھوڑا تھا جس کے پر بھی تھے۔ یہ سن کرحضرت اس قدر ہنسے کہ آپ کے دانت دکھائی دینے لگے۔ (سنن ابو داؤد جلد ۴ ص ۲۹۴)
 ان صحیح حدیثوں سے ثابت ہوا کہ ذی روح کی تصویر بنانا اور رکھنا بھی جائز اور حلال بلکہ ایسا ہے جو خود حضرت رسول خدا ؐ کے گھر میں ہوتا اور حضرتؐ اس کو پسند فرماتے ۔ اگر یہ ذرہ برابر بھی برایا مکروہ ہوتا تو آںحضرت صلعم ضرور اس سے نفرت ظاہر کرتے ان گڑیوں میں آگ لگا دیتے۔ یا کم از کم ان سب کو پھینک دیتے اور حضرت عائشہ کو منع فرماتے کہ خبردار آئندہ اس قسم کی چیزیں نہ بنانا نہ رکھنا ۔اس کے عوض حضرتؐ ان گڑیوں اور ان  کے کھیل کو اس درجہ پسند فرماتے اور ا س قدر خوش ہوتے تھے کہ حضرت عائشہ کی ہمجولیوں کو بھی بلا بھیجتے تھے کہ جاؤ کھیلو پس جب ذی روح کی سایہ دار تصویر بنانا اور رکھنا جائز ہ اور سنت رسولؐ ہے تو تعزیہ بنانا، رکھنا، سڑکوں پر گھمانا بدرجہ اولی جائز اور حلال ہے جس پر کوئی اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔
تعزیہ کی ضرورت کیا ہے؟ اس کی ایجاد کب ہوئی؟ اس کی تاریخ:
مولوی صاحب: مگر اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟کیا صرف حسینؓ کے مصائب سننے سے رونا نہیں آتا جو خواہ مخواہ حضرتؑ کے روضۂ اقدس کی نقل بنا کر اور اسے دیکھ کر رونے کی کوشش کی جاتی ہے؟
حسینی بیگم:جو ضرورت حضرت رسول خداؐ کے لیے تھی کہ خدا نے حضرتؐ کو صرف امام حسینؑ کے مصائب سے خبر نہیں دی بلکہ حضرتؐ کے پاس گویا تعزیہ بھی بنواکر بھیجا تاکہ حضرتؐ کو اسے دیکھ کر زیادہ رونا آئے ،بہت بیتاب ہوں، شدت سے روئیں!
مولوی صاحب: معاذاللہ یہ کیا کفر بکنے لگیں! خدا نے کب اور کیوں حضرتؐ کے پاس تعزیہ بنواکر بھیجا؟
حسینی بیگم: میں پہلے کئی دفعہ یہ روایت بیان کر چکی ہوں کہ ام الفضل بیان کرتی تھیں کہ حضرت رسول خدا صلعم سے عرض کی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ کے جسم کاٹکڑا میری گود میں رکھ دیا گیا۔ حضرت ؐ نے فرمایا فاطمہؐ کا بیٹا تمہاری گود میں رہے گا۔ واقعاً ایسا ہی ہوا۔ پھر ایک روز میں نے حضرتؐ کی گود میں دیا تو حضرتؐ رونے گلے۔ میں نے وجہ پوچھی توفرمایا: میری امت اسے قتل کرے گی اور جبرئیل نے ان کے قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دی ہے(مشکوٰۃ شریف جلد ۸ صفحہ ۱۴۵) 
اس جملہ پر غور کرو کہ خدا نے جناب جبرئیل کے ذریعہ آنحضرتؐ کے پاس امام حسینؑ کے قتل گاہ کی سرخ مٹی بھیجی۔ یہ معلوم ہے کہ کربلا کی مٹی پہلے سے سرخ نہیں تھی بلکہ جو رنگ ہمیشہ وہاں کی مٹی کا تھا ویسی ہی تھی۔ مگر خدانے اس مٹی کو وہاں سے نکلوا کر سرخ کرایا تب حضرتؐ کے پاس بھیجا یعنی امام حسینؑ کے قتل گاہ کی مٹی حضرتؑ کی شہادت اور آپ کا خون بہنے کے بعد جیسی سرخ ہونے والی تھی ویسی ہی سرخ خدا نے اس مٹی کو بنوایا غرض اس مٹی کی شبیہ تیاری کرائی اور حضرت رسول خدا صلعم کے پاس بھیجی تاکہ حضرت اس کو دیکھ کر سمجھیں کہ امام حسینؑ کے قتل ہونے سے وہاں کی مٹی ایسی ہی سرخ ہوجائے گی اور اس وجہ سے آپ اس زمین کا تصور کریں اور ان مصائب کاتذکرہ کرکے خوب روئیں اور اپنی آنکھوں سے آنسو کے دریا بہائیں۔ 
اگر خدا امام حسین ؑ کے قتل گاہ کی زمین کی شبیہ نہیں بنواتا تو وہ مٹی اپنے معمولی رنگ پر رہتی سرخ نہیں ہوجاتی مگر خدا نے شہادت کے وقت کی مٹی کی شبیہ بناکر اس مٹی کو سرخ کردیا تب بھیجا ۔ پس جب خدانے امام حسینؑ کے قتل گاہ کی شبیہ بناکر وہ سرخ مٹی بھیجی تو معلوم ہوا کہ حضرتؑ کے قتل گاہ یا روضہ کی شبیہ بنانا خدا کی عملی تعلیم ہے۔ اب وہ شبیہ خواہ مٹی کی صورت میں بنائی جائے خواہ تعزیہ کی صورت میں خواہ دلد ل ، علم ، تابوت کی صورت میں سب خداہی کی تعلیم کی پیروی کہی جائے گی۔ البتہ بعد کو ان باتوں میں ترقی ہوگئی اور بہت کچھ اضافہ بھی ہوا مگر یہ اضافہ ویسا ہی ہے جیسا حضرت رسول خدا صلعم کی مسجد مدینہ کے اضافے ہوئے۔ جناب عبد السلام صاحب ندوی نے مسجد مدینہ کے حالات میں لکھا ہے ’’مسجد بن کر تیار ہوئی تو اسلام کی سادگی کا بہترین نمونہ تھی۔ لکڑیوں کے ستون تھے، کھجور کی شاخوں کی چھت اور پتھر کی چوکھٹ تھی۔ حضرت عمر نے مسجد نبوی میں صرف اضافہ کیا تھا مگر اس کی اصلی ہیئت قائم رکھی تھی۔ لیکن حضرت عثمان نے مسجد کا پورا نقشہ ہی بدلنا چاہا… نہایت شان و شوکت کے ساتھ مسجد نبوی کو تعمیر کرایا… ولید نے ان سب کا کفارہ کردیا ارد گرد کے مکانات کیساتھ ازواج مطہرات کے حجرے بھی تھے جو رسول اللہ ؐ  کے زہد و تقویٰ کی یادگار تھے ۔ یہ بجبر مسجد میں شامل کرلئے … آس پاس کے مکانات کو ڈھا کر زمین ہموار کی گئی اور ۸۸ھ؁ یا ۹۱ھ؁ میں نہایت وسیع پیمانہ پر تعمیر کا کام شروع ہواـــ۔۔۔۔۔۔ ولید نے جب گھوم پھر کے اچھی طرح مسجد کی سیر کرلی تو حضرت ابان بن عثمان کی طرف مخاطب ہو کر فخریہ لہجہ میں کہا کہ ہماری عمارت کہاں اورتمھاری عمارت کہاں؟!۔ ابان نے جواب دیا کہ ہم نے مسجد بنوائی تھی اور تم نے گرجا بنوایا ہے۔ (رسالہ معارف اعظم گڑھ جلد ۱ ص۲۳)۔
 غرض جس طرح اس کثرت سے اضافہ ہونے کے بعد بھی مدینہ کی مسجد کو سب لوگ مسجد رسولؐ ہی کہتے ہیں بالکل اسی طرح کچھ اضافہ ہونے کے بعد بھی موجودہ تعزیہ وہی ہے جس کو خدا نے ۴ھ؁ میں ایجاد کیا اور جناب رسول خداؐ کے پاس بھیجا اور حضرت نے اس تعزیہ کو جناب ام سلمہ کے پاس بغرض حفاظت رکھوا یا۔ اگر یہ کسی آدمی کا فعل ہوتا تو یہ لوگ حضرت رسول خدا صلعم ، حضرت فاطمہ ؑ ، حضرت علیؑ، حضرت حسنؑ کی قبروں کی شبیہ کیوں نہیں بناتے۔ کسی نے حضرت سیدہ ؑ یا حضرت علیؑ یا حضرت حسنؑ کا تعزیہ سنا ہے؟ پھر صرف امام حسینؑ کا تعزیہ کیوں رائج ہوگیا۔ انصاف سے غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر انسان آسانی سے پہنچ سکتا ہے کہ چونکہ امام حسینؑ کا تعزیہ (یعنی حضرت کے روضہ کی شبیہ ) خدا نے بنایا اور رسولؐ کے پاس بھیجا اس وجہ سے آج تک مسلمان بھی صرف امام حسینؑ ہی کا تعزیہ یعنی حضرتؑ کے روضہ کی شبیہ بناتے ہیں اور چونکہ خدا نے حضرت کے سوا اور کسی پیغمبر یا امام کے روضہ کی شبیہ نہیں بنائی اس وجہ سے مسلمان بھی کسی اور بزرگ کے روضہ کی شبیہ یعنی تعزیہ نہیں بناتے۔ اگر یہ فعل مسلمانوں کا ہوتا تو یہ لوگ پہلے حضرت رسول خداؐ یا حضرت علیؑ یا حضرت سیدہ ؑ یا حضرت امام حسنؑ کے روضہ کا تعزیہ بناتے اس کے بعد امام حسینؑ کے روضہ کا تعزیہ تجویز کرتے مگر ایسا نہیں ہے لہٰذا ماننا پڑے گا صرف امام حسینؑ کے روضہ کا تعزیہ اس وجہ سے بنتا ہے کہ خدا نے اسی کو بنوایا تھا۔ 
قرآن مجید سے تعزیہ کا ثبوت:
مولوی صاحب:تم نے یہ بھی سنا کہ ایک دفعہ آگرہ میں ایک بڑا سائن بورڈ لگایا گیا جس پر لکھا تھا:’’پچاس روپیے انعام پہلے اس مسلمان کو دیا جائے گا جو قرآن کی کسی آیت سے تعزیہ بنانا ثابت کردے‘‘!
حسینی بیگم:پھر کسی نے ثابت کیا یا نہیں؟
مولوی صاحب: تم بھی کیا باتیں کرتی ہو ،کون ثابت کرسکتا ہے،کیا کھیل ہے؟
حسینی بیگم: آسان تو ضرور ہے مگر ان اشتہار دینے والوں کی عقل کے قربان ہوں کہ کیا سوجھی تھی ! قرآن مجید تو حضرت رسول خدا ؐ کی زندگی ہی میں ۱۱ ۔؁ ہجری تک نازل ہوتا رہا اس کے بعد کوئی آیت نہیں آئی۔ اور امام حسین علیہ السلام ۶۱ھ؁ میں شہید کیے گئے جس کے بہت دنوں کے بعد حضرتؑ کا روضہ بنا ۔اسی روضہ کی نقل اور شبیہ تعزیہ ہوتا ہے!پھر قرآن مجید سے تعزیہ کا ثبوت طلب کرنا ایسا ہی تو ہے جیسے کوئی کہے کہ قرآن مجید سے ثابت کرو کہ حضرت رسول خدا صلعم کے روضہ کی زیارت جائز ہے؟!
مولوی صاحب:مگر تم نے اس کو آسان کیونکر کہہ دیا؟
حسینی بیگم:بہت سی آیتوں سے تعزیہ کاجواز ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً یہ آیہ یعملون لہ ما یشاء من محاریب و تماثیل و جفان کالجواب و قد ور راسیات ان آیات کا ترجمہ مولانا نزیر احمد صاحب دہلوی نے اس طرح کیا ہے: سلیمان کو جو کچھ (بنوانا) منظور ہوتا (یہ جنات) ان کے لئے بناتے (جیسے مسجد بیت المقدس کی بڑی) اونچی شاندار عمارتیں اور (ڈھلی ہوئی) مورتیں اور ایسے بڑے لگن جیسے حوض اور بڑی بھاری بھاری دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہیں۔(حمائل پ۲۲ ع ۸ ص ۶۸۶)
 اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ:(۱) خدا نے جنات کو حضرت سلیمان کا تابع کردیا تھا۔ (۲) جنات جو کچھ حضرت سلیمان کے لئے کرتے پروردگار کے حکم ہی سے ہوتا (۳) وہ جنات حضرت سلیمان کیلئے مورتیں بھی بناتے تھے۔ یہ مورتیں تماثیل کا ترجمہ ہے۔ اس کے متعلق مفسرین کی تحقیق بھی سنو۔ علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ : وتماثیل و صور او تما ثیل للملائکۃ والانبیاء علی ما اعتاد وا من العبادات لیراھا الناس فیعبدوا نحو عبادتھم  یعنی ثماثیل کا معنی تصویریں اور شبیہیں ہیں جو ان کی عادت کے مطابق فرشتوں اور انبیاء کی تصویریں تھیں تاکہ ان کو دیکھ کر دوسرے لو گ بھی انہیں کی طرح عبادت کریں( تفسیر بیضاوی جلد ۲ص ۱۷۳) 
اور علامہ بغوی کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ جنات فرشتوں اور نبیوں اور نیکوکاروں کی تصویریں مسجد میں بناتے تھے تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور اس سے زیادہ عبادت کرنے لگیں(معالم التنزیل ص۷۳۷) یہی مضمون کشاف جلد ۲ ص۴۴۵ تفسیر درمنثور جلد ۵ ص۲۲۸ وغیرہ میںبھی ہے۔
 ان عبارتوں سے واضح ہوا کہ خدا کے حکم سے جنات حضرت سلیمان کیلئے مختلف چیزوں کی تصویریں اور شبیہیں بنایا کرتے اور اس کی غرض صرف یہ تھی کہ ان شبیہوں کو دیکھ کر لوگ زیادہ عبادت کریں۔ اب تم ہی فیصلہ کرو کہ تعزیہ بھی روضہ امام حسینؑ کی شبیہ ہے اور اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کو دیکھ کر لوگ زیادہ گریہ و بکا کریں اور اس کا عبادت ہونامیںپہلے بیان کرچکی ہوں۔ اس سے واضح تر دلیل تعزیہ بنانے کے جائز ہونے کی اور کیا چاہئے کہ وہ عمل ہے جس کے کرنے کا حکم خدا نے جنات کو دیا تھا اور یہ عمل حضرت سلیمانؑ کے لئے کیا جاتاتھا جب حضرت سلیمان کیلئے اس کا بنانا جائز تھا تو ہم لوگوں کیلئے بھی جائز ہے کیونکہ خدا نے فرمادیا ہے: اولٰئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ یعنی یہ اگلے پیغمبر وہ تھے جن کی خدانے ہدایت کی پس تم بھی ان کی ہدایت کی پیروی کرو(پ۷ سورہ انعام آیت ۹۱) پس اس زمانہ کے مسلمان بھی انہیں حضرت سلیمان کی پیروی میں گریہ وبکاکی عبادت زیادہ انجام دینے کیلئے شبیہ (تعزیہ) بناتے اوراس کو دیکھ کر اس طرح روتے ہیں جس طرح حضر ت رسول خداؐ روتے تھے تو حضرت سلیمان ہی کی پیر وی نہیںہوئی بلکہ خدا کی پیروی ہوئی کیونکہ خدا ہی نے تو جنات کو حکم دیا تھا کہ سلیمان کیلئے شبیہ بناؤ۔(تصویر عزا)